باب پنجم: خلافت کا نظم و نسق
مشاورت پر مبنی فیصلہ سازی
اسلام میں باقاعدہ اور منظم حکومت کا آغاز حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہدِ مبارک سے ہوا۔ انہوں نے نہ صرف اسلامی سلطنت کو وسعت دی بلکہ حکومت کا جامع اور مضبوط نظام بھی قائم کیا۔ یہ نظام اس طرح سے جمہوری اصولوں پر مبنی تھا کہ اس میں تمام اہم ملکی و قومی امور مجلسِ شوریٰ میں بحث و مباحثے کے بعد اتفاقِ رائے سے طے پاتے تھے۔ اس مجلس میں حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ، حضرت معاذ بن جبلؓ، حضرت اُبی بن کعبؓ، اور حضرت زید بن ثابتؓ جیسے جلیل القدر صحابہ کرامؓ شامل ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ اہم قومی مواقع کے لیے ایک مجلس ہوتی تھی جس میں قبائلی سردار شریک ہوتے تھے، اور ایک مجلس ایسی بھی ہوتی تھی جس کے لیے باقاعدہ منادی کروائی جاتی تھی اور اس پر لوگ مسجدِ نبوی میں جمع ہوتے اور پھر پیش آمدہ امور پر ان سے رائے لی جاتی۔
فلاح و بہبود، عدل و انصاف اور مالیاتی احتیاط
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ہر شہری کو آزادئ اظہار، مطالبۂ حقوق، اور خلیفہ کے اقدامات پر سوال اٹھانے کا مکمل حق حاصل تھا۔ حضرت عمرؓ نے اپنے دورِ خلافت میں عوام کی فلاح و بہبود، نظم و نسق اور خبر رساں نظام کے لیے بے مثال متفرق انتظامات قائم کیے۔ ۱۸ ہجری کے شدید قحط کے دوران بیت المال کے تمام وسائل اور صوبوں سے غلہ منگوا کر قحط زدگان میں منظم طریقے سے تقسیم کیا گیا، لاوارث بچوں اور معذوروں کی پرورش کا بندوبست ہوا، اور ملکی خدمات انجام دینے والوں کے لیے وظائف مقرر کیے گئے۔ حکومت کو ملکی حالات سے باخبر رکھنے کے لیے ہر علاقے میں پرچہ نویس اور واقعہ نگار تعینات تھے، جن کی کارکردگی اور چست خبر رسانی کی بدولت تمام اندرونی و بیرونی واقعات کی خبر بلا تاخیر خلافت تک پہنچتی تھی۔
فاروقی خلافت کا سب سے نمایاں وصف بلا امتیاز عدل و انصاف کی فراہمی تھا۔ فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے دیوانِ عدل میں شاہ و گدا، شریف و رزیل اور مسلم و غیر مسلم سب کے لیے ایک ہی قانون نافذ تھا۔ انہوں نے گورنر کے بیٹے کو عام شہری کے ہاتھوں قصاص دلوایا اور جاہ و جلال والے امیروں کو بھی مساوی جواب دہ بنایا، جبکہ وظائف کی تقسیم میں بھی ذاتی تعلقات کے بجائے استحقاق اور قدر و منزلت کو ترجیح دی۔ غیر مسلم رعایا (ذمیوں) کے حقوق کا خاص خیال رکھا جاتا، مفلس غیر مسلموں کے جزیہ معاف کر کے ان کے لیے بیت المال سے وظائف جاری کیے گئے۔ جن گروہوں کو ان کی سرگرمیوں کے باعث جلا وطن کیا گیا ان کی املاک کی انہیں کہیں زیادہ قیمت ادا کی گئی۔
امیر المؤمنین خود کو بیت المال اور عوام کا محافظ سمجھتے تھے اور ان کا موقف تھا کہ خلیفہ کی حیثیت یتیم کے مال کے نگران جیسی ہے (انی انزلت نفسی من ہذا المال بمنزلۃ والی الیتیم، ان استغنیت استعففت، وان احتجت استقرضت، فاذا ایسرت قضیت)۔ وہ بیت المال کی حفاظت میں سخت محتاط تھے، حتیٰ کہ قرابت داری کے ناتے سے اپنی صاحبزادی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو مال دینے سے انکار کر دیا، اور اپنے علاج کے لیے مسجد میں عوام کی اجازت کے بعد بیت المال سے شہد حاصل کیا۔ ان کے عہد میں مرد و خواتین کو بلا جھجھک خلیفہ پر اعتراض کی آزادی تھی، جسے انہوں نے ہمیشہ سراہا اور قبول کیا۔
صوبائی تقسیم، محکموں کا قیام اور عہدیداروں کا انتخاب
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسلامی سلطنت کو بڑے صوبوں (مکہ، مدینہ، جزیرہ، بصرہ، کوفہ، مصر، فلسطین، خراسان، آذربائیجان، فارس) میں تقسیم کیا اور انتظامی امور کے لیے مستقل محکمے قائم کیے۔ ہر صوبے میں گورنر (والی)، میر منشی (کاتب)، ملٹری سیکرٹری (کاتب دیوان)، کلکٹر (صاحب الخراج)، پولیس افسر (صاحب الاحداث)، افسرِ خزانہ (صاحب بیت المال) اور قاضی (مجسٹریٹ/جج) جیسے اہم عہدیدار تعینات کیے جاتے تھے۔ ان بڑے اور ذمہ دار عہدیداروں کا انتخاب عموماً مجلسِ شوریٰ کے مشورے اور اتفاقِ رائے سے نہایت شفاف طریقے سے کیا جاتا تھا تاکہ بہترین اور راست باز افراد کی خدمات حاصل کی جا سکیں۔
عُمال و حُکام کا احتساب
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حُکام اور عُمال کی نگرانی کا سخت اور منظم نظام رکھتے تھے۔ مقرر ہوتے وقت ہر عامل سے صریح عہد لیا جاتا تھا کہ وہ عیش و عشرت (مثلاً باریک لباس، چھنا آٹا، قیمتی سواری، دربان) سے پرہیز کرے گا اور عوام کے لیے اپنا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھے گا۔ تمام عُمال کے اثاثوں کا ریکارڈ رکھا جاتا اور غیر معمولی اضافے پر ان کا آدھا مال بیت المال میں جمع کر لیا جاتا تھا۔ موسمِ حج میں تمام شہریوں کو عمال کے خلاف شکایات درج کرانے کا عام موقع دیا جاتا تھا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے گھر کی ڈیوڑھی (درخواست گزاروں کے لیے رکاوٹ بننے پر) جلا دینے کا حکم دیا گیا۔ مصر کے حاکم عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ کو فاخرہ لباس اور دربان رکھنے پر سادہ لباس میں بکریاں چرانے کی اصلاحی مشقت پر لگایا گیا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کسی کو حد سے زیادہ انعام و اکرام دیا تو اس پر انہیں معزول کیا گیا۔ مظلوم شہریوں کو عُمال سے بدلہ کا پورا حق دیا جاتا، جس کی رعایت صرف مدعی کی باہمی رضامندی ہی سے ممکن ہوتی۔
عدالتی نظام، پولیس اور دیگر محکمے
اضلاع میں باقاعدہ عدالتیں اور محکمۂ قضا قائم کیا گیا۔ قاضیوں (جیسے قاضی شریح اور سلمان رضی اللہ عنہما) کی معقول ماہانہ تنخواہیں مقرر کی گئیں۔ قانونی و شرعی مسائل کے حل کے لیے جلیل القدر صحابہ (مثلاً حضرت علی، حضرت عثمان، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہم) پر مشتمل افتاء کا باقاعدہ شعبہ قائم کیا۔ امن و امان کی بحالی، ناپ تول کی نگرانی، شاہراہوں پر تجاوزات کی روک تھام، جانوروں پر زیادہ بوجھ نہ ڈالنے اور عوامی مفاد کی حفاظت کے لیے پولیس (احداث) کا محکمہ قائم کیا گیا۔ عرب کی تاریخ میں پہلی بار مکہ مکرمہ اور دیگر اضلاع میں جیل خانے قائم کیے اور سنگین یا متواتر جرائم پر جلاوطنی کی سزا کا آغاز کیا۔
مالیات اور ہجری تقویم
مجلسِ شوریٰ کی منظوری سے مدینہ منورہ میں مرکزی بیت المال اور صوبوں میں اس کی شاخیں قائم کی گئیں، جہاں جداگانہ مالیاتی افسران تعینات کیے گئے۔ اضلاع میں سالانہ مصارف کے بعد بچنے والی رقم اختتامِ سال پر مرکزی بیت المال منتقل کر دی جاتی، جہاں سے لاکھوں باشندوں کے وظائف و تنخواہیں ادا کی جاتیں۔ مالیاتی حساب کتاب اور امورِ حکومت کو تاریخ وار منظم کرنے کے لیے ۱۶ھ میں باقاعدہ ’’سنہ ہجری‘‘ کا اِجرا کیا۔
معاشرتی و اخلاقی نگرانی
حُکام کے ساتھ ساتھ عام مسلمانوں کی اخلاقی و مذہبی تربیت کا بھی خصوصی اہتمام کیا جاتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے معاشرے سے فخر و غرور اور آقائیت کا خاتمہ کیا، غلاموں کو مالکوں کے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلایا، اور لوگوں کو تعظیم کے نام پر شخصیت پرستی سے روکا، حتیٰ کہ اکابر صحابہؓ کو بھی تابعین کی غیر ضروری تعظیم پر متنبہ کیا۔ ہجو گوئی، عشقیہ اشعار میں خواتین کے نام لینے اور رندی و آوارگی وغیرہ پر سخت پابندیاں عائد کیں۔ شراب نوشی کی سزا چالیس سے بڑھا کر اَسی کوڑے کر دی۔ غیر مسلم اقوام کے پرتعیش طرزِ زندگی اور لباس کی تقلید سے مسلمانوں کو سختی سے منع کیا۔ افسران کو تنبیہ کی کہ عیش پرستی ان کی سادگی اور عزم و ثبات کو ختم نہ کر دے۔ عُمال کو ہدایت تھی کہ مسلمانوں کو جسمانی سزائیں دے کر تذلیل نہ کریں، تاکہ ان میں مساوات اور عزتِ نفس قائم رہے۔
معاشی نظام اور زراعتی نظم و نسق
شام اور ایران کی فتح کے بعد مفتوحہ اراضی کی تقسیم کا مسئلہ سامنے آیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام (خصوصاً حضرت علی، حضرت عثمان اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہم) کی تائید اور مجلسِ عام کے فیصلے سے زمینیں فاتحین میں تقسیم کرنے کے بجائے حکومت کی ملکیت اور مقامی باشندوں کے قبضہ میں رہنے دیں۔ عراق، شام اور مصر میں اراضی کی پیمائش کرا کر زراعت کا بندوبست کیا اور علاقائی حالات کے مطابق خراج اور عشر کے باقاعدہ قوانین و شرحیں مقرر کیں۔ غیر ممالک سے آنے والے تجارتی مال پر دس فیصد چنگی (ٹیکس) عائد کی اور پہلی بار تجارتی گھوڑوں پر زکوٰۃ قائم کی۔ تمام مفتوحہ علاقوں میں باقاعدہ مردم شماری کروائی گئی۔
سماجی ترقی اور تعمیرات
سلطنتِ اسلامیہ کی وسعت کے ساتھ ہی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد میں تعمیراتی کام نہایت منضبط اور وسیع پیمانے پر جاری رہا۔ مسافروں، تاجروں اور زائرین کی سہولت کے لیے مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ تک تمام منازل پر چوکیاں، سرائیں اور چشمے قائم کیے گئے۔ سڑکیں، پل، مسافر خانے اور مسجدیں تعمیر کی گئیں۔ ہر صوبے میں سرکاری دفاتر اور بیت المال کی مضبوط عمارتیں تیار کرائی گئیں۔ کوفہ کا بیت المال ایک مجوسی معمار روزبہ نے خسروانِ فارس کی عمارت کے مواد سے تعمیر کیا۔ زراعت کی بہتری اور پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے کئی اہم نہریں کھدوائی گئیں، مثلاً بصرہ کے لیے نہرِ ابی موسٰیؓ، کوفہ میں نہرِ سعدؓ، اور سب سے بڑی اور اہم نہرِ امیر المؤمنینؓ جس کے ذریعے دریائے نیل کو بحیرہ قلزم سے ملا دیا گیا۔
فوجی نظام اور تربیتی اصول
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسلامی فوج کو ایک باقاعدہ، منظم اور پیشہ ورانہ ادارے میں تبدیل کیا۔ تمام قبائل کی مردم شماری کر کے فوجیوں، ان کی آل اولاد اور نوزائیدہ بچوں کے لیے بھی وظائف مقرر کیے گئے۔ سپاہیوں کے لیے تیر اندازی، گھڑ سواری، پیراکی اور ننگے پاؤں چلنے کی سخت تربیت لازمی کی گئی۔ عیش پرستی، نرم لباس اور زراعت و تجارت جیسے دیگر مشاغل اختیار کرنے پر پابندی لگائی گئی تاکہ فوجی روح برقرار رہے۔ ہر چار ماہ بعد مجاہدین کو اہل و عیال سے ملنے کے لیے رخصت دی جاتی۔ سفر اور کوچ کے دوران صحت اور موسم کا خاص خیال رکھا جاتا۔ مدینہ، کوفہ، بصرہ، موصل، فسطاط، دمشق اور حمص سمیت اہم مقامات کو مرکزی چھاؤنیاں بنایا گیا۔ ہر فوج کے ساتھ خزانچی، طبیب، جراح، مترجم اور خبر رساں لازمی ہوتے۔ مقامی ذمیوں، عیسائیوں اور ایرانیوں کی خدمات جاسوسی اور جنگی معاونت کے لیے حاصل کی گئیں، چنانچہ کئی ایرانی و رومی جنگ کے دوران مسلمان ہو کر اسلامی فوج کا حصہ بنے۔
قرآن و حدیث اور فقہ کی تعلیم و ترویج
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہی کے اصرار پر قرآن مجید کو کتابی صورت میں جمع کیا گیا۔ اپنے عہد میں اسے باقاعدہ تعلیمی نظام کا حصہ بنایا، معلمین و حفاظ کی تنخواہیں مقرر کیں، اور اکابر صحابہ (مثلاً حضرت عبادہ بن الصامت اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما) کو تعلیمِ قرآن کے لیے شام و دیگر بلاد میں بھیجا۔
اشاعتِ حدیث کے لیے جلیل القدر صحابہؓ کو مختلف شہروں میں بھیجا گیا، تاہم روایتِ حدیث میں سخت احتساب اور چھان بین کا اصول قائم کیا تاکہ کوئی غلط بات منسوب نہ ہو سکے اور لوگوں کی توجہ قرآن سے نہ ہٹے۔
فقہی مسائل کے حل کے لیے صحابہ کرامؓ کی کونسل میں مباحثے کرائے جاتے تھے۔ اضلاع میں فقہاء و معلمات کی تقرری کی گئی اور پہلی بار ان کی مستقل تنخواہیں مقرر کی گئیں۔
اشاعتِ اسلام اور تبلیغ
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسلام کو تلوار کے بجائے بہترین اخلاق، اعلیٰ کردار اور حسنِ تدبیر سے پھیلایا۔ انہوں نے ’’لا اکراہ فی الدین‘‘ کی روشنی میں اپنے غیر مسلم غلام تک پر کبھی اسلام قبول کرنے کا دباؤ نہیں ڈالا۔ عُمال کو ہدایت تھی کہ فتح سے پہلے دشمن کے سامنے اسلام کے محاسن پیش کریں۔ مسلمانوں اور فاتحین کی سادگی و اعلیٰ اخلاق سے متاثر ہو کر متعدد رومی و ایرانی امرا، رؤسا اور فوجیں برضا و رغبت دائرہ اسلام میں داخل ہوئیں۔
مساجد اور حج کے لیے انتظام
۱۷ھ میں مسجدِ حرام اور مسجدِ نبوی کی عمارتوں میں نمایاں توسیع کی گئی۔ کعبہ مشرفہ کے لیے مصر کا اعلیٰ کپڑا قباطی غلاف کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔ تمام مفتوحہ شہروں میں کثرت سے مسجدیں تعمیر کروائیں، وہاں امام و مؤذن مقرر کیے اور مسجدوں میں روشنی اور فرش کا باقاعدہ انتظام کیا۔ مسجدِ نبوی کے باہر بات چیت اور اشعار گوئی کے لیے چبوترا بنوایا تاکہ مسجد کے احترام میں خلل نہ پڑے۔ حجاجِ کرام کے لیے مناسکِ حج اور سفری سہولیات کا پورا انتظام کیا گیا اور ہر سال حضرت عمر رضی اللہ عنہ خود حج پر جا کر ذاتی طور پر نگرانی فرماتے۔
نئے شہروں کی آباد کاری
عربوں کی نقل مکانی کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ہدایت پر متعدد عظیم الشان شہر آباد کیے گئے:
بصرہ ۱۴ھ میں عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں آباد ہوا، جو بعد میں اسلامی دنیا کا بڑا علمی و عسکری مرکز بنا۔
کوفہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے خلیفہؓ کے بھیجے گئے نقشے کے مطابق آباد کیا، جہاں چالیس ہزار آبادی کے لیے کشادہ سڑکیں اور ایک بڑی جامع مسجد تعمیر کی گئی، جسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ ’’رأس الاسلام‘‘ فرماتے تھے۔
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے خیمہ (فسطاط) والے میدان میں بسایا، جو جلد ہی مصر کا صدر مقام اور عظیم تجارتی و علمی مرکز بنا۔
موصل کو ہرثمہ بن عرفجہ رضی اللہ عنہ نے ایک گاؤں سے عظیم شہر میں ڈھالا، جبکہ جیزہ (مصر) کو ساحلی دفاعی قلعے کے گرد نوآبادی کی شکل دی گئی۔
باب ششسم: شخصی اوصاف و کمالات
علمی فصاحت اور اجتہادی بصیرت
اسلام سے قبل عرب میں لکھنے پڑھنے کا رواج بہت کم تھا، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس دور میں بھی پڑھنا لکھنا سیکھ لیا تھا۔ ان کی تحریروں، خطبات اور فرامین سے بلاغت، قوتِ تحریر اور برجستگی کا واضح ثبوت ملتا ہے۔ عربی شعر و ادب اور تنقید کا بہترین ذوق رکھتے تھے اور علم الانساب کے ماہر تھے، اس کے ساتھ ساتھ مدینہ منورہ پہنچ کر عبرانی زبان سے بھی واقفیت حاصل کی تھی۔
بارگاہِ نبوی کی قربت کی بدولت حضرت عمرؓ کو شرعی احکام اور معارف پر گہری دسترس حاصل تھی۔ فطرتاً نہایت طباع اور صائب الرائے تھے، جس کا ثبوت یہ ہے کہ کئی اہم امور مثلاً اذان کی صورت، پردے کے احکام، اور مقامِ ابراہیمؑ کو مصلٰی بنانے میں نزولِ وحی آپ کی رائے کے موافق ہوا۔ حضرت عمرؓ نے قرآنِ مجید کے فہم و استدلال میں مجتہدانہ بصیرت دکھائی اور آئندہ نسلوں کے لیے استنباطِ مسائل اور اجتہاد کی روشن شاہراہ قائم کی۔ روایتِ حدیث میں انتہائی محتاط تھے تاکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب کسی غلط قول کی نسبت نہ ہو جائے، اور اسی محتاط رویے نے آگے چل کر فقہِ اسلامی اور تدوینِ احکام کی مضبوط بنیاد رکھی۔
اخلاقی استواری اور خشیتِ الٰہی
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دل ہر لمحہ خوفِ خدا میں لرزاں اور فکرِ آخرت میں ترساں رہتا تھا۔ ان کی تمام تر اخلاقی عظمت کا سرچشمہ یہی خشیتِ الٰہی تھی۔ راتوں کو عبادات میں زارو قطار روتے اور جب قرآنِ مجید کی آیاتِ عذاب یا قیامت و حشر کا ذکر پڑھتے تو ان پر رقّت طاری ہو جاتی۔ قیامت میں حساب و کتاب کے سخت مواخذے کا خیال ہر وقت ان کے پیشِ نظر رہتا تھا، اور اکثر فرمایا کرتے تھے کہ اگر بالفرض آسمان سے ندا آئے کہ ایک شخص کے سوا تمام انسان جنتی ہیں، تب بھی مجھے اپنے محاسبے کا خوف قائم رہے گا۔
حبِ رسولؐ اور اتباعِ سنت
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی تہذیبِ نفس اور اتباعِ رسولؐ کا مجسم نمونہ تھی۔ بارگاہِ رسالت سے کامل محبت آپ کا سرمایۂ حیات تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب بھی عہدِ مبارک کی یاد آتی تو بے تاب ہو کر رو پڑتے۔ نبی کریمؐ کے قرابت داروں، ازواجِ مطہرات اور عزیزوں کا بے حد احترام کرتے اور ان کے وظائف و اکرام کو دیگر تمام لوگوں پر ترجیح دیتے۔ اپنی ذاتی خورد و نوش، لباس اور نشست و برخاست میں اتباعِ سنتؐ ہی مطمحِ نظر رہتی۔ روم و ایران کی عظیم سلطنتیں فتح ہونے اور بیت المال کے وسیع وسائل کے باوجود وہی فقر و فاقہ اور سادگی اختیار رکھی جو عہدِ نبوی میں دیکھی تھی۔ شعائرِ اسلام کی تعظیم اور دیگر بہت سے معاملات میں تبدیلئ حالات کے باوجود سنتِ نبوی کے متابع رہتے۔
زہد و قناعت اور بے نیازی
دنیا طلبی اور حرص و ہوس سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو طبعی نفرت تھی۔ پیوند لگے کپڑے، پھٹی ہوئی جوتیاں اور سادہ خوراک حضرت عمرؓ کی زاہدانہ زندگی کی گواہی دیتے تھے۔ قیصر و کسریٰ کے سفیروں اور غیر ملکی وفود سے اسی سادہ حال میں ملتے تھے۔ خلافت کے منصب پر فائز ہونے کے باوجود بیت المال سے صرف اتنا معمولی وظیفہ لیتے تھے جو محض زندہ رہنے کے لیے کافی ہو، اور اکثر فرماتے کہ مسلمانوں کے مال میں میرا حق اتنا ہی ہے جتنا کسی یتیم کے مال میں اس کے ولی کا ہوتا ہے۔ اپنے اہل و عیال اور اولاد کے لیے بیت المال کی ایک پائی بھی ناجائز استعمال نہیں ہونے دیتے تھے اور سرکاری وسائل کے استعمال کے حوالے سے قرابت داروں پر سختی سے نگرانی فرماتے تھے۔
تواضع اور خاکساری
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ہیبت اور رعب کا یہ عالم تھا کہ آپ کے نام سے قیصر و کسریٰ کے ایوان لرزتے تھے، لیکن ذاتی زندگی میں آپ انتہا درجے کے متواضع تھے۔ آپ کندھے پر مشک اٹھا کر بیوہ عورتوں کے لیے پانی بھرتے، مجاہدین کے گھروں کا سودا سلف لا دیتے، اور مسجد کے فرشِ خاک پر سو جاتے۔ سفرِ شام کے موقع پر جب افسران نے اعلیٰ لباس اور سواری پیش کی تو ایک تاریخی جملہ ارشاد فرمایا کہ خدا نے ہمیں جو عزت دی ہے وہ صرف اسلام کی بدولت ہے۔ حضرت عمرؓ مسلمانوں کی سیادت کو خدمت گزاری سے تعبیر فرماتے تھے۔
للّٰہیت، رحم دلی اور عفو و درگزر
اگرچہ ملکی انتظامات اور نظم و نسق کو برقرار رکھنے کے لیے حضرت عمرؓ رویہ نہایت سخت تھا لیکن ذاتیات میں دل موم کی طرح نرم اور رحم دلی سے لبریز تھا۔ ذمیوں اور غیر مسلم رعایا کے ساتھ آپ کا سلوک نہایت منصفانہ اور شفقت آمیز تھا۔ غریبوں، یتیموں اور مسافروں کے لیے لنگر خانے اور وظائف قائم کیے۔ قحط کے ایام میں آپ کی بے قراری اور فلاحی تگ و دو تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے۔ بدتمیزی کرنے والے کو قرآنی ہدایت کے مطابق معاف فرما دیتے اور ذاتی انا کو درمیان میں نہیں آنے دیتے تھے۔
حضرت عمرؓ نے تمام عربی غلاموں کو آزاد کرا دیا اور یہ قانون بنا دیا کہ اہلِ عرب کبھی کسی کے غلام نہیں ہو سکتے۔ چونکہ عام غلاموں کا آزاد کرانا بہت مشکل تھا، اس لیے ان کے لیے بہت سی مراعات قائم کیں۔ مجاہدین کی تنخواہیں مقرر ہوئیں تو آقا کے ساتھ غلام کی تنخواہ بھی مقرر ہوئی۔ اکثر غلاموں کو بلا کر ساتھ کھانا کھلاتے۔ ایک شخص نے دعوت کی تو محض اس وجہ سے ناراض ہو کر اُٹھ گئے کہ اس نے دسترخوان پر اپنے غلام کو نہیں بٹھایا تھا۔ اکثر غلاموں کو اپنے ساتھ کھانا نہ کھلانے پر وعید سناتے۔ غلاموں کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہوتی تھی کہ وہ اپنے عزیز و اقارب سے جدا ہو جاتے تھے، حضرت عمرؓ نے حکم دیا کہ کوئی غلام اپنے رشتہ داروں سے جدا نہ کیا جائے۔
خلقِ خدا کی خدمت
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی کا ایک بڑا حصہ خلقِ خدا کی نفع رسانی اور خاموش خدمت میں گزرا۔ راتوں کو گشت فرما کر مدینہ کی آبادی اور مسافروں کا حال معلوم کرنا، بھوکے بچوں کے لیے بیت المال سے اپنی پشت پر آٹا اور سامانِ خوراک اٹھا کر لانا، مصیبت میں مبتلا بدوی خاتون کی امداد کے لیے اپنی زوجہ محترمہ کو ساتھ لے جانا، اور رات کی تاریکی میں غیر محسوس طریقے سے شہر کے نابینا اور معذور افراد کے گھروں کی صفائی اور خدمت کرنا حضرت عمرؓ کا روزمرہ کا معمول تھا۔
الغرض خلیفۂ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی تمام تر صلاحیتیں، مال اور وقت اللہ کی رضا اور اس کی مخلوق کی فلاح کے لیے وقف کر رکھا تھا۔





















