تجارت و معیشت کا دائرہ
معیشت کا معنی ہے لین دین، ایک دوسرے کے ساتھ مال و اسباب کا تعاون، افراد کی سطح پر تجارت، قومی سطح پر معیشت؛ اور ارتقا کے ساتھ بالآخر قومی اقتصادی پالیسی بنتی ہے۔ قرآن پاک اس بارے میں بیان کرتا ہے اور اس پر اصولی ہدایات قرآن پاک نے دی ہیں۔ لین دین اور تجارت میں اللہ تعالیٰ نے اہم بات حلال و حرام کی فرمائی ہے۔ سب سے بنیادی چیز حلال و حرام کی حدود سے آشنائی ہے۔ سورۃ الانعام کا بیشتر حصہ حلال و حرام پر ہے۔ حلال و حرام کا فلسفہ بھی بیان کیا ہے، حلال و حرام کے احکام بھی بیان کیے ہیں، اور حلال و حرام قرار دینے کی اتھارٹی بھی بیان فرمائی ہے۔ اس مسئلے کو اللہ تعالیٰ نے کس درجے پر رکھا ہے، یہ بھی دیکھ لیں۔
جاہلیت کے زمانے میں لوگوں نے حلال و حرام کے اپنے ضابطے بنا رکھے تھے اور اسی کے مطابق اپنے معاملات کو چلاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
ما جعل اللہ من بحیرۃ ولا سآئبۃ ولا وصیلۃ ولا حام (سورۃ المائدۃ: 5، آیت: 103)
(اللہ نے کسی جانور کو نہ بحیرہ بنانا طے کیا ہے، نہ سائبہ، نہ وصیلہ اور نہ حامی۔)
یہ تم نے اپنے طور پر حرام کر رکھے ہیں، میں نے حرام نہیں کیے۔ یہودیوں نے اونٹ کو حرام کیا ہوا تھا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے نہیں کیا۔ اس کی دلچسپ تفصیل ہے کہ یہودیوں نے اونٹ کو حرام سمجھ رکھا تھا، اب بھی یہودیوں میں اونٹ حرام سمجھا جاتا ہے۔ وجہ صرف یہ تھی کہ حضرت یعقوب علیہ السلام بیمار ہوئے، بیماری شدت کی تھی، ایسے میں نذر مان لی کہ یا اللہ! شفا دے دے، جو چیز سب سے زیادہ شوق سے کھاتا ہوں وہ چھوڑ دوں گا۔ اللہ نے شفا دی۔ تو وہ سب سے زیادہ شوق سے اونٹ کا گوشت کھاتے تھے، وہ انہوں نے چھوڑ دیا۔ انہوں نے چھوڑا اپنی قسم کی وجہ سے، اور امت نے چھوڑا اُن کی وجہ سے۔
یہاں مفسرین بڑی حکمت کی بات لکھتے ہیں کہ ایک چیز کے بارے میں ہمارے پیغمبر ﷺ نے بھی قسم اٹھائی تھی کہ نہیں کھاؤں گا، تو بڑے پیارے انداز میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
یا ایہا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک تبتغی مرضات ازواجک (سورۃ التحریم: 66، آیت: 1)
(جو چیزیں اللہ نے آپ کے لیے حلال کی ہیں، آپ اپنی بیویوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اسے کیوں حرام کرتے ہیں؟)
قد فرض اللہ لکم تحلۃ ایمانکم (سورۃ التحریم: 66، آیت: 2)
(اللہ نے فرض کیا ہے کہ آپ ﷺ قسم کو توڑیں اور شہد کھائیں اور کفارہ دیں)
کیوں؟ اسی لیے کہ یہود نے تو اب تک اونٹ چھوڑ رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ سے فرمایا کہ آپؐ کو شہد کھانا پڑے گا، آپؐ نے نہ کھایا تو امت بھی چھوڑ دے گی۔ میں بات یہ عرض کر رہا تھا:
کل الطعام کان حل لبنی اسرآئیل الا ما حرم اسرآئیل علیٰ نفسہ (سورۃ آل عمران: 3، آیت: 93)
(تورات کے نازل ہونے سے پہلے کھانے کی تمام چیزیں (جو مسلمانوں کے لیے حلال ہیں) بنی اسرائیل کے لیے (بھی) حلال تھیں، سوائے اس چیز کے جو اسرائیل (یعنی حضرت یعقوب علیہ السلام) نے اپنے اوپر حرام کر لی تھی۔)
حضرت یعقوب علیہ السلام نے تو اپنے لیے حرام قرار دیا تھا، تم نے خواہ مخواہ اپنے لیے حرام کر لیا! یہ اللہ تعالیٰ نے اتھارٹی بیان کی کہ حلال و حرام کرنا میرا کام ہے، تم نے اپنی طرف سے خود کیوں حرام کر رکھا ہے۔
عیسائیوں نے ترکِ دنیا کو مذہب بنا لیا تھا؛ شادی نہیں کرنی، جنگلوں میں چلے جانا ہے، سوسائٹی چھوڑ دینی ہے۔ اللہ نے فرمایا:
ورہبانیۃ ابتدعوہا ما کتبناہا علیہم (سورۃ الحدید: 57، آیت: 27)
(اور جہاں تک رہبانیت کا تعلق ہے وہ انہوں نے خود ایجاد کر لی تھی، ہم نے اس کو ان کے ذمے واجب نہیں کیا تھا۔)
ہم نے نہیں کیا بلکہ تم نے خود ہی کیا تھا، ہم نے تم پر مقرر نہیں کیا تھا۔ یہ حلال و حرام کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ایک اصول بیان کیا ہے۔
حلّت اور حُرمت کی بنیاد
آج عالمی سوسائٹی سے ہمارا ایک جھگڑا یہ بھی ہے کہ آج کی سوسائٹی کہتی ہے کہ جس چیز کو حالات، معاشرہ، رجحانِ عام قبول کرے وہ جائز ہے، اور جس کو مارکیٹ قبول نہ کرے وہ جائز نہیں ہے۔ یہ آج کے حلال و حرام کا فلسفہ ہے۔ یہ فرضی بات نہیں کر رہا، حقیقی بات ہے۔ آج سے 80 سال پہلے کی بات ہے کہ امریکی کانگریس نے ایک قانون منظور کیا کہ شراب جرم ہے، شراب منع ہے، اور اس کی سزا مقرر کی۔ لیکن چار پانچ سال تک دیکھا کہ لوگ اسے قبول نہیں کر رہے، تو کانگریس نے یہ کہہ کر اسے درست قرار دے دیا کہ سوسائٹی اس پابندی کو قبول نہیں کر رہی اس لیے اب یہ جرم نہیں رہی۔
یہ ریکارڈ کی بات ہے کہ سو سال نہیں گزرے کہ شراب کو جرم قرار دیا، اس قانون کی خلاف ورزی پر گرفتاریاں بھی ہوئیں، لیکن بات آگے تک نہیں چلی۔ وہ شراب جو امریکا کے قانون میں 80 سال پہلے قابلِ سزا جرم تھی، اب وہ ان کے حقوق میں داخل ہے۔ یہ آج کا فلسفہ ہے کہ سوسائٹی فیصلہ کرتی ہے کہ حلال و حرام کیا ہے، جس کو زمانہ قبول کرے وہ جائز ہے اور جس کو قبول نہ کرے وہ جائز نہیں ہے۔
ایک اور واقعہ عرض کرتا ہوں کہ مغربی دنیا میں عام طور پر شادی اور نکاح کو تکلّف سمجھا جاتا ہے۔ یہ بیماری بہت پھیل گئی ہے کہ چار پانچ سال بغیر شادی کے اکٹھے رہو، اس کے بعد اگر باہمی ہم آہنگی (Understanding) ہو جائے تو شادی کر لو، وگرنہ نکاح کی ضرورت نہیں ہے۔ اب سے کوئی بیس سال پہلے کی بات ہے کہ چرچ آف انگلینڈ، جو انگلینڈ کا بہت بڑا چرچ ہے، اس نے سرکلر جاری کیا۔ اس میں چرچ آف انگلینڈ اپنی شاخوں کو ہدایت کرتا ہے کہ ایک زمانے میں ہم نے یہ بات کی تھی کہ بغیر شادی کے مرد اور عورت کا اکٹھے رہنا گناہ ہے، تاکہ اس کی حوصلہ شکنی کی جائے، لیکن اب اس کا تناسب 50 فیصد سے بڑھ گیا ہے، اس لیے اب گناہ نہیں رہا، جرم نہیں رہا، اس لیے ہم اپنا سرکلر واپس لیتے ہیں۔
یہ مغرب کی مذہبی قیادت کا حال ہے کہ وہ مذہبی معاملات تک میں یوٹرن لے لیتے ہیں، تو سیاسی حلقوں کی کیا کیفیت ہو گی؟ میں اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ حلال و حرام کرنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جناب رسول اللہ ﷺ سے کہہ دیا کہ آپؐ نے اس چیز کو کیسے حرام کر دیا جس کو میں نے حلال کیا ہے؟ اور اللہ تعالیٰ نے یہ بنیادی چیز بیان کی کہ حلال و حرام جو میں نے کر دیا تو بس کر دیا، کھانے پینے میں بھی، تجارت میں بھی اور باقی تمام معاملات میں بھی۔ اللہ تعالیٰ نے جو چیز حرام کی ہے اس کو قیامت تک کوئی حلال نہیں کر سکتا، اور جس چیز کو حلال کیا ہے کوئی اس کو حرام نہیں کر سکتا۔ اجتہادی مسائل کا دائرہ الگ ہے، لیکن صریح حلال اور حرام، جیسے اللہ نے خنزیر کو صریح حرام کہا ہے، اب کوئی اتھارٹی دنیا میں اس کو حلال نہیں کر سکتی۔ شراب کو حرام کہا: ’’رجس من عمل الشیطان‘‘ (ناپاک اور شیطانی عمل ہے۔ سورۃ المائدۃ: 5، آیت: 90)۔ زنا کو حرام کہا، اس کو کوئی حلال نہیں کر سکتا۔ قرآن پاک نے فہرست بیان کی ہے۔ اللہ رب العزت نے ایک مقام پر تجارت کے جزوی احکام بیان کیے ہیں:
یا ایہا الذین اٰمنوا اذا تداینتم بدین الیٰ اجل مسمًی فاکتبوہ (سورۃ البقرۃ: 2، آیت: 282)
(اے ایمان والو! جب تم کسی معین میعاد کے لیے ادھار کا کوئی معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔)
’’فرہان مقبوضۃ‘‘ لکھ کر گواہ بناؤ۔ یہ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ قرآن پاک نے تجارت کے احکام بھی بیان کیے ہیں، حلال و حرام کے ضابطے بھی بیان کیے ہیں، حدود متعین کی ہیں، قوانین بیان کیے ہیں، اتھارٹی واضح کی ہے، اور جناب خاتم النبیین ﷺ نے اس کی بہت تفصیل کے ساتھ وضاحت کی ہے۔
دولت گردش کا تقاضا کرتی ہے
نظام اسباب سے چلتا ہے، تو ضروری بات ہے کہ اگر اسباب نہ ہوں تو ضروریات کیسے پوری ہوں گی؟ دولت کی حیثیت معاشرے میں ایسے ہی ہے جیسے جسم کے اندر خون کی۔ اگر خون گردش کرتا رہے تو جسم کا نظام چلتا ہے، اگر خون کی گردش بند ہو جائے یا خون کو نکال دیا جائے تو موت واقع ہو جاتی ہے۔ انسان کے جسم میں خون حرکت کرتا ہے اور دل اس کو پمپ کرتا ہے، خون ناخن تک بھی پہنچتا ہے، بالوں تک بھی، لیکن اپنی اپنی ضرورت کے مطابق۔ جسم کے جب ایک حصے میں خون نہ پہنچے تو وہاں فالج ہو جاتا ہے، اور اگر پہنچ کر واپس نہ آئے تو وہاں پیپ، پھوڑے، پھنسی وغیرہ بن جاتے ہیں۔ خون کی گردش ضروری ہے؛ رکنا بھی ٹھیک نہیں اور روکنا بھی ٹھیک نہیں ہے۔
سوسائٹی میں دولت کی مثال ایسی ہی ہے؛ کہیں زیادہ جا کر رک گئی، نیچے نہیں آ رہی، تو وہاں نتیجتاً عیاشی آئے گی، نمود و نمائش ہوگی اور تعیش ہوگا۔ اور جہاں ضرورت کے مطابق نہیں پہنچ رہی، وہاں فقر ہوگا۔ اور جناب خاتم النبیین ﷺ کا ارشاد ہے:
کاد الفقر ان یکون کفرا (شعب الایمان، باب فی الحث علی ترک الغل والحسد، حدیث نمبر: 6188)
(اور فقر کفر تک بھی پہنچا دیتا ہے۔)
بھوکا آدمی کیا نہیں کرے گا! روٹی کھانے کے لیے تو گردشِ دولت ضروری ہے، جیسے جسم میں خون کی گردش ضروری ہے اسی طرح معاشرے میں دولت کی گردش بھی ضروری ہے، اور یہ اصول قرآن پاک نے بیان کیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
کی لا یکون دولۃ بین الاغنیاء منکم (سورۃ الحشر: 59، آیت: 7)
(تاکہ وہ مال صرف انھیں کے درمیان گردش کرتا نہ رہ جائے جو تم میں دولت مند لوگ ہیں۔)
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے تقسیم کا نظام اس لیے دیا کہ وراثت بھی تقسیم کرو، زمین بھی تقسیم کرو، مالِ غنیمت بھی تقسیم کرو، تاکہ دولت گردش میں رہے؛ کہ گردش اوپر کے طبقات میں ہی نہ ہو بلکہ اوپر سے نیچے بھی آئے۔ میں ایک مثال دیا کرتا ہوں کہ سود کے نظام میں دولت گردش کرتی ہے نیچے سے اوپر، زکوٰۃ کے نظام میں دولت گردش کرتی ہے اوپر سے نیچے۔ سود کیا ہے؟ کہ ساری دولت نیچے سے سمیٹ کر اوپر لے جاتا ہے، اور زکوٰۃ اوپر سے نیچے لے کر آتی ہے:
وفی اموالہم حق للسائل والمحروم (سورۃ الذاریات: 51، آیت: 19)
(اور ان کے مال و دولت میں سائلوں اور محروم لوگوں کا (باقاعدہ) حق ہوتا ہے۔)
قرآن نے اصول کیا بیان کیا؟
کی لا یکون دولۃ بین الاغنیاء منکم (سورۃ الحشر: 59، آیت 7)
دولت معاشرے کی ضرورت ہے، لیکن گردش میں رہے تب، رکی ہوئی دولت بدبو پیدا کرتی ہے، اس کو قرآن نے متفرق مقامات پر بیان کیا ہے:
واذآ اردنآ ان نہلک قریۃ امرنا مترفیہا ففسقوا فیہا فحق علیہا القول فدمرناہا تدمیرا (سورۃ الاسراء: 17، آیت: 16)
(جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوشحال لوگوں کو (ایمان اور اطاعت کا) حکم دیتے ہیں، پھر وہ وہاں نافرمانیاں کرتے ہیں تو ان پر حجت پوری ہو جاتی ہے، چنانچہ ہم انھیں تباہ و برباد کر ڈالتے ہیں۔)
یہ بات سمجھنے کے لیے کہ گردش کیا ہوتی ہے، مشہور واقعہ ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ یمن کے گورنر تھے (حضور ﷺ کے زمانے میں بھی وہی تھے)۔ محصولات جو سال آنے کے بعد وصول ہوتے تھے، خرچ ہو جاتے تھے۔ جس طرح بجٹ ہوتا ہے کہ صدقہ ہے، زکوٰۃ ہے، عشر ہے، جزیہ ہے، خراج ہے۔ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ سال کا حساب جب وصول ہوا تو صوبے کے اخراجات پورے کرنے کے بعد تیسرا حصہ بچ گیا، یعنی صوبائی آمدنی کا تیسرا حصہ صوبے کی ضروریات سے بچ گیا۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے وہ مرکز میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خط لکھا اور ڈانٹا (کتاب الاموال میں خط موجود ہے) کہ اللہ کے بندے! تم عالم ہو، تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ زکوٰۃ کا اصول کیا ہے؟
تؤخذ من اغنیائہم وترد علیٰ فقرائہم (صحیح بخاری، باب وجوب الزکوٰۃ، حدیث نمبر: 1395)
(اموال ان کے امرا سے وصول کر کے ان کے فقرا پر خرچ کیے جائیں۔)
تو عجیب صورت حال ہے کہ صوبہ اپنی آمدنی کا ایک حصہ مرکز کو بھیج رہا ہے اور مرکز ناراض ہو رہا ہے کہ کیوں بھیجا ہے؟ اگر ہم ہوتے تو کہتے ٹھیک ہے، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ یمن کے فقیروں کا جو حق ہے تم نے ہمیں کیوں بھیجا؟
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے جواب میں لکھا: امیر المؤمنین! میں آپؓ کی بات سمجھتا ہوں، میرے صوبے میں کوئی ضرورت اور مصرف نہیں ہے کہ جہاں خرچ کروں؛ تمام مصارف میں سال کا بجٹ پورا ہونے کے بعد جو زائد ہے وہ آپ کو بھیجا ہے، میرے پاس مصرف ہی کوئی نہیں ہے کہ میں کہاں خرچ کروں۔
[ان عمرو بن شعیب اخبرہ ان معاذ بن جبل سورۃ لم یزل بالجند، … فبعث الیہ معاذ بثلث صدقۃ الناس، فانکر ذلک عمر، وقال: لم ابعثک جابیا ولا آخذ جزیۃ، ولکن بعثتک لتاخذ من اغنیاء الناس فتردھا علی فقرآءھم (کتاب الاموال، ابو عبید القاسم، باب قسم الصدقۃ فی بلدہ، حدیث نمبر: 1912)]
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اصول بیان کیا ہے کہ دولت گردش میں رہنی چاہیے، جمع نہیں ہونی چاہیے؛ یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے خون جسم میں جم جاتا ہے۔ اگر دولت گردش میں ہے تو خون کی طرح سوسائٹی کی زندگی کا ذریعہ بنے گی، اگر رک گئی ہے تو یہ خون کی طرح جم جائے گی اور فالج اور پھوڑے پیدا کرے گی، سوسائٹی کو تباہ کرے گی۔ قرآن پاک نے ایک اور مزے کی بات کی ہے:
و فی اموالہم حق للسآئل والمحروم (سورۃ الذاریات: 51، آیت: 19)
(اور ان کے مال و دولت میں سائلوں اور محروم لوگوں کا (باقاعدہ) حق ہے۔)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو دولت میں تمھیں دیتا ہوں وہ ساری تمھاری نہیں ہوتی بلکہ اس میں دوسروں کا بھی حصہ ہوتا ہے؛ جیسے کوئی آدمی مجھے پیسے بھیجے کہ مولوی صاحب! یہ پیسے ہیں، اس میں اتنے آپ کے ہیں اور اتنے فلاں کے ہیں، اور میں کہوں کہ سب میرے ہیں۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ سائل کا حق بھی ہے اور محروم کا حق بھی ہے۔ مفسرین بڑی دلچسپ بحث کرتے ہیں کہ سائل کیا ہے اور محروم کیا ہے؟ سائل وہ جو اپنی ضرورت کا اظہار کرے، اور محروم وہ ہے جو ضرورت مند تو ہے لیکن کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتا:
تعرفہم بسیماہم لا یسالون الناس الحافا (سورۃ البقرۃ: 2، آیت: 273)
(تم ان کے چہرے کی علامتوں سے ان (کی اندرونی حالت) کو پہچان سکتے ہو، (مگر) وہ لوگوں سے لگ لپٹ کر سوال نہیں کرتے۔)
جسے ہمارے ہاں سفید پوش کہتے ہیں، انگریزی میں وائٹ کالر (White collar) کہتے ہیں کہ جناب اندر تو انتڑیاں بلک رہی ہیں اور باہر سے ایسے نظر آتے ہیں کہ یہ ضرورت مند نہیں ہیں۔ جو اپنی ضرورت کا اظہار نہیں کرتا، پس اس کا بھی تمھارے مال میں حق ہے۔
یہاں مفسرین ایک سوال اٹھاتے ہیں کہ ایک آدمی ظاہر ہی نہیں ہونے دیتا کہ وہ ضرورت مند ہے، تو ہمیں کیسے پتہ چلے گا اور ہم اس کو کیسے دیں گے؟ مفسرین اس کا جواب دیتے ہیں کہ یہ بھی ذمہ داری ہے کہ آپ معاشرے میں خود تلاش کریں۔ یہی وجہ ہے کہ رشتہ داروں کو دینے کا ثواب زیادہ ہے، اسی طرح پڑوسیوں کو دینے کا ثواب زیادہ ہے؛ کیونکہ آدمی رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے حالات سے واقف ہوتا ہے، اس لیے صلہ رحمی کا ثواب زیادہ ہے۔
تو سیاست اور ریاست کے باب میں قرآن پاک نے جو موٹی موٹی اور اصولی ہدایات دی ہیں، ان میں سے چند کا ذکر کیا ہے۔ معیشت میں تجارت کے حوالے سے بھی سود کو حرام کیا ہے قرآن پاک نے، اور خاتم النبیین ﷺ نے سود کو حرام قرار دیا ہے۔ ایک مغالطہ ہوا تھا جو آج تک چلا آ رہا ہے: ’’انما البیع مثل الربوٰا‘‘ کہ جناب سود بھی تو بزنس کی صورت ہے، اگر چیزوں کا لین دین کمی بیشی کے ساتھ جائز ہے تو پیسوں کا کیوں نہیں؟ یہ مسئلہ جو آج کی بڑی عدالتوں میں زیربحث ہے، اُس زمانے میں بھی یہ مسئلہ زیر بحث تھا؛ یہ سوال کس نے کیا تھا؟ مشرکینِ مکہ کے موقف کو اللہ نے بیان کیا:
انما البیع مثل الربوٰا (سورۃ البقرۃ: 2، آیت: 275)
(بیع بھی تو سود ہی کی طرح ہے۔)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: نہیں! بیع اور چیز ہے، ربا اور چیز ہے:
واحل اللہ البیع وحرم الربوٰا (سورۃ البقرۃ: 2، آیت: 275)
(حالانکہ اللہ نے بیع کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بیع حلال ہے اور سود حرام ہے۔ دونوں بظاہر ایک جیسے نظر آتے ہیں لیکن ایک حلال ہے اور دوسرا حرام ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں جانتا ہوں، تم نہیں جانتے:
واللہ یعلم وانتم لا تعلمون (سورۃ البقرۃ: 2، آیت: 216)
(اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔)
ایک حلال ہے اور دوسرا حرام ہے۔ دیکھنے میں ایک جیسا ہونا حلال و حرام ہونے کی بنیاد نہیں۔ قرآن پاک نے ایک اور خوبصورت بات کی ہے کہ تم کہتے ہو کہ سود سے رقم بڑھتی ہے، قرآن کہتا ہے کہ گھٹتی ہے۔ تم کہتے ہو کہ سود میں 100 سے 110 روپے ہو گئے اور زکوٰۃ میں 100 سے ساڑھے 97 ہو گئے ہیں؛ سود میں رقم زیادہ ہوتی ہے اور زکوٰۃ میں رقم کم ہوئی۔ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں:
یمحق اللہ الربوٰا ویربی الصدقات (سورۃ البقرۃ: 2، آیت: 276)
سود سے رقم گھٹتی ہے اور صدقہ سے بڑھتی ہے۔ جبکہ دیکھنے میں الٹ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تمھیں دیکھنے میں یہ نظر آتا ہے کہ تمھاری نظر گنتی پر ہوتی ہے، گنتی اصل نہیں ہے، ویلیو (Value) اصل ہے۔ 1970ء میں میری شادی ہوئی، اس وقت 170 روپے تولہ سونا میں نے خریدا، اور آج کتنا ہے؟ اور یہ بتائیں کہ وہ سو بہتر تھا یا آج کا ہزار بہتر ہے؟ گنتی میں آج کا دس ہزار بھی اس زمانے کے سو کے برابر نہیں ہے۔ قدر میں وہ زیادہ ہے اور گنتی میں یہ زیادہ ہے۔ ایک اور ذاتی مثال دیتا ہوں کہ 1960ء میں گکھڑ میں حضرت والد محترم نے دس مرلہ زمین خرید کر مکان بنایا۔ رجسٹری کروانے میں خود وزیر آباد گیا تھا۔ دس مرلے کی قیمت رجسٹری سمیت گیارہ سو ستر روپے ادا کی تھی۔ اب میں نے پوچھا کہ وہاں مرلے کی کیا قیمت ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ چار لاکھ روپے مرلہ ہے۔ گنتی میں چار لاکھ، ویلیو میں 100 بھی نہیں ہے! اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ویلیو دیکھا کرو، گنتی نہ دیکھا کرو۔ اب صورتحال یہ ہے کہ پانچ ہزار کا نوٹ میری جیب میں ہے لیکن ویلیو میرے کنٹرول میں نہیں ہے، یہ کل دس ہزار کا بھی ہو سکتا ہے اور ایک سو کا بھی ہو سکتا ہے۔
فلاحی ریاست کا تصور اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ
تجارت اور معیشت کے حوالے سے ایک اور بات قرآن پاک نے بیان کی ہے، مختصرًا عرض کر دیتا ہوں، یہ بتانے کے لیے کہ ہر شعبۂ زندگی میں قرآن اور خاتم النبیین ﷺ نے رہنمائی فرمائی ہے۔ میں دو چار باتیں عرض کر دیتا ہوں۔
آج کا بڑا مسئلہ ہے رفاہی ریاست (Welfare State)، کہ ریاست اپنے رہنے والے تمام افراد کی ضروریات کی ذمہ داری اٹھائے؛ جو بے روزگار ہے اس کو روزگار فراہم کرے، جس کے پاس پیسے نہیں ہیں اس کو وظیفہ دے، جس کے پاس مکان نہیں ہے اس کو مکان دے؛ اس کو ویلفیئر سٹیٹ کہتے ہیں۔ آج کے دور میں برطانیہ ایک آئیڈیل ویلفیئر سٹیٹ سمجھی جاتی ہے۔
ایک واقعہ عرض کروں گا تاکہ آپ کو بات سمجھ میں آ جائے۔ میرا ایک بھانجا برطانیہ کے شہر برنلی میں ہے، اس نے مسلمانوں کے تعاون سے چرچ خرید کر اس کی جگہ مدرسہ بنایا۔ کچھ عرصہ ہوا میں وہاں گیا تو اس نے بتایا کہ ماموں! اس سال سردیوں میں سردی زیادہ پڑی ہے تو بلدیہ کی طرف سے ہر گھر میں بیس بیس پاؤنڈ کا چیک ڈاک کے ذریعے سے آیا ہے کہ اس سال سردی زیادہ پڑی ہے اور آپ کی گیس زیادہ استعمال ہوئی ہو گی، تو آپ کے گیس کے بل میں ہماری طرف سے یہ تعاون ہے۔ بیس پاؤنڈ بڑی رقم ہوتی ہے، آپ حساب لگا لیں ڈیڑھ سو کا پاؤنڈ ہے۔
برطانیہ کا سسٹم اس وقت سب سے اچھا ہے۔ ہمارے وزیر آباد کے ایم این اے ہیں جسٹس افتخار چیمہ، ریٹائرڈ جسٹس ہیں، ایک دفعہ بتانے لگے کہ ہم کیمبرج میں پڑھتے تھے، پاکستان بننے کے بعد کی بات ہے کہ میں لاء (Law) کی ڈگری کے لیے گیا ہوا تھا، پتہ چلا کہ یہاں ایک سمجھدار آدمی ہے، ہم اسے ملنے چلے گئے۔ تعارف کروایا کہ ہم پاکستانی ہیں، وہ بڑا خوش ہوا کہ تم نے اچھا کیا کہ ملنے آ گئے، میں ایک بات تمھارے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ تمھیں معلوم ہے کہ برطانیہ کا جو سوشل بینیفٹ سسٹم ہے (جس کی ایک جھلک میں نے آپ کو بتائی ہے) یہ کس نے ڈیزائن کیا؟ کہنے لگا کہ میں نے ڈیزائن کیا تھا، پارلیمنٹ نے جو کمیٹی بنائی تھی کہ لوگوں کی ضروریات ریاست کی طرف سے پوری کی جائیں، اس کے لیے ایک سسٹم طے کرو، میں اس سسٹم کو ترتیب دینے والی کمیٹی کا چیئرمین تھا۔ یہ سسٹم ہماری کمیٹی کا بنایا ہوا ہے۔ تمھیں یہ معلوم ہے کہ میں نے یہ کہاں سے لیا تھا؟ تمھارے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے لیا تھا، میں نے ان کا سسٹم پڑھا تھا، اس کو بنیاد بنا کر ہم نے یہ سارا سسٹم بنایا تھا۔
آج ناروے کے سسٹم کو بڑا آئیڈیل سمجھا جاتا ہے۔ ناروے میں بچے کو پیدا ہوتے ہی وظیفہ دیتے ہیں، اس کے سمجھدار ہونے تک ہر ہفتے وظیفہ دیا جاتا ہے۔ یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ دیا کرتے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ ناروے میں اس الاؤنس کا نام ہی ’’عمر الاؤنس‘‘ ہے کیونکہ یہ لیا ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ہے۔
بخاری شریف کو سسٹم کے تناظر میں سمجھیں
میں طلبہ سے عرض کیا کرتا ہوں کہ اگر بخاری شریف کو سسٹم کے طور پر پڑھیں تو کسی حوالے سے باہر جانے کی ضرورت نہیں ہے، بشرطیکہ پڑھانے والے سسٹم کے طور پر پڑھائیں۔
بخاری شریف کی روایت ہے کہ جب کوئی فوت ہو جاتا اور جنازہ لایا جاتا، تو حضور ﷺ سوال کرتے کہ اس کے ذمے قرضہ تو نہیں؟ اگر لوگ کہتے کہ یا رسول اللہ! نہیں، تو آپ ﷺ جنازہ پڑھا دیتے۔ اگر کہتے کہ یا رسول اللہ! اس پر قرضہ ہے، تو آپؐ پوچھتے کہ کتنا ہے؟ اگر تو اس کے ترکے میں اتنی گنجائش ہے کہ اس سے قرضہ ادا کیا جا سکتا ہے، تب بھی آپؐ جنازہ پڑھا دیتے۔ اور اگر یہ معلوم ہوتا کہ اس کے ترکے میں اتنی گنجائش نہیں ہے، تو آپؐ جنازہ نہیں پڑھاتے تھے، فرماتے: ’’صلوا علیٰ صاحبکم‘‘ (اپنے بھائی کا جنازہ پڑھو۔ صحیح بخاری، باب قول النبی ﷺ: من ترک کلا او ضیاعا فالی، حدیث نمبر: 5371)؛ میں واپس جا رہا ہوں۔
ایک دن ایسا ہوا کہ ایک صاحب کا جنازہ آیا، ان کے ذمے قرض تھا اور ترکے سے ادائیگی کا انتظام نہیں تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: ’’صلوا علیٰ صاحبکم‘‘۔ حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ موجود تھے، کہنے لگے، یا رسول اللہ! یہ ہمارا بھائی ہے، آپؐ اس کا جنازہ پڑھا دیں، جو اس کے ذمے قرض ہوگا وہ میں ادا کروں گا، اس کو اس سعادت سے محروم نہ کریں۔ حضور ﷺ نے جنازہ پڑھایا اور اس موقع پر فرمایا:
فمن توفی من المؤمنین فترک دینا فعلی قضاؤہ، ومن ترک مالا فلورثتہ (صحیح بخاری، باب من تکفل عن میت دینا، حدیث نمبر: 2298)
(مسلمانوں میں سے جو آدمی فوت ہو گیا اور اس نے قرض چھوڑا تو اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے، اور جس نے مال چھوڑا تو وہ اس کے وارثوں کا ہے۔)
میں تاریخ کا طالب علم ہوں، ’’فالی‘‘ (میری طرف) کے الفاظ تو ملتے ہیں، بہت سے لوگوں نے دوسرے لوگوں کی ذمہ داریاں اپنے سر لی ہیں، لیکن ’’فعلی‘‘ (میرے ذمے) کے الفاظ کہ میرے ذمے ہوں گے، تاریخ میں پہلی مرتبہ جناب خاتم النبیین ﷺ نے ارشاد فرمائے ہیں۔
معیشت اور اقتصادیات کے باب میں پالیسی کے حوالے سے بنیادی بات قرآن پاک نے اور حضور ﷺ نے کی ہے۔ دولت کو معاشرے میں گردش کرتے رہنا چاہیے، یہ اصول حضور ﷺ نے بیان کیا ہے۔ تجارت میں حلال اور حرام کا فرق، یہ اصول بھی حضور ﷺ نے بیان کیا ہے۔ حلال اور حرام کرنا اللہ کا کام ہے، یہ اصول بھی حضور ﷺ نے بیان کیا ہے۔ تجارت حلال ہے اور سود حرام ہے، یہ اصول بھی بیان کیا ہے۔
(جاری)





















