▲ ☰

اسلام اور شخصی آزادی (۲)

ذیشان ہاشم:

اچھا، اس کے علاوہ عمار بھائی! ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جدید ریاستوں کے اندر جو قانون ہے اس کا ایک مقصد ہے، وہ یہ کہ وہ شہری آزادیوں کا تحفظ کرے گا۔ تو قانون بنیادی طور پر کسی مقدمے پر یا کسی بنیادی اصول پر مبنی ہوتا ہے، کسی مفروضے پر اس کا انحصار ہوتا ہے، تو وہ مفروضہ جو ہے وہ شخصی آزادیوں کا تحفظ ہے۔ اسی طرح قانون کے متوازی ایک چیز ہمارے معاشرے میں چلتی ہے جس کو ہم شریعت کہتے ہیں، مسلمان جتنا قانون کی اتباع کرتے ہیں ویسے ہی ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ شریعت کی اتباع کریں، چاہے وہ ریاستی پیمانے پر ہو یا نجی پیمانے پر ہو، لیکن شریعت کے نام سے ایک قانون موجود ہے، جس کو لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ بھی ایک قانون ہے، تو یہ جو شریعت ہے، یہ کس مفروضے پر قائم ہے اور اس کا کیا مقصد ہے بنیادی طور پر؟

عمار خان ناصر:

دیکھیں، شریعت کے جو بنیادی مقاصد ہیں وہ قانون سے مختلف نہیں ہیں۔ یعنی ہماری جو روایت ہے علمِ فقہ کی، اس میں شریعت کی، یا فقہ جو شریعت سے اخذ ہوتی ہے اس کی تعریف ہی یہ ہے کہ ’’معرفۃ النفس ما لہا و ما علیہا‘‘ انسان کو یہ بتا دیا جائے کہ اس کے حقوق کیا ہیں اور اس کی ذمہ داریاں کیا ہیں۔ ان ذمہ داریوں اور حقوق کی وضاحت کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ ہر آدمی ایک تو اپنے واجبات ادا کرے، جو ظاہر ہے کسی دوسرے کے حقوق ہوں گے؛ اور اپنے جو حقوق ہیں ان کو جانے اور ان کا دعویٰ کر سکے؛ کوئی اپنے حدود سے تجاوز نہ کرے۔ شریعت بھی بنیادی طور پر اسی مقصد کے لیے ہے کہ لوگ اپنے حقوق کو جانیں اور اپنی ذمہ داریوں کو جانیں۔ جو ذمہ داریاں ان کی خدا سے متعلق ہیں، اپنے ساتھی انسانوں سے متعلق ہیں، بلکہ اردگرد کے ماحول کے جانداروں اور جو بے جان ماحول اور چیزیں ہیں ان سے متعلق بھی اس کی ذمہ داریاں ہیں، تو چونکہ وہ ایک ذمہ دار مخلوق ہے اور اس کے اوپر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، تو اس کو شریعت اخلاقی پیمانوں پر، اخلاقی اصولوں پر اور خدا کے حکم کی رو سے بیان کر دیتی ہے کہ یہ ہے جس کے اندر انسانوں کو رہنا ہے۔ اب ان حقوق کو آپ کسی معاشرے میں یا کسی معاشرتی سیٹ ایپ میں کیسے یقینی بنائیں؟ یہ اصل میں پھر انسانوں کی محنت، اجتہاد اور کاوش کا میدان ہے۔ خدا نے حقوق تو بتا دیے کہ یہ یہ فلاں کے حقوق ہیں، لیکن آپ نے معاشرے میں ان کے اوپر عمل کیسے کرنا ہے، اس کے لیے زمین کیسے ہموار کرنی ہے، جو رکاوٹیں ہیں ان کو کیسے دور کرنا ہے؟ آپ کو بہت سی اس کی ذیلی قانون سازی کرنی پڑتی ہے۔ 

اس طرح قانون اگر شریعت کے ان بنیادی مقاصد اور ان حدود کو ملحوظ رکھے تو قانون اور شریعت کا آپس میں تضاد نہیں ہے، قانون اصل میں شریعت ہی کی تائید/تکمیل کرتا ہے اور اسی کے مقاصد کو آگے بڑھا سکتا ہے۔ یعنی اسی شرط کے ساتھ کہ شریعت کے جو مقاصد ہیں انسانی معاشرے کے حوالے سے، ان کو ملحوظ رکھے اور انہی کو آگے بڑھانے کے لیے کوشش کرے۔

ذیشان ہاشم:

تو پوری گفتگو جو اب تک ہم نے کی، اس گفتگو کا نتیجہ اگر میں نکالوں، وہ یہ ہے کہ آپ نے بتایا کہ جو مذہب ہے وہ یہ بتاتا ہے کہ انسان اور خدا کے درمیان ایک تعلق موجود ہے، دوسرا یہ کہ اللہ نے انسان کو کچھ ذمہ داریاں دی ہیں اور ان ذمہ داریوں کو سرانجام دینے کی آزادی دی ہے جو کہ شخصی آزادی ہے اور اس کا اللہ تعالیٰ حساب لیں گے۔ آپ نے یہ بتایا کہ ریاست کی ذمہ داری جو ہے وہ بھی انہی ذمہ داریوں (سے متعلق ہے) یعنی اسلام ریاست کو کوئی علیحدہ سے اتھارٹی نہیں قبول کرتا بلکہ اس کو بھی سماجی بندوبست کے سپرد کر دیتا ہے۔ اسی طرح آپ نے شریعت کی بھی ذمہ داری بتائی جو کہ ویسی ہی ہے جیسا کہ جدید ریاست میں قانون کی ہے کہ انسانوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ اس پورے کے پورے مقدمے/دعوے کو اگر میں صحیح سمجھا ہوں تو مجھے کہیں بھی کوئی ایسی چیز نظر نہیں آتی کہ جو لبرل ازم سے متصادم ہو۔ آپ کیا کہتے ہیں؟

عمار خان ناصر:

یہ تو اصل میں لبرل ازم کو دیکھنا ہو گا کہ اس کے مفروضات کیا ہیں اور وہ خدا اور بندے کے تعلق کو کیسے دیکھتا ہے؟ اگر لبرل ازم اس تعلق کو مانتا ہے کہ ہاں انسان خدا کو بھی جواب دہ ہے اور خدا کی طرف سے بھی انسان کو کچھ حدود، ضابطے، کچھ پابندیاں اور حقوق بتائے گئے ہیں جن کا انسان مکلف ہے، اور اس کے تحت جب سوسائٹی کو ہم آرگنائز کریں گے اور اس میں ذمہ داریوں کی تقسیم کریں گے تو ریاست کا کردار اس میں محدود ہو گا۔  اگر لبرل ازم یہی ہے تو پھر میرا خیال ہے اس میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ 

اصل میں ہمارا ہاں انڈرسٹینڈنگ یہ ہے — وہ ہے یا نہیں، آپ بتا سکتے ہیں — کہ لبرل ازم انسان کو ہر چیز سے آزاد سمجھتا ہے جس میں اس کے لیے خدا کا حکم بھی کوئی معنی نہیں رکھتا، جس میں اس کے لیے سوسائٹی کی جو مسلّمہ اخلاقیات ہیں وہ بھی کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ تو ظاہر ہے لبرل ازم کا یہ جو تصور ہے، جو شریعت کو کوئی وزن نہیں دیتا، یا معاشرتی اخلاقیات اور معاشرتی اساسیتوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتا، تو وہاں پر تو ضرور سوال اٹھایا جا سکتا ہے۔  لیکن اگر یہ انڈرسٹینڈنگ ہے جو آپ نے بیان کی ہے، یعنی ریاست کے اختیار کی تحدید کرنا، اس کو معاشرے کے سامنے جوابدہ قرار دینا، اور اصل میں اس کی طاقت یا اتھارٹی کو معاشرے ہی سے ماخوذ سمجھنا، اگر لبرل ازم صرف یہ ہے تو میرے خیال میں یہ بالکل ٹھیک بات ہے، اس پر اسلام کو کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔

ذیشان ہاشم: 

دیکھیں، اس سلسلہ میں دو باتیں ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ جو کلاسیکل لبرل ازم ہے، وہ جو بنیادی انسانی حقوق کا تصور ہے وہ اسی سے ہی اخذ کردہ ہے کہ خدا نے انسان کو مکمل آزادیوں کے ساتھ پیدا کیا ہے، تو یہاں کلاسیکل لبرل ازم تو آزادیوں کو خدا سے منسوب کرتا ہے۔ لیکن جب وہ آگے بڑھتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرا دائرہ کار سیاسی، سماجی اور معیشت تک محدود ہے۔ اور اس دائرہ کار کے اندر میں اس مقدمے کو مانتا ہوں کہ ایک شخص چاہے وہ جس مذہب سے بھی ہے اور جن اخلاقی اصولوں پر عمل کر رہا ہے وہاں وہ اس کا شخصی دائرہ کار ہے، وہ خود کو جوابدہ سمجھتا ہے یا نہیں سمجھتا، وہ اس کا شخصی دائرہ کار ہے؛ لیکن سیاست، معیشت اور سماج کے اندر اس کی شخصی آزادیوں پر کوئی قدغن نہیں لگائے گا اور نہ وہ کسی کی شخصی آزادیوں پر قید لگائے گا۔ تو وہ اپنا جو بنیادی مقدمہ ہے وہ خدا سے اخذ کرنے کے بعد سیاست، سماج اور معیشت تک محدود کر لیتا ہے، اور جوابدہی کی کوئی حتمی بات کرنے سے وہ انکاری ہوتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اس کا دائرہ کار نہیں ہے۔ 

عمار خان ناصر: 

یہاں پھر مسئلہ پیدا ہو گا کیونکہ جو شریعت ہے وہ تو اپنے ہر ماننے والے کو — شریعت کا مخاطب ہی اس کا ماننے والا ہے، جو اس کو مانتا نہیں وہ اس کا مخاطب ہی نہیں — تو وہ اپنے ماننے والوں کو مختلف حیثیتوں میں اور مختلف حالات میں الگ ذمہ داریوں کا (مکلف ٹھہراتی ہے)۔ اگر کوئی مسلمان کہیں ایک فرد کی حیثیت سے ہے تو اس دائرے میں اس کو مخاطب بنائے گی، اگر مسلمانوں کی کہیں کمیونٹی ہے تو اس کی ذمہ داریوں کی نوعیت اور ہو گی، اگر کہیں پر مسلمان ایک polity کی شکل میں ہیں تو پھر شریعت ان کو اجتماعی زندگی، سیاست اور معیشت سے متعلق کچھ ذمہ داریاں دے گی اور وہاں پر مسلمان پابند ہوں گے۔ یعنی اپنے اسی ایمان کی رو سے، اگر انہوں نے ایمان نہ قبول کیا ہوتا تو ٹھیک ہے جیسے اور دنیا کے دوسرے معاشرے ہیں جو اپنی انڈرسٹینڈنگ کے مطابق معاملات طے کرتے ہیں۔ لیکن چونکہ یہ ایمان لا چکے ہیں اور شریعت کی پابندی قبول کی ہے، وہ جب ایک سیاسی نظم کی شکل اختیار کریں گے تو وہاں پر پھر وہ پابند ہوں گے کہ وہ شریعت کی حدود میں ہی اپنے فیصلے کریں۔ تو یہاں پر پھر میرا خیال ہے کہ لبرل ازم میں اور شریعت میں ایک طرح کا تخالف پیدا ہو گا جس میں مسلمان شریعت کو ترجیح دیں گے۔  

ذیشان ہاشم:

مطلب یہ کہ جب انفرادی ذمہ داریوں تک بات آتی ہے تو پھر کوئی تصادم یا اختلاف نہیں آتا، لیکن جب اجتماعی ذمہ داریاں دی جاتی ہیں تو پھر اس میں اختلاف آ سکتا ہے (بعض بعض چیزوں میں۔ عمار ناصر)۔  بعض چیزوں میں۔ اچھا، ایک اسلامی معاشرے کے اندر مسلمان ایک اجتماعی نظم قائم کرتے ہیں — جیسے سیاسی نظم — تو اس نظم کے اندر جو سیاسی، سماجی یا معاشی حقوق ہوں گے، وہ مسلمان کے اور غیر مسلم کے مساوی ہوں گے یا ان میں فرق ہو گا؟ 

عمار خان ناصر: 

یہ بہت ہی اہم سوال ہے اور یہاں پر میں اپنی کوئی انڈرسٹینڈنگ بیان کرنے کی بجائے صرف یہ واضح کروں تو زیادہ بہتر ہو گا کہ کلاسیکل اسلام میں جو اسلامی سیاست کے بنیادی مفروضات تھے اور ان کے تحت جو ایک سسٹم بنایا گیا تھا، اور ماڈرن اسلام کی جو انڈرسٹینڈنگ ہے اور جن مفروضات پہ وہ بات کرتا ہے، اس میں کافی فرق ہے۔ جو کلاسیکل اسلام ہے اس میں غیر مسلموں کے لیے — جو کہ مسلمان معاشرے میں رہ رہے ہوں — ان کے مذہبی قوانین، جان و مال، پراپرٹی، اور ان کے جو مذہبی واجبات ہیں، ان کے تحفظ کی بات مانی گئی ہے بلکہ اس کی ضمانت دی گئی ہے۔ لیکن چونکہ بنیادی طور پر جو مسلمان حکومتیں ہیں وہ سلطنت کے اصول پر قائم ہوئی تھیں اور فتوحات کے نتیجے میں قائم ہوئی تھیں، وہ جدید یعنی جمہوری اصولوں پر قائم نہیں ہوئی تھیں، تو اس تناظر میں فاتح اور مفتوح کا جو ایک امتیاز اور فرق ہے وہ ہمیں کلاسیکل اسلامی قانون میں بھی بعینہ اسی طرح ملتا ہے کہ جس میں جو غیر مسلم آبادیاں ہیں وہ سیاسی لحاظ سے حکومت سازی میں اور فیصلہ سازی میں شریک نہیں ہیں۔ جبکہ معاشرتی جو حقوق ہیں ان میں فقہاء کے درمیان بہت سی چیزوں میں اختلاف ہے، بہت سے فقہاء ان کو جان کے تحفظ کے حق وغیرہ میں مسلمانوں کے برابر ٹھہراتے ہیں، کچھ دوسرے فقہاء ہیں جو کچھ فرق ملحوظ رکھتے ہیں۔ 

یعنی کلاسیکل اسلام میں وہ شکل نہیں ہے جو آج کی جمہوری ریاستوں میں ہے۔ لیکن جیسے ہی دنیا میں تبدیلی آئی ہے ، سلطنتیں ختم ہوئی ہیں، جمہوریت کا اصول متعارف ہوا ہے، قومی ریاستوں کا تصور آیا ہے، تو ہم دیکھتے ہیں کہ — چونکہ میں خاص اس شعبے میں اسلامی فکر کا طالب علم ہوں — تو ہمارے اہلِ علم نے بڑی وسعت کے ساتھ اس کو محسوس کیا ہے کہ جو جمہوریت کا تصور ہے اور اس میں مساوی شہریت کا جو اصول ہے، اس کو اگر ہم قبول کریں تو یہ اسلام کے کسی بنیادی مطالبے کے یا اس کی بتائی ہوئی حدود کے خلاف نہیں ہو گا۔ تو یہ ایک بڑا غیر معمولی اجتہادی نقطۂ نظر ہمارے اہلِ علم نے اختیار کیا ہے۔ دوسرا انہوں نے جمہوریت کو بھی قبول کیا، اس میں غیر مسلموں کی جو مساوی شہریت ہے اس کو قبول کیا، ان کے بارے میں جو کچھ امتیازی قوانین قدیم سلطنتوں میں قائم کیے جاتے تھے تاکہ امتیاز رہے کہ ہم حاکم ہیں اور یہ محکوم ہیں، ہم مسلمان ہیں اور یہ غیر مسلم ہیں، تو جدید قومی ریاستوں بشمول پاکستان، ان میں علماء نے اس طرح کا کوئی اصرار نہیں کیا اور اس کو قبول کیا ہے۔ تو میرے خیال میں یہ دو ہمارے سامنے تصویریں ہونی چاہئیں جو تاریخی حالات کے فرق سے پیدا ہوئی ہیں۔ 

(جاری)

https://youtu.be/Dyezox5yAZ4

اسلامی روایت اور جدید مباحث

اقساط

(الشریعہ — اکتوبر ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — اکتوبر ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۱۰

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۶)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

علامہ آلوسی کی تفسیر ’’روح المعانی‘‘
مفتی شاد محمد شاد

امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل کا نبوی منہج (۳)
مولانا ڈاکٹر محمد ابوبکر فاروقی

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۱۰)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۸)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات ( ۶)
محمد سراج اسرار

سیاست نامہ از نظام الملک طوسی
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

استشارہ اور استخارہ: اہمیت، فضیلت اور طریقہ کار
مولانا عبد المتین

جزیرۃ العرب میں غیر مسلموں کی رہائش کی ممانعت کا شرعی و عقلی جائزہ
مفتی سید انور شاہ

اسلام کا سیاسی نظام: ایک قانونی تجزیہ (۱)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اسلام اور شخصی آزادی (۲)
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
ذیشان ہاشم

The Essential Requisite of Protecting the Finality of Prophethood and the Sanctity of the Messenger (PBUH)
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

مولانا عبید اللہ سندھی سے منسوب ایک مقالے کی تحقیق
مولانا صدیق احمد فاروق

نفاذِ شریعت یا سیکولرزم
حسنین خالد

قائد اعظم اور قانونِ وقف الاولاد
پروفیسر محبوب پوپاتیا

Our Constitutional History & Background of the Proposed 28th Amendment
Mufti Munib ur Rehman

یمن: تابناک ماضی سے مخدوش مستقبل تک
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

کیا چین مسلم اُمت کا اتحادی بننے جا رہا ہے؟
خالد محمود عباسی

Some Points for the Iranian Leadership`s Consideration
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

دارالعلوم کراچی میں منعقدہ ایک مبارک تقریب کا احوال
مولانا حافظ خرم شہزاد

تلاش

شماریات