اسلامی نصوص میں تخلیقیت یا ارتقا؟
تمہید
اس کتاب کے تیسرے حصے میں ہم نے دیکھا کہ غزالی کی فکر ان مابعد الطبیعیاتی اعتراضات سے کس طرح نمٹ سکتی ہے جنہیں بعض لوگ نظریۂ ارتقا کے ساتھ وابستہ کرتے ہیں۔ اس باب میں ہم یہ دیکھیں گے کہ باب 9 میں زیرِ بحث آنے والے غزالی کے اصولِ تعبیر کو باب 4 میں جائزہ لی گئی آرا اور تجاویز کی جانچ کے لیے کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اس باب میں یہ مفروضہ اختیار کیا گیا ہے کہ غیر انسانی ارتقا فی نفسہٖ کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔ نباتات اور حیوانات کے بارے میں قرآن و حدیث میں نصوص ضرور موجود ہیں، لیکن جیسا کہ ابواب 3 اور 4 میں واضح کیا گیا، وہ اس قدر مبہم ہیں کہ ان سے اس مسئلے پر کوئی واضح موقف اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے اصل بحث انسانی ارتقا ہی کے گرد گھومتی ہے۔
چنانچہ یہاں اختیار کی جانے والی حکمتِ عملی یہ ہوگی کہ باب 9 میں بیان کردہ غزالی کے اصولِ تعبیر کو بنیاد بنا کر یہ دیکھا جائے کہ اسلامی نصوص میں انسانی ارتقا کو قبول یا رد کرنے کے موجودہ طریقوں سے غزالی کا منہج کہاں اور کس حد تک اتفاق یا اختلاف کر سکتا ہے۔ جہاں مناسب ہوگا، ہر مفکر کے دلائل کے ساتھ ساتھ اس کے منہج کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
تاہم باقاعدہ تنقیدی جائزہ شروع کرنے سے پہلے باب 9 میں بیان کیے گئے اصولوں کا مختصر خلاصہ مفید ہوگا:
اصول 1: تمام تعبیرات کلاسیکی عربی زبان کے قواعد اور استعمالات سے ہم آہنگ ہونی چاہییں۔
اصول 2: تعبیر کرتے ہوئے موضوعاتی اور تاریخی سیاق و سباق اور متعلقہ قرائن کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
اصول 3: مجازی تعبیر صرف اسی صورت میں اختیار کی جا سکتی ہے جب وہ غزالی کے قانونِ تاویل کے مطابق ہو۔
اصول 4: آحاد احادیث کو ان اعتقادی مسائل میں معتبر نصوصی ماخذ کے طور پر برقرار رکھا جائے گا جو لازمی اور قطعی عقیدے کا حصہ نہیں بنتے، بشرطیکہ وہ مضبوط، یعنی صحیح ہوں اور ان کے خلاف اسی درجے یا اس سے زیادہ معرفتی قوت کی کوئی دلیل موجود نہ ہو۔
اصول 5: اگر ایک سے زیادہ آرا باہم قابلِ جمع ہوں تو ان سب کے امکان کو تسلیم کیا جائے، معرفتی تواضع اختیار کی جائے، اور بلا دلیل کسی ایک رائے کو دوسری پر مسلط نہ کیا جائے؛ بلکہ معنی کے حتمی تعین کو خدا کے سپرد کر دیا جائے۔
اصول 6: جہاں متعدد آرا باہم قابلِ جمع ہوں، وہاں اس مسئلے کو لازمی عقیدے کا حصہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اصول 7: اگر نصوص کسی مسئلے کے بارے میں خاموش ہوں تو ان کی طرف سے کوئی مثبت یا منفی موقف منسوب نہیں کیا جانا چاہیے۔
آئندہ بحث میں جہاں کسی دلیل یا تنقید سے ان اصولوں میں سے کوئی اصول خاص طور پر متعلق ہوگا، وہاں بطور حوالہ اس کا ذکر کیا جائے گا۔ اس کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ زیرِ بحث مسئلے میں متعلقہ اصول کس طرح کارفرما ہوتا ہے۔ بلاشبہ کسی بھی نص کی تعبیر میں ایک ہی وقت میں متعدد اصول شامل ہو سکتے ہیں، لیکن یہاں حوالہ صرف اس اصول کا دیا جائے گا جو کسی خاص دلیل یا تنقید میں بنیادی حیثیت رکھتا ہو۔
یہ باب چھ حصوں میں تقسیم ہے۔ پہلے حصے میں ہم غزالی کے اصولِ تعبیر اور اسلام و ارتقا میں تطبیق کی بعض جدید کوششوں کے درمیان منہجی فرق کو نمایاں کریں گے۔ بالخصوص ندال گیسوم (Nidhal Guessoum) کے طریقۂ کار کا جائزہ لیا جائے گا۔ یہ تقابل باب 6 کی اس بحث کے مماثل ہوگا، جہاں ہم نے دیکھا تھا کہ Divine Action Project (DAP) اور اشعری نقطۂ نظر کے درمیان بنیادی الٰہیاتی اختلافات موجود ہیں، اور اشعری زاویے سے اول الذکر میں سائنس پرستی (scientism) کا رجحان پایا جاتا ہے۔ گیسوم کے منہج میں سائنس اور نصوص کا تعلق یک طرفہ ہے، یعنی سائنس ہی مکمل طور پر یہ طے کرتی ہے کہ کیا چیز قابلِ قبول ہے اور کیا نہیں۔ جیسا کہ ہم دیکھیں گے، غزالی اس طریقۂ کار کو اس میں موجود سائنس پرستانہ رجحان کی وجہ سے مسئلہ خیز سمجھتے۔
دوسرے اور تیسرے حصے میں بالترتیب انسانی ارتقا کی تعبیرات پر کیے جانے والے تین اعتراضات کا جائزہ لیا جائے گا، اور پھر اسلامی نصوص کو انسانی ارتقا کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی تین کوششوں کا تجزیہ کیا جائے گا۔
چوتھے حصے میں جانرتاسلمان Caner Taslaman کی تجویز کا داؤد سلمان جلاجل David Solomon Jalajel کے موقف سے تقابل کیا جائے گا۔ چونکہ دونوں ہی کسی نہ کسی درجے میں فیصلہ معطل رکھنے کا موقف اختیار کرتے ہیں تاسلمان اسے اعتقادی لاادریت کہتے ہیں، جبکہ جلاجل اسے توقف سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس لیے یہ دیکھنا مفید ہوگا کہ اس اصول کے اطلاق میں ان دونوں کے اختلافات غزالی کے اصولِ تعبیر کی روشنی میں کس حد تک قابلِ قبول قرار پاتے ہیں۔آخری سے پہلے حصے میں احادیث سے متعلق بحث کا جائزہ لیا جائے گا۔
آخری حصے میں یاسر قاضی اور نذیر خان کے پیش کردہ انسانی استثنائیت (human exceptionalism) کے موقف اور داؤد سلمان جلاجل کی آدمؑ کی استثنائیت (Adamic exceptionalism) کا جائزہ لیا جائے گا۔ جس کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا جائے گا کہ غزالی کا اصولِ تعبیر تخلیقیت (creationism)، انسانی استثنائیت اور آدمؑ کی استثنائیت کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے، لیکن عدمِ استثنا کے موقف (no exceptions stance) کے ساتھ ہم آہنگ نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ غزالی اپنے مابعد الطبیعیاتی نظام اور اصولِ تعبیر، دونوں میں معجزات کے امکان کو تسلیم کرتے ہیں۔
اگرچہ اس باب کا بنیادی موضوع اصولِ تعبیر ہے، تاہم گزشتہ ابواب میں زیرِ بحث آنے والے بعض مابعد الطبیعیاتی مباحث سے بھی استفادہ کیا جائے گا، تاکہ یہاں پیش کی جانے والی مختلف آرا اور تجاویز کا زیادہ جامع انداز میں جائزہ لیا جا سکے۔
تعبیری سائنس پرستی
باب 9 میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ غزالی اسلامی نصوص کی تعبیر کے لیے ایک ایسا منہج اختیار کرتے ہیں جس میں ابتدا نص کے ظاہری معنی سے کی جاتی ہے، اور اس سے ہٹ کر کسی زیادہ مجازی تعبیر کی طرف صرف اسی وقت جایا جا سکتا ہے جب اس کے لیے کوئی قطعی اور برہانی دلیل موجود ہو۔
تاہم بعض مناہج اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تمام تعبیرات کو سائنسی بیانیے کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔ چنانچہ اگر کوئی قرآنی آیت یا حدیث بظاہر سائنس سے ہم آہنگ نہ ہو تو اس کی ایسی نئی تعبیر کی جانی چاہیے جو اسے سائنسی طور پر قابلِ قبول بنا دے۔ اس طرزِ فکر کے دو نمایاں حامی ندال گیسوم (Nidhal Guessoum) اور رعنا دجانی (Rana Dajani) ہیں، جن کا ذکر باب 4 میں پہلے بھی آ چکا ہے۔
گیسوم کو نصوص کی لفظی تعبیر پر مبنی رویے سے خاصا سنجیدہ اختلاف ہے۔ ان کے نزدیک "تخلیقیت ایک ایسی مذہبی تحریک ہے جو نصوص کی لفظی تعبیر پر قائم ہے" (Guessoum 2010, 828)۔ اس مسئلے کے حل کے طور پر وہ تجویز کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو نصوص کے متعدد اور تہہ دار معانی کی گنجائش تسلیم کرنی چاہیے، یعنی تعبیر میں تنوع کو قبول کرنا چاہیے (Guessoum 2008, 425)۔
اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ پورے مسئلے کا حل ان کے نزدیک بظاہر یہ ہے کہ جب ایک مرتبہ یہ ثابت ہو جائے کہ نظریۂ ارتقا واقعی درست ہے تو اس سے متصادم تمام نصوص کو مجازی قرار دے دیا جائے (Guessoum 2010)۔ ان کا پورا منہج عدمِ تعارض کے اصول (no-conflict principle) پر قائم ہے، جسے انہوں نے ابن رشد سے اخذ کیا ہے۔ اس اصول کے مطابق یہ بات بدیہی ہے کہ سائنس اور نصوص کے درمیان حقیقی تعارض نہیں ہو سکتا۔
رعنا دجانی بھی کسی حد تک اسی نوع کا طریقۂ کار اختیار کرتی ہیں۔ جیسا کہ باب 4 میں ذکر ہوا، ان کا موقف بظاہر یہ ہے کہ چونکہ نظریۂ ارتقا درست ہے، اس لیے حضرت آدمؑ کی تخلیق کا بیان محض ایک استعارہ یا مجاز ہے۔ تاہم چونکہ گیسوم نے اس موضوع پر کہیں زیادہ تفصیل سے لکھا ہے، اس لیے یہاں ہماری توجہ صرف انہی کے منہج پر مرکوز رہے گی۔ اس طریقۂ کار میں تین امور ایسے ہیں جن کی نشان دہی ضروری ہے۔
اول، یہ درست ہے کہ تخلیقیت پسندوں کے ہاں نصوص کی لفظی تعبیر کا رجحان پایا جاتا ہے، لیکن یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ان کے لیے تخلیقیت کو اختیار کرنے کی واحد یہی وجہ ہے۔ جیسا کہ ابواب 1 اور 4 میں واضح کیا گیا، بعض مسلم تخلیقیت پسند نظریۂ ارتقا کو ملحدانہ یا مادیت پسند نظریہ سمجھتے ہیں (Jalajel 2009, 162–163; Howard 2011, 6–7)۔ اس لیے یہ احتیاط ضروری ہے کہ تخلیقیت کی پوری ذمہ داری محض لفظی تعبیر کے رجحان پر نہ ڈال دی جائے، کیونکہ یہ رجحان کبھی ذریعہ ہو سکتا ہے اور کبھی نتیجہ۔
دوسرے لفظوں میں، ممکن ہے کہ بعض مسلم تخلیقیت پسند غیر نصوصی وجوہ کی بنا پر نظریۂ ارتقا کو رد کریں اور پھر اپنے موقف کی تائید کے لیے نصوص کی لفظی تعبیر سے استدلال کریں؛ اس صورت میں لفظی تعبیر ایک ذریعہ ہوگی۔ دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ وہ نصوص کی لفظی تعبیر ہی کی بنا پر نظریۂ ارتقا کو رد کریں؛ اس صورت میں لفظی تعبیر ان کے موقف کا اصل سبب یا نتیجہ ہوگی۔ اس فرق کی نشان دہی اس لیے ضروری ہے تاکہ اس بحث میں لفظیت کے کردار اور اس کی مختلف صورتوں کو زیادہ باریکی سے سمجھا جا سکے۔
دوم، جس طرح گیسوم لفظیت کے مسئلے کو ضرورت سے زیادہ نمایاں کرتے ہیں، اسی طرح وہ تعددِ تعبیر کی ضرورت پر بھی کچھ زیادہ زور دیتے ہیں۔ مسلم مفکرین نے ہمیشہ اس صورت میں متعدد معقول تعبیرات کی گنجائش تسلیم کی ہے جہاں زبان اور سیاق اس کی اجازت دیتے ہوں۔ باب 9 میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ غزالی خود قیامت کے دن اعمال کے تولے جانے کی مثال میں دو ممکنہ تعبیرات کا ذکر کرتے ہیں۔ اسی طرح لفظ "قُرُوء" کی مثال بھی سامنے آ چکی ہے، جس سے فقہ میں دو بالکل مختلف نتائج اخذ ہوئے۔
سوم، مجازی تعبیر اختیار کرنے میں بذاتِ خود کوئی مسئلہ نہیں۔ اہل علم نے ضرورت کے مواقع پر ہمیشہ ایسی تعبیرات اختیار کی ہیں۔ جیسا کہ باب 9 میں ہم نے دیکھا، غزالی کے منہج میں بھی متعدد غیر لفظی تعبیرات کی واضح گنجائش موجود ہے۔ اس اعتبار سے گیسوم اور غزالی کے اصولِ تعبیر میں قابلِ ذکر اشتراک پایا جاتا ہے۔
تاہم اس اشتراک کی حدود دونوں کے مختلف الٰہیاتی فریم ورک کی وجہ سے خاصی محدود ہو جاتی ہیں۔گیسوم اور غزالی کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ گیسوم خدا اور عالمِ فطرت کے باہمی تعلق کو مختلف انداز میں سمجھنے کی وجہ سے معجزات کو قبول نہیں کرتے۔ خودگیسوم بھی اس بنیادی اختلاف کو تسلیم کرتے ہیں:
غزالی کی مشہور مثال میں آپ روئی کو آگ میں ڈالتے ہیں، لیکن اگر خدا اسی لمحے یہ فیصلہ کرے تو وہ جل بھی نہیں سکتی۔ میرے خیال میں یہی تفہیم کا بنیادی فرق ہے؛ یہ واقعی ایک نہایت سنجیدہ اور بنیادی الٰہیاتی مسئلہ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم یہ کیسے سمجھتے اور تصور کرتے ہیں کہ خدا کا دنیا کے ساتھ کیا تعلق ہے، اس نے دنیا کو کیسے پیدا کیا، اس کے نزدیک اس تخلیق کا مقصد کیا ہے، اور ہمارا اس کے ساتھ کیا تعلق ہے (Bigliardi 2014, 176)۔
واضح رہے کہ گیسوم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ خدا قوانینِ فطرت میں مداخلت کرنے پر قادر ہے، لیکن ان کے نزدیک خدا کا ایسا کرنا معقول نہیں ہوگا:
اس کا قادرِ مطلق ہونا یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ اپنے ہی بنائے ہوئے قوانین کی خلاف ورزی کرتا رہے گا۔ لہٰذا میں یہ نہیں کہہ رہا کہ خدا ایسا کر نہیں سکتا؛ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ خدا نے قوانین اس لیے قائم کیے ہیں تاکہ چیزیں ایک منظم طریقے سے کام کریں۔ ورنہ قوانین قائم کرنے کا فائدہ ہی کیا ہے، اگر پھر وقتاً فوقتاً اپنی مرضی سے ان کے خلاف عمل کیا جائے؟ کائنات منظم اور ہم آہنگ ہے، اور خود قرآن بھی اس بات پر زور دیتا ہے۔ اس کے برعکس خدا گویا یہ کہہ رہا ہے: ’میں قادرِ مطلق ہوں، لیکن قادرِ مطلق ہوتے ہوئے بھی میں نے ایسے قوانین قائم کیے ہیں جن کے مطابق تخلیق کا عمل جاری رہتا ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ تم بھی قوانین کی پیروی کرو، نظم و ترتیب اختیار کرو اور اس نظم کی پابندی کرو‘ (Bigliardi 2014, 175)۔
اسی فکری فریم ورک کی بنیاد پر گیسوم یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ خود رسول اللہ ﷺ نے بھی کوئی معجزہ پیش نہیں کیا۔ اگر واقعی ایسا ہو تو اس سے اس بات کو مزید تقویت ملتی ہے کہ نصوص میں مذکور معجزاتی واقعات کو حقیقی تاریخی واقعات کے بجائے اخلاقی اسباق کے طور پر سمجھا جائے:
میرا کہنا یہ ہے کہ خود اسلامی روایت کے اندر بھی ایک بڑی روایت ایسی موجود ہے جو رسول اللہ ﷺ کے لیے معجزات کو بنیاد نہیں بناتی۔ اب اگر آخری اور سب سے عظیم نبی نے معجزات نہیں دکھائے تو آپ کیوں سمجھتے ہیں کہ ماضی میں لازماً طبعی معجزات واقع ہوئے ہوں گے؟ ممکن ہے لوگوں نے کچھ دیکھا ہو یا انہیں کسی چیز کا یقین ہو گیا ہو؛ ممکن ہے جن واقعات کو معجزات کہا جاتا ہے وہ حقیقت میں اسی طرح پیش نہ آئے ہوں؛ ممکن ہے قرآن میں بیان کردہ قصوں کو لفظی معنی میں نہ لیا جائے؛ ممکن ہے تاریخی طور پر وہ بالکل اسی انداز میں پیش نہ آئے ہوں، بلکہ انہیں محض کوئی اخلاقی سبق، خدا اور انسان کے تعلق، یا ظلم و ناانصافی کے بارے میں کوئی تصور واضح کرنے کے لیے بیان کیا گیا ہو... غالباً ہم سرے سے طبعی معجزات کی بات ہی نہیں کر رہے؛ یہ محض ایسی تمثیلات ہیں جو یہ واضح کرتی ہیں کہ خدا مداخلت کر سکتا ہے، مدد کر سکتا ہے، وغیرہ (Bigliardi 2014, 174)۔
دوسرے لفظوں میں گیسوم کے نزدیک معجزات دراصل غیر معمولی طور پر خوش گوار اتفاقات ہیں:
قرآن کو کس طرح پڑھا جائے، انبیا کے قصوں کو کیسے سمجھا جائے، خدا کے قائم کردہ نظم کا کیا مفہوم ہے، خدا اور فطرت کے قوانین کیا ہیں، وغیرہ، ان تمام تصورات کو یکجا کیا جائے تو میرے نزدیک یہ سب اس تصور کی نفی کرتے ہیں کہ معجزہ قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ معجزات دراصل نہایت خوش گوار واقعات، عنایتِ الٰہی یا اتفاقات ہوتے ہیں (Bigliardi 2014, 175)۔
تاہم، اگرچہ گیسوم کے نزدیک خدا طبیعی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کرتا، وہ یہ امکان تسلیم کرتے ہیں کہ خدا انسانی روح کے ساتھ تعامل کرتا ہے:
میرا موجودہ موقف یہ ہے کہ خدا ہمارے ساتھ روح کے ذریعے تعامل کرتا ہے، یعنی اس ذہنی و روحانی تعلق کے ذریعے جو ہمارا اس کے ساتھ قائم ہوتا ہے، نہ کہ کسی طبعی طریقۂ کار کے ذریعے (Bigliardi 2014, 176)۔
غزالی کے نقطۂ نظر سے گیسوم کا یہ اصولِ تعبیر اسی مقام پر کھڑا نظر آئے گا جہاں باب 6 میں زیرِ بحث آنے والا Divine Action Project (DAP) تھا۔ DAP کا مقصد یہ طے کرنا تھا کہ شرکا ایسے الٰہیاتی ماڈل کس حد تک تشکیل دے سکتے ہیں جو ایک طرف سائنسی تصورات کو محفوظ رکھیں اور دوسری طرف خدا کی خود مختاری کے لیے بھی گنجائش پیدا کریں۔ وہاں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزالی DAP کی مقرر کردہ حدود کو ایک قسم کی سائنس پرستی (scientism) سمجھتے ہیں، کیونکہ یہ خدا کی قدرت اور فعل کو ضرورت سے زیادہ محدود کر دیتی ہیں۔ اشعری فکری فریم ورک میں خدا قوانینِ فطرت یا سائنس کا پابند نہیں ہے۔
گیسوم کے اس مخصوص دعوے کے جواب میں کہ خدا کا پہلے ایک منظم کائنات بنانا اور پھر اس کے قوانین میں خلل ڈالنا غیر معقول ہوگا، غزالی غالباً سادہ طور پر یہ کہیں گے کہ خدا کے اپنے اسباب اور حکمتیں ہیں۔ ہمیں خدا کے ہر فعل اور اس کے پسِ پشت تمام حکمتوں کا معرفتی احاطہ حاصل نہیں۔ لہٰذا انسانی فکری سانچوں کی بنیاد پر یہ متعین کرنا کہ خدا کیا کر سکتا ہے اور کیا نہیں، دراصل خدا پر انسانی حدود عائد کرنا ہے، اور جیسا کہ باب 6 میں واضح کیا گیا، اشعری اس طرزِ فکر کو قبول نہیں کرتے۔
یہ الٰہیاتی اختلافات لازماً اصولِ تعبیر تک بھی منتقل ہوتے ہیں اور پھر دونوں کے نتائج میں نمایاں فرق پیدا کرتے ہیں۔ معجزات کے واقعات کو دونوں مفکرین جس طرح پڑھتے ہیں، وہ اس فرق کی ایک واضح مثال ہے۔ گیسوم معجزاتی واقعات کو ان کے ظاہری معنی میں قبول نہیں کرتے، یا انہیں نہایت نادر، مگر طبیعی قوانین کے مطابق وقوع پذیر ہونے والے واقعات سمجھتے ہیں۔ اس کے برعکس غزالی کو ایسے واقعات کو ان کے ظاہری معنی میں قبول کرنے میں کوئی مشکل نہیں، خواہ وہ موجودہ سائنسی تصورات سے مطابقت رکھتے ہوں یا نہ رکھتے ہوں۔
اس باب میں آگے چل کر مزید واضح ہوگا کہ گیسوم اسلامی نصوص کو سائنس کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اپنے اختیار کردہ اصولِ تعبیر کو استعمال کرتے ہیں۔ چنانچہ اگر نصوص میں کوئی ایسی بات موجود ہو جو سائنسی طور پر ممکن نہ سمجھی جائے تو اس کی تعبیر اس انداز میں کی جائے گی کہ سائنسی تصور محفوظ رہے۔ دوسرے لفظوں میں، جب سائنس اور نصوص کا باہمی سامنا ہوتا ہے تو گیسوم کے ہاں تعلق کا رخ بظاہر یک طرفہ ہے: سائنس سے نصوص کی طرف۔ اس کے برعکس غزالی کے منہج میں یہ تعلق دو طرفہ ہے، جہاں سائنس اور نصوص، دونوں کا یکساں طور پر تجزیہ، بحث اور باہمی تطبیق کی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ یہ کوئی نئی بحث نہیں، بلکہ اس کی ایک تاریخی نظیر بھی موجود ہے۔ جیسا کہ باب 3 میں یاسر قاضی اور نذیر خان کے بیان کردہ انسانی استثنائیت (human exceptionalism) کے جائزے میں، اور پھر باب 9 میں ذکر ہوا، غزالی کو ابن سینا کے افکار سے بھی ایسی وجوہ کی بنا پر اختلاف تھا۔
ابن سینا ایک ایسے مابعد الطبیعیاتی نظریے کے قائل تھے جسے نظریۂ فیضان (emanationism) کہا جاتا ہے، جس میں تخلیق ایک لازمی صدور کی صورت اختیار کرتی ہے۔ اس فریم ورک میں خدا نے کائنات اور اس کے اجزا کو اپنے آزاد ارادے سے پیدا نہیں کیا، بلکہ تخلیق ایک لازمی نتیجے کے طور پر صادر ہوتی ہے۔ اس فکری نظام میں معجزات کے لیے گنجائش نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ ابن سینا نصوص میں مذکور معجزاتی واقعات کو لفظی معنی میں لینے کے بجائے علامتی یا مجازی طور پر سمجھنے کی طرف جاتے ہیں (Al-Ghazālī 2000a; Richardson 2020)۔ غزالی کے مابعد الطبیعیاتی فریم ورک کی رو سے ابن سینا کا یہ طرزِ فکر ان کے موقف سے بالکل متصادم تھا۔
گیسوم نظریۂ فیضان کے قائل نہیں، لیکن وہ ایک ایسے مضبوط سائنسی فریم ورک سے بندھے ہوئے ہیں جو انہیں کسی ایسے مفہوم کو قبول کرنے کی گنجائش نہیں دیتا جو سائنسی طور پر ممکن نہ ہو۔ اسی لیے تخلیقیت پر مبنی کسی بھی تعبیر کو قبول کرنا ان کے لیے ممکن نہیں۔ اس کے برعکس غزالی کے نقطۂ نظر سے تخلیقیت اور ارتقا، دونوں اصولی طور پر ممکن ہیں۔ اس باب میں آگے بڑھنے کے ساتھ یہ اختلافات مزید نمایاں ہوتے جائیں گے۔
انسانی ارتقا کے خلاف پیش کیے گئے اعتراضات
باب 4 میں ہم نے دیکھا تھا کہ انسانی ارتقا کی تعبیرات کے خلاف تین بنیادی اعتراضات پیش کیے گئے ہیں۔ پہلا اعتراض یہ ہے کہ حضرت آدمؑ کو پیدا کیا گیا اور پھر وہ آسمانی جنت سے زمین پر اترے؛ بعض اہلِ فکر کے نزدیک یہ تصور انسانی ارتقا کے ساتھ کسی بھی قسم کی تطبیق کو سرے سے ناممکن بنا دیتا ہے۔ دوسرا اعتراض انسان کی فضیلت اور تکریم سے متعلق ہے۔ بعض لوگوں نے قرآن کی ان آیات سے استدلال کیا ہے جن میں انسان کو مکرم یا صاحبِ فضیلت قرار دیا گیا ہے، اور اس بنیاد پر یہ نتیجہ نکالا ہے کہ انسان ارتقائی عمل کے ذریعے وجود میں نہیں آ سکتا۔ اس استدلال کے پس منظر میں بظاہر یہ تصور کارفرما ہے کہ حیوانات، انسان کے مقابلے میں، "کم تر درجے" کے حامل ہیں، اس لیے انسان کا حیوانی سلسلۂ حیات سے حیاتیاتی تعلق اس کی تکریم کے منافی ہوگا۔ تیسرا اعتراض حضرت آدمؑ کی تخلیق کے ضمن میں خدا کے "ہاتھوں" کے ذکر سے متعلق ہے۔ بعض لوگوں نے اس تعبیر سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ حضرت آدمؑ کی تخلیق ایک معجزاتی اور غیر معمولی واقعہ تھی۔ اب ہم ان تینوں اعتراضات کا بالترتیب جائزہ لیتے ہیں۔
آسمانی جنت یا زمینی باغ؟
باب 4 میں یہ ذکر ہوا تھا کہ جس جنت سے حضرت آدمؑ اترے، اسے عموماً آخرت کی دائمی جنت سمجھا جاتا ہے۔ سید حسین نصر، نوح میم کیلر، یاسر قاضی اور نذیر خان ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے اسی استدلال کو انسانی ارتقا کے رد کے لیے استعمال کیا ہے۔ اس خاص نکتے کے بارے میں دو باتیں کہی جا سکتی ہیں۔
اول، خود اسلامی نصوص اس مسئلے میں پوری طرح واضح دکھائی نہیں دیتیں، اور مفسرین کے درمیان بھی اس بارے میں اختلاف رہا ہے۔ کلاسیکی مفسرین نے اس بات پر بحث کی کہ حضرت آدمؑ جس جنت سے اترے، وہ آسمانی جنت تھی یا زمین پر کوئی باغ۔
کلاسیکی مفسر ابن کثیر کے مطابق اکثریت نے آسمانی جنت کے موقف کو اختیار کیا، جبکہ ایک اقلیت زمینی باغ کی قائل تھی (2018, 350–359)۔ باب 4 میں ہم نے دیکھا تھا کہ کیلر آسمانی جنت کی تعبیر کو گویا اس مسئلے کا حتمی اور مسلمہ موقف بنا کر پیش کرتے ہیں، حالاں کہ صورتِ حال ایسی معلوم نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر خود ابن کثیر کسی ایک موقف کو قطعی طور پر اختیار نہیں کرتے، جس سے ممکن ہے یہ اشارہ ملتا ہو کہ انہوں نے اس مسئلے میں توقف اختیار کیا۔
اسی طرح ابن عاشور جیسے معروف مفسر بھی دونوں آرا کا ذکر کرتے ہیں، اگرچہ وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ آسمانی جنت کی تعبیر زیادہ معروف اور غالب رہی ہے (1984, 428–431)۔ تاہم ان کے نزدیک یہ آرا یقین کے بجائے ظن و احتمال پر قائم ہیں، اور اس مسئلے میں کسی خاص موقف کو اختیار کرنا عقیدے پر اثر انداز نہیں ہوتا؛ یعنی یہ ایسا مسئلہ نہیں جو اعتقادی طور پر لازم ہو۔
اسلامی علمی تاریخ کے ممتاز مفسر الرازی بھی بالآخر اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اس مسئلے کے دلائل باہم متعارض ہیں اور کسی قطعی نتیجے تک نہیں پہنچاتے؛ یعنی آسمانی جنت اور زمینی باغ، دونوں کے حق میں قابلِ لحاظ دلائل موجود ہیں (2000, 1)۔
چونکہ ہم غزالی کے اصولِ تعبیر کو یہاں اعتقادی زاویے سے استعمال کر رہے ہیں، اس لیے اگر اسلامی نصوص کسی مسئلے میں غیر واضح یا مبہم ہوں تو اسے لازمی عقیدے کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔ اس اعتبار سے غزالی، ابن عاشور اور الرازی کے موقف سے اتفاق کرتے دکھائی دیں گے (اصول 6)۔ مزید یہ کہ چونکہ اس مسئلے میں ایک سے زیادہ قابلِ قبول تعبیرات موجود ہیں، اس لیے بلا ضرورت کسی ایک موقف کو حتمی قرار نہیں دینا چاہیے۔ غزالی کے اصولِ معرفتی تواضع کے مطابق، جب ایک سے زیادہ قابلِ عمل تعبیرات موجود ہوں تو فیصلہ مؤخر کرنا بالکل درست ہے، جیسا کہ بظاہر ابن کثیر نے کیا (اصول5)۔ چنانچہ صرف آسمانی جنت کی تعبیر اختیار کر کے اسے ایک قطعی اور حتمی موقف سمجھ لینا انسانی ارتقا کو رد کرنے کے لیے کافی نہیں، کیونکہ زمینی باغ کی تعبیر کے حق میں بھی ایک قابلِ ذکر علمی روایت موجود ہے۔
دوم، اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ حضرت آدمؑ جس جنت سے اترے وہ واقعی آسمانی جنت تھی، تب بھی اس سے براہِ راست یہ لازم نہیں آتا کہ انسانی ارتقا باطل ہے۔ منطقی طور پر یہ امکان موجود ہے کہ حضرت آدمؑ آسمانی جنت سے زمین پر آئے ہوں اور پھر زمین پر ارتقائی عمل کے ذریعے دوبارہ وجود میں لائے گئے ہوں۔ لہٰذا آسمانی جنت کی تعبیر بذاتِ خود انسانی ارتقا کے امکان کو ختم نہیں کرتی۔ اس مضبوط نتیجے تک پہنچنے کے لیے کسی مزید نصوصی یا اصولی قید کی ضرورت ہوگی۔ جیسا کہ باب 3 میں تجویز کیا گیا تھا، حضرت عیسیٰؑ اور حضرت آدمؑ کے درمیان مماثلت بیان کرنے والی آیت ایسی قید فراہم کر سکتی ہے۔ اس لیے صرف جنت کی نوعیت سے متعلق بحث انسانی ارتقا کو رد کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔
انسان کی فضیلت
انسانی ارتقا کے خلاف دوسرا استدلال انسان کی قدرومنزلت اور فضیلت پر مبنی ہے، جس میں قرآن میں بیان ہونے والی انسان کی فضیلت سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ انسان ارتقائی عمل کا نتیجہ نہیں ہو سکتا۔ رمضان البوطی ان اہلِ علم میں شامل ہیں جو اس طرزِ استدلال کو اختیار کرتے ہیں۔ بلاشبہ قرآن میں چند ایسی آیات موجود ہیں جن میں انسان کو بلند مقام دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں عموماً درج ذیل آیات پیش کی جاتی ہیں:
آیت 1: ہم نے انسان کو بہترین حالت میں پیدا کیا... (التین، 4)
آیت 2: ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی، انہیں خشکی اور سمندر میں سواری دی، انہیں پاکیزہ رزق عطا کیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر انہیں نمایاں فضیلت دی۔ (الاسراء، 70)
سوال یہ ہے کہ کیا یہ آیات انسانی ارتقا کی نفی کے لیے کافی ہیں؟ بظاہر ایسا نہیں ہے۔ جب ان دونوں آیات کو ان کے بعد آنے والی آیات کے ساتھ موضوعاتی سیاق میں پڑھا جائے تو ان کا مفہوم زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر سورہ تین کی پہلی آیت اور اس کے بعد آنے والی آیات کو دیکھیے:
ہم نے انسان کو بہترین حالت میں پیدا کیا، پھر اسے پست ترین درجے تک لوٹا دیا، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے۔ (التین، 4–6)
اسی طرح سورہ الاسراء کی آیت 70 کو اس کے بعد آنے والی آیت کے ساتھ دیکھیے:
ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی، انہیں خشکی اور سمندر میں سواری دی، انہیں پاکیزہ رزق عطا کیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر انہیں نمایاں فضیلت دی۔ اس دن ہم ہر گروہ کو اس کے پیشوا کے ساتھ بلائیں گے؛ پھر جن لوگوں کو ان کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، وہ اسے [خوشی سے] پڑھیں گے، اور ان پر ذرہ برابر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (الاسراء، 70–71)
جب دونوں مقامات کو ان کے موضوعاتی سیاق میں پڑھا جائے تو فوراً یہ بات سامنے آتی ہے کہ انسان کو عطا کی گئی عزت و فضیلت کا تعلق خدا پر ایمان لانے، نیک اعمال اختیار کرنے، برے اعمال سے اجتناب کرنے اور اپنے آزاد ارادے سے خدا کے احکام کی پیروی کرنے سے ہے (اصول2)۔
اگر قرآن کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایسی آیات بھی ملتی ہیں جن میں انسان کی منفی صفات بیان ہوئی ہیں، مثلاً اسے جلد باز (الانبياء، 36)، بخیل (الاسراء، 100)، حریص (المعارج، 19) اور کمزور (النساء، 28) قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے صرف مثبت صفات کو پیش کرنا اور منفی صفات کو نظر انداز کر دینا ایک یک طرفہ استدلال معلوم ہوتا ہے (اصول2)۔ تو پھر انسان کی ان مثبت صفات کو منفی صفات کے ساتھ کیسے سمجھا جائے؟
پہلے نکتے کی طرح یہاں بھی جواب یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان آیات میں انسان کی عزت و فضیلت اس صلاحیت کی بنا پر ہے کہ وہ خدا کی عبادت کرکے اپنے مقصدِ تخلیق کو پورا کرے، اپنی منفی صفات اور پست خواہشات کے خلاف جدوجہد کرے اور روحانی بلندی حاصل کرنے کی کوشش کرے۔
غزالی اس نکتے کو نہایت جامع انداز میں بیان کرتے ہیں:
اگر انسان روحانی سعادت کی کیمیا کو اپنی جان کی حقیقت پر استعمال کرے تو وہ حیوانوں کے درجے سے بلند ہو کر فرشتوں کے درجے تک پہنچ سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ دنیا اور دنیاوی خواہشات کی طرف متوجہ ہو جائے تو کل ایک کتا یا خنزیر بھی اس سے بہتر ہوگا... پس جب انسان اپنی صلاحیت کو پہچان لے تو اسے اپنی کمزوریوں، پستی اور بے بسی کا بھی ادراک کرنا چاہیے۔ اسی طرح خود شناسی، معرفتِ خدا کی کنجیوں میں سے ایک بن جاتی ہے (Al-Ghazālī 2008, 34)۔
چنانچہ اپنی روحانی استعداد کے اعتبار سے انسان ایک صاحبِ فضیلت ہستی بننے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن اسی کے ساتھ وہ ایک نہایت پست مخلوق بن جانے کا امکان بھی رکھتا ہے۔ اس طرح قرآن میں انسان کے بارے میں بیان کردہ مثبت اور منفی صفات کے درمیان ایک مناسب توازن قائم ہو جاتا ہے۔
نتیجتاً، ان آیات میں سے کوئی بھی حقیقتاً نظریۂ ارتقا سے متصادم دکھائی نہیں دیتی۔ انسان ارتقائی عمل کے ذریعے وجود میں آنے کے باوجود خدا کے احکام کی پیروی کر کے اپنا بلند مقام برقرار رکھ سکتا ہے۔
دلچسپ، بلکہ کسی قدر متناقض بات یہ ہے کہ انہی آیات اور ان جیسی دوسری آیات کو بعض لوگوں نے انسانی ارتقا کے حق میں بھی استعمال کیا ہے۔ باب 4 میں ہم نے دیکھا تھا کہ رعنا دجانی سورہ التین کی پہلی آیت کا جائزہ لیتے ہوئے لکھتی ہیں:
سورہ التین [آیت 1] میں اللہ بیان کرتا ہے کہ انسان کو اس طرح پیدا کیا گیا کہ وہ اپنے ماحول کے لیے موزوں ہو۔ میرے نزدیک یہ نظریۂ ارتقا کی تائید کرتا ہے، اور یہ اس بات کی ایک مثال ہے کہ کسی مسئلے سے متعلق سائنسی علم کی کمی کی وجہ سے مفسرین مذہبی نصوص کے الفاظ کے معنی کی غلط تعبیر کر سکتے ہیں۔
انہوں نے لفظ أحْسَن سے بھی قرآن میں ارتقائی تعبیر کے حق میں استدلال کیا ہے۔ تاہم یہ استدلال بظاہر کمزور اور ضرورت سے زیادہ کشیدہ معلوم ہوتا ہے۔ لغات میں أحْسَن کے اشتقاقی معانی میں حسن، خوب صورت ہونا یا بننا، بہتر کرنا، آراستہ کرنا، نیکی، احسان، عنایت، درست عمل کرنا، کسی چیز کو اچھا سمجھنا، پسند کرنا اور قدر کرنا شامل ہیں (Badawi and Haleem 2008, 209)۔
لہٰذا دجانی کا یہ مفہوم کہ أحْسَن سے مراد "ماحول کے لیے سب سے زیادہ موزوں" ہونا ہے، لغوی اعتبار سے کوئی بہت مضبوط تعبیر نہیں۔ البتہ ایک کمزور درجے میں اسے "درست انداز میں عمل کرنے کے لیے پیدا کیا گیا" یا "کامل انداز میں پیدا کیا گیا" جیسے معانی سے جوڑا جا سکتا ہے، جو کسی حد تک نظریۂ ارتقا کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکتے ہیں(اصول1)۔
لیکن اس سے بھی اہم مسئلہ یہ ہے کہ دجانی نے اس آیت کو اس کے موضوعاتی سیاق سے الگ کر کے پڑھا ہے۔ بعد میں آنے والا استثنا، "سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے"، واضح طور پر بتاتا ہے کہ یہاں بات انسان کی جسمانی ساخت کے بارے میں نہیں ہو رہی۔ اس لیے اس آیت کو کھینچ تان کر ارتقائی تعبیر کے حق میں استعمال کرنا اصل مفہوم سے دور چلا جاتا ہے(اصول2)۔
چنانچہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں حضرت آدمؑ اور نوعِ انسانی کو خصوصی طور پر بلند مقام دیے جانے کا ذکر ہونے کے باوجود، کوئی قرآنی آیت انسانی ارتقا کی واضح تردید نہیں کرتی۔ بلکہ موضوعاتی سیاق میں دیکھنے پر یہ آیات اس مسئلے کے بارے میں غیر جانب دار رہتی ہیں۔
خدا کے ہاتھ
انسانی ارتقا کے خلاف پیش کیے جانے والے آخری دلائل میں سے ایک حضرت آدمؑ کی تخلیق کے ضمن میں خدا کے "ہاتھوں" کا ذکر ہے:
اے ابلیس! تجھے اس شخص کے سامنے سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے پیدا کیا؟ کیا تو نے تکبر کیا، یا تو اپنے آپ کو بہت بلند سمجھنے والوں میں سے ہے؟ (ص، 75)
کیلر انسانی ارتقا کے خلاف استدلال کرتے ہوئے اس آیت کا حوالہ دیتے ہیں۔ تاہم ان کا یہ سمجھنا درست نہیں کہ خدا کے ہاتھ یا ہاتھوں کا ذکر صرف حضرت آدمؑ ہی کے لیے مخصوص ہے۔ جیسا کہ باب 3 میں ذکر ہوا، ایک اور آیت میں مویشیوں کے بارے میں خدا کے "ہاتھوں" کا ذکر جمع کے صیغے کے ساتھ آیا ہے:
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان کے لیے اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے مویشی پیدا کیے، پھر وہ ان کے مالک ہیں؟ (يس، 71)
ایک اور مقام پر بیعت کے حوالے سے خدا کے "ہاتھ" کا ذکر واحد کے صیغے میں کیا گیا ہے:
جو لوگ آپ [نبی ﷺ] سے بیعت کرتے ہیں، وہ درحقیقت اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں؛ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے... (الفتح، 10)
اس بنا پر اگر حضرت آدمؑ کی خصوصی تخلیق کا دعویٰ محض خدا کے "ہاتھ" یا "ہاتھوں" کے ذکر پر قائم کیا جائے تو یہ استدلال اپنی قوت کھو دیتا ہے۔
البتہ کیلرکے موقف میں یہ بات قابلِ لحاظ ہے کہ حضرت آدمؑ کی تخلیق کے ضمن میں خدا کے "دو ہاتھوں" کا ذکر تثنیہ کے صیغے میں صرف حضرت آدمؑ کے لیے آیا ہے۔ آیت کے سیاق میں یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حضرت آدمؑ کسی اعتبار سے خصوصی حیثیت رکھتے ہیں، اور شاید اسی وجہ سے ابلیس کو ان کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
غزالی ان آیات کو لفظی معنی میں نہیں لیتے جن میں خدا کے لیے انسانی اوصاف کا تاثر پیدا ہوتا ہو۔ خدا مخلوق سے منزہ ہے اور اس کے لیے "ہاتھ" جیسے جسمانی اعضا کا تصور نہیں کیا جا سکتا (Shah 2012, 399–654; Kars 2019)۔ اس لیے اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ غزالی اس آیت کا مطلب یہ سمجھتے کہ خدا نے واقعی حضرت آدمؑ کو اپنے دو جسمانی ہاتھوں سے پیدا کیا۔ زیادہ قرینِ قیاس یہ ہے کہ وہ اسے حضرت آدمؑ کی تخلیق کی خصوصی اہمیت کی طرف اشارہ سمجھتے۔
تاہم اگر اس تعبیر میں کسی نوع کی انفرادیت یا خصوصیت تسلیم بھی کر لی جائے، تب بھی یہ واضح نہیں ہوتا کہ وہ انسانی ارتقا سے کس طرح متصادم ہے (اصول1،2)۔
جہاں تک معلوم ہوتا ہے، حضرت آدمؑ اور انسان کی اس خصوصی حیثیت کی بنیاد عموماً روح کو قرار دیا گیا ہے، جو انہیں دوسری مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے (e.g. see Chittick 1989; Al-Ghazālī 2008; Coppens 2018)۔ خود کیلر بھی اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اس تعلق اور معرفت کا محل ذہن نہیں، بلکہ انسان کے اندر موجود ایک لطیف قوت ہے جسے کبھی قلب اور کبھی روح کہا جاتا ہے۔ اللہ کی طرف سے اس قوت کی خصوصی تخلیق کا ذکر اوپر قرآن کے ان الفاظ کے ضمن میں ہو چکا ہے: ’اور میں نے اس میں اپنی روح میں سے پھونک دی۔‘ اہلِ سلوک کے نزدیک یہ لطیف جسم علم، شعور اور ادراک رکھتا ہے، اور جب یہ پوری طرح بیدار ہو جائے تو مخلوقی کائنات کی کثافت سے اوپر اٹھ کر اللہ کی معرفت حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ڈاکٹر اسرار احمد اسی نکتے کو انسانی ارتقا کے تناظر میں حضرت آدمؑ کی تخلیق اور خدا کے "ہاتھوں" کے ذکر سے جوڑتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ تصور معقول ہے کہ جنس ہومو کے کسی ترقی یافتہ فرد کو منتخب کیا گیا ہو، پھر اس میں روح پھونکی گئی ہو اور وہ حضرت آدمؑ بن گیا ہو (Ahmad 2013, 45–46)۔ ان کی تجویز یہ ہے کہ جب خدا حضرت آدمؑ کو اپنے "دو ہاتھوں" سے پیدا کرنے کا ذکر کرتا ہے تو ممکن ہے اس سے اسی مرحلے کی طرف اشارہ ہو جب حضرت آدمؑ کے جسمانی قالب میں روح پھونکی گئی۔ ایسی تعبیر نظریۂ ارتقا کے ساتھ بہ آسانی ہم آہنگ ہو سکتی ہے (Ahmad 2013, 47)۔
اس امکان کو سامنے رکھتے ہوئے صرف اس آیت پر انحصار کرنا، جس میں خدا کے "دو ہاتھوں" کا ذکر ہے، انسانی ارتقا کی نفی کے لیے لازماً کوئی مضبوط دلیل نہیں بنتا (اصول 5 اور 6)۔
آخر میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ: اس آیت کو انسانی ارتقا کے خلاف دلیل بنانے کے لیے پہلے یہ فرض کرنا ہوگا کہ ’خدا کے ہاتھ' فطری حیاتیاتی نشوونما میں کارفرما نہیں ہوتے، لیکن یہ مفروضہ بھی بذاتِ خود واضح نہیں ہے‘ (Majid 2015, 100)۔ دوسرے لفظوں میں، آیت میں حضرت آدمؑ کی طرف جس خصوصی توجہ کی نشان دہی ہوتی ہے، وہ ان کی تخلیق کے حیاتیاتی پہلو کی نفی نہیں کرتی۔
غزالی کے مابعد الطبیعیاتی تصور کی روشنی میں یہ نکتہ اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔ اگر نظریۂ عادت درست ہے تو کیا خدا ہر موجود کو براہِ راست قائم اور برقرار نہیں رکھتا؟ اور کیا یہ براہِ راست الٰہی فعل ارتقائی عمل کو بھی شامل نہیں کر سکتا؟ ان تمام وجوہ کی بنا پر خدا کے "ہاتھوں" کا ذکر اس بات کو واضح اور قطعی طور پر ثابت نہیں کرتا کہ انسانی ارتقا کو رد کر دیا جائے۔
عدمِ استثنا کے موقف کے دلائل
اس موقف کو بنیادی طور پر تین طریقوں سے پیش کیا جاتا ہے۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ حضرت آدمؑ کی تخلیق کے واقعے کو غیر لفظی یا مجازی طور پر پڑھا جائے۔ دوسرا طریقہ بشر اور انسان کے درمیان امتیاز سے استدلال کرتا ہے۔ تیسرا طریقہ ان آیات میں ارتقا کے مفہوم کو تلاش کرتا ہے جو بذاتِ خود، یا دوسری آیات کے ساتھ ملا کر، ارتقا کے حق میں کسی تعبیر کی گنجائش پیدا کرتی ہیں۔ اب ہم ان تینوں طریقوں کا بالترتیب جائزہ لیتے ہیں۔
حضرت آدمؑ کی تخلیق کی مجازی تعبیر
جیسا کہ باب 4 میں ہم نے دیکھا، رعنا دجانی اور علامہ محمد اقبال حضرت آدمؑ کی تخلیق کے واقعے کو غیر لفظی انداز میں سمجھتے ہیں۔ دجانی کے نزدیک حضرت آدمؑ کی تخلیق کا بیان ایک استعارہ ہے، اور اس تمثیلی کہانی کا مقصد اخلاقی اسباق پہنچانا ہے:
قرآن میں حضرت آدمؑ کا واقعہ، اور اسی طرح دوسری کہانیاں بھی، لفظی طور پر نہیں لی جانی چاہییں۔ یہ ایسی تمثیلات ہیں جن سے سبق سیکھنا مقصود ہے۔ انسانی ارتقا کا عمل تدریجی تھا اور اس کا تعلق انسانی گروہوں سے تھا جو اپنے سابقہ اجداد سے ارتقا پذیر ہوئے۔ (Dajani 2016,146)
محمد اقبال یہ تجویز کرتے ہیں کہ آدم ایک تاریخی فرد سے زیادہ نوعِ انسانی کی علامت ہیں:
درحقیقت ان آیات میں جن میں انسان کی ایک زندہ مخلوق کی حیثیت سے ابتدا کا ذکر ہے، قرآن آدم کا لفظ استعمال نہیں کرتا بلکہ بشر یا انسان کے الفاظ استعمال کرتا ہے۔ آدم کا لفظ اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب انسان کو زمین پر خدا کے نائب کی حیثیت سے بیان کیا جاتا ہے۔ قرآن کا مقصود اس بات سے بھی مزید واضح ہوتا ہے کہ بائبل کے بیان میں آنے والے شخصی نام، آدم اور حوا یہاں حذف کر دیے گئے ہیں۔ لفظ آدم برقرار ضرور رکھا گیا ہے، لیکن اسے کسی معین انسانی فرد کے نام کے بجائے زیادہ تر ایک تصور کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔(Iqbal 2012, 66)
دونوں کا موقف یہ ہے کہ حضرت آدمؑ کا ذکر کرنے والی آیات کو لفظی معنی میں نہیں لیا جا سکتا۔ باب 9 میں بیان کیے گئے غزالی کے پانچ درجاتی اصولِ تعبیر کی روشنی میں دیکھا جائے تو وہ دونوں کے طریقۂ کار سے اختلاف کرتے۔
دجانی، اور غالباً اقبال بھی، ان آیات کو غیر لفظی طور پر اس لیے پڑھتے ہیں کہ ان کے نزدیک نظریۂ ارتقا اس بیانیے سے متصادم ہے۔ ان کے منہج میں سائنس ایک نہایت نمایاں اور فعال عامل دکھائی دیتی ہے۔ اس کے برعکس غزالی کا منہج سائنسی معیارات کا اس درجے میں پابند نہیں۔
اس کی وجہ یہ نہیں کہ غزالی سائنس مخالف یا غیر سائنسی تھے۔ جیسا کہ باب 9 میں ہم نے دیکھا، غزالی سائنس دانوں کی اس علمی حیثیت کو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ ان قدرتی مظاہر کی نہایت دقیق اور تفصیلی توضیح کر سکتے ہیں جن کا قرآن میں صرف اجمالی طور پر ذکر آیا ہے۔ غزالی کا اصولِ تعبیر ان کے مابعد الطبیعیاتی فریم ورک، یعنی occasionalism، کے ساتھ ہم آہنگ ہے، جس میں معجزات حقیقی اور ممکن واقعات ہیں۔ اسی لیے غزالی معجزاتی واقعات کو غیر لفظی معنی میں لینے پر مجبور نہیں ہوتے۔
اگرچہ دجانی اور اقبال کا فریم ورک ابن سینا کے فریم ورک جیسا نہیں، لیکن سائنس کو اس بات کا معیار بنا دینا کہ مابعد الطبیعیاتی اور تعبیری طور پر کیا ممکن ہے اور کیا نہیں، وہی نوعیت کے سوالات پیدا کرتا ہے۔ جیسا کہ گیسوم کے بارے میں اوپر کہا گیا، غزالی کے فریم ورک سے دیکھیں تو اس طرزِ عمل کو تعبیری سائنس پرستی (hermeneutic scientism) کی ایک صورت سمجھا جا سکتا ہے۔
ان منہجی اختلافات کے علاوہ، اس طریقۂ کار میں اپنی داخلی بنیادوں پر بھی چند مسائل موجود ہیں۔
اول، متن میں ایسا کوئی سیاقی قرینہ موجود نہیں جو یہ بتاتا ہو کہ یہاں مجازی یا تمثیلی معنی مراد ہیں، خواہ واقعات کے حوالے سے ہو، مثلاً حضرت آدمؑ اور حوا کا جنت سے اترنا یا وہ کرداروں کے حوالے سے، مثلاً آدمؑ، حوا اور شیطان (اصول1 اور 2)۔
دوم، قرآن کو مجموعی طور پر دیکھنے سے بھی ایسا کوئی اشارہ نہیں ملتا، حتیٰ کہ ضمنی طور پر بھی نہیں، کہ حضرت آدمؑ کو غیر لفظی طور پر سمجھا جائے، کیونکہ ان کا ذکر قرآن میں متعدد مقامات پر ایک دوسرے کی تائید کرتا ہوا سامنے آتا ہے (اصول 2)۔ درج ذیل آیات پر غور کیجیے:
اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا: آدم کو سجدہ کرو، تو سب نے سجدہ کیا، سوائے ابلیس کے؛ اس نے انکار کیا اور تکبر کیا، اور وہ نافرمانوں میں سے تھا۔ اور ہم نے کہا: اے آدم! تم اور تمہاری بیوی اس باغ میں رہو، اور جہاں سے چاہو فراخی کے ساتھ کھاؤ، لیکن اس درخت کے قریب نہ جانا، ورنہ تم دونوں ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔ (البقرۃ،34، 35)
[اے نبی!] انہیں آدم کے دو بیٹوں کا واقعہ سچائی کے ساتھ سنائیے، جب دونوں نے قربانی پیش کی، تو ایک کی قبول ہوئی اور دوسرے کی نہ ہوئی۔ ایک نے کہا: میں تمہیں قتل کر دوں گا۔ دوسرے نے کہا: اللہ تو صرف متقیوں ہی سے قبول کرتا ہے۔ (المائدۃ، 27)
بے شک اللہ نے آدم، نوح، آلِ ابراہیم اور آلِ عمران کو تمام جہان والوں پر برگزیدہ کیا۔ (آل عمران، 33، 34)
سورہ البقرہ کی آیت 34، 35 میں خدا فرشتوں کو حضرت آدمؑ کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیتا ہے، اور سب سجدہ کرتے ہیں سوائے شیطان کے۔ پھر خدا حضرت آدمؑ سے براہِ راست خطاب کرتا ہے اور انہیں اپنی بیوی کے ساتھ جنت میں رہنے کا حکم دیتا ہے۔ المائدہ کی آیت 27 میں میں حضرت آدمؑ کے دو مخصوص بیٹوں، یعنی قابیل اور ہابیل، کا ذکر ہے۔ آل عمران کی آیات 33، 34 میں حضرت آدمؑ کا ذکر حضرت نوحؑ اور حضرت ابراہیمؑ کے ساتھ ان منتخب ہستیوں کے طور پر کیا گیا ہے جنہیں خدا نے ایک مربوط سلسلۂ نسب میں برگزیدہ کیا۔
خدا کا حضرت آدمؑ سے خطاب کرنا، ان کی بیوی اور ان کے بیٹوں کا ذکر، اور ان تمام امور کی قرآن اور احادیث میں متعدد مقامات پر تائید، اس قدر واضح اور کثرت سے موجود ہے کہ انہیں محض ایک ہی قلمی جنبش سے استعارہ قرار دینا آسان نہیں۔
یقیناً یہ تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ صرف اس بنا پر یہ لازم نہیں آتا کہ ان سب کی مجازی تعبیر سرے سے ناممکن ہو، خواہ مجموعی طور پر ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن درج ذیل دو اعتراضات اس استدلال کو مزید تقویت دیتے ہیں۔
ایک اعتراض آل عمران کی مذکورہ آیت سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ آیت ان متعدد مقامات میں سے ایک ہے جہاں حضرت آدمؑ کا ذکر دوسرے معروف انبیا کے ساتھ آیا ہے۔ اگر دجانی یا اقبال کی تعبیر کو پورے قرآن میں یکساں طور پر نافذ کیا جائے تو اس سے یہ لازم آئے گا کہ اگر آدم محض استعارہ یا علامت ہیں تو نوحؑ اور ابراہیمؑ کو بھی اسی طرح استعارہ یا علامت سمجھنا چاہیے، جیسا کہ باب 4 میں مولانا محمد شہاب الدین ندوی کے استدلال کے ضمن میں ذکر ہوا تھا۔
اسی طرح وہ آیت بھی موجود ہے جس میں حضرت آدمؑ کو حضرت عیسیٰؑ سے تشبیہ دی گئی ہے (آل عمران، 59)، اور وہ بھی یہی نوعیت کا اشکال پیدا کرتی ہے۔
یہ آیات مجموعی طور پر اس موقف کو برقرار رکھنا بہت مشکل بنا دیتی ہیں کہ حضرت آدمؑ محض ایک استعارہ یا علامت تھے، کیونکہ اس سے قرآن میں مذکور دوسرے انبیا کے واقعات کی تاریخی صداقت بھی زیرِ سوال آ سکتی ہے۔
اگر اس اصول کو مستقل مزاجی کے ساتھ نافذ کیا جائے تو، چونکہ نوحؑ اور ابراہیمؑ کا ذکر حضرت آدمؑ کے ساتھ ایک ہی آیت میں ہوا ہے، انہیں بھی استعارہ یا علامت قرار دینا پڑے گا؛ پھر جہاں ان کا ذکر الگ سے آئے، وہاں بھی انہیں تاریخی افراد کے بجائے محض استعارہ سمجھنے کا امکان پیدا ہو جائے گا۔ یہی مسئلہ ان دوسرے انبیا کے بارے میں بھی پیدا ہوگا جن کا ذکر حضرت آدمؑ کے ساتھ یا اس نوع کے سیاق میں آیا ہے۔
اس سے متعدد اعتقادی مسائل جنم لیں گے، کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ قرآن کا ایک بڑا حصہ فرضی حکایات پر مشتمل ہے، جبکہ خود قرآن ایسا تاثر نہیں دیتا (الأنعام، 25؛ النساء، 164؛ ہود، 120؛ الکہف، 13؛ طٰہٰ، 99؛ غافر، 78)۔
چنانچہ اگر حضرت آدمؑ کو استعارہ یا علامت قرار دینے کے اس اصول کو مستقل طور پر نافذ کیا جائے تو اس کے دور رس نتائج کے باعث پورے قرآنی بیانیے کے افسانوی اور غیر مربوط بن جانے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے (اصول2)۔
ایک اور مسئلہ من مانے پن (arbitrariness) کا ہے، اور یہ گزشتہ اعتراض سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ تیسرے اعتراض کے جواب میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ بعض مقامات پر حضرت آدمؑ کو بطور استعارہ یا علامت پڑھا جائے، جبکہ دوسرے مقامات پر انہیں ایک حقیقی تاریخی شخصیت سمجھا جائے۔ اس طرح یہ اعتراض ختم ہو سکتا ہے کہ پورا قرآن فرضی حکایات کی کتاب بن جاتا ہے۔
لیکن جب تک ایسا کوئی واضح اصولِ تعبیر فراہم نہ کیا جائے جس کی بنیاد پر یہ متعین ہو سکے کہ حضرت آدمؑ کا ذکر کہاں مجازی ہے اور کہاں لفظی، ایسی تعبیر حد سے زیادہ من مانی بن جاتی ہے۔
مثلاً آل عمران کی وہ آیت دوبارہ دیکھیں، جس میں حضرت آدمؑ کا ذکر حضرت نوحؑ اور حضرت ابراہیمؑ کے ساتھ آیا ہے۔ اگر دجانی یا اقبال اپنی تعبیر میں یکسانیت برقرار رکھنا چاہیں تو انہیں آیت کے پہلے حصے کو مجازی یا علامتی، اور دوسرے حصے کو لفظی سمجھنا پڑے گا۔ لیکن کسی غیر من مانے اصول کے بغیر یہ امتیاز کیسے قائم کیا جائے گا؟ واضح اور یکساں اصولِ تعبیر کے بغیر ان کا منہج بے ضابطہ اور من مانا قرار پائے گا (اصول 2 اور 3)۔
خصوصاً دجانی کا طریقۂ کار خاصا مبہم دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف وہ یہ اصرار کرتی ہیں کہ قرآن سائنس کی کتاب نہیں، لیکن دوسری طرف وہ بعض الفاظ اور آیات میں ارتقا سے موافق معانی تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہیں، جیسا کہ ان کے ہاں لفظ أحْسَن کی تعبیر میں ہم نے دیکھا۔ اس سے ان کا طریقۂ کار غیر واضح اور غیر یکساں معلوم ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ غزالی کے فریم ورک میں حضرت آدمؑ کے واقعے کی مجازی تعبیر ممکن ہے۔ مثلاً اسے نوعِ انسانی کے لیے توبہ کی قوت کی علامت سمجھا جا سکتا ہے، کیونکہ درخت سے کھانے کے بعد حضرت آدمؑ نے معافی مانگی اور خدا نے انہیں معاف کر دیا (الأعراف، 23)۔
لیکن ایسی مجازی تعبیر کو لفظی اور ظاہری تعبیر کے ساتھ برقرار رکھنا ہوگا، اس کے بدل کے طور پر نہیں۔ جیسا کہ باب 10 میں ذکر ہوا، غزالی مجازی تعبیرات کا انکار نہیں کرتے، بشرطیکہ وہ ظاہری معنی کے ساتھ ہم آہنگ طور پر پڑھی جائیں (اصول 3)۔
غزالی کے نزدیک مسئلہ صرف اس وقت پیدا ہوگا جب کسی بالکل معقول اور معتبر ظاہری تعبیر کو واضح دلیل کے بغیر ترک کر کے اس کی جگہ زیادہ مجازی تعبیر اختیار کر لی جائے۔
(جاری)






















