▲ ☰

امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل کا نبوی منہج (۳)

امت کا فکری اتحاد کیسے ممکن ہے؟

امتِ مسلمہ کے عقلی و فکری انتشار کے اِس بنیادی سبب کو جاننے کے بعد — جو سبب ہی نہیں، سببِ اسباب ہے — اب ہمارے سامنے اصل مسئلہ اور ہدف یہ ہے کہ اس سبب کا خاتمہ کیسے کیا جائے؟ تاکہ امت کا فکری اتحاد دوبارہ لوٹ آئے۔ امت کے سامنے نظامِ شریعت کی صحیح، اصل، کامل اور روشن تصویر کیسے پیش کی جائے؟ یہ کیونکر ممکن ہے کہ شریعتِ اسلامیہ کی ایک ایک اصطلاح کو اس کے پورے سیاق و سباق میں؛ صحیح اور اصل معنی و مفہوم کا لحاظ رکھتے ہوئے؛ پورے حجم، وسعت اور دائرۂ کار کے ساتھ پیش کیا جائے؛ اور ان کے مابین وہ ربط، ترتیب اور توازن قائم رکھا جائے جو شریعت کو مطلوب ہے۔ اور جس کے بغیر نظامِ شریعت کی اصلی تصویر کو اس کی تمام تر جلوہ سامانیوں کے ساتھ دیکھنا ممکن نہیں، جب کہ ان اصطلاحات کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے۔

بظاہر یہ ایک نہایت مشکل اور بہت ہی کٹھن ہدف ہے جسے پانے کے لیے ہزاروں افراد، سینکڑوں اداروں اور بے انتہا وقت کی ضرورت ہے، لیکن اگر نظامِ شریعت کے بارے میں چند اصول ذہن میں رکھے جائیں تو یہ کام آسان ہو سکتا ہے۔ لہٰذا، ہم آئندہ سطور میں نظامِ شریعت کے بارے میں وہ بنیادی اصول ذکر کریں گے جن سے اس مشکل ہدف کا حصول بہت آسان ہو سکتا ہے

یاد رکھیے! نظامِ شریعت ایک بے حد وسیع، جامع، عالمگیر اور ایسا حرکی نظام ہے جو نہ صرف ۱۴۳۳ سال سے جاری ہے بلکہ قیامت تک جاری رہے گا۔ چنانچہ اس نظام سے وابستہ امور طبعی طور پر نہ صرف بے شمار ہیں بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ ان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور ہمیشہ ہوتا رہے گا۔ ان بے شمار امور کو تعبیر کرنے کے لیے ہزاروں شرعی اصطلاحات کا استعمال ہوتا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ یہ تمام امور جو نظامِ شریعت سے وابستہ ہو رہے ہیں یا ہوتے رہے ہیں، جن کا تعلق اس کائنات اور انسانی زندگی سے ہے، کیا ان کی نظامِ شریعت سے وابستگی بلا کسی ترتیب اور درجہ بندی کے ہوتی ہے؟ کیا نظامِ شریعت سے وابستگی کے وقت اس میں کوئی درجہ بندی اور کلاسیفیکیشن نہیں ہوتی؟ نظامِ شریعت سے وابستہ تمام امور — چاہے وہ پہلے سے وابستہ ہوں یا آئندہ وابستہ ہوں گے — ان میں نہایت اعلیٰ پیمانے کی تنظیم، درجہ بندی اور کلاسیفیکیشن ہوتی ہے۔ اگر اس درجہ بندی کو ملحوظ رکھا جائے تو نہ اصطلاحاتِ شرعیہ کے فہم کا مسئلہ پیدا ہو جو ان امورِ شرعیہ کو تعبیر کرتی ہیں؛ نہ کبھی ان کے مابین موجود درجہ، توازن اور ترتیب خراب ہو؛ اور نہ ہی امتِ مسلمہ کی فکرِ اجتماعی نظامِ شریعت اور اس کے ساتھ وابستہ کسی بھی امر اور اصطلاح کے بارے میں انتشار اور اضطراب کا شکار ہو۔

مقاصدِ شریعت

نظامِ شریعت سے وابستہ بے شمار امور میں سے کچھ متعین امور ایسے ہیں جو مقاصدِ شریعت کہلاتے ہیں، اور باقی تمام امورِ شرعیہ انہی چند مقاصد کی تکمیل کی خاطر شروع کیے گئے ہیں۔ نظامِ شریعت کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے انہی کا سمجھنا ضروری ہے کہ یہی نظامِ شریعت کا وہ پہلا سرا ہے جسے پکڑ کر چلا جائے تو نہ اصطلاحاتِ شرعیہ کی ڈور الجھتی ہے اور نہ امورِ شرعیہ کی!

چنانچہ امام الحرمین علامہ عبد الملک الجوینیؒ، امام شاطبیؒ، امام غزالیؒ، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اور دیگر ایسے ائمہ اسلام، جن کی نظر نظامِ شریعت کی جزئیات ہی پر نہیں بلکہ کلیات پر بھی نہایت ہی گہری تھی اور وہ اس کے ہر کوچے کے محرمِ اسرار تھے، انہوں نے مقاصدِ شریعت کے بارے میں جو کچھ تحریر فرمایا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ شریعت کے تمام امور و احکام چند مقاصد کے حصول کے لیے مشروع کیے گئے ہیں جو درج ذیل ہیں:

۱۔ صالح اور بہترین فرد کی تشکیل

شریعت کا پہلا مقصد صالح، نیک اور بہترین افراد کی تشکیل ہے۔ چنانچہ شریعت کے بہت سے احکام صالح اور بہترین افراد کی تعمیر و تشکیل سے متعلق ہیں۔

۲۔ صالح اور بہترین خاندان کی تشکیل

بہترین فرد کی تشکیل کا مقصد بہترین خاندان کی تشکیل ہے۔ چنانچہ شریعت کے بے شمار احکام و امور اس مقصد سے وابستہ ہیں۔

۳۔ صالح، نیک اور بہترین معاشرے کی تشکیل

شریعت کا تیسرا مقصد صالح اور بہترین معاشرے کی تشکیل ہے جو کہ بہترین خاندانوں سے مل کر تشکیل پاتا ہے۔ اور شریعت کے بے شمار احکام اس کے متعلق ہیں۔

۴۔ صالح اور بہترین امت کی تشکیل

بہترین معاشرے کی تشکیل کا مقصد اور شریعت کا چوتھا مقصد صالح اور بہترین امت کی تشکیل ہے۔ اور شریعت کے بے شمار امور و احکام اس مقصد کے ساتھ وابستہ ہیں۔

پھر امتِ مسلمہ کی تشکیل کا مقصد پوری انسانیت کے مشترکہ مفادات کا تحفظ ہے۔ اور بشمول امتِ مسلمہ پوری انسانیت کے مشترکہ مفادات کا تحفظ درج ذیل پانچ چیزوں کے تحفظ میں ہے:

(۱) دین کا تحفظ

شریعت کے بے شمار احکام دین کے تحفظ کے بارے میں ہیں۔

(۲) انسانی جان کا تحفظ

شریعت کے بے شمار احکام انسانی جان کے تحفظ کے متعلق ہیں۔

(۳) انسانی عقل کا تحفظ

شریعت کے بے شمار احکام انسانی عقل کے تحفظ سے وابستہ ہیں۔

(۴) انسانی نسل کا تحفظ

شریعت کے بے شمار احکام نسلِ انسانی کے تحفظ کے بارے میں ہیں۔

(۵) انسانی مال کا تحفظ

شریعت کے بہت سے احکام اس مقصد سے وابستہ ہیں۔

چنانچہ یہ کل ۹ بڑے مقاصدِ شریعت ہیں: (۱) صالح اور بہترین فرد کی تشکیل، (۲) صالح اور بہترین خاندان کی تشکیل، (۳) صالح اور بہترین معاشرے کی تشکیل، (۴) صالح اور بہترین امت کی تشکیل، (۵) دینِ اسلام کا تحفظ، (۶) انسانی جان کا تحفظ، (۷) انسانی عقل کا تحفظ، (۸) انسانی نسل کا تحفظ، (۹) انسانی مال و دولت کا تحفظ۔

اور ان سب مقاصد کا بھی ایک بڑا اور عظیم مقصد ہے، وہ ہے: اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول۔ اور یہی شریعت کی غایۃ الغایات ہے جو ان مقاصدِ شریعت کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے، اور یہی عبادت کا وہ آفاقی مفہوم ہے جس کے لیے تمام انسانیت کو پیدا کیا گیا۔

وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون۔ (الذاریات ۵۶)
’’اور ہم نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا۔‘‘

امورِ شریعت کے درمیان درجہ بندی

شریعتِ مطہرہ کے متعلق تمام امور مذکورہ بالا مقاصدِ شریعت سے وابستہ ہیں، اور قیامت تک انہی مقاصد کے ماتحت نئے امور شریعت اور نظامِ شریعت کا حصہ بنتے رہیں گے۔ لیکن شریعت سے وابستہ یہ امور یکساں مقام و مرتبے اور ایک ہی سطح کے نہیں ہیں، بلکہ ان تمام امورِ شرعیہ کی تین مختلف سطحیں ہیں جو درج ذیل ہیں:

۱۔ ضروریاتِ دین

نظامِ شریعت سے متعلقہ امور و احکام کی پہلی سطح ان امور کی ہے جن کے سرانجام دیے بغیر مقاصدِ شریعت کا حصول بالکل ناممکن ہے کہ ان کی حیثیت بنیاد اور اساس کی سی ہے جس پر پورے نظامِ شریعت کی بِنا ہے۔ شرعی اصطلاح میں ایسے امور و احکام کو ’’ضروریات‘‘ کہا جاتا ہے۔ ہر وہ احکام اور امورِ شرعیہ جو ضروریات اور اساسیات کہلاتے ہیں، ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو تمام مقاصدِ شرعیہ کے لیے بلاواسطہ اساسيات اور ضروریات کا درجہ رکھتے ہیں، مثلاً:

(۱) عقائد و ایمانیات

ایمان باللہ یعنی توحید، ایمان بالرسل، ایمان بالملائکہ، ایمان بالکتب السماویہ، ایمان بالآخرۃ، ایمان بالقدر خیرہ و شرہ من اللہ تعالیٰ۔

(۲) عبادات

نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ۔

(۳) اخلاقیات

اخلاقی اوصاف علم، عدل، حریت، وحدت، مساوات، توازن، اعتدال، عفت، شجاعت، فراست وغیرہ۔

(۴) اعمال

ایک ایسا عظیم الشان عمل ہے جو مذکورہ بالا عقائد، عبادات، اخلاقیات کی طرح تمام مقاصدِ شرعیہ کے حصول کے لیے بلاواسطہ ضروری ہے۔ بلکہ نظامِ شریعت یعنی دین کے متعلق تمام امور و احکام — چاہے ان کی سطح یا حیثیت کوئی بھی ہو — ان پر عملدرآمد کے لیے لازمی ہے۔ وہ اہم ترین عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے؛ کیونکہ جہاد ہی اپنے وسیع تر معانی میں اسلام کی عملی تطبیق؛ نظامِ شریعت کی عملی تعبیر؛ اور مقاصدِ شریعت کے حصول کا واحد منہج، میتھڈ، اور طریقۂ کار ہے۔

جہاد فی سبیل اللہ کے علاوہ کچھ اعمالِ شرعیہ ایسے بھی ہیں جو مقاصدِ شریعت میں سے کسی ایک مقصد کے لیے تو بلاواسطہ اساس، بنیاد اور ضرورت کا درجہ رکھتے ہیں، لیکن باقی مقاصد کے لیے اس مقصد کے واسطے سے اساس ہیں، کیونکہ تمام مقاصدِ شرعیہ کا آپس میں گہرا رابطہ اور توازن ہے۔ مثلاً:

  • ادارۂ خلافت کا قیام، جو صالح اور بہترین معاشرے اور بہترین امت کے قیام و تحفظ کے لیے ضروری ہے۔
  • خاندانی ادارے کا قیام اور تحفظ، جو نسلِ انسانی کی بقا اور تحفظ کے لیے ضروری ہے۔
  • سرمائے کا بہاؤ اور عدمِ ارتکاز، جو تمام انسانیت کے مال و دولت کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔
  • اسلامی حدود کا نفاذ، جو تحفظِ جان و مال اور تحفظِ عقل کے لیے ضروری ہے۔

یہ تمام ضروریات جنہیں عام طور پر ضروریاتِ دین کہا جاتا ہے، جو اپنی انتہائی اہمیت کے سبب بجائے خود مقاصد کا درجہ رکھتے ہیں، ان میں بھی انتہائی اعلیٰ درجے کا ربط، ترتیب اور توازن ہے۔ یہ تمام امورِ شریعت جو ضروریاتِ دین کہلاتے ہیں، ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں، ان میں سے کسی ایک کے بغیر دوسرے بھی قائم نہیں رہ سکتے۔

چنانچہ صحابہ کرامؓ کا طرزِ عمل اس بارے میں شاہد ہے کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسدِ اطہر کو قبرِ مبارک میں اتارنے سے پہلے یہ ضروری سمجھا کہ ادارۂ خلافت کو قائم کریں؛ اور جب منکرینِ زکوٰۃ نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا، حالانکہ وہ باقی ضروریاتِ دین پر عمل پیرا تھے، لیکن حضرت ابوبکر صدیقؓ، جو صاحبِ پیغمبرؐ اور محرمِ اسرارِ شریعت تھے، انہوں نے ان منکرین کے خلاف جہاد کا اعلان کیا اور اس کی دلیل یہ دی کہ منکرین نے نماز اور زکوٰۃ میں فرق کیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شریعت کے ان بنیادی اور ضروری امور کو یکساں اہمیت حاصل ہے، مسلمان کسی ایک سے بھی صَرفِ نظر نہیں کر سکتے۔

اور یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ ان تمام ضروریاتِ دین میں جو فطری ربط، ترتیب، توازن اور تعلق ہے — جس کی وجہ سے یہ تمام ضروری امور ایک دوسرے کو نہ صرف سہارا دیتے ہیں اور مضبوط کرتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل بھی کرتے ہیں — اگر وہ ختم ہو جائے یا ضائع ہو جائے تو نظامِ شریعت کو ناقابلِ بیان نقصان پہنچے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ آج مسلمان نہ تو ضروریاتِ دین میں یہ توازن، ترتیب اور ربط برقرار رکھ پا رہے ہیں اور نہ ہی ترجیحات کا تعین کر رہے ہیں۔ ان کی حالت یہ ہے کہ جب وہ دین کی کسی ایک اساس یا بنیاد کو مٹتا ہوا دیکھتے ہیں تو پوری شدت اور جذبات کے ساتھ اسے بچانے کی جدوجہد میں مصروف ہو جاتے ہیں؛ اور اکثر اوقات وفورِ جذبات، یا کم علمی، یا جماعتی و گروہی تعصبات، یا وسائل کی کمی کی وجہ سے باقی ضروریات اور اساسیات سے صَرفِ نظر کر لیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے دو میں سے ایک خرابی کم از کم ضرور لازم آتی ہے:

  • یا تو ضروریاتِ دین میں وہ توازن، ترتیب اور ربط ختم ہو جاتا ہے جو شریعت کو مطلوب ہے۔
  • حد سے زیادہ بے پرواہی کی وجہ سے دین کی کوئی بنیادی اساس اور ضرورت ہی مٹ جاتی ہے جیسا کہ آج خلافت کا ادارہ اور زکوٰۃ کا نظام۔

یقیناً یہ تو ممکن نہیں کہ ہر مسلمان یا ہر جماعت تمام ضروریاتِ دین کے قیام، بقا اور حفاظت کے لیے یکساں جدوجہد کر سکے، کیونکہ اس میں معروضی حالات، صلاحیتوں اور ذوق کا بے حد دخل ہے۔ حتیٰ کہ تمام صحابہ کرامؓ بھی تمام امورِ دینیہ میں مہارت نہیں رکھتے تھے، لیکن وہ تمام امورِ دینیہ پر نظر ضرور رکھتے تھے، وہ جانتے تھے کہ دین کے کس امر کی کتنی اہمیت ہے؟ اس لیے وہ تمام امورِ دینیہ میں سے نہ کسی کو مٹنے دیتے تھے اور نہ ہی ان کے مابین ربط، توازن اور ترتیب کو ٹوٹنے دیتے تھے۔ یہ ان کی عقلِ اجتماعی کی علمی و فکری اور احساس کی سطح تھی۔

کیا علم اور احساس کی اس سطح کو بحال کرنا آج ناممکن ہے؟ کیا ہمارے تعلیمی ادارے اپنے پورے طمطراق کے باوجود اس بات سے قاصر ہیں کہ وہ اس علمی سطح کو بحال کر سکیں؟ کیا ہماری سیاسی، مذہبی اور سماجی تنظیمیں اپنے کارکنوں کو یہ تربیت نہیں دے سکتیں کہ جہاں وہ اپنے مشنز، مقاصد اور پروگراموں کے لیے جدوجہد کریں — جو کسی نہ کسی دینی ضرورت سے وابستہ ہیں — وہاں اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ کہیں جوش و جذبے کی شدت؛ یا کم علمی، بے توجہی یا نادانی کی بنا پر؛ یا جماعتی و گروہی تعصب کی وجہ سے؛ یا اسی قسم کے دوسرے اسباب کی بنا پر دین کی کوئی دوسری اساس تو متاثر نہیں ہو رہی، یا خدانخواستہ دین کی کوئی دوسری ضرورت مٹ ہی تو نہیں گئی؟

آج امتِ مسلمہ کو جو حقیقی اور اصل قیادت کے فقدان کا سامنا ہے، اس کے اسباب بھی ہمیں یہیں تلاش کرنے چاہئیں۔

۲۔ حاجاتِ دین

احکام اور امورِ شرعیہ کی دوسری سطح ان امور اور احکام کی ہے جنہیں سرانجام دیے بغیر اگرچہ مقاصدِ شرعیہ کا حصول ناممکن تو نہیں، البتہ انتہائی مشکل ضرور ہے۔ ایسے امور اور احکام کو اصطلاح میں ’’حاجاتِ دین‘‘ کہا جاتا ہے اور ایسے امور اکثر طور پر ضروریاتِ دین سے متعلق ہوتے ہیں۔ 

مثلاً: نماز قائم کرنا ضروریاتِ دین میں سے ہے اور اس کے مفہوم میں اس کی تمام شرائط، ارکان اور واجبات شامل ہیں؛ لیکن اگر سنن و نوافل کو ادا نہ کیا جائے اور لوگ مجموعی طور پر ان میں کوتاہی کرنے لگیں تو نماز کو قائم رکھنا انتہائی مشکل ہو جائے گا، بلکہ اس کا وجود ہی خطرے میں پڑ جائے گا۔ چنانچہ یہ سنن و نوافل حاجاتِ دین میں سے ہیں۔ اسی طرح دین کی ہر ضرورت کے متعلق بہت سے ایسے احکام و امور ہیں جو ان کے لیے حاجات کے درجے میں آتے ہیں۔ 

چنانچہ حاجاتِ دین کا دائرہ ضروریاتِ دین سے زیادہ وسیع ہے۔ لیکن یہ جاننا کہ وہ کون سے امور ہیں جو دین کی کسی ضرورت کے لیے حاجات کا کردار ادا کرتے ہیں، اسی وقت ممکن ہے جب اس ضرورتِ دین کو درج ذیل امور کے ساتھ اچھی طرح سمجھا جائے گا: اس کی شرائط، ارکان، خصائص، صفات، نتائج، مقاصد، معنی و مطلب کی حدود، مقاصدِ شرعیہ کے ساتھ اس کے تعلق کی نوعیت، اس ضرورتِ دین کو ادا کرنے کا شرعی منہج اور طریقۂ کار، اس ضرورت کی شرعی علت اور سبب، اور باقی ضروریاتِ دین کے ساتھ اس کے تعلق اور واسطے کی نوعیت۔ کیونکہ یہ تمام چیزیں کسی بھی ضرورتِ دین کے مفہوم میں داخل ہیں، اور اس کے لیے عام مثال نماز کی ہے جو کہ اپنی انتہائی اہمیت کی وجہ سے بجائے خود مقصد کا درجہ رکھتی ہے۔ جب تک نماز کو اس کے تمام ارکان، شرائط، خصائص، صفات، اثرات، مقاصد، معانی و مطلب کی وسعت و حدود، مقاصدِ شریعت کے ساتھ اس کے تعلق کی کیفیت، دوسری ضروریاتِ دین کے ساتھ اس کے صلے کی نوعیت، اس کے حکم کی وجوہات، یعنی اس کے علل و اسباب اور اس کو ادا کرنے کے منہج اور طریقۂ کار کا علم نہیں ہوگا، اس وقت تک یہ جاننا مشکل ہے کہ اس کی حاجات کون کون سی ہیں، کیونکہ یہ تمام چیزیں نماز کے مفہوم میں داخل ہیں۔ اور نماز ہی پر تمام ضروریاتِ دین کو قیاس کرنا چاہیے کہ اگر ان میں بھی یہ تمام چیزیں ملحوظ ہوں گی تو ان کی حاجات کا علم ہوگا۔ یہاں مزید تفصیل کا موقع نہیں ہے۔

۳۔ تحسینیات و تکمیلیاتِ دین

احکام و امورِ شرعیہ کی تیسری سطح ایسے امور اور احکام کی ہے، جنہیں ادا کیے بغیر نہ تو مقاصدِ شرعیہ کا حصول ناممکن ہے اور نہ ہی مشکل، بلکہ ان پر عمل کرنے سے ضروریاتِ دین اور حاجاتِ دین پر عمل پیرا ہونا آسان ہو جاتا ہے، اور خودکار طریقے سے ان کی حفاظت بھی ہوتی ہے۔ ایسے امور کو شرعی اصطلاح میں ’’تحسینیات یا تکمیلیاتِ دین‘‘ کہا جاتا ہے۔

فطری بات ہے کہ جو شخص نمازِ تہجد کا غیر معمولی اہتمام کرتا ہو اور اسے بہتر طریقے سے ادا کرنے کی جدوجہد میں لگا رہتا ہو، اس کی فرض نمازوں اور ان سے متعلقہ سنن و نوافل کا کیا حال ہوگا؟ یقیناً ان کا اہتمام تو وہ اور بھی بہتر طریقے سے کرے گا۔

تحسینیات کا دائرہ احکامِ شریعت کا سب سے وسیع دائرہ ہے، اس کی وسعت کی کوئی انتہا نہیں؛ ایک شخص اپنی نمازوں میں جس قدر چاہے عاجزی، بندگی، ذلت و انکساری، پاکیزگی و طہارت کا اہتمام کر سکتا ہے اور آگے بڑھ سکتا ہے۔ لیکن اس میدان میں بھی وہ تمام باتیں ملحوظ رہنی چاہئیں جن کا ذکر ہم سطورِ بالا میں کر چکے ہیں کہ یہ ہرگز جائز نہیں کہ کسی شرعی حکم کی تحسین و تکمیل میں باقی ضروریاتِ دین ہی کو فراموش کر دیا جائے!

جماعتِ صحابہ کرامؓ کی راتیں اگر مصلے پر گزرا کرتی تھیں تو دن دینِ حق کی سربلندی کی خاطر جدوجہد میں گزرتا تھا۔ حضرت عثمان غنیؓ اگر ایک رات میں تمام قرآن دو رکعات میں پڑھ لیا کرتے تھے تو ان کا یہ عمل دین کے تمام مقاصد، ضروریات اور حاجات کی تکمیل و تحسین میں مدد و معاون تھا، نہ کہ ان سے غافل کر دینے کا سبب۔ افسوس کہ ہمیں آج ان کے اعمال کی روایات تو یاد ہیں، مگر ان کے اعمال میں جو حقیقت اور جامعیت تھی وہ یاد نہیں!

(جاری)

حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی

اقساط

(الشریعہ — اکتوبر ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — اکتوبر ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۱۰

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۶)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

علامہ آلوسی کی تفسیر ’’روح المعانی‘‘
مفتی شاد محمد شاد

امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل کا نبوی منہج (۳)
مولانا ڈاکٹر محمد ابوبکر فاروقی

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۱۰)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۸)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات ( ۶)
محمد سراج اسرار

سیاست نامہ از نظام الملک طوسی
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

استشارہ اور استخارہ: اہمیت، فضیلت اور طریقہ کار
مولانا عبد المتین

جزیرۃ العرب میں غیر مسلموں کی رہائش کی ممانعت کا شرعی و عقلی جائزہ
مفتی سید انور شاہ

اسلام کا سیاسی نظام: ایک قانونی تجزیہ (۱)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اسلام اور شخصی آزادی (۲)
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
ذیشان ہاشم

The Essential Requisite of Protecting the Finality of Prophethood and the Sanctity of the Messenger (PBUH)
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

مولانا عبید اللہ سندھی سے منسوب ایک مقالے کی تحقیق
مولانا صدیق احمد فاروق

نفاذِ شریعت یا سیکولرزم
حسنین خالد

قائد اعظم اور قانونِ وقف الاولاد
پروفیسر محبوب پوپاتیا

Our Constitutional History & Background of the Proposed 28th Amendment
Mufti Munib ur Rehman

یمن: تابناک ماضی سے مخدوش مستقبل تک
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

کیا چین مسلم اُمت کا اتحادی بننے جا رہا ہے؟
خالد محمود عباسی

Some Points for the Iranian Leadership`s Consideration
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

دارالعلوم کراچی میں منعقدہ ایک مبارک تقریب کا احوال
مولانا حافظ خرم شہزاد

تلاش

شماریات