▲ ☰

اسلام کا سیاسی نظام: ایک قانونی تجزیہ (۱)

مسلمانوں پر حکمرانی کا حق کسے حاصل ہے؟ کوئی شخص حق حکمرانی نہ رکھتا ہو اور وہ حکومت پر قابض ہو جائے، یا حکمران بننے کے بعد کوئی شخص لازمی صفاتِ اہلیت میں کوئی صفت عارضی یا مستقل طور پر کھو بیٹھا، تو اس کے تسلط کی کیا حیثیت ہے اور مسلمانوں کو اسے ہٹانے کا حق حاصل ہے یا نہیں؟ کیا اس مقصد کے لیے مسلح جدوجہد کی جا سکتی ہے؟ اگر ہاں تو کن شرائط کے تحت؟ اور اگر نہیں تو پھر اصلاح کا راستہ کیا ہے؟ یہ اور اس طرح کے دیگر متعلقہ قانونی سوالات پر مسلمانوں کے ہاں ہر دور میں آرا کا تنوع رہا ہے۔ اس کے باوجود کیا یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ مستشرقین نے اس معاملے میں یک رخا پن اختیار کیا ہے؟ کیا اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات یہ نہیں ہے کہ مابعد استعمار دور کے کئی نامی گرامی مسلمان اہلِ علم نے مستشرقین کے اس یک رخے پن کو خود بھی قبول کر لیا ہے؟ ہاں، کچھ ایسے بھی اہلِ علم ہیں جنھوں نے اسے قبول نہیں کیا لیکن ان میں کئی ایسے ہیں جو ردعمل کی نفسیات کا شکار ہو کر دوسری انتہا پر چلے گئے۔

ہم پہلے مستشرقین کے عمومی نظریے کے بنیادی نکات واضح کریں گے۔ اس کے بعد دکھائیں گے کہ اس نظریے میں بعض دیگر مصنفین نے جزوی ترمیم کیسے کی؟ پھر ہم دکھائیں گے کہ اس ضمن میں مسلمان اہلِ علم کا عمومی رویہ کیا رہا ہے؟

ہملٹن گِب (م1971ء) کا نظریہ

گِب کا کام بعد کے مستشرقین اور مسلمان اہلِ علم کے لیے بنیادی ماخذ ہے۔ یہ نظریہ چند نکات کی صورت میں یوں پیش کیا جا سکتا ہے:

  1. ابتدا میں مسلمانوں نے حکمران (امام) کے لیے بہت کڑی شرائط رکھیں اور یہ موقف اختیار کیا کہ مسلمانوں کا ایک ہی امام ہونا چاہیے جسے فاسق ہو جانے کی صورت میں مسلمان معزول کر سکتے ہیں۔
  2. بعد میں جب خوارج نے مسلسل کئی بغاوتیں کیں تو ان کے اثرات کو دیکھ کر فقہاء اس پر مجبور ہوگئے کہ حکمران کی معزولی کے حق کی نفی کریں۔
  3. پانچویں صدی ہجری تک، جب ایک طرف آلِ بُوَیہ اور دوسری طرف فاطمیین نے غلبہ پا لیا تھا، ابو الحسن الماوردی (م450ھ) نے عباسی خلافت کے تحفظ کے لیے یہ نظریہ اختیار کیا کہ متغلب سلاطین کا اقتدار اس شرط پر جائز ہوگا کہ وہ بغداد کے خلیفہ کی اطاعت کا اصولی اقرار کریں اور وہاں سے سند حاصل کریں۔ یوں ماوردی نے عام مسلمانوں کے لیے ان متغلبین کی اطاعت کو ایک قانونی اور اخلاقی فریضہ بنا دیا۔
  4. ابو حامد الغزالی (م505ھ) کے وقت تک بغداد پر بھی سلجوق سلاطین کا غلبہ ہو چکا تھا۔ چنانچہ غزالی کو سلاجقہ کے دنیوی اور خلیفہ کے مذہبی اقتدار کے درمیان تطبیق کا مسئلہ درپیش ہوا۔
  5. ابن جماعہ (م733ھ) کے وقت تک عباسی خلافت کا خاتمہ ہو چکا تھا اور خود ابن جماعہ نے مملوک حکمرانوں کے تحت قاضی کے طور پر کام کیا۔ چنانچہ ابن جماعہ نے حکمرانی کے حق کو غلبہ اور شوکت کے ساتھ مشروط کیا اور قرار دیا کہ جس شخص کے پاس شوکت ہو اس کی حکمرانی جائز ہے۔ بہ الفاظِ دیگر انھوں نے اقتدار پر قبضے کو ہی قانونی جواز کے طور پر تسلیم کیا۔

گِب کا کہنا ہے کہ بعد کے فقہاء نے بالعموم ابن جماعہ کے موقف کو ہی اختیار کیا ہے۔

گِب کے نظریے کی تفصیل کے لیے اس کا مضمون بعنوان "Constitutional Organization" دیکھیے جو مجید خدوری اور ہربرٹ لیبزنے کی مدون کردہ کتاب Origin and Development of Islamic Law (1955) میں شامل ہے۔

بعض مغربی سکالرز اور مسلمان اہلِ علم نے گِب کے نظریے کو بنیادی طور پر قبول کرنے کے بعد اس میں بعض جزوی ترامیم بھی کی ہیں۔

مثال کے طور پر حنہ میخائل نے اپنی کتاب Politics and Revelation: Mawardi and After میں، جس کا عربی ترجمہ بھی الماوردی و مابعدہ کے عنوان سے دستیاب ہے، گِب کے نظریے سے اتفاق کرتے ہوئے قرار دیا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فقہاء خاموش اطاعت (quietism) کی تبلیغ کرنے اور غاصب و ظالم حکمرانوں کے خلاف اٹھنے کی ممانعت کا درس دینے لگے۔ تاہم وہ بتاتے ہیں کہ ابوحیان الاندلسی (م754ھ) نے ظالم حکمران کے خلاف اٹھنے کی بات کی۔ میخائل اسے ایک استثنا کے طور پر پیش کرتے ہیں اور اسے "صدا بہ صحرا" (a voice in the wilderness) قرار دیتے ہیں۔

اسی طرح ڈاکٹر فضل الرحمان نے اپنے مضمون “The Law of Rebellion in Islam” میں قرار دیا کہ اگرچہ ابتدا میں کچھ "تحریکی رجحانات" (activist tendencies) پائی جاتی تھیں لیکن مرجئہ کے سکون آور عقیدے نے ان رجحانات کو ختم کر دیا اور فقہاء نے بالعموم ظالم حکمران کے خلاف اٹھنے کی ممانعت کی۔ وہ نتیجہ یہ نکالتے ہیں کہ اسلامی قانون میں "بغاوت کا قانون" سرے سے موجود ہی نہیں!

ایک اور مشہور اور اہم مغربی مصنف برنارڈ لوئیس اپنی کتاب The Political Language of Islam میں قرار دیتے ہیں کہ ابتدائی دور کے مسلمانوں میں دونوں رجحانات — ظالم حکمران کی اطاعت اور اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا — رہے؛ تاہم بعد میں مسلمان اس کے قائل ہوگئے کہ حکمران کی اطاعت لازم ہے، خواہ وہ ظالم ہو یا عادل، اور آخر کار اطاعت ہی کا اصول رائج ہوگیا۔

اس نظریے میں کئی مسائل ہیں۔

سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس نظریے کے قائلین نے صرف ان فقہاء کو منتخب کیا ہے جو ان کے زعم کے مطابق یہ نظریہ رکھتے تھے اور دوسرے فقہاء کو، جو یہ نظریہ نہیں رکھتے تھے، یا تو سرے سے نظرانداز کیا ہے یا ان کے موقف کو استثنا قرار دیا ہے۔ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ گِب نے جن فقہاء کو چنا وہ سارے کے سارے شافعی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ امام ابوحنیفہ کا اموی اور عباسی خلفاء کے ساتھ کیا معاملہ رہا؟ تاریخ کا ہر طالب علم جانتا ہے۔ تاہم ان کے موقف کو اس ساری بحث میں نظرانداز کیا گیا ہے۔

دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ ساری بحث اگرچہ قانونی اور آئینی مسئلے پر ہو رہی ہے لیکن اس میں قانون اور آئین کے اصولوں کی توضیح کے لیے اصل مآخذ کی حیثیت رکھنے والی کتب، فقہ اور فقہِ اکبر، کو یکسر نظرانداز کیا گیا ہے۔

تیسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جن فقہاء کی آرا کو اس نظریے کے لیے چنا گیا ہے، ان کی آرا لیتے وقت اس بنیادی قانونی فرق کو نظرانداز کیا گیا ہے جو قانونی اور آئینی مباحث میں بے حد اہمیت کا حامل ہے؛ اور وہ ہے امرِ واقعہ (de facto) اور امر قانونی (de jure) میں فرق۔ مثال کے طور پر امام غزالی اگر متغلب کے، یا اس شخص کے جو امامت کی شرائط پوری نہیں کرتا، حکم کے نفاذ کی بات کرتے ہیں تو کیا وہ اسے as a matter of fact مانتے ہیں یا as a matter of law؟

نوٹ: یہاں تک کی تحقیق بنیادی طور پر راقم کی اہلیہ ڈاکٹر سعدیہ تبسم صاحبہ کے پی ایچ ڈی مقالے "Legal Status and Consequences of Rebellion in Islamic and Modern International Law: A Comparative Study" سے ماخوذ ہے۔

(جاری)

fb.com/share/p/19qk1mvRGD

fb.com/share/p/1DVkNFkXoB

اسلام اور سیاست

(الشریعہ — اکتوبر ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — اکتوبر ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۱۰

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۶)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

علامہ آلوسی کی تفسیر ’’روح المعانی‘‘
مفتی شاد محمد شاد

امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل کا نبوی منہج (۳)
مولانا ڈاکٹر محمد ابوبکر فاروقی

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۱۰)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۸)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات ( ۶)
محمد سراج اسرار

سیاست نامہ از نظام الملک طوسی
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

استشارہ اور استخارہ: اہمیت، فضیلت اور طریقہ کار
مولانا عبد المتین

جزیرۃ العرب میں غیر مسلموں کی رہائش کی ممانعت کا شرعی و عقلی جائزہ
مفتی سید انور شاہ

اسلام کا سیاسی نظام: ایک قانونی تجزیہ (۱)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اسلام اور شخصی آزادی (۲)
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
ذیشان ہاشم

The Essential Requisite of Protecting the Finality of Prophethood and the Sanctity of the Messenger (PBUH)
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

مولانا عبید اللہ سندھی سے منسوب ایک مقالے کی تحقیق
مولانا صدیق احمد فاروق

نفاذِ شریعت یا سیکولرزم
حسنین خالد

قائد اعظم اور قانونِ وقف الاولاد
پروفیسر محبوب پوپاتیا

Our Constitutional History & Background of the Proposed 28th Amendment
Mufti Munib ur Rehman

یمن: تابناک ماضی سے مخدوش مستقبل تک
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

کیا چین مسلم اُمت کا اتحادی بننے جا رہا ہے؟
خالد محمود عباسی

Some Points for the Iranian Leadership`s Consideration
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

دارالعلوم کراچی میں منعقدہ ایک مبارک تقریب کا احوال
مولانا حافظ خرم شہزاد

تلاش

شماریات