’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۳)

اسلامی تہذیب اور معاشرت کے تحفظ کے تقاضے

خطبہ نمبر ۱۳

الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ جمیع الانبیاء والمرسلین خصوصاً‌ علیٰ سید الرسل وخاتم النبیین و علیٰ آلہ واصحابہ و اتباعہ اجمعین۔ اما بعد!

ہماری آج کی گفتگو کا عنوان ہے، اسلامی تہذیب کیا ہے؟ معاشرت کسے کہتے ہیں؟ اس کے تحفظ کی ضرورت کیوں پیش آگئی ہے؟ خطرات کیا ہیں؟ تحفظ کیا ہے؟ تحفظ کی ضرورت کیا ہے؟

معاشرت انسانوں کا خاصہ ہے

معاشرت، یعنی اکٹھے رہنا، مل جل کر رہنا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ امتیاز انسانوں کو عطا کیا ہے کہ مل جل کر سوسائٹی کی شکل میں رہتے ہیں۔ کوئی سوسائٹی، کوئی تمدن، کوئی بڑا شہر، کوئی بڑی آبادی جانوروں کی منظم نہیں ہے۔ جانوروں میں ایک حد تک بچے ماں باپ کے ساتھ رہتے ہیں، پھر الگ ہو جاتے ہیں۔ نہ شیروں کی کوئی سوسائٹی ہوتی ہے، نہ ہاتھیوں کی۔ سوسائٹی، اجتماعیت، شہریت اور تمدن، یہ اللہ پاک نے انسان کے امتیازات میں رکھا ہے۔ انسان کی یہ خصوصیت ہے کہ دنیا میں انسانوں کے آباد شہر آپ دیکھیں گے، ہاتھیوں کے آباد شہر آپ نہیں دیکھیں گے۔ معاشرت، شہریت، تمدن، یہ انسان کا خاصہ ہے۔ انسان مدنی الطبع ہے، وہ فطرتاً‌ شہریت اور اجتماعیت پسند ہے۔ اگر اس کو اکیلا چھوڑ دیا جائے تو بور ہو جاتا ہے، پریشان ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر تقاضا اٹھتا ہے کہ گپ شپ کریں، اکٹھے کھانا کھائیں، گھومیں پھریں۔ یہ انسان کی فطرت ہے اور انسان کا خاصہ ہے۔ 

چھوٹی سی بستی سے لے کر بڑے بڑے شہروں تک، یا ایک ڈیرے پر پانچ سات گھر آباد ہیں، یہ ایک مدنیت ہے۔ کراچی جیسے شہر میں کروڑوں لوگ آباد ہیں، یہ ایک مدنیت ہے۔ مدنیت کا آغاز ایک ڈیرے سے ہوتا ہے اور اس کی انتہا کراچی، نیویارک، ٹوکیو جیسے بڑے بڑے شہروں تک پھیلی ہوتی ہے۔ مل جل کر رہنا، اس کے طور طریقے، اس کے آداب، یہ معاشرت کہلاتے ہیں، اس کو سماج کہتے ہیں، اس کو سوسائٹی کہتے ہیں۔ مل جل کر کیسے رہنا ہے؟ ایک دوسرے کے کام کیسے آنا ہے؟ ایک دوسرے کا لحاظ کیسے کرنا ہے؟ ایک دوسرے کی مدد کیسے کرنی ہے؟ ایک دوسرے سے فائدہ کیسے اٹھانا ہے؟ یہ ہے مدنیت، یہ ہے تمدن، یہ ہے معاشرت۔ اور یہ دنیا کی ہر قوم میں ہے، ہر مذہب میں ہے۔ خدا کے ماننے والوں میں بھی ہے اور نہ ماننے والوں میں بھی ہے۔ اللہ کے رسول پر ایمان رکھنے والوں میں بھی ہے اور اللہ کے رسول پر ایمان نہ رکھنے والوں میں بھی ہے۔ یہ مدنیت ہے، یہ شہریت ہے، اپنے اپنے طور طریقے ہیں۔ تو معاشرت نام ہے آپس میں اکٹھے رہنے کے طور طریقے کا۔

تہذیب کی تعریف

تہذیب کیا ہوتی ہے؟ ان طور طریقوں کو اچھے طریقے سے منظم کیا جانا۔ تہذیب کا لفظی معنی ہے سنوارنا، درست کرنا، کانٹ چھانٹ کرنا۔ آپس میں مل جل کر رہنے کے طور طریقوں کو اچھے انداز سے سنوار کر پیش کیا جائے، اس کو تہذیب کہتے ہیں۔ انسانی سماج میں مختلف پہلوؤں سے خودبخود چھانٹی ہوتی رہتی ہے۔ انسانی زندگی میں تجربات ہوتے ہیں، معاملات ہوتے ہیں۔ ایک معاملہ ہوتا ہے، پھر اس سے بہتر معاملہ ہوتا ہے، پھر اس سے بہتر۔ جو کام سوسائٹی کے لیے زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے وہ باقی رہتا ہے اور جو نقصان دہ ہوتا ہے وہ آہستہ آہستہ ختم ہو جاتا ہے۔ اس کو تہذیب کہتے ہیں۔ مسلسل چھانٹی ہوتی چلی جاتی ہے، جو کوئی بات انسانی سوسائٹی کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے، اچھے انسان اس سے پیچھے ہٹتے چلے جاتے ہیں کہ یہ بات نقصان دہ ہے، اس میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔ معاشرت کہتے ہیں مل جل کر رہنے کے طور طریقوں کو، اور تہذیب کہتے ہیں ان میں بہتری پیدا کرنے کو۔

اسلامی اور غیر اسلامی تہذیب میں فرق

اسلامی تہذیب کا معنی کیا ہے؟ دنیا کی متعارف تہذیبوں میں تہذیب بھی سب میں ہے، معاشرت بھی سب میں ہے، تمدن بھی سب میں ہے۔ لیکن اسلامی تہذیب کیا ہے؟ یہ طور طریقے اور ان کی بہتری اگر آسمانی تعلیمات کے دائرے میں ہو تو اسلامی ہے۔ اور اگر اپنی مرضی سے آزادانہ ہو، اپنی خواہشات سے خود آپس میں طے کر لیں، وہ تہذیب تو ہے لیکن اسلامی نہیں۔

ایک ہم سوچتے ہیں کہ یہ بات ہمارے لیے فائدہ مند ہے اور یہ بات ہمارے لیے نقصان دہ ہے۔ ایک یہ ہے کہ پیدا کرنے والے اللہ نے جو قواعد اور ضوابط دیے ہیں، یعنی تمام لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کے دائرے میں رہیں۔ اللہ اور رسول ﷺ کہتے ہیں کہ یہ بات تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور یہ بات تمھارے لیے نقصان دہ ہے، اس دائرے میں رہیں تو اسلامی ہے، اس دائرے سے باہر رہیں تو اپنی مرضی کی تہذیب ہے، اسلامی ہرگز نہیں۔

قرآن کریم نے اور جناب خاتم النبیین ﷺ نے جس طرح عقائد اور عبادات کی تعلیم دی ہے، آپس میں اکٹھے رہنے کے طور طریقوں کی تعلیم بھی دی ہے۔ بھائیوں کے ساتھ کیسے رہنا ہے؟ میاں بیوی نے آپس میں کیسے رہنا ہے؟ ماں باپ اور اولاد نے آپس میں کیسے رہنا ہے؟ پڑوسیوں کے ساتھ کیسے رہنا ہے؟ معاشرے کے بڑے لوگوں کے ساتھ کیسے پیش آنا ہے؟ چھوٹے لوگوں کے ساتھ کیسے پیش آنا ہے؟ یہ ساری باتیں اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں بتائی ہیں۔ دنیا کا کوئی معاملہ ادھورا نہیں چھوڑا۔ ایسی بات نہیں ہے کہ سوسائٹی کو، سماج کو کوئی مسئلہ پیش آئے، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات میں اس کا کوئی طریقہ نہ ملے، ایسی کوئی بات نہیں ہے۔

بخاری شریف کی جامعیت

بخاری شریف حدیث کی سب سے مستند کتاب ہے، اس کا نام ہے ’’الجامع الصحیح‘‘۔ جامع کا معنی ہم کرتے ہیں کہ حدیث سے متعلقہ علوم کی جامع۔ اس میں تفسیر ہے، حدیث ہے، فقہ ہے، تاریخ ہے، آداب ہیں، اخلاقیات ہیں۔ لیکن ایک معنی میں یہ بتاؤں گا کہ بخاری شریف کے جامع ہونے کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ مثال کے طور پر اس وقت دنیا میں انسانی سوسائٹی تقریباً‌ سات ارب سے زیادہ انسانوں پر مشتمل ہے۔ کوئی دو چار دانشور دوست آپس میں بیٹھ کر مشورہ کریں، سوچیں، اس پر مطالعہ (Study) کریں کہ اس وقت جتنی بھی انسانی سوسائٹی ہے، اس کے بڑے بڑے مسائل کیا ہیں؟ اس کی زندگی کے بڑے بڑے شعبے کیا ہیں؟ تجارت ہے، زراعت ہے، ملازمت ہے، جنگ ہے، صلح ہے، امن ہے، لڑائی ہے۔ دو تین سو شعبوں کی ایک فہرست بنے گی کہ انسانی سوسائٹی میں یہ مسئلہ در پیش ہے، یہ الجھن ہے، یہ رکاوٹ ہے۔ انسانی زندگی کے مشکلات کا یہ دائرہ ہے، وہ دائرہ ہے۔ ان معاملات کی جو فہرست بنے، اس کا تقابل کریں بخاری شریف کی فہرست کے ساتھ، اور پھر دیکھیں کہ کوئی مسئلہ ایسا تو نہیں رہ گیا جو بخاری شریف میں نہیں ہے؟ انسانی زندگی کا کوئی شعبہ ایسا باقی رہ گیا ہو جس کا تذکرہ یا اشارہ صحیح بخاری کی اس فہرست میں نہیں ہے۔ 

میں ایک بات عرض کر کے آگے چلوں گا، یہ بات میں تحدی (Challenge) کے طور پر کہا کرتا ہوں کہ دنیا کے مسائل، انسانی زندگی کے مشکلات کے شعبے اور دائرے پوری محنت کے ساتھ مرتب کریں اور بخاری شریف کی فہرست کے ساتھ تقابل کر لیں۔ یہ میں نے اس لیے عرض کیا ہے کہ قرآن پاک اور جناب خاتم النبیین ﷺ نے زندگی کے سب مسائل بتائے ہیں کہ یہ کیسے ہے، کیوں ہے؟ کیسے رہنا ہے، کیا کرنا ہے۔ زندگی کے مسائل، آپس میں رہنے کے طور طریقے، قرآن پاک اور سنت نے مکمل طور پر رہنمائی کی ہے۔ سارے شعبوں میں بنیادی رہنمائی اور ہدایات دی ہیں۔ اس لیے آپس میں رہنے سہنے کے، میل جول کے جو طریقے اسلام نے بتائے ہیں، جناب خاتم النبیین ﷺ نے بتائے ہیں، یہ اسلامی تہذیب ہے۔ 

مثال کے طور پر اولاد اور ماں باپ کا رشتہ بڑا ہے، اس کے بغیر گزارا نہیں ہے۔ ان کو آپس میں کیسے رہنا ہے؟ ایک طریقہ یہ ہے کہ اولاد جوان ہو گئی، اولاد فارغ ماں باپ سے، ماں باپ فارغ اولاد سے۔ آپ مغرب میں چلے جائیں، وہاں اولاد جوان ہو گئی ہے، لڑکا ہو یا لڑکی، ماں باپ ان سے فارغ، یہ ماں باپ سے فارغ۔ وہ اپنا کام کریں، یہ اپنا کام کریں۔ اللہ رب العزت نے فرمایا، نہیں، تمھارے ماں باپ فارغ نہیں ہوئے، بالغ ہونے تک تم ان کی ذمہ داری میں تھے، اور تمھارے بالغ ہونے کے بعد وہ بزرگ والدین تمھاری ذمہ داری میں ہیں۔ تمھیں یہ حق نہیں کہ تم ان کو اولڈ ہوم (Old Home) میں جا کر چھوڑ آؤ، سوسائٹی کے حوالے کر دو، گورنمنٹ کے حوالے کر دو کہ ماں باپ بوڑھے ہو گئے ہیں، مجھ سے سنبھالے نہیں جاتے۔ یہ اسلامی تہذیب اور بے خدا تہذیب کا فرق ہے۔

تہذیب کسے کہتے ہیں؟ آج ہماری تہذیب کیا ہے کہ اولاد بالغ ہوئی، ماں باپ اپنا کام کریں، یہ اپنا کام کریں، آپس میں کوئی جوڑ نہیں ہے۔ اگر میری بات کا یقین نہیں آ رہا ہو تو کسی مغربی اولڈ ہوم کا وزٹ کریں، میں نے ان کے وزٹ کیے ہیں، آپ کسی بھی اولڈ ہوم کا وزٹ کریں اور دیکھیں کہ اولاد اور ماں باپ کا کیا تعلق باقی رہ گیا ہے۔ لیکن قرآن پاک کیا کہتا ہے؟ بالغ ہونے تک تم ان کی ذمہ داری میں تھے اور بالغ ہونے کے بعد بھی تم ان کی ذمہ داری میں ہو۔ پھر ان کے بوڑھے ہونے پر وہ تمھاری ذمہ داری میں ہیں، خدمت بھی کرو گے، اطاعت بھی کرو گے، سنبھالو گے بھی، ادب بھی کرو گے، سختیاں بھی برداشت کرو گے، اگر سخت بات کہہ دیں تو اُف تک نہیں کرو گے۔

فلا تقل لہما اف (سورۃ الاسراء: 17، آیت: 23)
(انھیں اف تک نہ کہو)

ان کو اُف تک مت کہو، سخت کلام کی تو گنجائش ہی نہیں۔ یہ رہن سہن کے طریقے کی ایک مثال میں نے عرض کی ہے، بیسیوں مثالیں موجود ہیں۔ آپس میں رہنے سہنے کے جو معاملات ہیں، ان میں قرآن و سنت نے جو رہنمائی کی ہے وہ اسلامی تہذیب کہلاتی ہے۔ اور ہمارا عقیدہ اور ایمان ہے کہ انسانی سوسائٹی کے لیے وہی مفید اور فائدہ مند ہے۔ اس سے ہٹ کر اپنے جو طور طریقے ایجاد کریں گے، وہ ان کے اپنے طریقے ہوں گے اور ان طریقوں کا نفع نقصان ان کے اپنے کھاتے میں ہوگا۔

اعمال کے استحکام کی بنیاد عقیدے پر ہے

دیکھیں، آپس میں رہنے سہنے کے طور طریقے، روایات، اقدار، تہذیب، جس کی بنیاد عقیدے پر ہو گی وہ مستحکم ہوگا۔ اور جس کی بنیاد خواہشات پر ہو گی وہ کمزور ہو گا۔ انسان کا عقیدہ انسان کے اعمال پر اثر انداز ہوتا ہے۔ عقیدہ انسان کے اعمال کو کنٹرول کرتا ہے۔ عقیدہ اگر مضبوط ہے تو اعمال بھی مضبوط ہوں گے۔ اگر اعمال کے پیچھے عقیدہ نہیں ہے تو وہ کمزور سا مکڑی کا جالا ہوگا۔ آج کچھ، کل کچھ، پرسوں کچھ۔ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ میل جول کے طریقوں میں اگر اس کی بنیاد عقیدے پر ہو گی تو اس میں استحکام ہوگا۔ اور اب تو ساری طرف گھوم گھما کر مغربی تہذیب کے دانشور بھی اس طرف آ گئے ہیں کہ پہلی معاشرتی اقدار پر واپس چلو، ہم نے بہت جھک مار لی ہے، کوئی مسئلہ ہم سے حل نہیں ہو پا رہا۔ عقیدہ اس یقین کو کہتے ہیں جو انسان کے اعمال پر، اخلاق پر، اقدار پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ہم یہاں بیٹھے ہیں، اگر کوئی ایک سنجیدہ بندہ اٹھ کر یہ کہہ دے کہ سانپ آ گیا ہے، ہم میں سے کسی نے دیکھا نہیں ہے، تو ہمارا رد عمل (Reaction) کیا ہوگا؟ آپ میں سے کوئی یہاں بیٹھا ہوگا آرام سے؟ پہلے بھاگے گا، پھر دیکھے گا کہ کدھر ہے؟ انسان کے جسم کا دل اور دماغ، یہ دو کنٹرول ہیں۔ دل میں اگر یقین ہے کہ یہ بات ٹھیک کہہ رہا ہے، فوراً‌ دیکھے بغیر دوڑ لگائے گا۔ یہ بھاگنے کا فیصلہ کس نے کیا؟ دل نے۔ دل کس طرف گیا ہے؟ یقین پر۔ انسان کی ساری حرکات کی بنیاد کس پر ہوتی ہیں؟ دماغ سوچتا ہے، دل فیصلہ کرتا ہے، پھر انسان اس کے مطابق کام کرتا ہے، کسی منصوبہ بندی کی ضرورت نہیں ہوتی، ہاتھ اپنا کام کرتا ہے، پاؤں اپنا کام کرتا ہے، زبان اپنا کام کرتی ہے، سانس اپنا کام کرتا ہے اور بنیاد کس پر ہوتی ہے؟ دل کے یقین پر۔

یہود و نصاریٰ کی بدعملی کی وجہ بدعقیدگی ہے

میں اس کی مثال عقائد کی دنیا میں سے دوں گا۔ یہودیوں کا یہ عقیدہ ہے:

نحن ابنآء اللہ واحباؤہ (سورۃ المائدۃ: 5، آیت: 18)
(ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں۔)

کہ ہم اللہ کی اولاد ہیں، انبیاء علیہم السلام کی اولاد ہیں، وی آئی پی ہیں، ہمیں کچھ نہیں ہوگا۔ خاتم النبیین ﷺ نے ان سے پوچھا کہ قیامت کے بارے میں کیا تصور ہے؟ کہنے لگے، ہمیں پتہ ہے قیامت آئے گی، ہم جہنم میں جائیں گے لیکن چند دن کے لیے، پھر واپس آ جائیں گے، ہماری چھٹی اور خلاصی ہو جائے گی، کیونکہ ہم انبیاء علیہم السلام کی اولاد ہیں، اس لیے جنت ہماری ہے۔ (صحیح بخاری، باب ما یذکر فی سم النبی صلی اللہ علیہ وسلم، حدیث نمبر: 5777)

عیسائیوں کا عقیدہ کیا ہے؟ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے بقول سولی چڑھ گئے تھے۔ یہ کفارے کا عقیدہ کہلاتا ہے۔ ہمارے نزدیک تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو موت نہیں آئی بلکہ آپ زندہ ہیں، آسمانوں پر ہیں، ان شاء اللہ قربِ قیامت میں تشریف لائیں گے۔ عیسائیوں کے عقیدے کے مطابق وہ سولی پر چڑھ گئے تھے، ان کو موت آگئی، وہ فوت ہو گئے، تین دن قبر میں رہے، پھر زندہ کر کے اٹھائے گئے۔ اور یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ پھانسی نسلِ انسانی کے گناہوں کے کفارے میں قبول کی۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے قربانی دی، خود موت قبول کر لی اور نسلِ انسانی کے گناہوں کا کفارہ دے دیا۔ اور جو آدمی یہ صلیب گلے میں لٹکائے گا اور یہ عقیدہ رکھے گا تو وہ گویا کفارے کی فہرست میں آگیا۔ اور جو کفارے کی فہرست میں آ گیا وہ جنت میں جائے گا اور جو باہر ہے وہ جہنم میں جائے گا۔ میں اس پر عرض کیا کرتا ہوں کہ یار بڑے عجیب لوگ ہو! گناہ تم کرو، سزا تمھارے پیغمبر بھگتیں، عجیب فلسفہ ہے۔

اس کا نتیجہ کیا ہے؟

  • ایک شخص کا عقیدہ یہ ہے کہ میں تو برتر ہوں، میں نے تو جنت میں جانا ہی ہے، مجھے کوئی نہیں روک سکتا۔ ایسا انسان کسی جرم سے باز رہے گا؟ اپنے مفاد کو حاصل کرنے کا کوئی بھی طریقہ اختیار کرنے سے رکے گا؟
  • ایک آدمی کا عقیدہ یہ ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام میرا کفارہ دے گئے ہیں، میری ساری سزاؤں کو بھگت گئے ہیں۔ اُس کو جرم سے باز رکھنے کا کوئی اور ذریعہ ہوگا؟
  • اسلام نے کہا کہ نہیں بھئی، ایسا نہیں ہے۔ ایمان اور اعمالِ صالح پر نجات ہو گی۔ 
    ان الانسان لفی خسر۔ الا الذین اٰمنوا و عملوا الصالحات (سورۃ العصر: 103، آیت: 2 و 3)
    (انسان در حقیقت بڑے گھاٹے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں۔)
    لیس بامانیکم ولآ امانی اہل الکتاب من یعمل سوءً‌ا یجز بہ (سورۃ النساء: 4، آیت: 123)
    (نہ تمھاری تمنائیں (جنت میں جانے کے لیے) کافی ہیں، نہ اہلِ کتاب کی آرزوئیں۔ جو بھی برا عمل کرے گا، اس کی سزا پائے گا۔)

خاتم النبیین ﷺ تشریف فرما تھے، یہ آیت نازل ہوئی۔ اس آیت کے نزول کا پس منظر یہ ہے کہ مدینہ منورہ میں ایک زمانے تک یہودی اور مسلمان اکٹھے رہتے تھے۔ اس وقت جب یہ مشترکہ سوسائٹی تھی، اکٹھے بیٹھتے تھے، شادی اور غمی کی مجلس اکٹھی ہوتی تھی، محلے داری، قبیلے داری، شہر داری ہوتی تھی۔ ایک جگہ مجلس لگی ہوئی تھی، ایک یہودی نے دعویٰ کیا کہ ہم سارے کے سارے جنتی ہیں اس لیے کہ ہم انبیاء علیہم السلام کی اولاد ہیں، نبیوں کا خاندان ہیں۔

کوئی شک نہیں ہے، بنی اسرائیل انبیاء علیہم السلام کی اولاد ہیں۔ آج بھی اسرائیل دنیا کا واحد ملک ہے جو نسل کی بنیاد پر ہے۔ آج بھی یہودی مذہب دنیا کا واحد مذہب ہے جو نسل کی بنیاد پر ہے۔ ان میں یہ تفاخر ہے کہ ہم انبیاء علیہم السلام کی اولاد ہیں۔ بلکہ قرآن پاک میں یہ ہے ’’نحن ابنآء اللہ‘‘ کہ ہم اللہ کی اولاد ہیں اس لیے ہم تو سیدھے جنت میں جائیں گے۔

مجلس میں ایک انصاری صحابیؓ بیٹھے تھے، ان کو غصہ آیا کہ اچھا! تم انبیاء علیہم السلام کی اولاد ہو، سیدھے جنت میں جاؤ گے؟ تو ہم انبیاء علیہم السلام کے سردار کے ساتھی ہیں، ہمیں کون روکے گا، ہم سیدھے جنت میں جائیں گے۔ تقابل ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں یہ آیت نازل فرمائی کہ نہ تمھاری آرزوؤں پر فیصلے ہوں گے، نہ اہلِ کتاب کی آرزوؤں پر فیصلے ہوں گے، فیصلے ہوں گے اعمال پر، جس نے کوئی برا کام کیا تو اسے بھگتنا ہوگا۔ ایمان اور اعمالِ صالحہ پر فیصلے ہوں گے۔

میں یہ بات عرض کیا کرتا ہوں کہ قانون اور عدل کی دنیا میں، معاشرے میں امن قائم رکھنے کے لیے، جرائم روکنے کے لیے، اور معاشرے میں اصلاح کا ماحول قائم رکھنے کے لیے، ان تینوں میں سے کون سا عقیدہ فائدہ مند ہے:

  1. ہم انبیاء علیہم السلام کی اولاد ہیں، اس لیے ہمیں کوئی نہیں پوچھے گا۔
  2. ہمارے گناہوں کا کفارہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دے گئے ہیں، ہمیں کوئی نہیں پوچھے گا۔
  3. یہ فیصلے ایمان اور اعمال کی بنیاد پر ہوں گے۔

سوسائٹی میں امن کے قیام کے لیے اور جرائم کو روکنے کے لیے ان تینوں میں سے کون سا عقیدہ فائدہ مند ہے؟ عقیدہ معیار ہے۔ قرآن پاک نے سب سے زیادہ زور جس بات پر دیا ہے وہ عقیدہ ہے، اور عقیدے کے بعد اعمالِ صالحہ پر معیارِ نجات ہے۔

اسلامی تہذیب کی بنیاد عقیدہ اور حسنِ معاشرت پر ہے

پھر جناب رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ ایمان اور عبادات کے بعد سب سے بہترین اعمال اخلاقِ حسنہ ہیں۔

انما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق (سنن الکبریٰ للبیہقی، باب: بیان مکارم الاخلاق، حدیث نمبر: 20782)
(مجھے اچھے اخلاق کو پورا کرنے کے لیے مبعوث کیا گیا ہے۔)

اسلامی تہذیب کی بنیاد عقیدے پر ہے، عبادات اور اخلاقِ حسنہ پر ہے۔ اخلاقِ حسنہ کا حکم ہے اور یہ ایمان کی علامت ہے، اسی سے ایمان کی تکمیل ہوتی ہے۔ جناب خاتم النبیین ﷺ نے فرمایا:

انما بعثت معلما (سنن ابن ماجہ، باب فضل العلماء والحث علیٰ طلب العلم، حدیث نمبر: 229)
(مجھے انسانیت کا معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔)

آپؐ نے فرمایا، میں اخلاقِ حسنہ رکھتا ہوں۔ حسنِ سلوک، ایک دوسرے کا لحاظ، جناب خاتم النبیین ﷺ نے عمل کر کے بتایا کہ اس طرح کرنا ہے۔ دنیا کی کوئی شخصیت اس کی مثال پیش نہیں کر سکتی۔ اخلاقِ حسنہ کہتے ہیں کہ ایک دوسرے کا لحاظ کرنا، ایک دوسرے کی ضروریات اور مجبوریوں کا خیال کرنا۔ چھوٹی سی مثال عرض کرتا ہوں۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے مجھے ہدایت کی کہ گھر میں کوئی اچھی چیز پکاؤ تو تھوڑی زیادہ پکاؤ تاکہ نزدیک کے پڑوس میں دے سکو، شوربہ زیادہ کرو، اور اردگرد تقسیم کرو تاکہ وہ بھی تمھارے ساتھ شریک ہوں۔

[عن ابی ذر، قال: قال رسول اللہ ﷺ: یا ابا ذر اذا طبخت مرقۃ، فاکثر ماءھا، وتعاھد جیرانک۔ صحیح مسلم، باب الوصیۃ بالجار والاحسان الیہ، حدیث نمبر: 142]

اگر تم گھر میں اچھی چیز لاؤ، کھانے کے لیے کوئی پھل لاؤ تو چھلکے دروازے سے باہر نہ پھینکو، کیونکہ پڑوس کے بچے دیکھیں گے، وہ جا کر والدین سے مانگیں گے، وہ بیچارے کیسے لا کر دیں گے اگر ان کی لانے کی پوزیشن نہیں ہے۔ پہلے تو تعلیم یہ دی کہ کوئی اچھی چیز ہو تو ساتھ پڑوس میں تقسیم کرو۔

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: یا رسول اللہ ﷺ! پڑوس کی حد کیا ہے، پڑوس کا دائرہ کیا ہے؟ فرمایا: دس گھر اِدھر، دس گھر اُدھر (چاروں طرف دس دس گھر)۔ چالیس گھر، یہ پڑوس کی حد ہے۔

ایک اور روایت میں ہے کہ یا رسول اللہ ﷺ! ان میں سے کس گھر کو زیادہ ترجیح ہے؟ فرمایا: جو دروازہ تمھارے دروازے کے ساتھ ہے۔ (صحیح بخاری، باب: ای الجوار اقرب؟، حدیث نمبر: 2259) جناب خاتم النبیین ﷺ نے یہاں بہت تلقین فرمائی۔

پڑوس کی حد ایک اور حوالے سے بھی ہے۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ مسجد کے پڑوسی کی نماز مسجد کے سوا نہیں ہوتی:

لا صلاۃ لجار المسجد الا فی المسجد (سنن الکبریٰ للبیہقی، باب ما جاء من التشدید فی ترک الجماعۃ، حدیث نمبر: 4942)
(مسجد کے پڑوسی کی نماز صرف مسجد میں ہی ہو سکتی ہے۔)

اگر کوئی عذر نہ ہو تو مسجد کا پڑوسی مسجد میں ہی نماز پڑھے۔ کسی نے پوچھا کہ مسجد کے پڑوسی کی حد کیا ہے؟ تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا: جہاں تک مسجد کی اذان کی آواز جاتی ہے، اسے مسجد کا پڑوس کہتے ہیں۔ (سنن الکبریٰ للبیہقی، باب ما جاء من التشدید فی ترک الجماعۃ، حدیث نمبر: 4349)

میں سوچا کرتا ہوں کہ ہمارا تو ایک گھر پتہ نہیں کتنی مسجدوں کا پڑوس ہوتا ہے، چھ چھ، سات سات مسجدوں کا پڑوس ہوتا ہے۔ یہاں آپ حضرات کو ایک عمومی (General) بات کر رہا ہوں۔ خاتم النبیین ﷺ نے آپس کے معاملات اور اخلاق کی تعلیم یہاں تک دی کہ کھانا وغیرہ تقسیم کرو، اگر تقسیم نہیں کر سکتے تو چھپا کر کھاؤ تاکہ پڑوسی کے بچے ماں باپ کو تنگ نہ کریں۔ معلوم ہوا کہ اخلاقِ حسنہ ایمان کی اور تہذیب کی بھی بنیاد ہے۔ اللہ کی عبادت اور بندگی، فرائض اور واجبات بھی تہذیب کی بنیاد ہیں۔ خاتم النبیین ﷺ نے فرمایا:

اکمل المؤمنین ایمانا احسنہم خلقا (سنن ابی داؤد، باب الدلیل علی زیادۃ الایمان، حدیث نمبر: 4682)
(کامل مومن وہ ہے جس کے اخلاق سب سے بہتر ہوں۔)

اس ارشاد میں جناب خاتم النبیین ﷺ نے حسنِ معاشرت کی بنیاد بیان فرمائی ہے کہ ایک دوسرے کا خیال رکھنا آپس کے حقوق ہیں۔ یہ ماں باپ ہیں، ان کا یہ حق ہے۔ یہ اولاد ہے، ان کا یہ حق ہے۔ میں اس لیے یہ کہتا ہوں کہ باہمی حقوق کی جتنی گہرائی اور جتنی تفصیل جناب خاتم النبیین ﷺ نے بیان فرمائی ہے اور اسلام نے بیان کی ہے، اس کی دنیا میں کہیں بھی مثال نہیں ملتی۔

اسلام نے ہر چیز کے حقوق مقرر کیے ہیں

صرف پڑوسی ہی نہیں، راستے اور جانوروں تک کا حق متعین کیا ہے۔ مثلاً‌ راستے کا حق کیا ہے؟ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جناب خاتم النبیین ﷺ نے فرمایا: راستوں میں نہ بیٹھو، یہ گزرگاہ ہے۔ وہاں نہ بیٹھو، اس سے لوگوں کو آنے جانے میں تکلیف ہوتی ہے۔ عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! ہمارا گزارہ نہیں ہوتا، گھروں میں جگہ نہیں ہوتی، دوست ملنے آ جائیں تو گلی میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ چھوٹا سا گھر ہے، اس میں بٹھانے کی جگہ نہیں ہوتی، مجبور ہیں، گلی میں کھڑے ہونے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر مجبورً‌ا کھڑا ہونا پڑے تو:

فاعطوا الطریق حقہ (صحیح بخاری، حدیث نمبر: 6229)
(راستے کا حق ادا کرو۔)

عرض کیا:

وما حق الطریق یا رسول اللہ؟
(اے اللہ کے رسول ﷺ! راستے کا حق کیا ہے؟)

آپ ﷺ نے چند باتیں ارشاد فرمائیں:

  1. (غض البصر) راستے میں کھڑے ہو تو تانک جھانک نہ کرو کہ کون آ رہا ہے اور کون جا رہا ہے، نظر جھکا کر رکھو۔
  2. (و رد السلام) کوئی سلام کرے تو اس کا جواب دو۔
  3. (واھدوا السبیل) کوئی راستہ بھولا ہوا ہے تو اس کو راستہ بتاؤ۔
  4. (و کف الاذیٰ) راستہ روکو نہیں، لوگوں کا راستہ تنگ نہ کرو۔

جناب خاتم النبیین ﷺ نے نہ صرف راستے کا حق بتایا ہے بلکہ جانور تک کا حق بتایا ہے۔ جی ہاں، جانور کا بھی حق ہے۔ جس جانور سے ہم فائدہ اٹھاتے ہیں اس کا بھی، اور جو جانور ویسے ہی گھروں میں رہتے ہیں ان کا بھی۔ جناب خاتم النبیین ﷺ نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا: میں نے جہنم میں ایک عورت کو اس لیے جلتے دیکھا ہے کہ اس نے گھر میں ایک بلی پال رکھی تھی لیکن وہ اس کا خیال نہیں رکھتی تھی۔ کبھی گھر سے باہر جاتی تو دروازہ بند کر کے چلی جاتی۔ بلی اندر بند ہے۔ نہ اندر خوراک ہے، نہ باہر آ سکتی ہے۔ اس طرح ایک روز بلی اندر مر گئی۔ اللہ تعالیٰ نے بلی کے اس طرح مرنے پر اس عورت کو جہنم میں ڈال دیا۔ (صحیح بخاری، باب حدیث الغار، حدیث نمبر: 3482) اسلام نے تو یہاں تک جانوروں کا حق بتایا ہے۔

اسلام میں باہمی حقوق کی اہمیت

باہمی حق کے حوالے سے حضور ﷺ کا مزاج اور حساسیت کیا تھی؟ بہت سے واقعات ہیں، ایک واقعہ عرض کروں گا۔ آپ ﷺ تشریف فرما تھے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مجلس لگی ہے، سب بیٹھے ہیں۔ دائیں طرف ایک نوجوان لڑکا بیٹھا ہوا ہے (عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما)، چچا زاد بھائی بھی ہے، بارہ تیرہ سال کی عمر کا نوجوان ہے۔ بائیں طرف حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جیسے بڑے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس مجلس میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ کسی نے خاتم النبیین ﷺ کو مشروب پیش کیا، پانی تھا یا دودھ، کوئی پینے کی چیز تھی۔ حضور ﷺ نے نوش فرمایا، دو چار گھونٹ بچ گئے، اب وہ کسی کو دینے ہیں۔ حضور ﷺ اپنے بتائے ہوئے ضابطے کے مطابق کہ حق دائیں والے کا بنتا ہے، اور دائیں طرف لڑکا بیٹھا ہے، جبکہ حضور ﷺ بائیں طرف دینا چاہ رہے ہیں کیونکہ وہاں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہیں، جی چاہ رہا ہے کہ وہاں دیں۔ مشروب کے دو گھونٹ ہیں۔ پوچھا: عبداللہ! اگر اجازت ہو تو ادھر دے دوں؟ عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! آپؐ کے تبرک پر میں کسی کو ترجیح نہیں دوں گا۔ صحیح بخاری کے الفاظ یہ ہیں، جلال سے فرمایا: (فتلہ فی یدہ) لو پکڑو۔ یعنی آپؐ نے اجازت مانگی، اجازت نہ ملنے پر غصہ بھی آیا، لیکن دیا اُسی کو ہے جس کا حق ہے۔ (صحیح بخاری، باب: ھل یستاذن الرجل من عن یمینہ فی الشرب، حدیث نمبر: 5620)

جناب خاتم النبیین ﷺ باہمی حقوق کے حوالے سے کتنے حساس تھے! باہمی حقوق کی تعلیم دی ہے، تلقین بھی فرمائی ہے اور عملی نمونہ بھی پیش کیا ہے۔ مجال ہے کہ کوئی بات اِدھر سے اُدھر ہو جائے۔ قرآن کریم نے اور جناب خاتم النبیین ﷺ نے اسلامی معاشرت، اسلامی تہذیب، اسلامی تمدن کی بنیاد عقیدے کو، اللہ کی عبادت اور بندگی کو، اعمال صالحہ کو، اخلاق حسنہ کو، باہمی حقوق کی پاسداری کو اور اجتماعیت کو بنایا ہے۔

اسلامی تہذیب میں اجتماعی مصلحتوں کا لحاظ رکھا گیا ہے

اسلامی تہذیب کی بنیاد اجتماعیت پر ہے کہ اجتماعی فائدہ یا نقصان کس میں ہے؟ ایک دو مثالیں دوں گا۔ ان دو مسائل میں دنیا کو بڑا مغالطہ ہے۔ ایک سود کے مسئلے پر، قرآن پاک نے اس کو حرام قرار دیا ہے (سورۃ البقرہ: 2، آیت: 275)۔ لوگوں کو پریشانی ہے کہ جب دو آدمی لین دین پر راضی ہیں تو تمھیں کیا اعتراض ہے؟ ایک خوشی سے دے رہا ہے، دوسرا لے رہا ہے۔ سود ہو یا جوا، حرام کے دائرے میں ہیں۔ لیکن آج کی دنیا کہتی ہے کہ دونوں فریق راضی ہیں تو تمھیں کیا اعتراض ہے؟ یہی بات سود پر کی جاتی ہے، یہی بات زنا پر کی جاتی ہے۔ تم مولوی لوگ خواہ مخواہ فتوے دے رہے ہو کہ حرام ہے، حرام ہے!

اسلام کہتا ہے کہ کسی معاملے میں صرف معاملہ کرنے والے فریقوں کا راضی ہونا کافی نہیں ہے، بلکہ اس کے ساتھ اس معاملے کے سوسائٹی پر اثرات بھی دیکھنے پڑیں گے۔ دو آدمیوں کے معاملے کا اگر سوسائٹی پر غلط اثر پڑتا ہے تو یہ ناجائز ہے۔ صرف دو افراد کی بات نہیں ہے، یہ بھی دیکھا جائے گا کہ اجتماعی طور پر سوسائٹی کو فائدہ ہے یا نقصان؟ اور جس بنیاد پر آج کے فلسفے نے سود کو جائز قرار دیا تھا کہ دو آدمی اگر رضامندی سے آپس میں لین دین کر لیں تو کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے، عالمی دانش اب اس مقام پر پہنچ چکی ہے اور وہ برملا کہہ رہی ہے کہ سود نے انسانی سوسائٹی کو معاشی تباہی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ 

سود کیا ہے اور سود کے اثرات کیا ہیں؟ ہمارے ایک دوست ڈاکٹر فرحان نظامی آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک اسٹڈیز کے ڈائریکٹر ہیں، قابل اور دانشور آدمی ہیں، لکھنؤ کے ہیں۔ انھوں نے اپنا قصہ سنایا، وہ کہتے ہیں کہ مجھے ایک یونیورسٹی سے دعوت آئی کہ آپ لیکچر دیں اس بات پر کہ سود کے بارے میں اسلام کا نقطۂ نظر کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے دعوت قبول کر لی۔ میں سوچ میں پڑ گیا کہ کیا کروں؟ عام طریقہ کار تو یہ ہے کہ سود کے بارے میں قرآن مجید کی دو تین آیتیں اور حدیثیں بطور دلائل پیش کر دوں گا کہ قرآن یہ کہتا ہے، حدیث یہ کہتی ہے۔ لیکن اس پر میں نے سوچا کہ میں مسلمانوں سے مخاطب نہیں ہوں، غیر مسلموں سے مخاطب ہوں، تو ان سے بات عقلِ عام (Common Sense) میں کرنی ہوگی۔ 

بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ہم مخاطب اور لوگوں سے ہوتے ہیں اور دلائل اپنے پیش کرتے ہیں۔ یہ تو ہمارے دلائل ہیں، دنیا کے سامنے تو عقلِ عام میں بات کرنی ہوتی ہے۔ علماء کرام تشریف فرما ہیں، اس لیے یہ بات عرض کر رہا ہوں۔

وہ کہتے ہیں کہ میں سوچ میں پڑ گیا کہ میں کام تو اپنا کر لوں گا لیکن سننے والوں کو فائدہ نہیں ہوگا۔ میرے ذہن میں ایک بات آئی، میں نے سوچا کہ سود نے مجموعی طور پر دنیا کو نقصان پہنچایا یا فائدہ؟ معاشی ماہرین کیا کہتے ہیں؟ آج کی جدید ترین جو تحقیق ہے، میں نے اس پر اسٹڈی کی۔ اس بات پر آج معیشت کے دانشور متفق ہیں، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سمیت، کہ سود نے نقصان پہنچایا ہے، معاشی تفاوت پیدا کیا ہے، طبقات پیدا کیے ہیں، بُعد پیدا کیا ہے، نفرت پیدا کی ہے۔ کہتے ہیں کہ میں نے آج کی جدید معاشی تحقیقات کی روشنی میں بتایا کہ سود نے ممالک، قوموں اور گروہوں کے درمیان معاشی تفاوت پیدا کیا ہے اور معاشیات میں عدمِ مساوات پیدا کی ہے، زیادتی کو فروغ دیا ہے۔ ساری تحقیق سامنے لا کر آخر میں، میں نے کہا کہ آج کی دنیا تحقیق اور ریسرچ کے بعد جس نتیجے پر پہنچی ہے، قرآن نے چودہ سو سال پہلے ایک جملے میں کہا تھا:

یمحق اللہ الربوا ویربی الصدقات (سورۃ البقرہ: 2، آیت: 276)
(اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔)

سود میں بے برکتی ہے اور صدقات میں برکت ہے۔ سود میں رقم بڑھتی ہے لیکن قدر (Value) گھٹتی ہے، اور صدقات میں بظاہر رقم گھٹتی ہے لیکن قدر بڑھتی ہے۔ کہتے ہیں کہ میرا مقالہ اتنا پسند کیا گیا کہ بہت سی یونیورسٹیوں سے مجھے دعوت آئی کہ جناب ہمارے ہاں بھی لیکچر دیں۔

تو میں نے یہ بات عرض کی کہ سود کے جواز کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ دو آدمی جب آپس میں راضی ہیں، لینے والا بھی اور دینے والا بھی، تو مولوی صاحب کو کیا اعتراض ہے؟ ہم نے کہا کہ نہیں، صرف دو آدمیوں کا راضی ہونا کافی نہیں ہے، بلکہ اس معاملے کا سوسائٹی پر کیا اثر ہے، اس کو دیکھنا بھی ضروری ہے۔ اگر دو آدمیوں کا ایسا معاملہ سوسائٹی پر منفی اثر ڈالتا ہے تو یہ ناجائز ہے۔ یہی مسئلہ زنا کا ہے کہ اس طرح خاندان تباہ ہو جائے گا، رشتے ختم ہو جائیں گے، فیملی بکھر جائے گی، حلال و حرام کا فرق ختم ہو جاتا ہے۔ یہ محض دو آدمیوں کی رضا کی بات نہیں، بلکہ سوسائٹی کا مسئلہ ہے، اس سے اخلاقی فساد برپا ہوتا ہے۔

اس لیے میں نے عرض کیا ہے کہ اسلامی تہذیب اور تمدن کی جو بنیادیں ہیں، دنیا اُن پر واپس آ رہی ہے اور سوچ رہی ہے۔ اس پر حوالہ عرض کروں گا کہ تہذیب، تمدن، سماج، معاشرت، انسانی میل جول، سماج کا ارتقا، آج دنیا اس پر واپس آنے پر مجبور ہے۔ اُس وقت جب عالمی سطح پر ایک کھلبلی کا ماحول تھا، آج سے چودہ پندرہ سال پہلے کی بات ہے، پاپائے روم نے ایک کمیٹی بنائی ماہرین معیشت کی کہ موجودہ معاشی بحران پر غور کرو اور دیکھو کہ اس بحران سے کیسے نکلنا ہے۔ انھوں نے رپورٹ دی کہ یہ ساری کارستانی سود کی ہے، دنیا میں معیشت کا جتنا بحران ہے، اس کی بنیادی وجہ سود ہے۔ اس لیے جب تک موجودہ معاشی بنیادوں سے واپس آ کر معیشت کے وہ اصول نہیں اپنائیں گے جو قرآن بیان کرتا ہے، تب تک دنیا کے معاشی نظام میں کوئی بہتری کی صورت پیدا نہیں ہو سکتی۔

آج بھی دنیا میں انسانی تمدن اور انسانی سوسائٹی کی بہتری و ارتقا، اس کی ترقی و فوائد اور اس کے بہتر مستقبل کے لیے قرآن پاک کی تعلیمات سب سے بہتر بنیاد ہیں۔ اور ہمیں دنیا کو بتانا چاہیے کہ آج دنیا کو قرآن پاک کی تعلیمات اور رہنمائی کی ضرورت ہے۔ آج دنیا کو سیرت طیبہ سے رہنمائی کی ضرورت ہے۔ ہمیں اسلامی بنیادوں کو دنیا کے سامنے لانے کے لیے ریسرچ، محنت، ابلاغ، دعوت و تبلیغ، سارے ذرائع اختیار کرنے ہوں گے۔ یہ سب ہماری دعوتی ذمہ داری میں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

قرآن / علوم القرآن

اقساط

(الشریعہ — جولائی ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — جولائی ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۷

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۳)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۴)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

کیا سنن دارقطنی علل کی کتاب ہے؟
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

محاضراتِ فقہ (۲)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۳)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۷)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۶)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۴)
محمد سراج اسرار

’’الانتقاد علیٰ تاریخ التمدن الاسلامی‘‘
محمد فہد حارث
محمد بلال ابراہیم بربری

اوقات ضائع کرنے کا موبائل فون سے بڑا راستہ کوئی نہیں
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

شب بیداری: برکتیں، انعامات اور فلاح
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

آبِ زم زم: فضیلت، شفاء اور قبولیت
مفتی سید انور شاہ

کاروباری خسارے: اسباب، حکمتیں اور حل
مولانا عبد المتین

۱۹۵۱ء کے بائیس دستوری نکات اور ۱۹۵۲ء کی دستوری سفارشات میں ترمیمات (۱)
حافظ مجددی

ہماری جامعات میں اسلامی قانون کی تعلیم
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

امریکہ اور اسرائیل نے اپنی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا ہے
پروفیسر جان میئرشائیمر
ٹکر کارلسن

مغرب — یہود مخالف کیسے بنا؟
حامد میر

ترکیہ اور اسرائیل کے دشمنی میں بدلنے والے دوستانہ تعلقات
میپ اینڈ مِتھ

بھارت: سیاسی صورتحال اور تہذیبی مسائل
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

Arab Nationalism and Its Impact on the Muslim World
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

تلاش

شماریات