▲ ☰

سیاست نامہ از نظام الملک طوسی

ابو علی الحسن بن علی بن اسحاق طوسی کا تعلق پانچویں صدی ہجری سے تھا۔ آپ نظام الملک کے لقب سے مشہور اور سلجوقی حکومت میں نمایاں مقام کے حامل تھے۔ اسلام کی سیاسی تاریخ میں آپ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ مقام آپ کو محض شاہ الب ارسلان اور بعد میں اس کے فرزند ملک شاہ کی قربت اور وزارت سے حاصل نہیں ہوا، بلکہ آپ کے قالب میں ایسی صفات جمع ہو گئی تھیں، جو نادر ہی کسی سرکاری عہدے دار میں موجود ہوتی ہیں؛ لوگوں کے حالات کا علم، انتظامی امور کا گہرا تجربہ، دینی، ادبی، سیاسی تراث سے تعلق اور حوادث و واقعات فہمی کی قدرت، یہ سب خصوصیات آپ کو شانِ امتیاز عطا کرتی ہیں۔ آپ ہر واقعے کو الگ سے نیا حادثہ شمار کرنے کی بجاے اسے حکومتوں اور قوموں میں بار بار پیش آنے والے واقعات سے جوڑ کر دیکھنے کے عادی تھے۔

مختصر حالات

نظام الملک طوس کے نواح میں سنہ ۴۰۸ھ/۱۰۱۸ء کو پیدا ہوے، خراسان میں پلے بڑھے، پھر انتظامی اداروں سے وابستہ رہ کر ترقی کرتے ہوے سلجوقی حکم رانوں کے قریب ہو گئے۔ پہلے الب ارسلان، بعد ازاں اس کے بیٹے ملک شاہ کے وزیر مقرر ہوے۔ وزارت کی کرسی پر تیس سال تک براجمان رہے۔ یہ طویل مدت ہے، جس میں کثرت سے چہرے اور وفاداریاں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ آپ کے کارہاے نمایاں میں سلجوقی فرمان روائی کے ادارہ جاتی انتظام کی بنا، حکومتی معاملات کی تنظیم و ترتیب اور علم و علما سے تعلق و نگہ داشت، شامل ہیں۔ اسلامی دنیا کے بڑے شہروں میں مدارس قائم کرنے کے حوالے سے آپ شہرت رکھتے تھے، جن میں سر فہرست بغداد کا مدرسہ نظامیہ آتا ہے۔

انتقال افسوس ناک حالت میں ہوا کہ ۴۸۵ھ/۱۰۹۲ء میں شہید کردیے گئے۔ یہ وہ وقت تھا، جس میں سلجوقی حکومت خود اضطراب و تقسیم کے مرحلے سے دوچار تھی۔ یوں آپ نے سلطنت کی نمائندگی اس دور میں کی جب شاہی طمطراق عروج پر تھا اور آخری عمر میں حکومت کی جڑوں میں ضعف سرایت کرتے ہوے بھی دیکھا۔ کتاب ’’سیاست نامہ ‘‘ کو اس طویل تجربے سے الگ کر کے سمجھنا آسان نہیں؛ کیوں کہ یہ کتاب صرف نظری افکار پر مشتمل نہیں، جسے کسی فلسفی نے حکومتی ایوانوں سے دور بیٹھ کر لکھا ہو، بلکہ اس میں ایک ایسے وزیر کا تجربہ ہے جس نے حکومت کو اندر سے دیکھا، بادشاہ، اس کے خواص، والیانِ شہر، حکمران، لشکر، خزانے، علما و قاضیان کو پرکھا۔ ان سب سے پہلے سلطنت سے جڑے ہوے انسان کی فطرت کو پہچانا؛ اسی لیے، صدیاں گزرنے کے باوجود، اس کتاب میں آج بھی قابلِ عمل تجربات کی حرارت بھرپور انداز میں موجود ہے۔ یہ کتاب صرف عقلی موشگافیوں کا مجموعہ نہیں۔

سیاست نامہ، فارسی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ’’کتابِ سیاست‘‘ کے ہیں۔ یہ کتاب ’’سیر الملوک‘‘ کے نام سے بھی مشہور ہے۔ اسلامی و فارسی تہذیب میں بادشاہوں کے لیے نصائح پر جو ادب تخلیق ہوا ہے، ان میں اس تالیف کا شمار مشہور کتابوں میں ہوتا ہے۔ یہ سلطان ملک شاہ کے عہد میں لکھی گئی۔ انھوں نے ارکانِ حکومت سے ایسی کتاب لکھنے کا کہا جس میں مملکت کی اصلاح اور نظم و نسق سے متعلق مفید باتیں ذکر کی گئی ہوں، اسی کے نتیجے میں ’’نظام الملک‘‘ کے قلم سے لکھی گئی جامع کتاب وجود میں آئی، جس میں سیاسی حکمت، انتظامی تجربات، اخلاقی نصیحتیں اور تاریخی حکایات موجود ہیں۔ مولف کا مقصد بادشاہ کو صرف اس بات کی تعلیم دینا نہیں کہ حکم نامے کیسے جاری کیے جاتے ہیں؟ بلکہ یہ سکھانا مقصود ہے کہ حکومت کس انداز سے کی جاے؟ لوگوں کے معاملات کس طریقے سے دیکھے جائیں؟ ارکانِ حکومت کا انتخاب کیسے کرے؟ ان کی نگرانی کا طریقہ کار کیا ہے؟ ظلم پھیل کر حکومت کی جڑوں کو کہیں کھوکھلا نہ کر دے، اس سے پہلے ہی ظلم کا سدباب کیسے کیا جاے؟

عدل پروری کی اہمیت

یہیں سے عدل پروری کی اہمیت نکھر کر سامنے آتی ہے۔ اسی محور کے گرد کتاب کے اکثر مضامین گردش کرتے ہیں۔ ’’نظام الملک‘‘ بادشاہت کو محض حصولِ طاقت کا سرچشمہ نہیں سمجھتے، جسے استعمال میں لا کر بادشاہ جو چاہے کر سکتا ہے۔ ان کے نزدیک بادشاہت ایک ذمے داری ہے اور رعایا حاکم کے لیے حصولِ طاقت کا ذریعہ نہیں بلکہ اس کے پاس (خدا) کی امانت ہے۔ انصاف ان کے نزدیک مجالس وعظ میں کہے جانے والا خوب صورت کلام نہیں، بلکہ سیاسی زندگی کو بہتر بنانے کا ایک نظام ہے۔ بادشاہ کے عدل کرنے سے رعایا میں اطمینان پھیلتا ہے، والیانِ حکومت کے فرائض میں نظم و ترتیب نشوونما پاتی ہے، محصول جمع کرنے میں باقاعدگی پیدا ہوتی ہے، حکومت کا خزانہ بھر جاتا ہے، لوگ اپنے مال و جان کی امان پاتے ہیں اور حکومت کے لیے طاقت کا حصول ممکن ہو جاتا ہے۔ اسے مسلسل زور، زبردستی سے کام نہیں لینا پڑتا؛ لیکن جب ظلم پھیلتا ہے تو دلوں میں اٹھنے والی خوف کی لہر طاقت کی علامت نہیں ہوتی، بلکہ اکثر اوقات حکومت میں در آنے والی کم زوری کا نشان ثابت ہوتی ہے۔

یہاں نظام الملک کے فکری منہاج میں ایک دقیق سیاسی نکتہ سامنے آتا ہے: بعض اوقات بہ ظاہر حکومت مضبوط نظر آتی ہے؛ لیکن در حقیقت وہ کم زوری کی طرف گام زن ہوتی ہے۔ دیکھنے میں لشکر کی تعداد بہت ہوتی ہے، خزانے بھرے ہوتے ہیں، ریاستیں سر بہ تسلیم خم ہوتی ہیں اور بادشاہ کی آواز میں طاقت ہوتی ہے، جب کہ اندرونِ خانہ حکومت کی دیوار میں انتظامی بدعنوانی کی شکل میں ایسی دراڑ پڑ چکی ہوتی ہے، جو لوگوں کو وقت گزرنے کے بعد نظر آتی ہے۔ جب منصب کمائی کا ذریعہ بن جاے، قرابت دار کو باصلاحیت پر ترجیح دی جاے، فرمان بردار چاپلوس کو خیرخواہ امانت دار پر فوقیت دی جاے تو انتظامی بدعنوانی کا آغاز ہو جاتا ہے، اسی وجہ سے نظام الملک ارکان حکومت کی تقرری میں نہایت باریک بین نظر آتے ہیں۔ وہ جانتے تھے کہ بادشاہ اکیلا تمام حکومت نہیں چلا سکتا، اسے حکومت چلانے کے لیے رجالِ کار کی ضرورت ہے۔ اس کے معاونین میں نیکی ہو گی تو ملک کا بڑا حصہ بہتری کی طرف گامزن ہوگا، اور اگر یہی لوگ بگڑ گئے تو طاقت اور عظیم لشکر بادشاہ کے لیے سود مند ثابت نہیں ہوں گے۔

سب سے خوب صورت بات

مولف سیاست نامہ قواعد ذکر کرنے کے ساتھ تاریخ سے شواہد بھی پیش کرتے ہیں۔ آپ بادشاہوں، امرا اور وزرا کی حکایات لکھ کر ان سے ایسے عبرت خیز نتائج اخذ کرتے ہیں، جنھیں آپ بادشاہ کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کے نزدیک تاریخ ماضی کی کتاب نہیں، جسے لوگ تسلی یا گزرے زمانے کی معلومات حاصل کرنے کے لیے پڑھتے ہیں، بلکہ تاریخ آئینۂ سیاست ہے۔ اس میں حکمران انصاف و ظلم، یقین و تردد، رجال کار کے حسنِ انتخاب اور سوے انتخاب کے نتائج کا مشاہدہ کرتا ہے۔ مولف بادشاہ کو مخاطب کرتے ہوے اکثر کہتے ہیں: دیکھو، فلاں بادشاہ نے جب ناقابلِ اعتبار آدمی پر بھروسا کیا تو اس کا انجام کیا ہوا؟ دیکھو، رعایا کی دیکھ بھال میں غفلت کی بنا پر فلاں بادشاہ کی سلطنت کیسے زوال کا شکار ہوئی؟ دیکھو، انصاف نے فلاں ملک کو کیسے دوام بخشا؟ اور کیسے ظلم نے فلانی مملکت کی عمارت زمین بوس کر دی؟

اس اندازِ بیان نے ’’سیاست نامہ‘‘ کو خاص رنگ عطا کیا ہے۔ مولف اس کتاب میں فلسفی کی زبان سے سیاست پر بات نہیں کرتے، جسے مکمل عقلی عمارت کھڑی کرنے کی فکر رہتی ہے، بلکہ اس تحریر میں ایسے شخص کی زبان بولتی ہے، جس نے لوگوں کو آسمان پر کمند ڈالتے، پھر گرتے دیکھا، اقتدار کے لالچی افراد کا مشاہدہ کیا، نیز کیسے فردِ واحد اختیار ملنے پر تمام ادارے کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے؟ کیسے امانت دار انسان مملکت کو شدید اضطرابی کیفیت سے نکال کر قدرے توازن و اعتدال کی طرف لے آتا ہے؟

اسی بنا پر نظام الملک حکومتی کارندوں کی نگرانی کو بہت اہتمام سے بیان کرتے ہیں۔ وہ اس بات کو اچھا نہیں سمجھتے کہ بادشاہ، والیانِ حکومت اور سرکاری ملازمین پر اعتماد کر کے ملکی احوال جاننے کی کوشش کرے؛ کیوں کہ بادشاہ اور رعایا کے درمیان حکومتی کارندوں کا ایک طویل سلسلہ ہوتا ہے اور ہر ایک کسی بھی معاملے میں حقیقت چھپا کر بیان کر سکتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہی چیز سامنے رکھی جاے جو بادشاہ کو پسند ہے۔ جو حکمران اپنی من چاہی چیزوں کو دیکھنا اور سننا پسند کرتا ہے، وہ لوگوں کی حقیقی دنیا کی بجاے مصنوعی دنیا کا حکمران ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے نظام الملک شہروں کے احوال، ملازمین کی نگرانی، رعایا کے حالات کی خبر، شکایات سننے اور ظلم کے ازالے کی طرف خاص طور سے دھیان دیتے ہیں۔

دین و سیاست کا باہمی تعلق

اس سب کے باوجود ان کی نظر دینی معاملات سے دور نہیں رہی۔ نظام الملک سنی تھے اور علما و تعلیمی اداروں سے شدید لگاؤ رکھتے تھے۔ ان کے نزدیک حکومتی استحکام محض طاقت کے بل بوتے پر ممکن نہیں۔ سیاسی طاقت کے ساتھ ایسی اخلاقی اقدار کی بھی ضرورت رہتی ہے، جس سے حکومت جبر کے بغیر قانونی دوام حاصل کر سکے۔ اس لیے مدارس نظامیہ کا قیام ان کے عام منصوبے میں شامل تھا۔ ان کے نزدیک تعلیم ثقافتی عیاشی کا نام نہیں، بلکہ تعلیم کے ذریعے حکومت و معاشرے کی تشکیل اور علما، قضات و فقہا تیار کیے جاتے ہیں۔ نظامِ حکومت کا ایک حصہ انھی کی بدولت قائم رہتا ہے۔

’’سیاست نامہ‘‘ دین و سیاست کے درمیان تعلق کو سادہ یا مثالی شکل میں بیان نہیں کرتی۔ یہ کتاب ایسے دور میں لکھی گئی، جس میں اضطراب تھا، شدید مذہبی و سیاسی جنگیں برپا تھیں، اسی لیے عصرِ حاضر کے محقق کو یہ کتاب اس دور کے سیاسی منظر نامے کو سامنے رکھ کر پڑھنی چاہیے۔ مولف حکمرانی کے کن عام اصولوں کی طرف رہ نمائی کر رہے ہیں؟ اور کیا بات اپنے دور کی خانہ جنگیوں اور سیاسی خدشات سے متاثر ہو کر کہ رہے ہیں؟ ان دونوں باتوں میں فرق کرنا چاہیے۔ اس تنقیدی مطالعے سے کتاب کی قدروقیمت کم نہیں ہوتی، بلکہ مزید بڑھ جاتی ہے؛ کیوں کہ اس اندازِ مطالعہ سے ہمیں سمجھ آتا ہے کہ یہ کتاب: تاریخی و فکری دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے، اور حالاتِ زمانہ کی ضروریات سے بے خبر رہ کر نہیں، بلکہ میدانِ سیاست کے شہ سوار کے قلم سے وجود میں آئی ہے۔

بادشاہ کے بارے میں نظام الملک کا موقف قاری کی توجہ کھینچ لیتا ہے۔ کتاب میں اگرچہ زور آور بادشاہ اور مرکزِ قوت کا دفاع کیا گیا ہے؛ اس کے باوجود نظام الملک سلطانِ وقت کو نصیحت سے ماورا نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک بادشاہ کو امانت دار ناصح کی سب سے زیادہ ضرورت ہے؛ کیوں کہ اقتدار کی عظمت اکثر عیب پوشی کا کام دیتی ہے، کارندوں کی کثرت حقیقت چھپا دیتی ہے، تخت کا خوف لوگوں کو مناسب بات کہنے کی بجاے، بادشاہ کی من پسند بات کرنے پر مجبور کرتا ہے؛ اس لیے ’’سیاست نامہ‘‘ میں نصیحت کو صرف (معاشرتی) خوبی نہیں سمجھا گیا، بلکہ اسے سیاسی ضرورت قرار دیا گیا ہے۔ جس حکمران کو حقائق کی خبریں دینے والا کوئی نہیں ملتا، ایسا حکمران غلط فیصلے کر بیٹھتا ہے اور کسی شخص میں اسے راہ دکھلانے کی جرأت نہیں ہوتی۔

بادشاہت کا قیام کیسے ممکن ہے؟

اس مضمون کو سامنے رکھتے ہوے ہم پوری کتاب کو ایک عظیم سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کے طور پر پڑھ سکتے ہیں: بادشاہت کس طرح قائم رہ سکتی ہے؟ نظام الملک کے نزدیک صرف طاقت اس سوال کا جواب نہیں۔ لشکر ضروری ہے، مال ضروری ہے، سلطنت ضروری ہے، لیکن یہ سب کافی نہیں بلکہ میزانِ عدل کا قیام ناگزیر ہے، جس سے حاکم و محکوم کا رابطہ بحال رہے؛ ادارہ جاتی انتظام کے بغیر چارہ نہیں، اسی سے بادشاہ کا فرمان ریاستوں اور (ماتحت) علاقوں تک پہنچتا ہے؛ امانت دار ملازم، جو اپنے کام کو تجارت نہ بناے، کا وجود لازمی ہے؛ اطاعت گزار منظم لشکر کا ہونا ضروری ہے؛ اخلاق و اقدار میں ممد و معاون علم کے بغیر گزارا نہیں؛ اسی طرح حاکم کے لیے نصیحت بھی لازمی امر ہے تاکہ حکمران اپنی عظمت کا اسیر ہو کر نہ رہ جاے۔ یہی وہ پہلو ہے جس کی بنا پر سیاست نامہ کی افادیت دورِ حاضر میں بھی باقی رہتی ہے۔ ایسا متن، جس میں اٹھاے گئے سوالات سے بعد کے زمانوں میں بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے؛ نہ کہ ایسا سیاسی قانون، جسے پانچویں صدی ہجری سے اٹھا کر اکیسویں صدی میں نافذ کیا جانا ممکن ہو۔

ملازم کا بگاڑ، حکومتی کارندوں کا غلط انتخاب، معاشرتی حقائق سے حکمران کی بے خبری، ذاتی مصلحت کے لیے طاقت کا استعمال، کم زور نگرانی اور طاقت و عدل میں امتزاج کی حاجت، یہ سب ایسے مسائل ہیں جو سلجوقی فرمان روائی کے خاتمے سے ختم نہیں ہو گئے، آج بھی ان کی ضرورت ہے۔

نظام الملک کی حقیقی عظمت اس میں نہیں کہ انھوں نے مثالی حکومت کا نقشہ پیش کیا۔ انھوں نے وہی لکھا جو اُن کے بس میں تھا۔ وہ اپنے زمانے کے انسان تھے اور سرکاری ملازم۔ ان کی عظمت اس بات میں پوشیدہ ہے کہ انھوں نے بڑی حد تک حقیقت پسندی کا ثبوت دیا۔ ان کے نزدیک حکومت کی مثال جان دار کی سی ہے۔ ایسی حکومت باقی نہیں رہ سکتی جس کا دل مضبوط اور اعضا صحت مند نہ رہیں، حکومت کا خزانہ بڑھ جاے اور لوگوں کا مال خطرے میں ہو، سلطنت کی شان بڑھتی جاے اور عدل عنقا ہو جاے۔ نظام الملک کی سیاسی صورت گری میں ادارہ جاتی اصلاح کی طرف دعوت ہے لیکن اس کے ساتھ حکومت کی ہیبت باقی رہتی ہے، بادشاہ کو رعایا کی ذمہ داری کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، لیکن اس کی طاقت پر حرف نہیں آنے دیا۔ شاید اسی وصف کی بنا پر ’’سیاست نامہ‘‘ کا نام باقی ہے اور اسے اسلامی و فارسی تراث کی مشہور کتابوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اسے بادشاہ کے ایک وزیر نے لکھا، اور ایسے شخص کے قلم سے یہ کتاب وجود میں آئی جس نے اقتدار کو پرکھا، اس کے خطرات کو پہچانا اور حکومتوں کے عروج و زوال کے اسباب سے واقفیت حاصل کی۔ آج کا قاری جدید دور کی حکومتوں کی مشکلات کا حل شدہ جواب اس کتاب میں ڈھونڈنے کی کوشش نہ کرے، بلکہ قدیم حکمت کے موتی تلاش کرے، جو آج بھی لائقِ فکر و نظر ہیں: بادشاہت کو محض تلوار نہیں بچا سکتی اور حکومت صرف بادشاہ نہیں چلا سکتا۔ سلطنت کو ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں جو اس سے خوف کھائیں، بلکہ خیرخواہ ناصح کی ضرورت ہے۔

انصاف — جسے حکمران اپنے لیے قید سمجھ رہا ہے — حقیقت میں اس کے لیے ایسا قلعہ ہے، جس سے حکومت گرنے سے محفوظ رہتی ہے۔

سیرت و تاریخ
شخصیات
تعارف و تبصرہ

(الشریعہ — اکتوبر ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — اکتوبر ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۱۰

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۶)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

علامہ آلوسی کی تفسیر ’’روح المعانی‘‘
مفتی شاد محمد شاد

امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل کا نبوی منہج (۳)
مولانا ڈاکٹر محمد ابوبکر فاروقی

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۱۰)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۸)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات ( ۶)
محمد سراج اسرار

سیاست نامہ از نظام الملک طوسی
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

استشارہ اور استخارہ: اہمیت، فضیلت اور طریقہ کار
مولانا عبد المتین

جزیرۃ العرب میں غیر مسلموں کی رہائش کی ممانعت کا شرعی و عقلی جائزہ
مفتی سید انور شاہ

اسلام کا سیاسی نظام: ایک قانونی تجزیہ (۱)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اسلام اور شخصی آزادی (۲)
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
ذیشان ہاشم

The Essential Requisite of Protecting the Finality of Prophethood and the Sanctity of the Messenger (PBUH)
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

مولانا عبید اللہ سندھی سے منسوب ایک مقالے کی تحقیق
مولانا صدیق احمد فاروق

نفاذِ شریعت یا سیکولرزم
حسنین خالد

قائد اعظم اور قانونِ وقف الاولاد
پروفیسر محبوب پوپاتیا

Our Constitutional History & Background of the Proposed 28th Amendment
Mufti Munib ur Rehman

یمن: تابناک ماضی سے مخدوش مستقبل تک
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

کیا چین مسلم اُمت کا اتحادی بننے جا رہا ہے؟
خالد محمود عباسی

Some Points for the Iranian Leadership`s Consideration
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

دارالعلوم کراچی میں منعقدہ ایک مبارک تقریب کا احوال
مولانا حافظ خرم شہزاد

تلاش

شماریات