علمائے دیوبند اور ترجمۂ قرآنِ کریم

سید مشتاق علی شاہ

(۱) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: مولانا عبد الحق حقانیؒ

یہ ترجمہ تفسیر فتح المنان کے ساتھ ۸ جلدوں میں شائع ہوا ہے۔ پہلی سات جلدیں ۱۳۰۵ھ سے لے کر ۱۳۱۳ھ کے عرصہ میں اور آٹھویں جلد، جو پارہ عم پر مشتمل ہے، ۱۳۱۸ھ میں مطبع مجتبائی دہلی سے شائع ہوئی۔ یہ تفسیر ’’تفسیر حقانی‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔

(۲) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: مولانا عاشق الٰہی میرٹھی

یہ ترجمہ ۱۳۲۰ھ میں پہلی مرتبہ مطبع خیر المطابع لکھنؤ میں چھپا۔ اب پاکستان میں تاج کمپنی نے بھی شائع کیا ہے۔ اس کے ساتھ کہیں کہیں مختصر حواشی بھی ہیں۔ حضرت شیخ الہندؒ نے اپنے مقدمہ قرآن میں اس کی تعریف کی ہے۔

(۳) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ

یہ ترجمہ بامحاورہ ہے اور علماء و عوام دونوں کے لیے یکساں مفید ہے۔ یہ ترجمہ مولانا نے اپنی مشہور تفسیر بیان القرآن کے ضمن میں کیا ہے۔ اسے پہلی مرتبہ ۱۳۳۶ھ میں مطبع مجتبائی دہلی نے بارہ جلدوں میں شائع کیا تھا۔ تفسیر کے علاوہ صرف ترجمہ مع مختصر فوائد بھی کئی قسموں میں تاج کمپنی اور کئی دوسری کمپنیوں نے شائع کیا ہے۔ شاہ عبد القادرؒ اور شاہ رفیع الدینؒ کے ترجمہ کے بعد سب سے زیادہ مقبول ہے۔ کثرتِ اشاعت کے اعتبار سے اس کا نمبر دوم ہے۔ حضرت شیخ الہندؒ نے مقدمہ قرآن میں اس کی بھی تعریف کی ہے۔

(۴) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ

حضرت شیخ الہندؒ نے اس ترجمہ کی ابتدا ۱۳۲۷ھ میں کر دی تھی لیکن تکمیل بحیرۂ روم کے جزیرہ مالٹا میں بزمانہ اسارت ہوئی۔ مولانا کا انتقال ۱۳۳۹ھ میں ہوا۔ انتقال کے بعد مدینہ پریس بجنور (انڈیا) کے مالک مولوی مجید حسن صاحب مرحوم نے شیخ الہندؒ کی اہلیہ مرحومہ سے اس کے حقوقِ اشاعت لے کر ۱۳۴۲ھ میں شائع کیا۔

(۵) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: مولانا فتح محمد صاحب جالندھریؒ

یہ ترجمہ اردو صرف و نحو کی مشہور کتاب ’’مصباح القواعد‘‘ کے مصنف کا ہے۔ ترجمہ عام فہم اور سلیلس ہے اور علمائے کرام کے نزدیک بھی معتبر اور مفید ہے۔ پاکستان بننے سے پہلے لاہور کے مشہور ہندو تاجر کتب عطر چند کپور نے بھی اس کا ایڈیشن چھاپا تھا۔ اب تاج کمپنی پاکستان نے بھی اعلٰی معیار پر شائع کیا ہے۔ اس ترجمہ کا نام ’’فتح الحمید‘‘ ہے۔

(۶) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: مولانا محمد احمد سعید صاحب دہلویؒ

یہ ترجمہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحبؒ کی سرپرستی میں علماء کی ایک جماعت کے مشورے سے کیا گیا ہے۔ ترجمہ کا نام ’’کشف الرحمٰن‘‘ ہے۔ یہ ترجمہ سلیلس اور عام فہم ہے اور معمولی استعداد رکھنے والا شخص بھی اس کو سمجھ سکتا ہے۔ پندرہ پندرہ پاروں کی دو جلدوں میں دینی بکڈپو دہلی نے شائع کیا ہے اور پاکستان میں اس کی اشاعت مکتبہ رشیدیہ کراچی نے کی ہے۔

(۷) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: شیخ التفسیر مولانا احمد علی صاحب لاہوریؒ

یہ ترجمہ پہلی مرتبہ ۱۹۲۷ء میں شائع ہوا۔ انجمن خدام الدین شیرانوالہ گیٹ لاہور نے اسے شائع کیا۔ ترجمہ بہت ہی آسان ہے۔

(۸) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: مولانا فیروز دین صاحب لاہوریؒ

یہ ترجمہ اردو لغت کی مشہور اور مقبول کتاب ’’فیروز اللغات‘‘ کے مرتب مولانا فیروز دینؒ کا ہے اور فیروز سنز نے ہی اسے شائع کیا ہے۔ ترجمہ مقبول ہے۔

(۹) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: مولانا سید ممتاز علیؒ دیوبندی

یہ ترجمہ قرآن کی توقیفی ترتیب کے مطابق نہیں ہے لیکن مکمل ہے۔ مترجم نے قرآن مجید کے علوم و مضامین کی ایک فہرست ’’تفصیل البیان فی مقاصد القرآن‘‘ کے نام سے برسوں محنت و مشقت کر کے ترتیب دی تھی۔ یہ ترجمہ اسی فہرست کے ضمن میں گیلانی پریس سے ۱۳۴۹ھ میں شائع ہوا۔ ترجمہ ابھی نامکمل تھا کہ مؤلف کا انتقال ہو گیا۔ باقی کام مولانا نجم الدین صاحب سیوہاروی نے مکمل کیا۔ یہ کتاب پہلے چھ جلدوں میں شائع ہوئی تھی، اب دو جلدوں میں دہلی سے شائع ہوئی ہے۔

(۱۰) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: مولانا عبد الحق عباسؒ

یہ ترجمہ ’’ترجمان القرآن‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اس میں پہلے ہر آیت کے الفاظ کا ترجمہ الگ الگ کیا گیا ہے جس سے عام قاری یہ جان سکتا ہے کہ کس لفظ کا کیا معنی ہے۔ پھر سہولت کے لیے دوسری سطر میں بامحاورہ اردو ترجمہ بھی کیا گیا ہے۔ مکتبہ علمیہ لاہور نے اسے نہایت اعلٰی معیار پر شائع کیا ہے۔ یہ الگ الگ پاروں کی صورت میں بھی شائع ہو رہا ہے۔

(۱۱) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: مولانا عبد الشکور لکھنؤیؒ

اس ترجمہ کا ذکر مولانا عبد الصمد صارم نے تاریخ التفسیر میں اور مولانا زاہد الحسینی نے تذکرۃ المفسرین میں کیا ہے۔

(۱۲) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجمین: (۱) مولانا خواجہ عبد الحئی فاروقیؒ، شیخ التفسیر جامعہ ملیہ دہلی (۲) حافظ نذر احمد (۳) حافظ مرغوب احمد (۴) حاجی عبد الواحد۔

یہ ترجمہ ’’درسِ قرآن‘‘ کے ساتھ ۷ جلدوں میں ادارہ اصلاح و تبلیغ آسٹریلوین بلڈنگ لاہور سے شائع ہوا ہے۔ اس میں ہر آیت کا لفظی اور بامحاورہ ترجمہ الگ الگ کیا گیا ہے۔

(۱۳) ترجمہ قرآن مجید (کشمیری)

مترجم: مولانا سید میرک شاہ اندرابی تلمیذ علامہ انور شاہ کشمیری

اس ترجمہ کا ذکر ’’تعارف قرآن‘‘ از کرنل فیوض الرحمٰن میں موجود ہے۔

(۱۴) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: مولانا عبد الماجد دریابادی

یہ ترجمہ ’’تفسیرِ ماجدی‘‘ کے ساتھ ہی شائع ہوا۔

(۱۵) ترجمہ قرآن مجید (انگلش)

مترجم: مولانا عبد الماجد دریابادی

یہ ترجمہ ’’تفسیرِ ماجدی‘‘ (انگلش) کے ساتھ شائع ہوا ہے۔

(۱۶) ترجمہ قرآن مجید (سندھی)

مترجم: مولانا سید تاج محمود امروٹیؒ

یہ ترجمہ شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوریؒ نے شائع کرایا تھا۔ کئی بار چھپ چکا ہے اور سندھ میں بڑی عقیدت و محبت کے ساتھ پڑھا جا رہا ہے۔

(۱۷) ترجمہ قرآن مجید (سندھی)

مترجم: مولانا محمد مدنی سندھی

یہ ترجمہ کئی بار شائع ہو چکا ہے اور مقبول ہے۔

(۱۸) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: مولانا محمد علی صدیقی کاندھلویؒ

یہ ترجمہ تفسیر ’’معالم القرآن‘‘ کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔ ابھی تک دس جلدوں میں دس پاروں کا ترجمہ شائع ہوا ہے۔

(۱۹) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: علامہ سید عبد الدائم الجلالی

یہ ترجمہ صاف، سلیس، بامحاورہ اور عام فہم ہے اور تفسیر ’’بیان السبحان‘‘ کے ساتھ شائع ہوا ہے۔

(۲۰) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: مولانا محمد عثمان کاشف الہاشمی

یہ ترجمہ تفسیر ’’ہدایت القرآن‘‘ کے ساتھ شائع ہوا ہے۔ ترجمہ عام فہم ہے۔ اسے مکتبہ حجازیہ دیوبند ضلع سہارنپور نے شائع کیا ہے۔

(۲۱) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: مولانا حبیب احمد کیرانوی

یہ ترجمہ دو جلدوں میں کتب خانہ امدادیہ دیوبند سے شائع ہوا ہے۔

(۲۲) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: مولانا قاضی عبید اللہ ڈیرویؒ

یہ تفسیر عبیدیہ کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔ ابھی اس کی صرف جلد اول شائع ہوئی ہے۔

(۲۳) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: مولانا قاضی اطہر مبارکپوری

یہ ترجمہ مکمل قرآن کا ہے لیکن راقم کی نظر سے نہیں گزرا۔ خیال ہے کہ ابھی تک شائع نہیں ہوا۔ اس کا ذکر ’’تعارفِ قرآن‘‘ میں موجود ہے۔

(۲۴) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی

یہ ترجمہ ’’تفسیر معالم العرفان فی دروس القرآن‘‘ کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔ ابھی تک پندرہ جلدیں شائع ہو چکی ہیں۔ تفسیر کے ساتھ ترجمہ عام فہم بامحاورہ اور تمام خوبیوں کا حامل ہے اور عوام و خواص میں یکساں مفید اور مقبول ہے۔ یہ ترجمہ شاہ ولی اللہؒ، شاہ عبد القادرؒ، شاہ رفیع الدینؒ، شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ، حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے تراجم کا خلاصہ اور نچوڑ ہے۔

(۲۵) ترجمہ قرآن مجید (پشتو)

مترجم: مولانا فضل الرحمٰن پشاوری

اس کے بارے میں زیادہ تفصیل معلوم نہیں ہو سکی۔ اس کا ذکر ’’تذکرۃ المفسرین‘‘ میں موجود ہے۔

(۲۶) ترجمہ قرآن مجید (انگلش)

مترجمہ: اہلیہ حضرت مولانا عزیر گلؒ

یہ ترجمہ مولانا عزیر گلؒ اور ان کی اہلیہ نے تقریباً تیس سالہ محنت شاقہ اور مطالعہ کے بعد انگریزی زبان میں کیا جو دوسرے انگریزی تراجم سے کئی وجوہ سے ممتاز ہے۔ یہ ترجمہ فیروز سنز لاہور سے شائع ہو چکا ہے۔

(۲۷) ترجمہ قرآن مجید (انگلش)

مترجم: محمد طفیل فاروقیؒ

یہ ترجمہ تفسیر کے ساتھ شائع ہو رہا تھا کہ ۱۰ شعبان ۱۳۹۹ھ کو مترجم کا انتقال ہو گیا۔ ترجمہ کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ قرآن کی آیات کو اصل متن کے ساتھ رومن رسم الخط میں بھی تحریر کیا گیا ہے۔ اس کے حاشیہ پر مختصر نوٹس بھی موجود ہیں۔

(۲۸) ترجمہ قرآن مجید (گجراتی)

مترجم: مولانا عبد الرحیم صادقؒ

(۲۹) ترجمہ قرآن مجید (پشتو)

مترجمین: مولانا فضل ودود ۔ مولانا گل رحیم اسماری

مولانا فضل ودود نے پہلے ۱۵ پاروں کا ترجمہ و تفسیر لکھی ہے اور باقی ۱۵ پاروں کا ترجمہ و تفسیر مولانا گل رحیم اسماری نے کی ہے (بحوالہ الرشید، دارالعلوم دیوبند نمبر)۔

(۳۰) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: مولانا شائع احمد عثمانی تلمیذ حضرت شیخ الہندؒ

یہ صرف پارہ عم کا ترجمہ ہے جو مطبع رحمانیہ مونگیر (بہار) سے ۱۹۱۷ء میں شائع ہوا۔ کرنل فیوض الرحمٰن نے پارہ عم کے علاوہ پارہ ۲۹، سورہ فاتحہ اور دیگر کئی سورتوں کا ذکر بھی کیا ہے۔

(۳۱) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: مولانا عبد الباری فرنگی محلیؒ

یہ ترجمہ سلیس، عام فہم اور بامحاورہ ہے۔ اس کی دو جلدیں شائع ہو چکی ہیں جو دو ابتدائی پاروں پر مشتمل ہیں۔ یہ ترجمہ ’’الطاف الرحمٰن بتفسیر القرآن‘‘ کے ساتھ شیخ الطاف الرحمٰن قدوائی نے ترتیب دے کر نامی پریس لکھنؤ سے ۱۹۲۵ء میں شائع کیا ہے۔

(۳۲) ترجمہ قرآن مجید (گجراتی)

مترجم: مولانا غلام صادق

یہ مولانا غلام صادق راندیری کی سعی ہے جو ترجمہ و تفسیر پر مشتمل ہے۔ یہ ترجمہ ۱۹۶۴ء میں مسلم گجرات پریس سورت سے شائع ہوا۔ دراصل یہ ترجمہ و تفسیر مولانا شمس الدین بڑودی کی محنت کا نتیجہ ہے۔ اس ترجمے میں دو کالم کیے گئے ہیں، ایک میں عربی متن، دوسرے کالم میں ترجمہ ہے۔ فٹ نوٹس میں تفسیری فوائد ہیں۔ ترجمہ تمام تر شیخ الہندؒ اور حضرت تھانویؒ کے ترجموں سے مستفاد ہے۔ تفسیری فوائد مولانا شبیر احمد عثمانیؒ کے تفسیری حواشی سے ماخوذ ہیں۔ یہ ترجمہ دو جلدوں پر مشتمل ہے اور ۱۴۶۰ صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔ ابتدا میں ۱۱۸ صفحات پر مقدمہ ہے۔ ترجمے کی زبان رواں دواں اور ہلکی پھلکی ہے۔ گجراتی کے دوسرے تراجم کے مقابلے میں یہ سب سے زیادہ مقبول ہے (جائزہ تراجم قرآنی)۔

(۳۳) ترجمہ قرآن مجید (تلیگو)

مترجم: مولانا عبد الغفور کرلولی، فاضل دیوبند

تلیگو زبان میں یہ واحد تفسیر ہے۔ اس میں پہلے تلیگو رسم خط میں متنِ قرآن ہے، اس کے نیچے آیت متعلقہ کا ترجمہ ہے، پھر اس کی تفسیر کی گئی ہے۔ اس تفسیر کے تین پارے پہلی بار ۱۹۴۱ء میں شائع ہوئے تھے۔ اس کے بعد نواب مقصود جنگ افسر الاطبا کے پیش لفظ کے ساتھ مکمل دو جلدوں میں ۱۹۴۹ء میں شائع ہوئی (جائزہ تراجم قرآنی)۔

(۳۴) ترجمہ قرآن مجید (کنڑی)

مترجم کا نام معلوم نہیں

یہ ترجمہ اصل میں مولانا اشرف علی تھانویؒ کا ہے جس کو کنڑی زبان میں منتقل کیا گیا ہے۔ ۱۶ پارے دارالاشاعت بنگلور سے ۱۹۶۶ء میں شائع ہوئے (جائزہ تراجم قرآنی)۔

(۳۵) ترجمہ و تفسیری نوٹس (فرانسیسی)

مترجم: ڈاکٹر حمید اللہ

اس کے مترجم ڈاکٹر حمید اللہ حیدرآبادی ہیں، آج کل پیرس میں مقیم ہیں، یہ ترجمہ اور تفسیری نوٹس ۱۹۹۰ء میں شائع ہوئے (جائزہ تراجم قرآنی)۔

(۳۶) ترجمہ قرآن مجید (اردو)

مترجم: حافظ نذر احمد

یہ ترجمہ عام فہم اور عربی سے ناواقف حضرات کے لیے بہت مفید ہے۔ اس میں پہلے ہر ہر لفظ کا الگ الگ ترجمہ اور پھر بامحاورہ ترجمہ کیا گیا ہے۔ الگ الگ پاروں کے علاوہ مکمل ایک جلد میں بھی مسلم اکادمی محمد نگر لاہور سے شائع ہو چکا ہے۔

نوٹ:

تراجم کی مذکورہ تعداد مرتب کے علم کے مطابق ہے۔ اگر اہلِ علم کے پاس مزید معلومات ہوں تو وہ مطلع فرما کر شکریہ کا موقع عنایت کریں۔

مراجع و ماخذ

(۱) تاریخِ قرآن، قاری شریف احمد، مکتبہ رشیدیہ کراچی۔

(۲) تعارفِ قرآن، کرنل قاری فیوض الرحمٰن،  مکتبہ مدنیہ لاہور۔

(۳) تاریخِ تفسیر، عبد الصمد صارم ازہریؒ، لاہور۔

(۴) تذکرۃ المفسرین، مولانا قاضی زاہد الحسینی، دارالارشاد اٹک شہر

(۵) منازل العرفان فی علوم القرآن، مولانا محمد مالک کاندھلویؒ، لاہور

(۶) ماہنامہ الرشید لاہور، دارالعلوم دیوبند نمبر۔

(۷) جائزہ تراجم قرآنی، مجلس معارف القرآن، دیوبند (انڈیا)

قرآن / علوم قرآن

مکاتب فکر

(فروری و مارچ ۱۹۹۴ء)

تلاش کریں

Flag Counter