’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۲)

مغربی معاشرے کو در پیش مسائل

خطبہ نمبر ۱۱

الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علیٰ جمیع الانبیاء والمرسلین خصوصاً‌ علیٰ سید الرسل و خاتم النبیین و علیٰ آلہ و اصحابہ و اتباعہ اجمعین، اما بعد۔

حضرات علمائے کرام، محترم بزرگو، دوستو اور ساتھیو!

ہم تسلسل کے ساتھ خاندانی نظام کے حوالے سے قرآن پاک، سنتِ رسولؐ اور اپنی روایات اور اقدار کے دائرے میں مختلف مسائل پر بات کرتے آرہے ہیں۔ ہمارے خاندانی نظام کو جو مسائل درپیش ہیں، جو مشکلات اور خطرات درپیش ہیں، ان کا تذکرہ چل رہا ہے۔ اور یہ کہ مغرب اپنا خاندانی نظام ہم پر مسلط کرنا چاہتا ہے، ہم اس کا تذکرہ کرتے ہیں تو ہمیں مغرب کے خاندانی نظام کو بھی سمجھنا چاہیے کہ وہ ہے کیا۔ اس موضوع کے دو پہلوؤں پر بات کروں گا: ایک یہ کہ مغرب کا خاندانی نظام کیا ہے، کن مسائل اور مشکلات سے دو چار ہے؟ اور دوسرا یہ کہ ہمارا خاندانی نظام آج کے عالمی تناظر میں کن مشکلات اور مسائل سے دو چار ہے۔ ایک پر آج گفتگو ہوگی۔

مغرب میں خاندانی نظام کے بگاڑ کی ابتدا

مغرب کا خاندانی نظام ایسے ہی تھا جیسے ہمارا ہے بلکہ وہ بعض اقدار میں ہم سے زیادہ سخت تھے۔ انقلابِ فرانس سے پہلے جب مغرب نے زندگی کے اجتماعی معاملات میں مذہب کی بالادستی اور رہنمائی کو ترک کر دیا اور کہا کہ: ہم اپنے مسائل خود حل کریں گے؛ بائبل سے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے، حضرت موسیٰ علیہ السلام سے، اور خدا سے رہنمائی لینے کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں رہی، اب وہ زمانہ گذر گیا، ہم خود اپنے مسائل حل کریں گے۔ تو مذہب کو اپنی معاشرت اور اجتماعیت سے نکالنے کے سبب مغرب کا خاندانی نظام آہستہ آہستہ بکھرنا شروع ہو گیا۔

ظاہر بات ہے کہ اگر کسی بھی سسٹم کا جو بنیادی ڈھانچہ ہوتا ہے وہ اگر باقی نہ رہے تو نظم باقی نہیں رہتا۔ اگر بنیادی ڈھانچہ موجود ہو تو نظام چلتا ہے۔ کسی بھی ادارے کا کسی بھی سسٹم کا بنیادی اسٹرکچر جو ہوتا ہے وہ اگر توڑ دیا جائے تو دوبارہ نظام کو چلانا اور فعال (Active) کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اب مغرب اس مشکل سے دو چار ہے۔ خاندانی نظام، نکاح، طلاق، وراثت اور فیملی، ان حوالوں سے مغرب آج خود شکایت کر رہا ہے کہ ہمارا خاندانی نظام بکھر گیا ہے اور ہم اپنی خاندانی روایات اور خاندانی نظام سے محروم ہو گئے ہیں۔ یہ آج دنیا کے مسائل میں ایک بڑا مسئلہ ہے اور میں اس پر تین حوالوں سے بات کروں گا۔

مغربی خاندانی نظام پر مغربی دانشوروں کا تبصرہ

مغرب کے جو دانشور ہیں وہ پریشان ہیں کہ ہمارا خاندانی نظام بکھر کر رہ گیا ہے۔ جن تین مغربی دانشوروں کی میں مثالیں عرض کر رہا ہوں یہ موجودہ دور کے زندہ افراد ہیں جنھوں نے اس مسئلہ پر بحث کی ہے۔

پہلا تبصرہ

ایک تو روس کے سابق وزیر اعظم گورباچوف جو بڑے دانشوروں میں سے ہیں انھوں نے اس مسئلہ پر تفصیلی بحث کی ہے۔ ان کی ایک کتاب ہے پرسٹرائیکا (Perestroika) انگلش میں ہے، اس کا ترجمہ بھی آگیا ہے، میں نے پڑھا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا خاندانی نظام بکھر گیا ہے، رشتے قائم نہیں رہے۔ جو خاندان کا ڈھانچہ ہوتا تھا وہ بکھر گیا ہے۔ میاں بیوی اور بچے، وہ بھی بلوغت سے پہلے ہوتے ہیں، اس کے بعد وہ بھی ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ یہ مغرب کا خاندانی نظام ہے، اگلے رشتوں کا خیر تصور ہی نہیں ہے کہ ساس کون ہوتی ہے، سسر کون ہوتا ہے، چچا کون ہوتا ہے، خالہ کیا ہوتی ہے۔ ماموں زاد اور پھوپھی زاد تو دور کی بات رہی۔ مغرب کے خاندانی نظام کا جو ڈھانچہ اِس وقت میاں بیوی اور بچے ہیں وہ بھی بلوغت سے پہلے پہلے۔ بچہ بالغ ہوا تو وہ خاندان سے الگ ہو گیا، اس کا خاندانی نظام سے کوئی تعلق نہیں ہے، وہ آزاد ہے۔ لڑکا بھی آزاد ہے اور لڑکی بھی آزاد ہے اور باقی رشتے تو ویسے ہی بکھر گئے۔ سارے آپس میں کزن (Cousin) کہہ کر گزارا کر لیتے ہیں، ان کو رشتوں کے نام تک یاد نہیں ہوتے۔ خالہ کا بیٹا کیا ہوتا ہے، ماموں کا بیٹا کیا ہوتا ہے۔ کزن اور انکل یہ دو لفظ ہیں، یا آنٹی یہ دو تین نام ہیں جن میں سارے رشتے سمیٹ لیتے ہیں۔ بقیہ رشتے نہ یاد ہیں نہ ان سے تعلق رہا ہے۔

گورباچوف نے اپنی کتاب پرسٹرائیکا میں اس کے اسباب پر بات کی ہے کہ اس کی وجہ کیا بنی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کا سبب یہ بنا کہ پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم — یہ دو بڑی جنگیں ہیں جو یورپ میں لڑی گئی ہیں۔ جرمنی، برطانیہ، اٹلی، فرانس اور روس، یہ زیادہ تر اس کا حصہ رہے ہیں۔ کچھ جنگیں ہمارے ہاں بھی لڑی ہیں لیکن زیادہ تر اُدھر ہی لڑی گئیں ہیں، اُن جنگوں میں لاکھوں افراد قتل ہوئے — وہ لکھتے ہیں کہ اس سے سماج میں ایک دم غیر فطری طور پر لاکھوں افراد کا خلا پیدا ہو گیا۔ چند سالوں میں لاکھوں افراد قتل ہو گئے۔ سوسائٹی کا یہ حال ہو گیا کہ دفتر اور تعلیمی اداروں میں کام کرنے والے نہیں مل رہے تھے۔ نہ مزدور، نہ دفتری کلرک اور نہ نظام چلانے والے مل رہے تھے۔ اکثر لوگ اس جنگ میں قتل ہو گئے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنی افرادی قوت کے خلا کو پر کرنے کے لیے کہ ہماری فیکٹریاں خالی نہ ہوں اور ہمارے دفاتر خالی نہ ہوں، ہم نے عورت کو ورغلایا اور اس کو گھروں سے باہر نکالا کہ تم بھی ملازمت کرو، ڈیوٹی دو، دفتر میں، فیکٹری میں — منیجر تو خیر کم ہی بنیں، زیادہ تر سیکرٹری ہوتی ہیں، سیکرٹری یا نرس — تو ان کو کام پر لگا دیا۔ ہماری اصل ضرورت یہ تھی کہ افرادی قوت کا خلا کسی نہ کسی طرح پر ہو جائے کیونکہ اس جنگ کے بعد دفتر خالی ہو گئے تھے، فیکٹریاں خالی ہو گئی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’عورت کو باہر نکالو‘‘ کے نعرہ سے ہم اس کو ورغلا کر لے آئے کہ ملازمت اور مزدوری یہ سب تمھارا حق ہے۔ ہم عورت کو دفتر میں، فیکٹری میں اور اپنے نظام میں لے گئے۔ افرادی قوت کا خلا تو پر ہو گیا لیکن اس الٹ ترتیب کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے گھر خالی ہو گئے۔

وہ کہتے ہیں کہ اب ہم عورت کو گھر واپس لے کر جانا چاہ رہے ہیں لیکن گھر سے نکلی عورت اب گھر واپس کیوں جائے گی؟ اب اس کو باہر کا چسکا پڑ گیا ہے، ملازمت کا اور ظاہری نمود و نمائش کا۔ گورباچوف کہتے ہیں کہ اب ہم راستے تلاش کر رہے ہیں کہ کسی طرح عورت گھر واپس چلی جائے، اپنے گھر کو سنبھالے، اپنے بچے سنبھالے، اپنے گھر کا نظام کنٹرول کرے۔ اب ہم مختلف انداز سے کوشش کر رہے ہیں لیکن ہمیں واپسی کے راستے نہیں مل رہے اور عورت کا اب یہ حال ہے کہ وہ گھر کے ادارے کو سنبھالنے سے انکاری ہو گئی ہے۔

اس پر میں ایک چھوٹا سا تبصرہ کیا کرتا ہوں کہ دیکھیں، سچی بات ہے، اس حدیث کا ترجمہ اس وقت سمجھ میں آتا ہے۔ جناب خاتم النبیین ﷺ نے فرمایا:

ناقصات العقل والدین (صحیح بخاری، باب الزکاۃ علی الاقارب، حدیث نمبر: 1462)
(عقل اور دین کی ناقص)

عورت بڑی ذہین اور سمجھدار ہوتی ہے لیکن تمام تر سمجھداری کے باوجود اس مقام پر مار کھا گئی ہے۔ مرد نے اس کے ساتھ کیا ہاتھ کیا؟ عورت کی ساری ڈیوٹیاں اس سے کروائیں اور مزید یہ کہ اپنی ڈیوٹیاں بھی اس کے کھاتے میں ڈال دیں۔ عورت کے ساتھ اتنا بڑا المیہ ہوا اور اتنا بڑا فراڈ ہوا ہے۔ عورت کی ڈیوٹیاں عورت کے ساتھ رہیں، وہ خود ہی کرے، بچہ بھی اس نے جننا ہے، پالنا بھی اس نے ہے، دودھ بھی اس نے پلانا ہے، سارے کام کاج عورت نے ہی کرنے ہیں۔ ملازمت، ڈیوٹیاں اور کما کر لانا یہ مرد کے ذمہ میں تھا، وہ بھی اُس کے کھاتے میں ڈال دیا کہ ہمارے ساتھ کماؤ بھی۔ میں نے ایک خاتون سے پوچھا بی بی یہ بات بتاؤ کہ یہ ملازمت کرنا اور کما کر لانا، یہ فرائض ہیں یا حقوق ہیں، اپنے فرائض حقوق کے نام سے تمھارے کھاتے میں ڈال کر کہہ دیا کہ تمھیں برابر کے حقوق دے دیے۔ ڈیوٹی برابر کی ہے، حقوق کہاں دیے ہیں؟ یہ بہت بڑا فراڈ ہوا ہے۔ وہ خاتون کوئی معقول جواب نہ دے پائی۔

گورباچوف کہتے ہیں کہ ہم نے عورت کو دفتر اور کارخانے میں بلا کر یہ خلا تو پر کر لیا لیکن ہمارے گھر خالی ہو گئے۔ حالت یہ کہ اب گھر کو سنبھالنے والا کوئی نہیں ہے۔ بچوں کو سکول والے سنبھالتے ہیں، بڑے ہو کر ویسے ہی بچے الگ ہو جاتے ہیں۔ والدین فطری انداز سے گھر میں بچوں کو سنبھالیں، ان کی تربیت کریں، ان کی ذہن سازی کریں اور ان کو پالیں پوسیں، یہ تصور ہی مغرب میں ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ بلوغت سے پہلے بچے کو سکول نے سنبھالنا ہے اور بلوغت کے بعد بچے نے اپنے آپ کو خود سنبھالنا ہے، ماں باپ کی ذمہ داری نہیں ہے۔

یہ جو میں نے بات کہی ہے، یہ مغرب کے خاندانی نظام میں بہت بڑا مسئلہ ہے کہ رشتوں کا تقدس نہیں رہا بلکہ رشتوں کا وجود ہی ختم ہو گیا ہے۔ خاندان سمٹتے سمٹتے میاں بیوی اور بچوں تک آ گیا ہے۔ سارے رشتے ختم ہو گئے ہیں، اب رشتوں کی تلاش جاری ہے لیکن کہیں ملتے ہی نہیں ہیں۔ یہ مغرب کا بڑا مسئلہ ہے۔

دوسرا تبصرہ

برطانیہ کے سابق وزیر اعظم جان میجر، ابھی زندہ ہیں، میں ان کے زمانے میں بہت مرتبہ برطانیہ گیا ہوں۔ انھوں نے اپنے دور میں ایک منظم مہم چلائی تھی اور ابھی بھی کر رہے ہیں۔ کمپین (Campaign) یہ تھی کہ ’’اپنی بنیادوں کی طرف واپس جاؤ‘‘ (Back to Basics)، ہم اپنی بنیادیں توڑ کر خراب ہو گئے ہیں، واپس چلیں اپنی بنیادوں کی طرف۔ انھوں نے الیکشن لڑا ہی اس بات پر تھا اور اپنے دور میں یہ پالیسی متعارف کروائی تھی، جو اَب آہستہ آہستہ بڑھتی جا رہی ہے، کہ جو عورت گھر میں رہنے کو ترجیح دے اور ملازمت پر بچوں کی پرورش کو ترجیح دے، اس کو سوسائٹی میں ترجیح دی جائے گی۔ اب بھی یہ مقصد ہے کہ کسی طرح عورت گھر واپس آ جائے، عورت گھر سنبھالے، بچے سنبھالے اور ان کا معاشرہ مزید بکھرنے سے بچ جائے۔

تیسرا تبصرہ

اس کے بعد امریکہ کا حوالہ دوں گا۔ ہیلری کلنٹن دنیا کی سمجھدار خواتین میں سے ہیں، خاتونِ اول بھی رہی ہیں، وزیر خارجہ بھی رہیں ہیں اور صدر بنتی بنتی رہ گئیں ہیں۔ دنیا کی بڑی قابل احترام شخصیت ہیں۔ انھوں نے ایک بات کہی ہے، 1995ء کی بات ہے، اس وقت خاتونِ اول تھیں، اسلام آباد میں آکر باتیں کیں۔ یہاں انھوں نے دل کی باتیں کی ہیں اور کبھی کبھی وہ ایسا کر لیتی ہیں، ان کے کئی ریمارکس پر میں نے کالم بھی لکھے ہیں۔ انھوں نے 1995ء میں خاتونِ اول کے طور پر پاکستان کا دورہ کیا۔ اسلام آباد تشریف لائیں اور گرلز کالج کا دورہ کیا۔ وہاں سوال و جواب کی نشست ہوئی، باتوں باتوں میں ہیلری کلنٹن نے ایک طالبہ سے پوچھا، جو ایف اے کی طالبہ تھی: ’’پاکستان میں سکول، کالج اور یونیورسٹی میں لڑکی کو تعلیمی طور پر کیا مشکل پیش آتی ہے؟‘‘ یعنی بطور لڑکی کے تعلیمی طور پر بڑا مسئلہ کیا ہے؟ اس طالبہ نے کہا، ہمارا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں لائبریریاں اور لیبارٹریاں نہیں ہیں۔ تعلیم کے معیار کے مطابق ریسرچ کے لیے لائبریریاں اور تجربے کے لیے لیبارٹریاں نہیں ہیں، یہ ہمارا بڑا مسئلہ ہے۔ پھر اس طالبہ نے ہیلری سے پوچھا کہ آپ کے یہاں لڑکی کی تعلیم کا بڑا مسئلہ کیا ہوتا ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ امریکہ میں کالج کی لڑکی کی سب سے بڑی مشکل یہ ہوتی ہے کہ کالج تک پہنچتے پہنچتے اس کی گود میں (ناجائز) بچہ ہوتا ہے جس کا کوئی ذمہ دار نہیں ہوتا۔ مشکل یہ ہوتی ہے کہ اس کو پالے یا پڑھائی کرے؟

اس مشکل کا حل مغرب نے یہ نکالا کہ اسقاطِ حمل کی عالم گیر مہم چلائی کہ حمل گرا دو۔ یہ بہت بڑا خاندانی مسئلہ ہے کہ بعد میں ایک عرصہ مصیبت برداشت کرنے سے بہتر ہے کہ بچہ ضائع کر دو۔ اس کے لیے اقوام متحدہ کا ادارہ مسلسل کوشش میں ہے کہ پوری دنیا میں اسقاطِ حمل کو نہ صرف جائز قرار دیا جائے بلکہ اسے عورت کا حق سمجھا جائے۔

شرعی مسئلہ یہ ہے کہ اگر عورت کی جان کا خطرہ ہو، اور بچے میں جان پڑ جائے ماں کے پیٹ میں، تو صرف ایک صورت میں اسقاطِ حمل جائز ہے، کہ عورت کی جان نہ بچتی ہو، یعنی عورت کے مرنے کا خطرہ ہو۔ وگرنہ جائز نہیں ہے۔

یہ بہت سے ملکوں میں جائز ہے، بہت سے ملکوں میں پابندی ہے۔ اقوام متحدہ مطالبہ کر رہا ہے کہ ہر صورت میں عورت کے لیے اسقاطِ حمل کو جائز حق تسلیم کیا جائے، کسی قسم کی کوئی پابندی نہ ہو۔ اس کے لیے کانفرنسیں ہوئی ہیں، قاہرہ میں اور دوسری جگہوں میں، اور ہم سے بھی مطالبہ ہے کہ تم بھی ایسا کرو۔ یہ مسئلہ مغرب میں بھی ہے اور ہندوستان میں بھی ہے، جو الگ حوالے سے ہے کہ بچہ پیدا ہونے والا ہو تو الٹراساؤنڈ (Ultrasound) کے ذریعے جنس معلوم کر کے بچی کی صورت میں حمل گرا دیا جاتا ہے۔ وہاں کے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے باقاعدہ ایک کانفرنس میں مسلمان علماء سے کہا تھا: ’’ہندوؤں کو سمجھاؤ کہ لڑکی بھی اللہ کی مخلوق ہوتی ہے۔‘‘

اسقاطِ حمل کا مغرب نے یہ حل نکالا ہے۔ یہ میں آپ کو مغرب کا مزاج بتا رہا ہوں۔ اہلِ مغرب نے زنا پر پابندی نہیں لگائی بلکہ اس کے نتائج کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ مغرب کا عمومی مزاج ہے اور ہمیں بھی مختلف پہلوؤں سے یہ مزاج سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کی چھوٹی سی مثال اور بھی ہے۔ آپ کو تعجب ہوگا، یہ 1924ء یا 1925ء کی بات ہے، امریکہ میں شراب قابلِ جرم تھی، اس پر سزا مقرر تھی اور اس پر جرمانہ اور قید تھی۔ پولیس کو اختیار دیا گیا تھا کہ جو شراب پیے اس کو پکڑو۔ لیکن تین چار سال کے بعد اس قانون کو واپس لینا پڑا کہ کوئی مانتا ہی نہیں تھا، یہ نشہ عام ہو گیا ہے، سوسائٹی عادی ہو گئی ہے۔ قانون نافذ ہوا، سزائیں ہوئیں لیکن لوگ مانتے ہی نہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم پئیں گے۔ بجائے اس کے کہ شراب کی نحوست اور اس کی لعنت سے لوگوں کو چھڑانے کے لیے سختی کی جائے، لیکن ایسا نہیں کیا بلکہ الٹا شراب کو جائز قرار دے دیا۔ اسی کانگریس نے شراب کو جائز قرار دیا جس نے پہلے حرام یا ناجائز قرار دیا تھا۔

ایک اور بات کرتا ہوں، شراب کے ساتھ نشہ پورا نہ ہوتا ہو تو اس کے ساتھ دوسری چیزیں بھنگ، چرس، ہیروئن، افیون جیسے نشے ہیں۔ اس کی مختلف ملکوں میں پابندی ہے لیکن 1996ء میں لندن میں سول سوسائٹی کے سینکڑوں منتخب نمائندے، ڈاکٹرز، وکیل صاحبان اکٹھے ہوئے اور انھوں نے کہا کہ جب لوگ نشہ کرتے ہیں تو تمھیں کیا اعتراض ہے۔ یہ مطالبہ روزنامہ جنگ، لندن (13 جنوری 1996ء) نے شائع کیا کہ جب لوگ پیتے ہیں تو آپ کو کیا اعتراض ہے، آپ لوگوں کو اجازت دیں۔ یہ میں آپ حضرات کو مغرب کا مزاج بتا رہا ہوں۔

تو ہیلری کلنٹن سے جب سوال ہوا تو اس نے کہا کہ ہمارے ہاں کالج کی لڑکی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ جب وہ کالج پہنچتی ہے تو اس کی گود میں بچہ ہوتا ہے جس کا ذمہ دار کوئی نہیں ہوتا۔ اب اس کو مشکل یہ ہوتی ہے کہ اب وہ اس بچے کو پالے یا خود پڑھے۔ ہمارے کالج کی لڑکی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے۔ یہ میں مغرب کی خاندانی مشکلات بتا رہا ہوں۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس نے مغرب کو پریشان کر رکھا ہے کہ اس مسئلے کا حل کیا ہے؟ لیکن اب پریشانی کم ہوتی جا رہی ہے۔ انسانی نفسیات ہے کہ جب مصیبت عام ہو جاتی ہے تو ہلکی ہو جاتی ہے۔ مغرب کا فلسفہ یہی ہے، جب کہ برائی جوں کی توں موجود ہے۔

احکامِ الٰہیہ کے بارے میں مغربی مذہبی حلقوں کا مزاج

مغرب کے مذہبی حلقوں میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے۔ وہاں رواج یہ ہے کہ بغیر شادی کے دو سال، چار سال، چھ سال اکٹھے رہتے ہیں، اگر ہم آہنگی (Understanding) ہو جائے تو شادی کر لو وگرنہ شادی نہ کرو تو بھی ٹھیک ہے۔ برطانیہ کا سب سے بڑا چرچ جو پورے انگلینڈ کا چرچ (Church of England) ہے، آج سے بیس سال پہلے (1995ء میں) انھوں نے اپنی شاخوں کے نام ایک اعلامیہ (Circular) جاری کیا کہ ’’ہم نے ایک زمانے میں یہ سرکلر جاری کیا تھا کہ بغیر شادی کے جو جوڑے اکٹھے رہتے ہیں وہ غلط کرتے ہیں، بغیر شادی کے اکٹھے رہنا جرم ہے، گناہ ہے، اس لیے اس کی حوصلہ شکنی کی جائے، چرچ کے صاحبان اس کو عام کریں اور معاشرے کو بتائیں۔ لیکن چونکہ اب بغیر شادی کے اکٹھے رہنے والوں کی تعداد ساٹھ فیصد ہو گئی ہے اور سوسائٹی نے اس بات کو قبول کر لیا ہے، اس لیے اب ہماری ہدایت یہ ہو گی کہ آئندہ اس بات کو گناہ نہ سمجھا جائے۔‘‘ یعنی چرچ نے برائی کو ختم کرنے کی بجائے اس سے سمجھوتہ کر لیا۔

مغربی دنیا میں شادی کا تصور

میں نے عرض کیا کہ مغرب میں خاندان کے بکھرنے کے اسباب کیا ہیں۔ ایک بنیادی سبب عرض کروں گا، اس سے پہلے سمجھیں کہ شادی کیا چیز ہے۔ مغرب نے یہ تصور کر لیا ہے کہ شادی انسان کی شخصی ضرورت ہے۔ سماجی فلسفہ کی ہلکی سی فلسفیانہ بات چھیڑ نے لگا ہوں۔ مغرب نے اس کو فرد کی ضرورت سمجھ لیا ہے کہ شادی، نکاح، جنسی تعلق، یہ فرد کی ضرورت ہے۔ چونکہ اس کو شخصی ضرورت قرار دیا گیا ہے اس لیے ان کو یہ اعتراض ہے کہ وہ شادی کریں یا نہ کریں، کسی دوسرے فریق کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ اس میں رضامندی کی ساری صورتیں جائز ہیں کیونکہ یہ شخصی ضرورت ہے۔ گویا کہ یہ شخصی معاہدہ (Contract) ہے۔ یہ بھی راضی ہے، وہ بھی راضی ہے، اب دونوں اکٹھے رہ لیں۔ اس لیے سب صورتیں جائز ہیں۔

ہم جنس پرستی (Homosexuality) بھی جائز ہے۔ مغرب کو صرف ایک اشکال ہے کہ کسی دوسرے فریق کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ دو فرد باہمی رضامندی سے جس طریقے سے اپنی خواہش پوری کر لیں تو وہ کر سکتے ہیں۔ اب اس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ اب تک شادی کی تعریف یہ ہوتی آئی ہے کہ مرد اور عورت اکٹھے زندگی گزارنے کا فیصلہ کر لیں اور معاہدہ کر لیں۔ اب یہ مسئلہ پیدا ہو گیا ہے کہ مرد اور عورت کہنا ضروری نہیں ہے، دو فرد کہہ لیں۔ اقوام متحدہ میں باقاعدہ تجویز پیش ہو چکی ہے اور اس پر بحث جاری ہے کہ مرد اور عورت کہنے کی بجائے دو فرد (یعنی ہم جنس پرستی) کہہ لیں کہ دو فرد آپس میں جنسی خواہش پوری کرنے کا معاہدہ کر لیں۔ اب ان کے ہاں یہ شادی ہو گئی ہے۔ اس چیز کا جواز نکالنے کے لیے مرد اور عورت کہنے کی بجائے دو فرد کہہ رہے ہیں۔ سرے سے شادی کی تعریف ہی تبدیل ہو رہی ہے۔

اسلام میں شادی کا تصور

دراصل مغرب مغالطے کا شکار ہو گیا کہ یہ شادی فرد کی ضرورت ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ نہیں بھئی! یہ سوسائٹی کی ضرورت ہے۔ قرآن پاک کہتا ہے کہ سوسائٹی کا آغاز ہی جوڑے سے ہوا۔

وبث منہما رجالا کثیرا ونسآء۔ (سورۃ النساء: 4، آیت 1)
(اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں (دنیا میں) پھیلا دیے۔)

آسمانوں سے جوڑا اترا اور اس سے ہم نے سوسائٹی کو پھیلا دیا۔ سوسائٹی کا بنیادی یونٹ فرد نہیں جوڑا ہے۔ یہ ایک بڑا جھگڑا ہے۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ بنیادی یونٹ فیملی ہے: ’’وبث منہما رجالا کثیرا ونسآء‘‘۔ قرآن پاک اور جناب خاتم النبیین ﷺ اس کو صرف انسان کی ضروریات میں نہیں بلکہ اس کو فرائض میں بھی شمار کرتے ہیں۔ اب یہ کہ دو فرد اکٹھے رہ کر اپنی خواہش پوری کر لیں، یہ غلط ہے۔ بلکہ رسول اللہ ﷺ نے شادی کو انبیاء علیہم السلام اور اپنی سنت قرار دیا ہے۔ (سنن ابن ماجہ، باب ما جاء فی فضل النکاح، حدیث نمبر: 1846)

جناب خاتم النبیین ﷺ کے چند صحابہ کرامؓ نے آپس میں مشورہ کیا اور طے کیا (طویل روایت ہے، خلاصہ ذکر کر دیتا ہوں) ان میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اور ایک روایت میں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی تھے، طے یہ کیا کہ جناب خاتم النبیین ﷺ کے گھر کے اندر کی مصروفیات معلوم کرنی چاہئیں تاکہ ہم پیروی کریں، اس لیے کہ جناب خاتم النبیین ﷺ زندگی گھر کے اندر بھی اُسوہ ہیں اور باہر بھی اُسوہ ہے۔ گھر کے اندر کے حضور ﷺ کے معمولات کیا ہیں؟ یہ ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن سے معلوم ہوں گے۔ تین چار صحابہ کرامؓ تھے، جا کر دروازہ کھٹکھٹایا ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کا، پوچھا کہ حضور ﷺ کے گھر میں معمولات کیا ہیں؟ انھوں نے جواب دیا کہ وہی جو عام شوہر کے معمولات گھر میں ہوتے ہیں۔ عبادت بھی کرتے ہیں، آرام بھی فرما لیتے ہیں، ہمارے ساتھ ہلکی پھلکی باتیں بھی کرتے ہیں، گھر کے کاموں میں بھی ہاتھ بٹا دیتے ہیں۔ عام انسان کے گھر کے معمولات جو ہوتے ہیں، یہاں بھی وہی ہیں۔

ان صحابہ کرامؓ نے جب تین چار ازواج مطہراتؓ سے حالات معلوم کیے تو حدیث کے الفاظ یہ ہیں ‘‘کانھم تقالوھا‘‘ انھوں نے حضور ﷺ کے گھر کے معمولات کو اپنے تصور سے بہت کم پایا۔ ہم نے تو سمجھا شاید گھر جاتے ہیں اور پھر مصلے پر کھڑے رہتے ہوں گے اور سجدے میں رہتے ہوں گے۔ حضورؐ تو ازواج مطہراتؓ کو بھی وقت دیتے ہیں اور گھر کے کام کاج، بکریوں کا دودھ دوہنا، جوتے کو گانٹھ لینا، صفائی وغیرہ بھی کرتے ہیں اور رات کو عبادت بھی کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حضور ﷺ تو معصوم ہیں، پیغمبر ہیں، ان کو ضرورت نہیں ہے۔ ہم آپس میں عہد کرتے ہیں: ایک نے کہا کہ میں ساری زندگی روزے رکھوں گا، دوسرے نے کہا کہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ ساری زندگی رات کو عبادت کروں گا اور آرام نہیں کروں گا، تیسرے نے کہا کہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ ساری زندگی شادی نہیں کروں گا۔ یہ آپس میں عہد کیے۔ جناب خاتم النبیین ﷺ کو پتہ چلا تو آپؐ نے بلوا لیا۔ اپنی طرف سے یہ خوش تھے کہ ہم نے آپس میں اچھا معاہدہ کیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ آپ لوگوں کے متعلق یہ چند باتیں سنیں ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ٹھیک ہے۔ جناب خاتم النبیین ﷺ نے ڈانٹا اور فرمایا:

اما واللہ انی لاخشاکم للہ واتقاکم لہ۔
(میں تم سب زیادہ خدا کا خوف رکھتا ہوں اور تم سب سے زیادہ متقی ہوں۔)

یہ تم نے کیا دین کا تصور لے لیا ہے؟ میں نے شادیاں بھی کی ہیں، بیویوں کے پاس بھی بیٹھتا ہوں، بچے بھی ہیں۔ یہ کہہ کر آپ ﷺ نے فرمایا:

واتزوج النساء، فمن رغب عن سنتی فلیس منی۔ (صحیح بخاری، باب الترغیب فی النکاح، حدیث نمبر: 5063)
(میں نکاح کرتا ہوں، پس جو میری سنت سے اعراض کرے تو وہ مجھ میں سے نہیں۔)

آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں عورتوں سے نکاح کرتا ہوں۔ اور یہ دینی مقاصد میں سے ہے۔ بلکہ بخاری شریف کی ایک اور بڑی دلچسپ روایت ہے کہ جس میں بتایا ہے کہ خاندانی نظام کیا ہے۔ امام بخاریؒ نے متعدد مقامات میں یہ روایت مختلف انداز سے بیان کی ہے۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ میدان کے آدمی تھے اور حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ گوشہ نشین تھے اور حدیث کے بڑے راوی تھے۔ دونوں باپ بیٹے کے مزاج میں بہت فرق تھا۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ روایت کرتے ہیں کہ میرے والد نے ایک اچھے خاندان کی عورت سے میرا نکاح کر دیا اور میرے والد اپنی بہو سے میرا حال پوچھتے رہتے تھے۔ وہ جواب دیتی کہ وہ اچھا نیک آدمی ہے مگر جب سے میں آئی ہوں میرے بچھونے پر قدم بھی نہیں رکھا اور نہ میرے قریب آئے۔ جب کچھ وقت گذر گیا تو میرے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ قصہ بیان کیا۔ آپؐ نے فرمایا، اسے میرے پاس لاؤ۔ چنانچہ مجھے آپ ﷺ کے پاس بھیجا گیا۔ آپؐ نے پوچھا: تم روزے کس طرح رکھتے ہو؟ میں نے کہا، مسلسل۔ پھر فرمایا: قرآن کس طرح ختم کرتے ہو؟ میں کہا، ہر رات۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا:

صم فی کل شھر ثلاثۃ، واقرإ القرآن فی کل شھر۔ (صحیح بخاری، باب فی کم یقرأ القرآن، حدیث نمبر: 5052)
(ہر مہینے میں تین روزے رکھا کرو اور ایک ماہ میں قرآن مجید ختم کیا کرو۔)

میں نے عرض کیا، مجھ میں اس سے زیادہ کی طاقت ہے، آپؐ نے فرمایا، ایک ہفتہ میں تین روزے رکھ لیا کرو۔ میں نے عرض کیا، مجھ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے۔ آپ نے فرمایا: دو دن افطار کیا کرو اور ایک دن روزہ رکھا کرو۔ عرض کیا، مجھ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے۔ فرمایا:

صم افضل الصوم صوم داود صیام یوم و افطار یوم، واقرأ فی کل سبع لیال مرۃ۔
(اچھا، داؤد علیہ السلام کی طرح روزے رکھا کرو جو سب سے افضل ہے، یعنی ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو، اور قرآن سات روز میں ختم کیا کرو۔)

مگر بڑھاپے میں عبد اللہؓ کہتے ہیں کہ کاش میں حضور ﷺ کی رخصت منظور کر لیتا کیونکہ اب میں بوڑھا اور ضعیف ہو گیا ہوں اور مجھ میں ویسی طاقت نہیں رہی۔ بڑھاپے میں اپنے کسی گھر والے کو دن میں ساتواں حصہ قرآن سنا دیا کرتے تھے تاکہ اس کا پڑھنا رات میں آسان ہو جائے۔ اور جب بہت کمزور ہو جاتے اور طاقت حاصل کرنا چاہتے تو کئی روز تک روزہ نہ رکھتے، پھر شمار کر کے اتنے روزے رکھ لیتے کہ کہیں کوئی باقی نہ رہ جائے، جس کا رسول اللہ ﷺ کے سامنے عہد کیا تھا۔

صحیح بخاری کی دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے یہ ساری حد بندی کر کے فرمایا:

فان لجسدک علیک حقا، وان لعینک علیک حقا، وان لزوجک علیک حقا، وان لزورک علیک حقا۔ (صحیح بخاری، باب حق الجسم فی الصوم، حدیث نمبر: 1975)
(تمھارے جسم کا بھی تم پر حق ہے، تمھاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے، تمھاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے اور تمھارے مہمان کا بھی تم پر حق ہے۔)

انسانوں کے بھی حقوق ہیں اس کا بھی خیال کیا کرو۔ خاتم النبیین ﷺ نے رہبانیت کے اس انداز سے انھیں روک دیا۔ شادی دینی تقاضوں میں سے ہے، اس کے کچھ حقوق اور فرائض ہیں۔ یہ ذمہ داریاں ہیں جو ایک فرد نے ادا کرنی ہیں۔ یہ شادی کے بارے میں اسلام کا تصور ہے۔ اس لیے وہ شادی قابلِ قبول ہو گی جو سوسائٹی کو ایک اچھا خاندان فراہم کرے۔ قرآن کریم نے اس لیے یہ شرطیں لگائی ہیں، ارشاد ہے:

و احل لکم ما ورآء ذالکم ان تبتغوا باموالکم محصنین غیر مسافحین۔ (سورۃ النساء: 4، آیت 24)
(ان عورتوں کو چھوڑ کر تمام عورتوں کے بارے میں یہ حلال کر دیا گیا ہے کہ تم اپنا مال (بطور مہر) خرچ کر کے انھیں اپنے نکاح میں لانا چاہو، بشرطیکہ تم ان سے باقاعدہ نکاح کا رشتہ قائم کر کے عفت حاصل کرو، صرف شہوت نکالنا مقصود نہ ہو۔)

دوسری آیت میں ہے:

محصنین غیر مسافحین ولا متخذی اخدان۔ (سورۃ المائدہ 5، آیت 5)
(نہ تو (بغیر نکاح کے) صرف ہوس نکالنا مقصود ہو اور نہ خفیہ آشنائی پیدا کرنا۔)

تو قرآن کریم نے یہ چار شرطیں لگائی ہیں:

  1. پہلی شرط: ’’ان تبتغوا باموالکم‘‘۔ میں اس کا اپنے الفاظ میں ترجمہ کرتا ہوں کہ عورت سے تعلق قائم کرنا ہے تو تمام تر مالی ذمہ داریاں قبول کرنی ہوگی۔
  2. دوسری شرط: ‘’محصنین‘‘ اور عورتوں کے بارے میں کہا ’’المحصنات‘‘ جو حصن سے ہے، اس کا معنی ہے قلعہ۔ مطلب یہ ہے ان کی حفاظت کی ذمہ داری بھی قبول کرو گے۔ قلعہ یعنی مکان بناؤ گے، گھریلو زندگی میں بنیادی سہولت کے لیے علیحدہ رہائش بھی ہونی چاہیے۔
  3. تیسری شرط: ’’غیر مسافحین‘‘ کہ نکاح صرف خواہش پوری کرنے کے لیے نہ ہو۔ ہاں، وہ بھی ساتھ آجاتی ہے۔
  4. چوتھی شرط: ’’ولا متخذی اخدان‘‘ کہ نکاح کا معاملہ پوشیدہ نہ ہو۔ نہ گرل فرینڈ، نہ بوائے فرینڈ ہوں، نکاح ہو تو اعلانیہ ہو، سب کو پتہ ہو کہ یہ میاں بیوی ہیں۔ اسی لیے نکاح کا اعلان ہے، اسی لیے گواہ ہیں، اس لیے ولیمہ رکھا گیا ہے۔

اہلِ مغرب کا نکاح کے بارے میں مغالطہ

میں یہ عرض کر رہا ہوں کہ مغرب کو یہ مغالطہ لگا ہے کہ یہ فرد کی ضرورت ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دو افراد جیسے چاہیں اپنی ضرورت پوری کریں، اس میں تمھیں کیا تکلیف ہے؟ اور ہم کہتے ہیں کہ نہیں بلکہ نکاح سوسائٹی کی ضرورت ہے، معاشرے کی ضرورت ہے۔ اگر فرد کے کسی عمل سے سوسائٹی کو نقصان پہنچتا ہو تو یہ ناجائز ہے۔ اس لیے کہ خاندان کا وجود متاثر نہ ہو، رشتے متاثر نہ ہوں، صلہ رحمی متاثر نہ ہو، آپس کے تعلقات برقرار رہیں، خاندان بکھرنے نہ پائے۔

مغرب میں خاندانی نظام کے بکھرنے کے دو سبب ہیں:

  1. ایک یہ کہ مغرب نے اس کو فرد کی ضرورت سمجھا ہے، اسلام کہتا ہے، نہیں یہ سوسائٹی اور معاشرے کی ضرورت ہے۔
  2. دوسری بات کہ مغرب میں رشتے پیدا کرنے والے اسباب معدوم (ختم) ہو گئے ہیں۔

ہمیں کھلے طور پر کہنا پڑتا ہے کہ وہاں زنا کو عام کیا گیا جس سے رشتے معدوم ہو گئے۔ مغربی معاشرے میں اکثر لوگوں کو باپ کا پتا نہیں، اس لیے ان کو یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ اگر باپ کا پتہ نہیں تو ماں کا نام لکھا کرو۔ اب جب باپ کا پتہ نہ ہو تو دادا کہاں سے آئے گا؟ چچا کہاں سے آئے گا؟ باقی رشتے کہاں سے آئیں گے؟ یہ سارے رشتے اس وقت وجود میں آئیں گے جب میاں بیوی بااعتماد طریقے سے آپس میں تعلق رکھیں۔ لیکن اگر میاں بیوی کا تعلق ’’کیف ما اتفق‘‘ (جیسے ان کی مرضی ہو، فیصلہ کریں) ہوگا تو پھر یہ رشتے کہاں سے آئیں گے؟

مغرب نے آسمانی تعلیمات سے انحراف کیا جس کی وجہ سے ان کا سارا خاندانی نظام بکھر گیا، درہم برہم ہو گیا اور آج سارا مغرب سر پکڑ کے پریشان کھڑا ہے کہ ہمارا خاندان کدھر گیا، رشتے کدھر گئے؟ ان کے دانشور اس کا حل سوچ رہے ہیں۔ اب وہ تو پریشان کھڑے ہیں، کیا ہم بھی چاہتے ہیں کہ ہم بھی پریشان ہوں؟ ہم بھی مغرب کی تقلید میں ان کی طرف دوڑے جا رہے ہیں اور اپنے خاندانی سسٹم کو تباہ و برباد کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے ہمارے خاندانی نظام کو کیا مشکلات درپیش ہیں اس پر اگلی نشست میں گفتگو ہو گی، ان شاء اللہ، وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

قرآن / علوم القرآن

اقساط

(الشریعہ — جون ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — جون ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۶

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۲)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۳)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

محاضراتِ فقہ (۱)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۲)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اسلامی فلسفے کا پس منظر
مولانا حافظ واجد معاویہ

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ ( ۶)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۵)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

حضرت ام ورقہ بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا
مولانا جمیل اختر جلیلی ندوی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۳)
محمد سراج اسرار

غیر مسلموں کے ساتھ سماجی مراسم و تعلقات
مفتی سید انور شاہ

فارغ التحصیل علماء کے روزگار کا معاملہ
پروفیسر چودھری محمد یسین ظفر

زندگی کا میدان — اور اللہ کے حکم پر قائم رہنے کا امتحان
احمد سالم
عمرانہ بنت نعمت اللہ

’’قراردادِ پاکستان اور ابتدائی دستوری تصورات‘‘
ڈاکٹر اکرام الحق یاسین
ڈاکٹر حافظ سید عزیز الرحمٰن

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نظریاتی و عملی مسائل
مفتی سید عدنان کاکاخیل

تصویر سے متعلق سیدہ عائشہ کا واقعہ
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

The Role of Media in Promoting and Defending Islam
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

فکرِ شیخ الہندؒ کے وارث مولانا عزیز الحسن صدیقی غازی پوریؒ
مولانا شاہ اجمل فاروق ندوی

مولانا اللہ وسایا — تعلیمی پس منظر اور تصنیفی خدمات
ڈاکٹر قاری محمد طاہر
مولانا محمد عارف شامی

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس کی شہادت
خورشید احمد ندیم
علامہ ہشام الٰہی ظہیر

روداد اجلاس ملی مجلس شرعی
ڈاکٹر محمد امین

مولانا راشدی کے بیانات و خطابات
ادارہ الشریعہ

مطبوعات

شماریات