▲ ☰

دارالعلوم کراچی میں منعقدہ ایک مبارک تقریب کا احوال

کراچی کے چند دردِ دل اور علوم قرآنی کی ترویج و اشاعت کا جذبہ رکھنے والے احباب نے شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن نوراللہ مرقدہ کی اس فکر کو بنیاد بنا کر کام کرنے کا عزم کیا جس میں حضرت شیخ الہند امت مسلمہ کے زوال کے دو اسباب بیان فرماتے ہیں: اول آپس کے اختلافات اور دوم قرآن سے دوری۔ لہٰذا ضروری ہے کہ امت کو متحد کیا جائے اور قرآنی تعلیمات کو عام کیا جائے۔

اسی جذبے کے تحت انہوں نے "المدنی اسلامک اکیڈمی پاکستان" کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا، جس کے اغراض و مقاصد درج ذیل ہیں:

  • اسیر مالٹا شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمۃ اللّٰہ علیہ کی تحریک حقوقِ قرآن کو داعیہ احیاء کے نام سے پاکستان سمیت پوری دنیا میں تسلسل کے ساتھ اس کی نشرواشاعت جاری رکھنا۔
  • تحریک حقوقِ قرآن اور خصوصاً قرآن مجید کو تلاوت کے ساتھ ساتھ سمجھ کر پڑھنے (یعنی ترجمہ کے ساتھ) کی عوام الناس کی ذہن سازی کی جدوجہد کرنا۔
  • ائمہ مساجد، علماء کرام اور مدرسین سے رابطہ مہم کے ذریعے ملاقات کر کے اس بات پر آمادہ اور قائل کرنا کہ آپ نمازِ جمعہ اور دیگر اجتماعات میں اپنے خطابات کے آخر میں چند منٹ عوام الناس سے گفتگو کر کے ان کی ذہن سازی کریں کہ قرآن مجید کو ترجمے کے ساتھ سمجھ کر پڑھیں۔
  • ائمہ مساجد سے رابطہ کر کے انہیں مسجد میں ہفتے میں ایک بار کسی بھی وقت عوامی درسِ قرآن کی صورت میں قرآن مجید کے معنی سے روشناس کرانے پر قائل کرنا۔
  • دینی و دنیوی اداروں میں طلباء میں قرآن مجید کو لفظاً و معناً عام کرنا۔
  • ائمہ مساجد، علماء کرام اور مدرسین کو شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کی تحریک حقوقِ قرآن کی یاددہانی کے لیے سال بھر میں چند اجتماعات کا انعقاد کرنا۔

لہٰذا دس ستمبر 2026ء بروز جمعرات بعد نماز مغرب دارالعلوم کورنگی، کراچی کی عظیم الشان مسجد میں اس حوالہ سے ایک تقریب کا اہتمام کیا۔

تقریب کے مہمانانِ گرامی شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب، مفکر اسلام حضرت مولانا زاہدالراشدی صاحب اور حضرت مولانا مفتی محمد زبیر اشرف عثمانی صاحب تھے۔

مذکورہ اکیڈمی کے ذمہ داران نے جب اپنے عزم و ارادے اور تقریب سے استاذِ گرامی حضرت مولانا زاہدالراشدی صاحب دامت برکاتہم کی خدمت میں اپنی کارگزاری پیش کی تو حضرت نے ان کو راقم کا نمبر دیتے ہوئے فرمایا کہ انہیں بھی اپنی مشاورت میں شریک رکھیں۔ یہ استادِ گرامی کا بڑا پن ہے کہ وہ اپنے چھوٹوں پر اس طرح شفقت و محبت فرما کر عزت افزائی فرماتے ہیں۔ فجزاھم اللہ تعالیٰ۔

المدنی اسلامک اکیڈمی کراچی، پاکستان کے سینئر ممبر جناب محمد سلیم عمر صاحب نے اس سلسلہ میں راقم سے متعدد مرتبہ فون پر بات کی اور اپنے نیک عزائم سے آگاہ فرماتے رہے۔ ایک دن انہوں نے یہ خوشخبری سنائی کہ ہم دس ستمبر کو دارالعلوم کراچی میں افتتاحی تقریب منعقد کر رہے ہیں جس کے مہمانانِ خصوصی میں حضرت مولانا زاہدالراشدی صاحب بھی ہیں۔ اور ساتھ ہی انہوں نے مجھے بھی دعوت نامہ سینڈ کرتے ہوئے تاکید فرمائی کہ آپ نے بہر صورت اس تقریب میں حاضر ہونا ہے۔ تقریب سے چند دن پہلے استادِ محترم حضرت مولانا زاہدالراشدی صاحب کا پیغام موصول ہوا کہ میرا سفر کراچی طے تھا مگر کسی عذر کی وجہ سے اب سفر کینسل ہوگیا ہے۔ خیر راقم اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق سفر پر روانہ ہوا اور کراچی پہنچ کر اپنے میزبان اور رفیق برادرم مولانا سعیدالرحمٰن قرنی کے ہمراہ اس بابرکت تقریب میں دارالعلوم کورنگی روانہ ہوا۔

تقریب کا آغاز تلاوت و نعت سے ہوا۔ اکیڈمی کے ذمہ داران نے اغراض و مقاصد اور اپنے نیک عزائم اور اعراض و مقاصد سے آگاہ کیا۔ مولانا مفتی زبیر اشرف عثمانی اور مفتی عمران اشرف عثمانی کے خطابات کے بعد شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے انتہائی مختصر اور جامع خطاب فرمایا۔ انہوں نے حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ کے دردِ دل اور قرآنی تعلیمات کو عام کرنے کے حوالہ سے حضرت کے جذبات اور خدمات کو بیان فرمایا۔ انہوں نے فرمایا کہ آج ہر عالم دین کو درسِ قرآن کے حلقے اور مکاتب قائم کرنے چاہئیں۔ انہوں نے دینی مدارس کے کردار اور خدمات پر بات کرتے ہوئے فرمایا کہ آج قرآن کریم کے جو حفاظ ہمیں نظر آتے ہیں یہ کسی یونیورسٹی یا کالج سے پیدا نہیں ہوئے بلکہ یہ دینی مدارس اور مکاتب کا ہی فیض ہے۔ ہم سے پوچھا جاتا ہے کہ دینی مدارس کیا کر رہے ہیں؟ تو عرض یہ ہے کہ مدارسِ دینیہ حفاظ، علماء اور مفتیان کو معاشرے کی دینی ضرورت کے لیے مہیا کرتے ہیں۔ آخر میں انہوں نے المدنی اسلامک اکیڈمی کے ذمہ داران کے اس جذبے اور کاوش پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ ان شاء اللہ اس محنت کے دوررس نتائج برآمد ہوں گے۔

حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہم کی دعاء خیر سے تقریب کا اختتام ہوا۔ تقریب میں شہر کے مقتدر علماء نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ آخر میں ہر امام مسجد کو حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کا "آسان ترجمہ قرآن" کے پانچ پانچ نسخے مساجد میں رکھنے کے لیے پیش کیے گئے۔

تقریب کے بعد تمام شرکاء کے لیے ضیافت کا پر تکلف انتظام تھا۔

اپنے فکر و عزم اور نظم کے اعتبار سے ایک مثالی تقریب تھی۔ اللّٰہ تعالیٰ المدنی اسلامک اکیڈمی کے احباب کو اس تقریب کے انعقاد پر جزائے خیر عطا فرمائے اور ان کی اس کاوش و محنت کو قبول فرما کر اس کے دوررس نتائج سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین

اخبار و آثار

(الشریعہ — اکتوبر ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — اکتوبر ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۱۰

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۶)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

علامہ آلوسی کی تفسیر ’’روح المعانی‘‘
مفتی شاد محمد شاد

امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل کا نبوی منہج (۳)
مولانا ڈاکٹر محمد ابوبکر فاروقی

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۱۰)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۸)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات ( ۶)
محمد سراج اسرار

سیاست نامہ از نظام الملک طوسی
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

استشارہ اور استخارہ: اہمیت، فضیلت اور طریقہ کار
مولانا عبد المتین

جزیرۃ العرب میں غیر مسلموں کی رہائش کی ممانعت کا شرعی و عقلی جائزہ
مفتی سید انور شاہ

اسلام کا سیاسی نظام: ایک قانونی تجزیہ (۱)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اسلام اور شخصی آزادی (۲)
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
ذیشان ہاشم

The Essential Requisite of Protecting the Finality of Prophethood and the Sanctity of the Messenger (PBUH)
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

مولانا عبید اللہ سندھی سے منسوب ایک مقالے کی تحقیق
مولانا صدیق احمد فاروق

نفاذِ شریعت یا سیکولرزم
حسنین خالد

قائد اعظم اور قانونِ وقف الاولاد
پروفیسر محبوب پوپاتیا

Our Constitutional History & Background of the Proposed 28th Amendment
Mufti Munib ur Rehman

یمن: تابناک ماضی سے مخدوش مستقبل تک
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

کیا چین مسلم اُمت کا اتحادی بننے جا رہا ہے؟
خالد محمود عباسی

Some Points for the Iranian Leadership`s Consideration
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

دارالعلوم کراچی میں منعقدہ ایک مبارک تقریب کا احوال
مولانا حافظ خرم شہزاد

تلاش

شماریات