’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۱)

اسلام میں صلہ رحمی کا تصور

خطبہ نمبر ۱۰

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ احکام القرآن کے حوالے سے ہماری گفتگو مسلسل چل رہی ہے۔ قرآن پاک نے جن احکام پر اہمیت کے ساتھ زور دیا ہے اُن میں باہمی رشتہ داریاں بھی ہیں کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے جوڑ کر رکھنے کا حکم دیا ہے۔ ان میں سے ایک صلہ رحمی ہے۔ صلہ رحمی کا لفظی معنی ہے رشتے جوڑنا یعنی رشتوں کا جوڑ قائم رکھنا۔ جب کہ رشتوں کو توڑ دینا قطع رحمی ہے۔ قرآن پاک نے دونوں طرح کی اصطلاح میں اسے بیان کیا ہے، صلہ رحمی کی بھی اور قطع رحمی کی بھی۔ صلہ رحمی، رشتوں کو جوڑ کر رکھنا۔ اور قطع رحمی، رشتوں کو توڑ کر پامال کرنا۔

فہل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض وتقطعوا ارحامکم (سورۃ محمد: 47، آیت: 22)
(پھر اگر تم نے (جہاد سے) منہ موڑا تو تم سے کیا توقع رکھی جائے؟ یہی کہ تم زمین میں فساد مچاؤ، اور اپنے خونی رشتے کاٹ ڈالو۔)

صلہ رحمی کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا اُسوہ حسنہ

رشتے کو قائم رکھنا، اخلاقِ حسنہ میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ آپ ﷺ کے اخلاقِ عظیمہ میں صلہ رحمی بہت بڑی صفتِ حسنہ ہے۔ خاتم النبیین ﷺ رشتوں کا بڑا خیال رکھتے تھے، رشتوں کا احترام کرتے تھے اور رشتوں کو یاد بھی رکھتے تھے۔ بہت سی روایات ہیں کہ خاتم النبیین ﷺ کا اس بارے میں اسوہ کیا تھا۔ یہ اسوہ رشتوں کو باقی رکھنے کے حوالے سے بھی ہے اور رشتوں کو یاد رکھنے کے حوالے سے بھی۔

ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ہجرت سے پہلے مکہ میں انتقال ہو گیا تھا۔ جو جناب خاتم النبیین ﷺ کی سب سے طویل مدت تک ساتھ دینے والی اہلیہ تھیں۔ پچیس سال کی مدت تک حضور ﷺ کے ساتھ کسی اور بیوی کا وقت نہیں گزرا۔ جوانی کے زمانہ میں حضور ﷺ سے پچیس سال کی عمر میں شادی ہوئی ہے، اور حضورؐ پچاس سال کے تھے جب حضرت خدیجہؓ کا انتقال ہوا۔ جس سال جناب ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو حضور ﷺ کو دوہرا صدمہ پیش آیا۔ گیارہ نبوی کی بات ہے۔

  • ایک طرف اہلیہ محترمہ، غم خوار، جنھوں نے حضورؐ پر اپنا سب کچھ لٹایا، اپنی ہر چیز قربان کر دی۔ 
  • دوسری طرف حضورؐ کے چچا ابو طالب ہیں جنھوں نے حضورؐ کا ساتھ دیا، حضورؐ کی پشت پناہی کی۔ 

جس سال یہ دونوں فوت ہوئے تو حضورؐ نے اسے غم کا سال (عام الحزن) کہا کہ یہ میرے لیے غم کا سال ہے۔ جیسے ہم کہتے ہیں کہ یہ سال فلاں چیز کا، یہ سال فلاں چیز کا ہے۔ آپؐ نے فرمایا، یہ میرے لیے غم کا سال ہے کہ مجھے یکے بعد دیگرے دو بڑے صدمے پیش آئے۔ مدینہ میں اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو بیویاں دیں، بڑی با وقار تھیں اور حضورؐ کی بڑی چہیتیاں تھیں، لیکن حضور ﷺ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو ہمیشہ یاد رکھتے تھے۔ ان کی بہن حضرت ہالہ رضی اللہ عنہا جب بھی آتیں تو حضورؐ ان کا استقبال کرتے تھے کہ خدیجہؓ کی بہن آئی ہیں۔ اور ہمیشہ اُن کا ذکر محبت سے کرتے۔

حضرت ابن عمرؓ کا اتباعِ سنت اور صلہ رحمی کا اہتمام

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک واقعہ محدثین و مؤرخین ذکر فرماتے ہیں۔ انھوں نے حضور ﷺ کے ساتھ ایک حج کیا تھا۔ پھر معمول رہا کہ حج چھوڑا نہیں، ہر سال حج پر جاتے تھے۔ کئی دفعہ عزیزوں نے روکا بھی کہ حضرت آپ نابینا ہو گئے ہیں، نہ جائیں۔ حجاج کے زمانے میں لڑائی ہو رہی تھی، پھر بھی نہیں رکے، کہتے تھے کہ میں جاؤں گا۔ ایک مرتبہ مکہ مکرمہ میں حضرت عبداللہ بن زبیرؓ اور حجاج بن یوسف کی شدید جنگ تھی، حجاج نے مکہ کا محاصرہ کیا ہوا تھا۔ بیٹوں نے کہا، ابا جان جنگ ہو رہی ہے، پتہ نہیں آپ کو اندر جانیں دیں یا نہ جانیں دیں، چھوڑیں، اس سال حج نہ کریں، آپ کے لیے اب یہ کون سا فرض ہے؟ کہنے لگے حضور ﷺ بھی ایک مرتبہ عمرہ کے لیے گئے تھے تو لوگوں نے روک دیا تھا، جو حضورؐ نے کیا تھا میں بھی وہی کروں گا۔ یہ ہے تعلقات اور رشتے قائم رکھنا اور ان کا احترام کرنا۔ یہ واقعہ رشتے اور تعلقات قائم رکھنے کی چھوٹی سی مثال تھی۔ 

[اذ اصنع کما صنع رسول اللہ، صحیح بخاری، باب طواف القارن، حدیث نمبر: 1640]

ایک مرتبہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حج کر کے واپس مدینہ جا رہے تھے، راستے میں ایک بدوی (دیہاتی) شخص ملا، دعا سلام ہوئی۔ اس نے کہا، حضرت آپ کو یاد ہوگا میں آپ کے گھر آیا کرتا تھا، میرے والد آپ کے والد کے دوست تھے۔ میرے والد آپ کے والد کے پاس آیا کرتے تو میں بھی آیا کرتا تھا، بچہ تھا، اگر آپ کو یاد ہو، میں ان کا بیٹا ہوں۔ فرمایا، ہاں یاد آ گیا، میں نے آپ کو دیکھا ہے۔ کچھ دیر ساتھ رہے۔ جب رخصت ہونے لگے تو حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے ان کو سواری کے لیے خچر دیا اور کچھ نقد پیسے بھی دیے۔ ہدیے کے طور پر کھجوریں اور کپڑے وغیرہ بھی دیے اور بڑے احترام کے ساتھ ان کو رخصت کیا۔ بعد میں ساتھیوں نے کہا، حضرت وہ سیدھا سادہ سا دیہاتی آدمی تھا، دس بارہ درہم بھی کافی تھے، آپ نے اتنا تکلف کیا، چند کھجوریں ہی کافی تھیں۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے ایک جملہ فرمایا کہ تم نے سنا نہیں کہ اس کا والد میرے والد کا دوست ہے، اس لیے وہ تعلق مجھے مجبور کرتا ہے کہ میں اس کی خدمت کروں۔ یہ ہے تعلقات اور رشتوں کو نبھانا اور رشتوں کو قائم رکھنا اور ان کا احترام کرنا۔ (صحیح مسلم، باب صلۃ اصدقاء الاب والام، حدیث نمبر: 11)

مرنے کے بعد والد کے چار حقوق

ایک صاحب آئے، یا رسول اللہ ﷺ! میرے والد صاحب فوت ہو گئے ہیں۔ زندگی میں تو ان کا حق ہوتا ہے ادب کرنا، احترام کرنا اور ان کی اطاعت کرنا۔ یہ ماں باپ کا حق ہوتا ہے۔ کیا فوت ہونے کے بعد بھی باپ کا کوئی حق مجھ پر ہے؟ جناب خاتم النبیین ﷺ نے فرمایا چار حق ہیں (سنن ابی داؤد، باب فی بر الوالدین، حدیث نمبر: 5142):

پہلا حق

ان کے لیے مغفرت کی دعا اور کچھ نہ کچھ ایصالِ ثواب کرتے رہنا۔ جب بھی موقع ملے دعا کرو، ایصال ثواب کرو۔ ویسے بھی اس سے ہٹ کر اولاد جو خیر کے کام کرتی ہے، ماں باپ کی تربیت ہے تو سب کا ثواب ماں باپ کو پہنچتا ہے، وہ نام نہیں لے گا تب بھی ماں باپ کے حق میں ثواب ہوگا۔ یہ اصول ہے، خودبخود ثواب پہنچے گا۔ لیکن اس سے ہٹ کر ان کا حق ہے کہ نام لے کر ان کے لیے مغفرت کی دعا کرے، ایصال ثواب کرے۔ جس نے بھی کسی کو نیکی کی تعلیم دی ہو، اس کے بعد اگر وہ اس پر عمل کرتا ہے تو خودکار طریقے سے اس کا ثواب اس تعلیم دینے والے کو ملتا ہے جس نے نیک تعلیم دی ہوتی ہے۔

حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ کا ایک علمی نکتہ

اس پر ایک دلچسپ بات ذہن میں آئی ہے، عرض کر دیتا ہوں۔ ہمارے ہاں ہر زمانے میں آپس میں مناظرے اور مقابلے کے کچھ عنوانات ہوتے ہیں، اس وقت بھی ہیں۔ یہ عنوانات مختلف ہیں، پاکستان میں اور ہیں، ترکی میں اور ہیں، مصر میں اور ہیں۔ کسی نہ کسی مسئلے پر ہم آپس میں بحث و مباحثہ کرتے رہتے ہیں۔ اور کوئی حرج کی بات نہیں ہے اگر صرف بحث و مباحثہ کی حد تک ہو، لڑائی جھگڑا نہ ہو۔ علمی گفتگو اور فکری مباحثے بہت فائدے کی چیزیں ہیں اگر ان میں بے جا بحث نہ کی جائے، تعصب نہ اختیار کریں، گروپ بندی نہ ہو، جھگڑا نہ کریں، تو بہت کام کی چیزیں ہیں۔ 

آج سے ڈیڑھ سو سال پہلے کی بات ہے، ایک اختلافی مسئلہ ہمارے ہاں یہ تھا کہ کوئی اُمتی اعمال میں نبی ﷺ سے بڑھ سکتا ہے یا نہیں؟ جو بات کرتے تھے گنتی کے حوالے سے، وہ کہتے تھے بڑھ سکتا ہے۔ اور جو بحث کرتے تھے قدر اور قیمت کے حوالے سے، وہ کہتے تھے کہ نہیں بڑھ سکتا۔

  • گنتی کے اعتبار سے تو تعداد بڑھ سکتی ہے لیکن کیفیت کے حوالے سے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کچھ کا زور اِدھر تھا کہ گنتی بڑھ سکتی ہے۔ خاتم النبیین ﷺ نے حج فرض ہونے کے بعد ایک حج کیا ہے۔ میں نے خود کئی حج کرنے والے لوگ دیکھے ہیں، ایک نے تو پینتالیس حج کیے تھے۔ جناب خاتم النبیین ﷺ نے روزے فرض ہونے کے بعد نو سال روزے رکھے ہیں۔ یہاں کئی افراد ایسے بیٹھے ہوں گے جنھوں نے تیس سال چالیس سال مسلسل روزے رکھے ہوں گے۔ گنتی والے کہتے تھے نو، نو ہی ہوتا ہے، تیس سے بڑھ نہیں سکتا۔ اس طرح پانچ، پانچ ہے دس سے بڑھ نہیں سکتا، تو گنتی میں امتی آگے بڑھ سکتا ہے۔
  • جن کا یہ دعویٰ تھا کہ فضیلت اور کیفیت کے اعتبار سے نہیں بڑھ سکتے، وہ یہ کہتے تھے کہ سارے امتیوں کی نمازیں ایک طرف اور نبی ﷺ کی دو رکعتیں ایک طرف۔

اب یہ بحث چل رہی تھی اور یہ صرف اندازے و قیافے چل رہے تھے۔ ہمارے ہاں جو بات ہوتی ہے، پیچھے دیکھیں تو اتنی سی بات نکلتی ہے، جب کہ ہم ٹھیک ٹھاک میدان گرم کر چکے ہوتے ہیں۔ مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے فرمایا کہ گنتی میں بھی نہیں بڑھ سکتے۔ کوئی امتی اعمال میں گنتی کے اعتبار سے بھی پیغمبر سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ لوگوں نے کہا، حضرت آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ یہ حساب و کتاب کی بات ہے، اس میں عقیدت کی بات تو نہیں ہے، دو اور دو چار ہی ہوتے ہیں۔ انھوں نے فرمایا کہ گنتی میں بھی نہیں بڑھ سکتا۔ پوچھا، کیسے؟ انھوں نے کہا، میری بات سنو! امت کو سارے اعمال کی تلقین کس نے کی ہے؟ کس کے کہنے پر نمازیں پڑھ رہے ہیں؟ کس کے کہنے پر روزے رکھتے ہیں؟ جو کام کرتے ہیں، پہلے ثواب کس کے کھاتے میں جاتا ہے؟ جناب خاتم النبیین ﷺ کے پاس۔ ثواب شمار کرو، ہے کوئی کیلکولیٹر؟ ایک امتی کی نہیں سارے امتیوں کی ساری نمازیں مل کر بھی گنتی میں حضور ﷺ سے نہیں بڑھ سکتیں۔

جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ ماں باپ، استاد، یا شیخ کو خود ثواب پہنچتا ہے۔ جو آدمی بھی نیکی کا عمل کرتا ہے سب سے پہلے اس کے کھاتے میں جاتا ہے جس نے یہ عمل سکھایا ہے۔ لیکن نام لے کر، یاد کر کے، متعین کر کے کہ یا اللہ میرے ماں باپ کو اس کا ثواب پہنچا، یہ بھی ان کا حق ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا، پہلا حق یہ ہے کہ ایصالِ ثواب کرتے رہو اور دعائے مغفرت کرتے رہو۔

دوسرا حق

فرمایا، اگر اس نے کسی سے کوئی وعدہ کیا تھا لیکن پورا نہیں کر پایا۔ کسی ادارے کے ساتھ کوئی خیر کے کام کی نیت کی اور وعدہ کیا تھا لیکن پورا نہیں کر سکا۔ تو فرمایا کہ اگر توفیق ہے تو اس وعدہ کو پورا کر دو۔

تیسرا حق

جو میرے موضوع سے متعلق ہے۔ فرمایا، باپ کی وجہ سے جو رشتے داریاں تھیں وہ ٹوٹنے نہ پائیں۔ کچھ رشتے باپ کی طرف سے ہوتے ہیں اور کچھ رشتے ماں کی طرف سے ہوتے ہیں۔ ایک تیسرا کھاتہ ہے بیوی کی طرف سے، اور ایک چوتھا کھاتہ ہے رضاعت کا۔ اسلام نے رشتے قائم ہونے کے یہ چار کھاتے قائم رکھے ہیں۔ ہاں، ایک رشتہ توڑ دیا تھا، جاہلیت کا منہ بولا رشتہ: یہ میرا بھائی ہے، یہ میرا باپ ہے۔ فرمایا کہ منہ سے کہنے سے کوئی کچھ نہیں بنتا۔ رشتوں کے چار دائرے قرآن پاک نے بیان کیے ہیں: (1) ماں کے حوالے سے (2) باپ کے حوالے سے (3) بیوی کے حوالے سے (4) دودھ، یعنی رضاعت کے حوالے سے۔

جناب خاتم النبیین ﷺ نے فرمایا کہ باپ کی وجہ سے جو رشتے تھے وہ ٹوٹنے نہ پائیں۔ دادا دادی اور ان کے رشتے دار یعنی باپ کی وجہ سے جو رشتے تھے اُن رشتوں کو قائم رکھنا ہے۔ ہمارے ہاں پنجابی کا محاورہ ہے ’’پِڑ پَڑا تو ساک گیا‘‘ (جھگڑا ہوا تو رشتہ ختم)۔ یہ بات نہیں ہے بلکہ ایک روایت میں آتا ہے، جناب خاتم النبیین ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’علموا من انسابکم‘‘ (سنن ترمذی، باب ما جآء فی تعلیم النسب، حدیث نمبر: 1979)
(اپنے نسب اور رشتے یاد رکھو اور اس کو سیکھو۔)

اسی پر ایک واقعہ یاد آیا ہے۔ جناب خاتم النبیین ﷺ کے خلاف جب شاعروں نے ایک طوفان بپا کر دیا تھا، کوئی یہ لکھ رہا ہے، کوئی وہ لکھ رہا ہے، بہت سے لوگ لکھ رہے تھے۔ احزاب کی جنگ کے بعد عرب کے قریشی شعراء نے طوفانِ بدتمیزی برپا کر دیا تھا، اسلام کے خلاف اشعار لکھ رہے ہیں، ذاتِ نبوت کے خلاف ہَجو لکھ رہے ہیں۔ جناب خاتم النبیین ﷺ نے مسجد نبوی میں مجمع عام سے اعلان فرمایا کہ اس کا جواب کون دے گا کہ جو ہمارے خلاف لکھ رہے ہیں اور پڑھ رہے ہیں؟ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اٹھ کھڑے ہوئے، کہنے لگے، یا رسول اللہ ﷺ! میں حاضر ہوں۔ انھوں نے زبان باہر نکالی، ہاتھ سے پکڑی اور کہا، یا رسول اللہ! جو آپ کے خلاف بولتے ہیں میں ان قریشیوں کو اس زبان کے ساتھ چیر پھاڑ کر رکھ دوں گا۔ حضور ﷺ نے فرمایا، اے حسان! میں بھی قریشی ہوں۔ حضرت حسان بن ثابتؓ نے فرمایا، آپؐ کو درمیان سے اس طرح نکال لوں گا جس طرح آٹے میں سے بال نکالتے ہیں۔ پھر آپؐ نے فرمایا، حسان! اس طرح کرو پہلے میرے ساتھ بیٹھو، ان کے ساتھ میری رشتے داریاں اچھی طرح معلوم کر لو، ایسا نہ ہو کہ انجانے میں تم کوئی بات کہو اور میں بھی اس میں شامل ہو جاؤں۔ (صحیح مسلم، باب فضائل حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ، حدیث نمبر: 157)

اس حوالے سے میں عرض کیا کرتا ہوں، حضور ﷺ کی ذات بابرکات کا معاملہ بڑا نازک معاملہ ہے۔ حضورؐ نے فرمایا کہ تم قریشیوں کی مذمت کر رہے ہو اور تمھاری زبان سے کوئی ایسی بات نکل جائے جس میں، میں بھی شامل ہو جاؤں، یہ درست نہیں۔ اہلِ علم کے پاس بیٹھ کر میری رشتہ داریوں کی تصدیق کرو۔ نسب اور رشتہ داریوں کو معلوم کرنا، یہ بھی تقاضوں میں سے ہے۔

چوتھا حق

چوتھی بات یہ ارشاد فرمائی کہ باپ کی وجہ سے جو تعلقات تھے وہ تعلقات ختم نہ ہوں۔ جیسے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے کیا تھا وہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ میرے باپ کا دوست تھا اور میرے باپ کا ساتھی تھا۔ تعلقات اور رشتے دونوں کو جناب خاتم النبیین ﷺ نے ان کی موت کے بعد بھی یاد رکھنے کی تلقین فرمائی ہے۔ اس کو سماجی ضرورت کے طور پر بھی بیان کیا ہے۔ صلہ رحمی: رشتوں کا قائم رہنا، جوڑنا۔ قرآن پاک نے جہاں بھی صلہ رحمی اور قطع رحمی کا ذکر فرمایا ہے، وہاں یہ بھی فرمایا ہے:

فہل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض وتقطعوا ارحامکم (سورۃ محمد: 47، آیت: 22)
(پھر اگر تم نے (جہاد سے) منہ موڑا تو تم سے کیا توقع رکھی جائے؟ یہی کہ تم زمین میں فساد مچاؤ، اور اپنے خونی رشتے کاٹ ڈالو۔)
الذین ینقضون عہد اللہ من بعد میثاقہ ویقطعون ما امر اللہ بہ ان یوصل ویفسدون فی الارض اولئک ھم الخاسرون (سورۃ البقرۃ: 2، آیت: 27)
(وہ جو اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پختہ کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جن رشتوں کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے انھیں کاٹ ڈالتے ہیں اور زمین میں فساد مچاتے ہیں ایسے ہی لوگ بڑا نقصان اٹھانے والے ہیں۔)

اور بھی جہاں قرآن پاک نے صلہ رحمی اور قطع رحمی کا ذکر کیا ہے وہاں فساد فی الارض کا بھی ذکر کیا ہے۔ اگر میرا باپ کے رشتے داروں سے تعلق نہیں ہے تو زمین میں فساد کیسے آگیا؟ آدمی کا تعلق آپس میں نہیں ہے تو فساد فی الارض کیسے آیا؟ قرآن پاک کا اصول ہے:

و یقطعون ما امر اللہ بہ ان یوصل ویفسدون فی الارض۔
(اور جن رشتوں کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے انھیں کاٹ ڈالتے ہیں اور زمین میں فساد مچاتے ہیں۔)
فہل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض وتقطعوا ارحامکم۔
(پھر اگر تم نے (جہاد سے) منہ موڑا تو تم سے کیا توقع رکھی جائے؟ یہی کہ تم زمین میں فساد مچاؤ اور اپنے خونی رشتے کاٹ ڈالو۔)

دو معنی ہیں اس کے: (1) اگر تم دین کی تعلیمات سے اعراض کرو گے، رشتے قائم نہیں رکھو گے تو نتیجتاً‌ زمین میں فساد پھیلے گا۔ (2) دوسرا معنی یہ کہ حکمرانی تمھارے ہاتھ میں آجائے اور تم والی بن جاؤ اور رشتوں کا جوڑنا تمھارے بس میں نہ رہے اور رشتے ٹوٹتے رہیں تو زمین میں فساد آجائے گا۔ آگے فرمایا:

اولئک الذین لعنھم اللہ (سورۃ محمد: 47، آیت: 23)
(یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے۔)

قرآن پاک ہمیں یہ بات سمجھا رہا ہے کہ انسانیت کی بنیاد جوڑ پر ہے، انفرادیت پر نہیں ہے۔ آج بھی ہمارا مغرب سے اختلاف ہے، وہ کہتے ہیں سوسائٹی کا آغاز فرد سے ہے۔ ہم کہتے ہیں فیملی سے ہے اور صلہ رحمی سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، جوڑ سے معاشرہ ہے فرد سے نہیں۔ کیونکہ سوسائٹی کا آغاز جوڑے سے ہوا تھا فرد سے نہیں۔ علامہ اقبال نے اس کو اپنے انداز میں بیان کیا ہے:

فرد قائم ربطِ ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں
وبث منہما رجالاً‌ کثیرا ونسآء (سورۃ النساء: 4، آیت: 1)
(اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں (دنیا میں) پھیلا دیے۔)

صلہ رحمی کے مختلف درجات

سوسائٹی کا مدار فرد نہیں بلکہ خاندان پر ہے۔ قرآن پاک نے اس کے درجات بیان فرمائے ہیں۔ جوڑ کو قائم رکھنا اور رشتوں کو قائم رکھنا اور رشتوں پر سوسائٹی کی بنیاد رکھنا، یہ قرآن پاک کا تقاضا ہے۔

واعبدوا اللہ ولا تشرکوا بہ شیئا و بالوالدین احسانا و بذی القربیٰ (سورۃ النساء: 4، آیت: 36)
(اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو، نیز رشتہ داروں سے بھی)

قرآن پاک کہتا ہے کہ اللہ کی فرماں برداری کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ۔ اور دوسرا نمبر کس کا ہے؟ یعنی والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا، اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کے ساتھ والدین کا ذکر کر دیا۔ اور ماں باپ کے بعد اللہ تعالیٰ نے مختلف مقامات پر ذوی القربی یعنی قریبی رشتے داریوں کا ذکر کیا۔ پہلا دائرہ: ماں باپ۔ دوسرا دائرہ: ذوی القربیٰ۔ تیسرا دائرہ: ہمارے ہاں وراثت لینے اور دینے میں ترتیب کیا ہے، کتنے درجے ہیں؟ (1) ذوی الفروض (2) عصبات (3) ذوی الارحام (4) موالی۔ وراثت میں چار درجے ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ وراثت کے حق دار بھی اسی ترتیب سے ہیں، اگر کوئی مصیبت میں پھنس گیا ہے تو اس کی کفالت کے ذمہ دار بھی یہی درجے ہیں۔

[الغرم بالغنم۔ (جتنا فائدہ ہے اتنی ذمہ داری ہے) مجلۃ الاحکام العدلیۃ، نور محمد، کارخانہ تجارتِ کتب، کراتشی، ج 1، ص 26]

فقہاء کا اصول ہے کہ جس کو حصہ ملتا ہے اس پر ذمہ داری بھی آتی ہے۔ اشارہ کر دیتا ہوں کہ ایک آدمی لاوارث ہو گیا اور بزرگ یا معذور ہو گیا ہے، تو فقہاء اس کو کسی فلاحی سنٹر (Old Home) کے حوالے نہیں کرتے بلکہ اس کا ذمہ ان لوگوں پر ہے جو مرنے کی صورت میں اس کے وارث بنیں گے۔ یہ ذمہ داریاں طے کی ہیں درجہ بدرجہ، اگر یہ ذمہ دار نہ ہو تو وہ ہو گا۔ اس کی دیکھ بھال، رہن سہن، اس کا کھانا، اس کی ضروریات، یہ جو ذمہ داریاں طے کی ہیں محض اخلاقاً‌ نہیں بلکہ قانوناً‌ ہیں، دیانتاً‌ نہیں بلکہ قضاءً‌ ہیں۔ فقہاء کی ترتیب کے مطابق پہلی ذمہ داری ذوی الفروض پر، پھر عصبات پر، پھر ذوی الارحام پر، پھر ذوالقربیٰ پر۔ جس ترتیب سے وارث ہیں، اس ترتیب سے ذمہ داری بھی ان کی ہے۔

واٰت ذا القربیٰ حقہ والمسکین وابن السبیل ولا تبذر تبذیرا (سورۃ بنی اسرائیل: 17، آیت: 26)
(اور رشتہ داروں کو ان کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو (ان کا حق))۔
وفی اموالہم حق للسائل والمحروم (سورۃ الذاریات: 51، آیت: 19)
(اور ان کے مال و دولت میں سائلوں اور محروم لوگوں کا (باقاعدہ) حق ہوتا ہے۔)

یہ بھی فرمایا کہ یہ حق ہے، یہ احسان نہیں ہے ’’واٰت ذا القربیٰ حقہ‘‘۔

ایک چوتھا درجہ بھی قرآن پاک نے بیان کیا۔ ہم ایسے مغرب کے پیچھے لگے ہیں کہ ہر چیز بھلا دی ہے۔ ہم نے وہ رشتے دار جن سے میل جول ہے یا جن سے نئی رشتہ داری قائم ہو گئی ہو، باقی ہمارے تصور میں بھی نہیں ہوتا کہ کوئی اور بھی رشتہ دار ہیں۔ ہمارا المیہ یہی ہے۔ چوتھا درجہ جو میں بیان کر رہا ہوں وہ ہے پڑوس کا درجہ۔ کتنا اہم درجہ ہے۔ خاتم النبیین ﷺ فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام پڑوسی کے بارے میں اتنی بار وحی لے کر آئے کہ مجھے لگا کہ شاید اس کو وارث بنا دیں گے۔ (صحیح بخاری، باب الوصاۃ بالجار، حدیث نمبر: 6014)

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! پڑوسی کے بارے میں قرآن بہت کچھ کہتا ہے:

والجار ذی القربیٰ والجار الجنب والصاحب بالجنب (سورۃ النساء: 4، آیت: 36)
(اور قریب والے پڑوسی، دور والے پڑوسی، ساتھ (دینے) والے شخص)

قرآن پاک نے تین درجے بیان کیے۔ قرآن پاک کہتا ہے کہ رشتے جوڑ کر رکھو، رشتوں کا احترام کرو اور ان کو قائم رکھو، ایک دوسرے سے ملتے جلتے رہو۔

مغرب میں خاندانی نظام کا فقدان اور اس کے برے اثرات

آج یہ المیہ درپیش ہے کہ ہم جن کے پیچھے چل رہے ہیں وہ خود سر پکڑ کر بیٹھے ہیں کہ ہمارے رشتے گئے کہاں؟ ہمارا آئیڈیل آج کل مغرب بنا ہوا ہے۔ آج ان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے ہاں رشتے ہی ختم ہو کر رہ گئے ہیں۔ سب سے بڑا رشتہ باپ اور اولاد کا ہوتا ہے، لیکن آج مغرب مجبور ہو گیا کہ اگر باپ کا پتہ نہیں ہے تو ماں کا نام لکھ لو۔ میں کہا کرتا ہوں باپ کا پتہ ہوگا تو دادا اور چاچا کا پتہ ہوگا۔ ہمارا آئیڈیل آج کون سا سسٹم ہے کہ ماں باپ بوڑھے ہو گئے ہیں تو اولڈ ہوم (Old Home) میں چھوڑ آؤ؟ میں نے یورپ میں دیکھا ہے اولڈ ہوم کا نظام، جو سینکڑوں کی تعداد میں ہیں، ایک دو نہیں ہیں۔

ایک واقعہ عرض کرتا ہوں 1993ء کی بات ہے ہم برطانیہ کے ایک اولڈ ہوم میں گئے۔ ایک بڑی بلڈنگ تھی، وہاں کچھ بوڑھے تھے، زندگی کی جو سہولیات دی جا سکتی ہیں وہ دیتے ہیں۔ ایک بوڑھی ستر سال کے قریب تھی، میں نے اس سے بات کی کہ کتنے عرصے سے یہاں رہ رہی ہو؟ کہنے لگی، نو سال سے۔ میں نے پوچھا، خوش ہو؟ کہنے لگی، نہیں۔ میں نے کہا، کیوں، سہولیات تو سب ہیں، خوش کیوں نہیں ہو؟ کہنے لگی، میں سارا سال گزارتی ہوں کرسمس کے انتظار میں کہ میرا بیٹا آئے گا، مجھ سے ملے گا، ہیلو مام! میں اس کو دیکھ کر اگلے سال تک پھر اس کا انتظار کروں گی۔ سال کے بعد آتا ہے ہیلو ہائے کر کے چلا جاتا ہے۔ میرا بیٹا اس شہر میں رہتا ہے، سارا سال اس کے چہرے کا انتظار رہتا ہے۔

افسوس ہے کہ آج کل ہمارے آئیڈیل یہی لوگ ہیں۔ قرآن کریم کیا کہتا ہے، جناب خاتم النبیین ﷺ کیا فرماتے ہیں، اس کا احساس نہیں ہے۔ اسلام نے معاشرت کی بنیاد فردیت پر نہیں بلکہ جوڑ پر رکھی۔ پڑوسی کے حقوق پر اور آپس کے تعلقات پر رکھی۔ امریکہ کی سابقہ وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن دنیا کی بڑی خاتون سیاستدان ہیں، صدر بنتے بنتے رہ گئیں۔ ایک مرتبہ اسلام آباد میں کہا کہ مجھے مسلمانوں کے فیملی سسٹم پر رشک آتا ہے۔ اور جنگ اخبار نے یہ رپورٹ دی کہ مجھے مشرق کے فیملی سسٹم پر رشک آتا ہے، یہاں لڑکی جب جوان ہوتی ہے تو اس کے گرد چچا، ماموں اور اس کی پوری فیملی کا حصار ہوتا ہے، جو لڑکی کی جوانی کی حفاظت کرتے ہیں۔ (روزنامہ جنگ، 28 مارچ 1995ء)

یہی بات میں یاد دلانا چاہتا تھا کہ مغرب سر پکڑ کر بیٹھا ہے کہ ہمارا خاندان کہاں گیا؟ آج بھی انسانی سوسائٹی کو جوڑ کی، امن کی، تعلق کی، اور حقیقی رشتوں کی ضرورت ہے۔ یہ سب چیزیں قرآن پاک میں ملیں گی اور جناب خاتم النبیین ﷺ کی تعلیمات میں ملیں گی۔ ان شاء اللہ العزیز وہ وقت آئے گا کہ دنیا فطرت کی طرف واپس لوٹے گی۔ اور لوٹ رہی ہے، اللہ کرے ہمارا بھی اس میں حصہ ہو۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

(جاری)

قرآن / علوم القرآن

اقساط

(الشریعہ — مئی ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — مئی ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۵

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۱)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۲)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۵)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد
عمرانہ بنت نعمت اللہ
سارہ بنت برکات

حدیث میں بیان کی گئی علاماتِ قیامت کی تاریخی واقعات سے ہم آہنگی (۶)
ڈاکٹر محمد سعد سلیم

فقہِ اسلامی کا تعارف و تاریخ
ڈاکٹر محمد فہیم اختر ندوی

حنفی اصولی منہج (۱)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ائمہ اہل بیت کے فقہی اجتہادات اور فقہ جعفری
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

’’کیا خدا کا وجود ہے؟‘‘ (۲)
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی
عمار خان یاسر

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۵)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۴)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

عمرِ اولؓ اور عمرِ ثانیؒ کا طرزِ حکومت
علامہ رضا ثاقب مصطفائی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۲)
محمد سراج اسرار

قیامِ پاکستان: فکری بنیاد، راہِ عمل، منزلِ مقصود (۴)
پروفیسر خورشید احمد

نظریۂ اسلام، نظریۂ پاکستان، دو قومی نظریہ
ڈاکٹر سعید احمد سعیدی

مسجد الاقصیٰ اور امتِ مسلمہ
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

القدس کی صورتحال پر اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے نام خط
سنیٹر مشتاق احمد خان

ایران پر چالیس روزہ امریکی اسرائیلی جارحیت اور پندرہ روزہ جنگ بندی
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

Our Destiny: America, Russia, China, or the Muslim World?
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سید محمد نقیب العطاس کی وفات: اسلامی فکر کے ایک عہد کا خاتمہ
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

حاجی عثمان عمر ہاشمیؒ کا سانحہ ارتحال
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
مولانا محمد اسامہ قاسم

مطبوعات

شماریات

Flag Counter