الحاد اور ملحدین کا تاریخی تعارف اور اسلامی قرونِ وسطیٰ میں عقل اور نقل کی معرکہ آرائی
تمہید
انسان ازل سے اپنے وجود، کائنات، اور اپنے خالق کے بارے میں گہرے سوالات کرتا رہا ہے۔ یہ سوالات کبھی حیرت و استعجاب کا باعث بنتے ہیں تو کبھی یقین و ایمان کا، لیکن بعض اوقات یہ شکوک و شبہات کی جانب بھی لے جاتے ہیں۔ انہی شکوک و شبہات سے ایک ایسا فکری رجحان جنم لیتا ہے جو خالقِ کائنات اور مابعد الطبیعاتی حقائق سے انکار کرتا ہے، جسے الحاد کہا جاتا ہے۔
الحاد کا مفہوم و تعریف
الحاد عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مادہ "ل-ح-د" ہے، جس کے معنی انحراف اور ٹیڑھے پن کے ہیں۔ قرآنِ کریم میں یہ لفظ کئی مقامات پر استعمال ہوا ہے، مثلاً "یلحدون فی اسمآئہ" (الاعراف: 180)، یعنی "وہ اس کے ناموں میں کجی اختیار کرتے ہیں"۔ اصطلاحاً، الحاد سے مراد وہ عقیدہ ہے جس میں انسان خدا، آخرت، وحی اور روحانی حقائق کا انکار کرتا ہے۔
الحاد: ایک فکری اور تہذیبی چیلنج
الحاد (Atheism) محض خدا کے وجود کا انکار نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل فکری اور تہذیبی نظریہ ہے جو خالق، وحی، آخرت اور مذہبی اقدار کے انکار پر مبنی ہے۔ الحاد ایک دائمی فکری چیلنج ہے جس کا مقابلہ ہر دور میں مسلمان مفکرین نے علم، منطق، اور ایمان کے ہتھیاروں سے کیا ہے۔ ان مفکرین کے کام کو سمجھے بغیر عصرِ حاضر کے الحاد کا مقابلہ ممکن نہیں۔ یہ ایک مسلسل جدوجہد ہے جو آج بھی جاری ہے۔
موجودہ دور میں الحاد نے سائنسی اور عقلی بنیادوں پر خود کو منوانے کی کوشش کی ہے، جس کا مقابلہ دینی اور علمی حلقوں کے لیے نہایت ضروری ہو چکا ہے۔ ہر دور میں الحاد کی نئی شکل کا مسلم مفکرین نے مقابلہ کیا ہے اس لیے ضروری ہے کہ ان تمام ادوار کے فکری تسلسل کو جوڑ کر یہ ثابت کیا جائے کہ الحاد کوئی نئی چیز نہیں، بلکہ یہ ایک فکری ارتقاء کا نتیجہ ہے۔
الحاد کا تاریخی پس منظر
الحاد کا آغاز قدیم یونان میں سقراط سے پہلے کے فلاسفہ (Pre-Socratics) اور اپیکورس جیسے فلاسفہ کی فکر میں ملتا ہے۔ تاہم، اس کو حقیقی فروغ اٹھارہویں صدی کی روشن خیالی (Enlightenment) کی تحریک سے ملا۔ اس تحریک کے فکری رہنماؤں نے چرچ کی مطلق العنانیت اور مذہبی جبر کے خلاف ایک فکری بغاوت برپا کی اور مذہب کو انسانی غلامی، جہالت اور پسماندگی کی علامت بنا کر پیش کیا۔ فرائیڈ، مارکس، اور نیتشے جیسے مفکرین نے الحاد کو ایک فلسفیانہ اور نفسیاتی بنیاد فراہم کی۔ چارلس ڈارون کا نظریہ ارتقا بھی الحادی سوچ کو تقویت دینے کا ایک بڑا ذریعہ بنا، اگرچہ ڈارون خود ملحد نہیں تھا۔ بہرحال الحاد کی پہلی گونج پانچویں صدی قبلِ مسیح میں قدیم یونانی فلسفے میں سنائی دی، جہاں فلسفے نے روایت کی زنجیروں کو توڑ کر عقل کو اپنا رہنما بنایا۔ اس دور میں مذہبی عقائد پر سوالات اٹھنے لگے۔
سوفسطائیہ (Sophists)
یہ فلسفہ کے ذریعے الحاد کی بنیاد رکھنے والے وہ پہلے فلسفی تھے جو مطلق سچائی کے وجود سے انکار کرتے تھے۔ اگرچہ حصر و صراحت سے الحاد کا دعویٰ نہیں کیا لیکن ان کے نظریات الحاد تک پہنچانے والے تھے۔ ان کے نظریات کی بنیاد شک، جدل اور نسبتیت (Relativism) پر تھی۔ اور یوں اُن کے تین فرقے بن گئے۔
1- عندیہ
نسبتیت (Relativism) کا نظریہ پیش کرنے والے یہ وہ لوگ تھے جو مطلق اخلاقیات اور سچائی کا انکار کرتے تھے۔ ان کے نزدیک ہر شخص کی رائے ہی اس کے لیے سچائی ہے۔ پروٹاگورس (Protagoras)، جو نسبتیت کا بانی سمجھا جاتا ہے، کا مشہور قول ہے: "انسان ہر چیز کا پیمانہ ہے۔" پروٹاگورس کا زمانہ 490 سے 420 قبل مسیح کا ہے۔ اس نظریہ کے علمبردار آج بھی زور و شور سے یہ نعرہ لگاتے ہیں:
Nothing is good or bad, but thinking makes it so.
2- عنادیہ
یہ وہ جدلی (لڑاکا) گروہ تھا جو کسی بھی بات کی صداقت کو دلائل سے ثابت کرنے کے بجائے بحث و جدل کے ذریعے غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتا تھا۔
3- لاادریہ
یہ وہ وہمی لوگ تھے جو بشمولِ خدا ہر حقیقت کے وجود کے بارے میں شک کا اظہار کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ نہیں جان سکتے کہ خدا ہے یا نہیں، کیونکہ اس کے وجود کے بارے میں ہمارے پاس کوئی یقینی علم نہیں۔
اپیکورس (Epicurus)
سوفسطائیہ کے بعد اپیکورس (Epicurus) آیا۔ اس کا زمانہ 341 سے 270 قبل مسیح کا ہے۔ یہ وہ پہلے واضح مادہ پرست (Materialist) فلاسفہ میں سے تھے۔ جن کے نزدیک کائنات محض ایٹموں کا ایک اتفاقی مجموعہ ہے اور خدا کا انسانی زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ نظریہ بعد میں دہریوں (Atheists) کی بنیاد بنا۔
قدیم یونانی فلسفہ، جس کی بنیاد عقل اور منطق پر رکھی گئی، ہی سے الحاد نے سر اٹھایا۔ تاہم، اُس الحاد کی نوعیت آج کے الحاد سے بہت مختلف تھی۔ اس دور میں خدا کے وجود سے انکار نہیں تھا، بلکہ دیوتاؤں کی روایتی تصورات پر سوالات اٹھائے گئے۔
سقراط اور ارسطو: فکری مغالطہ اور حقیقت
یہ ایک فکری مغالطہ ہے کہ سقراط (470-399 قبل مسیح) اور ارسطو (384-322 قبل مسیح) کا تعلق الحاد سے تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں فلاسفہ نے یونانی دیوتاؤں کے روایتی کثیرالجہتی (Polytheistic) تصور کو چیلنج کیا، لیکن انہوں نے خدا کے وجود کا انکار نہیں کیا۔
سقراط کے نظریات
سقراط نے اپنے دور کے مشرکانہ عقائد اور دیوتاؤں پر سوال اٹھائے۔ وہ ایک ایسے واحد اور اعلیٰ خدا کا قائل تھا جو کائنات کا خالق اور اخلاقیات کا سرچشمہ ہے۔ سقراط کا خیال تھا کہ خدا کی خوشنودی کا بہترین طریقہ سچائی اور نیکی کے راستے پر چلنا ہے، نہ کہ دیوتاؤں کو قربانیاں دینا۔ اسی "الحاد" کے جھوٹے الزام میں کہ وہ شہر کے دیوتاؤں کو نہیں مانتا اور نوجوانوں کو گمراہ کرتا ہے، اسے سزائے موت دی گئی۔ اس نے زہر کا پیالہ پی کر اپنی شہادت کے ذریعے اس جھوٹے الزام کو رد کیا۔
ارسطو کے نظریات
ارسطو بھی ملحد نہیں تھا۔ اس نے اپنی کتاب "میٹا فزکس" میں "پہلے محرک" (Prime Mover) کا نظریہ پیش کیا۔ اس کے مطابق، کائنات میں ہر حرکت کی کوئی نہ کوئی وجہ (Cause) ہے، اور یہ سلسلہ لامحدود نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا، ایک ایسی ہستی ہونی چاہیے جو خود بے حرکت ہو، لیکن کائنات میں ہر چیز کو حرکت میں لانے والی ہو۔ یہ پہلا محرک ہی خدا ہے۔ ارسطو کا خدا ایک غیر شخصی ہستی تھا، جو کائنات میں براہ راست مداخلت نہیں کرتا، لیکن اس نے کبھی اس کے وجود سے انکار نہیں کیا۔
کیا ان کے دور کے لوگوں نے ان کے دلائل کو تسلیم کیا؟ نہیں، ان کے خیالات کو سب نے تسلیم نہیں کیا۔ سقراط کو اس کے نظریات کی وجہ سے سزائے موت ملی۔ اس کے بعد بھی، اس کی فکر پر کئی سوالات اٹھائے گئے۔ ارسطو کے نظریات پر بھی بعد کے فلاسفہ نے شدید تنقید کی اور ان کے درمیان صدیوں تک علمی بحثیں جاری رہیں۔ ان میں سے سب سے بڑی بحث یہ تھی کہ کیا ارسطو کا "پہلا محرک" ایک شخصی خدا ہے یا صرف ایک فلسفیانہ تصور ہے۔
سقراط اور ارسطو کے بعد اپیکورس کی فکر میں الحادی رجحانات
سقراط اور ارسطو کے بعد کے دور (341-270 قبل مسیح) میں الحادی رجحانات زیادہ واضح ہوئے۔ اپیکورس یونان کے سب سے زیادہ واضح مادہ پرست (Materialist) فلاسفہ میں سے تھا۔ اس کے فلسفے کو اپیکورینزم (Epicureanism) کہا جاتا ہے۔ اس کے اہم نظریات یہ تھے:
کائنات کی مادی بنیاد
اپیکورس کا کہنا تھا کہ کائنات صرف ایٹموں (Atoms) اور خالی جگہ سے مل کر بنی ہے۔ خدا یا کسی روحانی حقیقت کا کوئی وجود نہیں۔
خدا کا غیر فعال تصور
اپیکورس نے خدا کے وجود کا مکمل انکار تو نہیں کیا، لیکن اس نے کہا کہ اگر خدا ہیں بھی، تو وہ انسانوں کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتے۔ وہ صرف کمال اور لذت کی حالت میں رہتے ہیں۔ یہ ایک طرح کا "عملی الحاد" تھا، جہاں خدا کا وجود بے معنی ہو جاتا ہے۔
زندگی کا مقصد
اس کے نزدیک زندگی کا واحد مقصد "لذت" (Pleasure) کا حصول تھا، لیکن یہ لذت جسمانی لذت نہیں بلکہ ذہنی سکون اور پریشانیوں سے نجات تھی۔
اپیکورس کے نظریات نے بعد میں آنے والے دہریوں (Atheists) کو ایک مضبوط فکری بنیاد فراہم کی۔ اس کی فکر نے قدیم روم میں بھی اپنا اثر دکھایا اور یہیں سے یہ نظریات جدید دور تک منتقل ہوئے۔ امام غزالیؒ جیسے مسلم مفکرین نے جب یونانی فلسفہ کا مطالعہ کیا تو انہوں نے بھی اپیکورس کے اس مادہ پرستانہ نظریے کا رد کیا۔ خلاصہ یہ کہ سقراط اور ارسطو خود ملحد نہیں تھے بلکہ ان پر الحاد کا الزام لگایا گیا۔ ان کے بعد، اپیکورس نے ایک واضح مادہ پرستانہ فلسفہ پیش کیا، جس نے خدا کے وجود یا اس کے کردار کو غیر اہم بنا دیا۔ ان تمام نظریات کا رد بعد میں آنے والے مسلم فلاسفہ اور متکلمین نے مدلل اور علمی انداز میں کیا۔
اسلامی قرونِ وسطیٰ: عقل اور نقل کی معرکہ آرائی
جب یونانی فلسفہ مسلم دنیا میں داخل ہوا تو اس کے ساتھ ہی یہ شکوک و شبہات بھی آئے۔ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلم مفکرین نے ایک عظیم علمی تحریک کو جنم دیا جسے "علمِ کلام" اور "اسلامی فلسفہ" کہا جاتا ہے۔
ابنِ سینا (980-1037 عیسوی)
ابنِ سینا نے اپنی شہرہ آفاق کتاب "الشفاء" میں واجب الوجود کا فلسفہ پیش کیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ کائنات میں ہر چیز ممکن الوجود ہے، یعنی اس کا وجود کسی بیرونی قوت کا مرہونِ منت ہے۔ لہٰذا تمام ممکنات کا وجود ایک ایسی ہستی کے بغیر ناممکن ہے جو خود واجب الوجود ہو، یعنی جس کا وجود ضروری ہو۔ ابنِ سینا کا یہ فلسفہ یونانی مادہ پرستی کے خلاف ایک مضبوط دلیل بن گیا۔ (حوالہ: ابن سینا، "الشفاء"، کتاب الإلهيات، فصل 2)
امام غزالیؒ (1058-1111 عیسوی)
امام غزالیؒ نے اپنی کتاب "تہافۃ الفلاسفہ" (فلاسفہ کی بے اعتدالیاں) میں فلسفہ کے 20 نظریات کو دلائل سے باطل ثابت کیا، جن میں سے تین کو انہوں نے کفر قرار دیا۔ ان میں سب سے اہم عالم کی ازلیت کا نظریہ تھا۔ غزالیؒ نے اس نظریے کا رد کرتے ہوئے فرمایا:
"اگر فلاسفہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ عالم قدیم (ازلی) ہے، تو یہ دراصل کسی خالق کے وجود کا انکار ہے، کیونکہ خالق کے بغیر کسی بھی چیز کا خود بخود وجود میں آنا ناممکن ہے۔" (حوالہ: امام غزالیؒ، "تہافۃ الفلاسفہ"، مسئلہ اولیٰ، صفحہ 28)
انہوں نے اپنی کتاب "المنقذ من الضلال" میں یہ بھی واضح کیا کہ انہوں نے فلسفے کے علم کو گہرائی سے پرکھا اور اس کے بعد ہی اس کی خامیوں کو بے نقاب کیا۔
امام غزالیؒ (1058-1111 عیسوی) کو براہ راست "الحاد" کا سامنا فلسفیوں اور ان کے پیروکاروں کی شکل میں تھا۔ یہ فلسفی، جنہیں حکماء کہا جاتا تھا (جیسے ابن سینا اور فارابی)، اگرچہ خود کو مسلمان کہتے تھے، لیکن ان کے بہت سے نظریات اسلامی عقائد سے متصادم تھے۔ امام غزالیؒ نے اپنی کتاب "تہافۃ الفلاسفہ" (فلاسفہ کی بے اعتدالیاں) میں ان کے 20 اہم نظریات کو چیلنج کیا، جن میں سے تین کو انہوں نے کفر قرار دیا:
عالم کی ازلیت
فلاسفہ کا یہ نظریہ کہ کائنات ہمیشہ سے موجود ہے اور اس کا کوئی آغاز نہیں، جو کہ اسلامی عقیدہ "خلقِ کائنات" کے خلاف تھا۔
خدا کا علمِ جزئیات
فلاسفہ کا یہ خیال کہ خدا کو کائنات میں ہونے والے چھوٹے چھوٹے واقعات کا علم نہیں ہوتا، جو کہ خدا کی صفتِ عالم الغیب کے خلاف تھا۔
جسمانی حشر کا انکار
ان کا یہ نظریہ کہ قیامت کے دن صرف روحوں کا حشر ہوگا، جسموں کا نہیں، جو کہ قرآنی تعلیمات کے صریحاً خلاف تھا۔
غزالیؒ نے ثابت کیا کہ یہ فلاسفہ دراصل منطق کے نام پر دہریوں (Atheists) جیسے خیالات کو فروغ دے رہے تھے، جو نہ صرف اسلامی عقائد کو کمزور کر رہے تھے بلکہ نوجوانوں میں شکوک و شبہات پیدا کر رہے تھے۔ ان کا کام ایک طرح سے علمی الحاد (Intellectual Atheism) کے خلاف ایک مضبوط دفاع تھا۔
امام فخرالدین رازیؒ (1149-1210 عیسوی)
امام رازیؒ نے اپنی کتاب "تفسیر کبیر" اور "المطالب العالیہ" میں فلسفیوں اور دہریوں کے اعتراضات کا تفصیلی جواب دیا۔ انہوں نے اپنی تفسیر میں جہاں بھی آیات کا تعلق علمِ کلام سے بنتا تھا، وہاں فلسفیانہ دلائل سے ان کی وضاحت کی۔ ان کا ایک مشہور قول ہے:
"ہم خدا کے وجود پر نہ صرف عقلی دلائل سے استدلال کرتے ہیں بلکہ اس کے لیے مشاہدے اور تجربے کو بھی دلیل بناتے ہیں، کیونکہ اس کائنات میں موجود ہر ذرہ اپنے وجود سے اپنے خالق کی طرف اشارہ کرتا ہے۔" (حوالہ: فخرالدین رازی، "تفسیر کبیر"، سورۃ البقرة کی تفسیر)
امام فخرالدین رازیؒ کو بھی اپنے دور کے الحادی رجحانات کا سامنا تھا۔ ان کے دور میں بھی حکماء کے فلسفیانہ نظریات کا غلبہ تھا، اور وہ ان کا جواب دینے میں سب سے آگے تھے۔
متشابہات کی تاویل
امام رازیؒ کا سب سے بڑا کام قرآن کی تفسیر "تفسیر کبیر" میں ہے، جہاں انہوں نے قرآن کی آیات کو فلسفیانہ اور عقلی دلائل سے واضح کیا اور الحادی اشکالات کا جواب دیا۔
خدا کے وجود پر دلائل
انہوں نے خدا کے وجود پر فلسفیانہ اور عقلی دلائل کی ایک بڑی تعداد پیش کی اور فلاسفہ کے ان نظریات کو رد کیا جو خدا کی صفاتِ کاملہ کو محدود کرتے تھے۔
اپنے دور کے دہریوں کا مقابلہ
امام رازیؒ نے اپنے دور کے ان لوگوں کا بھی مقابلہ کیا جو خدا کے وجود سے انکار کرتے تھے اور کائنات کو محض اتفاقی یا مادی قوتوں کا نتیجہ سمجھتے تھے۔ انہوں نے اپنی کتب میں ان کے دلائل کا تفصیلی تجزیہ کیا اور ان کا مدلل جواب دیا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایک اور فلسفی ابوبکر محمد بن زکریا رازی (865-925 عیسوی) بھی تھا، جسے بعض لوگ دہریوں میں شمار کرتے ہیں۔ لیکن جس امام رازی کی بات یہاں ہو رہی ہے (فخرالدین رازی) وہ ایک عظیم متکلم تھے اور انہوں نے دہریت اور الحاد کے خلاف علمی جنگ لڑی۔
خلاصہ یہ ہے کہ امام غزالیؒ اور امام رازیؒ نے اگرچہ جدید دور کے " الحاد" کا براہ راست سامنا نہیں کیا، لیکن وہ اس کے فکری پیشروؤں یعنی دہریوں، شک پرستوں اور ان فلسفیوں کا سامنا کر رہے تھے جن کے نظریات اسلامی عقائد کو کمزور کر رہے تھے۔ ان کی علمی کاوشوں نے ایک ایسا علمی نظام مدون کیا جو آج بھی الحاد کے جواب میں ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔





















