ندوۃ العلماء کا مسلک اعتدال

ڈاکٹر ہارون رشید صدیقی

شعور کی آنکھیں کھلیں تو دیکھا کہ والد صاحب میلاد خواں اور فاتحہ خواں ہیں، تعزیہ دار ہیں، شب براء ت، محرم، گیارہویں، بارہویں کا اہتمام کرنے والے ہیں۔ کسی کی موت پر تیجا یا چہارم، چالیسواں اور برسی کرتے ہیں۔ بس یہی دین ہے۔ دہریت تو خواب میں نہ تھی، مگر مذہبیت یہی تھی۔ برٹش دور تھا، سرکاری اسکول کی تعلیم ہوئی جہاں اردو ثقافت کا غلبہ تھا۔ جب میلاد کی کتابیں پڑھ لینے لگا اور والد صاحب کو محسوس ہوا کہ میں ان سے زیادہ علم رکھتا ہوں تو مجھے اپنا نائب بنا دیا۔ ابھی تک میری ملاقات کسی عالم دین سے نہ ہوئی تھی۔ میں یہ سمجھتا تھا کہ مذہب کا کام عقلی طور پر جو باتیں بری ہیں، ان سے دور رکھنا اور جو اچھی ہیں، ان پر عمل کرانا ہے۔ ابھی تک شرک وتوحید کی بات میرے ذہن میں نہ آئی تھی۔ میں ہندوؤں کے بھجن میں لطف لیتا، قوالی بالمزامیر میں لذت پاتا، جمعہ جمعہ نماز پڑھ لیتا، نفل روزوں کا اہتمام کرتا اور بڑا دیندار سمجھا جاتا، اپنے رشتہ داروں میں بڑی عزت پاتا۔

میری اردو بہت اچھی ہو گئی، کچھ فارسی بھی آ گئی۔ بعض عزیزوں نے مجھے جناب مولانا ابو الاعلیٰ مودودیؒ کی تصنیف ’’رسالہ دینیات‘‘ اور ’’خطبات‘‘ پڑھنے کا مشورہ دیا۔ سچ یہ ہے کہ یہیں سے میری زندگی میں انقلاب شروع ہوا۔ اب میں نے دین کو سمجھنے کی کوشش شروع کی تو اختلافات کی دنیا میں الجھ کر رہ گیا۔ اب جی چاہا کہ کسی عالم سے ملوں، لیکن طے کیا کہ ملنے کے بجائے پہلے اس کی تقریر سنوں، اس لیے کہ ملنے پر وہ اپنے علم سے مجھے دبا لے گا اور تقریر سن کر میں کوئی رائے قائم کرنے میں آزاد رہوں گا۔ میرے آباو اجداد کے گاؤں گرونڈہ ضلع بارہ بنکی میں مولانا حشمت علی صاحب کی تقریر ہوا کرتی تھی۔ میں نے پہلی بار جو کسی عالم کی تقریر سنی تو وہ مولانا حشمت علی صاحب کی تقریر تھی۔ میں نے ان کی تین تقریریں سنیں تو مجھے جیسے کسی عالم کی تقریر سننے سے تنفر پیدا ہو گیا اور دل میں شک وشبہات آنے لگے۔ خیال ہوا جو سمجھ میں آئے، اس پر عمل کرو اور مولویوں کے چکر میں مت پڑو کہ فلاں کو کافر کہو، فلاں کو کافر کہو۔ سوچا کہ جن کے نام میں نے مولانا حشمت علی صاحب کی زبان سے پہلی بار سنے، ان سے بالکل ناواقف ہوں تو ان کو ان کے کہنے سے کافر کیوں کہوں؟ 

کافی دنوں تک اسی کشمکش میں رہا کہ اب ایک اور عالم کی تقریر سننے کا اتفاق ہوا۔ وہ تھے حضرت مولانا محمد عبد الشکور فاروقی۔ یہ واقعہ ۱۹۵۳ء کا ہے۔ اب تو میری دنیا یکسر بدل گئی۔ ساری بدعتیں ترک ہوئیں، پنج وقتہ نماز کا اہتمام ہوا، حتی الامکان سنتوں پر عمل ہوا۔ مدرسہ ابو حمدیہ علی آباد میں مدرسی اختیار کر لی۔ وہیں کے ایک جلسہ میں حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ ، حضرت مولانا محمد منظور نعمانیؒ کی تقریریں سنیں اور ان سے تعلقات ہو گئے۔ تبلیغی جماعت سے تعلق ہوا، تب تبلیغ میں نکلنا ہونے لگا۔ پھر ان دونوں مذکورہ بزرگوں سے تعلق کے سبب ندوہ آ گیا۔ مکتب میں تدریس کی خدمت سپرد ہوئی۔ یہاں یونیورسٹی کی لائن میں علمی ترقی بھی کرتا رہا اور منصبی بھی۔ میں نے یہاں دیکھا کہ حنفی بھی پڑھتے ہیں اور شافعی بھی۔ خانقاہی بھی پڑھتے ہیں اور اہل حدیث بھی۔ اساتذہ میں بھی ان چاروں مسلک کے لوگ ہیں اور شوریٰ میں بھی۔ کسی کی تقریر میں، کسی کی تحریر میں یہاں اختلافات کا ذکر آتا ہی نہیں ہے۔ یہاں رفع یدین بھی ہوتا ہے اور اس کا ترک بھی، آمین بالجہر بھی ہے اور بالسر بھی، امام کے پیچھے الفاتحہ کی قراء ت بھی ہے اور امام کی قراء ت پر اکتفا بھی، بیس رکعات تراویح پڑھنے والے بھی ہیں اور آٹھ رکعت پڑھ کر چلے جانے والے بھی۔ نہ کوئی کسی پر نکیر کرتا ہے نہ تنقیص، بلکہ باہم ایک دوسرے کا احترام ہے۔ مجھے یہ فضا بہت ہی اچھی لگی۔ یہاں کا اعتدال مجھے بھا گیا۔

اب تک میرا علم دین ترجموں سے تھا۔ مجھے شدت سے احساس ہوا کہ میں عربی سیکھوں اور دین کو براہ راست پڑھوں۔ اپنے طور پر حفظ تو کر لیا تھا۔ عربی بھی شروع کی مگر گاڑی چل نہ سکی۔ دعاؤں کا اہتمام کیا، سمع اللہ لمن حمدہ، میرے رب نے کس طرح سنی اور کس طرح اس کی شکلیں پید اہوئیں، یہ میرے اور میرے رب کے بیچ ایک راز ہے۔ اللہ کا شکر واحسان ہے کہ ریاض یونیورسٹی سے وظیفہ ملا، وہیں عربی سیکھی، وہیں کنڈس کورس کر کے تفسیر وحدیث میں تخصص کے ساتھ کلیۃ التربیۃ سے ماجستیر کیا۔ سات سال ریاض میں رہا، دوران تعلیم امامت بھی کی اور قرآن مجید کی تدریس کا کام بھی۔ اب میرے دماغ پر حضرت مولانا علی میاں صاحب، حضرت مولانا منظور نعمانی صاحب، حضرت مولانا عبد الشکور صاحب کے ساتھ علامہ ابن تیمیہ کا بھی تسلط ہوا۔ قیام ریاض کے دوران چوٹی کے وہابیوں کی جماعت میں اس حیثیت سے شامل رہا کہ میں عامل بالقرآن والحدیث ہوں۔ بہت سے مسائل میں امام ابو حنیفہ کا مقلد ہوں اور تقلید کو صحیح سمجھتا ہوں۔ میں اس جماعت میں رہا جس کی رپورٹ پر اچھے اچھے منصب والوں کے پاسپورٹ پر خروج لگ جایا کرتا تھا۔ 

۱۹۸۵ میں، میں ایم اے کر کے واپس آیا اور پھر ندوۃ العلماء سے منسلک ہو گیا۔ اب مجھے یہاں بڑا سکون ملا۔ ذاتی طور پر اتحاد بین المسلمین کو مشن بنایا۔ تحریر وتقریر سے میدان عمل میں آیا، کسی حد تک کامیاب ہوا۔ محنت جاری ہے۔ رد قادیانیت میں عملی میدان میں ہوں اور اہل بدعت کو حکمت سے سنت پر لانے میں بھی کوشاں ہوں۔ یہ سارے کام اپنے فاضل اوقات میں کچھ معاونین کے ساتھ کرتا ہوں۔ یہاں کی انتظامیہ کا تعاون بھی حاصل ہے یعنی اجازت وترغیب۔ ساتھ ہی ندوۃ العلماء کے عطا کردہ فرائض منصبی کی ادائیگی کی بھی بھرپور توفیق ملتی ہے۔ والحمد للہ علیٰ ذلک۔

ادھر کئی سالوں سے عازمین حج کی روانگی دار العلوم ندوۃ العلماء سے ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں یہاں حج میلہ لگ جاتا ہے۔ اس سال اس حج میلہ میں ایک مکتبہ پر ایک کتاب نظر آئی جس میں لکھا ہوا تھا کہ تقلید شرک ہے اور مقلد مشرک ہے۔ یہ پڑھ کر سخت دھچکا لگا۔ ظاہر ہے لکھنے والے صاحب سلفی العقیدہ ہیں، لیکن ہمارے دار العلوم ندوۃ العلماء کے مہتمم اور اساتذہ، ندوۃ العلماء کے ناظم اور یہاں کے ۹۸ فیصد طلبہ سب مقلد ہیں۔ یہ بات ہم لوگوں کے لیے سخت اذیت کا باعث ہے۔

الحمد للہ یہاں تقلید کے یہ معنی نہیں لیے جاتے کہ مقلِّد، مقلَّد کے ایجاد کردہ مذہب کا مقلد ہے بلکہ وہ کتاب وسنت کی تفہیم میں اس کا مقلد ہے یعنی اسے استاد سمجھتا ہے۔ آج سلفیوں میں بھی اختلاف رائے پایا جاتا ہے اور اہل حدیث حضرات ان میں سے جسے ترجیح دیتے ہیں، اس کی رائے پر یعنی اس کی تفہیم پر عمل کرتے ہیں۔ شیخ ناصر الدین البانی سلفی حضرات کے چوٹی کے عالم ہیں۔ انھوں نے عورت کے لیے انگوٹھی کے علاوہ سونے کے زیور کے استعمال پر نکیر کی ہے، چہرہ کے پردہ کی مخالفت کی ہے اور جہری نماز میں امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنے سے منع کیا ہے۔ کوئی سلفی ان کی رائے سے اتفاق کر کے اس پر عمل کرتا ہے تو کوئی دوسرے سلفی عالم کے مسلک کو اپناتا ہے۔ اسی طرح یہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ کتاب وسنت کی تفہیم میں کوئی احناف کے مسلک پر ہے تو کوئی مالکیہ کے مسلک پر، کوئی شافعی ہے تو کوئی حنبلی اور کوئی اہل حدیث کے مسلک پر ہے۔ الحمد للہ ہم سب منشرح ہیں کہ ہم سب حق پر ہیں، ناحق افتراق واختلاف کی بات ہم سب کو ناپسند ہے۔

تو برائے وصل کردن آمدی
نے برائے فصل کردن آمدی

(بشکریہ پندرہ روزہ ’تعمیر حیات‘، لکھنو)

مکاتب فکر