طلاق کا اسلامی تصور
خطبہ نمبر ۸
خطبہ مسنونہ کے بعد:
حضرات علمائے کرام محترم بزرگو، دوستو اور ساتھیو!
نکاح کیا ہے؟ نکاح کا جاہلی تصور کیا تھا اور اسلامی تصور کیا ہے؟ اور جناب خاتم النبیین ﷺ کے دورِ مبارک میں خاندانی نظام میں کیا کیا تبدیلیاں ہوئی ہیں؟ چند نشستوں میں اس موضوع پر تھوڑی تھوڑی گفتگو ہوئی۔ خاندانی نظام میں نکاح کے بعد ایک بنیادی مسئلہ طلاق کا ہے۔ طلاق یعنی نکاح کے بندھن کو ختم کرنا۔ نکاح رشتہ جوڑنے کو کہتے ہیں۔ مرد اور عورت کا نکاح ہوا، اب اس کو ختم کرنے کا طریقہ، جائز یا ناجائز، کیسے ہوگا، کیسے نہیں ہوگا، کب ہوگا، کب نہیں ہوگا؟ یہ مسائل ہیں طلاق کے۔ طلاق کا سادہ مفہوم ہے نکاح کے تعلق کو ختم کرنا۔ طلاق کے حوالے سے گفتگو چار حصوں میں تقسیم کرتا ہوں:
- پہلا دائرہ یہ کہ ہندومت میں طلاق کا تصور کیا ہے اور اسلام میں طلاق کا تصور کیا ہے اور اس کا استعمال کیسے ہے؟ جناب نبی کریم ﷺ نے اس کی کیا حدود متعین کی ہیں؟ کس بات کی اجازت ہے اور کس بات کی اجازت نہیں ہے۔ ایک دائرہ تو یہ ہوگا۔
- دوسرا دائرہ یہ ہوگا کہ طلاق کے احکام میں اصولی طور پر تمام فقہاء متفق ہیں، اور ہمارے ہاں داخلی فقہ کا اختلاف آج بھی بعض امور میں پایا جاتا ہے۔
- تیسرا دائرہ یہ ہوگا کہ اس وقت دنیا پر حکمرانی اقوام متحدہ، اس کے انسانی حقوق کے چارٹر کی اور اس کے فلسفے کی ہے۔ طلاق کے بارے میں اُن کا تصور کیا ہے اور وہ ہم سے کن تبدیلیوں کا مطالبہ اور تقاضا کرتے ہیں اور کیا کشمکش ہے؟
- چوتھا دائرہ یہ ہوگا کہ ان ساری باتوں سے ہٹ کر معاشرتی طور پر طلاق کے بارے کیا طرزِعمل ہے، کیا غلطیاں ہیں، ہم کیا کرتے ہیں اور کیا کرنا چاہیے؟
طلاق کو سمجھنے کے لیے یہ چار دائرے ہیں۔
ہندو مذہب میں طلاق کا تصور نہیں
جناب خاتم النبیین ﷺ سے پہلے جو بڑے مذاہب تھے بالخصوص ہندو اور عیسائی، یہ طلاق کے قائل نہیں تھے۔ ہندو مذہب میں طلاق کا تصور نہیں، ان کا کہنا ہے کہ جو جوڑا بن گیا وہ آسمانوں میں بن گیا، اس کو دنیا کی کوئی طاقت ایک دوسرے سے الگ نہیں کر سکتی۔ ان کی یہ مذہبی بنیاد ہے۔ حتیٰ کہ ان کے ہاں اس معاملے میں بڑی شدت ہے، اگرچہ باقی سب مذہبی احکام کو چھوڑ چھاڑ گئے ہیں، لیکن جب زندگی میں ایک دفعہ میاں بیوی بن گئے تو وہ ختم نہیں ہو سکتے۔ نہ طلاق کا تصور ہے اور نہ خاوند کی وفات کے بعد عورت کے لیے نکاح کا تصور ہے۔ زندگی میں بھی نہ کوئی طلاق دے سکتا ہے نہ لے سکتا ہے۔ اگر خاوند فوت ہو گیا اور بیوی زندہ ہے تو نیا نکاح نہیں کر سکتی، زندگی بھر اس نے سوگ میں رہنا ہے۔ بلکہ ان کے ہاں روایت یہ ہے کہ خاوند کے فوت ہونے کے بعد بھی وہ خاوند کی بیوی ہی ہے، موت تک وہ بیوی کے طور پر سوگ میں ہی زندگی گزارے گی، اسی گھر میں رہے گی، نہ اچھے کپڑے پہن سکتی ہے، نہ زیب و زینت اختیار کر سکتی ہے، اور نہ کسی اچھے پروگرام میں شریک ہو سکتی ہے۔ اس کو خاوند کے گھر میں ایک بیوہ کے طور پر ایک عام عورت کی طرح زندگی گزارنا ہے۔
اس لیے وہاں یہ بات بہتر سمجھی جاتی ہے کہ اگر کوئی عورت اپنے خاوند کے مرنے کے بعد اس کے گھر میں باقی زندگی گزارنے کے لیے تیار نہیں ہے تو اس کے لیے متبادل یہ ہے کہ وہ خاوند کی جلتی ہوئی چتا پر چھلانگ لگا کر خود بھی جل جائے۔ اس کو ’’ستی‘‘ ہونا کہتے ہیں اور ہندومت میں اس کو بہت بڑی ’’شہیدہ‘‘ کا درجہ دیا جاتا ہے۔ یہ بہت عظیم عورت سمجھی جاتی ہے جو خاوند کے ساتھ جل کر راکھ ہو جائے۔ ہندوستان آزاد ہونے کے بعد قانوناً اس روایت پر پابندی لگ گئی ہے، لیکن اس کے باوجود دور دراز علاقوں سے وقتاً فوقتاً ستی ہونے کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ پرانے رواج کے مطابق، پرانے مذہب کے اصول کے مطابق وہ عورت ستی ہو جاتی ہے، کہتی ہے میں اپنے خاوند کے ساتھ رہوں گی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس کو باقی زندگی خاوند کے گھر میں بیٹھ کر سوگ کی حالت میں گزارنا ہوتی ہے اور اس کو نکاح کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔
برصغیر کے مسلمانوں میں ہندو اثرات اور شاہ اسماعیل شہید کی اصلاحی تحریک
ہم بھی ہندوؤں کے زیر اثر رہے ہیں، اثرات تو ہوتے ہی ہیں، ہمارے ہاں بھی کسی درجہ میں بیوہ کے نکاح کو عیب سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں بیٹی کی پیدائش کو اس درجے کی خوشخبری نہیں سمجھا جاتا جس طرح بیٹے کی پیدائش کو سمجھا جاتا ہے، یہ سب ہندوؤں کا اثر ہے۔ شاہ اسماعیل شہید کی جو اصلاحی تحریک تھی اس میں یہ بھی تھا کہ بیواؤں کا نکاح کرو، سلام و جواب کو عام کرو۔ اس کا تذکرہ آپ کو اس اصلاحی تحریک میں ملے گا۔ اس تحریک کا اُس وقت کے مسلم معاشرے پر بہت اثر ہوا اور نکاحِ بیوگان کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا۔ (تفصیل کے لیے دیکھیں: ’’سیرت سید احمد شہید‘‘ از مولانا ابوالحسن علی ندوی‘‘، ’’سیرت سید احمد شہید‘‘ از غلام رسول مہر۔ ’’جب ایمان کی بہار آئی‘‘ از مولانا ابوالحسن علی ندوی)
بہرحال ہندوؤں کے ہاں مذہبی طور پر طلاق کا تصور نہیں تھا۔ اور کیتھولک عیسائیوں میں بھی ایسا ہی تھا، جو عورت بدکاری میں پکڑی جاتی تھی تو اس صورت میں اس کو طلاق ہو جاتی تھی ورنہ طلاق کا حق نہیں تھا۔
اسلام میں طلاق کا تصور
اسلام نے آکر عورت کے طلاق کا حق بحال کیا۔ یہ حق یہودی مذہب میں تھا۔ عیسائی مذہب اور ہندو مذہب میں یہ حق نہیں تھا۔ اسلام نے طلاق کا یہ حق بحال کیا، البتہ پہلی بات یہ تھی کہ یہ جائز تو ہے مگر طلاق حلال چیزوں میں سے مبغوض (ناپسندیدہ) ترین چیز ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے:
ابغض الحلال الی اللہ تعالی الطلاق۔ (سنن ابی داؤد، باب فی کراھیۃ الطلاق، حدیث نمبر: 2178)
(اللہ کے ہاں حلال چیزوں میں مبغوض (ناپسندیدہ) چیز طلاق ہے۔)
جیسے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم ﷺ کے منہ بولے بیٹے، اپنی بیوی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو طلاق دینا چاہتے تھے، آپ ﷺ نے بار بار کہا:
اتق اللہ، وامسک علیک زوجک۔ (صحیح بخاری، باب وکان عرشہ علی الماء، حدیث نمبر: 7420)
(اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھو۔)
اسلام نے آکر عورت کو خلع کا حق دیا اور مرد کو طلاق کا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ مرد کو براہ راست طلاق کا حق دیا اور عورت کو براہ راست نہیں بلکہ عدالتی عمل کے ذریعہ دیا۔ اگر خاوند ظلم کر رہا ہے اور طلاق دینے کو تیار نہیں ہے تو اس کی متبادل اتھارٹی بصورت عدالت موجود ہے۔ قاضی بھی فیصلہ کر سکتا ہے اور ثالث اور حَکم بھی فیصلہ کر سکتا ہے۔
زمانۂ جاہلیت میں ایک رسم یہ بھی تھی کہ مرد عورت کو طلاق دیتا، پھر رجوع کرتا، کچھ عرصہ بعد پھر طلاق دیتا تھا، پھر رجوع کرتا تھا، یہ سلسلہ چلتا رہتا تھا۔ اسلام نے آکر اس ظالمانہ فعل کو ختم کر دیا اور طلاق کی حد متعین کر دی کہ طلاق کی تعداد تین تک ہے، تیسری طلاق آخری ہے، اس کے بعد بیوی اس کی نہ رہے گی۔ قرآن کریم میں ہے:
الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان۔ (سورۃ البقرۃ: 2، آیت: 229)
(طلاق (زیادہ سے زیادہ) دو بار ہونی چاہیے، اس کے بعد (شوہر کے لیے دو ہی راستے ہیں): یا تو قاعدے کے مطابق (بیوی کو) روک رکھے (یعنی طلاق سے رجوع کر لے)، یا خوش اسلوبی سے چھوڑ دے (یعنی رجوع کے بغیر عدت گزر جانے دے۔)
طلاق کے بارے میں فقہاء کا اختلاف اور اس کا اصول
طلاق کے حوالے سے بنیادی مسائل میں سارے فقہائے امت متفق ہیں کہ (۱) ایک طلاق رجعی ہے، (۲) ایک بائن ہے، (۳) ایک مغلظہ ہے۔ اگر رجعی یا بائن ہو جائے تو رجوع یا تجدیدِ نکاح کا حق ہے۔ اور اگر طلاق مغلظہ ہو تو پھر
فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ۔ (سورۃ البقرۃ: 2، آیت: 230)
(پھر اگر شوہر (تیسری) طلاق دے دے تو وہ (مطلقہ عورت) اس کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہو گی جب تک وہ کسی اور شوہر سے نکاح نہ کرے۔)
جس میں ہمارا، شوافع اور مالکیہ کا داخلی اختلاف ہے۔ ظاہر بات ہے شوافع کا اپنا موقف ہے، احناف کا فقہی اصولوں پر مبنی اپنا موقف ہے، اس میں جزوی اختلاف بن گیا۔ ہمارے ہاں ایک مجلس میں تین طلاقیں دی جائیں تو ہوں گی یا نہیں؟ یہ اختلاف اب بھی چلا آ رہا ہے۔
اس میں ہمارا اصول یہ ہے، جمہور علماء کے ہاں، کہ جس ملک میں جس فقہ کی اکثریت ہو اسی فقہ پر فتویٰ ہوگا۔ جیسے پاکستان میں فقہ حنفی ہے تو احناف کے مسلک پر فتویٰ ہوگا۔ سعودیہ میں حنبلی فقہ ہے۔ الجزائر مالکیہ کا ہے۔ مصر میں قانونی مذہب شافعی ہے۔ مغرب (مراکش وغیرہ) میں اکثریت مالکیہ کی ہے۔ مشرق میں اکثریت حنفیہ کی ہے۔ جہاں جو بھی مذہب ہو اسی کی جزئیات پر عمل ہوگا۔ اگر مالکیہ اپنے مذہب پر عمل کریں تو ہمیں اعتراض نہیں۔ اگر ہم اپنے مذہب پر عمل کریں تو نہ مالکیہ کو اعتراض ہے، نہ شافعیہ کو، نہ حنبلیہ کو۔ میرے خیال میں کسی کو ہونا بھی نہیں چاہیے۔ یہ ہمارے داخلی اور فروعی اختلافات ہیں۔ ہمارا اصل اختلاف اہلِ مغرب سے ہے۔
طلاق کے بارے میں ہمارا اور مغرب کا جھگڑا
اس وقت طلاق کے بارے میں ہمارا جھگڑا پورے مغرب سے ہے اور پوری شدت کے ساتھ ہے۔ مغرب کے ساتھ اس قضیے کو سمجھنے کے لیے بین الاقوامی قوانین اور معاہدات کو سمجھنا ہوگا۔ بین الاقوامی معاہدات میں ہم پر اکثر جبر ہوتا ہے۔ مثلاً یورپی یونین کا ایک اپنا تجارتی دائرہ ہے، ان کے بزنس کا معیار ہے، بہت اچھے طریقے سے تجارت کرتے ہیں۔ ہم اس میں شریک ہونا چاہتے ہیں، یعنی ان کا تجارتی ممبر بننا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے ان کی شرائط اور مطالبات ہیں: (۱) تمہارے ملک میں سزائے موت کیوں ہے، اسے ختم کرو۔ (۲) قادیانیوں کی تکفیر کا مسئلہ ختم کرو۔ (۳) تحفظِ ناموس رسالت کا قانون ختم کرو۔ تب ہم تمھیں تجارت کی مراعات میں شریک کریں گے، ان مراعات کے دائرے میں آنے کی اور وہاں تک رسائی کی اجازت دیں گے۔
انہی مطالبات میں سے ایک یہ ہے کہ طلاق کا حق مرد کو ہے تو عورت کو بھی مساوی حق ملنا چاہیے۔ ہم پر خاندانی نظام میں سب سے زیادہ اس بات کا پریشر ڈالا جاتا ہے کہ طلاق کا حق مرد کو ہے تو طلاق کا حق عورت کو بھی ملنا چاہیے۔ 1962ء میں ایوب خان کے دور میں نکاح کے فارم میں ’’تفویضِ طلاق‘‘ کا خانہ لکھ دیا گیا۔ مگر ہوتا یہ ہے کہ نکاح کے وقت کسی کو پتہ نہیں، نہ خاوند کو، نہ بیوی کو، اور نہ نکاح پڑھانے والے کو۔
شریعتِ مطہرہ میں اصولی طور طلاق کا حق مرد کو حاصل ہے، عورت کو یہ حق نہیں دیا گیا کہ وہ مرد کی طرف سے اجازت ملے بغیر اپنے اوپر طلاق واقع کرے۔ چنانچہ حدیثِ مبارکہ میں ہے:
انما الطلاق لمن اخذ بالساق۔ (سنن ابن ماجہ، باب طلاق العبد، حدیث نمبر: 2072)
(طلاق کا اختیار پنڈلی لینے والے (یعنی شوہر) کے پاس ہے۔)
بعض مواقع پر عورت مجبور ہوتی ہے، ایسی صورت میں یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ شوہر طلاق نہ دے کر بیوی کو تنگ کرے، اس لیے شریعت نے اس طرح کے ممکنہ خدشات سے بچنے کے لیے اس بات کی اجازت دی ہے کہ شوہر اپنی بیوی یا کسی اور کو طلاق کا حق دے اور وہ بوقتِ ضرورت اسے استعمال کرے۔ اسے ’’تفویضِ طلاق‘‘ کہا جاتا ہے۔ فقہ حنفی میں اس کی گنجائش ہے …
اس معاملہ میں بڑے لطیفے ہوتے رہے۔ ایک نکاح میں نے پڑھایا، نکاح رجسٹرار تفویضِ طلاق کا خانہ پُر کرنے لگا اور طلاق کا حق دینے لگا تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا کہ یہ سوال خاوند سے ہے، اسے پوچھے بغیر تم اپنے طور پر ہاں یا ناں نہیں لکھ سکتے۔ ایک محترم خاتون تھی، اس نے کسی اور سے شادی کی تو خاوند نے کہا کہ یہ میری بیوی ہے، تو عورت نے جواب دیا کہ میں نے تفویضِ طلاق اختیار کی، تو خاوند کورٹ میں گیا اور کیس کیا۔ عدالت نے نکاح فارم منگوایا، ڈسٹرکٹ ریکارڈ سے کہ اگر اس میں تفویضِ طلاق کے خانہ میں ہاں لکھا ہوا ہے یا نہیں، فیصلہ اس پر ہوگا۔ جب دیکھا تو فارم میں ہاں لکھا ہوا تھا۔
یہ تفویضِ طلاق کا مسئلہ ہے۔ 1962ء کے بعد سے آج تک 55 سال ہو گئے، 99 فیصد لوگوں کو پتہ ہی نہیں ہے۔ میں مغرب سے کہتا ہوں کہ 55 سال ہو گئے ہیں ابھی تک پاکستانی سوسائٹی نے اس کو قبول نہیں کیا۔ الحمد للہ آج بھی ہماری سوسائٹی مجموعی طور پر قرآن و سنت کی روشنی میں چلتی ہے، مسلمان جتنا بھی بے عمل بے دین ہو گا لیکن تین چیزیں قرآن و سنت کے روشنی میں کرے گا: نکاح، طلاق، جنازہ۔ تو ہم سے یہ مطالبہ تھا، ہم نے درمیان کا راستہ اس وجہ سے اختیار کیا۔
اب ہماری عدالتوں میں طلاق اور خلع کے بارے میں کشمکش ہے۔ عدالتوں نے یہ فیصلے شروع کر دیے کہ خلع عورت کا حقِ طلاق ہے۔ مرد کے حق میں طلاق کو ’’طلاق‘‘ کہتے ہے اور عورت کے حق میں طلاق کو ’’خلع‘‘ کہتے ہیں۔ خلع عورت کے حق میں طلاق کے مساوی ہے۔ اگر آپ کو فیملی کورٹ میں جانے کا موقعہ ملے تو فیملی کورٹ میں کچھ عرصے سے بطور پالیسی کے یہ چلا آرہا ہے کہ عورت خلع کا مقدمہ کرے، فیصلہ 90 دن میں ہوگا اور عورت کے حق میں ہوگا۔ جج پابند ہے کہ نوے دن کے اندر فیصلہ کرے اور عورت کے حق میں کرے۔ خلع عورت کے حق میں عملاً طلاق کا مساوی حق قرار دیا گیا ہے۔
ایک واقعہ پچھلے دورِ حکومت کا ہے، ایک جسٹس صاحب کی سربراہی میں کمیشن کی طرف سے طلاق و نکاح کے قانون میں تبدیلی تجویز کی گئی۔ خلع کا طریقہ کار یہ ہے کہ جو عورت خلع لینا چاہتی ہے تو پہلے خاوند کو خلع کا نوٹس دے کہ میں تمھارے ساتھ نہیں رہوں گی، اور اس کی کاپی فیملی کورٹ میں بھیجے۔ فیملی کورٹ جب درخواست کی سماعت کرے گی، درخواست کی سماعت کے ساتھ یہ قبول کرنا پڑے گا کہ ہم دونوں آپس میں میاں بیوی نہیں ہیں۔ یہ سارا کس لیے ہے؟ اس لیے کہ مغرب کا ہم سے مطالبہ ہے عورت کو مساوی طلاق کا حق دو۔ ہم نے پہلے تفویضِ طلاق کے عنوان سے بات کی، اب ہم خلع کو مساوی طلاق کا حق قرار دیتے ہیں۔ مغرب کے ساتھ ہمارا طلاق کے حوالے سے یہ جھگڑا ہے اور مغرب ہم سے مطالبہ کر رہا ہے کہ عورت اور مرد کی مساوات کا ایک پہلو یہ ہے کہ عورت کو بھی طلاق کا مساوی حق دو، جیسا مرد کو طلاق کا حق ہے۔ اس اعتبار سے ہمارا مغرب کو یہ جواب ہے کہ تم نے تو ایسا کر کے اپنے فیملی سسٹم کو غرق کر دیا، اب ہمارے پیچھے کیوں پڑے ہو؟ آج بھی مغربی دانش کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان کا خاندانی نظام بکھر گیا ہے۔ اس پر مغربی دانشوروں میں سے دو کے حوالوں سے بات کروں گا۔
مغربی دانشوروں کا اعترافِ حقیقت
آپ نے روس کے سابق صدر گورباچوف کا نام سنا ہو گا، پرانے دوستوں کو یاد ہوگا، بڑے دانشوروں میں سے ہیں، انھوں نے ایک کتاب لکھی، پرسٹرائیکا (Perestroika)، اس میں فیملی سسٹم پر بحث کی اور اس میں یہ لکھا کہ ہم سے غلطی ہوئی۔ پہلی جنگِ عظیم میں قتلِ عام ہوا، بہت قتل و غارت ہوئی، لاکھوں لوگ قتل ہوئے، ہماری فیکٹریاں خالی ہوئیں، دفتر خالی ہوئے اور افرادی قوت کم ہوئی۔ دوسری جنگِ عظیم کا میدان بھی مغرب تھا اور یہ مسائل بھی وہاں پیدا ہوئے۔ گورباچوف کا کہنا یہ ہے کہ ہم نے اپنے دفتروں اور فیکٹریوں کی افرادی قوت پوری کرنے کے لیے عورت کو ورغلا کر گھر سے باہر نکالا اور دفتروں اور فیکٹریوں کے خلا کو وقتی طور پر پُر کر لیا۔ لیکن اب کوئی راستہ نہیں کہ عورت گھر میں واپس لائی جائے۔
میرے مغربی دانشوروں سے تین سوال ہوتے ہیں: اگر مرد اور عورت کے قوانین و احکام میں فرق نہیں ہونا چاہیے تو پہلے دیکھا جائے کہ مرد اور عورت کی جسمانی ساخت ایک ہے؟ فطری فرائض نیچرل ڈیوٹیز (Naturel Duties) ایک ہیں؟ نفسیات ایک طرح کی ہیں؟ اگر ان تینوں معاملات میں مساوات نہیں ہے تو احکام و قوانین میں مساوات کیسے ہو سکتی ہے۔
دوسری گواہی سابق امریکی خاتونِ اول ہیلری کلنٹن کی ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں الیکشن ہارنے کے بعد سات دن صدمے کے سبب گھر سے نہیں نکل سکی۔ یہ عورت کے نفسیاتی فرق کا اظہار ہے۔ جب ان ساری چیزوں میں مرد اور عورت کا واضح فرق ہے تو پھر احکام میں فرق کیوں نہیں ہوگا؟
طلاق کے معاملے میں ایک غفلت
ہمارے ہاں طلاق کے بارے میں میاں بیوی کا جھگڑا چلتا ہے۔ لیکن ہمارے طلاق کے مسائل سے نہ میاں بیوی واقف، نہ طلاق لکھنے والا واقف، نہ فیصلہ کرنے والا واقف۔ اندھا دھند طلاق کا استعمال ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں عام طور پر رواج یہ ہے طلاق دیتے وقت عرضی نویس کے پاس جاتے ہیں، وہ چند رٹے رٹائے کلمات لگا کر لکھتے ہیں: طلاق، طلاق، طلاق۔ پھر اس کو سنا کر انگوٹھا لگوا کر دستخط کروا دیتا ہے، واپسی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
جنرل ضیاء الحق کے دور میں شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ نے جنرل ضیاء الحق کو کہا کہ تھوڑی سی عرضی نویسوں کی تربیت کریں کہ وہ تین طلاق ایسے نہ دلوایا کریں بلکہ ان کو پہلے سمجھائیں کہ تین طلاق دینا جرم ہے، ان کی سزا مقرر کریں۔ یہ ہمارے سرکردہ علماء نے حکومت کو باقاعدہ لکھ کر دیا تھا۔ اس انداز سے ازدواجی تعلق کو یکلخت ختم کرنا، ہمارا بہت بڑا معاشرتی مسئلہ ہے، اس پر حکومت اور قانونی حلقوں کو توجہ دینی چاہیے۔
ہماری ذہنی اُلجھن
اسلام نے نکاح و طلاق اور خاندانی زندگی کے حوالے سے خاوند اور عورت کے لیے واضح قوانین و احکام دیے ہیں اور ان کے حقوق و اختیارات اور ذمہ داریوں کے درمیان ایسا توازن قائم کر دیا ہے کہ بلاوجہ طلاق کا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔ لیکن ہماری اصل الجھن یہ ہے کہ ہم نے اسلام کے احکام و قوانین کو مغرب کے فلسفہ و ثقافت اور اپنے علاقائی کلچر اور قبائلی روایات کے ساتھ گڈمڈ کر کے ایک ایسا کلچرل ملغوبہ بنا لیا ہے، جس کے پیدا کردہ مسائل کا حل نہ اسلام کے پاس ہے، نہ مغرب کی ثقافت ان کا سامنا کر سکتی ہے، اور نہ ہی علاقائی کلچر اُن مسائل کے حل کی ہمت رکھتا ہے۔
اسلام کا نام تو ہمیں صرف وہاں یاد آتا ہے جہاں مشکلات و مسائل کو ہماری مرضی کے مطابق حل کرنے کے لیے اسلام کے کسی قانون سے ہمیں فائدہ ہوتا ہو، حالانکہ اسلام کی راہنمائی ہمیں صرف اس صورت میں حقیقی فائدہ دے سکتی ہے جب ہم ’’ادخلوا فی السلم کافۃ‘‘ (سورۃ البقرۃ: 2، آیت: 208) (اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ) کے ارشادِ ربانی کے مطابق پورے کے پورے اسلامی سسٹم کو اختیار کریں، اور اس کے مکمل نیٹ ورک کے ساتھ اپنی مشکلات کے حل کا راستہ تلاش کریں۔ مگر ہم اسلام کی خوبیوں کو دوسری ثقافتوں اور نظاموں کے فریم ورک میں فٹ کر کے نتائج حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے معاملات سلجھنے کی بجائے مزید بگڑ جاتے ہیں اور ہم بہتری کی بجائے ابتری کی طرف بڑھنے لگتے ہیں۔
برسوں قبل ایک صاحب کی بیان کردہ مثال میرے ذہن سے ابھی تک چپکی ہوئی ہے کہ کسی ملکۂ حسن کی ناک یقیناً خوبصورت ناک کہلاتی ہے، لیکن صرف اُس وقت تک جب تک وہ اسی چہرے کا حصہ ہو۔ اگر اسے الگ کر کے کسی دوسرے چہرے پر فٹ کر دیا جائے تو وہ اس چہرے کو خوبصورتی بخشنے کی بجائے اپنی خوبصورتی سے بھی محروم ہو جائے گی۔ اس لیے ہمارا اصل المیہ یہ ہے کہ ہم اسلام کی خوبصورت ناک کو دوسرے چہروں پر فٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے تہذیبی افراتفری اور ثقافتی خلفشار کے سوا ہمیں کچھ بھی حاصل نہیں ہو رہا۔
طلاق کے اسلامی تصور کے حوالے سے یہ کچھ متفرق باتیں تھیں، اور مغرب کے ساتھ تہذیبی و فکری تصادم کے حوالے سے جو ہم نے مختصرًا بیان کیں۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
(جاری)
