علامہ آلوسی کا تعارف
آلوس، یہ بغداد سے کچھ فاصلے پر دریائے فرات کے وسط میں واقع ایک جزیرے کا نام ہے۔ تاریخ کی کتابوں میں آتا ہے کہ ہلاکو خان نے جب بغداد پر حملہ کیا تھا، تو بغداد سے ایک خاندان نے ہجرت کر کے اس جزیرے میں جا کر پناہ لی تھی اور بعد میں یہ خاندان اسی جزیرے کی نسبت سے مشہور ہو گیا اور خاندان آلوسی کہلایا جانے لگا۔ اسی خاندان کے اندر ایک عبقری شخصیت اور خاتم المفسرین نے جنم لیا جنہیں دنیا علامہ آلوسیؒ کے لقب سے جانتی ہے۔
علامہ آلوسی رحمہ اللہ ۱۲۱۷ھ میں بغداد میں پیدا ہوئے اور آپ ۲۵ ذوالقعدہ جمعہ کے دن ۱۲۷۰ھ کو اس دنیا سے تشریف لے گئے۔ آپ نے اپنے دور کے بڑے بڑے علماء سے اکتسابِ فیض کیا اور آپ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ کو علم سے بے حد لگاؤ تھا اور آپ ہر وقت اس بات کی حرص میں لگے رہتے تھے کہ کسی بھی طرح اپنے علم میں اضافہ کیا جائے۔ آپ کے بارے میں کتابوں میں آتا ہے کہ آپ عموما ان اشعار کا ورد کیا کرتے تھے:
سھری لتنقیح العلوم الذلی
من وصل غانیۃ وطیب عناق
والذ من نقر الفتاۃ لدفھا
نقری لالقی الرمل عن اوراقی
وتمایلی طربا لحل عویصۃ
فی الدرس اشھی من مدامۃ ساق
ان اشعار کا مفہوم یہ ہے کہ علم کی گتھیاں سلجھانے کے لیے راتوں کو جاگنا مجھے اس سے زیادہ لذیذ ہے بنسبت اس کے کہ پاکیزہ اور حسین دوشیزہ سے میری ملاقات ہو۔ اور دوسرے شعر کا مفہوم ہے کہ اپنے اوراق سے ریت ہٹانے کے وقت جو آواز پیدا ہوتی ہے، وہ آواز مجھے نوجوان لڑکی کے ڈھول بجانے کی آواز سے زیادہ لذیذ ہے۔ اور تیسرے شعر کا مطلب یہ ہے کہ کسی مشکل مسئلے کے حل کے وقت خوشی سے جھوم اٹھنا، یہ مجھے ساقی کی شراب سے زیادہ لذیذ ہے۔
علم کے ساتھ اسی شغف اور لگاؤ کا نتیجہ تھا کہ بہت کم عمری میں ہی آپ تدریس سے وابستہ ہو گئے۔ آپ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ نے اس وقت تدریس کا آغاز کیا تھا جب آپ کی عمر محض تیرہ برس تھی اور پھر آگے چل کر ۱۲۴۸ھ میں آپ کو مفتی احناف کا عہدہ دیا گیا، جو اس زمانے میں صرف اور صرف اس شہر یا اس علاقے کے بڑے علماء کو دیا جاتا تھا۔ اس کے بعد آپ نے اپنے گھر کے اندر ہی تدریس کا آغاز کیا اور دنیا بھر سے اہل علم اور طلبہ آپ سے فیضیاب ہونے کے لیے آتے تھے۔ آپ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ طلبہ کو اپنے گھر کے بالا خانوں میں رہائش دیتے تھے اور ان کا خاص خیال رکھتے تھے۔
آپ کی نثر نویسی اور قوت تعبیر کافی مشہور تھی، آپ عربی ادب میں کافی مہارت رکھتے تھے۔ آپ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ کا حافظہ انتہائی قوی اور آپ بلا کے ذہین تھے۔ آپ کے بارے میں کتابوں میں ایک جملہ آتا ہے کہ آپ فرماتے تھے: ’’ما استودعت ذہنی شیئا فخاننی ولا دعوت فکری لمعضلۃ الا واجابنی‘‘ (مناہج المفسرین ۲۸۲/۱) یعنی ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میں نے اپنے ذہن میں کوئی بات رکھی ہو اور پھر وہ مجھے بھول گئی ہو، اور ایسا بھی کبھی نہیں ہوا کہ میں نے کوئی مشکل مسئلہ اپنے ذہن کے سپرد کیا ہو اور اس نے مجھے جواب نہ دیا ہو۔ ان کے بارے میں آتا ہے کہ آپ کو مختلف ادیان اور ملل پر کافی عبور حاصل تھا، اسی طرح آپ کو اصول اور فروع پر مجتہدانہ بصیرت حاصل تھی، بلکہ اس سے بڑھ کر تاریخ سے بھی آپ کافی واقفیت رکھتے تھے۔
علامہ آلوسیؒ کی تصانیف
آپ نے کئی کتابیں لکھی ہیں، جن میں آپ کی سب سے مشہور کتاب تفسیر ’’روح المعانی‘‘ ہے، جس پر آج ہم ان شاء اللہ تفصیل سے بات کریں گے۔ اس کے علاوہ آپ نے جو کتابیں لکھی ہیں ان میں ’’حاشیۃ القطر‘‘ ہے جو ’’قطر الندیٰ‘‘ پر انہوں نے حاشیہ لکھا تھا، ’’شرح السلّم‘‘، ’’الاجوبۃ العراقیۃ‘‘، ’’درۃ الغواص فی اوہام الخواص‘‘ یہ بھی ایک کتاب کا نام ہے جو آپ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ نے لکھی ہے، اسی طرح ’’النفحات القدسیۃ فی المباحث الامامیۃ‘‘ اور ’’الفوائد السنیۃ‘‘ وغیرہ، اس طرح کی کتابیں آپ کی طرف منسوب کی جاتی ہیں۔ تاہم آپ کے اکثر خطوط اور آپ کی (بعض) کتابیں آج کل ناپید ہیں۔
تفسیر روح المعانی کا تعارف
علامہ آلوسی رحمہ اللہ کی دیگر کتابیں بھی کافی اہم ہیں، لیکن جو شہرت اور مقبولیت اس کتاب کو حاصل ہے وہ ان کی کسی دوسری کتاب کو حاصل نہیں ہوئی۔ اسی کتاب نے آپ کو شہرت کے اوجِ ثریا تک پہنچایا تھا۔ اس کتاب کا آپ جب پس منظر بیان کرتے ہیں تو ایک جگہ پر لکھتے ہیں کہ مجھے کتاب اللہ میں غور و فکر اور تدبر کا بچپن سے ہی شوق تھا اور میں نے بچپن سے ہی اس میں غور و فکر کرنا شروع کر دیا تھا، اور اس کے سربستہ راز کھولنے کی کوششیں میں نے اسی وقت سے شروع کر دی تھیں جبکہ میرے زمانے کے اور میرے ہم عمر لوگ کھیل کود میں مشغول رہتے تھے۔ کہتے ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ کتاب اللہ کے سربستہ راز مجھ پر کھلنے لگے، نئے نئے دقائق میرے ذہن میں آنے لگے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسے ایسے علوم، نکات، اسرار اور رموز عطا کر دیے جو مجھے تفسیر کی دیگر کتابوں میں نہیں ملتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ آپ نے بہت جلد درسِ قرآن کا آغاز کر دیا تھا۔
آپ لکھتے ہیں کہ میں ان نکات، علوم اور اسرار کو لکھنے کی تمنا رکھتا تھا لیکن ہمیشہ متردد رہتا تھا۔ پھر ایک مرتبہ اس طرح ہوا کہ سن ۱۲۵۲ھ میں جب آپ کی عمر چونتیس سال تھی، تو کہتے ہیں کہ میں نے ایک خواب دیکھا اور اس خواب میں اللہ تعالیٰ مجھے یہ حکم دیتے ہیں کہ آسمان اور زمین کو طول اور عرض میں جوڑ کر ملا دو۔ تو کہتے ہیں کہ میں نے ایک ہاتھ بلند کر کے آسمانوں تک پہنچایا اور دوسرا ہاتھ میں نے ماءِ مستقر تک جا کے پہنچا دیا اور اسی دوران میں نیند سے جاگ گیا۔ کہتے ہیں کہ بعد میں میں نے اس تعبیر کو تلاش کرنے کی کوشش کی تو مجھے بعض کتابوں میں یہ ملا کہ اس سے تفسیر لکھنے کی طرف اشارہ ہے، اور یوں انہوں نے اس تفسیر کا آغاز سن ۱۲۵۲ھ میں چونتیس سال کی عمر میں کر دیا۔ سن ۱۲۵۲ھ میں اس کتاب کے آغاز سے لے کر آپ نے اس کتاب کی تکمیل ۱۲۶۷ھ میں کی، اور اس تفسیر کے لکھنے پر تقریباً چودہ سے پندرہ سال کا عرصہ لگا۔
آپ لکھتے ہیں کہ جب میں نے یہ تفسیر مکمل کی تو میں نے اس کا نام ابھی نہیں رکھا تھا، پھر میں نے اپنی یہ تفسیر وزیر اعظم علی رضا پاشا کے سامنے پیش کی تو انہوں نے اس کتاب کا نام مکمل یوں رکھا: ’’روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم والسبع المثانی‘‘۔ اس تفسیر کی خاطر آپ نے سن ۱۲۶۷ھ میں عہدہ افتاء سے بھی علیحدگی اختیار کر لی اور پھر ہمہ وقت اسی تفسیر کے لکھنے اور تدوین میں مشغول ہو گئے۔
آپ کے بارے میں آتا ہے کہ اس زمانے میں آپ نے اپنے نظام الاوقات کو یوں تقسیم کیا تھا کہ دن کے وقت آپ تدریس و تالیف وغیرہ میں لگے رہتے تھے، شام کے اوقات میں آپ اپنے متعلقین اور مہمانوں سے ملاقات کرتے تھے، اور رات کے آخری پہر آپ اٹھ کر تفسیر لکھتے تھے، اور پھر صبح اٹھ کر آپ اس تفسیر کے مسودے کو کاتب کے حوالے کرتے تھے، جس کاتب کو آپ نے باقاعدہ تنخواہ پر رکھا تھا۔ وہ پھر اس مسودے کو صاف کر کے اور اس کی تنقیح کر کے دوبارہ ایک اچھی اور درست شکل میں ایک جگہ لکھ لیتا تھا۔
تفسیر روح المعانی کا مقام و مرتبہ
تفسیر ’’روح المعانی‘‘ کا مقام اور مرتبہ بہت بلند ہے۔ اہلِ علم نے اس تفسیر کے بارے میں بہت کچھ کہا ہے اور اس کے بارے میں یہ آتا ہے کہ چونکہ آپ اکثر مفسرین کے بعد آئے ہیں، اس لیے آپ کی تفسیر پچھلی تمام تفاسیر اور ان کتابوں کا خلاصہ اور نچوڑ ہے۔ اس تفسیر میں آپ نے جہاں روایت اور تفسیر بالمنقول کی طرف توجہ دی ہے، وہاں آپ نے درایت اور تفسیر عقلی پر بھی بہت اچھا اور عمدہ کام کیا ہے۔ اس کے علاوہ آپ نے مختلف آرا کے درمیان مقارنہ کیا ہے، وجوہِ ترجیح بیان کی ہیں، اور ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ اس تفسیر میں آپ نے بلاغت کے بہت ہی عمدہ نکات لکھے ہیں۔
اس کے علاوہ اہلِ علم نے اس کتاب کی بہت ساری خصوصیات بیان کی ہیں۔ علامہ بنوری رحمہ اللہ کے بارے میں آتا ہے کہ وہ فرماتے تھے کہ چار تفاسیر ایسی ہیں کہ اگر کوئی انسان ان چار تفاسیر کا مطالعہ کر لیتا ہے تو وہ اس کے لیے کافی ہیں۔ ان میں سے ایک ’’تفسیر کبیر‘‘ ہے، دوسری ’’تفسیر ابن کثیر‘‘ ہے، تیسری ’’تفسیر ابی السعود‘‘ ہے اور چوتھی ’’تفسیر روح المعانی‘‘۔ اور حضرت شیخ الاسلام محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم اپنی کتاب ’’علوم القرآن‘‘ کے اندر ان چار تفاسیر کے ساتھ ایک اور تفسیر ’’تفسیر قرطبی‘‘ کو بھی شامل کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ جو آدمی ان پانچ تفاسیر کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کے لیے دیگر تفاسیر کے مطالعے کی ضرورت نہیں ہوگی اور یہ تفاسیر اس کو دیگر تمام تفاسیر سے بے نیاز کر دیں گی۔
علامہ آلوسیؒ نے اپنی اس تفسیر کے اندر نحو، صرف، بلاغت، فلسفہ، ہیئت، فقہی آرا اور عقائد سے متعلق بہت سارے مباحث پر تفصیلی گفتگو کی ہے، جن پر آگے ہم ہر عنوان پر الگ الگ بات کریں گے، لیکن اتنی بات اس کے بارے میں آتی ہے کہ یہ اپنے موضوع پر ایک جامع اور کافی و شافی تفسیر ہے، اسی لیے بہت سارے اہلِ علم زیادہ تر اسی تفسیر کو ترجیح دیتے ہیں۔
جن تفاسیر سے علامہ آلوسیؒ نے استفادہ کیا
علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں اپنے سے پہلی بہت ساری تفاسیر سے استفادہ کیا، مثلاً ’’تفسیر ابن عطیہ‘‘ ہے، ’’تفسیر ابی حیان‘‘ ہے، ’’تفسیر کبیر‘‘ ہے، ’’تفسیر کشاف‘‘ ہے، ’’تفسیر ابی السعود‘‘ ہے، یہ ان نمایاں تفاسیر میں سے ہیں۔ اور مؤسسۃ الرسالۃ سے جو ’’روح المعانی‘‘ کا نسخہ چھپا ہے، اس کے مقدمے میں بہت زیادہ تفصیلات لکھی گئی ہیں کہ علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے کن کن تفاسیر سے اور کن کن دیگر کتب سے استفادہ کیا ہے، تو وہاں آپ کو ایک پوری لسٹ اور تفصیل مل جائے گی۔ اس کے مقدمے میں کافی اہم تفصیلات موجود ہیں۔
علامہ آلوسی رحمہ اللہ اپنی اسی تفسیر کے اندر ’’قال القاضی‘‘ جب کہتے ہیں تو اس سے عموماً یا تو قاضی بیضاوی رحمہ اللہ مراد ہوتے ہیں یا قاضی عیاضؒ یا عبدالجبار المعتزلی کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ جب آپ ’’شیخ الاسلام‘‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس سے امام ابو السعودؒ کی طرف اشارہ ہوتا ہے، جب آپ ’’الشیخ الاکبر‘‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس سے علامہ ابن عربی رحمہ اللہ کی طرف اشارہ ہوتا ہے، اور جب آپ ’’قال الامام‘‘ کہتے ہیں تو امام رازیؒ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
لیکن یہاں ایک اور نکتہ بھی ذہن میں رکھنا بہت ضروری ہے کہ علامہ آلوسی رحمہ اللہ پچھلی تمام تفاسیر سے استفادہ کرتے ہوئے ان کی آرا نقل کرتے ہیں، لیکن اگر کوئی رائے علامہ آلوسی رحمہ اللہ کی نظر میں کمزور ہو تو اس پر سخت گرفت بھی کرتے ہیں۔ مثلاً اگر آپ علامہ آلوسیؒ کی تفسیر پڑھیں گے تو آپ کو جگہ جگہ صاحبِ کشاف، امام ابو السعود، اور ان پر گرفت نظر آئے گی، بلکہ امام رازی رحمہ اللہ پر تو انہوں نے بہت سارے مقامات پر اور خصوصاً فقہی مسائل میں بہت سخت گرفت کی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے نقد اور رد سے بھی کافی کام لیا ہے، اور پھر جو رائے ان کے ہاں راجح ہوتی ہے، اس کی وجہِ ترجیح بیان کر کے اس کو ترجیح بھی دیتے ہیں۔
علامہ آلوسیؒ کا منہج و اسلوب
اگر ہم بات کریں علامہ آلوسی رحمہ اللہ کی تفسیر کے اندر اسلوب اور منہج پر، تو اس کو آپ خلاصے اور خاکے کے طور پر یوں بیان کر سکتے ہیں کہ علامہ آلوسیؒ جب کسی سورۃ کے شروع میں آتے ہیں تو سب سے پہلے اس سورۃ کے مبادیات کو ذکر کرتے ہیں، جیسے مثال کے طور پر اس سورۃ کا نام، اس سورۃ کے مکی یا مدنی ہونے کی تفصیل، اگر اس میں اختلاف ہے تو اس اختلاف کی تفصیلات، اس سورۃ کا شانِ نزول، اس سورۃ کے فضائل پر وارد ہونے والی اگر کوئی احادیث ہیں تو ان کو بیان کرتے ہیں، اس سورۃ کا پچھلی سورۃ کے ساتھ ربط اور تعلق کیا ہے، اس طرح کے مبادیات کو ذکر کرنے کے بعد پھر آپ تفسیر کا آغاز کرتے ہیں۔
جب آیات کی تفسیر آپ شروع کرتے ہیں تو سب سے پہلے عموماً اس کے لغوی اور نحوی یا صرفی مباحث بیان کرتے ہیں جن میں کبھی کبھی آپ بہت تفصیل میں چلے جاتے ہیں، جس پر آگے ہم بات کریں گے۔ پھر اس کے بعد اس آیت یا آیات سے متعلق اہلِ علم اور مفسرین کی آرا نقل کرتے ہیں، اور اگر ان آرا میں سے کوئی رائے ان کے نزدیک کمزور ہو تو اس پر رد بھی کرتے ہیں۔ پھر اسی طرح آگے چلتے چلتے ان آیات کے اندر اگر کوئی فقہی بات یا فقہی مسئلہ ہو تو اس سے متعلق تمام اہلِ علم کی آرا اور پھر اس کے اندر کسی ایک رائے کو ترجیح دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی طرح چلتے چلتے پھر آپ فلسفہ، علمِ ہیئت، ریاضیات اور طبیعیات کے مباحث ذکر کرتے ہیں، فرقِ ضالہ اور مبتدعہ پر سخت رد اور نقد کرتے ہیں، مختلف قراءات کو بھی بیان کرتے ہیں، اور پھر آخر میں جا کر ایک عنوان باندھ کر تفسیری اشارات پر بھی بات کرتے ہیں۔ تو یہ ان کے منہج کا ایک خاکہ ہے۔
مخالفین اہلِ سنت پر نقد
علامہ آلوسی رحمہ اللہ عقیدتاً سنی تھے، اس لیے وہ مخالفینِ اہلِ سنت پر جگہ جگہ نقد کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ مثال کے طور پر روافض، خوارج اور معتزلہ کی آرا اور ان کے نظریات و استدلالات پر کافی مقامات پر نقد کرتے ہوئے ان پر رد کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر سورۃ الجمعہ کی جو آیت ہے: ’’واذا راوا تجارۃ او لہوا انفضوا الیہا‘‘، اس آیت سے بعض روافض نے صحابہؓ پر طعن کرنے کے لیے یہ استدلال کیا کہ صحابہؓ نے کیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے ہی چھوڑ دیا اور چلے گئے، یہ بے ادبی ہے۔ ایک قسم کا طعن و تشنیع کرنے کی کوشش کی گئی ہے، تو علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے اس پر کافی سخت نقد کیا ہے۔
سب سے پہلے تو وہ یہ نکتہ بیان کرتے ہیں کہ یہ کبارِ صحابہ کا عمل نہیں تھا، بلکہ بعض (عام) صحابہؓ کا عمل تھا، دوسری بات یہ کہ یہ ابتدائے اسلام کا واقعہ ہے اور ابتدائے اسلام میں اس وقت اس طرح کے آداب سے صحابہؓ آشنا نہیں تھے، اور تیسرا پوائنٹ یہ ہے کہ یہ قحط کا زمانہ تھا اور سخت ضرورت کا موقع تھا، اسی لیے صحابہؓ ان اشیا کی خریداری کی طرف چلے گئے تاکہ اپنی ضروریات پوری کر سکیں، اور یہ واقعہ ہوا بھی صرف ایک ہی بار ہے۔ جن روایات میں اس واقعے کے بار بار ہونے کا ذکر ہے، جیسے شعب الایمان کے اندر آتا ہے، تو اس پر انہوں نے کافی رد اور نقد کیا ہے۔ ان تمام نکات کا مجموعہ بیان کر کے انہوں نے روافض کے استدلال کو توڑ دیا ہے۔
اسی طرح سورۃ البقرۃ کی جو آیت ہے: ’’ویمدہم فی طغیانہم یعمہون‘‘ (البقرۃ ۱۵) اس سے معتزلہ یہ استدلال کرتے ہیں کہ طغیان کی نسبت اللہ کی طرف کرنا درست نہیں ہے اور طغیان کی نسبت بندوں کی طرف کریں گے اور بندے خود اپنے افعال کے خالق ہیں۔ تو وہاں آپ دیکھیں گے کہ علامہ رحمہ اللہ نے معتزلہ کی اس رائے پر سخت نقد کیا ہے اور اس نکتے کی وضاحت کی ہے کہ خالق حقیقی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور اس کی طرف اس بات کی نسبت کرنا غلط نہیں ہے۔ درحقیقت کاسب کی طرف جو نسبت کی جاتی ہے اصل خرابی اس کے اندر ہے، اور بندہ کاسب ہے، خالق نہیں ہے۔ تو وہاں انہوں نے معتزلہ پر رد کر کے اس نکتے کی کافی تفصیلی وضاحت کی ہے۔ اس طرح آپ کو جگہ جگہ ان کی ایسی آرا اور مباحث دیکھنے کو ملیں گے۔
علامہ آلوسیؒ اور فقہی مسائل
علامہ آلوسی رحمہ اللہ مسلکاً حنفی تھے یا شافعی؟ اس بارے میں علامہ محمد حسین الذہبی اپنی کتاب ’’التفسیر والمفسرون‘‘ کے اندر لکھتے ہیں کہ آپ شافعی تھے لیکن آپ نے اکثر مسائل میں حنفیہ کی تقلید کی ہے۔ لیکن یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی، دو وجوہات سے:
پہلی وجہ تو یہ ہے کہ سورہ فاتحہ کے اندر جب آپ بسم اللہ کی تفسیر کرتے ہیں تو وہاں کچھ عبارات ایسی ملتی ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ پہلے شافعی مسلک کی طرف مائل تھے لیکن بعد میں آپ نے شافعی مسلک کو چھوڑا اور حنفی مسلک کو اختیار کر لیا تھا، یہ ایک وجہ ہے۔
دوسری بنیادی وجہ یہ ہے کہ عموماً جب وہ اپنی تفسیر کے اندر اہلِ علم کی آرا کو نقل کرتے ہیں، تو وہ حنفیہ کی رائے ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں: ’’وعندنا وعند اصحابنا وعند ساداتنا الحنفیۃ‘‘، تو اس طرح کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ حنفی ہی تھے۔ بطورِ مثال آپ ان مقامات کو دیکھ سکتے ہیں کہ کفارہ یمین کے اندر جب یہ بحث آتی ہے کہ ’’تحریر رقبۃ‘‘ کے اندر مومنہ کی قید ہے یا نہیں، وہ جو اصولِ فقہ کی مشہور بحث ہے ’’حمل المطلق علی المقید‘‘، تو حنفیہ مطلق کو مقید پر محمول نہیں کرتے اور شافعیہ محمول کرتے ہیں، تو وہاں علامہ آلوسی رحمہ اللہ جب حنفیہ کی رائے ذکر کرتے ہیں تو وہ ’’وعندنا لایحمل‘‘ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ اور اسی کو آگے جا کر بطور ضابطہ جب ذکر کرتے ہیں تو وہاں پر بھی وہ ’’وعند اصحابنا‘‘ کے الفاظ ذکر کرتے ہیں۔
اسی طرح جو آیت ہے: ’’ثلاثۃ قروء‘‘ جس میں حنفیہ اور شافعیہ کا مشہور اختلاف ہے کہ ’’قروء‘‘ سے کیا مراد ہے، حیض ہے یا طُہر؟ تو وہاں جب وہ حنفیہ کی رائے ذکر کرتے ہیں تو یوں الفاظ استعمال کرتے ہیں کہ ’’وذھب ساداتنا الحنفیۃ‘‘۔
ان تمام تصریحات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ حنفی تھے، لیکن ان سب کے باوجود آپ میں تعصب کا دور دور شائبہ نہیں تھا، یہی وجہ ہے کہ آپ حنفی ہونے کے باوجود بھی بسا اوقات قوتِ دلیل کی بنیاد پر کسی اور امام کی رائے کو بھی ترجیح دیتے تھے۔ مثال کے طور پر اسی قروء کے مسئلے کو لے لیجیے، مسئلہ قروء کے اندر آپ نے تمام دلائل اور تفصیلات کو ذکر کرنے کے بعد یہ لکھا ہے کہ میری رائے میں شافعیہ کی رائے زیادہ راجح ہے کہ قروء سے مراد حیض نہیں بلکہ طُہر ہے۔ اسی طرح دیگر بھی کئی مقامات پر آپ نے قوتِ دلیل کی بنیاد پر، جو علامہ آلوسیؒ کے ہاں زیادہ مضبوط رائے ہوتی تھی، اسی کو ترجیح دی ہے۔
روح المعانی اور نحوی مباحث
اگر اس ٹاپک کو دیکھا جائے تو اس پر ایک الگ تھیسز لکھا جا سکتا ہے، کیونکہ علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے تقریباً ہر آیت میں — شاید ہی کوئی آیت ایسی ہو جو آپ سے مس ہوئی ہو، جہاں آپ نے نحوی اور صرفی مباحث کو ذکر نہ کیا ہو۔ بسا اوقات نہیں بلکہ اکثر آپ نحوی مباحث ذکر کرتے کرتے بہت دور تک چلے جاتے ہیں اور ہلکی سی مناسبت سے نحوی مباحث، تراکیب، مختلف اعراب، اور نحویین و صرفیین کی مختلف آرا و دلائل پر کافی تفصیل کے ساتھ بحث کرتے ہیں۔ اگر اس پر کوئی مقالہ لکھنا چاہے کہ علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے کس کس طرح نحوی اور صَرفی مباحث کو ڈسکس کیا ہے اور انہوں نے اس میں کیا منہج اختیار کیا ہے، تو اس پر الگ سے ایک مستقل مقالہ لکھا جا سکتا ہے۔
علمِ ہیئت اور علامہ آلوسیؒ
علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں علمِ ہیئت، ریاضیات، فلسفہ اور طبیعیات کے مباحث کو بھی ذکر کیا ہے۔ فلاسفہ کے مختلف اقوال اور آرا کو نقل کرتے ہیں، جو آرا اور اقوال اسلامی علوم اور شرعی تعلیمات سے ہم آہنگ ہوتے ہیں ان کو تو بیان کر لیتے ہیں، اور جو شرعی تعلیمات کے خلاف ہوتے ہیں ان کو نقل کر کے ان پر کافی سخت گرفت کرتے ہیں اور ان پر نقد و رد بھی کرتے ہیں، نیز اپنے زمانے کی تحقیقات پر کافی اعتماد کرتے ہیں۔ اس کے لیے بطور مثال آپ سورۃ یس کی اس آیت کو دیکھ سکتے ہیں جہاں اللہ رب العزت فرماتے ہیں: ’’والشمس تجری لمستقر لہا‘‘، ’’وکل فی فلک یسبحون‘‘، اور اسی طرح سورۃ الطلاق کے اندر جو آیت آتی ہے: ’’اللہ الذی خلق سبع سماوات ومن الارض مثلہن‘‘۔ بطور مثال اگر آپ ان آیات کے ذیل میں فلاسفہ، ریاضیات اور طبیعیات کی جو آرا و تفصیلات نقل کی گئی ہیں اور ان پر جس طرح بحث کی گئی ہے، اسے دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ انہوں نے کتنی مضبوطی سے اس طرح کے مباحث کو ذکر کیا ہے۔
علامہ آلوسیؒ اور اسرائیلی روایات
جیسے ہم اس سے پہلے تفسیر قرطبی کی ویڈیو میں بیان کر چکے ہیں کہ اسرائیلیات کا مطلب ہوتا ہے وہ روایات جو ہم تک اہلِ کتاب کے واسطے سے پہنچی ہوں۔ ہمارے ہاں اکثر اہلِ علم اسرائیلی روایات کے بارے میں جو راجح رائے رکھتے ہیں وہ یہ ہے کہ اسرائیلی روایات تین قسم کی ہوتی ہیں:
۱۔ قابلِ قبول
ایک وہ روایات ہیں جن کا صدق اور درست ہونا خارجی دلائل سے ثابت ہو چکا ہو، مثلاً قرآن مجید سے یا احادیث سے، تو ایسی اسرائیلی روایات معتبر ہیں کیونکہ وہ تو ہماری شریعت کا ایک حصہ بن گئیں۔
۲۔ ناقابلِ قبول
دوسری قسم کی اسرائیلی روایات وہ ہیں جن کا کذب اور غلط ہونا خارجی قرائن سے ثابت ہو چکا ہو — قرآن سے، حدیث سے — تو ایسی روایات کا انکار اور رد کرنا ضروری ہے اور ایسی روایات ناقابلِ اعتبار ہیں۔
۳۔ مسکوت
تیسری قسم کی اسرائیلی روایات وہ ہیں جن کے صدق اور کذب کے بارے میں قرآن و حدیث ساکت اور خاموش ہیں۔ اسی طرح کی روایات کے بارے میں سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث ہے کہ ’’لا تصدقوہم ولا تکذبوہم‘‘ کہ نہ ہم ان کی تصدیق کریں گے اور نہ ہم ان کی تکذیب کریں گے۔ کعب الاحبار کی جو اسرائیلی روایات ہیں وہ اکثر اسی تیسری قسم کی ہیں۔
علامہ آلوسیؒ نے جو منہج اختیار کیا ہے اسرائیلی روایات کے سلسلے میں، وہ کافی سخت اور احتیاط پر مبنی ہے۔ علامہ آلوسیؒ سے پہلے جتنی تفاسیر تھیں ان کے اندر اسرائیلی روایات کی بھرمار تھی، لیکن علامہ آلوسیؒ نے اسرائیلی روایات پر جگہ جگہ سخت نقد بھی کیا ہے اور عموماً صرف پہلی قسم کی روایات پر اکتفا کیا ہے۔ جہاں دوسری اور تیسری قسم کی روایات ہیں تو ان کو یا تو بیان ہی نہیں کیا، اور اگر بیان کیا ہے تو ان کو رد کر کے وضاحت کر دی ہے۔
لیکن اس کے باوجود بھی ایک ہلکی سی کمزوری اسرائیلی روایات سے متعلق یہ بھی ہے کہ کچھ روایات — جو تیسری قسم کی روایات ہیں — انہوں نے بیان کی ہیں جو کچھ غیر ضروری بھی ہیں، اور پھر ان کے بارے میں کوئی وضاحت بھی نہیں کی، آپ نے ایسے ہی ان روایات کو چھوڑ دیا ہے۔ اس کے لیے آپ بطور مثال سورۃ القصص کی آیت نمبر ۲۸ سے متعلق جو اسرائیلی روایات ہیں ان کو اگر دیکھیں گے، تو وہاں معلوم ہو جائے گا کہ وہاں علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے کوئی زیادہ وضاحت نہیں کی اور آگے چلے گئے۔ تاہم مجموعی طور پر آپ نے اسرائیلی روایات کے بارے میں کافی احتیاط سے کام لیا ہے، بلکہ بسا اوقات تو آپ اس طرح کی روایات کو ذکر کر کے ان کے بارے میں بہت ہی سخت لہجہ استعمال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر سورۃ المائدہ کی وہ جو مشہور آیت ہے ’’ولقد اخذ اللہ میثاق بنی اسرآئیل‘‘ (المائدۃ ۱۲) اس کے تحت جو کچھ مفسرین عوج بن عنق کا واقعہ نقل کرتے ہیں، تو علامہ رحمہ اللہ نے اس قصے کے بارے میں فرمایا ہے ’’ھذیان لا اصل لہ‘‘، اس طرح انہوں نے بہت سخت الفاظ بھی استعمال کیے ہیں۔
علامہ آلوسیؒ اور تفسیر اشاری
تفسیرِ اشاری کو تفسیرِ صوفی یا تفسیرِ باطنی بھی کہتے ہیں، اور اس سے مراد وہ تفسیر ہے جو آیات کا باطنی مفہوم ہوتا ہے، یعنی آیات کے ظاہری مفہوم سے ہٹ کر باطنی مفہوم اور ان آیات سے متعلق کوئی ایسا نکتہ جو ہر کسی کے سامنے نہ آ سکے، اس طرح کی تفسیر کو تفسیرِ اشاری کہتے ہیں۔ تفسیرِ اشاری کے قابلِ قبول ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں اہلِ علم کی آرا مختلف ہیں، تاہم جو راجح قول ہے وہ یہی ہے کہ جن صوفیاء نے یا جن اہلِ علم نے اس طرح کی تفسیرِ اشاری کو بیان کیا ہے اور انہوں نے آیت کے ظاہری مفہوم کا انکار نہیں کیا، بلکہ ان کی رائے یہ ہو کہ آیت کا ظاہری مفہوم بھی اصل ہے لیکن اس آیت کے اندر یہ نکتہ بھی آ سکتا ہے، تو وہ تفسیر قابلِ قبول ہے اور اس کو رد کرنے کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے، کیونکہ جب آیت کے ظاہری مفہوم کو بھی قبول کیا جا رہا ہے لیکن اس کے اندر چھپے ہوئے مزید رازوں کو نکالا جا رہا ہے تو اس میں ایسی کوئی خامی نہیں اور یہ قابلِ قبول ہے۔
خود علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے بھی اس کو قبول کیا ہے۔ مثال کے طور پر اللہ رب العزت ایک جگہ فرماتے ہیں: ’’قاتلوا الذین یلونکم من الکفار‘‘ (التوبۃ ۱۲۳)، تو اس کی جب تفسیرِ اشاری بعض اہلِ علم بیان کرتے ہیں تو وہ یہاں کفار کی بجائے نفس لیتے ہیں کہ بھئی ’’قاتلوا النفس‘‘ کہ نفس کے ساتھ قتال کرو کیونکہ وہ انسان کے ساتھ متصل ہے۔ تو علامہ آلوسی نے وہاں یہ نکتہ لکھا ہے کہ اس طرح کی آیت کا ظاہری مفہوم تو مراد ہے ہی، لیکن اس طرح کی آیات کے اندر اس طرح کے باطنی اور خفیہ معانی و مفاہیم بھی آ سکتے ہیں اور یہ تفسیرِ اشاری کہلاتی ہے۔
علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے خود بھی بعض مقامات پر، بلکہ اکثر جگہوں میں آیات کی تفسیر اور دیگر مباحث کو ذکر کرنے کے بعد آخر میں باقاعدہ اس پر ایک الگ عنوان باندھا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے: ’’من باب الاشارۃ فی الآیات‘‘ اور اس کے تحت انہوں نے تفسیرِ اشاری کو بھی بیان کیا ہے۔ اسی وجہ سے کچھ اہلِ علم نے تفسیر ’’روح المعانی‘‘ کو تفسیرِ اشاری میں شمار کیا ہے، لیکن یہ رائے درست نہیں ہے۔ تفسیر ’’روح المعانی‘‘ صرف تفسیرِ اشاری نہیں ہے، تفسیرِ اشاری ایک ضمنی بحث ہے جو علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے کی ہے۔ صرف اس ضمنی بحث کی بنیاد پر پوری تفسیر کو تفسیرِ اشاری قرار دینا درست نہیں ہے۔
علامہ آلوسیؒ اور احادیث
یہ کافی اہم موضوع ہے۔ اور علامہ آلوسیؒ کے بارے میں آتا ہے اور مطالعہ سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپنی تفسیر میں صرف درایت سے کام نہیں لیا بلکہ آپ نے تفسیر بالماثور اور روایت کی طرف بھی کافی بھرپور توجہ دی ہے۔ اور آپ نے اس سلسلہ میں بہت ساری احادیث کو نقل کیا ہے جن میں صحیح اور حسن احادیث بھی موجود ہیں، اور جہاں کہیں ضعیف احادیث سے استدلال کیا ہے یا ان کو ذکر کیا ہے تو اس کے ضعف کے بارے میں وضاحت بھی کی ہے۔ تاہم بعض مقامات پر علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے ضعیف حدیث کو ذکر کر کے اس حوالے سے کوئی خاص وضاحت نہیں کی۔ مثال کے طور پر سورۃ التوبہ کی آیت ۷۵ کے تحت انہوں نے ثعلبہ بن حاطب کو اس کا شانِ نزول قرار دیا اور اس سلسلہ میں ایک ضعیف حدیث نقل کی ہے لیکن اس حدیث کے حوالے سے انہوں نے کوئی وضاحت نہیں کی۔ اسی طرح بعض اور مقامات پر بھی آپ کو کچھ ضعیف احادیث ملیں گی جن میں انہوں نے کوئی وضاحت نہیں کی۔ بلکہ بعض اہلِ علم نے تو یہاں تک بھی لکھا ہے کہ آپ نے موضوع احادیث بھی بعض جگہ ذکر کی ہیں۔
اس سلسلہ میں، جیسے میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ ’’مؤسسۃ الرسالۃ‘‘ کا جو ایڈیشن ہے اس تفسیر روح المعانی کا، تو انہوں نے حاشیے کے اندر اس طرح کی احادیث کی تخریج کر کے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے عموماً علامہ سیوطیؒ کی ’’الدر المنثور‘‘ سے احادیث کو نقل کیا ہے۔ تاہم اگر اس ایڈیشن کو مدنظر رکھ کر مطالعہ کیا جائے تو انسان کو صحیح اور ضعیف یا موضوع احادیث کا علم ہو جاتا ہے۔
روح المعانی کی بہترین طباعت
اس کتاب کا سب سے عمدہ اور معیاری ایڈیشن جو پہلے چھپا تھا وہ دارِ احیاء التراث العربی سے چھپا تھا، اور اس پر علامہ محمد حسین الذہبی جو ’’التفسیر والمفسرون‘‘ کے مصنف ہیں، ان کا ایک مقالہ بھی اس کے شروع میں تھا، اور علامہ محمد فاضل کا مقالہ بھی، یہ دو کافی عمدہ مقالے اس کے شروع میں موجود ہیں جو تفسیر روح المعانی کے منہج اور تعارف پر ہیں۔ لیکن آج کل جو اس کا سب سے عمدہ اور اچھا نسخہ ہے وہ مؤسسۃ الرسالۃ کا نسخہ ہے، اور اس نسخے کی جو دیگر خصوصیات ہیں، ان میں سے ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس نسخے کی تحقیق اُس مخطوط کو سامنے رکھ کر کی گئی ہے جو مخطوط علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے اپنے زمانے کے سلطان کو پیش کیا تھا، تو اسی کی بنیاد پر اس نسخے پر تحقیقی کام ہوا ہے۔ اِس نسخے کے اندر احادیث کی تخریج اور تصحیح اور تضعیف کی طرف بھی توجہ کی گئی ہے، اس کے اندر اشعار اور شواہد اور اخبارات کی تخریج بھی کی گئی ہے، اور اسی نسخے کے اندر جگہ جگہ اعلام، جو غیر مشہور اہلِ علم تھے، ان کے تعارف بھی حاشیہ کے اندر کیا گیا ہے، اور بعض مقامات پر مفسر پر نقد بھی موجود ہے۔ یہ اباحثین کا ایک مجموعہ تھا جنہوں نے یہ کام کیا ہے۔ تو اِس نسخے کو لے کر اگر انسان مطالعہ کرے — لیکن جہاں جہاں اباحثین نے علامہ آلوسیؒ پر نقد کیا ہے وہ جگہ قابلِ غور ہے، اس جگہ انسان کو صحیح غور و فکر کر کے فیصلہ کرنا چاہیے کہ آیا اباحثین نے جو نقد کیا ہے وہ ٹھیک ہے، یا علامہ آلوسی رحمہ اللہ کی رائے ٹھیک ہے۔ تو وہاں پھر انسان کو مزید مطالعہ کی ضرورت پیش پڑ سکتی ہے۔
تو یہ تھی الحمد للہ ہماری آج کی ویڈیو، علامہ آلوسیؒ اور ان کی تفسیر روح المعانی کے بارے میں، آگے جا کر ان شاء اللہ ہم مزید کچھ دیگر کتابوں پر اس طرح کی تفصیلی ویڈیوز بنانے کی کوشش کریں گے۔





















