▲ ☰

نفاذِ شریعت یا سیکولرزم

الحمد للہ ہم مسلمان ہیں، اسلام ہمارا دین ہے اور شریعت اس دین پر چلنے کا راستہ ہے۔ "اسلامی شریعت" وہ راستہ ہے جس کی بنا پر اسلام تاحیات قابلِ عمل اور قابلِ تقلید دین بنا ہے۔ جس پر عمل پیرا ہونے کے سبب انسانیت اپنے رب کی رحمت کے آغوش میں آجاتی ہے۔ جسے ہمارے آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے خدا کی خوشنودی کا ذریعہ بتایا ہے۔ جو امنِ عالم کی واحد اساس ہے۔ جس میں خدا کے ماننے اور نہ ماننے والے دونوں کی بھلائی ہے۔ جو مبنی بر اعتدال اور مبنی بر فطرت راستہ ہے، اور یہی قرآن و سنت کا راستہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس شریعت کے راستے پر چلنے اور اس کو نافذ کرنے والوں کو جنت کی خوشخبریاں سنائیں گئیں ہیں۔ اللہ تعالی ہمیں شریعت پر چلنے اور اس کو عملاً‌ قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ (۳۱۰ھ) نے تابعی قتادہ بن دعامہ سدوسی رحمہ کی روایت پر شریعت کی تعریف کچھ یوں نقل کی ہے:

والشریعۃ الفرائض والحدود والامر والنہی۔(۱)
"شریعت فرائض، حدود اور امر و نہی کا نام ہے۔"

فرائض، حدود، اوامر اور نواہی کا علم ہمیں صرف قرآن اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی مل سکتا ہے، تو معلوم ہوا کہ شریعت قرآن و سنت کا نام ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (۷۲۸ھ) نے اس کی یوں تعریف کی ہے کہ:

والشریعۃ انما ہی کتاب اللہ وسنۃ رسولہ صلی اللہ علیہ وسلم وما کان علیہ سلف الامۃ فی العقائد والاحوال والعبادات والاعمال والسیاسیات والاحکام۔(۲)
"اور شریعت یقیناً‌ وہ کتاب اللہ اور سنت الرسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس پر امت کے سلف صالحین تھے، عقائد، احوال، عبادات، اعمال، سیاسیات اور احکام میں۔"

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ (۱۹۷۹ء) بھی اسی رنگ میں فرماتے ہیں کہ:

"شریعت سے مراد زندگی کا پورا نظام ہے، جو عقائد و ایمانیات سے شروع ہوتا ہے اور عبادات و اخلاقیات پر آتا ہے۔ (۳)"

اس مضمون کو مرتب کرنے کا خیال جس سبب سے آیا وہ یہ ہے کہ ہندوستان کے مولانا وحید الدین خان صاحب (م۲۰۲۱ء) نے شریعت کے حوالے سے کچھ عجیب سا تصور پیش کیا ہے۔ ان کے موقف کو دیکھنے کے بعد اس مسئلے کو حقائق کی روشنی میں لے آنے کا ارادہ بنا۔

مولانا وحید الدین خان صاحب نے نفاذِ شریعت کے حوالے سے جو موقف اختیار کیا ہے وہ ہم ان کی ذاتی رائے پر محمول کرتے ہیں، اسے عمومی رائے قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انھوں نے اگر اجتہادی الگ وزنی موقف پیش کیا ہوتا تو بہت مفید ہوتا، لیکن انھوں نے مسلم امہ کو مغرب کے پاؤں میں ڈالنے کے لیے ایک غلامانہ اور سراسر خلافِ اسلام موقف اختیار کیا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

"موجودہ زمانے میں انقلاب پسند مسلمانوں کا ایک عمومی نعرہ وہ ہے جس کو شریعتِ محمدی کا نفاذ کہا جاتا ہے۔ یہ بلا شبہہ ایک خود ساختہ نعرہ ہے۔ اس کی تائید قرآن اور حدیث سے نہیں ہوتی۔ اس کے برحق ہونے کے لیے ضروری ہے کہ قرآن اور حدیث میں کوئی حکم اس طرح کے الفاظ میں آیا ہو (شریعت محمدی کو نافذ کرو) اور جب قرآن اور حدیث میں کوئی حکم اس طرح کے الفاظ میں نہ ہو تو اس کی بنیاد پر سیاست چلانا بلاشبہہ ایک مبتدعانہ سیاست ہے، وہ کوئی اسلامی کام نہیں۔ نفاذِ شریعت کا تصور کوئی سادہ تصور نہیں، یہ اسلام کے اندر ایک بہت بڑی برائی داخل کرنے کے ہم معنی ہے۔ اس تصور نے اسلام کو بزور نفاذ کا موضوع بنا دیا ہے حالانکہ اسلام اپنی حقیقت کے اعتبار سے اختیارانہ پیروی کا نام ہے۔ "نفاذِ شریعت" ایک خوبصورت لفظ ہے، لیکن عملی نتیجے کے اعتبار سے وہ تخریب کاری ہے، اور صرف تخریب کاری۔"(۴)

مذکورہ بالا موقف میں انہوں نے جن ترش الفاظ سے اپنی تعبیر کو جامہ پہنا دیا ہے، یقین مانیں" الولاء والبراء" کے تحت سب کو یہ بہت بھاری گزرا ہوگا۔ اگرچہ مولانا وحید الدین خان صاحب کا ابتدائی موقف شریعت اور نفاذِ شریعت کے حوالے سے اس طرح نہیں تھا بلکہ وہ اس حوالے سے بڑا معتدل اور مثبت موقف رکھتے تھے، اس لیے ہم کہتے ہیں کہ یہ جدید موقف ان کی ذاتی رائے ہی ہو سکتی ہے، اس کے علاوہ ان کے بارے میں اور کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ شریعت کے نفاذ کے حوالے سے وہ "تعبیر کی غلطی" میں اپنا ابتدائی موقف یوں بیان کرتے ہیں:

"اگر امتِ مسلمہ آزاد اور بااختیار حیثیت کی حامل ہو تو اس کا فرض ہے کہ اپنے میں سے کچھ لوگوں کو منتخب کر کے انھیں اس بات کا اختیار دے کہ وہ لوگوں کے اوپر شریعت کے احکام کو باضابطہ نافذ کریں۔"(۵)

لیکن مولانا وحید الدین خان صاحب کا جو "قولِ جدید" نفاذِ شریعت کے بارے میں ہے وہ سراسر غلط فہمی پر اس لیے مبنی ہے کہ اپنے دعوے پر انہوں نے ایک آیت یا ایک حدیث بھی پیش نہیں کی اور امتِ مسلمہ کے اجماعی موقف پر انہوں نے امر کے صیغے میں دلیل مانگی ہے۔ انھوں نے اپنے دعوے میں یہ مطالبہ کیا ہے کہ اگر نفاذِ شریعت دینی امر ہوتا تو اس طرح کا حکم قرآن میں موجود ہوتا کہ "اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم شریعت کو نافذ کرو " لیکن اس طرح قرآن مجید میں نہیں ہے تو اس وجہ سے یہ ایک خود ساختہ نعرہ ہے۔ ہم ان شاء اللہ قرآن مجید میں موجود، مولانا کے مطلوب الفاظ سے بہترین آیتیں پیش کریں گے۔ لیکن مولانا وحید الدین خان صاحب جو دعویٰ کر رہے ہے ان کے پاس اپنے دعوے کے ثبوت کے لیے کونسی آیت ہے؟ کوئی آیت نہیں بلکہ صرف ان کا اخباری تجزیہ ہے۔ اسی لیے ان کے پاس اپنے دعوے پر کسی آیت کا نہ ہونا ان کے اپنے خود ساختہ تاثرات کی تردید کا واضح ثبوت ہے۔

نفاذِ شریعت کو "خود ساختہ" نعرہ کہنا تو سرے سے مسلمانہ اور نہ عالمانہ انداز ہے بلکہ اسلام کے غلبے کے تصور کو غلامی کے افکار میں تبدیل کرنے کی آخری حد تک کوشش ہے۔ مولانا کہتے ہیں کہ قرآن مجید اور احادیث میں کوئی ایسا بیان نہیں ہے جس میں یہ کہا گیا ہو کہ "شریعت محمدی کو نافذ کرو"۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ قرآن میں اس طرح کے الفاظ موجود ہوں جو آپ چاہ رہے ہیں اور قرآن آپ کی مرضی سے نازل ہو جاتا، بلکہ اس سے زیادہ تاکیدی اور زجر دینے والے الفاظ قرآن نے ذکر کیے ہیں۔

﴿ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکافرون، فاسقون، ظالمون،﴾ (سورہ المائدہ: ۴۴، ۴۵، ۴۷)

تین آیات ہیں جس میں دو ٹوک الفاظ میں یہ بات واضح بیان ہوئی ہے کہ یہ "قرآن جو کہ شریعت ہے" اس پر فیصلہ نہ کرنے والے، اس کے مطابق نظامِ حیات کو نہ چلانے والے اسی قرآن کے مطابق کافر ہیں، فاسق ہیں اور ظالم ہیں۔ ان صریح فتووں سے خود کو بچانے کے لیے ہم مسلمانوں پر یہ حجت قائم ہو گئی ہے کہ مسلمانوں کے اسلامی ریاست میں اسلامی شریعت کا نفاذ ہو، جس کے قائم نہ کرنے پر ہم سے سوال ہوگا۔ اسی طرح مزید صریح انداز میں قرآن کے یہ آیتیں ہیں:

﴿وانزلنا الیک الکتاب بالحق مصدقا لما بین یدیہ من الکتاب ومہیمنا علیہ فاحکم بینہم بما انزل اللہ ولا تتبع اہواءہم عما جاءک من الحق لکل جعلنا منکم شرعۃ ومنہا جا﴾ (سورہ المائدہ: ۴۸)
"‏اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم نے نازل کی آپ پر حق کتاب، جو تصدیق کرنے والی ہے اپنے سے ما قبل آسمانی کتب کی (اور ان کے حقیقی پیغام کا) نگہبان اور نگران ہے۔ پس ان کے بیج فیصلہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ قانون کے مطابق کریں۔ جب کہ آپ کے پاس حق آپہنچا ہے تو آپ ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں (اس لیے کہ) ہم نے آپ میں سے ہر ایک کے لیے شریعت اور طریقہ عمل مقرر کیا ہے۔"
﴿وان احکم بینہم بما انزل اللہ ولا تتبع اہواءہم﴾ ‎(المائدہ: ۴۹)
"اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! اور ان کے درمیان اللہ تعالی کے بھیجے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ کرو اور ان لوگوں کی خواہشات کی تعبداری نہ کرو۔"

ان آیات اور اس طرح کی باقی درجنوں آیات کا منشاء یہی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زندگی گزارنے کے لیے جو شریعت اور منہاج عطا کی ہے یہ صرف آپ کو نہیں بلکہ آپ سے ما قبل انبیاء کرام علیہم السلام کو بھی ان کے زمانے کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے روڈ میپ کے طور پر وحی کی صورت میں عطاء کیا تھا۔ اب ان سے یہی مطالبہ ہے کہ آپ اس قانون اور روڈ میپ قرآن پر چلیں اور اسے نافذ کریں اور لوگوں کی خواہشات کی تابعداری سے دور رہیں، جسے آج کی جدید اصطلاحات میں "سیکولرزم" اور "لبرلزم" کہا جاتا ہے۔ نبی علیہ السلام کو اس بات کا امر کیا گیا ہے کہ آپ معاشرے میں "ما انزل اللہ" یعنی اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ قوانین پر فیصلہ کریں جسے قرآن نے ‎﴿وان احکم بینہم بما انزل اللہ ولا تتبع اہواءہم﴾ (المائدہ: ۴۹) سے تعبیر کیا ہے۔ اگر پھر بھی یہ لوگ باز نہ آئیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے گناہوں اور نافرمانی کے سبب سزا دینے کا وعدہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قانون اور حکومت کے بجائے دوسرے نظاموں کی طرف رجوع کرنا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانے میں قدیم اور ہمارے زمانے میں جدید جاہلیت شمار ہوتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ‎ ﴿افحکم الجاہلیۃ یبغون ومن احسن من اللہ حکما لقوم یوقنون﴾ (المائدہ: ۵۰)

اب ان آیات کریمہ کے بعد ہم مولانا وحید الدین خان صاحب کا شریعتِ اسلامیہ کے بارے میں ہفوات کو کیا نام دیں؟

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہے کہ:

﴿فلا وربک لا یؤمنون حتیٰ یحکموک فی ما شجر بینہم﴾ (سورہ نساء: ۶۵)
"تیرے رب کی قسم اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ لوگ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتے جب تک آپ کو اپنے تنازعات کے فیصلوں میں حکم نہ بنا لیں۔"

اور اسی طرح فرماتے ہیں:

﴿ان اقیموا الدین ولا تتفرقوا فیہ﴾ (سورہ شوریٰ: ۱۳)
"یہ کہ اس دین کو قائم کرو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔"

اور فرمایا:

﴿ان الحکم الا للہ﴾ (سورہ الانعام: ۵۷)
"یہ کہ حکم صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا ہو گا۔"

مزید فرمایا:

﴿ولا یشرک فی حکمہ احدا﴾ (سورہ کہف: ۲۶)
"اور وہ اپنے حکومت اور حاکمیت میں کسی کو شریک نہیں بناتا۔"

اس طرح مولانا کی دوسری بات یہ ہے کہ نفاذِ شریعت کوئی "سادہ تصور نہیں ہے" تو یہ حقیقت ہے کہ یہ سادہ تصور نہیں ہے بلکہ بہت ہی اہم فریضہ ہے، لیکن یہ بات کہ "یہ اسلام کے اندر ایک بڑی برائی داخل کرنے کے ہم معنی ہیں" تو یہ مکمل طور پر غلط اور مبنی بر فساد موقف ہیں، اس لیے کہ بڑی برائی کے ہم معنی نفاذِ شریعت نہیں بلکہ سیکولرزم اور مغربی جمہوریت ہے جس کو آپ بعینہٖ اسلام سمجھتے ہیں اور اس کی تبلیغ کے پوری عمر داعی رہے۔ اس مؤقف کا صاف اور سیدھا مطلب یہ ہے کہ آپ کے ہاں مغربی جمہوریت اور مغربی سیکولرزم کے نظریات قابلِ تحسین اور قابلِ عمل ہیں جبکہ نفاذِ شریعت کا تصور تخریب کاری ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔

آئیے دیکھیے مولانا وحید الدین خان صاحب سیکولرزم کے حوالے سے کیا کہتے ہیں۔ اپنی تصنیف مسائل اجتہاد میں لکھتے ہیں:

"حقیقت یہ ہے کہ سیکولرازم کوئی مذہبی عقیدہ نہیں۔ سیکولرازم کا مطلب لامذہبیت نہیں بلکہ مذہب کے بارے میں غیر جانب دارانہ پالیسی اختیار کرنا ہے۔ یہ ایک عملی تدبیر ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مذہبی نزاع سے بچتے ہوئے سیاسی اور اقتصادی امور میں مشترک بنیاد پر ملک کا نظام چلایا جائے۔"(۶)

ان کے ہاں سیکولرزم عملی تدبیر ہے جبکہ ہمارے ہاں نفاذِ شریعت عملی تدبیر ہے۔ اب بتائیں کہ نفاذِ شریعت دین میں بڑی برائی داخل کرنے کے مانند ہے، جس کے نفاذ پر پوری امتِ مسلمہ کا اجماع ہے؛ یا سیکولرزم جس کا اردو میں معنی ہی لادینیت ہے؟ اور اس اصطلاح کے مذکورہ معنی ایجاد کرنے والے کے ساتھ پوری امتِ مسلمہ کا بھی اتفاق ہے۔

اسلام نے شریعت کو کبھی بھی بزور نفاذ کا موضوع نہیں بنایا۔ لیکن جو ریاست اسلام کے نام پر ایک اسلامی نظریہ کے تحت بنی ہو، یا پہلے سے ایک خودمختار ریاست ہو، تو اس میں شریعت کا نفاذ نماز کی فرضیت کی طرح لازم ہے کہ وہاں شریعت پر عمل ہو، وگرنہ اللہ تعالیٰ کے سامنے وہ ایک نہ ایک روز ضرور باز پرسی کے لیے حاضر ہو جائیں گے اور دنیا میں ان کی زندگی ذلت سے بھری ہو گی۔ یہ "نفاذِ شریعت دین میں تخریب کاری" نہیں ہے بلکہ دین کی اشاعت، حفاظت، دنیا کے لیے امن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہؓ کے زندگیوں میں ہماری لیے رکھا گیا اسوہ حسنہ ہے۔

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ نے "تنقیحات" میں یہ الفاظ بہت خوب لکھے ہیں کہ:

’" یہ شریعت بزدلوں اور نامردوں کے لیے نہیں اتری ہے، نفس کے بندوں اور دنیا کے غلاموں کے لیے نہیں اتری ہے، ہوا کے رخ پر اڑنے والے خس و خاشاک، اور پانی کے بہاؤ پر بہنے والے حشرات الارض اور ہر رنگ میں رنگ جانے والے بے رنگوں کے لیے نہیں اتری ہے۔ یہ ان بہادر شیروں کے لیے اتری ہے جو ہوا کا رخ بدل دینے کا عزم رکھتے ہوں، جو دریا کی روانی سے لڑنے اور اس کے بہاؤ کو پھیر دینے کی ہمت رکھتے ہوں، جو صبغۃ اللہ کو دنیا کے ہر رنگ سے زیادہ محبوب رکھتے ہوں اور اسی رنگ میں تمام دنیا کو رنگ دینے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔"(۷)

ہمارے سارے جذبات مولانا وحید الدین خان صاحب کے موقف کے خلاف اس وجہ سے ہیں کہ اس میں شریعت کے تصور کی توہین، استہزاء اور تحقیر کی گئی ہے۔ عصرِ حاضر کے مشہور عرب عالم شیخ محمد بن صالح العثیمینؒ شریعت کو حقیر سمجھنے والوں کے بارے میں کہتے ہیں:

"جو بندہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلہ نہ کرے اور اس کو حقارت کی نظر سے دیکھے، یا اس سوچ اور عقیدے کی بنا پر وہ مخلوق کے لیے کوئی اور راستہ بہتر اور فائدہ مند سمجھے تو وہ کافر ہے۔ اور یہی کفر اسے دین سے خارج کرتا ہے۔ ان میں سے لوگوں کا وہ طبقہ بھی شامل ہے جو انسانوں کے لیے اسلامی قانون سازی کے بجائے ایسی قانون سازی کرتے ہیں جو شریعت کے متصادم ہو اور چاہتا ہو کہ لوگ اس قانون پر چلیں۔ یہ لوگ غیر شرعی قانون سازی اسی بنیاد پر کرتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ شریعت سے زیادہ مفید اور (جدید) دور کے لیے زیادہ بہتر ہیں۔ یہ بات ہم اس وجہ سے کہتے ہیں کہ انسانی مزاج اس وقت کسی دوسری طرف رخ موڑتا ہے جب اسے پہلے سے دوسرا کوئی اور راستہ زیادہ بہتر نظر آجائے یا ابتدائی موقف میں انہیں کوئی خرابی اور کمی محسوس ہو۔" (۸)

مولانا وحید الدین خان صاحب اپنے اس موقف میں شریعت اور اس کے نفاذ پر تضحیک آمیز کلمات سے مسلم نسلِ نو کے اذہان کو غلامی کی طرف متوجہ کرنے کے ساتھ ساتھ مغرب کے پاؤں میں دھکیلنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ اور یہ صرف دھکیلنا نہیں ہے بلکہ اسلام سے اس کی روح کو نکالنے کے مترادف ہے۔ اگر نفاذِ شریعت سے طاغوتی کارندے خوف زدہ ہوں اور وہ اس طرح موقف اختیار کریں تو پھر بھی سمجھ میں آنے والی بات ہے، لیکن ہمارے اپنے کیوں تاویلات کے ذریعے اسے خلط ملط کر کے کئی لوگوں کے ذہنوں کو مشکوک بنا کر ان کے ساتھ کھیل کھیلتے ہیں؟ اس طرح کی باتیں اور موقف اختیار کرنا صرف ایک گلی کے گُلّی ڈنڈے کا تماشا ہے، حقیقت کے رو سے اس میں کچھ بھی نہیں ہے۔

ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب رحمہ اللہ (م۲۰۱۰ء) کی رائے ملاحظہ کریں، جب ان سے نفاذِ شریعت کی درج بالا نوع کے مسئلے پر سوال ہوا تو اس پر انہوں نے کیا فرمایا:

"سوال: بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ شریعت کے نفاذ کا مطالبہ اسلام کا لازمی تقاضا نہیں ہے۔ بلکہ ماضی قریب کے بعض اہلِ علم نے اسے مطالبے کی شکل دے دی ہے۔ اسلام بنیادی طور پر اصلاً‌ ایک مذہبی رویے کا نام ہے، وہ رویہ صرف اخلاق اور عبادات، اور زیادہ سے زیادہ عائلی امور تک محدود رہنا چاہئے۔ جب اس مذہبی دائرے کو پھیلا کر اجتماعیت کے دائرے میں لایا جاتا ہے تو اس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اسی لئے مغربی دنیا نے مذہب اور ریاست کے درمیان تفریق کر کے اس مشکل سے نجات حاصل کر لی ہے۔ اس بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟
جواب: میری بلکہ اسلام کے تمام مستند شارحین اور جید ترین اہلِ علم کی قطعی رائے یہ ہے کہ دین و دنیا کی تفریق کا موجودہ مغربی تصور غلط ہے، یہ تصور شریعت کے مطابق نہیں ہے۔ شریعت پہلے دن سے ایک مکمل نظامِ زندگی ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں دعوت کا آغاز فرمایا تھا، جب ابھی صحابہ کرامؓ کی تعداد تین چار سے زیادہ نہیں تھی، اس وقت آپ مکہ مکرمہ کی محفلوں میں یہ اعلان فرمایا کرتے تھے کہ اے لوگو! میں جس کلمہ کی دعوت دے رہا ہوں اسے قبول کر لو، اگر تم ایسا کر لو گے تو عرب و عجم تمہارے زیر نگیں ہو جائیں گے۔ ("تخضع لکم بہا العرب وتدین لکم بہا العجم" عرب تمہارے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے اور عجم تمہاری قیادت کا سکہ تسلیم کر لیں گے)۔گویا عرب و عجم کے لئے قائدانہ کردار تو اسلام کی تعلیمات کا پہلے دن سے ایک حصہ تھا…" (۹)

اب ہماری سمجھ میں یہ نہیں آرہا ہے کہ مولانا وحید الدین خان صاحب جس طرح اسلام سے شریعت کے نفاذ کو دھکیل دھکیل کر باہر نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں تو اس شریعت کے نفاذ پر تو پوری امتِ مسلمہ کا اتفاق ہے۔ اور ساتھ ہی دوسری جانب اس شریعت کو طاقت کے بل بوتے پر ختم کرنے والے بھی اس کی حقیقت کے معترف ہیں کہ شریعتِ محمدی صرف چند رسوم اور چند مخصوص عبادات کا نام نہیں ہے بلکہ ایک مکمل نظامِ زندگی ہے۔ ہمارے لیے مغربی پیشواؤں کی آراء اور اقوال اسلام میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے لیکن یہ محض اس لیے کہ مولانا مسلمان ہو کر بھی اس شریعت اور اس کے نفاذ کو خلافِ اسلام قرار دے رہے ہیں اور اغیار بغیر ایمان اور اسلام دشمنی کے باوجود تحقیق کی بنا پر اسے قابلِ تقلید مان رہے ہیں۔

مولانا وحید الدین خان صاحب نے جن مغرب نوازوں سے یہ موقف اخذ کیا ہے (یہ دعویٰ ہم محض اس وجہ سے کر رہے ہیں کہ یہ موقف ان کی کتاب "تعبیر کی غلطی" میں نہیں ہے، بلکہ وہاں اس کی تائید ہے، جس کا حوالہ اوپر ذکر کیا گیا ہے۔) ان کے اسلام کے تصورِ نفاذِ شریعت سے کیا مراد ہے؟ ان میں بھی بعض حضرات نے حقیقت سے آنکھیں بند نہیں کی ہے، شیخ ابراہیم القطان اپنی کتاب "اسلامی شریعت کی آفاقیت" میں شریعت کی حقیقی قدر و قیمت کے بارے میں مغربی دانشوروں کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ:

"مغرب کے علمائے قانون اسلامی شریعت کی حقیقی قدر و قیمت سے آگاہ ہیں چنانچہ انہوں نے اپنی بعض قانونی کانفرنسوں اور اجتماعات میں اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ اسلامی شریعت قانون سازی کی بنیاد بن سکتی ہے۔ تقابلی قانون کی ایسی ایک کانفرنس اگست ۱۹۳۸ء میں "دی ہیگ" کے مقام پر منعقد ہوئی تھی۔ اس کانفرنس میں جو قراردادیں منظور کی گئیں ان میں کہا گیا کہ:
۱۔ اسلامی شریعت قانون سازی کی بنیاد بن سکتی ہے۔
۲- اسلامی شریعت ایک زندہ قانون ہے جس میں ترقی کرنے اور آگے بڑھنے کی پوری صلاحیت موجود ہے۔
۳- اسلامی شریعت کا اپنا ایک مقام ہے، اور یہ کسی دوسرے قانون سے ماخوذ نہیں۔"(۱۰)

یہ صرف اس وجہ سے ذکر کیا ہے کہ یہ ان کے کسی ایک اسکالر کا موقف نہیں ہے بلکہ ان کی اجتماعی کانفرنس کا فیصلہ ہے۔

اب آپ کو یہ بات سمجھ آگئی ہوگی کہ نفاذِ شریعت کی شرعی اور اجماعی حیثیت کو چھوڑ کر غلامانہ ذہنیت اور نقطہ نظر رکھنے والے حضرات کا سیکولرزم یعنی لا دینیت میں فلاح ڈھونڈنا اسلام کے ساتھ کھلواڑ نہیں تو اور کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھ عطا فرمائے آمین۔

حوالہ جات

۱۔ تفسیر ابن جریر طبری جلد 21 سورہ الجاثیۃ صفحہ: 85، (مرکز البحوث والدراسات العربیہ و الاسلامیہ قاہرہ طبع 2001ء)

۲۔ مجموع الفتاوی (طبع ریاض 1382 ھ صفحہ 308 جلد 19)

۳۔ تفہیمات جلد 5، صفحہ: 17، (اسلامک پبلیکیشنز لمیٹڈ لاہور، اشاعت جنوری 2017ء)

۴۔ الرسالہ، (گڈ ورڈ بک نیو دہلی، اکتوبر 2009ء)

۵۔ تعبیر کی غلطی صفحہ: 315 (گڈ ورڈ بک نیو دہلی اشاعت 2017 ء)

۶۔ مسائل اجتہاد، صفحہ: 119۔20 (گڈ ورڈ بک نیو دہلی اشاعت 2003 ء)

۷۔ تنقیحات، صفحہ: 191، (اسلامک پبلیکیشنز اشاعت دسمبر 2011ء)

۸۔ مجموعہ فتاوی و رسائل فضیلۃ الشیخ صالح بن عثیمین، (جلد 2 صفحہ: 143، الطبعۃ الاخیرۃ 1443 ھ)

۹۔ عصر حاضر اور شریعت اسلامی، صفحہ 2۔ 27 (انسٹیٹیوٹ آف پالیسیز اسٹڈیز اسلام آباد،طبع دوم 2015ء)

۱۰۔ اسلامی شریعت کی آفاقیت، صفحہ: 19 (شریعہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، ادارہ تحقیقات اسلامی پریس اسلام آباد، اشاعت: مئی 1997ء)

نقد و نظر

(الشریعہ — اکتوبر ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — اکتوبر ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۱۰

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۶)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

علامہ آلوسی کی تفسیر ’’روح المعانی‘‘
مفتی شاد محمد شاد

امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل کا نبوی منہج (۳)
مولانا ڈاکٹر محمد ابوبکر فاروقی

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۱۰)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۸)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات ( ۶)
محمد سراج اسرار

سیاست نامہ از نظام الملک طوسی
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

استشارہ اور استخارہ: اہمیت، فضیلت اور طریقہ کار
مولانا عبد المتین

جزیرۃ العرب میں غیر مسلموں کی رہائش کی ممانعت کا شرعی و عقلی جائزہ
مفتی سید انور شاہ

اسلام کا سیاسی نظام: ایک قانونی تجزیہ (۱)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اسلام اور شخصی آزادی (۲)
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
ذیشان ہاشم

The Essential Requisite of Protecting the Finality of Prophethood and the Sanctity of the Messenger (PBUH)
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

مولانا عبید اللہ سندھی سے منسوب ایک مقالے کی تحقیق
مولانا صدیق احمد فاروق

نفاذِ شریعت یا سیکولرزم
حسنین خالد

قائد اعظم اور قانونِ وقف الاولاد
پروفیسر محبوب پوپاتیا

Our Constitutional History & Background of the Proposed 28th Amendment
Mufti Munib ur Rehman

یمن: تابناک ماضی سے مخدوش مستقبل تک
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

کیا چین مسلم اُمت کا اتحادی بننے جا رہا ہے؟
خالد محمود عباسی

Some Points for the Iranian Leadership`s Consideration
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

دارالعلوم کراچی میں منعقدہ ایک مبارک تقریب کا احوال
مولانا حافظ خرم شہزاد

تلاش

شماریات