یومِ آزادی پر کرنے کے چار کام
مولانا حافظ عامر حبیب — سیکرٹری جنرل پاکستان شریعت کونسل گوجرانوالہ شہر
۱۳ اگست ۲۰۲۶ء کو مرکز اقصیٰ میں ’’یومِ آزادی‘‘ کے حوالے سے پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیراہتمام منعقدہ ’’آل پارٹیز کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ ’’یومِ آزادی‘‘ پر ہم سب کے ذمے چار کام کرنے ضروری ہیں:
- ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو ہمیں برطانوی حکومت کے اقتدار و تسلط سے آزادی ملی تھی اور اسی دن پاکستان کے نام سے ایک نئی مسلم ریاست وجود میں آئی تھی۔ یہ دو بڑی نعمتیں ہیں، ان پر ہمیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکر ادا کرنا چاہیے کہ اللہ رب العزت نے ہمیں ان دو عظیم نعمتوں سے نوازا۔
- آزادی اور قیامِ پاکستان کے لیے مسلسل جدوجہد کرنے والے قائدین اور کارکنوں کی عظیم محنت، آزادی میں جانیں نچھاور کرنے والے شہداء، اور جیلیں کاٹنے والے کارکنوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہیے اور ان سب کے لیے بارگاہِ ایزدی میں دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہیے۔
- تحریکِ آزادی اور تحریکِ پاکستان کے مقاصد سے ہماری آج کی نسل بے خبر ہے، انہیں ان سے آگاہ کرتے ہوئے ان مقاصد کے حصول کے لیے تیار کرنا چاہیے۔ بالخصوص آزادی و خودمختاری کے ساتھ ساتھ مسلم تہذیب کے تحفظ اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے نوجوان پود کی ذہن سازی کا اہتمام کرنا چاہیے۔
- ہم اب تک آزادی اور پاکستان کے حقیقی مقاصد حاصل نہیں کر سکے۔ اس میں ہماری کوتاہیاں اور غفلت کارفرما ہیں۔ ہمیں اپنی کوتاہیوں کا احساس کرتے ہوئے ہر شخص، طبقہ اور ادارے کو اپنا احتساب کرنا چاہیے اور اس یومِ آزادی کو یومِ احتساب کے طور پر منانا چاہیے۔
کانفرنس کی صدارت جناب قاری محمد یعقوب شیخ نے کی اور اس سے مولانا خالد حسن مجددی، مولانا حافظ عمران عریف، ڈاکٹر عبد الماجد المشرقی اور دیگر زعماء نے خطاب کیا۔
اعترافِ خدمات شیلڈ
مولانا حافظ امجد محمود معاویہ — سیکرٹری اطلاعات پاکستان شریعت کونسل پنجاب
۲۲ اگست ۲۰۲۶ء: جمعیۃ علماء اسلام ضلع لاہور کی طرف سے منعقد کردہ ختمِ نبوت کانفرنس کے موقع پر مفکر اسلام حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب کو تحفظِ ختمِ نبوت کے لیے عظیم الشان خدمات پر جمعیۃ کے مرکزی ترجمان جناب محمد اسلم غوری اور دیگر رفقاء نے ’’اعترافِ خدمات شیلڈ‘‘ پیش کی۔
بعد ازاں جمعیۃ علماء اسلام پنجاب کے ترجمان حافظ غضنفر عزیز صاحب نے ایک بیان میں کہا کہ ’’یہ شیلڈ علماء کرام اور کارکنان کی طرف سے مولانا زاہد الراشدی کی خدمات کا ادنیٰ سا اعتراف ہے، حقیقت یہ ہے کہ مولانا زاہد الراشدی کی خدمات کا اصل اعزاز انہیں بارگاہِ رب العزت سے ملے گا، اللہ تعالیٰ ان کا سایہ عاطفت ہمارے اور تمام اہلِ حق کے سروں پر قائم و دائم رکھے،آمین‘‘۔
دستور کی فکر کیجیے!
حافظ شاہد رحمان میر — سیکرٹری مالیات پاکستان شریعت کونسل گوجرانوالہ
بارہ ربیع الاول (۲۶ اگست ۲۰۲۶ء) کو چناب نگر میں مجلس احرار اسلام پاکستان کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ مجھ سے پہلے مقررین نے تحفظِ ختمِ نبوت اور تحفظِ ناموسِ رسالتؐ کے قوانین کے بارے میں سیکولر حلقوں کے جس مطالبہ کی مذمت کی ہے میں بھی اس کی مذمت کرتا ہوں لیکن اس سے اگلی بات بھی کرنا چاہوں گا کہ دستور کی فکر کیجیے! میں اس کے اردگرد خطرات کا دائرہ تنگ ہوتا دیکھ رہا ہوں۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور میں چار اہم باتیں ایسی ہیں جو اس دستور کی نظریاتی اور اسلامی شناخت کو اجاگر کرتی ہیں اور اسی وجہ سے بین الاقوامی سیکولر حلقوں کے ساتھ ساتھ ملک کے بعض لا دین عناصر بھی دستور کے خلاف متحرک ہیں:
- دستور میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیتِ اعلیٰ کو بنیاد بنایا گیا ہے۔
- نظام و قانون میں قرآن و سنت کی بالادستی کا اعلان کیا گیا ہے۔
- عقیدۂ ختمِ نبوت کا تحفظ کرتے ہوئے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ہے، اور
- حضرات انبیاء کرام علیہم السلام اور دیگر مقدس شخصیات و مقامات کی توہین کو جرم قرار دے کر اس کی سزا مقرر کی گئی ہے۔
دستورِ پاکستان کی یہ چاروں باتیں ملکی اور بین الاقوامی لابیوں کو مسلسل کھٹک رہی ہیں اور اس کی بنیاد پر دستورِ پاکستان کے خلاف سازشوں کے جال بُنے جا رہے ہیں۔ یہ چاروں باتیں ہمارے عقیدہ و ایمان کا حصہ ہیں اور دستورِ پاکستان کے اسلامی نظریاتی تشخص اور شناخت کا اظہار ہیں۔ اس لیے دستور کا تحفظ اور اس کے خلاف سازشوں کا ادراک اور مقابلہ کرنا ہمارا دینی فریضہ ہے جس کے لیے تمام محب وطن دینی و سیاسی جماعتوں اور حلقوں کو بیدار اور متحرک رہنا چاہیے۔
جامعہ محمدی شریف چنیوٹ میں پاکستان شریعت کونسل کی تقریب
مولانا حافظ احمد فدا — مدرس جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ
بارہ ربیع الاول (۲۶ اگست ۲۰۲۶ء) کو جامعہ محمدی شریف چنیوٹ کے نئے لائبریری ہال میں پاکستان شریعت کونسل چنیوٹ کے زیر اہتمام ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی جس کی صدارت حضرت صاحبزادہ قمر الحق سیالوی نے کی اور پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے خطاب کیا۔
مولانا زاہد الراشدی مدظلہ العالی نے جامعہ محمدی شریف کے بزرگوں حضرت مولانا محمد ذاکر اور حضرت مولانا محمد نافع رحمہما اللہ تعالیٰ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمارے بزرگوں میں سے تھے اور خاص طور پر حضرت مولانا محمد ذاکرؒ نے ۱۹۷۳ء میں دستور ساز اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے پاکستان کے دستور کی تشکیل و تدوین میں جو کردار ادا کیا وہ ہماری قومی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔
انہوں نے کہا کہ مولانا صاحبزادہ قمر الحق سیالوی اپنے ان بزرگوں کی روایات کو قائم رکھے ہوئے ہیں اور جامعہ محمدی شریف کی تدریسی، تعلیمی اور سماجی خدمات کو دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک لائبریری کا قیام اور عوام کو کتاب تک رسائی کا موقع فراہم کرنا آج کی اہم ترین علمی، فکری اور دینی ضرورت ہے کیونکہ ’’موبائل‘‘ نے کتاب کے ساتھ نئی نسل کا رشتہ بہت کمزور کر دیا ہے جو ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ ہماری عمومی حالت یہ ہو گئی ہے کہ قرآن کریم کی کسی آیت کا ترجمہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث و سنت کا حوالہ، یا کوئی فقہی مسئلہ بھی اب ’’گوگل‘‘ سے پوچھا جاتا ہے اور اصل مآخذ دیکھے بغیر اس کی بنیاد پر فیصلے کر لیے جاتے ہیں۔ یہ بات انتہائی خطرناک ہے جو ہمارے علمی ذخیرے اور مآخذ سے نہ صرف نئی نسل بلکہ نوجوان علماء کرام کا رشتہ بھی ختم کرتی جا رہی ہے۔ چنانچہ اِس دور میں لائبریری کا قیام اور عوام کو اس تک رسائی کا موقع فراہم کرنا بہت بڑی علمی اور دینی خدمت ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں اس سلسلہ میں یہ حوالہ دیا کرتا ہوں کہ سیدنا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں قرآن کریم کو کتابی شکل میں مرتب و محفوظ کر کے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے لکھے ہوئے قرآن کریم کو مسجد نبویؐ کے ایک ستون کے ساتھ جگہ بنا کر وہاں رکھوا دیا تھا اور اعلان کر دیا تھا کہ قرآن کریم کی کسی آیت، سورۃ، یا ترتیب کے بارے میں کسی کو کوئی اشکال یا شبہ ہو تو وہ اسے دیکھ کر درست کر لے۔ یہ مصحف شریف حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت تک کم و بیش بارہ سال اسی ستون پر ’’اوپن نسخہ‘‘ کے طور پر موجود رہا اور لوگ مسلسل آ کر اپنے نسخوں کو اس کے مطابق درست کرتے رہے۔ یہ ستون ’’أسطوانۃ المصحف‘‘ کہلاتا تھا اور اس کی جگہ بننے والا ستون آج بھی مسجد نبوی میں ’’أسطوانۃ المصحف‘‘ کے نام سے موجود ہے۔ کتاب کو عوامی استفادہ کے لیے اوپن جگہ پر رکھوانے کا یہ کام حضرت صدیق اکبرؓ نے کیا تھا اور یہی ہمارے ہاں پبلک لائبریری کا نقطۂ آغاز ہے۔
مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا پہاڑی پر کھڑے ہو کر جو پہلی عوامی دعوت دی تھی اس میں سب سے پہلے اپنے بارے میں پوچھا تھا کہ میرے بارے میں تم کیا جانتے ہو؟ سب نے بیک آواز کہا تھا کہ ’’ما جربنا عليك الا صدقا‘‘ (صحیح بخاری ۴۷۷۰) ہم نے آپ میں سچائی کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوت پیش فرمائی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی دعوت کا نقطۂ آغاز بھی سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور رسول اکرمؐ کے تعارف سے دین کی دعوت شروع ہوتی ہے۔ اس لیے ہماری آج کی ضرورت بھی یہ ہے کہ ہم دین اور دینی معلومات سے بے خبر آج کی انسانی آبادی اور خاص طور پر اپنی نئی نسل کو قرآن کریم اور سیرتِ نبویؐ سے متعارف اور مانوس کرنے کی کوشش کریں اور مباحث میں الجھانے کی بجائے بریفنگ کے انداز میں (۱) قرآن کریم (۲) سیرت و سنتِ رسولؐ اور (۳) حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی معاشرت اور سوسائٹی سے متعارف کرائیں۔ یہی آج کے دور میں دین کی دعوت اور دین کی طرف رجوع کا سب سے بہتر طریقہ ہے۔
جامعہ محمدی شریف کے مہتمم حضرت صاحبزادہ قمر الحق سیالوی نے، جو پاکستان شریعت کونسل ضلع چنیوٹ کے سرپرست ہیں، مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ ہم اس مشن کے لیے پاکستان شریعت کونسل کے ساتھ محنت کرتے رہیں گے۔
اس نشست میں جامعہ محمدی شریف کے معزز اساتذہ اور علاقہ کے سرکردہ دینی حضرات کے علاوہ پاکستان شریعت کونسل کے راہنما مولانا حافظ محمد عمیر چنیوٹی، مولانا بدر عالم چنیوٹی، مولانا ابوبکر چنیوٹی، ڈاکٹر محمد عارف، مولانا حافظ امجد محمود معاویہ، حافظ احمد فدا، حافظ طلحہ نذیر، حافظ شاہد الرحمٰن میر اور دیگر حضرات نے بھی شرکت کی۔
اسلامی نظریاتی شناخت پاکستان کی اساس ہے
مولانا حافظ نصر الدین خان عمر — امیر پاکستان شریعت کونسل ضلع گوجرانوالہ
۲۹ اگست ۲۰۲۶ء: پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی آج اسلام آباد جاتے ہوئے وزیر آباد رکے اور کونسل کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ منیر احمد کی بیمار پرسی اور ان کے لیے دعائے صحت کی، جو چند روز سے صاحبِ فراش ہیں۔ حافظ نصر الدین خان عمر، حافظ شاہد رحمان میر اور عبد القادر عثمان بھی ان کے ہمراہ تھے۔ اس موقع پر احباب سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ دستور کی پاسداری اور عملداری کے اہتمام کے ساتھ ساتھ قومی معاملات میں غیر ملکی مداخلت کو بریک لگانا ہماری سب سے بڑی قومی ضرورت ہے جس کے لیے دینی اور سیاسی جماعتوں کو سنجیدگی کے ساتھ بھرپور جدوجہد کرنا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اسلامی نظریاتی شناخت ہی پاکستان کی اساس اور ریڈ لائن ہے جس پر کوئی سمجھوتا اور کمپرومائز نہیں کی جا سکتا۔
جامع مسجد محلہ شاہ شریف ڈسکہ میں پروقار علمی و دینی نشست
مولانا حافظ نصر الدین خان عمر — امیر پاکستان شریعت کونسل ضلع گوجرانوالہ
یکم ستمبر ۲۰۲۶ء: جامع مسجد محلہ شاہ شریف، ڈسکہ میں ایک اہم اور پروقار علمی و دینی نشست منعقد ہوئی، جس میں مفکرِ اسلام حضرت مولانا علامہ زاہد الراشدی صاحب کی گراں قدر دینی، علمی، فکری، دعوتی اور تحریکی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ اس موقع پر دارالعلوم مدنیہ ڈسکہ کی جانب سے مہتمم حضرت مولانا طیب خان ثاقب صاحب نے حضرت مولانا علامہ زاہد الراشدی صاحب کو اعترافِ خدماتِ دین کے طور پر خصوصی شیلڈ پیش کی۔
اسی طرح عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ڈسکہ اور امیرِ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی جانب سے بھی حضرت علامہ زاہد الراشدی صاحب کی طویل اور گراں قدر خدماتِ دین، علمی و فکری جدوجہد اور عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے نمایاں کردار کے اعتراف میں خصوصی شیلڈ پیش کی گئی اور انہیں بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ حضرت علامہ زاہد الراشدی صاحب نے اپنی زندگی کو دینِ اسلام کی سربلندی، علومِ دینیہ کی ترویج، اسلامی فکر کی حفاظت، عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ اور امتِ مسلمہ کی فکری و علمی رہنمائی کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ ان کی علمی بصیرت، قلمی خدمات اور مسلسل دینی جدوجہد اہلِ علم کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔
اس اہم نشست میں مولانا ایوب خان ثاقب صاحب، امیرِ دوم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت؛ مولانا ارشد محمود خان صاحب، جنرل سیکرٹری عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ڈسکہ؛ مولانا شہباز شوکت صاحب؛ مولانا مفتی راشد ڈسکوی صاحب سمیت دیگر علماء کرام نے شرکت کی اور حضرت علامہ زاہد الراشدی صاحب کی علمی و دینی خدمات کو سراہتے ہوئے اپنے نیک جذبات کا اظہار کیا۔ یہ پروقار نشست جامع مسجد محلہ شاہ شریف، ڈسکہ میں منعقد ہوئی، جہاں علماء کرام کی موجودگی میں حضرت علامہ زاہد الراشدی صاحب کو خراجِ تحسین پیش کرنا ایک یادگار اور قابلِ قدر موقع ثابت ہوا۔
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا علامہ زاہد الراشدی صاحب کی تمام دینی، علمی اور فکری خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، صحت و عافیت کے ساتھ مزید خدمتِ دین کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے علم و فکر سے امتِ مسلمہ کو ہمیشہ مستفید فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
ختم نبوت کانفرنس حافظ آباد میں شرکت
مولانا حافظ احمد فدا — مدرس جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ
۳ ستمبر ۲۰۲۶ء بروز جمعرات ’’حنیف محمد اسٹیڈیم‘‘ حافظ آباد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حافظ آباد کے زیر اہتمام عظیم الشان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفکر اسلام حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب نے فرمایا کہ تحفظِ ختمِ نبوت کا مسئلہ ڈیڑھ سو سال پرانا نہیں بلکہ یہ مسئلہ اس وقت شروع ہو چکا تھا جب مسیلمہ کذاب نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خط لکھ کر آپؐ کی نبوت میں شرکت کی بات کی۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو مسترد کرتے ہوئے اس وقت جو جواب دیا آج ساڑھے چودہ سو سال بعد بھی امت اسی موقف پر قائم و دائم ہے۔
علامہ زاہد الراشدی صاحب نے دوسری بات یہ فرمائی کہ قادیانیوں کے پاس دو ہی راستے ہیں: (۱) یا تو توبہ تائب ہو کر واپس اسلام کی راہ پر آجائیں (۲) یا پھر امت کے اجماعی موقف اور قومی اسمبلی اور عدلیہ کے متفقہ فیصلے کو قبول کر لیں، اس کے علاوہ ان کے پاس تیسرا کوئی راستہ نہیں۔
انہوں نے فرمایا کہ امت مسلمہ نے ماضی میں بھی اس عقیدے پر کوئی لچک نہیں دکھائی اور آئندہ بھی اپنے موقف پر کسی قسم کی لچک دکھانے کو تیار نہیں۔ لہٰذا جب بھی لچک کی بات ہو گی تو قادیانیوں کی طرف سے ہی ہو گی، مسلمانوں کی طرف سے نہیں۔
عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت کے زیر اہتمام ریلی
مولانا حافظ عامر حبیب — سیکرٹری جنرل پاکستان شریعت کونسل گوجرانوالہ شہر
آج یومِ ختم نبوت (۷ ستمبر ۲۰۲۶ء) کے موقع پر جی ٹی روڈ گوجرانوالہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ختمِ نبوت ریلی نکالی گئی جس میں علماء کرام، تاجر راہنماؤں اور دیگر طبقات کے بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ریلی شیخوپورہ موڑ سے شروع ہو کر گوندلانوالہ چوک تک پہنچی اور وہاں مولانا زاہد الراشدی، مولانا عمر حیات، مولانا عارف شامی، میاں فضل الرحمان چغتائی، مولانا جمیل احمد گجر اور دیگر راہنماؤں نے خطاب کیا۔ مقررین نے تحریک تحفظ ختم نبوت کے ساتھ اپنی مسلسل وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے تکمیل تک جاری رکھنے کے عزم کا اعلان کیا۔
پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دستور پاکستان کی اسلامی دفعات کا تحفظ اور دستور کی پاسداری و عملداری ہم سب کی قومی و دینی ذمہ داری ہے اور اس کے لیے کسی قربانی سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے دینی و سیاسی قیادتوں پر زور دیا کہ دستور پاکستان کے خلاف اندرونی اور بیرونی سازشوں سے ہوشیار رہیں اور متحد ہو کر انہیں ناکام بنا دیں۔
نئے صوبوں کا قیام — ’’نیمے دروں نیمے بروں‘‘
مولانا حافظ نصر الدین خان عمر — امیر پاکستان شریعت کونسل ضلع گوجرانوالہ
۱۱ ستمبر ۲۰۲۶ء: پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی سے ایک مجلس میں سوال ہوا کہ نئے صوبوں کے قیام کی مہم کے بارے میں ان کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے ضلع گوجرانوالہ کو تقسیم کر کے وزیر آباد کو الگ ضلع بنائے دو سال کے لگ بھگ عرصہ ہو گیا ہے مگر ابھی تک مکمل نہیں کر پائے اور ’’نیمے دروں نیمے بروں‘‘ کی کیفیت سے دوچار ہیں۔ خدا جانے ہمارے یہ ہوائی منصوبہ ساز پورے ملک کو گومگو کے اس گرداب میں دھکیلنے کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہیں؟
عقیدہ اور نظریہ کا فرق
مولانا حافظ احمد فدا — مدرس جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ
۱۶ ستمبر ۲۰۲۶ء: استاذ محترم مولانا زاہد الراشدی نے ایک مجلس میں عقیدہ اور نظریہ کے فرق پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کافی عرصہ پہلے کی بات ہے ہمارے ایک فاضل عزیز نے یزید کے بارے میں ایک مضمون میں اظہار خیال کیا اور اس کا عنوان رکھا ’’عقیدۂ فسقِ یزید‘‘۔ مجھے تعجب ہوا کہ یزید کے فاسق ہونے یا نہ ہونے کا تعلق تاریخی روایات سے ہے کہ جس کے نزدیک یزید کے فاسق و فاجر ہونے کے بارے میں تاریخی روایات درست ہیں وہ اسے فاسق کہے گا اور جن کے نزدیک وہ روایات معتبر نہیں ہیں وہ نہیں کہے گا، جیسا کہ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ نے بھی ارشاد فرمایا ہے کہ ’’فسقِ یزید‘‘ کا مدار تاریخ پر ہے۔ میں نے اس طرف توجہ دلائی تو فاضل عزیز نے اسے بدل کر ’’نظریہ فسقِ یزید‘‘ کر دیا۔
یہ بات ہمارے عمومی مزاج کا حصہ بن گئی ہے کہ ہم جس طرح فقہی احکام میں جائز و ناجائز، خطا و صواب اور اولیٰ و غیر اولیٰ کے دائروں میں فرق کرنا بھول گئے ہیں اسی طرح عقیدہ اور نظریہ کے درمیان فرق بھی ہمارے نزدیک غیر ضروری ہوتا جا رہا ہے، حالانکہ عقیدہ کا ثبوت نصِ قطعی و صریح سے ہوتا ہے جبکہ استنباط و استدلال سے ثابت کی جانے والی بات نظریہ کہلاتی ہے، جس کی وضاحت حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ میں یوں کی ہے کہ جو بات قرآن کریم اور سنتِ ثابتہ سے صریحاً ثابت ہوتی ہے اور جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و تابعین کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے کسی اجماعی موقف کا اظہار ہے وہ تو عقائد میں ہے اور اہلِ سنت کا دائرہ استدلال یہی ہے لیکن جو بات استنباط و استدلال کے ذریعے ثابت کی جائے وہ تعبیر و تشریح کے دائرے میں آتی ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ وہ اصل عقیدہ کو مانتے ہوئے تعبیر و تشریح میں الگ رائے رکھنے والوں کو اہلِ سنت کے دائرے سے باہر قرار نہیں دیتے۔
اسی طرح کی ایک بات کم و بیش دو تین عشرے قبل مجھے برطانیہ میں پیش آئی کہ شام سے تعلق رکھنے والے ایک سنی عالم الشیخ عمر بکری محمد شام کی علوی حکومت کے مظالم کا شکار ہو کر برطانیہ میں قیام پذیر تھے، ہمارے دوستوں میں سے تھے، انتہائی پرجوش اور متحرک راہنماؤں میں سے تھے، ان کے بارے میں مجھے کسی نے بتایا کہ وہ سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و نزول پر یقین نہیں رکھتے۔ میں نے ان سے پوچھا تو کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا بھی قائل ہوں اور ان کی دنیا میں دوبارہ تشریف آوری کو بھی مانتا ہوں مگر اسے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی سمجھتا ہوں جو یقیناً پوری ہو گی البتہ اسے عقائد کے دائرہ میں شمار نہیں کرتا۔
اس سے مجھے یہ اطمینان ہو گیا کہ وہ حیات و نزولِ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے منکر نہیں ہیں مگر اس کے لیے تعبیر الگ اختیار کرتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ الگ تعبیر بھی تکلف ہی ہے مگر اس بنیاد پر ان کو منکرین میں شمار کرنا درست نہیں ہے۔ یہ بات اس لیے عرض کی ہے کہ نظریہ اور تعبیر و تشریح کا دائرہ عقیدہ سے مختلف ہوتا ہے، ہمیں کسی کے بارے میں کوئی موقف طے کرتے ہوئے اس کا بھی خیال کرنا چاہیے۔
حرمِ مکہ کی حدود میں حوثیوں کا حملہ
مولانا حافظ فضل الہادی سواتی — نائب خطیب مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ
۱۸ ستمبر ۲۰۲۶ء: پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حرمِ مکہ کی حدود میں حوثیوں کے مبینہ حملے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ حرمین شریفین پر کسی بھی طرف سے کوئی بھی حملہ اسلام دشمنی کا بدترین اظہار ہے جسے کسی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا اور امتِ مسلمہ متحد ہو کر اس کا مقابلہ کرے گی۔
انہوں نے مکہ اتحاد کی طرف سے بروقت ردعمل کے اعلان پر اطمینان کا اظہار کیا اور پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کی حکومتوں کو یقین دلایا کہ امتِ مسلمہ حرمین شریفین کے تحفظ و دفاع کے لیے ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
امیر جمعیت پنجاب مولانا محمد امجد خان کی آمد
عبد القادر عثمان — ناظم دفتر مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ
۲۳ ستمبر ۲۰۲۶ء: جمعیت علمائے اسلام پنجاب کے نو منتخب امیر مولانا محمد امجد خان گزشتہ شب گجرات سے لاہور واپس جاتے ہوئے گوجرانوالہ میں تھوڑی دیر رکے اور پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی سے ملاقات کی۔ مولانا راشدی نے انہیں جمعیت علمائے اسلام کا صوبائی امیر منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ یہ انتخاب بہت موزوں اور بروقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا محمد امجد خان اپنے عظیم والد محترم حضرت مولانا محمد اجمل خان رحمہ اللہ تعالیٰ کی روایات کے امین ہیں اور ان کی قیادت میں پنجاب میں جمعیت علمائے اسلام ملی و قومی جدوجہد میں سرگرم کردار ادا کرے گی۔ دونوں راہنماؤں نے اس موقع پر ملکی صورتحال پر بھی مشورہ کیا اور اس بات سے اتفاق کیا کہ اس وقت دستور کی بالادستی اور عملداری قوم کی سب سے بڑی ضرورت ہے جس کے لیے تمام دینی و سیاسی جماعتوں کو سنجیدگی کے ساتھ متحرک ہونا چاہیے۔
اس موقع پر جمعیت علمائے اسلام ضلع گوجرانوالہ کے امیر مولانا قاضی مراد اللہ خان اور دیگر راہنماؤں حاجی بابر رضوان باجوہ، مولانا زاہد اللہ، عبد القادر عثمان اور پاکستان شریعت کونسل کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات مولانا حافظ امجد محمود معاویہ بھی موجود تھے۔





















