▲ ☰

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۷)

عدالت و قانون

معاشرے میں جرائم کو روکنے کے لیے قانون ہوتا ہے اور قانون کے نفاذ کے لیے عدالتیں ہوتی ہیں۔ یہ مستقل شعبہ ہے ہر ملک اور ہر سوسائٹی میں۔ حضور ﷺ نے قانون بھی بنایا، ان پر عمل بھی کیا اور ان پر عمل کرنے کے اصول بھی بتائے ہیں۔ قرآن پاک نے بہت سے اصول بیان کیے ہیں۔ آپ کی معلومات کے لیے عرض کر دیتا ہوں کہ شریعت کی اصطلاح کتاب اللہ کے قوانین کے لیے صرف ہماری نہیں ہے، یہودیوں کی اصطلاح بھی یہی ہے اور عیسائیوں کی اصطلاح بھی یہی ہے، یہ الگ بات ہے کہ وہ عملاً‌ دستبردار ہو گئے ہیں۔

خطبۂ حجۃ الوداع میں جناب نبی اکرم ﷺ نے جب اپنی امت کو یہ تلقین فرمائی تھی کہ اپنے حکمران کی اطاعت کرو خواہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو:

’’ما قادکم بکتاب اللہ‘‘ (سنن ابن ماجہ، باب طاعۃ الامام، حدیث نمبر: 2861)
(جب تک وہ تمھارے معاملات کو قرآن کریم کے مطابق چلاتا رہے۔)

تو یہ قرآن کریم کی اسی حیثیت کا اعلان تھا کہ وہ اسلامی ریاست کا دستور ہے اور ریاست و حکومت کے تمام معاملات کا اسی دستور کے دائرے میں رہنا ضروری ہے۔

جناب نبی اکرم ﷺ کے جانشین اور خلیفۂ اول حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خلافت کا منصب سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے خطبے (Policy Address) میں فرمایا تھا کہ میں تم سے کتاب و سنت کے مطابق چلنے کا وعدہ کرتا ہوں، جب تک میں کتاب و سنت کے مطابق حکمرانی کروں، تم پر میری اطاعت واجب ہے، اور اگر میں قرآن و سنت کی اطاعت سے ہٹ جاؤں تو تم پر میری اطاعت ضروری نہیں ہے۔ خلیفۂ اولؓ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر میں قرآن و سنت کے مطابق چلوں تو میرا ساتھ دو اور اگر اس سے ٹیڑھا ہونے لگوں تو مجھے سیدھا کر دو۔

[الا وراعونی بابصارکم، فان استقمت فاتبعونی، وان زغت فقومونی، وان اطعت اللہ فاطیعونی، وان عصیت اللہ فاعصونی۔ (المعجم الاوسط، باب من اسمہ منتصر، حدیث نمبر: 8597)]

ہم سمجھتے ہیں کہ خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ اعلان قرآن و سنت کی دستوری حیثیت کا اعلان تھا، خلافت راشدہ کا آغاز قرآن و سنت کو اپنا دستور اور بالاتر قانون تسلیم کرنے کے ساتھ ہوا تھا۔ خلیفۂ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے پہلے خطبے میں یہی اعلان کیا تھا اور اس میں یہ اضافہ فرمایا تھا کہ میں قرآن و سنت کے ساتھ ساتھ اپنے پیشرو خلیفہ کی روایات بھی قائم رکھوں گا۔ جبکہ خلیفۂ ثالث حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کا فیصلہ کرتے وقت اس کی مجاز اتھارٹی حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے امیر المؤمنین کی حیثیت سے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے خلیفہ ہونے کا اعلان اور ان کی بیعت ہی اس شرط پر کی تھی کہ:

ابایعک علیٰ سنۃ اللہ ورسولہ، والخلیفتین من بعدہ (صحیح بخاری، باب کیف یبایع الامام الناس، حدیث نمبر: 7207)
(یعنی میں آپ کی بیعت اس شرط پر کرتا ہوں کہ آپ کتاب و سنت کی پیروی کریں گے اور نبی اکرم ﷺ کے بعد دونوں خلفاء حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی روایات کی پاسداری کریں گے۔)

ان کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی حکومت کی بنیاد اسی اصول کو قرار دیا تھا۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن و سنت اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے فیصلوں کو اسلامی ریاست میں صرف رہنما اصول یا مآخذ قانون (Sources of Law) کا درجہ حاصل نہیں ہے، بلکہ یہ خود قانون اور دستور کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور قرآن و سنت کی اسی اصولی حیثیت سے انکار آج کے دستور سازوں اور قانون سازوں کے ہاتھ میں قرآن و سنت سے انحراف کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔

ہمارے ہاں قیامِ پاکستان کے بعد سے یہ بحث جاری ہے کہ قرآن و سنت خود قانون ہیں یا انھیں صرف مآخذ قانون کی حیثیت حاصل ہے؟ لیکن جب ہم بانئ پاکستان قائد اعظم جناب محمد علی جناح کے ان بیانات و اعلانات کی طرف رجوع کرتے ہیں جو انہوں نے قیامِ پاکستان کے مقاصد کو واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمائے تھے، تو ان میں ہمیں اس قسم کا کوئی ابہام نظر نہیں آتا۔ چنانچہ انہوں نے اگست 1944ء میں کانگریسی راہنما جناب گاندھی کو جو تفصیلی خط تحریر کیا، اس میں کہا کہ:

’’قرآن مسلمانوں کا ضابطۂ حیات ہے۔ اس میں مذہبی اور مجلسی، دیوانی اور فوجداری، عسکری اور تعزیری، معاشی اور معاشرتی، غرضیکہ سب شعبوں کے احکام موجود ہیں۔ وہ مذہبی رسوم سے لے کر روزانہ امورِ حیات تک، روح کی نجات سے جسم کی صحت تک، جماعت کے حقوق سے لے کر فرد کے حقوق و فرائض تک، اخلاق سے لے کر انسدادِ جرم تک، زندگی میں سزا و جزا سے لے کر عقبیٰ کی جزا و سزا تک، ہر ایک فعل، قول، حرکت پر مکمل احکام کا مجموعہ ہے۔‘‘

جبکہ اس سے قبل 1943ء میں آل انڈیا مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم یہ فرما چکے تھے:

’’مجھ سے پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان کا طرزِ حکومت کیا ہوگا؟ پاکستان کا طرزِ حکومت متعین کرنے والا میں کون ہوں؟ یہ کام پاکستان کے رہنے والوں کا ہے، اور میرے خیال میں مسلمانوں کا طرزِ حکومت آج سے تیرہ سو سال قبل قرآن حکیم نے فیصلہ کر دیا تھا۔‘‘

قائد اعظم کے بیان کردہ دونوں نکات پر غور کر لیجیے:

  • مسلمانوں کا طرزِ حکومت تیرہ سو سال قبل قرآن کریم نے طے کر دیا تھا۔
  • پاکستان کا طرزِ حکومت طے کرنا پاکستان میں رہنے والوں کا کام ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ قرآن کریم کی یہ دستوری حیثیت قائد اعظم کے ذہن میں بے غبار اور واضح تھی، اور پاکستان کے رہنے والوں نے طویل دستوری جدوجہد کے بعد 1973ء کے دستور کی صورت میں یہ بات طے کر دی تھی کہ حاکمیتِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے، قرآن و سنت کو ملک میں بالاتر حیثیت حاصل ہوگی، اور دستور و قانون دونوں کو ان کے دائرے میں رہنا ہوگا۔ (ماہنامہ الشریعہ، جون 2010ء)

ایک موقع پر قائد اعظم سے پوچھا گیا کہ پاکستان کا دستور کیا ہوگا، تو انہوں نے واضح طور پر کہا کہ: ’’پاکستان کا دستور ہمارے پاس پہلے سے قرآن کریم کی شکل میں موجود ہے اور وہی ہمارے دستور و قانون کی بنیاد ہوگا۔‘‘ اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ قرآن کریم جس طرح تیرہ سو سال قبل سیاسی و معاشرتی حوالہ سے قابلِ عمل تھا، اسی طرح وہ آج بھی قابلِ عمل ہے اور ہماری رہنمائی کرتا ہے۔

قرآن کریم کے ساتھ پاکستان کا دوسرا تعلق یہ ہے کہ دستورِ پاکستان میں حاکمیتِ اعلیٰ عوام یا کسی گروہ و خاندان کی نہیں تسلیم کی گئی، بلکہ اللہ تعالیٰ کی حاکمیتِ اعلیٰ کو دستور کی اساس قرار دیا گیا ہے؛ جو قرآن کریم کے ارشاد:

’’ان الحکم الا للہ‘‘ (سورۃ یوسف: 12، آیت: 40)
(حاکمیت اللہ کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہے۔)

کا ترجمہ ہے اور دستورِ پاکستان کی بنیاد ہے۔ دستورِ پاکستان کے حوالہ سے یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ وہ جمہوریت کے اس معروف تصور کو قبول نہیں کرتا کہ حاکمیتِ اعلیٰ عوام کی ہے اور پارلیمنٹ مکمل طور پر خود مختار ہے۔ بلکہ ہمارے دستور کی تین بنیادیں بالکل واضح ہیں:

  1. ایک یہ کہ حاکمیتِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے۔
  2. دوسری یہ کہ حکمرانی کا حق کسی گروہ یا خاندان کا نہیں بلکہ عوام کے منتخب نمائندے حکومت کریں گے۔
  3. تیسری یہ کہ پارلیمنٹ اور حکومت مکمل خود مختار نہیں بلکہ قرآن و سنت کی پابند ہیں۔

یہ پاکستان اور قرآن کریم کے تعلق کا دوسرا پہلو ہے۔ مگر قرآن کریم اور پاکستان کے تعلق کے ایک تیسرے پہلو کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ وہ یہ کہ دنیا بھر میں قرآن و سنت کے حفظ اور فہم دونوں حوالوں سے پاکستان کو جو امتیاز اس وقت حاصل ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا خصوصی فضل ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حفظِ قرآن کریم کا سب سے مضبوط نیٹ ورک پاکستان میں ہے اور حفاظ کی تعداد بھی آبادی کے تناسب کے لحاظ سے پاکستان میں زیادہ ہے۔ جبکہ دنیا کے دوسرے بہت سے ممالک میں قرآن کریم کے حفظ کی تدریس کی خدمات میں بھی پاکستان کے قراء و حفاظ سب سے نمایاں ہیں۔ میں نے دنیا کے مختلف علاقوں میں پاکستانی قراء کو حفظِ قرآن کریم کی تدریس کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ امریکہ، برطانیہ، جنوبی افریقہ، ہانگ کانگ، اور کینیا جیسے ممالک میں حفظِ قرآن کریم کے ایسے مدارس موجود ہیں جن میں پاکستانی قراء کرام خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

یہ بات یقیناً‌ آپ حضرات کے لیے تعجب انگیز خوشی کا باعث ہوگی کہ حرمِ مکہ (یعنی مسجد حرام) میں حفظِ قرآن کریم کا پہلا مدرسہ ہمارے ایک پاکستانی مخیر بزرگ الحاج محمد یوسف سیٹھی کی توجہ اور محنت سے قائم ہوا تھا، جن کا تعلق ایک نومسلم خاندان سے تھا اور گکھڑ کے قریب راہوالی میں ان کی مشہور گتہ فیکٹری تھی۔ حرمِ مکہ کے اس پہلے مدرسے کے استاد پاکستانی قاری الشیخ خلیل احمد تھے، اور ان کے شاگردوں میں امام الحرمین الشیخ عبد اللہ بن سبیل بھی شامل ہیں۔ خود میرے حفظِ قرآن کریم کے استاذ محترم حضرت قاری محمد انورؒ نے پینتیس برس تک مدینہ منورہ میں حفظِ قرآن کریم کی تدریسی خدمات سرانجام دی ہیں۔

مختصر یہ کہ مدارس کا نیٹ ورک اپنے بنیادی مقاصد کے حوالے سے کامیاب اور نتیجہ خیز رہا ہے۔ اس کے تیار کردہ افراد نے تعلیم و تدریسِ دین سے لے کر صحافت و سیاست سمیت زندگی کے دیگر شعبوں کو بھی اپنی محنتوں کے ثمر سے فیضیاب کیا ہے۔ رکاوٹیں، مخالفتیں اور مخاصمتیں اس راہ کا معمول ہیں۔ اب مدارس کی غیر معمولی خدمات کا اعتراف عالمی سطح پر بھی کیا جا رہا ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا دینی تعلیم و تربیت کا نظام اللہ کے فضل کے ساتھ ساتھ عوام الناس کے تعاون کی بدولت خالصتاً‌ غیر سرکاری بنیادوں پر چل رہا ہے۔ اس کی وجہ صرف اخلاص اور للٰہیت ہے۔

احکام القرآن اور آج کے ملکی و عالمی تناظر میں یہ چند گوشے تھے جو میں نے پندرہ نشستوں میں اہل دین اور اہلِ دانش کے سامنے رکھے ہیں۔ عصرِ حاضر کی معروضی صورتحال میں قرآنی حقائق عالمی دانش سے بھی اپنی صداقت کا اعتراف کروا رہے ہیں۔ اہلِ دین کی ذمہ داری ہے کہ آج کی زبان اور اسلوب میں قرآن پاک کے احکام کو حکمت اور فراست و تدبر کے ساتھ انسانیت کے سامنے رکھیں۔


حاشیہ: مرتب کو بھی 2001ء میں حضرت قاری صاحب نے حرمِ نبوی میں سماعتِ قرآن کے بعد اجازت عطا فرما کر اپنے تلامذہ میں شامل فرمایا۔ جامعہ فتحیہ کے ایک فاضل حضرت مولانا قاری عبد المالک صاحب چوتھائی صدی سے زائد حرمِ نبوی میں تدریس قرآن فرما رہے ہیں۔ ان کے تلامذہ میں امام کعبہ عبد اللہ الجہنی اور دیگر شیوخ شامل ہیں۔

(مکمل)

قرآن / علوم القرآن

اقساط

(الشریعہ — نومبر ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — نومبر ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۱۱

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۷)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل کا نبوی منہج (۴)
مولانا ڈاکٹر محمد ابوبکر فاروقی

حدیث میں بیان کی گئی علاماتِ قیامت کی تاریخی واقعات سے ہم آہنگی (۷)
ڈاکٹر محمد سعد سلیم

محاضراتِ فقہ (۵)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۶)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کیا مذہب پر سوال اٹھانا الحاد ہے؟
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی
عامر احمد عثمانی

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۱۱)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۹)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

سائنس کا قبلہ
فرحت علی بیگ

فکری انحراف اور علماء کرام کی ذمہ داری
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی
مفتی شاد محمد شاد

اوّلیاتِ برصغیر
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

تاریخ کا ایک ورق
اسرار الرحمٰن
ڈاکٹر سید راشد علی

بنیادی مذہبی تعلیم
مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ

اسلام کا سیاسی نظام: ایک قانونی تجزیہ (۲)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اسلام اور شخصی آزادی (۳)
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
ذیشان ہاشم

عدالتی خلع کے مسائل
ڈاکٹر محمد امین

Pakistan and the Muslim World: Where We Stand, Where We Go
Maulana Fazal-ur-Rehman

Human Rights: Five Key Differences Between Islamic & Western Perspectives
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

امتِ مسلمہ کا انتشار اور بڑی طاقتوں کا کردار
محمد محسن اقبال

عرب حکومتوں کا مستقبل: بحران، خطرات اور امکانات
تبصرات

مولانا راشدی کے خطابات و بیانات اور مصروفیت
ادارہ

تلاش

شماریات