جزیرۃ العرب کیا ہے؟
جزیرۃ العرب Arabian Peninsula مشرق وسطی کا ایک بڑا جزیرہ نما ہے جو تین اطراف سے سمندروں سے گھرا ہے: مغرب میں بحیرہ احمر اور خلیج عقبہ، جنوب مشرق میں بحیرہ عرب اور شمال مشرق میں خلیج عمان، آبنائے ہرمز اور خلیج فارس ہے، جبکہ شمال میں اس کی سرحدیں صحرا اور پہاڑوں سے ملتی ہیں، اور یہ خطہ سعودی عرب، یمن، عمان، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین جیسے ممالک پر مشتمل ہے، جس کا سب سے بڑا حصہ سعودی عرب میں ہے۔ جزیرہ نما عرب درج ذیل اہم ممالک پر مشتمل ہیں:
- سعودی عرب: جزیرہ نما کا سب سے بڑا حصہ اور سب سے بڑا ملک ہے، جہاں مکہ اور مدینہ جیسے مقدس مقامات ہیں۔
- یمن
- عمان
- متحدہ عرب امارات (UAE)
- قطر
- کویت
- بحرین: تکنیکی طور پر جزیرہ نما سے کٹا ہوا ایک جزیرہ ہے۔
یہ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ نما ہے۔ اس کا بیشتر حصہ صحرائی ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر یہیں پائے جاتے ہیں۔ مشرق وسطی کا ایک اہم ترین حصہ ہے۔ عالمی تیل کی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ مذہبی، تاریخی اور سیاسی اعتبار سے بھی یہ علاقہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ ذیل میں دیا گیا جزیرہ نما عرب کا نقشہ ملاحظہ فرمائیں، جس سے جزیرۂ عرب کی حدود کو سمجھنے میں مزید آسانی ہوگی۔

اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کی رہائش
اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہریوں (اہل الذمہ) کو مسلمان شہریوں کی طرح قانونی طور پر یہ حق حاصل ہے کہ وہ ملک بھر میں جہاں چاہیں آئیں جائیں، سفر کریں، گھومیں پھریں۔ دوران سفر ان کے جان و مال کا تحفظ اور ہر طرح سے بچاؤ اور سلامتی کو یقینی بنانا اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح اسلامی ریاست کے شہری ہونے کے ناطے ان کا حق ہے کہ ملک کے جس شہر، دیہات اور علاقے میں آباد ہونا چاہیں، گھر بنانا چاہیے، مستقل رہائش و سکونت اختیار کرنا چاہیے تو یہ ان کا قانونی حق ہے۔ اس میں کوئی رکاوٹ نہیں کھڑی کی جائے گی۔ قرآن مجید نے کسی کو اس کے گھر سے نکالنا یا شرعی جواز کے بغیر جلا وطن کرنا حرام قرار دیا ہے۔ چنانچہ بنی اسرائیل کی بدعہدیوں اور جرائم کی تفصیل کے ضمن میں ارشاد الٰہی ہے:
وتخرجون فریقا منکم من دیارہم تظاہرون علیہم بالاثم والعدوان وان یاتوکم اساری تفادوہم وہو محرم علیکم اخراجہم۔ (البقرۃ: ۸۵)
اور تم اپنے ہی ایک گروہ کو ان کے گھروں / وطن سے نکال بھی دیتے ہو۔ (اور) ان کے مقابلہ میں گناہ و ظلم کے ساتھ (ان کے مخالفین کی بھی) مدد کرتے ہو۔ اور اگر وہ تمہارے تک قیدی بن کر پہنچ جاتے ہیں تو تم انہیں فدیہ دے کر چھڑا لیتے ہو حالانکہ ان کا (وطن سے) نکالنا ہی تم پر حرام تھا۔
علامہ کاسانی ؒنے مسلمانوں کے آباد کردہ شہروں میں غیر مسلم شہریوں کی کھلے عام سکونت کے حوالے سے لکھا ہے:
ویترکون ان یسکنوا فی امصار المسلمین یبیعون ویشترون، لان عقد الذمۃ شرع لیکون وسیلۃ لہم الی الاسلام، وتمکینہم من المقام فی امصار المسلمین ابلغ الی ہذا المقصود، وفیہ ایضا منفعۃالمسلمین بالبیع والشراء فیمکنون من ذلک۔ (بدائع الصنائع)
’’اور انہیں مسلمانوں کے شہروں میں سکونت اختیار کرنے اور خرید و فروخت کی اجازت دی جائے گی، کیونکہ عقد ذمہ کو دراصل اسی لیے مشروع کیا گیا ہے کہ یہ ان کے قبول اسلام کا ذریعہ و وسیلہ بنے، اور انہیں مسلمانوں کے شہروں میں ان کی سکونت ممکن بنانے سے یہ مقصد بہت اچھی طرح حاصل ہوتا ہے، دوسرے ان کی خرید و فروخت اور کاروبار میں مسلمانوں کے لیے بھی مالی منفعت ہے، لہذا شہروں میں انہیں اقامت و سکونت کی اجازت دی جائے گی۔‘‘
جزیرۃ العرب میں غیر مسلموں کی رہائش کی ممانعت
البتہ اس عام اجازت سے ایک استثناء ہے اور وہ یہ کہ انہیں جزیرۃ العرب اور حجاز کے مخصوص و محدود علاقے میں (جس کی حد بندی کی تفصیل اوپر مذکور ہے) مستقل رہائش و سکونت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ تو یہ ہے کہ خود پیغمبر اسلام ﷺ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے اور پیغمبر ﷺ کا ہر حکم اور ہر بات ازروئے قرآن وحی الہی ہوتی ہے۔ اور اسلامی ریاست کے دستور کی ساری بنیاد ہی اسی بات پر ہے کہ قرآن و سنت یعنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کی بلاتامل و تردد اور غیر مشروط طور پر تعمیل کی جائے۔ دوسرے، ریاست کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مخصوص عقائد، نظریات اور اپنی پالیسی کے مطابق ملک کے داخلی قوانین و ضوابط وضع کرے اور انہیں اپنی حدود مملکت کے اندر نافذ کرے۔ جس پر کسی دوسرے کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ چنانچہ عالمی منشور انسانی حقوق کے آرٹیکل 29 کی دفعہ نمبر 2 میں یہ درج ہے:
’’اپنے حقوق اور آزادیوں کے سلسلے میں ہر شخص صرف قانون کی عائد کردہ ان پابندیوں کے دائرہ میں رہے گا، جن کا مقصد دوسروں کے حقوق اور آزادیوں کے احترام کو یقینی بنانا ہے۔ ‘‘(صلاح الدین، بنیادی حقوق 91)
بہر کیف! زیر بحث مسئلے میں حضرت عمر بن خطابؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ
لاخرجن الیہود والنصاری من جزیرۃ العرب حتی لا ادع الا مسلما (مسلم، کتاب الجہاد والسیر، باب اجلاء الیھود من الحجاز، رقم الحدیث: ۴۵۹۴)
’’میں ضرور یہود و نصاری کو جزیرۂ العرب سے نکال دوں گا یہاں تک کہ وہاں سوائے مسلمانوں کے کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔‘‘
اسی طرح متعدد محدثین نے الفاظ کے قدرے اختلاف کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے واسطے سے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض وفات میں آپ ﷺ کی یہ وصیت نقل کی ہے کہ:
اخرجوا المشرکین من جزیرۃ العرب (صحیح البخاری، کتاب الجہاد، باب اخراج الیہود من جزیرۃ العرب، رقم: ۳۱۶۸)
’’مشرکین اور ایک روایت کے مطابق یہود و نصاری کو جزیرۂ العرب سے نکال دینا۔‘‘
ایک حدیث میں آپ ﷺ نے مذکورہ وصیت یا ارشاد کی حکمت یوں بیان فرمائی:
لا یجتمع دینان فی جزیرۃ العرب (ابن قیم الجوزیہ، احکام اہل الذمۃ، ۱/۱۴۲)
’’جزیرۂ العرب میں دو دین جمع نہیں ہو سکتے۔‘‘
ایک دوسری روایت میں ہے:
لا یبقین دینان بجزیرۃ العرب (امام مالک، موطا، کتاب الجامع، باب ما جاء فی اجلاء الیہود من المدینۃ، ص: ۲۹۸)
’’جزیرۂ العرب میں دو دین اکٹھے باقی نہیں رہ سکتے۔‘‘
امام محمد بن حسنؒ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ کے اس ارشاد کے مدنظر حضرت عمرؓ نے جزیرۂ العرب سے یہود کو نکال دیا (اور انہیں دوسرے علاقوں میں آباد کیا)۔ (امام محمد، موطا، کتاب السیر، باب نزول اہل الذمۃ والہدنۃ وما یکرہ من ذلک، مکتبہ دار الفکر، بیروت، ص: ۳۲–۳۳)
جبکہ ایک دوسری حدیث میں اس مسئلے کی وضاحت یوں بیان فرمائی گئی ہے:
لا تصلح قبلتان فی ارض واحدۃ ولیس علی المسلمین جزیۃ (ابو داود، سنن، کتاب الخراج والفیء والامارۃ، باب فی اخراج الیہود من جزیرۃ العرب، رقم: ۳۰۳۱۔ جامع الترمذی، الکوفۃ، باب ما جاء ولیس علی المسلمین جزیۃ، ۱/۲۵۵)
’’دو اہل قبلہ کا ایک ہی جگہ پر اکٹھا رہنا صحیح نہیں، اور مسلمانوں پر کوئی جزیہ نہیں ہے۔‘‘
اسلامی حکومت کی اسی پالیسی کی رو سے اور یہودیوں کی عہد شکنی کے باعث نبی اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ کے مشہور یہودی قبائل بنو نضیر اور بنو قریظہ کو پہلے تین مرتبہ اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔
جب انہوں نے تینوں مرتبہ دعوتِ اسلام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تو آپ ﷺ نے انہیں مدینہ منورہ سے جلا وطن کرنے کا حکم دیا۔ (مسلم، کتاب الجہاد والسیر، باب اجلاء الیہود من الحجاز، رقم: ۴۵۹۱، ابو داؤد، کتاب الخرج والفئی، والامارہ، باب فی اخرج الیہود من جزیرۃ العرب، رقم: ۳۰۰۳)
مذکورہ بالا تمام احادیث میں جزیرۃ العرب یا حجاز کے اندر صرف مستقل سکونت سے ممانعت ہے۔ نہ کہ تجارت یا کسی دوسری غرض سے آمدورفت سے بھی۔
فقہائے کرام نے تصریح فرمائی ہیں کہ غیر مسلموں کے لیے تجارت کی غرض سے حجاز میں داخل ہونا جائز ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ عیسائی تاجر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں مدینہ تک تجارت کرتے تھے۔(ابن قیم، احکام اہل الذمہ، ۱/۱۴۲)
بعض حضرات نے کہا ہے کہ ان کی مدت قیام زیادہ سے زیادہ چار دن جائز ہے۔ تاہم اگر کوئی غیر مسلم آدمی حجاز میں بیمار ہو جائے تو اس کو اس سے زیادہ عرصہ قیام کرنا بھی جائز ہے کیونکہ مریض کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا تکلیف کا باعث ہے اور جو آدمی اس کی تیمارداری پر مامور ہو اس کے لیے بھی مریض کے ساتھ زیادہ عرصہ تک رہنا جائز ہے کیونکہ مریض کا اس کے بغیر رہنا مشکل ہے۔ اسی طرح حجاز میں کسی آدمی پر اس کا دین ہو اور مدیون آدمی ٹال مٹول کر رہا ہو تو دین کی وصولی تک غیر مسلم آدمی کا حجاز میں قیام جائز ہوگا۔ (المغنی ۸/۵۳۰)
ویٹی کن سٹی میں غیر کیتھولک کو رہائش کی اجازت نہیں
حضور اکرم ﷺ کی مذکورہ بالا وصیت ’’اخرجوالیہود والنصاری من جزیرۃالعرب‘‘ (جزیرۃ العرب سے یہود و نصاری کو نکال دینا) اصولی طور پر یہ داخلی قانون سازی کی ایک مثال ہے۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب نے اس ضمن میں مذکورہ بالا حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’چونکہ یہ علاقہ اب اسلام کا مرکز قرار دے دیا گیا ہے اور اب یہ علاقہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اسلام کا روحانی دارالحکومت ہوگا، لہذا اب یہاں صرف اور صرف نظریۂ اسلام کو رہنے کی اجازت ہوگی اور باقی نظریات و مذاہب کے ماننے والوں کے سامنے اب صرف دو پرامن راستے ہیں۔ یا تو اپنی آزاد مرضی سے اسلام قبول کر لیں یا پھر جزیرۂ عرب سے نکل کر کسی اور جگہ جا کر آباد ہو جائیں۔ ان اسباب کی بنا پر یہ حکم دیا گیا کہ آئندہ جزیرۂ عرب میں کوئی غیر اسلامی نظریاتی طاقت موجود نہ ہو، بلکہ یہاں خالص اسلامی عقیدہ کی پاسداری اور حکمرانی ہونا چاہیے۔ اس لیے یہاں غیر مسلموں کے آباد ہونے کو روکا گیا۔ یہ خیال نہ فرمائیے کہ ایسا کسی تعصب یا غیر مسلموں سے نفرت کی بنیاد پر کیا گیا۔ دنیا کے کئی نظاموں میں آج بھی اس طرح کا تصور موجود ہے۔ اگر آپ روم تشریف لے گئے ہوں تو آپ نے وہاں شہر روما کا ایک بہت بڑا اور مشہور تاریخی محلہ ضرور دیکھا ہوگا جو “ویٹی کن” کے نام سے مشہور ہے۔ جہاں رومن کیتھولک عیسائیت کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ یہاں پاپائے اعظم رہتا ہے۔ وہاں غیر کیتھولک کو جائیداد خریدنے اور مستقل آباد ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ وہ اس کو اپنے دین کا مرکز بنانا چاہتے ہیں۔ اس طرح کی اور مثالیں بھی موجود ہیں، ماضی میں بھی موجود تھیں اور آج بھی موجود ہیں۔ اسی نوعیت کی مثال یہ ہے کہ جزیرۂ عرب میں غیر مسلموں کو مستقل طور پر آباد ہونے سے سرکار دو عالم ﷺ نے روکا ہے۔ یہ ایک داخلی قانون سازی کی مثال ہے جس کے بین الاقوامی تضمنات ہیں۔‘‘ (اسلام کا قانون بین الممالک: ۷۸--۸۸)
زیر بحث مسئلہ کی یوں بھی وضاحت کی جا سکتی ہے کہ ہر ملک بلکہ کئی شہروں میں بھی بعض علاقے ایسے ہوتے ہیں، جہاں ہر شہری کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوتی۔ مثلاً فوجی چھاؤنیوں کے مخصوص علاقوں میں صرف فوجی اہلکاروں یا ملکی دفاع سے متعلق افراد کو ہی داخلے کی اجازت ملتی ہے۔ اسی طرح اسلام اگرچہ پوری دنیا کے لیے آفاقی مذہب کا درجہ رکھتا ہے تاہم حجاز اور جزیرۂ عرب کا مخصوص علاقہ اس کے نزدیک "اسلامی چھاؤنی" کا درجہ رکھتا ہے۔ اب جس طرح ایک عام شہری کا یہ اعتراض بے وزن ہے کہ اسے فوجی چھاؤنی کے اندر داخلے کی اجازت کیوں نہیں، اسی طرح غیر مسلموں کا یہ اعتراض بھی غیر منطقی اور بے معنی ہوگا کہ انہیں جزیرۂ عرب میں سکونت کی اجازت کیوں نہیں۔ اس علاقے میں صرف انہی لوگوں کو رہنے کی اجازت ہے جو اسلام کے سپاہی یعنی مسلمان ہیں۔
جزیرۂ عرب میں غیر مسلموں کو مستقل سکونت کی اجازت نہ ہونے کے معاملے کو اس پہلو سے بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ جب کوئی آدمی کسی دوسرے ملک میں جانا چاہتا ہے تو اس ملک کے ویزا کے لیے درخواست دینی پڑتی ہے۔ ہر ملک کے اپنے قوانین اور ضابطے ہوتے ہیں جن کی ویزا لگوانے والے کو پابندی کرنی پڑتی ہے۔ ورنہ ویزا جاری نہیں کیا جاتا۔ جو ممالک ویزا کے اجرا میں انتہائی احتیاط اور چھان پھٹک کا مظاہرہ کرتے ہیں ان میں امریکہ سمیت کئی یورپی ممالک شامل ہیں۔ جب تک کوئی مسافر اس ملک کے تمام قوانین اور ضابطوں پر عمل درآمد کے اقرار نامے پر دستخط نہیں کرتا، اسے ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ اسی طرح جزیرۂ عرب میں مستقل داخلے کے ویزا کی اولین شرط یہ ہے کہ وہ آدمی کلمہ گو یعنی کم از کم زبان سے اس بات کا اقرار کرتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
جزیرہ عرب پر نازل آفت
یہ الفاظ کاغذ پر نہیں، دل کے زخموں سے ٹپک رہے ہیں۔ قلم اٹھاتے ہوئے ہاتھ لرز رہا ہے اور روح کرب کی آگ میں جل رہی ہے کہ جس سرزمین کے بارے میں خاتم النبیین ﷺ کی آخری وصیت یہ تھی کہ اسے یہود و نصاری کی آلودگی سے پاک رکھا جائے، آج وہی مقدس خطہ اغیار کے قدموں تلے روندے جانے کے قریب ہے۔ اس وقت جزیرہ عرب کے چاروں طرف (یعنی تقریبا تمام خلیجی ممالک میں) یہود و نصاریٰ نے اپنے فوجی اڈے بنائے ہوئے ہیں۔ امت مسلمہ کے عدم اتفاق و اتحاد، مسلم حکمرانوں کی غفلت، بے تدبیری، عاقبت نااندیشی اور دنیا کی عیش و عشرت میں مبتلا ہونے کی وجہ سے جزیرہ عرب پر ایسی آفت آن پڑی ہے کہ اس کا احساس ہی نہیں، زمین کا یہ اہم خطہ جو اپنے محل وقوع کے اعتبار سے کرہ ارض کے قلب میں واقع ہے۔ دنیا کے اہم بحری راستے اس کے گرد واقع ہیں۔ اس پر جو قابض وہ ساری دنیا کے سمندری حمل و نقل کے اہم ترین ذرائع پر قابض سمجھا جاتا ہے۔ اس وقت اس جزیرے نما پر امریکی فوجوں نے ایسی یلغار کر رکھی ہے۔ جیسی اس سے پہلے تاریخ میں کسی نے نہیں کی۔
اس مقدس سر زمین پر وہ دندناتے پھر رہے ہیں۔ اس کے سمندروں کو اپنے بحری بیڑوں سے آلودہ کر رہے ہیں۔ اس کی فضاؤں میں پوری آزادی سے منڈلا رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات حسرت کے بعد اس سے بڑھ کر کوئی اور مصیبت نہیں جو اس امت کو پیش آئی ہو۔ وہ یہودی اور عیسائی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور صحابہ کے زمانے میں یہاں سے جلاوطن کر دیے گئے تھے آج یہاں پر حاکمانہ قبضہ کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ ہماری شامت اعمال اور بدقسمتی ہے کہ دنیا کی اس شہ رگ کے مالک ہونے کے باوجود اس پر خود مختار تسلط برقرار رکھنے اور اسے مسلمانان عالم کی فلاح و ترقی کے لیے استعمال کرنے سے محروم ہیں۔ اس میں غیروں کی مکاری و عیاری سے بڑھ کر اپنوں کی دین سے دوری، دنیا سے محبت، بے تدبیری، ناعاقبت اندیشی اور جنت کی نعمتوں سے دل لگانے کے بجائے دنیا کی عیش و عشرت میں مبتلا ہونے کا دخل ہے۔ بلکہ میں اس سے بڑھ کر کہتا ہوں کہ ہمارے مسلمان حکمرانوں کے دل زنگ آلود ہوچکے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کے خلاف سازشیں کرنے میں مصروف ہیں۔ ان کی ساری صلاحیتیں اور منصوبے ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہو رہی ہیں۔ ان کے طاقتیں اپنے مسلمان بھائی کا گلا دبانے کے لیے وقف ہے۔ مگر مسلمانوں سے دردمندانہ اپیل کرتا ہوں کہ ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ اب بھی وقت ہے جو ہوا اس سے توبہ کر لیں اور آئندہ کے لیے اپنی اصلاح کریں۔





















