▲ ☰

یمن: تابناک ماضی سے مخدوش مستقبل تک
سعودی حوثی کشمکش کا تاریخی پس منظر

یمن تاریخی جزیرۂ عرب کا ایک اہم علاقہ ہے جو آج سعودی عرب کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ تاریخ میں یمن جزیرہ ٔ عرب کا سب سے زیادہ متمدن و مہذب خطہ رہا ہے۔ یہاں کبھی قوم سبا آباد تھی جس کا اور جس کی ملکہ کا قرآن نے تذکرہ کیا ہے۔ اس زمانہ میں یہ خطہ نہایت سرسبز و شاداب تھا۔ بعد میں یہاں عذاب الہٰی آیا اور سد مآرب کے ٹوٹ جانے سے یہ قوم تتر بتر ہونے پر مجبور ہوئی۔ مدینہ النبی ﷺ (یثرب) کے دونوں بڑے قبیلے اوس و خزرج کے اجداد یمن سے ہی اٹھ کر آئے تھے اور قحطانی نسل کے عرب تھے۔ اسی طرح قرآن مجید میں قومِ تبع کا ذکر بھی کئی مقامات پر آیا ہے، مثلاً‌ سورہ دخان 44:37، سورہ ق 50:14 اور سورہ ص 38:12۔ تبع ملوک سے مراد قدیم یمن کے حمیری بادشاہ ہیں۔ تبع کسی ایک بادشاہ کا ذاتی نام نہیں بلکہ حمیر کے بادشاہوں کا ایک شاہی لقب تھا، جیسے مصر کے بادشاہوں کے لیے ’’فرعون‘‘ کا لفظ استعمال ہوتا تھا۔ یہ بادشاہ جنوبی عرب، خصوصاً‌ یمن میں حکومت کرتے تھے۔

قابلِ ذکر ہے کہ حدیث میں نام لے کر یمنیوں کی تعریف و توصیف فرمائی گئی ہے۔ چنانچہ فرمایا: ’’الایمان یمان والحکمۃ یمانیۃ‘‘۔ یہ حدیث مختلف الفاظ کے ساتھ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں مروی ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ: ’’ایمان یمنی ہے اور حکمت بھی یمنی ہے‘‘۔ محدثین نے اس حدیث کے مفہوم کی مختلف توضیحات کی ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ اس سے اہلِ یمن کے ایمان کی کیفیت، ان کی نرمی قلب، خشوع اور حق کو قبول کرنے کی آمادگی کی طرف اشارہ ہے۔ بعض شارحین نے اسے یمن کے لوگوں کی مخصوص فضیلت کے طور پر بیان کیا ہے۔ بعض روایات میں ’’أتاکم أہل الیمن، ہم أرق أفئدۃ وألین قلوبا‘‘ بھی آیا ہے، یعنی یمن کے لوگ تمہارے پاس آئے ہیں، ان کے دل زیادہ نرم اور طبیعتیں زیادہ رقیق ہیں۔

اسلامی تاریخ میں یمن ہمیشہ علم و فن کا مرکز رہا۔ یہ خطہ مختلف اسلامی حکومتوں کے زیر نگین رہا۔ پھر یہاں زیدی شیعہ حضرات کی امامت قائم ہو گئی۔ زیدی اپنے عقائد اور فقہ میں اہلِ سنت کے بہت قریب مانے جاتے رہے ہیں۔ ماضی قریب میں امام شوکانی جیسے بڑے محدث اور عالم کا تعلق ایک زیدی خاندان سے ہی تھا۔ ان کے علاوہ یہاں کے اور بھی علماء و محدثین اور ادباء مشہور ہیں۔ ماضی قریب میں یمن سے کئی علماء و ادباء ہجرت کر کے ہندوستان بھی آئے اور یہاں انہوں نے مختلف مقامات پر درس و تدریس کی خدمات انجام دیں۔ ان میں علامہ خلیل عرب یمنی مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ کے استاد رہے ہیں۔

یمن کی مذہبی صورت حال

یمن کی آبادی کی غالب اکثریت مسلمان ہے، تاہم ملک میں مذہبی اعتبار سے دو بڑے رجحانات پائے جاتے ہیں: زیدی شیعہ اور سنی مسلمان۔ زیدی شیعہ بالخصوص شمالی یمن میں، جبکہ سنی مسلمان زیادہ تر ملک کے وسطی، جنوبی اور مشرقی علاقوں میں آباد ہیں۔ زیدی مکتب فکر تاریخی طور پر یمن کی مذہبی اور سیاسی زندگی میں نمایاں رہا ہے اور صدیوں تک پورے یمن میں (اور کبھی صرف شمالی یمن میں) زیدی ائمہ کی حکومت قائم رہی۔ زیدی لوگ اپنے عقائد اور فقہ میں اہلِ سنت خصوصاً‌ حنفی مسلک سے قریب ہیں۔ وہ خلفاء ثلاثہ (حضرات ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم) کو مانتے ہیں، کسی صحابی پر سب و شتم نہیں کرتے، لیکن سب صحابہ پر حضرت علی ؓ کو فضیلت دیتے ہیں یعنی تفضیلی ہیں۔ اسی طرح امامت کو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد کا حق سمجھتے ہیں۔ اور امام کے لیے ظلم کے خلاف جہاد و قیام (خروج) کو ضروری قرار دیتے ہیں۔ اپنے کلامی مشرب میں یہ معتزلی ہیں۔ زیدیوں کا کلچر، ثقافت، فکر اور بود باش سب دوسرے عربوں سے بہت مختلف رہا ہے۔

سنی مسلمانوں میں شافعی فقہ کو خاص اہمیت حاصل ہے، جبکہ بعض علاقوں میں سلفی رجحانات بھی موجود ہیں۔ یمن کے مذہبی منظر نامے میں صوفی روایات بھی پائی جاتی ہیں، خصوصاً‌ جنوبی علاقوں میں۔ یمن میں اخوان المسلمون بھی موجود ہے مگر مصر کی طرح کسی باقاعدہ اور الگ سیاسی جماعت کی صورت میں نہیں، بلکہ اس کی سرگرمیاں زیادہ تر ایک وسیع اسلامی و سیاسی دھارے کے اندر جاری ہیں۔ اس کی فکری جڑیں یمن میں 1950ء اور 1960ء کی دہائیوں تک پہنچتی ہیں، جبکہ بعد کے عشروں میں اس نے قبائلی اور دوسرے مذہبی حلقوں کے ساتھ مل کر اپنا اثر بڑھایا۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ کمیونزم کا مقابلہ کرنے کے لیے جو مذہبی دعوتی جماعتیں منظم ہوئیں ان میں سب سے نمایاں اخوان المسلمون کی یمنی شاخ تھی۔ ان کے قائد شیخ عبد المجید الزندانی تھے۔ اخوانیوں نے کمیونزم کے رجحانات کا مقابلہ کیا اور یمن کے اتحاد کے لیے بھی کام کیا۔ اخوان والے حوثیوں کے مقابلہ میں سلفی اور شافعی سنی مسلمانوں کے نمائندے ہیں اور اپنے سیاسی رجحانات میں وہ یہاں سعودی عرب کا ساتھ دے رہے ہیں۔

1990ء میں شمالی اور جنوبی یمن کے اتحاد کے بعد التجمع الیمنی للاصلاح (حزب الاصلاح) قائم ہوئی۔ یہ جماعت صرف اخوان المسلمون پر مشتمل نہیں تھی بلکہ اس میں قبائلی رہنما، مذہبی علماء، کاروباری طبقات، سلفی عناصر اور اخوان سے وابستہ شخصیات شامل تھیں۔ اسی لیے اسے اخوان کی محض یمنی شاخ کے بجائے ایک وسیع سیاسی اتحاد قرار دینا بجا ہو گا۔ اگرچہ اس کی قیادت میں اخوانی عناصر کا نمایاں کردار رہا ہے۔ ابتدائی دور میں اصلاح پارٹی نے صدر علی عبداللہ صالح کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس کے ساتھ اتحاد کیا اور 1993ء کے انتخابات میں 301 میں سے 62 نشستیں حاصل کیں۔ تاہم 1997ء کے بعد یہ عملاً‌ اپوزیشن میں چلی گئی۔ 2011ء کی عرب بہار کے دوران اصلاح نے صدر صالح کے خلاف سیاسی تحریک میں اہم کردار ادا کیا۔

حوثیوں کے عروج کے بعد اصلاح پارٹی اور حوثی تحریک ایک دوسرے کے بڑے سیاسی مخالف بن گئے۔ 2014ء میں حوثیوں کے صنعاء پر قبضے کے بعد اصلاح پارٹی کو شدید سیاسی و تنظیمی نقصان پہنچا، اور اس کے متعدد رہنما و کارکن جنوبی علاقوں یا بیرون ملک منتقل ہوئے۔ موجودہ یمنی سیاسی منظر نامے میں بھی حزب الاصلاح ایک اہم سنی اسلام پسند سیاسی قوت ہے، خصوصاً‌ مأرب میں، اور وہ حوثیوں کے مخالف دھڑوں میں شامل ہے۔

مالی و معاشی وسائل

یمن کے اہم قدرتی وسائل میں خام تیل اور قدرتی گیس شامل ہیں۔ اگرچہ یمن خلیج کی دوسری بڑی تیل پیدا کرنے والی ریاستوں کے مقابلے میں ایک بڑا توانائی پیدا کنندہ ملک نہیں، لیکن تیل اور گیس تاریخی طور پر اس کی حکومت کی آمدنی اور برآمدات کا اہم ذریعہ رہے ہیں۔ البتہ دہائیوں سے جاری داخلی جنگ، بنیادی ڈھانچے کو نقصان اور سلامتی کے مسائل نے تیل و گیس کی پیداوار اور برآمدات کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس کے علاوہ یمن کی معیشت میں زراعت، ماہی گیری، بندرگاہی تجارت، بیرون ملک مقیم یمنیوں کی ترسیلات زر اور محدود معدنی وسائل بھی اہم ہیں۔

یمن کی تزویراتی اہمیت

یمن کی جغرافیائی اہمیت کا سب سے بڑا سبب باب المندب آبنائے ہے، جو بحیرۂ احمر کو خلیج عدن اور بحر عرب سے ملاتی ہے۔ یہ راستہ نہر سویز کے ذریعے یورپ اور ایشیا کے درمیان بحری تجارت کا ایک اہم حصہ ہے۔ 2023ء میں تقریباً‌ 8.6 ملین بیرل یومیہ خام تیل، گاڑھے کیے ہوئے کیمیائی مادے اور پٹرولیم مصنوعات باب المندب سے گزریں؛ تاہم 2024ء اور 2025ء میں بحیرۂ احمر کی سلامتی کی صورت حال کے باعث اس آمد و رفت میں نمایاں کمی آئی۔

اس محل وقوع کی وجہ سے یمن کا اثر اس کی اپنی معاشی طاقت سے کہیں زیادہ ہے۔ باب المندب بند ہونے کی صورت میں بحری جہازوں کو افریقہ کے جنوبی سرے راس امید نیک (Cape of Good Hope) کے گرد طویل راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے، جس سے سفر کا وقت اور مال برداری کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ گویا یمن کی اصل مالی طاقت اس کے تیل کے ذخائر سے کہیں زیادہ اس کے بحیرۂ احمر، باب المندب اور خلیج عدن کے سنگم پر واقع ہونے میں مضمر ہے۔ یعنی یہ کہنا بالکل صحیح ہو گا کہ یمن ایک نسبتاً‌ کمزور معیشت رکھنے کے باوجود اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور بحری سلامتی کے اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

معاشی اعتبار سے یمن کی موجودہ حالت انتہائی پتلی ہو چکی ہے۔ عالمی بینک کے مطابق 2025ء میں ملک کے حقیقی GDP میں 1.5 فیصد کمی ہوئی اور 2026ء میں بھی 0.5 فیصد کمی ہو جانے کا خدشہ ہے۔ تیل کی برآمدات میں رکاوٹ، محدود سرکاری آمدنی، مہنگائی، کرنسی کی کمزوری، بیرونی امداد میں کمی اور معاشی اداروں کی تقسیم نے معاشی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے کہ 2015ء کے بعد حقیقی فی کس GDP میں تقریباً‌ 58 فیصد کمی ہو چکی ہے۔ اس معاشی بحران کا سب سے شدید اثر عام شہریوں پر پڑ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق 2026ء میں 22 ملین سے زیادہ افراد کو انسانی امداد اور تحفظ کی ضرورت ہے، جبکہ تقریباً‌ 18.3 ملین افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں۔ دو ملین سے زائد کم عمر بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔

موجودہ بحران کا تاریخی پس منظر

یمن کے موجودہ بحران کو سمجھنے کے لیے اس کی سیاسی، نظریاتی اور مذہبی تاریخ کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔ بیسویں صدی کے بیشتر دورانیہ میں یمن عملاً‌ دو الگ ریاستوں میں تقسیم رہا: شمالی یمن اور جنوبی یمن۔ شمال میں 1962ء تک زیدی امامت کا نظام قائم تھا، جس کے خاتمے کے بعد یمن عرب جمہوریہ قائم ہوئی؛ جبکہ جنوبی یمن نے 1967ء میں برطانوی اقتدار سے آزادی حاصل کر کے ایک مارکسی/سوشلسٹ ریاست کی شکل اختیار کر لی تھی۔ جنوبی یمن عرب دنیا کی ان ریاستوں میں شامل ہو گیا جنہوں نے مارکسزم کو سرکاری طور پر اپنا لیا تھا اور سوویت بلاک سے قریبی تعلقات رکھے۔ سوویت روس کے زوال کا اثر یمن پر بھی پڑا اور جنوب کے مارکسی انحطاط پذیر ہوئے اور 22 مئی 1990ء کو شمالی و جنوبی یمن متحد ہو کر موجودہ جمہوریہ یمن بنے۔ تاہم دونوں علاقوں کے سیاسی، معاشی اور نظریاتی اختلافات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ 1994ء میں جنوبی یمن کی علیحدگی کی کوشش کے نتیجے میں ایک بار پھر خانہ جنگی ہوئی، جس میں شمالی افواج غالب آئیں۔ اس کے بعد بھی جنوبی علیحدگی پسند تحریکیں موجود رہیں اور آج بھی بعض جنوبی قوتیں دوبارہ آزاد جنوبی ریاست کا مطالبہ کرتی ہیں۔ برسوں تک یمن کے یہ دونوں علاقے باہم متصادم رہے۔

ایک زمانہ میں مصر اور سعودی عرب دونوں میں عالمِ اسلام کا رہنما بننے کی کشاکش چل رہی تھی جس کی وجہ سے مصری صدر جمال عبدالناصر نے اپنی ستر ہزار فوج یمن میں داخل کر کے اس مملکت کو مصری اثر و رسوخ میں لانے کی کوشش بھی کی تھی۔ چنانچہ ستمبر 1962ء میں جب یمن کے امام محمد البدر کی حکومت کا تختہ الٹ کر جمہوری حکومت قائم کی گئی تو جمال عبدالناصر نے نئی یمن عرب جمہوریہ کی حمایت میں مصری فوج یمن میں بھیجی جبکہ سعودی عرب نے موروثی امامی نظام کی بحالی کے لیے امام البدر کے حامیوں کی مدد کی۔ اس کشمکش میں جمال ناصر کو ناکامی ہوئی اور یمن میں اقتدار کی کشمکش اور زیادہ بڑھ گئی۔

بعد میں دونوں علیحدہ حکومتیں ختم کر کے موجودہ جمہوریہ یمن کی تشکیل تو ہو گئی مگر علی عبداللہ صالح کی نئی حکومت بھی ملک میں سیاسی استحکام نہیں لا سکی۔ علی عبداللہ صالح بھی زیدی تھے مگر ان کی حکومت کرپٹ تھی اور سعودی عرب کے زیر اثر تھی جس کی وجہ سے اس کے خلاف عام بغاوت پھیل گئی۔ علی عبداللہ صالح فرار ہو گئے۔ 2011ء میں علی عبداللہ صالح کی حکومت کے خاتمے کے بعد یمن میں سیاسی انتقالِ اقتدار شروع تو ہوا مگر یہ عمل کامیاب نہ ہو سکا۔ اور شمال کے حوثی زیدی باغیوں نے، جو اپنے آپ کو انصار اللہ کہتے ہیں، 2014ء میں صنعاء پر قبضہ کر لیا اور رفتہ رفتہ ملک کے بڑے حصے پر اپنا اثر قائم کر لیا، مگر ان کو بین الاقوامی طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔ جبکہ جائز حکومت چھوٹے سے حصہ پر برقرار رہی جس کو سعودی عرب وغیرہ کی حمایت حاصل ہے۔ اس کی قیادت صدر عبد ربہ منصور ہادی کر رہے ہیں اور عدن ان کا صدر مقام ہے۔ انہوں نے حوثیوں کے خلاف 2015ء میں بیرونی فوجی مدد طلب کی۔ اس کے بعد 26 مارچ 2015ء کو سعودی عرب کی قیادت میں خلیجی ملکوں کے اتحاد نے حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی جو آج تک کامیاب نہیں ہوئی البتہ اس مداخلت سے یمن کا بحران اور زیادہ سنگین ہوتا گیا۔

سیاسی عدمِ استحکام اور معاشی ابتری

یمن دہائیوں سے سیاسی انتشار، مسلح کشمکش اور انسانی بحران کا شکار ہے۔ موجودہ سیاسی کشمکش نے مذہبی شناخت کو بھی سیاسی رنگ دے دیا ہے۔ ملک عملاً‌ مختلف طاقتوں اور انتظامی ڈھانچوں میں منقسم ہے، جس کے نتیجے میں مرکزی ریاستی اداروں، مالیاتی نظام اور حکومتی انتظام میں زبردست کمزوری پیدا ہو گئی ہے۔ حوثی تحریک کے زیر کنٹرول علاقوں اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے زیر انتظام علاقوں کے درمیان سیاسی و معاشی تقسیم نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ علاقائی کشیدگی خصوصاً‌ بحیرۂ احمر کی صورت حال نے بھی یمن کے بحران کو اور تیز کیا ہے۔ یمن کا بحران صرف اقتدار کی جنگ نہیں بلکہ ایک شدید انسانی مسئلہ بھی ہے۔ طویل جنگ نے معیشت، صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے اور روزگار کو تباہ کر ڈالا ہے جبکہ لاکھوں افراد کو خوراک، صحت اور انسانی امداد کی ضرورت ہے۔

سعودی عرب – حوثی تنازعہ کی بنیاد

حوثی تحریک شمالی یمن میں زیدی شیعہ برادری کے درمیان ایک مذہبی و سیاسی تحریک کے طور پر ابھری۔ ان کے قائد شیخ بدرالدین حسینی الحوثی تھے جو ہمدان کی ایک شاخ حوث سے تعلق رکھتے تھے اور شہر سعدہ کے رہنے والے تھے۔ حوثی بیانیہ کے مطابق انہوں نے دیکھا کہ جنگِ عظیم اول کے بعد جب سعودی عرب کی تشکیل ہوئی تو یمن کے تین بڑے شہر العسیر، نجران اور جیزان یمن سے کاٹ کر سعودی عرب میں جبرً‌ا شامل کر دیے گئے۔ ان تینوں میں آج بھی زیدی کثیر تعداد میں ہیں اور ان کی ثقافت زیدی ہے۔ اس کے علاوہ ان علاقوں میں پٹرول بھی پایا جاتا ہے۔ اس طرح شیخ بدر الدین حوثی کے اندر سعودی عرب کی وہابی فکر اور نئی حکومت کی تشکیل میں یمنی علاقوں کی شمولیت سے سخت ناراضگی پیدا ہوئی جس کا مقابلہ کرنے کے لیے انہوں نے شباب المؤمنین نام کی ایک تنظیم کھڑی کی، ان کے بیٹے حسین بدر الدین حوثی نے اسی کو انصار اللہ کا نام دیا، جبکہ آج انہی کے پوتے شیخ عبدالمالک حوثی اس تحریک کے سربراہ ہیں۔ اب اس تحریک کے اہداف میں اسرائیل کی مزاحمت، فلسطینیوں کا تعاون اور عرب ممالک خاص کر سعودی عرب (جن کو وہ امریکی استعمار کا پٹھو سمجھتے ہیں) کے خلاف قیام (خروج) کرنا شامل ہے۔ انہوں نے اپنا پہلا نشانہ موجودہ یمنی حکومت کو بنایا۔ یوں کہہ سکتے ہیں کہ حوثی یا انصار اللہ یمن کی ایک مسلح سیاسی و مذہبی تحریک ہے، جس کی جڑیں شمالی یمن کے زیدی شیعہ معاشرے میں ہیں۔ یہ تحریک 1980ء کی دہائی کے اواخر میں مذہبی و ثقافتی بیداری کی تحریک کے طور پر ابھری، جبکہ 2000ء کی دہائی میں اس نے مسلح جدوجہد اختیار کر لی۔

2023ء کے بعد حوثی تحریک عالمی سطح پر خاص طور پر اس وقت نمایاں ہوئی جب اس نے غزہ پر اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کے جواب میں بحیرۂ احمر سے گزر کر اسرائیل کو جانے والے بعض تجارتی جہازوں پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کیے۔ انہوں نے اس کا سبب غزہ پر اسرائیل کی وحشیانہ جارحیت کو قرار دیا تھا۔ جس کی وجہ سے ان پر اسرائیل، برطانیہ اور امریکہ نے کئی بار شدید فضائی حملے کیے اور ان کے سپہ سالار کو بھی شہید کر دیا۔ بعد میں امریکہ سے ایک معاہدہ کے نتیجہ میں ان کے خلاف بمباری روکی گئی۔ اس کے نتیجے میں بحیرۂ احمر اور باب المندب کی اہم سمندری گزرگاہ عالمی سیاست اور تجارت کا ایک اہم محاذ بن گئی۔ یمن میں سعودی عرب اور حوثیوں کا تنازع محض مذہبی یا فرقہ وارانہ جنگ نہیں ہے بلکہ  اس کے پیچھے یمن کی داخلی سیاسی کشمکش، اقتدار کی جدوجہد، علاقائی طاقتوں کی رقابت اور سعودی عرب کے سرحدی و سلامتی کے خدشات شامل ہیں۔

سعودی عرب کے لیے بنیادی تشویش یہ ہے کہ اس کی جنوبی سرحد پر ایک ایسا مسلح گروہ مضبوط ہو گیا ہے جسے وہ ایران کے قریب سمجھتا ہے۔ ایران نے حوثیوں کو اسلحہ، تربیت اور دیگر فوجی معاونت فراہم کی ہے۔ ماہرین حوثیوں کو ایران کا محض ایک تابع یا روایتی ’’پراکسی‘‘ سمجھنے کے بجائے ایک نسبتاً‌ خودمختار یمنی تحریک بھی قرار دیتے ہیں، لیکن موجودہ صورت حال یہ ہے کہ حوثیوں کی تحریک ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے اشاروں پر کام کر رہی ہے۔ حوثیوں کا موقف موجودہ قومی یمنی حکومت، سعودی مداخلت کے خلاف جدوجہد اور اپنے سیاسی و علاقائی مفادات کے گرد گھومتا ہے۔ اس طرح ایک مقامی یمنی خانہ جنگی علاقائی طاقتوں کی کشمکش میں تبدیل ہو گئی ہے۔

2022ء میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں جنگ بندی کے بعد تشدد میں نمایاں کمی آئی مگر کوئی جامع سیاسی معاہدہ نہ ہو سکا۔ یمن عملاً‌ مختلف طاقتوں کے زیر اثر علاقوں میں تقسیم ہے۔ حوثی تحریک صنعاء اور ملک کے بڑے شمالی و مغربی حصے پر قابض ہے، جبکہ حکومت اور دیگر مقامی قوتیں جنوبی و مشرقی علاقوں میں مختلف پوزیشنوں میں موجود ہیں۔ عمان کی وساطت سے 13 تا 19 ستمبر 2023ء کو سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان براہ راست مذاکرات اور سفارتی کوششوں نے جنگ کے خاتمے کی امید پیدا کی تھی لیکن علاقائی کشیدگی خصوصاً‌ بحیرۂ احمر میں حملوں اور اسرائیل کی غزہ پر جارحیت کے اثرات نے یمنی بحران کو ایک بار پھر وسیع تر علاقائی کشمکش کی طرف دھکیل دیا ہے۔ 

حالیہ بڑھتی ہوئی سعودی حوثی کشمکش اس وقت پیدا ہوئی جب تہران سے سپریم لیڈر شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازہ میں شرکت کے لیے گئے حوثی وفد کی واپسی کے وقت غالباً‌ امریکی اشارہ پر سعودی عرب نے اچانک صنعا کے ائرپورٹ پر بمباری کر دی۔ اس کے جواب میں حوثیوں نے بھی سعودی عرب پر شدید حملے کیے اور بعض میزائل مکہ کے قریب بھی گرے۔ جس میں ایک امکان یہ ہے کہ یہ حوثیوں نے کیا ہے، جبکہ یہ بھی قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ یہ اسرائیل کا فالس فلیگ آپریشن بھی ہو سکتا ہے جس کا ہدف حوثیوں کو بدنام کرنے کے ساتھ ہی ان پر بڑے حملے کروانا ہو۔ اس حادثے کے بعد پاکستان نے اپنا دفاعی نظام وہاں نصب کر دیا ہے اور اس کی فوج حرمین کی حفاظت کے لیے پہنچ گئی ہے۔ جبکہ دوسری طرف سعودی عرب کی حمایت یافتہ سرکاری یمنی افواج نے اب حوثیوں پر حملے شروع کر دیے ہیں۔

مختصرً‌ا یہ کہ یمن کا تنازعہ داخلی اقتدار کی جنگ، سعودی عرب کی سرحدی سلامتی، اور ایران و سعودی عرب کی علاقائی رقابت کا مجموعہ ہے۔ اسے صرف ’’سنی شیعہ جنگ‘‘ کہنا اس پیچیدہ مسئلے کو بہت زیادہ سادہ بنا دیتا ہے۔ یعنی یمن کا سیاسی بحران اور معاشی زوال ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ سیاسی تقسیم اور مسلسل عدم تحفظ نے معیشت اور ریاستی اداروں کو کمزور کیا ہے، جبکہ غربت، بے روزگاری، مہنگائی اور انسانی بحران نے سیاسی استحکام کی راہ مزید دشوار بنا دی ہے۔ مستقل سیاسی مفاہمت، ادارہ جاتی استحکام اور معاشی بحالی کے بغیر اس بحران سے نکلنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

یمن کا مستقل حل اس میں ہے کہ:

  1. فوجی فتح سے زیادہ ایک ایسے جامع سیاسی سمجھوتہ ہو جس میں اقتدار کی تقسیم، اقتصادی بحالی، سرحدی سلامتی اور مختلف یمنی گروہوں کی سیاسی شرکت جیسے بنیادی مسائل حل کیے جائیں۔ اس کے بغیر جنگ کی شدت کم ہونے کے باوجود یمن میں ایک مستحکم اور متحد ریاست کا قیام مشکل رہے گا۔ 
  2. حوثیوں اور سعودی عرب میں مذاکرات ہوں اور ایران بھی مثبت موقف اپنائے، تبھی کسی مثبت نتیجہ کی توقع کی جا سکتی ہے۔ سعودی عرب، عرب ممالک، یا پاک ترکی و سعودی اتحاد کے لیے اس تحریک کو عسکری طور پر کچل دینا مشکل ہے، اس کے لیے انہیں مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی ہی ضرورت ہے۔

حالات و مشاہدات

(الشریعہ — اکتوبر ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — اکتوبر ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۱۰

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۶)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

علامہ آلوسی کی تفسیر ’’روح المعانی‘‘
مفتی شاد محمد شاد

امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل کا نبوی منہج (۳)
مولانا ڈاکٹر محمد ابوبکر فاروقی

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۱۰)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۸)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات ( ۶)
محمد سراج اسرار

سیاست نامہ از نظام الملک طوسی
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

استشارہ اور استخارہ: اہمیت، فضیلت اور طریقہ کار
مولانا عبد المتین

جزیرۃ العرب میں غیر مسلموں کی رہائش کی ممانعت کا شرعی و عقلی جائزہ
مفتی سید انور شاہ

اسلام کا سیاسی نظام: ایک قانونی تجزیہ (۱)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اسلام اور شخصی آزادی (۲)
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
ذیشان ہاشم

The Essential Requisite of Protecting the Finality of Prophethood and the Sanctity of the Messenger (PBUH)
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

مولانا عبید اللہ سندھی سے منسوب ایک مقالے کی تحقیق
مولانا صدیق احمد فاروق

نفاذِ شریعت یا سیکولرزم
حسنین خالد

قائد اعظم اور قانونِ وقف الاولاد
پروفیسر محبوب پوپاتیا

Our Constitutional History & Background of the Proposed 28th Amendment
Mufti Munib ur Rehman

یمن: تابناک ماضی سے مخدوش مستقبل تک
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

کیا چین مسلم اُمت کا اتحادی بننے جا رہا ہے؟
خالد محمود عباسی

Some Points for the Iranian Leadership`s Consideration
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

دارالعلوم کراچی میں منعقدہ ایک مبارک تقریب کا احوال
مولانا حافظ خرم شہزاد

تلاش

شماریات