’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۸)

حضور ﷺ کی گھریلو زندگی

خطبہ نمبر 7: مؤرخہ 25 دسمبر 2016ء

الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علیٰ سیّد المرسلین وعلیٰ اٰلہ و اصحابہ و اتباعہ اجمعین اما بعد۔

حضرات علمائے کرام محترم بزرگو، دوستو اور ساتھیو!

آج حضرت خاتم النبیین ﷺ کے گھر کے اندر کے ماحول کے حوالے سے کچھ باتیں نسبت و محبت کے لیے، عقیدت کے لیے، رہنمائی کے لیے اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا کے لیے عرض کروں گا۔ دعا کریں کہ اللہ رب العزت کچھ مقصد کی باتیں کہنے سننے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور دینِ حق کی بات جو علم میں آئے، سمجھ میں آئے، اللہ پاک عمل کی توفیق سے بھی نوازے۔

خاتم النبیین ﷺ کی گھریلو زندگی کا آغاز

خاتم النبیین ﷺ کے اپنے گھر کا آغاز یوں ہوا تھا کہ جب حضور ﷺ کا نکاح ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا سے ہوا تو وہاں سے حضور ﷺ کی گھریلو زندگی کی ابتدا ہوئی۔ مکہ مکرمہ میں جناب خاتم النبیین ﷺ نے اور کوئی نکاح نہیں فرمایا۔ پچیس سال کی عمر میں نبی کریم ﷺ کا نکاح ہوا تھا اور پچیس سال ہی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ گزارے ہیں، سن گیارہ نبویؐ میں ان کا انتقال ہوا۔ تو پھر اگلے مراحل پیش آئے۔ یہ پہلی زوجہ مکرمہ تھیں اور نبی ﷺ کے بچوں کی ماں بھی تھیں۔ 

[قال: اول امراۃ تزوجہا رسول اللہ ﷺ خدیجۃ، سنن الکبریٰ للبیہقی، باب تسمیۃ ازواج النبی، حدیث نمبر: 13423]

جناب خاتم النبیین ﷺ کی ساری کی ساری اولاد سوائے حضرت ابراہیم کے حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا سے ہوئی۔ چار بیٹیاں، تین بیٹے یا چار باختلافِ روایات۔ حضرت قاسم کے بارے میں آتا ہے کہ بلوغت کے قریب تھے، تیرہ چودہ سال عمر تھی، گھوڑے پر سواری بھی کر لیتے تھے، پھر ان کا انتقال ہوا۔ اسی نسبت سے جناب خاتم النبیین ﷺ کو ابوالقاسم کہا جاتا ہے۔ حضرت عبداللہ کا بھی نام آتا ہے، ایک بچے کا نام طاہر اور طیب بھی آتا ہے، لیکن ان میں سے جوان کوئی نہیں ہوا۔ بیٹیاں بڑی ہوئی ہیں اور ان کی شادیاں بھی ہوئی ہیں، ان کی اولاد بھی ہوئی۔ خاتم النبیین ﷺ نے بیٹیوں کو پالا بھی ہے، بیٹیوں کو عزت بھی دی ہے، بیٹیوں کی اولاد کو بھی پالا ہے۔ پوتا تو حضور ﷺ کے ہاں نہیں تھا لیکن ظاہراً‌ ایک تھا جس کو پوتے کی طرح پالا تھا، اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ، ان کی حضور ﷺ کے گھر میں ہی پرورش ہوئی، آپؐ کے ہاتھوں میں جوان ہوئے ہیں۔

میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بات کر رہا تھا۔ میاں بیوی کی وہ محبت اور میاں بیوی کا وہ تعلق پوری دنیا کے لیے مثالی ہے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا مکہ مکرمہ کی بڑی مالدار خاتون تھیں۔ انہوں نے سارے کا سارا مال جناب خاتم النبیین ﷺ پر خرچ کر دیا۔ حضور ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ دو آدمیوں کے احسان میں نہیں بھلا سکتا کہ انہوں نے سب کچھ مجھ پر نچھاور کر دیا۔ مردوں میں حضرت ابوبکرؓ اور عورتوں میں حضرت خدیجہؓ (صحیح بخاری، باب دعاء النبی تالناس الی الاسلام والنبوۃ، حدیث نمبر: 2941)۔ یہ وہی خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا ہیں کہ خاتم النبیین ﷺ پر جب غارِ حرا میں وحی آئی، وہ واقعہ جو زندگی میں انوکھا واقعہ تھا، حضورؐ پر گھبراہٹ طاری تھی، حضورؐ فرماتے ہیں:

لقد خشیت علیٰ نفسی۔ 
(مجھے اپنے بارے میں ڈر لگنے لگا۔)

[فقال لخدیجۃ واخبرھا الخبر: لقد خشیت علیٰ نفسی، فقالت خدیجۃ: کلا واللہ ما یخزیک اللہ ابدا، انک لتصل الرحم، وتحمل الکل، وتکسب المعدوم، وتقری الضیف، وتعین علیٰ نوائب الحق، صحیح بخاری، کیف کان بدء الوحی، حدیث نمبر: 3]

حضور ﷺ کو سنبھالنے والی کون تھیں؟ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا۔ بیوی کا یہی کام ہوتا ہے کہ خاوند کی پریشانی میں اضافہ کرنے کی بجائے مصیبت میں اس کے کام آئے۔ مصیبت میں اور پریشانی میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے سنبھالا اور یہ حضور ﷺ کو ہمیشہ یاد بھی رہیں۔ حضرت خدیجہؓ مکہ میں سنہ 11 نبویؐ میں فوت ہو گئی تھیں۔ مدینہ جا کر حضور ﷺ نے اور نکاح کیے۔ 

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حضور ﷺ کی بیویوں میں حضورؐ کو سب سے زیادہ محبوب تھیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیٹی تھیں، ذہین و فطین بھی تھیں، اللہ پاک نے بہت سے کمالات سے نوازا تھا۔ تو وہ کہتی ہیں کہ مجھے کسی پر اتنی غیرت نہیں آئی جتنی اس وقت آتی تھی جب حضور ﷺ بار بار حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کرتے تھے۔ خدیجہؓ ایسی تھیں، خدیجہؓ ایسی تھیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا، ایک دن میں نے کہا، یارسول اللہؐ! وہ بزرگ خاتون آپ کو بھولتی نہیں ہیں۔ ہر بات میں ان کا ذکر فرماتے ہیں، آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے اچھی بیویاں دی ہیں۔ اور اچھی بھی تھیں، اس میں کوئی شک نہیں۔ جب حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی کوئی سہیلی آتی، آپ ﷺ کہتے کہ خدیجہؓ کی سہیلی آئی ہے اس کو کھلاؤ پلاؤ۔ تو جناب خاتم النبیین ﷺ نے ایک جملے میں بات فرمائی کہ: عائشہ! خدیجہ بھولنے والی چیز نہیں ہے، وہ میرے دکھ کے وقت کی ساتھی تھیں اور تم میرے سکھ کے وقت کے ساتھی ہو اور تکلیفوں اور دکھوں کا دور کبھی نہیں بھولتا۔

[عن عائشۃ رضی اللہ عنہا، قالت: ما غر تعلی احد من نساء النبی ﷺ، ما غرت علی خدیجۃ، وما رایتہا، ولکن کان النبی ﷺ یکثر ذکرھا، وربما ذبح الشاۃ ثم یقطعہا اعضاء، ثم یبعثہا فی صدائق خدیجۃ، فربما قلت لہ: کانہ لم یکن فی الدنیا امراۃ الا خدیجۃ، فیقول انہا کانت، وکانت، وکان لی منہا ولد، صحیح بخاری، باب تزویج النبی صلی اللہ علیہ وسلم خدیجۃ، حدیث نمبر: 3818]

تو جناب خاتم النبیین ﷺ کے گھر کا آغاز ہوا تھا ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے۔ حضورؐ کے حرم میں بہت سی خواتین آئیں۔ حضرت سودہ بنت زمعہ، حضرت ام حبیبہ، حضرت زینب بنت جحش، حضرت زینب ام المساکین، حضرت حفصہ، حضرت عائشہ، حضرت ماریہ، حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہن۔

حضور ﷺ کا گھر والوں اور خادموں کے ساتھ حسنِ سلوک

حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:

خیرکم خیرکم لاھلہ، وانا خیرکم لاھلی۔ (سنن ترمذی، باب فی فضل ازواج النبی، حدیث نمبر: 3895)
(تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے ساتھ اچھا سلوک کرے، اور میں تم میں سے اپنے گھر والوں کے ساتھ بہترین سلوک کرنے والا ہوں۔) 

جناب خاتم النبیین ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: تم میں سے سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا ہے۔ گھر میں اُس کا سلوک کیا ہے، گھر والوں کے ساتھ معاملہ کیا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ نے گھر کے معاملات میں کبھی سختی نہیں کی۔ دین کے معاملات میں اگر اونچ نیچ ہو جاتی تو آپؐ کے لہجے میں سختی آجاتی۔ ورنہ کبھی گھر میں کوئی نقصان ہو گیا، کوئی برتن ٹوٹ گیا، یا صحیح وقت پر کام نہیں ہوا (ہمارے ہاں لڑائی کی اکثر یہی صورتیں ہوتی ہیں)، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ جناب خاتم النبیین ﷺ  نے کسی بات پر ڈانٹا ہو، کبھی کسی بات پر ٹوکا ہو۔ (صحیح بخاری، باب: کم التعزیر، حدیث نمبر: 6853)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے دس سال حضور ﷺ کے ساتھ بطور خادم کے گزارے ہیں۔ یہ بھی حضور ﷺ کے گھر کے فرد ہی تھے۔ حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ میری والدہ بہت سمجھ دار تھیں۔ جب حضور ﷺ ہجرت کر کے تشریف لائے، اس وقت میرے والد گھر سے ناراض ہو کر کہیں چلے گئے۔ میری والدہ اور میں، ہم دونوں تھے۔ والدہ کا نام ام سُلیم رضی اللہ عنہا تھا۔ یہ خاتم النبیین ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں، یارسول اللہ! میں بے سہارا عورت ہوں، میرا خاوند کہیں چلا گیا ہے، معلوم نہیں کہاں گیا ہے، اور یہ ایک بیٹا میرے پاس ہے، میں یہی آپ کے لیے وقف کرتی ہوں۔ آج کے بعد یہ میرا نہیں آپ کا خادم ہے، یہ آپ کی خدمت کرے گا۔ میری ماں بڑی سمجھ دار تھیں کہ مجھے حضور ﷺ کے حوالے کر گئیں۔ میں دس سال کی عمر میں حضور ﷺ کی خدمت میں آیا اور دس سال حضور ﷺ کی خدمت میں گزارے، اور اکیس سال میری عمر تھی جب حضور ﷺ کا وصال ہوا۔ (صحیح بخاری، باب دعاء النبی تالناس الی الاسلام والنبوۃ، حدیث نمبر: 2941)

ایک اور واقعہ بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ عام طور پر لوگوں کے گھروں میں نہیں جایا کرتے تھے، بس اپنے گھر، مسجد، اور ضرورت کی جگہ، لیکن ہمارے گھر آیا کرتے تھے۔ ام سُلیم اور ام حرام رضی اللہ عنہما دونوں بہنیں تھیں، اور بعض روایات کے مطابق یہ دونوں دودھ کے رشتے میں حضور ﷺ کی خالہ بھی لگتی تھیں۔ ہم سے جو حضور ﷺ کی خدمت ہو سکتی، کرتے تھے۔ ایک دن آپؐ چاشت کے وقت تشریف لائے تو میری والدہ نے درخت کے نیچے چارپائی بچھا کر دی۔ آپؐ تھوڑا آرام فرما کر اٹھے، میری والدہ نے کھجوریں اور دودھ وغیرہ پیش کیا، آپؐ نے قبول فرمایا۔ پھر آپ ﷺ نے وضو کیا، دو رکعت چاشت کی نماز پڑھی، جب نماز پڑھ کر دعا مانگ رہے تھے، یہاں انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری ماں کتنی سمجھدار تھیں، میرا ہاتھ پکڑا اور حضور ﷺ کے سامنے کھڑا کر دیا۔ کہا ’’خویدمک یا رسول اللہ ﷺ‘‘ یہ آپؐ کا ننھا خادم ہے، اس کے لیے دعا فرما دیں۔ آپؐ نے پوچھا کہ کیا دعا مانگوں تمھارے لیے؟ میں نے کہا، یا رسول اللہ! لمبی عمر چاہیے، زیادہ پیسے چاہئیں، بہت سی اولاد چاہیے۔ 

[قالت امی: یا رسول اللہ خویدمک، ادع اللہ لہ، قال فدعا لی بکل خیر، صحیح مسلم، باب من فضائل انس بن مالک رضی اللہ عنہ، حدیث نمبر: 142]

اس دعائے نبویؐ کا فیضان تھا کہ خود سو سال سے زائد عمر پائی ہے اور آخر تک بالکل سیدھے اور تندرست تھے۔ فرماتے ہیں کہ خود اپنے ہاتھ سے جو بیٹے، بیٹیاں، پوتے، پوتیاں، نواسے، نواسیاں دفن کر چکا ہوں وہ سب نوے (۹۰) کے لگ بھگ ہیں۔ اور بعض روایات کے مطابق ان کی وفات کے وقت دو سو کے لگ بھگ موجود تھے۔ مجھ سے کوئی دوست مسئلہ پوچھتا ہے کہ ختمِ قرآن پر جلسہ کرنا کیسا ہے؟ میں کہا کرتا ہوں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ اپنے معمول کے ختمِ قرآن پر خاندان والوں کی دعوت کیا کرتے تھے اور حضرت انس ؓ کے خاندان والوں کی دعوت ہمارے کسی بھی چھوٹے جلسے سے بڑی ہوتی تھی۔

اپنے مال کے بارے میں کہتے ہیں کہ اندازے سے بھی نہیں بتا سکتا کہ میرے پاس کتنا مال ہے۔ حضرت انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ دس سال میں نے حضور ﷺ کے ساتھ ذاتی خادم کے طور پر گزارے ہیں۔ کبھی کسی بچے اور عورت پر حضور ﷺ نے ہاتھ نہیں اٹھایا۔ یہ حضور ﷺ کے گھر کی زندگی ہے۔ 

ایک دلچسپ قصہ بیان کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ مجھے حضور ﷺ نے کسی کام بھیجا۔ میں باہر گیا، وہاں بچے کھیل رہے تھے، میں نے بھی ان کے ساتھ کھیلنا شروع کر دیا اور بھول ہی گیا کہ حضورؐ نے مجھے کسی کام بھیجا ہے۔ کافی دیر گزر گئی، میں واپس نہیں گیا، تو حضور ﷺ خود باہر تشریف لائے۔ آپؐ کو دیکھتے ہی مجھے یاد آ گیا۔ آپ ﷺ میرے پاس تشریف لائے، سر پر ہاتھ پھیرا اور تھوڑا سا کان پکڑا اور فرمایا: انس! تجھے کام بھیجا تھا۔ میں نے کہا، یا رسول اللہ! جاتا ہوں ابھی جاتا ہوں۔ پورے دس سال میں صرف یہی ایک واقعہ ہوا۔ (صحیح مسلم، باب کان رسول اللہ تاحسن الناس خلقا، حدیث نمبر: 54)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ نے کبھی نہیں ڈانٹا، صرف دینی معاملات میں تھوڑی بہت روک ٹوک وغیرہ کرتے تھے۔ بخاری شریف کی روایت ہے۔ رمضان کی راتیں تھیں، حضور ﷺ اٹھے اور فرمایا: یہ حجرے والیاں سوئی پڑی ہیں، ان کو اٹھاؤ کہ اٹھ کر نماز پڑھیں (صحیح بخاری، باب تحریض النبی تعلی صلاۃ اللیل، حدیث نمبر: 1126)۔ دینی معاملات میں ایسا ہوتا تھا لیکن دنیاوی معاملات میں کبھی نقصان ہو گیا، کبھی یہ نہیں ہوا، کبھی وہ نہیں ہوا۔ آپ ﷺ نے کبھی بھی سختی نہیں فرمائی۔ یہ حضور ﷺ کے گھر کا ماحول تھا۔

گھر والوں کو محبت و احترام دینا

حضور ﷺ بیوی کو بیوی سمجھتے تھے، محبت بھی کرتے اور احترام بھی دیتے تھے۔ میں نے ایک واقعہ پہلے عرض کیا تھا، اب دوبارہ عرض کرتا ہوں۔ یہ بظاہر چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں لیکن حقیقت میں بڑی باتیں ہیں۔ ہماری گھریلو زندگی میں جو مسائل کھڑے ہوتے ہیں تو ان معاملات میں اگر یہ دیکھ لیں کہ حضور ﷺ کیا کرتے تھے تو بہت سے مسائل پیدا ہی نہ ہوں۔ ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ اس حوالے سے معروف ہے۔ 

[عروۃ بن الزبیر، ان عائشۃ، زوج النبی اخبرتہ: ان النکاح فی الجاہلیۃ کان علی اربعۃ انحاء…الخ، صحیح بخاری، باب من قال لا نکاح الا بولی، حدیث نمبر 5127]

یہ معاشرتی معاملہ ہے، اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے، تو میں کہا کرتا ہوں کہ صرف بیوی کی نہیں بلکہ اس کے خاندان کی عزت بھی حضور ﷺ کی سنت ہے۔ حضور ﷺ نے ان کے خاندان کی عزت اور وقار کا خیال کیا کہ کہیں آپ کے خاندان کی آپ کی وجہ سے بے توقیری نہ ہو جائے، ان کے وقار پر فرق نہ پڑ جائے۔

خاتم النبیین ﷺ کی بیک وقت نو بیویاں تھیں (یہ صرف آپ ﷺ کی خصوصیت ہے، ویسے چار سے زائد سے بیک وقت نکاح کرنا جائز نہیں)۔ آپس میں بیویوں میں کچھ نہ کچھ بات ہو جاتی ہے۔ بڑا دلچسپ واقعہ ہے۔ حضور ﷺ حضرت عائشہؓ کے حجرے میں تھے تو کسی نے پیالے میں کوئی کھانے کی چیز بھیجی۔ تو ان کو تھوڑا غصہ آ گیا کہ میری باری کے دن میں اور میرے گھر میں اس نے کیوں بھیجا ہے۔ غصے میں پیالے کو ہاتھ مارا تو پیالہ گر کر ٹوٹ گیا۔ حضور ﷺ نے خادم کو روک لیا کہ کہیں واپس جا کر خبر نہ دے دے وگرنہ مسئلہ گڑبڑ ہو جائے گا۔ آپ ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے نیا پیالہ لیا اور سارا کھانا سمیٹا اور نیا پیالہ خادم کو دیا اور ٹوٹا ہوا پیالہ حضرت عائشہؓ کے سپرد کیا۔ (صحیح بخاری، باب اذا کسر قصعۃ او شیئا لغیرہ، حدیث نمبر: 2481)

گھر والوں کے ساتھ دل لگی اور بے تکلفی

یہ بظاہر چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں لیکن حضور ﷺ ان کا بھی خیال فرمایا کرتے تھے۔ آپس میں دل لگی بھی فرمایا کرتے تھے۔ وفات سے چند دن پہلے کی بات ہے، حضور ﷺ بیمار تھے، نیم بے ہوشی کی کیفیت تھی۔ آپ ﷺ سن بھی رہے تھے، دیکھ بھی رہے تھے، لیکن کچھ کہہ نہیں سکتے تھے۔ نیم بے ہوشی کی یہی کیفیت ہوتی ہے۔ گھر والوں نے مشورہ کیا کہ دوا پلانی ہے۔ حضور ﷺ نے اشارہ کیا کہ نہیں پلانی، میں نہیں پیوں گا۔ گھر والوں نے کہا کہ مریض تو کہتا ہی ہے کہ نہیں پیوں گا۔ آپ ﷺ کو گھر والوں نے پکڑا اور دوا پلا دی۔ آپؐ کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ بھی پاس تھے۔ 

جب حضور ﷺ کو افاقہ ہوا تو آپؐ نے فرمایا کہ میں نے تمہیں منع کیا تھا کہ نہیں پلانی دوا، کیوں پلائی ہے؟ سب نے جواب دیا، یارسول اللہ! مریض تو منع کرتا ہی ہے۔ آپؐ نے فرمایا، نہیں، اب سارے باری باری ایک دوسرے کو جکڑو اور جس طرح مجھے پلائی اسی طرح ایک دوسرے کو یہی دوائی پلاؤ۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپؐ نے فرمایا، ان کو مت پلاؤ، یہ پلانے والوں میں نہیں تھے۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں، میرا روزہ ہے۔ آپؐ نے فرمایا کوئی روزہ نہیں ہے، ان کو بھی جکڑو اور دوا پلاؤ۔ تو یہ بے تکلفی کا ماحول گھر میں ہوا کرتا تھا۔ حضور ﷺ خود بھی بے تکلفی فرماتے اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کی بھی آپس میں بے تکلفی ہوتی تھی۔ (صحیح بخاری، باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ووفاتہ، حدیث نمبر : 4458)

حضور ﷺ کبھی کبھار کسی بات پر ڈانٹ بھی دیا کرتے تھے۔ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا قد کی ذرا چھوٹی تھیں۔ یہ یہودی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں، خیبر کے سردار حی ابن اخطب کی بیٹی تھیں، جنگ میں قید ہو کر آئی تھیں۔ حضور ﷺ نے آزاد کر کے ان سے نکاح فرما لیا تھا۔ بہت ہی اچھی اور معزز خاتون تھیں۔ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہاتھ کے اشارے سے کہا کہ وہ (پست قد)۔ آپ ﷺ نے ڈانٹ دیا، فرمایا کہ عائشہ! کیا کر رہی ہو، اس طرح مذاق نہیں اڑایا کرتے، یہ تم نے کیا کہا۔  (صحیح بخاری، باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ووفاتہ، حدیث نمبر : 4458)

یہ بے تکلفی کی باتیں ہیں۔ خاتم النبیین ﷺ کا ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے ساتھ پیار کا، احترام کا اور بے تکلفی کا رشتہ تھا۔ بے شمار واقعات ہیں، میں نے دو تین عرض کیے ہیں۔

رضاعی بہن کے ساتھ نبی ﷺ کا حسنِ سلوک

جو حضرت شیما رضی اللہ عنہا کے حوالہ سے بیان ہو چکا ہے، اس حوالے سے دیکھیں۔ (اسی کتاب کی نشست نمبر 6)

بیٹیوں کے ساتھ حسنِ معاشرت

بیٹا تو آپ ﷺ کا جوان نہیں ہوا، البتہ بیٹیاں تھیں۔ حضور ﷺ نے بیٹیاں کیسے پا لیں؟ میں ایک بات عرض کیا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی تکوینی حکمت ہے، جس معاشرے میں بیٹیوں کو عار سمجھا جاتا تھا، حضور ﷺ نے اس معاشرے میں چار بیٹیاں پال کر، بیاہ کر دکھائیں کہ بیٹی کسے کہتے ہیں اور اسے رخصت کیسے کیا جاتا ہے۔ اس وقت معاشرے کی عمومی کیفیت یہ تھی:

واذا بشر احدھم بالانثیٰ ظل وجہہ مسودا وھو کظیم یتواریٰ من القوم من سوء ما بشر بہ ایمسکہ علیٰ ھون ام یدسہ فی التراب۔ (سورۃ النحل: 16، آیت: 58)
(اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی (پیدائش) کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے، اور وہ دل ہی دل میں کڑھتا رہتا ہے۔ اس خوشخبری کو برا سمجھ کر لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے (اور سوچتا ہے کہ) ذلت برداشت کر کے اسے اپنے پاس رہنے دے یا اسے زمین میں گاڑ دے۔)

جب کسی کو بیٹی کی ولادت کی خبر دی جاتی تو اس کا چہرہ شرم کے مارے سیاہ ہو جاتا تھا۔ وہ لوگوں سے چھپتا پھرتا تھا کہ کوئی مجھے بیٹی کا باپ نہ کہہ دے۔ اور اس کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا تھا کہ ذلت کے ساتھ اس کو برداشت کروں یا نام نہاد عزت کی خاطر اس کو دفن کر دوں۔ اللہ اکبر کبیرا! جس معاشرے میں یہ کیفیت تھی اس معاشرے میں حضور ﷺ نے چار بیٹیاں پالیں، پرورش کی، عزت دی، احترام دیا، ان کی شادیاں کیں، اور ان کی اولاد کو سینے سے لگایا۔ حضور ﷺ نے بتایا کہ بیٹی کیا ہوتی ہے اور بیٹی کی اولاد کیا ہوتی ہے۔

حضرت زینب رضی اللہ عنہا حضور ﷺ کی بڑی بیٹی تھیں، ان کا نکاح حضرت ابوالعاصؓ سے ہوا تھا۔ حضرت زینبؓ سے ان کا نکاح خالہ زاد رشتہ کے ساتھ ہوا تھا۔ بدر میں قیدی بن کر آئے تو حضور ﷺ نے اعلان فرمایا، فدیہ لے کر چھوڑ دو۔ حضرت ابو العاصؓ کے پاس کچھ نہیں تھا، حضرت زینبؓ کو پتہ چلا تو انہوں نے اپنا ہار بھیجا کہ ہار دے کر اپنی جان چھڑوائیں۔ حضرت ابو العاصؓ نے بطور فدیہ کے وہ ہار پیش کیا، جب حضور ﷺ نے دیکھا تو آپ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آگئے کیونکہ یہ وہی ہار تھا جو نکاح کے موقع پر حضرت خدیجہؓ نے اپنی بیٹی زینبؓ کو دیا تھا۔ آپ ﷺ نے صحابہ کرامؓ سے اجازت لی اور ہار حضرت ابو العاصؓ کو واپس کر دیا۔

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ

ایک دن حضور ﷺ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ملنے گئے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ گھر میں موجود نہیں تھے۔ حضور ﷺ نے پوچھا، میرا چچا زاد کہاں ہے؟ (یہ ایک محبت آمیز جملہ تھا، مراد تھی کہ تمھارا خاوند کہاں ہے؟) حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا، یا رسول اللہ! کچھ جھگڑا ہو گیا تھا، وہ ناراض ہو کر باہر چلے گئے۔ (آپس میں جھگڑا ہو جاتا ہے، یہ فطری بات ہے)۔ یا رسول اللہ! مسجد میں سوئے ہوں گے۔ حضور ﷺ مسجد میں تشریف لے گئے۔ حضرت علیؓ مسجد میں سوئے ہوئے تھے ننگی زمین پر، کمر پر مٹی لگی ہوئی تھی۔ حضور ﷺ محبت سے بیٹھے اور بڑے پیار سے کمر پر سے مٹی جھاڑنے لگے، فرمانے لگے:

قم ابا تراب، قم ابا تراب (صحیح بخاری، باب نوم الرجال فی المسجد، حدیث نمبر: 441)
(اے مٹی والے اٹھ جا، اے مٹی والے اٹھ جا۔)

آپ ﷺ نے حضرت علیؓ کو محبت سے راضی کیا اور راضی کر کے واپس گھر بھیجا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد مجھے سب سے زیادہ یہ ابوتراب والی کنیت اچھی لگتی تھی کیونکہ یہ الفاظ جناب خاتم النبیین ﷺ نے بطور محبت کے کہے تھے۔ یہ لقب حضور ﷺ نے انہیں دیا تھا۔

ایک اور واقعہ عرض کرتا ہوں۔ کسی نے آکر خبر دی کہ یہ بات مشہور ہو گئی حضرت علیؓ کے بارے کہ وہ ابوجہل کی بیٹی سے (جو مسلمان ہو گئی تھی) نکاح کرنا چاہتے تھے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا تک یہ بات پہنچی تو پریشان ہو گئیں کیونکہ انہوں نے اذیتوں کا وہ مکی دور دیکھا تھا، بارہ تیرہ سال کا اذیتوں کا دور۔ حضرت فاطمہؓ پریشان تھیں۔ فطری بات ہے کہ عورت پریشان ہوتی ہے۔ پھر ابوجہل کی بیٹی سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ نکاح کرنا چاہتے ہیں۔ حضرت فاطمہؓ سوچنے لگیں کہ ابوجہل کی بیٹی کے ساتھ میرا گزارا نہیں ہوگا۔ حضرت فاطمہؓ حضورؐ کی خدمت میں پہنچیں اور جا کر عرض کیا، یارسول اللہ، آپؐ کے عم زاد (حضرت علیؓ) ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتے ہیں۔ پھر یہ کہا کہ آپؐ بیٹیوں کا لحاظ بھی کرتے ہیں یا نہیں! حضور ﷺ نے مجمع میں جا کر اعلان فرمایا کہ نبی کی بیٹی اور ابوجہل کی بیٹی ایک گھر میں نہیں رہیں گی (صحیح بخاری، باب ذکر، احتبار النبی، حدیث نمبر: 3739)۔ یہ معاشرتی اسباب کے طور پر آپؐ نے فرمایا کہ ایک دشمنِ دین کے گھر کی تربیت اور نبی کے گھر کی تربیت والی بچی ایک گھر میں گزارا نہیں کر سکے گی۔ حضور ﷺ کا اپنی بیٹیوں کے ساتھ اس قدر پیار اور محبت والا رشتہ تھا۔

آخری بات حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ حضور ﷺ کے وصال سے چند دن پہلے کی بات ہے۔ حضور ﷺ علیل ہیں، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا خیریت دریافت کرنے کے لیے تشریف لائیں۔ (باقی تینوں بیٹیاں فوت ہو چکی تھیں)۔ حضور ﷺ اٹھ کر بیٹھ گئے اور بیٹی کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ساتھ بٹھا لیا، جیسے باپ بیٹیوں کو بٹھاتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ نے فاطمہؓ کے کان میں کوئی بات کہی تو وہ رونے لگیں۔ تھوڑی دیر بعد حضور ﷺ نے پھر کان میں کوئی بات کہی تو اس پر خوش ہو گئیں۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے الگ بلا کر پوچھا کہ بیٹی تمھارے کان میں حضور ﷺ نے کیا کہا تھا؟ حضرت فاطمہؓ نے جواب دیا، امی جان کان میں بات کہی تھی اور یہ راز ہے، میں نہیں بتا سکتی۔ حضور ﷺ کی وفات کے چند دنوں کے بعد پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور کہا، میں تمہیں ماں ہونے کا واسطہ دیتی ہوں، بتاؤ کہ حضور ﷺ نے کان میں کیا فرمایا تھا؟ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اب بتا دیتی ہوں کیونکہ اب راز نہیں رہا۔ پہلی مرتبہ جب حضور ﷺ نے میرے کان میں بات کہی تو فرمایا کہ بیٹی میں اسی بیماری میں اس دنیا سے جا رہا ہوں، تو میں رونے لگی۔ پھر حضور ﷺ نے فرمایا، میرے جانے کے بعد تو سب سے پہلے مجھے آ کر ملے گی، تو میں اس پر خوش ہو گئی۔ (صحیح بخاری، باب علامات النبوۃ فی الاسلام، حدیث نمبر: 3623)

جناب خاتم النبیین ﷺ نے اس محبت کے ساتھ اس پیار کے ساتھ اپنے خاندان کو چلایا۔ اور جب حضور ﷺ دنیا سے رخصت ہوئے تو آپؐ کے خاندان اور آپ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں بہت عزتیں عطا فرمائیں۔

حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کرنا

آخری بات حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں سن لیں۔ یہ حضور ﷺ کے گھر میں پلے ہیں۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو حضور ﷺ نے ایک لشکر کا کمانڈر مقرر کر دیا۔ آخری لشکر جو حضور ﷺ روانہ نہیں کر سکے تھے۔ لوگوں نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہا کہ لڑکا ہے، غلام زادہ ہے، ان کو امیر مقرر کر دیا! حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمرؓ، اور بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود ہیں، اور ایک غلام کے لڑکے کو حضور ﷺ نے امیر بنا دیا ہے۔ اس فیصلے پر لوگوں میں چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں۔ حضور ﷺ نے مسجد نبویؐ میں خطبہ ارشاد فرمایا: تم اسامہ پر اعتراض کر رہے ہو؟ حضور ﷺ نے ڈانٹا۔ جب میں نے اس کے والد زیدؓ کو امیر بنایا تھا (موتہ کی جنگ میں) تب بھی تم نے باتیں کی تھیں۔ خدا کی قسم! یہ امارت کا اہل ہے، اس کا باپ بھی امارت کا اہل تھا۔ (صحیح بخاری، باب مناقب زید بن حارثۃ، حدیث نمبر: 3730) ایک خادم کے بیٹے کو حضور ﷺ نے یہ عزت عطا فرمائی۔ 

یہ حضور ﷺ کا طرز عمل تھا۔ اپنے خاندان کے بارے میں، خواتین کے بارے میں، بچوں کے بارے میں، اور اپنے گھریلو ماحول کے بارے میں۔ اور حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے بارے میں آپ سنتے رہتے ہیں، تو اس لیے میں نے اس کا تفصیلاً‌ ذکر نہیں کیا، وہ تو ہر مسلمان جانتا ہے، باقیوں کا میں نے ذکر کیا ہے۔ آپ ﷺ کو سب سے زیادہ محبت کس سے تھی؟ حسنین کریمین رضی اللہ عنہما سے تھی۔ یہ حضور ﷺ کی گھریلو زندگی تھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں حضور ﷺ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔


قرآن / علوم القرآن

اقساط

()

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۸)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۲)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد

آثار السنن از حضرت علامہ ظہیر احسن شوق نیموی (۲)
مولانا طلحہ نعمت ندوی

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۳)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۲)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

نجلاء ٹیمی کیپلر کا قبولِ اسلام
ایٹرنل پیسنجر

مذہبی القابات اور ہماری بے اعتدالیاں
مفتی سید انور شاہ

’’اسلامی قانونِ وراثت‘‘
ڈاکٹر قبلہ ایاز
ڈاکٹر انعام اللہ
اسلامی نظریاتی کونسل

27 ویں ترمیم پر وکلا اور قانون کے اساتذہ کا مکالمہ (۲)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

سپریم کورٹ کا تجربہ، تعلیمی و علمی سفر، آئینی و قانونی مباحث (۳)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
رفیق اعظم بادشاہ

قائد اعظم محمد علی جناح کی حیات و خدمات (۱)
ویکی پیڈیا
ادارہ الشریعہ

قائد اعظم کے افکار اور آج کا پاکستان
ڈاکٹر محمد طاہر القادری

جامعہ اشرفیہ لاہور میں تحفظِ مدارس دینیہ کنونشن اور تعزیتی اجتماع
مولانا حافظ امجد محمود معاویہ

مطبوعات

شماریات

Flag Counter