’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۰)

اسلام کا قانونِ وراثت

خطبہ نمبر ۹

خطبۂ مسنونہ کے بعد:

محترم علمائے کرام اور بھائیو دوستو!

ہماری گفتگو ایک تسلسل کے ساتھ خاندانی نظام کے تناظر میں قرآن کریم کے احکام کے حوالے سے چل رہی ہے۔ اس کا دائرہ یہ ہے کہ ہم عصر حاضر میں قرآن کریم کے احکام کی حکمتوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کو خاندانی احکام اور فیملی لاء (Family Law) کہتے ہیں۔ آج کی نشست میں بھی اس قانون کے حوالے سے ہماری گفتگو ہو گی۔ ہمارے جو خاندانی مسائل ہیں، وہ کیا ہیں؟ ان مسائل پر آج ہماری معروضی صورت حال کیا ہے؟ ان پر اعتراضات کی صورت حال کیا ہے؟ اور آج کے عالمی تہذیبی تناظر میں اسے کیسے دیکھا جا رہا ہے؟ اسی پر ہماری ہلکی پھلکی باتیں ہوئی ہیں، آج میں کوشش کرتا ہوں کہ وراثت کی بات ہو جائے۔

جب کوئی آدمی دنیا میں رہتا ہے تو کماتا ہے۔ محنت کرتا ہے تو جمع بھی کرتا ہے۔ جب وہ فوت ہوتا ہے تو اس کی ملکیت پر کون اس کا مستحق ہوتا ہے؟ عام طور پر ہمیشہ سے یہ نظام چلا آرہا ہے کہ اس کی اولاد اور اس کا خاندان اس کے ورثے کا حق دار ہے۔ اس کے مختلف قوانین، احکام اور ضوابط ہیں جن کو مختلف حوالوں اور پہلوؤں سے سمجھنا ضروری ہے۔

بعثتِ نبویؐ سے پہلے وراثت کا نظام

پہلا دائرہ تو یہ ہے کہ جناب خاتم النبیین ﷺ کی تشریف آوری کے وقت وراثت کا نظام کیسا تھا؟ مختلف قبائل کے تناظر کو سمجھنے کے لیے قبائل کا سسٹم جاننا ضروری ہے۔ وراثت تقسیم تو ہوتی تھی لیکن اس کے احکام، قواعد اور ضوابط مختلف ہوتے تھے۔ بعض قبائل میں یہ رواج تھا کہ بڑا بیٹا وارث ہوتا تھا، باقی اس کے رحم و کرم پر ہوتے تھے۔ بیوی کو کچھ نہیں ملتا تھا، اس کی اولاد کو بھی کچھ نہیں ملتا تھا۔ قرآن پاک نے آ کر یہ اصول و ضوابط طے کیے کہ اگر کوئی ترکہ چھوڑ جائے تو وہ کس کا حق بنتا ہے اور کتنا بنتا ہے۔

وراثت کا قرآنی قانون

قرآن کریم نے وراثت کے احکام و قوانین بیان کیے۔ قرآن کریم نے کوئی مسئلہ اس تفصیل کے ساتھ بیان نہیں کیا ہے جتنا وراثت کا بیان کیا ہے۔ سینکڑوں آیات میں نماز کا حکم دیا ہے لیکن جزئیات بیان نہیں کیں کہ اتنی رکعت پڑھو، اتنی مرتبہ پڑھو، بلکہ ہمارے رسول ﷺ کو دیکھو کیسے پڑھتے ہیں۔

صلوا کما رایتمونی اُصلی (صحیح بخاری، باب الاذان للمسافر، اذا کانوا جماعۃ، حدیث نمبر: 613)
(نماز ایسی پڑھو جیسے آپ مجھے پڑھتے دیکھتے ہیں۔)

وراثت کا واحد معاملہ ہے جس میں اللہ رب العزت نے تفصیل سے بیان فرمایا ہے کہ اُس کا تیسرا حصہ ہے، اُس کا چوتھا حصہ ہے، اُس کا آٹھواں حصہ ہے، اُس کو نصف ملے گا، اُس کو نہیں ملے گا، اُس کو چھٹا حصہ ملے گا (سورۃ النساء: 4، آیت 6 تا 12)۔ میں نے بڑا غور کیا قرآن پاک میں کسی مسئلے کو اتنی توجہ اور اس قدر تفصیلات کے ساتھ بیان نہیں کیا جتنا وراثت کو بیان کیا ہے۔ وراثت مرد اور عورت دونوں کا حصہ ہے۔ وراثت صرف مردوں کا حصہ نہیں۔ ماں کے حصے کی الگ صورت ہے، بیوی کی الگ صورت ہے، بہنوں کی الگ صورت ہے۔

اسی طرح حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے اپنے کسی وارث کو وراثت میں اس کے حصے سے محروم کر دیا، اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کے حصے سے کٹوتی کر کے وارث کو اس کا حق دلوائیں گے۔ میں اسے یوں تعبیر کیا کرتا ہوں کہ اللہ رب العزت فرما رہے ہیں کہ جو حصے میں نے مقرر کیے ہیں ان سے کوئی شخص حقدار کو محروم نہیں کر سکتا۔ اگر کوئی شخص دنیا میں وارث کو محروم کرے گا تو میں اسے محروم نہیں رہنے دوں گا اور آخرت میں اُس کے حصے سے کاٹ کر محروم کو دوں گا۔ (سنن ابن ماجہ، باب الحنیف فی الوصیف، حدیث نمبر: 2703)

ہمارے دین میں کسی حقدار کو وراثت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ جس طرح بعض قبائل میں عورتوں، بیویوں، بچوں کو وراثت میں حصہ نہیں ملتا، شریعت نے ایسے نہیں کیا بلکہ شریعت نے وراثت کی تقسیم کے لیے اصول بیان کیے ہیں۔

وراثت سے محرومی کی چند صورتیں

شریعت نے وراثت سے محرومی کی چند صورتیں بیان کی ہیں: (1) اختلافِ دین (2) اختلافِ دارین (3) قتل (4) غلامی۔

1۔ اختلافِ دین

وارث اور مورث کا دین اگر مختلف ہو، ایک مسلمان، دوسرا کافر ہو، تو ایک دوسرے کے وارث

نہیں بن سکتے ہیں۔

2۔ اختلافِ دارین

وارث اور مورث کا وطن اگر مختلف ہو کہ ایک دارالسلام میں رہتا ہو اور دوسرا دارالکفر میں،

تو بھی ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے ہیں۔

3۔ قتل

وارث نے اگر مورث کو قتل کیا ہو، مثلاً‌ اگر باپ نے بیٹے کو، یا بیٹے نے باپ کو قتل کیا ہو، تو قاتل

مقتول کا وارث نہیں بن سکتا۔

4۔ غلامی

غلام کا وارث اس کا آقا ہوتا ہے۔ اس کی بیوی، بچوں وغیرہ کو اس کی وراثت میں حصہ نہیں ملتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی شخص اپنے وارث کو وراثت سے محروم نہیں کر سکتا ہے کہ وہ کہے کہ میں مالک ہوں جو میری مرضی ہو گی وہ کروں گا، تو ایسا نہیں ہے۔

تفصیلی روایت ہے میں وہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اسلام کا مزاج کیا ہے؟ آپ ﷺ حجۃ الوداع پر مکہ تشریف لائے۔ معروف صحابی حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تھے۔ مکہ مکرمہ میں بیمار ہو گئے۔ بظاہر انسان پر ایسے وقت میں یہ احساس طاری ہو جاتا ہے کہ اب میں کیا کروں؟ ان کی بھی یہ کیفیت تھی، ان کو یہ یقین ہو گیا تھا کہ میں دنیا سے جا رہا ہوں۔ جناب خاتم النبیین ﷺ ان کے خیمے میں بیمار پرسی کے لیے تشریف لائے تو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بہت پریشان تھے۔ انہیں دو مسئلوں نے پریشان کیا تھا۔ انہوں نے کہا، یا رسول اللہ! لگتا ہے میں جا رہا ہوں، لیکن دو مسئلوں نے مجھے بہت پریشان کیا ہے:

ایک یہ کہ مکہ میرا پرانا شہر ہے، یہاں اگر فوت ہو کر یہیں دفن ہو گیا تو ہجرت کے اجر و ثواب کا کیا بنے گا؟ کیا میں ہجرت کے ثواب سے محروم تو نہیں ہو جاؤں گا؟

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ میری ایک ہی بیٹی ہے، باقی کوئی وارث نہیں، اور میری جائیداد بھی ہے۔ کیا میں اس کا دو تہائی حصہ صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں۔ پھر کہا، آدھا حصہ صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، پھر کہا: ایک تہائی حصہ صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’الثلث کثیر‘‘ ٹھیک ہے، ایک تہائی حصہ بھی بہت ہے۔ مسلمان اپنے وارثوں کو فراوانی میں چھوڑے، یہ بہتر ہے اس سے کہ آپ ان کو محتاج چھوڑیں اور وہ لوگوں سے مانگتے پھریں (صحیح بخاری، باب قول المریض: انی وجع، حدیث نمبر: 5668)۔ تو حضور ﷺ نے سارے مال یا جائیداد کی غیر وارث کے لیے وصیت سے منع فرمایا کہ یہ وارثوں کا حق ہے۔

سنن ترمذی میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ایک جوڑا یعنی میاں بیوی ساٹھ ستر سال تک مسلسل اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہتے ہیں، لیکن آخری وقت میں وراثت کی تقسیم میں نا انصافی کر کے جہنم کے مستحق بن جاتے ہیں۔ وراثت میں نا انصافی یہ ہے کہ ورثاء کے جو حصے قرآن کریم میں مقرر کیے گئے ہیں انہیں نظر انداز کر کے اپنی طرف سے حصے مقرر کیے جائیں۔ (سنن ترمذی، ما جاء فی الفرار بالوصیۃ، حدیث نمبر: 2117)

صحیح مسلم کی روایت ہے، ایک صاحب اپنے غلام کو مدبر بنانے لگے۔ اس زمانے میں غلام مدبر بنائے جاتے تھے، اس کا طریقہ یہ تھا، غلام کو کہا جاتا تھا کہ میری زندگی کے آخری سانس تک تم میرے غلام رہو گے اور میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو، اس کو ’’مدبر‘‘ بنانا کہا جاتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اس کے سوا تمھاری کوئی اور ملکیت یا پراپرٹی ہے؟ انہوں نے کہا، نہیں۔ تو آپ ﷺ نے اس غلام کو نیلام کر کے قیمت کو اس کے حوالے کر دیا، اور فرمایا کہ یہ لے کے اپنے اوپر خرچ کرو، اگر کچھ بچ جائے تو اپنے اہل و عیال پر خرچ کرو، اس سے اگر کچھ بچ جائے تو رشتہ داروں پر خرچ کرو، پھر اس کے بعد کچھ بیچ جائے تو پھر دائیں بائیں خرچ کرو (صحیح مسلم، باب الابتداء فی النفقۃ بالنفس، حدیث نمبر: 41)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مرنے کے بعد آزاد کرنا تو وصیت میں شمار ہوگا، اور اُس وقت یہ غلام وارثوں کی مشترکہ ملکیت میں چلا جائے گا۔

خلاصہ یہ کہ شریعت نے پابندی لگائی کہ نہ حصوں میں گڑبڑ کر سکتے ہو، نہ کسی وارث کو محروم کر سکتے ہو۔ مردوں کو بھی، عورتوں کو بھی، سب کو قرآن کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق حصہ ملے گا۔ یہ وراثت کا ایک پہلو ہے۔

وراثت کے احکام اور ہماری ذمہ داری

دوسرا پہلو یہ ہے کہ وراثت کے احکام میں بڑی گڑبڑ ہوتی تھی، بہت سے قبائل میں عورتوں کو حصہ نہیں دیا جاتا تھا۔ آج بھی ہمارا معاشرتی کلچر ایسا بن گیا ہے کہ اس میں بالعموم عورتوں کو حصہ نہیں دیا جاتا ہے۔ ہماری عدالتوں میں بھی اس حوالے سے فیصلے سامنے آتے رہتے ہیں اور ان پر فاضل جج صاحبان کی جانب سے تبصرے (Remarks) بھی آتے رہتے ہیں۔ گزشتہ دنوں سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس جواد ایس خواجہ نے وراثت کے ایک کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے ہاں بیٹی اور بہن کو وراثت میں حصہ نہ دینے کا رجحان عام ہے، جو شریعت کے منافی ہے اور اس کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے۔

محترم جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنے ان ریمارکس میں معاشرہ کی ایک بہت بڑی خرابی اور نا انصافی کی عکاسی کی ہے جو ہمارے ہاں اس قدر سرایت کیے ہوئے ہے کہ اچھے خاصے مذہبی اور دیندار لوگ بھی اس کا شکار ہیں۔ اور یہ بات بھی ایک معاشرتی حقیقت ہے کہ بہنوں اور بیٹیوں کو وراثت کے حصے سے محروم رکھنے کے لیے طرح طرح کے حیلے کیے جاتے ہیں اور عجیب و غریب قسم کے حربے اختیار کیے جاتے ہیں۔ اگر زبان سے نہ بھی کہا جائے تو معاشرتی دباؤ ایک بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے کہ وراثت میں حصہ لینے والی خواتین کو اپنے بھائیوں کا ہمدرد تصور نہیں کیا جاتا، اور بہت سی بیٹیاں اور بہنیں اس طعنے سے بچنے کے لیے وراثت کے حق سے دستبرداری اختیار کر لیتی ہیں۔

ایک دفعہ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے پاس ایک صاحب بیٹھے تھے، والد محترم نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے اپنے والد کی وفات کے بعد بہنوں کو زمینوں میں حصہ دے دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ وہ اپنے حقِ وراثت سے دستبردار ہو گئی ہیں۔ والد صاحب نے پوچھا کہ کیا وہ زمین ان کے قبضے میں تھی جس سے وہ دستبردار ہوئی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں ان کے قبضہ میں تو نہیں تھی۔ والد صاحب نے فرمایا کہ وہ پھر دستبردار کس چیز سے ہوئی ہیں؟ پھر فرمایا کہ بھائی دستبرداری اسے نہیں کہتے، ان کے حصہ کی زمین ان کے نام کرا کے کاغذات ان کی تحویل میں دے دو، پھر ان سے کہو کہ وہ اپنے حصہ کی زمین تمھیں ہبہ کر کے واپس کر دیں۔

اس کے لیے انگریز کے دور میں ہمارے بزرگوں نے خواتین کے حقِ وراثت کے لیے باقاعدہ تحریک چلائی تھی۔ جناب حکیم الامت تھانوی صاحبؒ نے پنجاب میں ایک مہم چلوائی تھی۔ آج بھی علمائے کرام کو چاہیے کہ وہ اس موضوع کو اپنے خطابات اور دروس میں بیان کریں۔ حکومتوں سے ہمیں زیادہ امیدیں وابستہ نہیں کرنی چاہیے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کا مذکورہ بالا تبصرہ اس صورت حال میں انتہائی حوصلہ افزا ہے، البتہ اس کے لیے ایک زبردست معاشرتی تحریک کی ضرورت ہے کہ وراثت اور دیگر معاملات میں باہمی حقوق کی ادائیگی کی طرف لوگوں کو توجہ دلائی جائے اور اس کے لیے مسجد و مدرسہ کے ساتھ ساتھ میڈیا کو بھی متحرک کیا جائے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

(جاری)

قرآن / علوم القرآن

اقساط

(الشریعہ — اپریل ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — اپریل ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۴

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۰)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۱)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۴)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد
عمرانہ بنت نعمت اللہ
سارہ بنت برکات

صحیح مسلم کا قدیم ترین نسخہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

’’کیا خدا کا وجود ہے؟‘‘ (۱)
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی
عمار خان یاسر

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۴)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۳)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

حضرت خولہ بنت الازور کندی اسدی رضی اللہ عنہا
مولانا جمیل اختر جلیلی ندوی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۱)
محمد سراج اسرار

مسئلہ تشبہ امام ابن تیمیہ کی نظر میں
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

زندگی کی قدر اور وقت کی تقسیمِ کار
مولانا فضل سبحان
مولانا عبد المتین

مذہبی رواداری اور غیر مسلموں کی تقریبات میں شرکت
مفتی سید انور شاہ

قیامِ پاکستان: بنیادِ فکر، راہِ عمل، منزلِ مقصود (۳)
پروفیسر خورشید احمد

مفتی طارق مسعود اور شجاع الدین شیخ کا مکالمہ
شجاع الدین شیخ
مفتی طارق مسعود

اسقاطِ حمل اور حقوقِ انسانی کا قانون
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

On the Islamic Status of Pakistan`s Constitution
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

عالمِ اسلام کے لیے نئے امکانات — پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
مولانا فضل الرحمٰن

امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر مشترکہ حملہ اور خطہ میں اس کے ممکنہ اثرات
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

رویتِ ہلال کے متعلق پانچ قانونی سوالات
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

افغانستان اور پاکستان کے علماء کی طرف سے قیامِ امن کیلئے مشترکہ بیان
مولانا حافظ نصر الدین خان عمر
پاکستان شریعت کونسل

مولانا راشدی کے خطابات و بیانات
ادارہ الشریعہ

مطبوعات

شماریات

Flag Counter