کسی مفکر کی شخصیت اور اس کی فکر کا مطالعہ کرنے کے لیے عمومی رجحان یہ دیکھا گیا ہے کہ روایت کے ساتھ اس کے رد و قبول کا رویہ جانچا جاتا ہے۔ اس کے فکر کی صحت یا عدمِ صحت کا فیصلہ مفکر کے مجموعی فکری نظام کے ساتھ دیکھنے کی بجائے روایتی و غیر روایتی حیثیت دیکھ کر کیا جاتا ہے۔ یہ رجحان علمی رویہ ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ کرنے کی بجائے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس سے مفکر کی شخصیت و فکر اور خدمات کا درست تجزیہ ممکن ہے یا نہیں؟ ظاہر ہے اس کا جواب نفی میں ہے۔ کیوں کہ جزوی مظاہر کے توسط سے شخصیت اور فکر کا مطالعہ کیا جائے تو اس کا داخلی ربط، فکری پس منظر اور مجموعی نظامِ فکر پسِ پشت چلا جاتا ہے اور اس کے فکر سے متعلق پیشگی ایک تصور قائم کر لینے سے بسا اوقات ایسے اہم پہلو بھی مخفی رہتے ہیں جو اس کے مجموعی فکری نظام کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ نتیجتاً مفکر کی حقیقی اور متوازن تصویر نہیں آ پاتی۔
مولانا عبید اللہ سندھی مرحوم کے فکر و نظریے پر نقد و جرح کے سلسلے میں سامنے آنے والے مواد میں اگر مکمل نہیں تو اسی عمومی رجحان کی ایک جھلک ضرور نظر آتی ہے۔ مولانا سندھی ایک تو حضرت شیخ الہند کی درس گاہ سے فیض یاب تھے، جن کی اپنی سوچ عالم گیر تھی، اس پر مستزاد یہ کہ بر اعظم ہند و پاک کی آزادی کے لیے مولانا سندھی دنیا پھرے تھے۔ مختلف سیاسی نظاموں کا مطالعہ و مشاہدہ کیا تھا۔ یہی مطالعہ و مشاہدہ بجائے خود سوچ میں وسعت پیدا کرنے کا سبب ہے۔
مولانا نے اپنے ذوق و تحقیق کے مطابق بعض سیاسی و علمی مسائل سے متعلق غیر روایتی طرزِ فکر اپنایا، جس پر حسبِ روایت نقد و جرح کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس سلسلے میں معارف اعظم گڑھ کے ستمبر ۱۹۴۴ء کے شمارے میں شائع ہونے والا "دل آزار نقد" بھی شامل ہے۔ لیکن مولانا کے افکار پر یہ نقد نہ مقدمہ تھا اور نہ آج مولانا کی وفات کے ۸۲ برس بعد ان کے نظریات پر ہونے والی تنقید تتمہ ہے۔ مسلم دنیا کے دیگر مفکرین کے افکار پر ہونے والے نقد کی طرح مولانا کے افکار پر بھی جرح کا سلسلہ جاری رہے گا۔ یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے کہ اسی اختلافی روایت سے فکر کے مخفی پہلو بھی سامنے آتے ہیں۔
مولانا عبید اللہ سندھی مرحوم کے بعض سیاسی افکار و نظریات کے علاوہ املائی افاداتِ قرآن سے منظرِ عام پر آنے والے افکار پر سب سے زیادہ تنقید کی گئی۔ ممکن ہے جن عبارتوں سے ظاہر ہونے والے خیالات پر تنقید ہو رہی ہے ان میں کچھ مولانا کے اپنے خیالات بھی ہوں۔ مگر قرآنیات سے متعلق کسی بھی کتاب کو من کل الوجوہ مولانا کے خیالات کا ترجمان قرار دینا نہایت مشکل ہے۔ ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہاں پوری مرحوم نے یہی حقیقت واضح الفاظ میں بیان کی ہے:
"قرآنیات کے دائرے میں مولانا عبید اللہ سندھی مرحوم کی تصنیفات و امالی میں یہ بات بہت اہم ہے اور اس کی وضاحت بہت ضروری ہے کہ اس باب میں اردو، سندھی اور عربی میں جو کچھ ہے ان میں "خلاصۃ القرآن" کے سوا کوئی چیز ایسی نہیں جو مولانا مرحوم نے اپنے قلم سے تالیف و تصنیف فرمائی ہو، یہ ان کے شاگردوں اور عقیدت مندوں کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ تفسیرِ قرآن میں ان کے افادات کا اتنا بڑا ذخیرہ جمع ہوگیا، یہ تمام کوششیں بھی ایک درجے کی نہیں ہیں۔“1
مولانا صوفی عبد الحمید سواتی مرحوم نے بھی یہی حقیقت لکھی ہے:
"بہت سی باتیں ایسی بھی ہیں جن کی نسبت ان کی طرف کرنے میں ان کے تلامذہ نے غلطی کی ہے، اس کی ذمہ داری حضرت مولانا پر نہیں، بلکہ ان کے ناقلین پر ہے جنھوں نے ان باتوں کو نقل کیا ہے۔"2
زیر نظر مضمون میں مولانا کے افکار کا دفاع کرنا مقصود نہیں ہے۔ اس سلسلے میں مولانا کے تلامذہ اور معتقدین نے اس قدر کام کیا ہے کہ آج مولانا کے افکار پر لکھنے والے انہی مواد کو تڑکا لگا کر نئے قالب میں پیش کرتے ہیں۔ اس مضمون میں قرآنیات سے متعلق ایک ایسے مقالے کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے جو نصف صدی سے زیادہ عرصے سے مولانا سندھی کی طرف منسوب کیا جا رہا ہے مگر درحقیقت یہ مقالہ مولانا کا نہیں ہے بلکہ مولانا کے ایک شاگرد انیس احمد صاحب کا ہے۔
یہ مقالہ ہے "قرآن پاک کا مطالعہ کیسے کیا جائے؟" جو الگ سے دارالکتاب اردو بازار لاہور سے کتابی صورت میں بھی ۷۱ صفحات میں چھپ چکا ہے اور مولانا کے اردو امالی تفسیری افادات تفسیر المقام المحمود جلد اول میں بھی شامل ہے جو ۴۸ صفحات پر مشتمل ہے۔ ہمارے سامنے دارالکتاب اردو بازار لاہور کا جو نسخہ ہے اس پر مولانا سعید الرحمٰن علوی کا ۱۲ صفحات پر مشتمل "حرفے چند" اور مخدوم مکرم پروفیسر امجد علی شاکر صاحب کا "مولانا سندھی کا فہمِ قرآن" کے عنوان سے ۱۶ صفحات پر مشتمل مبسوط مقدمہ نما مضمون بھی شامل ہے۔ اس مضمون میں پروفیسر امجد علی شاکر صاحب لکھتے ہیں:
"امام سندھی نے ۱۹۱۴ء میں راولپنڈی میں آل انڈیا ایجوکیشنل کانفرنس میں خطبہ صدارت پڑھا، جس کا موضوع فہم القرآن ہے۔ یہ خطبہ صدارت ’قرآن پاک کا مطالعہ کیسے کیا جائے‘ کے عنوان سے شائع ہوا اور اب سے سہ بارہ شائع ہو رہا ہے۔"3
مولانا سندھی نے "فہم القرآن" کے نام سے خطبہ صدارت پڑھا ہوگا لیکن وہ کوئی الگ خطبہ ہوگا۔ جس مقالہ کی تقدیم کے طور پر پروفیسر امجد علی شاکر صاحب نے مولانا سندھی کا فہمِ قرآن کے عنوان سے مضمون لکھا ہے اور جسے شاکر صاحب "قرآن پاک کا مطالعہ کیسے کیا جائے" قرار دے رہیں، یہ انیس احمد صاحب مقالہ تعلیم قرآن ہے۔
یقیناً مولانا سندھی کے علوم و افکار پر مذکورہ دونوں صاحبان حوالہ ہیں۔ لیکن ایک مقالہ جو غلطی یا غفلت سے مسلسل مولانا سندھی کے نام سے شائع ہو رہا ہے اس کا حقیقی رخ دونوں صاحبان سے مخفی رہا ہے۔ خود براعظم پاک و ہند کی تاریخ کے محقق اور مولانا سندھی مرحوم کے معتقد ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہاں پوری مرحوم کو بھی مغالطہ ہوا تھا۔ وہ لکھتے ہیں:
"میں اس اعتراف سے باز نہیں رہ سکتا کہ میرے ایک عزیز و مخلص نے فریب کھایا اور ایک مرحوم دوست اور کرم فرما کی عدمِ توجہ سے ایک فاسد خیال یا فریب ایک تاریخی فتنہ بن گیا۔ میں اپنے آپ کو بھی اس سے کیوں کر بری کر سکتا ہوں کہ گذشتہ ۱۶، ۱۷ سال سے یہ مولانا سندھی سے غلط منسوب رسالہ میرے پاس موجود تھا اور میں نے اس پر غور ہی نہ کیا کہ یہ رسالہ مولانا سندھی کا ہے بھی کہ نہیں؟"4
۱۹۱۳ء میں مولانا سندھی مرحوم کے نظارۃ المعارف القرآنیہ دہلی دور کے شاگرد انیس احمد نے آل انڈیا محمڈن اینگلو اورینٹل ایجوکیشنل کانفرنس منعقدہ آگرہ میں قرآن کریم سے متعلق ایک مقالہ پڑھا، جسے ۱۹۱۴ء میں "کلیدِ قرآن" کے نام سے شائع کیا گیا اور ۱۹۱۴ء میں آل انڈیا محمڈن اینگلو اورینٹل ایجوکیشنل کانفرنس منعقدہ راول پنڈی میں انھوں نے قرآنی علوم ہی سے متعلق دوسرا مقالہ پیش کیا جسے ۱۹۱۵ء میں "تعلیمِ قرآن" کے نام سے شائع کیا گیا۔ کانفرنس کی جس نشست میں یہ مقالہ پیش کیا جا رہا تھا اس میں مولانا عبید اللہ سندھی مرحوم موجود تھے، انیس احمد کا یہی مقالہ "تعلیمِ قرآن" ہے جسے مسلسل مولانا عبید اللہ سندھی کے نام سے "قرآن پاک کا مطالعہ کیسے کیا جائے؟" کے عنوان سے چھاپا جا رہا ہے۔
ہمارے سامنے آل انڈیا محمڈن اینگلو اورینٹل ایجوکیشنل کانفرنس منعقدہ ۲۷, ۲۸, ۲۹ دسمبر ۱۹۱۴ء راولپنڈی کی روداد پر مشتمل رپورٹ موجود ہے جو ۵۳۳ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس اجلاس کی چھٹی نشست میں انیس احمد نے "تعلیمِ قرآن" کے عنوان سے مقالہ پیش کیا، جو اسی رپورٹ میں شامل ہے۔5
یہی مقالہ ہے جو مولانا سندھی کے نام سے الگ کتابی شکل میں بھی چھپ چکا ہے اور مولانا کے تفسیری افادات "تفسیر المقام المحمود" میں بھی شامل ہے۔ انیس احمد کا یہی مقالہ مطبع انسٹیٹیوٹ علی گڑھ سے الگ کتابی صورت میں ۷۴ صفحات میں شائع ہوا ہے۔ ہم نے دار الکتاب سے شائع شدہ "قرآن پاک کا مطالعہ کیسے کیا جائے؟" اور مکی دارالکتب لاہور سے شائع شدہ تفسیر المقام المحمود میں شامل "قرآن پاک کا مطالعہ کیسے کیا جائے؟" کو آل انڈیا محمڈن اینگلو اورینٹل ایجوکیشنل کانفرنس کے روداد پر مشتمل رپورٹ میں شامل "تعلیمِ قرآن" کے ساتھ دیکھا تو دونوں میں فرق صرف عناوین کا تھا۔ اول الذکر میں عناوین موجود ہیں، جب کہ اصل مقالہ یعنی آل انڈیا محمڈن اینگلو اورینٹل ایجوکیشنل کانفرنس کی رپورٹ میں شامل "تعلیمِ قرآن" عناوین کے بغیر اول تا آخر مکمل تحریر ہے۔ باقی مکمل مقالہ وہی ہے جو تعلیمِ قرآن کے نام سے انیس احمد نے آل انڈیا محمڈن اینگلو اورینٹل ایجوکیشنل کانفرنس میں پڑھا تھا اور جو مولانا سندھی کے نام سے "قرآن پاک کا مطالعہ کیسے کیا جائے؟" کے عنوان سے چھپ رہا ہے۔
اس تاریخی مقالے سے متعلق اتنی بڑی غلطی کیسے ہوئی اور انیس احمد کا مقالہ مسلسل مولانا سندھی کے نام سے کیسے شائع کیا جانے لگا؟ جس کا علم نہ مولانا سعید الرحمٰن علوی صاحب کو اور نہ پروفیسر امجد علی شاکر صاحب کو ہوا۔ ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہاں پوری مرحوم کی توضیح سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ بڑی غلطی، جسے اگر قصدًا کیا جائے تو علمی خیانت تصور کی جائے گی، غفلت اور تحقیقی پہلو نظر انداز کرنے سے ہوا۔ ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہاں پوری مرحوم لکھتے ہیں:
"یہ خطبہ تقریباً ۱۹۶۰ء میں مولانا نور الحق علوی کے ایک شاگرد مولوی عبدالرحمٰن کو ۲۵ سال پرانی ایک کاپی میں قلمی لکھا ہوا نظر آیا، حال آں کہ یہ خطبہ انیس احمد صاحب کا تھا، معاً یہ خیالِ فاسد بھی ان کے ذہن میں سما گیا کہ یہ خطبہ مولانا سندھی کا ہے، انھوں نے فورًا اسے نقل کیا اور اس کی ایک نقل اپنے استاد گرامی مولانا نور الحق کی خدمت میں پیش کر دی اور دوسری تبرک بنا کر اپنے پاس محفوظ کر لی۔ پھر انھیں خیال آیا کہ حالات کا تقاضا ہے کہ اسے چھاپ کر اس کے فیضان کو عام کر دیا جائے۔ چنانچہ قرآن پاک کا مطالعہ کیسے کیا جائے کے عنوان سے اسے چھاپ کر شایع کر دیا گیا۔ اس پر مزید ۳۰ برس گزر گئے کہ اچانک محمد صادق کاشمیری مرحوم کے خلف محترم کو اچانک یہ خطبہ ہاتھ لگا۔ انھوں نے کسی وجہ سے اس کی اشاعت کو مفید جانا اور گرامی قدر مولانا سعید الرحمٰن علوی کے 'حرفے چند' کے ساتھ اسے شائع کر دیا۔"6
نصف صدی سے زائد عرصے سے یہ مقالہ مولانا عبید اللہ سندھی کے نام سے شائع ہوتا آ رہا ہے۔ ہماری نظر سے ایسی کوئی تحریر نہیں گزری جس میں کسی صاحبِ علم نے اس کے مندرجات پر تنقید کی ہو۔ تاہم ایک سنجیدہ اور غور و فکر کرنے والا ذہن اس سوال پر ضرور متوجہ ہوگا کہ اگر ایک ایسا مقالہ، جس سے مولانا سندھی کا کوئی تعلق ہی نہیں، نصف صدی سے زائد عرصے تک مکمل طور پر انہی کی طرف منسوب ہو کر شائع ہوتا رہا ہے، تو یہ امکان بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ مولانا کے نام سے منسوب دیگر افکار و نظریات میں بھی کچھ ایسے ہوں جن سے ان کا کوئی تعلق نہ ہو اور ناقدین انہی منسوب کردہ افکار کو بنیاد بنا کر مولانا سندھی کے فکر پر نقد و جرح کرتے رہے ہوں۔
انیس احمد کی دونوں کتب کا ذکر ریشمی رومال سازش کیس کے استغاثہ کے پیراگراف نمبر ۱۸ اور ۱۹ میں آیا ہے:
پیراگراف نمبر ۱۸: "عبید اللہ نے قرآن کی جو خاص تشریح و تفسیر بنائی وہ جہاد کی فرضیت کے بارہ میں تھی، بتایا کہ اس موضوع پر عبید اللہ کی تعلیمات کو انیس احمد نے تعلیمِ قرآن اور کلیدِ قرآن نام کی دو کتابوں میں ۱۹۱۴ء، ۱۹۱۵ء میں تعین و صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔
پیراگراف نمبر ۱۹: ان دونوں کتابوں میں مختصراً ہندوستانی مسلمانوں سے کہا گیا ہے کہ ان کی موجودہ حالتِ محکومی کی وجہ صرف یہ ہے کہ انہوں نے ایک بڑے مذہبی فریضہ جہاد کو نظر انداز کر دیا ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے شروع کے متبعین نے اس فریضہ پر عمل کر کے دنیاوی اقتدار اور مذہبی سر بلندی حاصل کی تھی۔ کم از کم ان میں سے ایک کتاب عبید اللہ کی ہدایت پر احمد علی کی مدد سے اس وقت لکھی گئی جب کہ انیس احمد اور احمد علی دونوں نظارہ سے تنخواہ پاتے تھے، ایک اہم بات یہ ہے کہ قانون کے مطابق ان کتابوں کے نسخے حکومت کو پیش کیے بغیر ہی ان کی تقسیم شروع کر دی گئی۔7
اس کے بعد استغاثہ کے پیراگراف نمبر ۷۷ میں مطبوعات کے ذریعہ انقلابی پروپیگنڈا مہم چلانے اور اشتعال انگیز لٹریچر کے ذریعے ہندوستان میں انقلاب کا راستہ صاف کرنے کے سلسلے میں سب سے پہلے انیس احمد کی دونوں کتب "تعلیمِ قرآن" اور "کلیدِ قرآن" کا تذکرہ کیا گیا ہے:
"انیس احمد کی تحریر کردہ اردو کتابوں تعلیمِ قرآن اور کلیدِ قرآن میں صاف الفاظ میں مسلمانانِ ہند کو تلقین کی گئی ہے کہ ان پر اس وقت بھی جہاد اتنا ہی فرض ہے جتنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی زمانہ کے پیروؤں پر فرض تھا۔8
تعلیمِ قرآن اور کلیدِ قرآن کے علاوہ خود انیس احمد کا بھی ریشمی رومال سازش کیس میں تذکرہ موجود ہے۔ استغاثہ کے پیراگراف نمبر ۱ میں برٹش گورنمنٹ کے خلاف اندرون و بیرون ملک سازش کرنے والے ۵۹ افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ جن سے محکمہ خفیہ نے بیانات لے کر قلم بند کیے تھے ان افراد میں انیس احمد کا نام بھی ہے۔9 ان ۵۹ افراد میں سے محکمہ خفیہ نے صرف ۱۴ افراد کے بیانات لیے، جن میں انیس احمد بھی شامل ہے۔ لیکن انیس احمد کو مولانا محمد میاں نے قابلِ اعتماد قرار نہیں دیا۔ وہ لکھتے ہیں:
"مولوی انیس احمد بی اے وہ عجیب انسان تھا جو نظارة المعارف کا متعلم رہا پھر مولانا سندھی اور حضرت شیخ الہند کا حاضر باش رہا لیکن قابلِ اعتماد کبھی نہیں ہوا۔ مشکوک اور مشتبہ رہا۔ اس کا بیان پڑھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ قابلِ اعتماد نہیں تھا بلکہ مزاج میں اعتدال بھی نہیں تھا۔ جیسے ہی حضرت شیخ الہند ہندوستان سے روانہ ہوئے اُس نے علی گڑھ میں ملازمت کے لیے درخواست دے دی چنانچہ اس کو ایک سو روپیہ کی فیلو شپ مل گئی جیسا کہ خود اس نے اپنے ۲۵ نومبر ۱۹۱۶ء کے بیان میں ظاہر کیا ہے، اس کے بعد علی گڑھ کالج کے اسسٹنٹ سیکرٹری ہو گئے۔"10
انیس احمد ۱۹۰۹ء میں حضرت شیخ الہند اور صاحب زادہ آفتاب احمد خاں کے درمیان اس معاہدے کے نتیجے میں دارالعلوم دیوبند آئے تھے جس کے تحت علی گڑھ سے کچھ طلبہ دارالعلوم اور دارالعلوم سے کچھ طلبہ علی گڑھ جا کر ایک جگہ منتخب نصاب کے تحت پڑھنے والے تھے۔ لیکن ۱۹۱۳ء میں جب مولانا سندھی کو دارالعلوم دیوبند سے نکال دیا گیا تو ان کے ساتھ انیس احمد کو بھی نکال دیا گیا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں انیس احمد کے ساتھ قاضی ضیاء الدین اور خواجہ عبد الحی فاروقی بھی تھے۔
انیس احمد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ حضرت شیخ الہند کی گرفتاری میں ان کا خاص حصہ تھا۔ ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہاں پوری رقم طراز ہیں:
"حضرت شیخ الہند کی گرفتاری میں ان کا (انیس احمد کا) خاص حصہ تھا لیکن ان کی خدمات کا دائرہ وسیع اور مدت طویل ہے اور پھر وہ تنہا نہیں ہیں۔ ان کے والد گرامی خان بہادر ادریس ان کے باپ ان کے مربی اور علی گڑھ کالج سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے کارنامے عظیم تھے لیکن وقت کوتہ و داستان طویل ہے اور میں معذرت خواہ ہوں۔"11
انیس احمد اور ان کے والد ادریس احمد کی برٹش گورنمنٹ کے لیے خدمات کے بارے میں ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہاں پوری نے طویل مضمون لکھا ہے، اس مضمون میں مولانا ظفر علی خاں مرحوم کی ایک ہجویہ نظم بھی نقل کی ہے۔ جو پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔
ملاحظہ ہو ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہاں پوری کا مضمون "داڑھی ہے تو کیا غم ہے۔"12
حوالہ جات
- مولانا عبید اللہ سندھی حیات و خدمات مطبوعہ سندھ ساگر اکادمی صفحہ ۲۶۳
- مولانا عبید اللہ سندھی کے علوم و افکار مطبوعہ ادارہ نشر و اشاعت جامعہ نصرۃ العلوم گوجراں والہ صفحہ ۱۳
- قرآن پاک کا مطالعہ کیسے کیا جائے؟ مطبوعہ دار الکتاب غزنی اسٹریٹ اردو بازار لاہور صفحہ ۳۱
- مولانا عبید اللہ سندھی حیات و خدمات مطبوعہ سندھ ساگر اکادمی صفحہ ۲۷۵
- رپورٹ متعلق اجلاس بست و ہشتم آل انڈیا محمڈن اینگلو اورینٹل ایجوکیشن کانفرنس بمقام راولپنڈی مطبوعہ انسٹی ٹیوٹ پریس علی گڑھ صفحہ ۱۹۱
- مولانا عبید اللہ سندھی حیات و خدمات مطبوعہ سندھ ساگر اکادمی صفحہ ۲۷۵
- تحریک شیخ الہند مؤلفہ مولانا محمد میاں مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ کراچی صفحہ ۲۶۷, ۲۶۸
- تحریک شیخ الہند مؤلفہ مولانا محمد میاں مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ کراچی صفحہ ۲۹۹
- تحریک شیخ الہند مؤلفہ مولانا محمد میاں مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ کراچی صفحہ ۲۵۳
- تحریک شیخ الہند مؤلفہ مولانا محمد میاں مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ کراچی صفحہ ۱۴۸
- شیخ الہند مولانا محمود حسن بیسویں صدی کے عظیم قومی راہنما مطبوعہ جمعیت پبلی کیشنز صفحہ ۲۲۸/ ۲۲۹
- شیخ الہند مولانا محمود حسن بیسویں صدی کے عظیم قومی راہنما جمعیت پبلی کیشنز صفحہ ۷۴۶





















