▲ ☰

کیا چین مسلم اُمت کا اتحادی بننے جا رہا ہے؟

جناب خالد محمود عباسی کی ایک گفتگو کی تدوین قارئین کی دلچسپی کے لیے یہاں پیش کی جا رہی ہے، لنک آخر میں مہیا کیا گیا ہے۔ (ادارہ)

چین کی نظریاتی ساخت اور مسلم دنیا سے ممکنہ تعلق

چین کے ساتھ مسلم دنیا کے اتحاد کا سوال صرف سیاسی یا معاشی نوعیت کا نہیں بلکہ نظریاتی پہلو بھی رکھتا ہے۔ اگر مستقبل میں چین اور مسلم دنیا کے درمیان کوئی مضبوط اتحاد قائم ہوتا ہے تو یہ سوال بھی سامنے آئے گا کہ چین کی اپنی نظریاتی ساخت کیا ہے اور ایک اسلامی دنیا کے ساتھ اس کا دیرپا تعلق کس بنیاد پر قائم ہو سکتا ہے؟ چین کے بارے میں ہمارے ہاں عمومی تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ وہاں کوئی مذہبی یا واضح آئیڈیالوجی موجود نہیں، اور چونکہ چینی معاشرہ مذہبی اعتبار سے مسلم دنیا سے بالکل مختلف ہے، اس لیے بعض مذہبی حلقوں میں یہ تصور بھی ملتا ہے کہ آخرالزمان کے مرحلے میں چین ہی کو یاجوج و ماجوج سے جوڑا جا سکتا ہے۔ یہ ایک امکان کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، اگرچہ اس کی کوئی قطعی بنیاد پیش نہیں کی جا سکتی۔ تاہم چین کو سمجھنے کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جو عموماً ہمارے عمومی مباحث میں نمایاں نہیں ہوتا۔

جدید چین کے پیچھے روایتی معاشرہ

بیجنگ اور چین کے بڑے شہروں کو دیکھا جائے تو وہاں جدید سرمایہ دارانہ طرزِ زندگی بہت نمایاں ہے، لیکن اس سے پورے چینی معاشرے کی تصویر مکمل نہیں ہوتی۔ عام دیہی چینی معاشرہ آج بھی اپنی روایات اور فطری طرزِ زندگی سے بہت حد تک جڑا ہوا ہے۔ یہ تاثر بھی درست نہیں کہ تمام چینی لوگ ہر قسم کے جانوروں کا گوشت کھاتے ہیں۔ انسانی فطرت بنیادی طور پر مشترک ہے اور کسی بھی معاشرے کے چند مخصوص معمولات کو پوری قوم کی نمائندگی نہیں سمجھا جا سکتا۔ اسی طرح چین نے اپنی روایتی طب کو بھی ختم نہیں کیا۔ ہربل اور روایتی چینی علاج آج بھی وہاں رائج ہے بلکہ بعض صورتوں میں یہ ایک مہنگا اور اعلیٰ سطح کا علاج سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں طبِ یونانی بڑی حد تک پس منظر میں چلی گئی، لیکن چین نے اپنی قدیم طبی روایات کو جدید معاشرے کے ساتھ جوڑ کر برقرار رکھا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جدیدیت اختیار کرنے کے باوجود چینی معاشرہ اپنی تہذیبی روایت سے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوا۔

چین کی تاریخی محرومی اور موجودہ طاقت

چین کی موجودہ طاقت کو سمجھنے کے لیے اس کی جدید تاریخ پر بھی نظر ڈالنا ضروری ہے۔ ایک زمانے میں چین دنیا کے ساتھ نسبتاً سادہ اور روایتی انداز میں تجارت کرتا تھا۔ برطانیہ کے ساتھ اس کے تعلقات میں اس وقت شدید کشیدگی پیدا ہوئی جب برطانوی تاجروں نے چین میں افیون کی تجارت کو فروغ دینا شروع کیا۔ چینی حکومت نے اس پر اعتراض کیا کہ وہ دنیا کو مصالحہ جات، ادویات اور دوسری اشیا فراہم کرتے ہیں، جبکہ ان کے معاشرے میں ایک تباہ کن نشہ پھیلایا جا رہا ہے۔ جب چین نے افیون کے خلاف کارروائی کی تو برطانیہ نے فوجی طاقت استعمال کی۔ اس کے بعد چین افیون کی جنگوں، بیرونی دباؤ اور مختلف طاقتوں کی مداخلت کا شکار ہوتا چلا گیا۔ بعد میں جاپان بھی اس کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا۔ 

یوں ایک طویل عرصے تک چین دباؤ، کمزوری اور بیرونی طاقتوں کی مداخلت کا شکار رہا۔ لیکن بالآخر اس نے دوبارہ اپنے اندر کی قوت کو مجتمع کیا اور ایک بڑی عالمی طاقت بن کر سامنے آیا۔ چین کی موجودہ ترقی کی خاص بات یہ ہے کہ اس نے نسبتاً مختصر تاریخی عرصے، بالخصوص گزشتہ تقریباً ستر برسوں میں، غیر معمولی معاشی اور صنعتی ترقی حاصل کی۔ اس ترقی کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ چین کے اندر پہلے سے موجود صلاحیت کتنی بڑی تھی اور ایک طویل عرصے تک وہ صلاحیت کس طرح دبی رہی۔

چین اور اسلام: ایک نظرانداز شدہ تاریخی پہلو

چین کے حوالے سے ایک دوسرا پہلو بھی قابلِ غور ہے جو عام گفتگو میں کم سامنے آتا ہے، اور وہ چین میں اسلام کی قدیم موجودگی ہے۔ چین میں ایسی مساجد کے بارے میں روایات اور دعوے موجود ہیں جنہیں ابتدائی اسلامی دور سے منسوب کیا جاتا ہے۔ بعض روایات کے مطابق عہدِ نبویؐ میں صحابۂ کرامؓ یا ابتدائی مسلمان چین تک پہنچے اور وہاں اسلام کا تعارف ہوا۔ اگر ان روایات کو تاریخی تحقیق کے دائرے میں دیکھا جائے تو کم از کم یہ بات واضح ہوتی ہے کہ چین اور عالمِ اسلام کے درمیان تعلقات کوئی جدید واقعہ نہیں بلکہ ان کی جڑیں قدیم تجارتی اور تہذیبی روابط میں پیوست ہیں۔ برصغیر میں بھی اسلام کی آمد کو صرف محمد بن قاسم کی آمد تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ محمد بن قاسم کا سندھ میں داخلہ ۹۳ ہجری کا واقعہ ہے، جبکہ عرب تاجروں کے ذریعے جنوبی ہندوستان کے ساحلی علاقوں تک اسلام کے پہنچنے کی روایات اس سے پہلے کی ہیں۔ اسی وسیع تر تاریخی تناظر میں چین کے ساتھ ابتدائی مسلم روابط کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

چین اور سنکیانگ میں مسلمانوں کے الگ الگ حالات

چین میں اسلام کے بارے میں موجود منفی تاثر کا ایک بڑا حصہ سنکیانگ کے مسئلے سے وابستہ ہے۔ سنکیانگ کو ایک ایسے خطے کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے جہاں نسلی، سیاسی اور علیحدگی پسند تنازعات نے ریاست اور مقامی آبادی کے درمیان شدید کشیدگی پیدا کی ہے۔ وہاں کی بڑی مسلم آبادی، خصوصاً ترک النسل گروہ، اپنی الگ تہذیبی اور تاریخی شناخت رکھتی ہے اور ایک عرصے سے چینی ریاست کے ساتھ پیچیدہ تعلقات کا سامنا کرتی رہی ہے۔ اسی وجہ سے سنکیانگ میں چینی حکومت کا رویہ دیگر علاقوں کے مقابلے میں زیادہ سخت دکھائی دیتا ہے۔ اس صورتحال کو پورے چین کے مسلمانوں کے عمومی حالات کا مکمل نمائندہ سمجھنا درست نہیں ہو گا۔ چین کے دوسرے علاقوں میں بھی مسلمان آباد ہیں، مساجد موجود ہیں اور مذہبی اجتماعات ہوتے ہیں۔ سنکیانگ کی مثال ایسے ہے جیسے ہمارے ہاں قبائلی علاقے ہیں، جہاں ہر وقت کسی نہ کسی حوالے سے کشیدگی پائی جاتی ہے۔ اس لیے چین اور اسلام کے تعلق پر گفتگو کرتے وقت سنکیانگ کے مسئلے اور چین کے باقی مسلم معاشرے کے حالات کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔

احیائے اسلام کے لیے نئی توانائی کے امکانات

ہر بڑی آئیڈیالوجی کو زندہ رہنے اور آگے بڑھنے کے لیے نئی نسلوں اور نئی اقوام کی شمولیت درکار ہوتی ہے۔ اسلام بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں۔ اگر مستقبل میں اسلام دنیا میں زیادہ اثرانداز ہوتا ہے تو ضروری نہیں کہ اس میں شامل ہونے والے صرف وہی معاشرے ہوں جو آج مسلم دنیا کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ آج کا ہندو، چینی، یا کسی اور تہذیب سے تعلق رکھنے والا انسان بھی مستقبل میں اسلام کو سمجھنے اور قبول کرنے کی طرف آ سکتا ہے۔ کسی قوم کے موجودہ سیاسی یا نظریاتی موقف اور اس کے اندر موجود انسانی و اجتماعی صلاحیت دو الگ چیزیں ہیں۔ مثلاً کسی معاشرے میں بڑی اجتماعی قوت، نظم، قربانی یا اجتماعی عزم موجود ہو تو اس قوت کو کسی اور نظریاتی سمت میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے کسی قوم کی موجودہ آئیڈیالوجی سے اختلاف کے باوجود اس کے اندر موجود اجتماعی صلاحیت کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ چین کے بارے میں بھی یہی امکان زیرِ غور آ سکتا ہے کہ موجودہ چین اپنی موجودہ نظریاتی ساخت سے آگے بڑھ کر مستقبل میں کسی بڑی فکری تبدیلی سے گزرے۔

چین اور مسلم دنیا کے باہمی مفاد کا ممکنہ رشتہ

چین کی موجودہ ترقی نے ایک ایسا ماڈل پیش کیا ہے جس میں معاشی ترقی، صنعتی پیداوار، ریاستی نظم اور عالمی تجارت کو ایک خاص انداز میں یکجا کیا گیا ہے۔ دنیا کی بعض بڑی معاشی طاقتیں اور استعماری تاریخ رکھنے والے سرمایہ دار خصوصاً‌ یہودی چین کی طرف متوجہ ہو چکے ہیں اور وہاں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔ اس تناظر میں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر چین مسلم دنیا کو ٹیکنالوجی، صنعت اور معاشی ترقی کے میدان میں مدد فراہم کر سکتا ہے تو کیا مسلم دنیا چین کو کسی دوسرے میدان، مثلاً فکری اور نظریاتی سطح پر، کچھ دے سکتی ہے؟ 

اس تصور کے مطابق مسلمانوں کی طرف سے چین کے ساتھ تعلق صرف معاشی مفاد تک محدود نہ ہو بلکہ اسے ایک فکری مکالمے کی شکل بھی دی جا سکتی ہے۔ چین کو عالمی طاقتوں کی کشمکش، نوآبادیاتی تاریخ اور مستقبل کے ممکنہ خطرات کو سمجھنے میں مدد دی جائے، جبکہ چین مسلم دنیا کی ترقی، ٹیکنالوجی اور صنعتی صلاحیت میں معاون بنے۔ ایسی صورت میں ایک امکان یہ بھی پیدا ہو سکتا ہے کہ چین مستقبل میں مسلمانوں کا بڑا حامی بن جائے یا اسلام کے ساتھ کسی مضبوط فکری و تہذیبی تعلق کی طرف بڑھے۔ تاہم اس کے برعکس امکان کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ دونوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوں۔ یہ دونوں امکانات بیک وقت زیرِ غور رہ سکتے ہیں۔

عالمی طاقتوں کے ممکنہ بلاکس اور چین کا کردار

اگر مستقبل میں دنیا مختلف سیاسی اور معاشی بلاکس میں تقسیم ہوتی ہے تو چین کی پوزیشن خاص اہمیت اختیار کرے گی۔ ایک ممکنہ منظرنامے میں چین روسی بلاک کے ساتھ قدرتی طور پر جڑ سکتا ہے، جبکہ ایران بھی اس سمت میں ایک اہم فریق ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف مسلم دنیا کے مختلف سنی ممالک کے لیے چین کے ساتھ تعلقات کی ایک الگ گنجائش موجود ہے۔ اگر مسلم دنیا چین کے ساتھ محض معاشی شراکت کے بجائے طویل المدت تہذیبی اور فکری تعلق قائم کرنے کی کوشش کرے تو چین کے مستقبل پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک دور رس امکان یہ بھی زیرِ بحث آ سکتا ہے کہ چین میں کبھی ایسی بڑی فکری تبدیلی رونما ہو جس کے نتیجے میں اس کی ایک بڑی آبادی اسلام سے وابستہ ہو جائے۔ 

https://youtu.be/gUWgh4fiPo4

حالات و مشاہدات

(الشریعہ — اکتوبر ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — اکتوبر ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۱۰

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۶)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

علامہ آلوسی کی تفسیر ’’روح المعانی‘‘
مفتی شاد محمد شاد

امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل کا نبوی منہج (۳)
مولانا ڈاکٹر محمد ابوبکر فاروقی

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۱۰)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۸)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات ( ۶)
محمد سراج اسرار

سیاست نامہ از نظام الملک طوسی
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

استشارہ اور استخارہ: اہمیت، فضیلت اور طریقہ کار
مولانا عبد المتین

جزیرۃ العرب میں غیر مسلموں کی رہائش کی ممانعت کا شرعی و عقلی جائزہ
مفتی سید انور شاہ

اسلام کا سیاسی نظام: ایک قانونی تجزیہ (۱)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اسلام اور شخصی آزادی (۲)
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
ذیشان ہاشم

The Essential Requisite of Protecting the Finality of Prophethood and the Sanctity of the Messenger (PBUH)
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

مولانا عبید اللہ سندھی سے منسوب ایک مقالے کی تحقیق
مولانا صدیق احمد فاروق

نفاذِ شریعت یا سیکولرزم
حسنین خالد

قائد اعظم اور قانونِ وقف الاولاد
پروفیسر محبوب پوپاتیا

Our Constitutional History & Background of the Proposed 28th Amendment
Mufti Munib ur Rehman

یمن: تابناک ماضی سے مخدوش مستقبل تک
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

کیا چین مسلم اُمت کا اتحادی بننے جا رہا ہے؟
خالد محمود عباسی

Some Points for the Iranian Leadership`s Consideration
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

دارالعلوم کراچی میں منعقدہ ایک مبارک تقریب کا احوال
مولانا حافظ خرم شہزاد

تلاش

شماریات