’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۵)

مذہب اور سوسائٹی کا باہمی تعلق

خطبہ نمبر ۱۵

الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ سید الانبیاء والمرسلین وعلیٰ آلہ و اصحابہ و اتباعہ اجمعین۔ اما بعد!

حضرات محترم! گزشتہ سال ہمارے محترم دوست اور بھائی حافظ میاں محمد نعمان صاحب نے ایک ملاقات میں اس خواہش کا اظہار کیا کہ آپ جامعہ فتحیہ تشریف لائیں — جو لاہور کا ایک قدیم دینی ادارہ ہے اور میری ان کے ساتھ ایک پرانی نسبت ہے — تو مشورے سے یہ طے پایا کہ مہینے میں دو مرتبہ حاضری ہو گی اور کسی نہ کسی مسئلے پر گفتگو ہو گی۔ گزشتہ سال یہ ترتیب رہی کہ مہینے میں دو مرتبہ حاضری ہوتی رہی۔ پھر یہ طے پایا کہ متفرق عنوانات پر گفتگو کرنے کی بجائے کسی ایک موضوع پر تفصیل سے بات کی جائے۔ اب ہر ہفتے حاضری ہوتی ہے اور جامعہ فتحیہ کے طلبہ کے چند اسباق کے علاوہ نمازِ عصر کے بعد یہ نشست بھی ہوتی ہے، جس میں ہم گفتگو کر رہے ہیں۔ اس میں انتخاب ہوا کہ احکام القرآن پر بات کی جائے۔ جب احکام القرآن پر گفتگو کا سوچا اور دیکھا کہ احکام القرآن کا دائرہ تو بہت پھیلا ہوا ہے، تو اس میں شعبے متعین کیے، جیسے خاندانی احکام جن کو عائلی قوانین یا شخصی قوانین بھی کہتے ہیں۔ چنانچہ خاندانی نظام کے حوالے سے چودہ نشستیں ہوئیں، میں نے کوشش کی کہ تمام پہلوؤں پر گفتگو ہو جائے، جو ریکارڈ بھی ہوئیں، لکھی بھی گئیں، مضامین کی شکل میں کمپوز بھی ہو گئی ہیں۔ 

ان خطبات کو جامعہ فتحیہ کی طرف سے شائع کرنے کا ارادہ ہوا ہے اور جامعہ کے مہتمم حافظ میاں محمد نعمان صاحب نے اس میں خصوصی دلچسپی لی ہے، جبکہ مولانا عبد اللہ مدنی صاحب، ناظم جامعہ میاں محمد عفان صاحب اور دیگر حضرات کی خواہش بھی ہے۔ اس میں الحمد للہ جامعہ فتحیہ کے خطیب مولانا ڈاکٹر سعید عاطف صاحب نے یہ ذمہ داری اٹھائی کہ وہ اسے مکمل تخریج، عنوانات اور تدوین و ترتیب دیں گے۔ اس پر مولانا ڈاکٹر سعید عاطف اور مولانا عبداللہ مدنی کے ساتھ میرا مشورہ ہوا کہ کوئی بات رہتی ہو تو اس کو بیان کر دیا جائے۔ 

اس سلسلہ میں ہم نے جو باتیں طے کی تھیں اور جن پر تفصیل کے ساتھ بحث ہوئی:

  • ایک تو بنیادی مسئلہ تھا کہ سوسائٹی کا مذہب کے ساتھ، دین کے ساتھ تعلق ہے یا نہیں؟ 
  • انبیائے کرام علیہم السلام کی تعلیمات کا دائرہ کیا ہے؟ 
  • خاندان کی بنیاد کیا ہے؟ نکاح و طلاق اور وراثت کیا ہیں؟ 
  • عورتوں کے حقوق کیا ہیں؟ بچوں کے حقوق کیا ہیں؟ یتیموں کے حقوق کیا ہیں؟ 
  • جاہلیت کی اقدار اور روایات کو نبی اکرم ﷺ نے کیسے ختم کیا؟ 
  • آج کے تناظر میں ہمارا تہذیبی تنازع کیا ہے؟ مروجہ عالمی نظام اور ماحول کے ہم سے تقاضے کیا ہیں؟
  • خاندانی نظام، پرورش، نکاح و طلاق اور وراثت کے حوالے سے آج کے عالمی ماحول سے ہمیں کیا شکایات ہیں؟ 

اس پر ہم بات کرتے رہے جو تقریباً‌ چودہ نشستوں میں ہوئی ہے۔ میں نے سوچا تھا کہ احکام القرآن کا جو دائرہ ہے، اس میں جو سوسائٹی کے بڑے بڑے مسئلے ہیں، ان پر بات ہو جائے تو بہتر ہے، کیونکہ قرآن پاک سوسائٹی کے لیے آیا ہے، انبیائے کرام علیہم السلام معاشرے کی اصلاح کے لیے آئے، تو معاشرے میں جو مسائل بھی موجود ہوں گے، قرآن پاک اور جناب خاتم النبیین ﷺ یہ مسائل سکھائیں گے؛ یہ تو نہیں کہ صرف عبادات سکھائیں اور مسائل نہ سکھائیں۔

مذہب اور سوسائٹی کا باہمی تعلق

چار پانچ سال پہلے کی بات ہے کہ امریکی شہر سپرنگ فیلڈ (ورجینیا) میں ایک ادارہ ہے دارالہدیٰ، میں وہاں ایک عرصے تک جاتا رہا اور مقامی لوگوں سے ملتا رہا۔ برطانیہ جاؤں یا کہیں بھی، تو یہی کام کرتا ہوں۔ وہاں پر کچھ لوگ ملنے کے لیے آ گئے، کہنے لگے کہ ہم سرکاری ادارے (State Department) سے آئے ہیں، آپ سے کچھ مسائل پر گفتگو کریں گے۔ یہ ریکارڈ کی بات ہے، ان سوالات میں سے ایک سوال عرض کروں گا۔

آسمانی تعلیمات، یعنی جو مذہب ہے، یہ سوسائٹی میں واپس آ رہا ہے، یہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔ یورپ میں بھی مذہب واپس آ رہا ہے، تین سو سال مار کھانے کے بعد اس کی واپسی ہو رہی ہے۔ ہمارے ہاں تو گیا ہی نہیں تھا، تو واپس کہاں سے آئے گا۔ الحمد للہ یہاں موجود رہا ہے، اب بھی موجود ہے اور موجود رہے گا۔ یہاں سے نکالنے کی بہت کوششیں کی گئیں لیکن نکل نہیں رہا۔ مذہب بھی ڈٹا ہوا ہے اور مذہبی لوگ بھی ڈٹے ہوئے ہیں۔ البتہ یورپ مذہب سے نکل کر واپس مذہب کی طرف آ رہا ہے؛ یعنی سوسائٹی سے مذہب بے دخل ہو کر پھر لوٹ رہا ہے۔

انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ مولوی صاحب! یہ بتائیں کہ معاشرے میں جب مذہب کے واپس آنے کا رجحان بڑھ رہا ہے، تو مذہب کہیں اجتماعی معاملات میں تو دخل نہ دے گا؟ ان کو ڈر تھا کہ کہیں سوسائٹی کے اجتماعی مسائل میں، جیسے خاندانی نظام میں، عدالتی نظام میں، سیاسی نظام میں، تجارتی نظام میں، معاشی نظام میں دخل تو نہ دے گا۔ یہ ان کا سوال تھا۔

میں نے کہا کہ دیکھو بھائی! بات یہ ہے کہ اگر وہ حقیقت میں مذہب ہے پھر تو دخل دے گا۔ آسمانی مذہب کسے کہتے ہیں؟ انبیائے کرام علیہم السلام کی تعلیمات اور ان پر نازل ہونے والی وحی، یہ مذہب ہے۔ انبیائے کرام علیہم السلام محض فرد کی رہنمائی کے لیے نہیں آئے بلکہ قوم کی رہنمائی کے لیے اللہ کی طرف سے آئے ہیں۔ ’’یا قوم اعبدوا اللہ‘‘، ’’یا بنی اسرائیل‘‘، ’’یا بنی آدم‘‘ جس پیغمبر نے بات کی ’’یا قوم‘‘ کہہ کر کی۔ اگر مذہب ہے تو فرد کی بات بھی کرے گا، قوم کی بات بھی کرے گا اور سوسائٹی کی بات بھی کرے گا۔

تو بہرحال میں نے یہ بات عرض کر دی، کیونکہ یہ ایک مسئلہ ہے کہ مذہب کا سوسائٹی کے ساتھ تعلق ہے یا نہیں، تو مذہب کا سوسائٹی کے ہر معاملے کے ساتھ تعلق ہے؛ جسے ہم سادہ لفظوں میں یہ کہتے ہیں کہ ہر کام اللہ اور اللہ کے رسول سے پوچھ کر کرو۔ یہ اس کی سادہ تعبیر ہے کہ کوئی کام بھی کرو، اس میں اللہ کی ہدایات اور اس کے رسول ﷺ کے طریقے کو دیکھا کرو۔

اجتماعیت کے چار دائرے

آج میں بتاؤں گا کہ اجتماعی زندگی کے، سماج کے، سوسائٹی کے، معاشرے کے جو مختلف اجتماعی دائرے ہیں، ان کے بارے میں قرآن پاک کیا کہتا ہے؟ ان کا ایک مختصر اجمالی تعارف ہو جائے۔ مثال کے طور پر ایک دائرہ خاندانی نظام کا یہ بھی تھا کہ قرآن پاک کی ہدایات اس بارے میں کیا ہیں۔ یہ باتیں میں نے عرض کی تھیں، یہ قرآنی تعلیمات کا ایک بڑا دائرہ ہے۔

  1. ایک دائرہ یہ ہے کہ ریاست کیا ہے؟ حکومت و سیاست کیا ہے؟
  2. ایک دائرہ ہے تجارت کا، معیشت کا، لین دین کا، معاملات کا، خرید و فروخت کا، حلال و حرام کا۔
  3. ایک دائرہ ہے عدالت کا، جرائم کو کنٹرول کرنے اور اس کی بیخ کنی کا، جس کو عدالتی اور قانونی دائرہ کہتے ہیں۔
  4. ایک دائرہ ہے معاشرے کا اور اس کو ٹھیک کرنے کا کہ اس میں کون سی روایات اور اقدار درست ہیں اور کون سی روایات درست نہیں ہیں۔

تو یہ چار بڑے دائرے جو ذکر کیے ہیں: سیاست و حکومت، معیشت و تجارت، عدالت و قانون، معاشرت و سماج؛ ان کے متعلق قرآن پاک کیا رہنمائی کرتا ہے، اس کا اجمالی تعارف پیش کروں گا۔

ریاست و حکومت کا دائرہ

ریاست و حکومت کا ایک دائرہ ہے انسانی سوسائٹی کو کنٹرول کرنا، اس کا نظام چلانا اور سہولتیں فراہم کرنا۔ تو اس کا اصول کیا ہے؟ پہلی بات تو میں یہ عرض کروں گا کہ اللہ رب العزت نے جب انسان کو دنیا میں بھیجا تو سب سے پہلے کس کو بھیجا تھا؟ زمین پر حضرت آدم علیہ السلام کو بھیجا اور ان کی اہلیہ محترمہ حضرت حوا علیہا السلام بھی ساتھ تشریف لائی تھیں۔ یہاں میں کہا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرد نہیں بھیجا بلکہ خاندان بھیجا تھا۔ انسانی سوسائٹی کا نقطۂ آغاز فرد نہیں ہے بلکہ خاندان ہے:

وبث منہما رجالا کثیرا ونساء (سورۃ النساء: 4، آیت: 1)
(اور دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں (دنیا میں) پھیلا دیے۔)

اس دن اللہ پاک نے ایک بات کہہ دی تھی، پوری نسلِ انسانی کے ہمیشہ کے ایجنڈے کے طور پر، اسے میں اسلامی ریاست کی بنیاد کہا کرتا ہوں:

قلنا اہبطوا منہا جمیعا (سورۃ البقرۃ: 2، آیت: 38)
(ہم نے کہا، اب تم سب یہاں سے اتر جاؤ۔)

زمین پر کیا کرنا ہے؟ دو تین باتیں کیں، ایک جگہ فرمایا:

ولکم فی الارض مستقر ومتاع الی حین (سورۃ البقرۃ: 2، آیت: 36)
(تمھارے لیے ایک مدت تک زمین میں ٹھہرنا اور کسی قدر فائدہ اٹھانا (طے کر دیا گیا) ہے۔)

دنیا میں تمہیں رہنے کی جگہ ملے گی، روٹی کپڑا مکان ملے گا، زندگی کے اسباب و وسائل ملیں گے۔ لیکن ہمیشہ کے لیے نہیں بلکہ ایک وقت تک؛ فرمایا کہ مدت بتاؤں گا نہیں لیکن ایک وقت تک، کسی کی ساٹھ سال، کسی کی چالیس سال یا پچاس سال۔ ساتھ فرمایا:

فاما یاتینکم منی ہدی فمن تبع ہدای فلا خوف علیہم ولا ہم یحزنون (سورۃ البقرۃ: 2، آیت: 38)
(پھر اگر میری طرف سے کوئی ہدایت تمھیں پہنچے تو جو لوگ میری ہدایت کی پیروی کریں گے ان کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ کسی غم میں مبتلا ہوں گے۔)

میری طرف سے ہدایات آئیں گی، جو اس کے مطابق چلا وہ خوف اور غم سے نجات پا گیا، وہ واپس اپنے گھر کو جائے گا جہاں سے آیا تھا؛ کہاں سے آیا تھا؟ جنت سے۔

والذین کفروا وکذبوا باٰیاتنا اولئک اصحاب النار ہم فیہا خالدون (سورۃ البقرۃ: 2، آیت: 39)
(اور جو لوگ کفر کا ارتکاب کریں گے اور ہماری آیتوں کو جھٹلائیں گے وہ دوزخ والے لوگ ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔)

جو ہدایت سے انکار کریں گے، دوسرے راستے پر چلیں گے تو وہ جہنم میں جائیں گے۔ سوسائٹی اور معاشرہ آزاد نہیں ہے بلکہ اس کی ایک بنیاد طے ہے اور وہ ہے:

فاما یاتینکم منی ہدی فمن تبع ہدای (سورۃ البقرۃ: 2، آیت: 38)
(پھر اگر میری طرف سے کوئی ہدایت تمھیں پہنچے تو جو لوگ میری ہدایت کی پیروی کریں گے۔)

اللہ رب العزت نے قرآن پاک میں چند حکومتوں اور عہدوں کا ذکر کیا ہے، مثال کے طور پر حضرت داؤد علیہ السلام کا ذکر کیا:

یا داوود انا جعلناک خلیفۃ فی الارض (سورۃ ص: 38، آیت: 26)
(اے داؤد! ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا۔)

ہم نے آپ کو خلافت دی ہے، کس لیے؟ ’’فاحکم بین الناس بالحق‘‘ (لہٰذا آپ لوگوں کے درمیان برحق فیصلے کریں) کہ آپ نے لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلے کرنے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی خلافتِ ارضی کا ذکر کیا ہے۔

اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں شریعت کے قوانین کے نفاذ کا تسلسل بیان کیا۔ شریعت کے احکام نافذ ہوتے رہے اور لوگ عمل کرتے رہے۔ چند آیات ہیں جو پوری تاریخ بیان کرتی ہیں۔ فرمایا:

انا انزلنا التوراۃ فیہا ہدی ونور (سورۃ المائدۃ: 5، آیت: 44)
(بیشک ہم نے تورات نازل کی تھی جس میں ہدایت تھی اور نور تھا۔)

پہلی باضابطہ کتاب تورات، کہ اس میں ہدایت بھی تھی اور برکت بھی تھی۔ لیکن لوگ برکت اور نور کی طرف زیادہ جاتے ہیں اور ہدایت کی طرف کم۔ پھر فرمایا کہ:

یحکم بہا النبیون (سورۃ المائدۃ: 5، آیت: 44)
(وہ انبیائے کرام علیہم السلام جو اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار تھے، اسی کے مطابق یہودیوں کے معاملات کا فیصلہ کرتے تھے۔)

کتاب کا بنیادی مقصد (یحکم بہا النبیون) کہ انبیائے کرام علیہم السلام اور ان کے بعد احبار و رہبان، علماء کرام، مشائخ اور قاضی اس کے مطابق فیصلے کریں گے۔ یہ پوری تفصیل بیان کرنے کے بعد دوسرے مرحلے کا بیان ہے کہ:

وقفینا علیٰ آثارہم بعیسی ابن مریم مصدقاً‌ لما بین یدیہ من التوراۃ واٰتیناہ الانجیل فیہ ہدی ونور (سورۃ المائدۃ: 5، آیت: 46)
(اور ہم نے ان (پیغمبروں) کے بعد عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کو اپنے سے پہلے والی کتاب یعنی تورات کی تصدیق کرنے والا بنا کر بھیجا، اور ہم نے ان کو انجیل عطا کی جس میں ہدایت تھی۔)
ولیحکم اہل الانجیل بما انزل اللہ فیہ (سورۃ المائدۃ: 5، آیت: 47)
(اور انجیل والوں کو چاہیے کہ اللہ نے اس میں جو کچھ نازل کیا ہے اس کے مطابق فیصلہ کریں۔)

اور اگلی آیت میں فرمایا:

وانزلنا الیک الکتاب بالحق (سورۃ المائدۃ: 5، آیت: 48)
(اور اے محمد ﷺ! ہم نے آپ پر بھی حق پر مشتمل کتاب نازل کی ہے۔)

تورات بھی تھی: ’’یحکم بہا النبیون‘‘ تمام نبی جو اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار تھے، اس کے مطابق یہودیوں کے معاملات کا فیصلہ کرتے تھے۔ اور انجیل بھی: ’’ولیحکم اہل الانجیل‘‘ اور انجیل والوں کو چاہیے کہ اللہ نے اس میں جو کچھ نازل کیا ہے اس کے مطابق فیصلہ کریں۔ اور قرآن بھی: ’’فاحکم بینہم بما انزل اللہ‘‘ لہٰذا ان لوگوں کے درمیان اسی حکم کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے۔

شریعت کے نفاذ کی ایک تاریخ ہے، تسلسل ہے۔ باضابطہ تورات تھی، پھر انجیل، زبور کا ذکر تورات کے ساتھ ہی ہے، پھر آخر میں قرآن پاک اتارا:

انا انزلنا الیک الکتاب بالحق لتحکم بین الناس بما اراک اللہ (سورۃ النساء: 4، آیت: 105)
(بیشک ہم نے حق پر مشتمل کتاب آپ پر اس لیے اتاری ہے تاکہ آپ لوگوں کے درمیان اس طریقے کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے آپ کو سمجھا دیا ہے۔)

اللہ تعالیٰ نے مختلف مقامات پر قرآن پاک کا یہ کہہ کر ذکر کیا ہے: ’’لتحکم‘‘، ’’ولیحکم‘‘، ’’فاحکم‘‘ (تاکہ تم فیصلہ کرو، چاہیے کہ وہ فیصلہ کریں، لہٰذا تم فیصلہ کرو)۔ تو میں کہا کرتا ہوں کہ یہ ہماری ریاست کی بنیاد ہے اور یہ ہماری ریاست کا قانون ہے، دستور ہے۔

جب اللہ تعالیٰ کسی کو حکومت دیتا ہے — قرآن پاک میں حکمرانوں کے اوصاف بھی بیان ہوئے ہیں — تو وہ کیا کرتا ہے؟ اللہ قرآن پاک میں ارشاد فرماتے ہیں:

الذین ان مکناہم فی الارض اقاموا الصلاۃ واٰتوا الزکاۃ وامروا بالمعروف ونہوا عن المنکر (سورۃ الحج: 22، آیت: 41)
(یہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر ہم انھیں زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اور لوگوں کو نیکی کی تاکید کریں اور برائی سے روکیں۔)

پھر ایک اور بڑی بات ذکر کی، یہاں سے بعض لوگوں کو مغالطہ بھی ہوا اور آج کے زمانے میں یہ مغالطہ بہت چل رہا ہے۔ اللہ پاک فرماتے ہیں:

وعد اللہ الذین اٰمنوا منکم وعملوا الصالحات لیستخلفنہم فی الارض کما استخلف الذین من قبلہم ولیمکنن لہم دینہم الذی ارتضیٰ لہم (سورۃ النور: 24، آیت: 55)
(تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنھوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ انھیں ضرور زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا، جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو بنایا تھا، اور ان کے لیے اس دین کو ضرور اقتدار بخشے گا جسے ان کے لیے پسند کیا ہے۔)

اللہ پاک نے ایمان والوں کے ساتھ، اعمالِ صالحہ کرنے والوں کے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ میں تمھیں حکومت دوں گا، زمین کی خلافت دوں گا، کنٹرول دوں گا، زمین کا سارا نظام تمھارے حوالے کروں گا۔ اس سے بعض لوگوں کو یہ مغالطہ ہوا کہ حکومت و خلافت وعدہ ہے، یعنی اللہ نے وعدہ کیا ہے؛ جیسے کوئی کہہ دے کہ تم یہ کام کرو میں تمھیں ٹافی دوں گا؛ یہ تو وعدہ ہے، فرض و واجب نہیں۔ میں نے کہا کہ جس پر انعام کا وعدہ ہو تو کیا وہ کام فرض اور واجب سے نکل جاتا ہے؟ بلکہ وہ تو زیادہ اہمیت کا حامل ہو جاتا ہے۔ میں نے بعض مقامات کا ذکر کیا ہے کہ قرآن پاک نظام کے بڑے بڑے امور کے بارے میں کیا کہتا ہے۔

(جاری)

قرآن / علوم القرآن

اقساط

(الشریعہ — ستمبر ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — ستمبر ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۹

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۵)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

ابولہب کے لیے تخفیفِ عذاب کی روایت : تنقیدی جائزہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل کا نبوی منہج (۲)
مولانا ڈاکٹر محمد ابوبکر فاروقی

محاضراتِ فقہ (۴)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۵)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۹)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۷)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

ہبہ، وصیت اور میراث کے شرعی احکام و ضوابط
مولانا مفتی عبد الرحمٰن منیر

غیر مسلموں کو سلام کہنے کا شرعی و فقہی جائزہ
مفتی سید انور شاہ

افواجِ پاکستان کا ترانہ
سید امین گیلانیؒ

6 ستمبر 1965ء  —    وقار اور لازوال استقلال کا استعارہ
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

اسلام اور شخصی آزادی (۱)
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
ذیشان ہاشم

ریاست کی ناکامی پرکھنے کے اصول اور کامیاب بنانے کے اقدامات
اسرار ایوب

پاکستان اور افغانستان کا ایک مستقبل
مولانا فضل الرحمٰن

سیمینار: امتِ مسلمہ کی حالتِ زار اور راہِ نجات
تنظیمِ اسلامی

سعودیہ، ترکیہ اور پاکستان کا مشترکہ دفاعی معاہدہ
الاحسان ٹی وی

کتبۂ مرقدِ محمودؒ کے مندرجات
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازی اور شریعہ اکیڈمی اسلام آباد
ڈاکٹر شہزاد اقبال شام

Protection of Muslim Family Laws
Mufti Taqi Usmani

۱۹۵۱ء کے بائیس دستوری نکات اور ۱۹۵۲ء کی دستوری سفارشات میں ترمیمات (۳)
حافظ مجددی

The Qadiani Question in State Appointments
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

تلاش

شماریات