موجودہ فکری کشمکش اور دینی مدارس کی ذمہ داریاں
خطبہ نمبر ۱۴
الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ جمیع الانبیاء والمرسلین خصوصاً علیٰ سید الرسل وخاتم النبیین وعلیٰ آلہ واصحابہ واتباعہ اجمعین اما بعد!
حضراتِ علماء کرام، محترم بزرگو، دوستو اور ساتھیو!
اللہ تبارک و تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ جامعہ فتحیہ کے ساتھ اس سال کے تعلیمی پروگرام کا جو میں نے وعدہ کیا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کو نبھانے کی توفیق عطا فرمائی۔ ہمارا پروگرام یہ تھا کہ اس سال احکام القرآن کے حوالے سے پروگرام ہوں گے، اور احکام القرآن میں بھی ہم نے جو عنوان یہاں کے لیے منتخب کیا تھا وہ تھا ’’اسلام کا خاندانی نظام‘‘۔ جن مسائل میں نکاح، طلاق، وراثت اور عالمی دنیا کے بہت سے اعتراضات و مسائل اور ان کے جوابات ہیں، ان کو زیرِ بحث لانا تھا۔ الحمد للہ ہماری تیرہ نشستیں ان پروگراموں کے متعلق ہو چکی ہیں۔ موضوع کا احاطہ ممکن نہیں ہے اور نہ ہی تیرہ چودہ نشستوں میں ہو سکتا ہے، لیکن مجھے یہ اطمینان ہے کہ بڑی بڑی باتیں ہو گئی ہیں۔ ایک یہ کہ اسلام کا خاندانی نظام اور اس کا بنیادی ڈھانچہ کیا ہے، اور اسلام کے نظامِ خاندان کے حوالے سے آج کی بین الاقوامی دنیا کے جو اعتراضات ہیں، ان سب کے متعلق تیرہ نشستوں میں جو کچھ باتیں ہوئیں ہیں، ان پر اللہ تبارک و تعالیٰ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرمائے۔
انگریز سے پہلے دینی مدارس ہی فکری اور تہذیبی مراکز تھے
فکری و تہذیبی کشمکش پر بات کرنے سے پہلے میں ایک بات کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا۔ ہمارے معاشرے میں انگریزوں کے باضابطہ قبضہ جمانے سے پہلے، یعنی 1857ء سے پہلے دینی مدارس ہی ہمارے دینی، فکری اور تہذیبی مراکز تھے۔ ہم قرآن و حدیث بھی یہیں پڑھتے تھے، فقہ و شریعت اور معقولات بھی یہیں پڑھتے تھے، فلکیات و سائنس وغیرہ بھی یہیں پڑھی جاتی تھیں، عروض و قافیہ اور ریاضی وغیرہ بھی اکٹھی پڑھائی جاتی تھیں۔ اُس زمانے میں دینی علوم اور عصری علوم کی آج کی طرح تقسیم نہیں تھی۔ اسے قدیم اور جدید کی تقسیم کہہ لیں، دینی اور غیر دینی یا عصری علوم کی تقسیم کہہ لیں۔ یہ تقسیم اس سے پہلے نہیں تھی۔ یہیں قرآنِ پاک پڑھا جاتا تھا، حدیث شریف پڑھی جاتی تھی، اور ریاضی، فلکیات، سائنس، معقولات، فقہ اور درسِ نظامی سب یہیں تھا۔ صدیوں سے یہ چلا آ رہا تھا اور ہندو اور سکھ بھی یہی پڑھتے تھے اور باقی غیر مسلم بھی یہی پڑھتے تھے۔ بعض غیر مسلم جو ان علوم کے ماہرِ فن اور بڑے بڑے مدرس تھے، یہیں پڑھاتے تھے اور معقولات کے امام سمجھے جاتے تھے۔ مولانا مناظر احسن گیلانی ان کا ذکر کرتے ہیں1۔ مسلمانوں کے نظامِ تعلیم میں سب کچھ پڑھایا جاتا تھا، یعنی تمام علوم مشترک طور پر پڑھائے جاتے تھے۔ اُس وقت تقسیم نہیں تھی تو یہ تقسیم کس نے کی ہے؟ یہ بات 1857ء کے بعد ہوئی، جب کہ مسلسل یہ کہا جا رہا ہے کہ دینی اور دنیاوی علوم کی مولویوں نے تقسیم کی ہے۔ یہ تقسیم مولویوں کے کھاتے میں ڈالی جا رہی ہے، یہ تو غلط بات ہے، ہم تو صدیوں سے دونوں علوم اکٹھے پڑھاتے رہے ہیں۔
انگریز کے نظامِ تعلیم میں تقسیم اور علماء و مدارس کا کردار
جب انگریزوں نے سارے نظام پر قبضہ کیا اور نیا نظام بنایا تو قرآن و حدیث اور فقہ و عربی کو نکال دیا، باقی چیزیں رہ گئیں، تو دینی اور غیر دینی علوم کی تقسیم انہوں نے کی ہے؟ اب ان علوم کو نکال دیا تو سوال پیدا ہوا کہ قرآن، حدیث، فقہ اور عربی کے مضامین کو کون سنبھالے گا؟ یہ علوم ختم نہ ہوں، ان کو بچانے کے لیے ہمارے بزرگوں نے ذمہ لے لیا۔ لیکن تقسیم ہم نے نہیں کی، وہ تقسیم کو ہمارے کھاتے میں ڈالتے ہیں۔ ہمارے پاس تو جب تک نظام رہا، دین و دنیا سب کچھ پڑھاتے تھے۔ ریاضی، سائنس، معقولات، فلسفہ، منطق وغیرہ سب کچھ تھا۔ جب انگریز نے نظام سنبھالا تو اس نے قرآن، حدیث، فقہ اور عربی کو نکال دیا۔ ہمارے بزرگوں نے ان چار علوم کو سنبھالا کہ یہ ضائع نہ ہوں۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ دینی مدارس کا معاشرے میں بنیادی کردار کیا ہے؟ موجودہ سسٹم کے حوالے سے 1857ء سے پہلے پوری تہذیب، تمدن، سماج، ثقافت، معاشرت، سب کا مرکز مدارس تھے۔ 1857ء کے بعد چند بزرگ اکٹھے ہوئے، اللہ تعالیٰ قادرِ مطلق ہیں، اسباب فراہم کرتے ہیں اور کرتے چلے جاتے ہیں۔ ان چند بزرگوں نے دیوبند کے قصبے میں 1866ء میں ایک مدرسے کی بنیاد رکھی۔ اس مدرسے کی بنیادی اساس اس پر تھی کہ پورے ملک کے نظامِ تعلیم سے یہ چار علوم: قرآنِ پاک، حدیث، فقہ اور عربی نکالے گئے ہیں، اب ان کو ہم نے بچانا ہے۔ اور عام آدمی کا علم کے ساتھ، دین کے ساتھ، کلمہ، ایمانیات، اخلاقیات اور فرائض و واجبات کے ساتھ تعلق باقی رکھنا ہے۔
تیسری بات یہ تھی کہ 1857ء کے بعد فکری اور تہذیبی فتنے شروع ہوئے، اقتدار کی جنگ شروع ہوئی، مسلمانوں کے عقائد پر حملے شروع ہو گئے، ہندوؤں نے اپنی تبلیغ شروع کر دی، عیسائیوں نے اپنے مذہب کی تبلیغ شروع کر دی۔ دینی مدارس کے بنیادی اہداف ان چار علوم کی حفاظت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے عقائد اور دین کی حفاظت کرنا بھی تھے۔ یہ ایک لمبا زمانہ اور اس کی ایک مستقل تاریخ ہے۔ ایک طرف ہندوؤں کی یلغار تھی، ہندوؤں کا موقف یہ تھا اور اب بھی انتہا پسند ہندوؤں کا موقف یہ ہے کہ ہندوستان میں رہنے والے سب ہندو ہیں۔ یہاں رہنے والے جو مسلمان اور دوسرے اہلِ مذہب ہیں، وہ واپس چلے جائیں کہ یہ ہندو مذہب اور ہندو وطن ہے۔ آج بھی انتہا پسند ہندوؤں کا کہنا یہ ہے کہ مسلمان اور عیسائی اور جو دوسرے اہلِ مذہب یہاں رہتے ہیں، وہ اپنے دین یعنی ہندومت کی طرف واپس آئیں کہ یہ وطن کا مذہب ہے۔ یہ بڑی تحریک تھی۔ حتیٰ کہ دارالعلوم کو مستقل ایک شعبہ قائم کرنا پڑا تھا۔ مولانا انور شاہ کشمیریؒ اور بڑے بڑے اکابر نے محاذ قائم کیا تھا کہ شدھی یعنی مرتد ہونے والے مسلمانوں کو دوبارہ اپنے مذہب کی طرف لایا جائے۔ کیونکہ بہت سارے دیہاتوں کے غریب مسلمان ہندوؤں کی طرف چلے گئے، ان کے اس دعوے پر کہ ہندوستان کا مذہب ہندو ہے لہٰذا واپس اپنے مذہب میں آؤ۔ تو دارالعلوم دیوبند اور دیگر مسلم اداروں کے اس محاذ کی وجہ سے ہزاروں مسلمان واپس دین کی طرف آئے۔ اس بارے میں دارالعلوم دیوبند کی پوری تاریخ ہے۔ ادھر پنجاب میں سکھ پھیلتے جا رہے تھے، ادھر عیسائیوں کی یلغار تھی، مسلسل اعتراضات اور مناظرے ہو رہے تھے۔ وہ مختلف مذاہب سے مناظروں کا زمانہ تھا، ہمارے اکابر نے دینی علوم کی حفاظت بھی کی اور مسلمانوں کے عقیدے اور ایمان کے تحفظ کے لیے مقابلہ بھی کیا اور مناظرے بھی کیے۔
مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کا ایک پادری کو شکست دینا
حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ (المتوفیٰ 1880ء)، حضرت مولانا کیرانویؒ (المتوفیٰ 1891ء)، یہ حضرات بڑے مناظرین میں سے تھے۔ برطانیہ سے ایک ڈاکٹر فنڈر آئے تھے، بڑے عیسائی پادری تھے، پڑھے لکھے آدمی تھے، گفتگو کا سلیقہ تھا۔ پڑھا لکھا آدمی ہو اور گفتگو کا سلیقہ بھی ہو تو بہت سے لوگوں کو خراب کرتا ہے۔ اس ڈاکٹر نے ہندوستان میں طوفان مچا دیا، اس نے کہا میں چیلنج کرتا ہوں کہ میرے مقابلے میں مناظرہ کرو۔ کسی بھی چیز پر مناظرہ کرو؛ توحید پر، تثلیث پر، تعلیمِ قرآن پر، بائبل کی تحریف پر، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئیوں پر۔ یہ پادری اتنا چالاک اور چابک دست تھا کہ عام عالم اس کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا تھا۔ اس کا مقابلہ مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ نے کیا، جو مولانا قاسم نانوتویؒ کے ساتھیوں میں سے تھے، مولانا امداد اللہ مہاجر مکیؒ (المتوفیٰ 1896ء) کے مریدوں میں سے تھے، بڑے عالم تھے۔ مناظرہ بائبل کی تحریف پر تھا، بہت بڑا مناظرہ ہوا، مولانا کیرانویؒ کے سامنے پادری فنڈر نہ ٹھہر سکا اور بالآخر شکست کھا کر ہندوستان چھوڑ کر چلا گیا۔
یہ پادری ہندوستان سے ترکی آ گیا، ادھر آ کر پھر چیلنج کرنے لگا، ادھر کے لوگوں کا مناظروں کا مزاج نہیں تھا، وہ اس میدان کے لوگ نہیں تھے۔ سلطان عبدالمجیدؒ اس وقت عثمانی خلیفہ تھے، انہوں نے حج کے موقع پر اعلان کرایا کہ ایک عیسائی پادری ہے، گفتگو کا بڑا سلیقہ رکھتا ہے، اگر کوئی مسلمان عالم اس سے مقابلہ کرنا چاہے تو آ جائے۔ اس وقت مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ خلافتِ عثمانیہ کے حصے تھے۔ 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد مولانا کیرانویؒ ہجرت کر کے باقاعدہ مکہ آ چکے تھے۔ یہ ایک مستقل تاریخ ہے کہ مولانا کیرانویؒ کا مکہ مکرمہ میں کیا کردار تھا، اس پر ان شاء اللہ پھر کسی موقع پر مستقل عرض کروں گا۔ مولانا کیرانویؒ کو اس اعلان کا پتہ چلا تو کہا کہ میں اس سے مناظرہ کرتا ہوں۔ یہ خبر سلطان عبدالمجید تک پہنچی کہ ایک عالم آئے ہوئے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں پادری فنڈر سے مناظرہ کروں گا۔ انہوں نے مولانا کو استنبول بلوایا، عیسائی پادری کو بھی بلوایا۔ جب اس نے دیکھا کہ یہ تو وہی ہے، عیسائی پادری نے انکار کر دیا، کہا کہ میں نے ترکی کے لوگوں کو چیلنج کیا ہے، ادھر کا عالم ہونا چاہیے۔ بہرحال وہ مولانا کیرانویؒ کے سبب ترکی میں ٹِک نہ سکا۔
پھر سلطان عبدالمجید مرحوم نے حضرت کیرانویؒ کو سرکاری مہمان بنایا، ان کو احترام کے ساتھ رکھا۔ سلطان نے کہا کہ حضرت! بائبل کی تحریف اور جو دیگر اہم موضوع ہیں، اس پر کوئی کتاب لکھیں۔ مولانا رحمت اللہؒ نے ’’اظہار الحق‘‘ کے نام سے عربی میں کتاب لکھی۔ اس طرح ردِ عیسائیت میں یہ شاندار کتاب سلطان عبدالمجید کی فرمائش پر وجود میں آئی۔ سلطان عبدالمجید نے اس کے ترجمے کروا کر سرکاری خرچے پر لاکھوں کتابیں تقسیم کروائیں۔ کتاب ’’اظہار الحق‘‘ کے بارے میں اس وقت کے ’’لندن ٹائمز‘‘ کا تبصرہ یہ تھا کہ اگر یہ کتاب پچاس سال تک پڑھی جاتی رہی تو دنیا سے عیسائیت ختم ہو جائے گی۔
پھر ’’اظہار الحق‘‘ کا ترجمہ مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے ’’بائبل سے قرآن تک‘‘ کے عنوان سے کیا، بہت زبردست ہے، عیسائیت کو سمجھنے کے لیے اس سے بہتر کوئی کتاب نہیں ہے۔2
بات یہ ہو رہی تھی کہ ہمارے بزرگوں نے تعلیم اور اسلامی عقائد کا دفاع پہلے کیا۔ ایک ہے تعلیم، دوسری ہے تربیت، تیسرا ہے ماحول؛ یہ تینوں چیزیں لازم و ملزوم ہیں۔ تعلیم کتاب کی، تربیت عمل کی، اور ماحول ایسا کہ سب ان اعمال کو کریں۔ ہمارے بزرگوں نے ان تینوں پہلوؤں کو نہ صرف باقی رکھنے کی کوشش کی بلکہ باقی رکھنے میں کامیاب بھی ہوئے۔یہ ہمارے اکابر کا اعزاز ہے کہ آپ کہیں بھی چلے جائیں، ہمارے اکابر کی یہ تینوں چیزیں آپ کو کسی نہ کسی انداز سے ضرور ملیں گی۔ ان بزرگوں نے تعلیم کا نظام بھی باقی رکھا، تربیت کا بھی اور خانقاہی ماحول بھی باقی رکھا، بلکہ لباس اور وضع قطع کا ماحول بھی باقی رکھا کیونکہ لباس تبدیل کرنے کے نتیجے میں ماحول اور کلچر بدل جاتا ہے۔ یہ اَب تک باقی ہے، دنیا والوں کو نظر بھی آ رہا ہے اور بسا اوقات چھبتا بھی ہے کہ مولویوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ مذہب اور ثقافت کی بنیادیں بچانا اور انہیں مضبوط کرنا بہت بڑی فراست تھی۔ یہ خانقاہی ماحول کے انداز میں بھی باقی رکھا، یہ ماحول تسلسل کے ساتھ آپ کو اب تک نظر آئے گا۔
علماء آزادی کی تحریکوں کے قائد تھے
ایک اور بات جو ان تینوں سے بڑی ہے کہ انگریزوں نے برصغیر پر قبضہ کر لیا تھا اور پوری قوم کو غلام بنایا تھا، تو علماء نے اس غلامی کے خلاف آزادی کا ذہن باقی رکھا۔ دیگر طبقات تو سب چیزیں قبول کر چکے تھے، ایک علماء کا طبقہ تھا جس نے نہ صرف اس استعمار کو قبول نہیں کیا بلکہ اس کے سامنے ڈٹ بھی گئے۔ یعنی یہ کہ ’’ہم نے غلام نہیں رہنا، آزاد ہونا ہے‘‘ اس کا صرف ذہن ہی نہیں بنایا بلکہ بھرپور تیاری بھی کی۔ میں تاریخ کا طالبِ علم ہوں، 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد جتنی آزادی و حریت کی تحریکیں چلی ہیں، ان سیاسی و عسکری تحریکوں کو پورے ہندوستان میں کلکتہ سے پشاور تک مدارس نے ہی چلایا ہے۔
اُس عہد میں لفظ ’’مولوی‘‘ اس بات کی علامت بن گیا تھا کہ انگریزوں کا غلام نہیں رہنا بلکہ آزاد ہونا ہے۔ یہ اتنی پکی علامت بن گئی تھی کہ یونیورسٹی سے جو لوگ اِدھر آئے وہ بھی مولوی کہلانے لگے۔ شوکت علیؒ کس مدرسے کے فاضل ہیں؟ ظفر علی خانؒ بھی کسی مدرسے کے فاضل نہیں ہیں بلکہ اسلامیہ کالج لاہور اور علی گڑھ یونیورسٹی کے فاضل تھے۔ ان کا نام تحریکِ آزادی کے بڑے لوگوں میں ہے۔ مولانا محمد علی جوہرؒ، مولانا شوکت علیؒ، مولانا ظفر علی خانؒ، ڈاکٹر انصاریؒ، یہ سب ہمارے سیاسی اکابرین میں سے ہیں، چوٹی کے سیاستدان ہیں، تحریکِ آزادی میں ان کا بہت بڑا کردار ہے۔ میں لطیفے کے طور پر کہا کرتا ہوں کہ بغاوت اور آزادی کی علامت مولوی بن چکا تھا کہ یونیورسٹی سے جو ٹاپ کے لوگ ہمارے پاس آئے، ان کو بھی ’’مولانا‘‘ کے ٹائٹل سے پکارا گیا۔
علماء کا مقصد
تحریکِ آزادی میں علماء نے قیادت بھی فراہم کی اور کارکن بھی فراہم کیے۔ یہ علماء معاشرے میں تہذیب و ثقافت کے محافظ بھی تھے، اپنے عقیدے اور ایمان کے محافظ بھی تھے، اپنی آزادی کے جذبے کے محافظ بھی تھے، اپنے علوم کے محافظ بھی تھے؛ تو اس طرح ہمارے اکابر نے چومکھی لڑائی لڑی۔ تاریخ کا یہ رخ میں نے اس لیے بیان کیا کہ ہمیں معلوم ہو کہ ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں۔ الحمد للہ ہم آج اپنے اس ماحول کو قائم رکھنے میں کامیاب ہیں، ہم نے جو محاذ سنبھالا تھا اس میں پوری طرح کامیاب ہیں۔ ہم نے کیا محاذ سنبھالا تھا؟ ایک واقعہ عرض کرتا ہوں۔
حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ کے بیٹے مولانا حافظ محمد احمدؒ دیوبند کے مہتمم تھے اور اکابرین میں سے تھے۔ اس زمانے میں مسلمانوں کی سب سے مضبوط اور مستحکم مالی ریاست حیدرآباد دکن تھی، وہ حیدرآباد کے نظام کی دعوت پر وہاں تشریف لے گئے۔ نظام نے کہا: حافظ صاحب! بات یہ ہے کہ ہمیں تجربہ ہوا ہے کہ جو آپ کے مدرسے سے پڑھ کر نکلتے ہیں، یہ اہلیت میں بھی دوسروں سے زیادہ ہیں اور ذہانت میں بھی، کام بھی زیادہ کرتے ہیں اور دیانت دار بھی ہیں۔ میں نے آپ سے یہ بات اس لیے کی ہے کہ میں آپ سے معاہدہ کرنا چاہتا ہوں کہ آپ کے مدرسے سے جتنے بھی علماء فارغ ہوں، ان کو یہاں حیدرآباد دکن میں بھیج دیا کریں۔ اور دارالعلوم کا سال کا جو بھی بجٹ ہو گا، وہ ہم ادا کر دیا کریں گے۔
اب مولوی کے لیے اس سے زیادہ خوشی کی بات کیا ہو گی کہ مدرسے کے فارغ التحصیل بھی کھپ جائیں گے اور پورے سال کا بجٹ بھی آ جائے گا۔ مہتمم صاحب نے نظام صاحب کو کہا: ہم وعدہ تو نہیں کر رہے، بزرگوں سے مشورہ کر کے پھر جواب دیں گے۔
اس وقت حضرت گنگوہیؒ حیات تھے، بزرگ ہو گئے تھے، نابینا تھے، گنگوہ میں رہتے تھے۔ مہتمم صاحب ان کی خدمت میں پہنچے اور پوچھا کہ حضرت! نظامِ حیدرآباد نے یہ پیشکش کی ہے، آپ سے اجازت لینے آئے ہیں۔ حضرت گنگوہیؒ نے فرمایا: ”مولوی احمد! میں تمہیں بیوقوف تو سمجھتا تھا لیکن اتنا نہیں۔ اللہ کے بندے! ہم نے دیوبند کا یہ مدرسہ حیدرآباد دکن کے نظاموں کی ریاست چلانے کے لیے بنایا ہے؟ بھاڑ میں جائے حیدرآباد کی ریاست۔ ہم نے یہ مدرسہ اس لیے بنایا ہے کہ مسلمانوں کو مسجد میں نماز پڑھانے کے لیے امام مل جائیں اور قرآنِ پاک پڑھانے کے لیے حافظ مل جائیں۔ مسلمانوں کی مسجدیں آباد رکھنے کے لیے اور مسلمانوں کو مکاتب کے استاذ فراہم کرنے کے لیے ہم نے یہ مدارس بنائے ہیں، ہمیں کیا لینا دینا حیدرآباد کی ریاست سے!
تو اُس وقت ہمارے بزرگوں کی یہ حکمتِ عملی تھی کہ جو شخص ہم سے فارغ ہوتا ہے، وہ اپنے آپ کو کسی بھی دنیا کے کام کا وارث مت سمجھے، وہ کہیں اور نہ کھپے بلکہ آ کر مسجدیں سنبھالے تاکہ مسلمانوں کی مسجدیں آباد رہیں، قرآن پڑھانے کے لیے استاذ مل جائیں، وگرنہ دین کے مسئلے کون بتائے گا؟ یہ مدارس کا نظام اس حکمتِ عملی کے تحت تھا۔
مدارس پر ایک اعتراض کا جواب
پنجاب کے ایک گورنر خالد مقبول صاحب ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے جامعہ اشرفیہ کا وزٹ کیا، تقریر فرمائی اور شِکوہ کیا کہ ملک کے پاس سائنسدان نہیں ہیں، ملک کے پاس ڈاکٹر نہیں ہیں، بہت کمیاں ہیں، اور مدارس کیا کر رہے ہیں؟ اس لہجے میں انہوں نے تقریر فرمائی۔ میں نے اس پر ایک کالم لکھا، میں نے کہا کہ آپ کا جو شِکوہ ہے وہ درست ہے کہ ملک میں ضرورت کے مطابق انجینئر نہیں ہیں، سائنسدان نہیں ہیں، ڈاکٹر نہیں ہیں۔ میں اس شِکوہ میں آپ کے ساتھ ہوں لیکن شکایت کی یہ جگہ درست نہیں ہے۔ شکایت کی جگہ اِس طرف نہیں، نہر کے اُس طرف ہے جہاں پنجاب یونیورسٹی ہے۔ ڈاکٹر بنانے کے یا انجینئر بنانے کے ہم مخالف نہیں ہیں لیکن ہم نے یہ ذمہ داری نہیں لی۔ ہم نے یہ ذمہ داری لی تھی کہ مسجد کا امام ملتا رہے گا اور مدرسے کا استاذ ملتا رہے گا، اور وہ ذمہ داری ہم بخوبی پوری کر رہے ہیں۔ جب کہ یہ ذمہ داری یونیورسٹی نے لی تھی کہ ہم سائنسدان دیں گے، ڈاکٹر دیں گے۔ ڈاکٹروں کی کمی ہے تو ان سے پوچھیں۔ ہم سے پوچھنا ہے تو یہ پوچھیں کہ قرآن کا حافظ مل رہا ہے یا نہیں؟ مسجد کا امام مل رہا ہے یا نہیں؟ عالمِ دین مل رہا ہے یا نہیں؟
میں نے کہا، گورنر صاحب! ہم تو اتنے بڑے ایکسپورٹر ہیں کہ دنیا تنگ پڑ گئی ہے؛ پاکستان کے مدارس کے پڑھے ہوئے میں نے واشنگٹن میں پڑھاتے ہوئے دیکھے ہیں، ہانگ کانگ میں دیکھے ہیں، نیروبی، ٹورنٹو اور کیپ ٹاؤن میں دیکھے ہیں، دنیا بھر میں پڑھاتے ہوئے دیکھے ہیں۔ آج ہمارے مدارس کے پڑھے ہوئے دنیا میں کہاں نہیں ہیں؟ دنیا کے کونے کونے میں ہمارے لوگ پڑھا رہے ہیں۔ ہم نے برصغیر کی دینی تعلیم کی ذمہ داری لی تھی اور ہم ضرورت پوری کر رہے ہیں دنیا بھر کی۔ جو ذمہ داریاں ہم نے لی تھیں اگر اس میں سے کوئی نہیں مل رہا تو ہم سے پوچھیں۔ اگر ڈاکٹر، سائنسدان نہیں مل رہے تو یونیورسٹی سے جا کر پوچھیں، ہم سے کیا پوچھتے ہیں؟
مدارس اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے
ہماری ذمہ داری تو بحمد اللہ تعالیٰ پوری ہو رہی ہے۔ میں اگر مشاہدات بیان کرنا شروع کر دوں تو بہت سارے ہیں، ایک مشاہدہ مثال کے طور پر بیان کرتا ہوں۔ امریکہ میں ’’دارالعلوم مدنیہ‘‘ ہے، میں وہاں گیا، مجھے وزٹ کروایا گیا۔ وہاں درسِ نظامی کا اہتمام ہے، بچوں کا بھی اور بچیوں کا بھی، حفظ کا اہتمام بھی ہے۔ اس وقت جب میں گیا تھا، ساڑھے چار سو بچیاں ہوسٹل میں تھیں اور تین سو بچے تھے۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا کے خلیفہ مدرسہ کے مہتمم ہیں۔ وہ ڈاکٹر صاحب بھی ہیں اور مہتمم بھی ہیں۔ تہہ خانے میں حفظ کی کلاس تھی، جب میں نیچے گیا تو حیرت سے میرا دماغ چکرا گیا کہ میں گوجرانوالہ میں ہوں یا کسی غیر ملک میں ہوں؟ سوچ میں پڑ گیا کہ میں کہاں کھڑا ہوں، امریکہ میں؟ پوچھا کہ قاری صاحب! آپ یہیں کے پڑھے ہوئے ہیں؟ قاری صاحب نے کہا: نہیں حضرت، گوجرانوالہ کا ہوں، پیدا بھی وہیں ہوا ہوں اور پڑھا بھی وہیں سے ہوں۔
دیکھیں، یہ مدرسے کا فیض ہے کہ کہاں کہاں تک پہنچا ہے۔ بعض لوگ پریشان ہو جاتے ہیں کہ مدارس کا کیا بنے گا؟ ہم کہتے ہیں کہ کچھ نہیں ہو گا، یہ مدارس اسی طرح چلیں گے۔ آٹھ دس سال کے بعد ہم پر دباؤ آتا ہے تو ہم پریشان ہو جاتے ہیں۔ میں نے کہا کہ پانی کا راستہ کبھی کسی نے روکا ہے؟ اگر پانی کا راستہ روکیں گے تو دوسری طرف سے نکل جائے گا۔ زمین میں گھس کر دوسری طرف نکل آتا ہے، وہاں بھی بند کر لیں تو ہوا میں اُڑ کر دوسری طرف جا کر برس جاتا ہے۔ دین اور علم، یہ بھی پانی کی طرح ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جو خواب کی تعبیرات منقول ہیں، ان میں دودھ علم کی علامت ہے اور پانی ایمان کی علامت ہے۔ تو پھر دین کا راستہ کون روکے گا، یا کس طرح رک سکے گا؟
دینی مدارس کی کامیابیاں
جہاں تک دینی مدارس کی ذمہ داری، جدوجہد اور اس کے نتائج کا تعلق ہے، آج وہ اس معاملہ میں بحمد اللہ پوری طرح سرخرو ہیں۔ اس لیے کہ انہوں نے اسلامی علوم و فنون کی صرف حفاظت ہی نہیں کی بلکہ کسی قسم کی سرکاری امداد کے بغیر معاشرے کے لاکھوں افراد کو ہر دور میں اسلامی علوم سے بہرہ ور کیا۔ اور اسلامی تہذیب و ثقافت کے صرف نشانات کو باقی ہی نہیں رکھا بلکہ طالبان حکومت کی صورت میں اس کا عملی نمونہ بھی خاص انداز سے دنیا کے سامنے پیش کر دیا۔ اس نمونے کو دیکھنے والے پکار اُٹھے کہ یہ تو وہی صدیوں پرانا نمونہ ہے اور اس نمونے نے تو گزشتہ دو صدیوں میں ہونے والی تہذیبی تبدیلیوں کا بھی سرے سے کوئی اثر قبول نہیں کیا۔
اس لیے دینی مدارس سے کسی درجہ میں یہ شکایت تو ہو سکتی ہے کہ جو امانت ان کے سپرد کی گئی، انہوں نے اتنی سختی اور شدت سے اس کی حفاظت کی اور اس کو آنے والی نسلوں تک اس طرح پہنچا دیا ہے کہ اسے زمانے کی ہوا بھی نہیں لگنے دی۔ مگر جدید ٹیکنالوجی، سائنسی تحقیقات اور علوم میں قوم کے پیچھے رہ جانے پر دینی مدارس کو ذمہ دار قرار دینا اور ان کے اساتذہ اور طلباء کے درمیان کھڑے ہو کر سائنس و ٹیکنالوجی اور ابلاغ کے جدید ترین ذرائع سے محرومی کا رونا رونا، نہ صرف سراسر ناانصافی ہے بلکہ انتہائی بے ذوقی کی بات بھی ہے۔ آج اگر ہم جدید سائنسی علوم، ٹیکنالوجی اور تحقیقات کی صلاحیت و مواقع سے محروم ہیں تو اس کی ذمہ داری دینی مدارس پر نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ذمہ داری اس تعلیمی نظام پر ہے جس نے ڈیڑھ سو برس قبل اس کی ذمہ داری قبول کی تھی، اور اس نے مغربیت کو قبول کرنے میں تو کسی حجاب سے کام نہ لیا، لیکن جدید ٹیکنالوجی کی طرف اس کے قدم نہ بڑھ سکے۔ بلکہ اس تعلیمی نظام کی نااہلی نے ہماری آزادی اور خودمختاری کو بے بسی کی دلدل سے دوچار کر کے رکھ دیا ہے۔
دینی مدارس کی نمایاں خدمات
آج جنوبی ایشیا بلکہ دنیا کے دیگر خطوں میں بھی لاکھوں مدارس پر مشتمل ایک وسیع نیٹ ورک علمی، فکری اور تہذیبی دائروں میں پورے عزم و استقلال کے ساتھ مصروفِ کار ہے۔ اور تاریخ ان مدارس کے اس عظیم کردار کا اعتراف کرنے پر مجبور ہے کہ ان دینی درسگاہوں نے:
- اس خطہ کو اسپین بننے سے بچا لیا، جس کا ذکر شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال نے اسپین کے دورے سے واپسی پر ان الفاظ میں کیا کہ ان مدارس کو اسی حالت میں رہنے دو اور انہیں اسی طرح کام کرنے دو، یہ مدارس اگر خدانخواستہ باقی نہ رہے تو اس کا نتیجہ جو ہو گا، وہ میں اپنی آنکھوں سے اسپین میں دیکھ آیا ہوں۔
- قرآن و سنت اور ان سے متعلقہ ضروری علوم کی تعلیم و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا اور انہیں بحفاظت اگلی نسلوں تک منتقل کرنے میں کامیاب رہے۔
- مسجد و مکتب کے ادارے کو امام، خطیب، مدرس، حافظ، قاری، اور مفتی وغیرہ کی صورت میں رجالِ کار فراہم کر کے عام مسلمانوں کا دین کے ساتھ تعلق قائم رکھا۔
- اسلامی عقائد و روایات کے خلاف لادینیت کی یلغار کا مقابلہ کیا اور نہ صرف عقائد و احکام بلکہ تہذیبی اقدار و روایات کے معاشرتی ڈھانچے کو برقرار رکھنے میں بھی کامیابی حاصل کی۔
- بیرونی استعمار کے تسلط سے نجات اور آزادی کی جدوجہد میں نہ صرف علمی و فکری راہنمائی مہیا کی بلکہ قائدین اور کارکنوں کی ایک وسیع کھیپ تسلسل کے ساتھ فراہم کی، جن کی قربانیوں کے نتیجے میں وطنِ عزیز آزاد ہوا اور دنیا کے نقشے پر ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ کے نام سے ایک نئی اسلامی ریاست وجود میں آئی۔
- تعلیم و تدریس کے ساتھ ساتھ اصلاح و ارشاد، دعوت و تبلیغ اور وعظ و نصیحت کا ہر سطح پر ایسا نظام دیا جس کی برکات سے پورا معاشرہ شب و روز مستفید ہو رہا ہے۔
- مسلمانوں میں اپنے اس تہذیبی امتیاز اور دینی تشخص کا شعور اجاگر کیا جو بالآخر دو قومی نظریہ اور مسلمانوں کے ایک الگ ملک کے قیام کی اساس ثابت ہوا۔
- عام مسلمانوں کی دینی راہنمائی اور ان کی احکامِ شریعت کے ساتھ وابستگی کو قائم رکھنے کے لیے فتویٰ و اجتہاد کے اس تسلسل کو برقرار رکھا جو وقت اور حالات کے تغیر کے ساتھ ساتھ احکامِ شریعت کی تطبیق و ترویج کا سلسلہ جاری رکھنے کا ذریعہ بنا۔
- ادب و خطابت، صحافت، شعر و شاعری اور ابلاغ کے دیگر شعبوں میں نامور شخصیات پیدا کیں جنہوں نے دینی و قومی مسائل پر قوم کی جرأت مندانہ راہنمائی کی۔
- کسی قسم کی سرکاری امداد و معاونت سے بے نیاز رہ کر محدود وسائل بلکہ بے سروسامانی کے ماحول میں عالمِ اسلام کو ایک ایسا وسیع، منظم، مربوط اور متحرک نظامِ تعلیم دیا جس کی سادگی، اثر پذیری، قناعت پسندی اور پیہم سعی آج پوری دُنیا کے تعلیمی ماحول کے لیے قابلِ رشک ہے۔ وغیرہ ذالک۔3
دینی مدارس کے اساتذہ و طلبا کا عزم
دینی مدارس کی یہ محنت و کاوش گزشتہ ڈیڑھ سو برس سے ریاستی سرپرستی اور تعاون کے ماحول میں نہیں، بلکہ حوصلہ شکنی، کردارکشی اور مخاصمت کی فضا میں جاری ہے۔ جو بیرونی استعمار کے دور میں تو قابلِ فہم تھی لیکن اسلام کے نام پر اور مسلمانوں کے تہذیبی تشخص کی بقا کے عنوان سے وجود میں آنے والے ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ میں بھی اشرافیہ اور مقتدر طبقات کا اسی روش پر قائم رہنا تعجب خیز بلکہ انتہائی افسوسناک ہے۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کے بعد ہمارے مقتدر طبقات کی ذمہ داری تھی کہ وہ ملک کے ریاستی تعلیمی نظام کو نوآبادیاتی ایجنڈے اور ماحول سے نجات دلا کر ایک آزاد، خودمختار اور باوقار اسلامی ملک کے طور پر قرآن و سنت کے علوم، عصری تعلیمی و فنی ضروریات اور مسلمانوں کی شاندار تہذیبی روایات و اقدار کی بنیاد پر ازسرِنو استوار کرتے۔ مگر ریاستی نظامِ تعلیم کو صحیح رخ پر لانے کی بجائے ریاستی اداروں کی توجہ قیامِ پاکستان کے بعد سے اب تک دینی تعلیم دینے والے اداروں اور طبقات کی کردار کشی، حوصلہ شکنی اور ان کے کام میں طرح طرح کی رکاوٹیں ڈالنے پر مرکوز ہے۔ جبکہ دینی مدارس کے خلاف وقفہ وقفہ سے کی جانے والی ریاستی کاروائیاں نشان دہی کر رہی ہیں کہ عالمی استعمار کی طرح ہمارے ملک کی اسٹیبلشمنٹ بھی دینی مدارس کو کمزور کرنے اور انہیں اپنے تاریخی و معاشرتی کردار سے محروم کر دینے کی پالیسی پر گامزن ہے اور عالمی قوتیں، لابیاں اور میڈیا اس مشن میں ان کا پوری طرح معاون ہے۔
دینی مدارس کے لیے یہ صورتحال نئی نہیں ہے، وہ تو گزشتہ ڈیڑھ صدی سے اسی ماحول میں کام کرتے آ رہے ہیں۔ اور ان مخالفانہ کاروائیوں نے ان کا سفر روکنے کی بجائے ہمیشہ ان کے لیے مہمیز اور آگے بڑھنے کا کام دیا ہے، جو دینی مدارس کی وسیع تر کارکردگی کی موجودہ صورتحال سے واضح ہے۔ البتہ اس قسم کی کاروائیاں خود ملک کی اسٹیبلشمنٹ کی اسلام اور نظریۂ پاکستان کے ساتھ وابستگی کے حوالے سے سوالیہ نشان بن چکی ہیں۔ مگر اس سب کچھ کے باوجود دینی مدارس کے منتظمین، معاونین، اساتذہ اور طلباء اپنے اس عزم پر بحمد اللہ تعالیٰ قائم دکھائی دیتے ہیں کہ:
- مسلمانوں کا دین کے ساتھ تعلق قائم رکھنے، انھیں قرآن و سنت کی ضروری تعلیم فراہم کرنے، اسلامی عقائد و روایات کے تحفظ، اسلام کے خلاف فکری و تہذیبی یلغار کے مقابلے، وطنِ عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کو صحیح معنوں میں ایک فلاحی جمہوری اسلامی ریاست بنانے، اور مسجد و مدرسہ کے معاشرتی کردار کا تسلسل جاری رکھنے کے لیے ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔
- وہ وطنِ عزیز کی سالمیت و استحکام، قومی خودمختاری، ملک کی جغرافیائی و نظریاتی سرحدوں کے تحفظ اور ملی و قومی مقاصد کے لیے پرامن قانونی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔ ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے اس سے حسبِ سابق مکمل براءت کا اعلان کرتے ہیں، دینی مدارس پر بے بنیاد الزامات اور معاندانہ کاروائیوں کو مسترد کرتے ہیں، اور لادینی تہذیب، اباحیت مطلقہ اور مذہب بیزار فکر و ثقافت کا علمی و فکری تعاقب ہر سطح پر اور ہر دائرہ میں جاری رکھنے کا عزم رکھتے ہیں۔
- وہ حکومتِ پاکستان، ریاستی اداروں اور مقتدر طبقات کی موجودہ روش کو اسلام اور نظریۂ پاکستان کے منافی سمجھتے ہوئے ان سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اپنے طرزِ عمل پر نظرِ ثانی کریں اور حکومتی پالیسیوں کو اسلام، دستورِ پاکستان اور عوام کی خواہشات کے دائرے میں لانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔
- وہ ملک کے تمام مکاتبِ فکر اور دینی جماعتوں کی قیادتوں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ مشترکہ دینی و قومی مقاصد کے لیے باہمی رابطوں اور اتحاد کو مستقل اور یقینی بنانے کی طرف آگے بڑھیں گے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کو لبرل ملک بنانے کے اعلانات اور عزائم کو متحد ہو کر ناکام بنا دیں گے۔
- ملک کی سلامتی، امنِ عامہ کے قیام و استحکام، اور بیرونی دشمنوں کے مقابلے کے لیے وطنِ عزیز کی مسلح افواج پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں اور ان مقاصد کے لیے ان اقدامات اور کاروائیوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس بات کی طرف توجہ دلانا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ ملک کی جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ ساتھ وطنِ عزیز کی نظریاتی اور تہذیبی سرحدوں کی حفاظت بھی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور ہم سب کو مل جل کر وطنِ عزیز اور پاکستانی قوم کے خلاف عالمی تہذیبی یلغار کا مقابلہ کرنا ہو گا۔
- وہ دینی مدارس کے اساتذہ، طلباء اور کارکنوں کے لیے ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی تعلیمی و ثقافتی جدوجہد میں دستور و قانون اور امن و سلامتی کے تقاضوں کی مکمل پاسداری کریں، امنِ عامہ کے قیام کے لیے ریاستی اداروں کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں، اور شرپسند عناصر کو کسی طرح بھی اپنی صفوں میں گھسنے کا موقع نہ دیں۔
- وہ یہ اعلان بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ دینی مدارس اور ان کے اساتذہ و طلبہ کی دینی جدوجہد کا دائرہ صرف اور صرف تعلیم و تدریس، اسلامی عقائد کا تحفظ اور مسلمانوں کی تہذیبی ثقافت و ماحول کی بقا و حفاظت ہے، جو تمام تر رکاوٹوں کے باوجود جاری رہے گی۔ ملک کی انتخابی و گروہی سیاست اور اقتدار کی کشمکش سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ملک کی تمام دینی اور اسلام پسند سیاسی جماعتیں ان کے لیے اس حوالہ سے یکساں ہیں اور وہ سب سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ دینی تعلیم کے فروغ اور اسلامی عقائد و ثقافت کے تحفظ کے لیے دینی مدارس کا ساتھ دیں گی۔4
- سارا زور دینی مدارس کے نصاب میں عصری تعلیم کو لازمی طور پر شامل کرنے پر دیا جا رہا ہے، جبکہ ریاستی دائرے کے تعلیمی نظام و نصاب میں قرآنِ کریم، حدیث و سنت، فقہ و شریعت، تاریخِ اسلام اور عربی زبان کی تعلیم کے اہتمام کا سرے سے کوئی تذکرہ نہیں ہے، جو ایک مسلم معاشرہ کی حیثیت سے ہم سب کی ذمہ داری ہونے کے ساتھ ساتھ دستور و قانون کا تقاضا بھی ہے۔
- پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والے بیکن ہاؤس طرز کے تمام نیٹ ورک ’’لازمی یکساں نصابِ تعلیم‘‘ کے اس دائرے سے یکسر خارج ہیں اور اُن کی کوئی بات نہیں کر رہا۔
- محکمہ تعلیم کے تحت تمام دینی مدارس کی لازمی رجسٹریشن کے لیے جو پروسیجر، شرائط اور فارم وغیرہ سامنے آئے ہیں وہ رجسٹریشن کے نہیں بلکہ الحاق کے دائرے میں آتے ہیں۔ اور اکثر جگہ اسپیشل برانچ اور دیگر اداروں کا رویہ دینی مدارس کے ساتھ اس سلسلہ میں انتہائی توہین آمیز ہے۔5
- مغرب کے نزدیک مسلمانوں اور پاکستانیوں کے عالمی برادری اور سوسائٹی کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے لیے ضروری ہے کہ عقیدہ و ثقافت اور خاندان و معاشرت کے حوالے سے وہ تمام مواد تعلیمی نصاب سے خارج کر دیا جائے جو اسلام کے جداگانہ تشخص اور مسلمانوں کے خاندانی و معاشرتی نظام کی دوسری قوموں سے امتیاز کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس بنا پر اگر تعلیمی نصاب کے بارے میں مغرب کا یہ موقف قبول کر لیا جائے — جبکہ تعلیمی نظام میں امریکی مداخلت کا مقصد بھی یہی ہے — تو پھر وہ چھوٹی چھوٹی اور جزوی باتیں غیر اہم ہو جاتی ہیں جن کے حوالے سے ہمارے دینی حلقے اس وقت احتجاج کر رہے ہیں، اور تعلیمی نظام کا اصل فکری ڈھانچہ اور ثقافتی فریم ورک ہی سوالیہ نشان بن کر رہ جاتا ہے۔ پھر بات صرف تعلیمی نصاب تک محدود نہیں رہتی بلکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نظریاتی تشخص اور اس کے الگ ملک کے طور پر قیام کی نظریاتی اساس اور تہذیبی پس منظر کا جواز بھی دھندلکوں کی نذر ہونے لگتا ہے، جسے ملک کا کوئی بھی محبِ وطن شہری ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کر سکتا۔6
آخری بات جو میں عرض کرنے لگا ہوں کہ مدرسہ کے ذمہ جو کام تھا وہ تو مدرسہ پورا کر رہا ہے کہ ایک تقسیم ہم پر مسلط کی گئی تھی اور ہم اس پر پکے ہو گئے۔ انگریز سے پہلے ہم دونوں علوم پڑھاتے تھے۔ یاد کریں اس وقت کو کہ جب ایک ہی نظامِ تعلیم تھا اور ہم اس زمانے میں سوسائٹی کی قیادت کیا کرتے تھے۔
دورِ حاضر میں مدارس کی ذمہ داری
آج بھی یہ ہماری ذمہ داری ہے اور ہمیں اس معاملے میں قیادت کرنی چاہیے۔ تفصیلات کی طرف میں نہیں جاتا، بس یہ عرض کرتا ہوں کہ آج کی ضروریات کا ہمیں احساس کرنا چاہیے۔ ہم ماضی کو دیکھیں گے کہ ہمارے بزرگ قیادت کرتے تھے، یہ قیادت ہم سے چھین لی گئی تھی۔ اب ہماری ذمہ داری بنتی ہے، اس ضرورت کو ہمیں سمجھنا چاہیے اور یہ ذمہ داری ہم کو سنبھالنی چاہیے۔ قوم غلط راہنمائی سے تنگ آ چکی ہے، اکتا چکی ہے۔ ایک مقولہ ہے:
و من لم یکن عالما باھل زمانہ فھو جاھل (رد المحتار، باب الوتر والنوافل، ج 2، ص 47)
(جو شخص اپنے ہم عصر لوگوں کے حالات سے ناواقف ہو وہ جاہل ہے۔)
کیا ہم آج کے عالمی ماحول سے واقف ہیں؟ ہم سوسائٹی اور سماج سے واقف ہیں؟ اب سے کم و بیش ڈیڑھ سو سال قبل جب ہمارے معاشرے میں دینی مدارس کا یہ نظام آیا تھا، اس وقت ہمارے بزرگوں کا بنیادی ہدف یہ تھا کہ جنوبی ایشیا کے مسلم معاشرہ میں مسجد و مدرسہ کا ادارہ موجود رہے اور اسے امام، حافظ، قاری، مدرس، مفتی اور خطیب کے طور پر رجالِ کار کی فراہمی اور اس کے لیے تسلسل کو باقی رکھا جا سکے اور اس میں کوئی تعطل یا رکاوٹ نہ ہو۔ بحمد اللہ ہمارے دینی مدارس اپنے اس مقصد اور ہدف میں کامیاب ہیں اور آج بھی اس پورے خطے میں مسجد و مدرسہ کے ادارے کے لیے ضروری رجالِ کار یہ دینی مدارس فراہم کر رہے ہیں۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ضروریات کا دائرہ پھیلتا جا رہا ہے اور زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی دینی راہنمائی کا تقاضا بڑھ رہا ہے، جو نہ صرف یہ کہ وقت کی ضرورت ہے بلکہ ہماری ذمہ داری بھی ہے۔
آج کی گلوبل دنیا اور مستقبل کا بین الاقوامی ماحول ہمیں اس طرف توجہ دلا رہا ہے کہ ہم اپنے محدود اور مقامی و علاقائی ماحول کا اسیر رہنے کی بجائے عالمیت، گلوبلائزیشن اور بین الاقوامیت کے تقاضوں اور ضروریات کو بھی سمجھیں، اور اس کے لیے اپنے تعلیمی نصاب اور تربیتی نظام میں جس ردوبدل اور تنوع کی ضرورت ہو اُس سے گریز نہ کریں، تاکہ دینی مدارس اپنے مستقبل کے کردار کو امتِ مسلمہ کے لیے زیادہ سے زیادہ مفید بنا سکیں۔ ہمارے اکابر نے ہر دور میں یہ عمل سرانجام دیا ہے اور آج بھی یہ عمل ہم سے پیشرفت کا متقاضی ہے۔7
جب تک ہم آج کے عالمی ماحول کو، آج کے علوم و فنون کو اور آج کے علمی تقاضوں کو نہیں سمجھیں گے اور اُن کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوں گے، تب تک ہم معاشرے کی صحیح راہنمائی نہیں کر سکیں گے۔ ہمیں اس پر غور کرنا چاہیے اور اس پر سوچنا چاہیے اور اس کا راستہ نکالنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
حواشی و حوالہ جات
- دیکھیے مولانا گیلانی کی کتاب ’’مسلمانوں کا نظامِ تعلیم و تربیت‘‘
- اس ترجمے سے پہلے آپ نے ’’عیسائیت کیا ہے؟‘‘ کے نام سے جو تحقیقی مقدمہ لکھا ہے، وہ خاصے کی چیز ہے اور عصری تناظر میں تفہیمِ عیسائیت پر اہم مقالہ ہے۔
- مذکورہ بالا نکات روزنامہ اسلام 21 اکتوبر 2016ء میں مولانا زاہد الراشدی صاحب کے شائع شدہ کالم سے لیے گئے ہیں۔
- موضوع کی مناسبت اور جامع اختصار کے سبب یہ نکات مولانا کے روزنامہ اسلام لاہور 21 اکتوبر 2016ء کے کالم سے لیے گئے ہیں۔
- روزنامہ اسلام، 29 جنوری 2020ء
- روزنامہ پاکستان، لاہور، 11 اپریل 2004ء
- ماہنامہ الشریعہ، دسمبر 2006ء



















