’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۷)

حضور ﷺ کی خاندانی زندگی

خطبہ نمبر 6: مورخہ 11 دسمبر 2016ء

اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ وانذر عشیرتک الاقربین واخفض جناحک لمن اتبعک من المؤمنین (صدق اللہ العظیم) (سورۃ الشعراء: 26، آیت: 215،214)
(اور اے پیغمبر ﷺ) آپ اپنے قریب ترین خاندان کو خبردار کریں۔ اور جو مومن آپ کے پیچھے چلیں، ان کے لیے انکساری کے ساتھ اپنی شفقت کا بازو جھکا دیں۔)

حضرات علماء کرام! محترم بزرگو، دوستو، بھائیو، ساتھیو!

ہماری گفتگو خاندانی نظام کے حوالے سے چل رہی ہے۔ خاندانی نظام میں بھی اور زندگی کے تمام معاملات میں جناب نبی کریم ﷺ کی ذاتِ گرامی ہی ہمارے لیے اسوۂ حسنہ ہے۔ ہم وہیں سے رہنمائی لیتے ہیں اور وہیں سے ہی رہنمائی لینی چاہیے۔ اس لیے ربیع الاول کے دوران ہم نے دو نشستوں کو مخصوص کیا ہے: ایک میں ہم جناب نبی کریم ﷺ کے خاندان کے تعارف اور معاملات پر گفتگو کریں گے، اور دوسری نشست میں جناب خاتم النبیین ﷺ کی گھریلو زندگی پر بات کریں گے، ان شاء اللہ العزیز، رہنمائی کے لیے اور آج کے حالات کے تناظر میں یہ دیکھنے کے لیے کہ ہم کیا غلط کر رہے ہیں اور کیا صحیح کر رہے ہیں۔ حضور ﷺ کا خاندان کیا تھا اور حضور ﷺ کے اپنے خاندان کے ساتھ معاملات کیا تھے؟ یہ بات سمجھنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ خاتم النبیین ﷺ کے خلاف کشمکش و جدوجہد اور مقابلہ خاندان سے شروع ہوا تھا، مخالفت کا آغاز یہیں سے ہوا۔

حضور ﷺ کی اپنے خاندان سے دعوت کی ابتدا

سب سے پہلے جناب نبی کریم ﷺ کی اعلانیہ دعوت کو کس نے رد کیا تھا؟

تبت یدآ ابی لہب و تب (سورۃ اللہب: 111، آیت: 1)
(ابولہب کے ہاتھ برباد ہوں اور وہ خود برباد ہو چکا ہے۔)

یہ کشمکش کا نقطہ آغاز تھا۔ جناب نبی کریم ﷺ نے صفا پہاڑی پر کھڑے ہو کر سفید چادر ہلائی، جو اُس زمانے میں علامت ہوتی تھی کہ کوئی بہت بڑا واقعہ ہو گیا ہے، بڑی اہم خبر (Breaking news) ہے، سب اکٹھے ہو گئے۔ نبی کریم ﷺ نے دعوت دی تو سب سے پہلے کون کھڑا ہوا تھا؟ کس نے اعلانیہ طور پر حضور ﷺ کی دعوت کو رد کیا ہے؟ چچا نے۔ یہاں سے کشمکش کا آغاز ہو رہا ہے۔ اور جب اس کشمکش کا خاتمہ ہوا، اکیس سال کے بعد فتح مکہ کے موقع پر، Surrender کس نے کیا تھا، شکست کس نے مانی تھی؟ جناب ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے، جو چچا بھی تھے، خسر بھی تھے۔ اکیس سال کی کشمکش تھی۔ ابتدائی بات عرض کر رہا ہوں کہ حضور ﷺ کی جدوجہد کا اور کشمکش کا آغاز چچا سے ہوا اور انتہا بھی چچا پر ہوئی۔

آج بھی ہمارے ہاں محاذ آرائی کا ماحول ہے اور ہم بالکل ابتدا (Zero point) پر کھڑے ہیں۔ اکیس سال میں حضور ﷺ کا اپنے خاندان کے ساتھ اور خاندان کا حضور ﷺ کے ساتھ کیسا رویہ رہا ہے؟ خاندان، خاندان ہی ہوتا ہے، قرآن پاک نے خاندان کی نفی نہیں کی۔

وجعلنٰکم شعوبا وقبائل لتعارفوا (سورۃ الحجرات: 19، آیت: 13)
(اور ہم نے تمھیں مختلف قوموں اور خاندانوں میں اس لیے تقسیم کیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کی پہچان کر سکو۔)

یہ خاندان تعارف کا ذریعہ ہیں، امتیاز کا ذریعہ ہیں، تفریق کا ذریعہ نہیں ہیں۔ قرآن پاک نے قبیلہ، برادری، خاندان، قوم، اِن سب کے وجود کو تسلیم کیا ہے۔ قرآن پاک نے بیان کیا کہ یہ خاندان کا سلسلہ تعارف اور امتیاز کے لیے ہے۔

قیصرِ روم اور ابو سفیانؓ کا حضور ﷺ کے بارے میں مکالمہ

یہاں ایک تاریخی واقعے کی طرف اشارہ کرنا چاہوں گا جناب نبی کریم ﷺ نے جب قیصرِ روم کو خط لکھا۔ صلح حدیبیہ کے بعد حضور ﷺ نے اردگرد کے بادشاہوں کو دعوتِ اسلام کے خط لکھے۔ مصر، حبشہ، کسریٰ جو کہ ایران کا بادشاہ تھا، بحرین کا بادشاہ، اور روم اس وقت کی جو سب سے بڑی سلطنت تھی اس کے بادشاہ کو لکھا۔

حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کے نمائندے کی حیثیت سے آپؐ کا گرامی نامہ لے کر گئے قیصرِ روم کے پاس گئے تھے۔ قیصرِ روم نے کیا طرزِ عمل اختیار کیا اور کسریٰ نے کیا طرزِ عمل اختیار کیا، اس سے دونوں قوموں کا مزاج پتہ چلتا ہے۔ دونوں بڑی حکومتوں کے سربراہ تھے۔ کسریٰ نے جواب دیا، یہ کون ہوتا ہے مجھے دعوت دینے والا! بحرین کے گورنر کو حکم دیا کہ اس کو گرفتار کر کے میرے سامنے پیش کرو۔ قیصر نے دعوت کو ٹھکرایا نہیں، ادب کیا، احترام (Protocol) دیا، کیونکہ عالم اور جاہل میں فرق ہوتا ہے۔ محدثین فرماتے ہیں کہ کسریٰ کی سلطنت جلد بکھر گئی تھی اور قیصر کی سلطنت کچھ دیر باقی رہی تھی۔

قیصر کو پتہ چلا کہ کوئی صاحب ہیں جو کہتے ہیں کہ میں پیغمبر ہوں اور میرے پاس ان کا خط آیا ہے۔ بین الاقوامی اصول کے مطابق جب کسی ملک کا سربراہ یا نمائندہ آرہا ہو تو پہلے اس کی معلومات حاصل کرتے ہیں۔ جناب ابوسفیان رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کے حریف تھے۔ اُحد میں حضور ﷺ کے خلاف جنگ کی قیادت کس نے کی تھی؟ احزاب میں کس نے کی تھی؟ وہ ابوسفیانؓ تھے۔ اور یہ حضور ﷺ کے حریف بھی تھے اور خسر تو پہلے سے چلے آ رہے تھے۔ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا مکہ میں مسلمان ہوئی تھیں اور حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی، ان کا شمار السابقون الاولون میں ہوتا تھا اور باپ ابوسفیانؓ مقابلے پر تھے۔

ابوسفیان رضی اللہ عنہ خود روایت بیان کرتے ہیں کہ ہم شام میں تجارت کے لیے گئے۔ یہ زمانہ تھا جب حضور ﷺ کے ساتھ حدیبیہ والے معاہدے کی مدت طے تھی کہ ہم دس سال جنگ نہیں کریں گے۔ اطمینان سے تجارت کے لیے گئے ہوئے تھے۔ ابوسفیانؓ کہتے ہیں کہ میرے ساتھ اور بھی ساتھی تھے۔ قیصر کا دربار لگا ہوا ہے۔ قیصر کا دربار پھر قیصر کا دربار ہو گا، یعنی کہ اُس وقت کا وہ باراک اوباما (امریکی صدر) سمجھ لیں۔ اس نے ہم سب کو اپنے سامنے بٹھایا اور کہا کہ تم میں اُن صاحب کا سب سے قریبی رشتے دار کون ہے، جو نبی ہونے کا دعوی کرتے ہیں؟ ابوسفیانؓ آگے بڑھے، کہا کہ جناب میں ہوں۔ ان کو کہا کہ آپ آگے بیٹھ جائیں، باقی ساتھی پیچھے بیٹھیں۔ ابوسفیانؓ کہتے ہیں کہ قیصر نے مجھے آگے بٹھا کر ایسے باندھ دیا کہ میں جھوٹ نہیں بول سکتا تھا۔ اگر میری یہ کیفیت نہ ہوتی تو پتہ نہیں میں کیا کہتا۔ قیصر نے پوچھا کہ جو صاحب نبی ہونے کے دعوے دار ہیں، یہ خاندانی اعتبار سے کیسے ہیں؟ حضرت ابوسفیانؓ نے کہا کہ پورا عرب اس خاندان کی عزت کرتا ہے۔ قیصر نے جواب دیا کہ اللہ پاک علاقہ کے سب سے معزز خاندان میں ہی نبی کو بھیجا کرتے ہیں، تاکہ تعارف کے مراحل طے نہ کرنے پڑیں کہ وہ کون ہیں۔ (صحیح بخاری، باب دعاء النبی للناس الی الاسلام والنبوۃ، حدیث نمبر: 2941)

اس لیے جناب نبی کریم ﷺ نے جب دعوت دی تو سب سے پہلے کیا کہا؟ کیا مجھے جانتے ہو؟ تو آپؐ کی کشمکش کا آغاز ہوا تھا ابولہب سے اور اختتام ہوا جناب ابوسفیانؓ پر۔ حضور ﷺ کے رشتے میں چچا بھی لگتے تھے اور حضور ﷺ کے سسرال بھی تھے۔ حضور ﷺ کے سب سے پہلے سسرال قریش تھے، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اہلیہ محترمہ ہیں۔ حضور ﷺ کا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے ڈبل رشتہ تھا۔ اہلیہ تو تھیں اور آپؐ کی بڑی بیٹی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت خدیجہؓ کے بھانجے (ابو العاص رضی اللہ عنہ) سے ہوا، تو یہ ڈبل رشتہ تھا۔ ابو العاص ابن ربیعؓ کی بھی اپنی تاریخ ہے، دوسرے اور تیسرے داماد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور آخری داماد حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں، ہر ایک کا اپنا اپنا ایک مقام ہے۔

حضور ﷺ کے داماد ابو العاص رضی اللہ عنہ کا معاملہ

ابوالعاص بن ربیعؓ کی بات آئی ہے تو میں اس حوالے سے ایک بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ حضور ﷺ کے مقابلہ پر تھے۔ بدر کی جنگ میں قریش کے خاندان ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے۔ بدر کے قیدیوں میں حضور ﷺ کے چچا بھی تھے حضرت عباس رضی اللہ عنہ، اور داماد بھی تھے ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ۔ فیصلہ ہوا کہ فدیہ لے کر چھوڑ دیں گے، حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو پتہ چلا کہ ان کے خاوند بھی گرفتار ہو کر آئے ہیں اور ان کے پاس فدیے کے پیسے نہیں ہیں، بیوی تو بیوی ہوتی ہے، تو انھوں نے اپنا ہار اتارا اور کسی کو دیا اور کہا کہ یہ کسی بھی طریقے سے اور جتنا جلدی ہو سکے ابوالعاص کو پہنچا دو۔ تو وہ شخص گیا اور قیدیوں میں چپکے سے جا کر حضرت ابوالعاصؓ کو پکڑا دیا اور پیغام دیا کہ آپ کی اہلیہ کہتی ہیں کہ یہ ہار دے کر اپنی جان چھڑا لو۔

جب ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ نے بطور فدیہ ہار آگے کیا، حضور ﷺ نے ہار دیکھا تو آنکھوں میں آنسو آگئے، کیونکہ یہ ہار حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تھا جو انہوں نے اپنی بیٹی کو شادی پر دیا تھا۔ حضور ﷺ کو سارا منظر یاد آگیا اور آپؐ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ حضور ﷺ نے کبھی کسی کی سفارش نہیں کی لیکن اس موقع پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے کہا، دیکھو، یہ خدیجہؓ کا ہار ہے، بیٹی کے پاس ماں کی یادگار ہے، اگر اجازت ہو تو یہ ہار میں واپس کر دوں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا، یارسول اللہ ﷺ جس میں آپ کی خوشی ہو، اگر آپ خوش ہیں تو واپس کر دیں۔ تو ہار واپس کر دیا کس بات پر؟ کہ یہ ہار حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تھا۔ ابو العاص بن ربیعؓ واپس چلے گئے۔ (مسند احمد، حدیث السیدۃ عائشۃ، حدیث نمبر: 26362)

ایک موقع پر حضور ﷺ نے حضرت زینبؓ کو اپنے پاس بلا لیا اور ابوالعاصؓ کو کہا کہ زینبؓ کو واپس بھیج دو، یعنی حضور ﷺ نے حضرت زینبؓ کو اپنے پاس بلا لیا تھا۔ حضور ﷺ ابو العاصؓ کی بڑی تعریف کیا کرتے تھے کہ یہ بڑا وفادار ہے، میں نے جو اسے کہا اس نے وہی کیا۔

حضرت ابوالعاصؓ پھر کسی موقع پر گرفتار ہوئے تو دوبارہ قیدی بن گئے۔ حضرت زینبؓ بھی حضور ﷺ کے گھر آچکی تھیں۔ اُس وقت وہاں مکہ میں تھیں، اب تو بیٹی اپنے والد کے گھر میں تھی۔ نبی اکرم ﷺ کا معمول یہ تھا، جو قیدی آتا تھا اسے فیصلے تک مسجد کے ستون کے ساتھ باندھ دیا جاتا تھا۔ حضرت ابو العاصؓ کو مسجد کے ستون کے ساتھ باندھ دیا، جب فیصلہ ہو گا دیکھا جائے گا۔ فیصلہ یہ بھی ہو سکتا تھا کہ چھوڑ دیں، فیصلہ یہ بھی ہو سکتا تھا کہ قتل کر دیں، یا مستقل قیدی بنا لیں۔ فجر کی نماز میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا دروازے پر کھڑی تھیں۔ کہتی ہیں کہ اس قیدی کو میں نے پناہ دے دی۔ یہ قانون تھا کہ کوئی عام سپاہی بھی اگر پناہ دے دیتا تو اس قیدی کو پناہ مل جاتی تھی۔ جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:

اجرنا من اجرت۔ [یہ بات آپؐ نے حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کو بھی فتح مکہ کے موقع پر ارشاد فرمائی تھی۔ صحیح بخاری، باب امان النساء، حدیث نمبر: 3171]
(جس کو آپ نے پناہ دے دی تو ہم نے بھی پناہ دے دی۔)

تو بیوی نے دوسری مرتبہ چھڑوایا اپنے خاوند کو۔ وہ بھی ابو العاصؓ تھے، سیدھے مکے گئے، جا کر کہنے لگے، میں ابو العاص ہوں، گرفتار ہو گیا تھا، میں نے وہاں مسلمانوں کو دیکھا ہے، مجھے سمجھ آگئی ہے کہ مسلمان کیا ہوتے ہیں، میں نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے لیکن اعلان میں نے وہاں نہیں کیا بلکہ اعلان تمہارے سامنے کرنا چاہتا ہوں، کلمہ پڑھنے کا فیصلہ میں نے کر لیا تھا، اعلان میں نے وہاں نہیں کرنا تھا کہ لوگ یہ نہ سمجھیں قیدی کلمہ پڑھ رہا ہے، یہ میں نہیں کہلوانا چاہتا تھا۔

ایک جرمن لڑکی کے اسلام لانے کا واقعہ

اسی پر ایک دلچسپ واقعہ عرض کرتا ہوں۔ ہمارے نوجوان جب یورپ جاتے ہیں، دو سال چار سال وہاں رہتے ہیں تو واپسی پر کوئی نہ کوئی خاتون لے آتے ہیں۔ ہمارے ایک نوجوان جرمنی گئے، دو چار سال رہے اور واپسی پر ایک لڑکی ساتھ لے آئے۔ میرے پاس آگئے کہ نکاح پڑھاؤ۔ میں نے لڑکی کا مذہب پوچھا، کہنے لگے عیسائی ہے۔ میں نے دو چار سوال کیے۔ لڑکی عیسائی تھی، پکی کیتھولک مذہب کی تھی۔ کہنے لگی کہ میں اہلِ کتاب ہوں میرا نکاح پڑھا دو۔ میں نے کہا بیٹا! کلمہ پڑھ لو، مسلمان کے نکاح میں جو آنا ہے تو کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو جاؤ۔ میں ترغیب دیتا رہا، کہنے لگی نہیں، میں کلمہ نہیں پڑھتی۔ نکاح جائز ہے تو پڑھا دو، وگرنہ ’’نہ‘‘ کہہ دو۔ یہ لڑکا مسلمان ہے، میں اہلِ کتاب ہوں۔ اب میں نہ تو نہیں کر سکتا تھا کیونکہ نکاح تو جائز تھا، میں نے نکاح پڑھا دیا۔ ایجاب و قبول ہوا، مٹھائی دعا وغیرہ سارے مراحل سے گزر گئے۔ اب کہتی ہے کہ مجھے کلمہ پڑھاؤ۔ میں نے کہا پہلے پڑھ لیتی۔ کہنے لگی کہ میں کلمہ پڑھنے کا فیصلہ کر کے گھر سے نکلی تھی لیکن میں شادی کے لیے کلمہ نہیں پڑھنا چاہتی تھی، میں کلمے کو کلمہ سمجھ کر پڑھنا چاہتی ہوں۔ میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ بچی کی سترہ اٹھارہ سال عمر تھی۔ میں نے کہا، بیٹا، اب تم معصوم ہو، جو کلمہ پڑھ لیتا ہے اس کی پچھلی ساری غلطیاں اور گناہ معاف ہو جاتے ہیں، اب تم میرے لیے دعا کرو، اللہ تعالیٰ ایمان پر خاتمہ نصیب فرمائے، آمین۔

حضرت ابو العاص رضی اللہ عنہ نے کہا، کلمہ پڑھنے کا فیصلہ میں کر چکا تھا لیکن قیدیوں میں سے کہلوا کر میں کلمہ نہیں پڑھنا چاہتا تھا۔ اب مکے میں تمہارے درمیان کھڑا ہوں، حرم میں کھڑا ہوں ’’اشہد ان لا الٰہ الا اللہ واشہد ان محمد رسول اللہ‘‘۔ اور یہ بھی اعلان کرتا ہوں کہ کل صبح ہجرت کر کے جا رہا ہوں، کسی کی ہمت ہے تو روک لو۔ پھر وہ مدینہ تشریف لے آئے۔

جناب ابو طالب اور حضرت عباسؓ کا آپ ﷺ کا ساتھ دینا

تو حضور ﷺ کے خاندان کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ چند جھلکیاں ذکر کروں گا۔ جناب ابوطالب نے کلمہ نہیں پڑھا لیکن نبی کریم ﷺ کی حمایت و دفاع میں کوئی کسر نہ چھوڑی، اور کسی چچا نے اتنا ساتھ نہیں دیا جتنا آپ نے دیا۔ لوگ کہا کرتے تھے کہ کلمہ پڑھتے نہیں اور حمایت کرتے ہو؟ جناب ابوطالب نے تین سال کا بائیکاٹ برداشت کیا۔ بنو ہاشم کی ناکہ بندی ہو گئی اور تین سال رہی۔ لین دین، خرید و فروخت اور رشتے ناطے سب کچھ بند تھا۔ کہتے تھے کہ میرے والد محترم جناب عبدالمطلب وفات کے وقت اپنے پوتے کا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے گئے تھے، تو جب تک میں ہوں بھتیجے کا ہاتھ میرے ہاتھ میں رہے گا۔ یہ ہے وفا کا انداز ۔ اور ایک وہ بھی چچا تھا جس نے کہا تھا:

تبا لک سائر الیوم (صحیح بخاری، باب شرار الموتیٰ، حدیث نمبر: 1394)
(تیرے لیے پورا دن ہلاکت ہو۔ یعنی تجھے دائمی بربادی ملے۔)

حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے بھی دیر سے کلمہ پڑھا تھا۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ اپنے قبولِ اسلام کا واقعہ سناتے ہیں کہ میں نے اسلام قبول کیا۔ یہ شعب ابی طالب کے تین سالہ محاصرے کا دور تھا۔ خوف کی کیفیت دیکھی۔ انھیں کسی سے پوچھنے کا حوصلہ نہیں پڑ رہا کہ میں بنو غفار کے علاقے سے آیا ہوں اور محمد ﷺ کو ملنا چاہتا ہوں، کوئی مجھے ان کا پتہ بتا دے، میں آپؐ سے ملنا چاہتا ہوں۔ تین دن سے حرمِ مکہ میں بیٹھے ہیں پَر پوچھنے کا موقع نہ ملا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اپنے ساتھ لے جاتا ہوں لیکن دیکھنا کہ ہر طرف نگاہیں ہم پر لگی ہیں، ہم محاصرے میں اور نگرانی میں ہیں، راستے میں مجھے کہیں شک پڑ گیا کہ کوئی ہماری نگرانی کر رہا ہے، تو میں جوتے کا تسمہ ٹھیک کرنے کے بہانے بیٹھ جاؤں گا، تم سیدھے نکل جانا کہ کسی کو پتہ نہ چلے کہ ہم ایک ساتھ جا رہے ہیں۔

پھر حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کیا۔ حضور ﷺ نے کلمہ پڑھایا اور ہدایت دی کہ اپنے قبیلہ میں آرام سے چلے جاؤ، یہاں اعلان نہ کرنا، اعلان وہاں جا کر کرنا، چپکے سے عبادت کرتے رہو۔ جب ہمارا یہاں سے نکلنے کا اور کسی جگہ ٹھکانہ پکڑنے کا مرحلہ آگیا تو پھر اس وقت تم ہمارے پاس آجانا۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ باہر نکلے اور حرم کے پاس سے گذرے تو فرماتے ہیں کہ میں نے سوچا کہ یہ کیا بات ہوئی کہ سچا کلمہ پڑھا ہے پھر کیوں چھپ کر پھرتا رہوں۔ حرم میں کھڑے ہو گئے اور اعلان کیا میں ابوذر غفاری ہوں (چاشت کا وقت تھا) سارے عرب سردار اکٹھے بیٹھے تھے، ان کے درمیان جا کر اعلان کیا کہ میں نے کلمہ پڑھا ہے ’’اشہد ان لا الٰہ الا اللہ و اشہد ان محمدا رسول اللہ‘‘۔ لوگوں نے پکڑ لیا، بہت مارا، چاروں طرف سے لوگ مار رہے تھے۔ آپ فرماتے ہیں کہ موت مجھے آنکھوں کے سامنے نظر آنے لگی۔ ایک شخص تیزی سے اندر گھسا اور لوگوں کو پیچھے کرنے لگا اور کہا ہٹو! ہٹو! کیا کر رہے ہو؟ خدا کے بندو! کس کو مار رہے ہو؟ پتہ ہے یہ بنو غفار کے آدمی ہیں؟ اور بنو غفار تمھاری تجارت کے راستے میں ہیں، اس کے قبیلے والے تمہارا راستہ بند کر دیں گے، تم گندم کا ایک دانہ بھی خرید نہیں پاؤ گے۔ یہ بچانے والے حضرت عباس رضی اللہ عنہ تھے، انھوں نے مجھے چھڑوایا۔ جب رات ہوئی تو مجھے تسلی نہ ہوئی، ایمان نے جوش مارا، پھر صبح کو جا کر میں نے دوبارہ کلمہ پڑھ دیا۔ وہ پھر مارنے لگے۔ حضرت عباسؓ آئے، انھوں نے چھڑوایا اور کہا کہ خدا کے بندو! اگر یہ مر گیا تو تمہارے بزنس کا راستہ بند ہو جائے گا۔ ابوذرؓ تو ابوذرؓ تھے۔ کہتے ہیں کہ پھر میں نے سوچا، دل میں خیال آیا کہ ایک مرتبہ اور اعلان کروں، پھر تیسرا اعلان کیا، لوگ مارنا شروع ہوئے، پھر حضرت عباسؓ نے آکر چھڑوایا۔

چچا ابولہب بھی تھا۔ رشتے میں چچا ابوجہل بھی تھا۔ ابو سفیانؓ بھی تھے۔ اور چچا حضرت عباسؓ بھی ہیں، یہ سب سے نرالے ہیں۔ (صحیح بخاری، باب اسلام ابی ذر الغفاری رضی اللہ عنہ، حدیث نمبر: 3861)

حضور ﷺ کے ساتھ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفا

حضور ﷺ زندگی بھر حضرت خدیجہؓ کو نہیں بھولے، فرمایا کرتے تھے کہ مجھ پر دو ہستیوں کے احسانات ہیں، میں ان کے احسانات کا بدلہ نہیں دے سکتا۔ مردوں میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور عورتوں میں خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ بار بار حضرت خدیجہؓ کو یاد کرتے۔ وہ بہت پہلے فوت ہو چکی تھیں، حضرت عائشہؓ کی شادی بہت بعد میں ہوئی۔ تو فرماتی ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کو کہا کہ کیوں ان بزرگ خاتون کو یاد کرتے رہتے ہیں، یا رسول اللہ ﷺ، آپ کو اللہ تعالیٰ نے اور خوبصورت بیویاں دی ہیں۔ کوئی بھی موقع آتا ہے، آپ کہتے ہیں کہ خدیجہؓ یوں کرتی تھیں، خدیجہؓ یوں کرتی تھیں۔ حضور ﷺ نے بڑا عجیب جملہ ارشاد فرمایا: ’’عائشہؓ ! خدیجہؓ، خدیجہؓ تھیں‘‘ (ایضًا، باب تزویج النبی تخدیجۃ، حدیث نمبر: 3818)۔ حضورؐ کے فرمانے کا منشا یہ تھا کہ وہ میرے دکھ کے وقت کی ساتھی تھی، اس نے گیارہ سال میرے ساتھ دکھ کے گزارے ہیں، اس نے اپنا سب کچھ مجھ پر نچھاور کر دیا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا بڑی مالدار خاتون تھیں۔

جناب خاتم النبیین ﷺ کے خاندان میں بیویاں بھی تھیں اور بچے بھی تھے اور قریش کا پورا خاندان بھی۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

و انذر عشیرتک الاقربین (سورۃ الشعراء: 26، آیت: 214)
(اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے۔)

تو یہ سب سے پہلی دعوت تھی جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ حضور ﷺ نے بلایا، سب کو دعوت دی۔ دعوتِ دین کے تقاضوں میں کھانے کی دعوت بھی شامل ہوتی ہے۔ حضور ﷺ نے دعوت دی بھی اور دعوت کھلائی بھی۔ آپ ﷺ نے ایک ایک کو مخاطب کر کے دعوت دی۔ مکہ مکرمہ کے تیرہ سال تو تقابل کے تھے ہی لیکن مدینہ منورہ جا کر بھی ان لوگوں نے پیچھا نہیں چھوڑا۔ بدر کی لڑائی، احد کی لڑائی، احزاب کی لڑائی، یہ کن کے ساتھ تھیں؟ قریش کے ساتھ ہی تو تھیں۔

حضور ﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ میں ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں، ان کے خاوند حضرت ابو سلمہؓ حضورؐ کے ساتھی بھی تھے اور رضاعی بھائی بھی تھے۔ خاندان میں ایک رشتہ رضاعی بھی ہوتا ہے۔ ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے، جناب خاتم النبیین ﷺ نے، چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ، ان سب نے حضرت ثویبہ رضی اللہ عنہا کا دودھ پیا تھا۔ ابوسلمہؓ حضورؐ کے رضاعی بھائی بھی تھے۔ رضاعت کو حضورؐ نے حرمت اور رشتے کا سبب قرار دیا ہے۔ تو نبی کریمؐ کی رضاعی والدہ بھی تھیں اور رضاعی بھائی بھی تھا۔ رضاعی بہن بھی تھیں، رضاعی باپ بھی تھا۔ حضور ﷺ نے ان کو بھی پورا پروٹوکول و احترام دیا۔ حارث رضی اللہ عنہ نام تھا رضاعی باپ کا، رضاعی ماں کا نام حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا اور بہن کا نام شَیما رضی اللہ عنہا تھا۔

حضور ﷺ کا رضاعی بہن سے حسنِ سلوک

اس پر واقعہ عرض کرتا ہوں، ہوازن کی جنگ کے بعد قیدی آئے۔ بنو ہوازن حضور ﷺ کے رضاعی ننہیال تھے، اسی قبیلے سے لڑائی تھی۔ رضاعی ماں کا خاندان کہ جس میں باپ بھی ہے، ماں بھی ہے، بہن بھی ہے۔ بنو ہوازن کو شکست ہوئی تو ان کے افراد قیدی بن کر آئے۔ مؤرخین ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ قیدیوں میں ایک خاتون تھیں۔ جب قیدی تقسیم ہونے لگے تو ایک خاتون نے کہا کہ دیکھو میرے ساتھ نرمی والا معاملہ کرنا، میں تمہاری پھوپھی لگتی ہوں، تمھارے پیغمبرؐ کی بہن ہوں۔ وہ کہنے لگے کہ ہمارے پیغمبرؐ کی کوئی بہن تھیں ہی نہیں۔ وہ کہنی لگی، میں ہوں۔ کہنے لگی مجھے حضورؐ کے پاس لے جاؤ۔ صحابہ کرامؓ ان کو خدمتِ نبویؐ میں لے گئے۔ یہ حاضر ہوئیں اور حضورؐ سے کہنے لگیں کہ آپ کو حلیمہ کا گھر یاد نہیں ہے جہاں ہم ایک ساتھ کھیلا کرتے تھے۔ میں شیما ہوں، یاد ہے ایک دن آپ نے میرے کندھے پر کاٹا تھا زور سے، دانتوں کے نشان ابھی تک ہیں، دکھا دوں؟ حضورؐ نے فرمایا: رہنے دو مجھے یاد آ گیا، آپ میری بہن ہیں۔

[فقالت: یا رسول اللہ انا اختک، انا شیماء بنت الحارث۔ فقال لہا: ان تکونی صادقۃ، فان بک منی اثر لا یبلی۔ (تفسیر ابن کثیر، داراحیاء التراث العربی، ج 4 ص 418)]

بہنوں کے ساتھ حضور ﷺ نے اس طرح معاملہ کیا۔ جب یہ سارے معاملات ہو گئے تو آپؐ نے فرمایا کہ سب کو آزاد کر دو۔ پھر شیما سے فرمایا کہ بہن تمھارے سامنے دونوں اختیار (Options) ہیں۔ بھائی کے گھر جانا چاہتی ہو تو بھائی کا گھر حاضر ہے، بہنوں کی طرح رکھوں گا۔ واپس جانا چاہتی ہو تو تمھیں اختیار ہے، یہ فیصلہ تم نے کرنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں واپس جانا چاہتی ہوں۔ تو حضورؐ نے انھیں ایسے رخصت کیا جیسے بھائی بہنوں کو رخصت کیا کرتے ہیں۔ تو یہ بھی سنت ہے، بہن بھائی کے گھر سے خالی ہاتھ نہیں جاتی، یہ سنتِ رسولؐ ہے۔ دو اونٹ سامان تیار کروایا۔ اس زمانے میں معمول یہ ہوتا تھا کہ ایک اونٹ سامان، دو اونٹ سامان۔ سب ضرورت کی چیزیں پیک کروائیں اور ایک حفاظتی دستہ دیا کہ میری بہن کو پورے اعزاز کے ساتھ ان کے گھر پہنچا کر آؤ۔

حضور ﷺ کے گھر میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے دو بیٹے حضور ﷺ کی اولاد میں شامل ہیں۔ حضرت قاسم، حضرت عبد اللہ، طیب اور طاہر رضی اللہ عنہم کے نام بھی آئے ہیں۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا، حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا، حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا، یہ سب تو تھیں۔ حضور ﷺ کے گھر میں جو حضرات پلے ہیں، ان میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے دو بچے، ایک بیٹا ایک بیٹی، زینبؓ اور عمرؓ ہیں۔ نبی کریم ﷺ کو گھر میں کسی نے کہہ دیا، یارسول اللہ زینب جوان ہیں۔

حضور ﷺ کے گھر میں زینب نامی خواتین بہت تھیں۔ آپؐ زینب کا نام آنے پر پوچھتے تھے: ’’ای الزیانب؟‘‘ (کون سی زینب؟) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کی بیوی زینبؓ بھی گھر میں آیا جایا کرتی تھیں۔ ایک دفعہ مسئلہ پوچھنے آئیں، حضرت بلالؓ سے کہا کہ مسئلہ پوچھو، میرا نہیں بتانا کہ کون ہے۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے مسئلہ پوچھا تو حضورؐ نے فرمایا کہ کون ہے؟ یارسول اللہ، زینبؓ ہیں۔ آپؐ نے کہا: ’’ای الزیانب؟‘‘ کون سی زینب؟ کیونکہ دو تو حضورؐ کی بیویاں تھی۔ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا اور اور حضرت زینب ام المساکین رضی اللہ عنہا۔ ایک بیٹی تھی، بلکہ دو بیٹیاں زینب تھیں: ایک ام سلمہؓ کی بیٹی، وہ بھی تو حضورؐ کی بیٹی تھیں۔ تو چار زینب گھر میں تھیں۔ اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی بیوی زینب بھی آیا کرتی تھیں۔

تو کسی نے آپؐ سے کہا کہ یا رسول اللہ! یہ جو زینب ام سلمہؓ کی بیٹی ہے، اس سے نکاح کر لیں۔ آپؐ نے فرمایا، کیا کہہ رہے ہو، یہ تو میری ربیبہ ہے۔ قرآن مجید میں ہے:

و ربآئبکم الٰتی فی حجورکم من نسآئکم الٰتی دخلتم بہن۔ (سورۃ النساء:4، آیت: 23)
(اور تمھارے زیر پرورش تمھاری سوتیلی بیٹیاں جو تمھاری ان بیویوں (کے پیٹ) سے ہوں جن کے ساتھ تم نے خلوت کی ہو۔)

کہ جو تمہاری بیوی، جس سے تم ہم بستری کر چکے ہو، اس کی بیٹی کا تمہارے ساتھ رشتہ حرام ہے۔ وہ میری بیٹی ہے۔ یہ اس لیے کہہ رہا ہوں کہ حضور ﷺ نے اس کو بیٹی بنا کر پالا ہے۔ اس حوالے سے بھی کہ میری بیوی کی بیٹی ہے، جو میری بیٹی ہے۔ اور اس حوالے سے بھی کہ میری رضاعی بھتیجی ہے، اس کے باپ ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے اور میں نے ثوبیہؓ کا دودھ پیا ہے، تو میری بھتیجی لگتی ہے۔

تو میں عرض کر رہا تھا کہ جناب نبی کریم ﷺ کا اپنے خاندان کے ساتھ معاملہ کیسا تھا۔ لڑائی بھی رہی ہے، معاملات بھی رہے ہیں، صلح بھی ہوئی، جنگ بھی رہی ہے، رشتے بھی چلتے رہے ہیں اور معاملات بھی چلتے رہے ہیں۔ اور اس کا آخری مرحلہ کون سا تھا؟ وہ ہے فتح مکہ۔

حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ساری زندگی میں نے مقابلہ کیا ہے۔ قیصرِ روم کی ملاقات میں جو مکالمہ ہے، اس کو میں تعبیر کیا کرتا ہوں کہ حضورؐ کی حیاتِ مبارکہ میں یہ ان کے دو بڑے حریفوں کا باہمی مکالمہ ہے۔ قیصر تھا عالمی طور پر، اور ابوسفیانؓ تھے جزیرۃ العرب میں، مدمقابل کے طور پر۔ جب سارا مکالمہ ہو گیا تو ابوسفیانؓ خود کہتے ہیں، قیصر نے کہا، مجھے بھی لگتا ہے کہ نبی ہیں۔ میرا جی چاہتا ہے کہ اگر میں وہاں تک پہنچ سکوں تو اپنے ہاتھوں سے ان کے پاؤں دھلاؤں۔ اپنی قوم کو مشورہ بھی دیا کہ کلمہ پڑھ لو۔ ابو سفیانؓ کہتے ہیں کہ اس وقت میرے دل میں بات آئی کہ کبشہ کے بیٹے (محمد ﷺ) کی بات تو بن گئی۔

یخافہ ملک بنی الاصفر (صحیح بخاری، باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ، حدیث نمبر: 7)
(گوروں کا بادشاہ بھی حضور ﷺ سے ڈرتا ہے۔)

یہ پہلا مرحلہ تھا کہ جب اسلام کی عظمت میرے دل میں بیٹھ گئی۔ اس سے پہلے اسلام کی میرے ہاں کوئی حیثیت نہیں تھی کیونکہ یہ مدمقابل تھے۔ تو پھر آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام کو ڈالنا شروع کیا۔

حضرت ابوسفیانؓ کی اہلیہ حضور ﷺ کی خدمت میں

حضرت ابوسفیانؓ کی اہلیہ محترمہ حضرت ہندؓ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ کہنے لگیں، ایک وہ وقت تھا پوری روئے زمین پر آپ سے زیادہ نفرت کسی سے نہیں تھی، اور پوری روئے زمین پر آپ کے گھرانے سے زیادہ کسی گھرانے سے دوری نہیں تھی۔ آج یا رسول اللہ! آپ سے زیادہ محبوب کوئی نہیں ہے اور آپؐ کے گھرانے سے زیادہ پسندیدہ کوئی گھرانہ نہیں ہے۔ حضور ﷺ نے جواب میں ایک لفظ فرمایا: ’’وایضًا‘‘۔ میرا حال بھی یہی ہے۔

[ان عائشۃ رضی اللہ عنہا، قالت: جاءت ہند بنت عتبۃ، قالت: یا رسول اللہ، ما کان علی ظہر الارض من اہل خباء احب الی ان یذلوا من اہل خبائک، ثم ما اصبح الیوم علی ظہر الارض اہل خباء، احب الی ان یعزوا من اہل خبائک، قال: وایضا والذی نفسی بیدہ، صحیح البخاری، باب ذکر ہند بنت عتبہ بن ربیعہ، رقم الحدیث 3825]

عزیز دوستو! میں نے تھوڑا سا تبصرہ کیا ہے حضور ﷺ کے خاندان کی باہمی کشمکش کا، پھر جب یہ خاندان اسلام کے آگے جھک کر سرنڈر ہوا تو اللہ تعالیٰ نے انھیں وہ عظمت عطا فرمائی کہ اسلام کے جھنڈے کو لے کر پوری دنیا میں پہنچے۔ بنو امیہ کی خلافت جزیرۃ العرب میں، افریقہ میں، کابل میں، اندلس میں، اور بنو عباس کی خلافت ہلاکو خان کے حملے تک رہی۔ یہ وہی خاندان تھے۔ پھر اسی خاندان نے صدیوں تک دنیا پر حکومت کی، اللہ تعالیٰ نے عظمت عطا فرمائی۔ اللہ رب العزت جناب نبی کریم ﷺ کا تذکرہ، آپؐ کے خاندان کا تذکرہ قبول فرمائے، اور ان کے نقشِ قدم پر چلتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

(جاری)

قرآن / علوم القرآن

اقساط

(الشریعہ — جنوری ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — جنوری ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۱

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۷)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۱)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد
عمرانہ بنت نعمت اللہ
سارہ بنت برکات

آثار السنن از حضرت علامہ ظہیر احسن شوق نیموی (۱)
مولانا طلحہ نعمت ندوی

A Prophetic Lesson on News, Responsibility, and Restraint
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مفتی شمائل ندوی اور جاوید اختر کے درمیان مباحثے کا تجزیہ
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی
مفتی شمائل احمد عبد اللہ ندوی

خدا کی زمان و مکان سے ماورائیت اور تصورِ ہمیشگی
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۲)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۱)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

حضرت کُعیبہ بنت سعد اسلمیہ رضی اللہ عنہا
مولانا جمیل اختر جلیلی ندوی

بیمار کی عیادت: ایک انسانی حق، ایک اخلاقی فریضہ
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

اولڈ ایج ہاؤس کی شرعی حیثیت
مفتی سید انور شاہ

27 ویں ترمیم پر وکلا اور قانون کے اساتذہ کا مکالمہ (۱)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

سپریم کورٹ کا تجربہ، تعلیمی و علمی سفر، آئینی و قانونی مباحث (۲)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
رفیق اعظم بادشاہ

زنا بالجبر یا زنا بالرضا؟ سپریم کورٹ کے فیصلہ پر ایک نظر
طاہر چودھری

حضرت پیر ذوالفقار نقشبندیؒ اور حضرت پیر عبدالرحیم نقشبندیؒ کی وفات پر اظہار تعزیت
مولانا حافظ اسعد عبید

مجلس اتحاد امت پاکستان کا اعلامیہ اور مطالبات
الخیر میڈیا سیل
مدارس نیوز

مجلس اتحادِ امت پاکستان کے متفقہ اعلامیہ کی بھرپور تائید
پروفیسر حافظ منیر احمد
پاکستان شریعت کونسل

الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام سالانہ ’’دورہ احکام القرآن و محاضراتِ علومِ قرآنی‘‘
ادارہ الشریعہ

مطبوعات

شماریات

Flag Counter