’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۱)

اشعریت اور DAP

جیسا کہ پچھلے دو حصوں سے اندازہ کیا جا سکتا ہے، اشعریت اور DAP بنیادی طور پر ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ DAP سے وابستہ مفکرین قدرتی سائنسز کے وقار کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں، اسی لیے وہ معجزات سے گریز کرتے ہیں۔ اس منصوبے کو آگے بڑھانے والا اصل تضاد یہ ہے کہ ایک طرف معجزات کی غیر معمولی اور قاعدے سے ہٹی ہوئی نوعیت ہے، اور دوسری طرف فطرت کے غیر متغیر قوانین—اور ان دونوں میں تطبیق پیدا نہیں ہو پاتی۔ یہ بات قابلِ فہم ہے، کیونکہ موجودہ دور میں سائنس ایک اہم ثقافتی قوت بن چکی ہے، اور معجزات کی بات کرنا بسا اوقات تقریباً شرمندگی کا باعث محسوس ہوتا ہے۔  اس نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے مسیحی الٰہیات دان جان میکوارئی کا یہ قول نقل کرتے ہیں:

معجزے کو اس انداز سے سمجھنا جو فطری نظم میں رخنوں اور ماورائے فطرت مداخلتوں پر مبنی ہو، ایک اساطیری طرزِ فکر سے تعلق رکھتا ہے، اور مابعدِ اساطیری فکری فضا میں وہ قابلِ قبول نہیں رہتا۔ … معجزے کا روایتی تصور ہماری جدید سائنسی اور تاریخی فہم،  دونوں سے ہم آہنگ نہیں ہو سکتا۔ سائنس اس مفروضے پر آگے بڑھتی ہے کہ دنیا میں رونما ہونے والے تمام واقعات کی توضیح اُن ہی دوسرے واقعات کی بنیاد پر کی جا سکتی ہے جو اسی دنیا کے دائرے میں آتے ہیں؛ اور اگر بعض مواقع پر ہم کسی واقعے کی مکمل وضاحت کرنے سے قاصر رہتے ہیں … تو سائنسی یقین یہ ہوتا ہے کہ مزید تحقیق اس صورتِ حال کے مزید عوامل کو آشکار کر دے گی—مگر وہ عوامل بھی اتنے ہی درونِ عالم اور اسی جہان سے متعلق ہوں گے جتنے وہ عوامل جو پہلے سے معلوم ہیں (Plantinga 2011,17)۔

 چنانچہ DAP ایک جدید منصوبہ ہے، اور غالباً اسے جدید سائنس کی بڑھتی ہوئی ثقافتی قوت اور دباؤ کے جواب میں الٰہیات کے روشن خیال منصوبے کی توسیع سمجھا جا سکتا ہے (Placher 1996)۔ ایک اور مسیحی الٰہیات دانلینگڈن گلکی Langdon Gilkey، اسی نکتے کو اس طرح بیان کرتے ہیں:

چنانچہ معاصر الٰہیات نہ تو فطری اور تاریخی زندگی کے ظاہری بہاؤ میں کسی غیر معمولی الٰہی مداخلت کی توقع رکھتی ہے اور نہ ہی اس نوع کے واقعات کی بات کرتی ہے۔ زمان و مکان کے دائرے میں اسباب و علل کا وہ منظم سلسلہ، جسے عہدِ تنویر / عصرِ روشن خیالی کی سائنس اور فلسفے نے مغربی ذہن میں راسخ کیا، جدید الٰہیات دانوں اور محققین کے ہاں بھی ایک بنیادی مفروضہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ وہ فکری اور عملی دونوں اعتبار سے جدید سائنسی دنیا کا حصہ ہیں، اس لیے اس سے ہٹ کر کسی اور زاویہ نظر کو اختیار کرنا ان کے لیے عملاً ممکن نہیں رہتا (Alvin Plantinga 2011, 69)۔

اشاعرہ اس تصور کو اصولی طور پر مسترد کرتے ہیں کہ خدا کے فطری دنیا میں کردار کو سمجھنے کے لیے سائنس کو نقطۂ آغاز بنایا جائے۔ یہ مفروضہ—جو DAP کے لیے ایک بنیادی اساس کی حیثیت رکھتا ہے—اشاعرہ کے نزدیک کسی مسلمہ اصول  کے طور پر قابلِ قبول نہیں۔ اشعری فکر کا نقطۂ آغاز تخلیق کی ہمہ گیر امکانیت (radical contingency) اور اس کی ساختی خصوصیات کے ساتھ ساتھ خدا کی مطلق قدرتِ کاملہ ہے۔ خدا کی تخلیقی صلاحیتیں نہ تو اس چیز سے محدود ہوتی ہیں جسے وہ پیدا کرتا ہے (یعنی کائنات)، اور نہ ہی اس چیز سے جس کا وہ حکم دیتا ہے (یعنی اخلاق، جس پر باب 8 میں گفتگو آئے گی)۔

نظریہ اتفاقیت (occasionalism) کے تحت، معجزات اور فطرت کے قوانین، دونوں خدا کی مشیت اور قدرت کے براہِ راست اظہار کے نتائج ہیں۔ لہٰذا خدا کے افعال کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ سائنس کی حدود کے تابع ہیں، اور اسی کے ساتھ معجزات کو رد کر دینا، اشعری تناظر میں سائنس پرستی (scientism) کی ایک صورت سمجھا جائے گا۔ یہاں سائنس پرستی سے مراد ایک ایسی نظریاتی سوچ ہے جس کے تحت ہر شے کو سائنس کے پیمانے پر پرکھا جاتا ہے، جب کہ خود سائنس ایک طریقہ کار ہے جس کے ذریعے ہم دنیا کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، اور ان دونوں میں امتیاز ضروری ہے۔

DAP اور اشعریت کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ DAP کے مطابق خدا کو اسباب کے سلسلے میں ایک سبب کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جب کہ اشعریت کے نزدیک خدا اسباب کا سبب ہے۔ دوسرے الفاظ میں، DAP کا منصوبہ بظاہر توضیح اور سببیت کی ایک دوئی پیش کرتا ہے: خدا یا فطرت کے قوانین۔ اس کے برعکس، اشاعرہ خدا کو اس کی مخلوق سے بالکل مختلف درجے کی ہستی سمجھتے ہیں۔ اشعری فکری تناظر میں خدا اور فطرت دو الگ الگ نوع کی توضیحات ہیں: خدا علتِ اوّلی (primary cause) ہے اور فطرت علتِ ثانوی (secondary cause)۔ چنانچہ اشعری فکر میں کسی بھی واقعے کی توضیح ہمیشہ ایک مجموعی ربط  کے طور پر سمجھی جاتی ہے، یعنی خدا اور تخلیق دونوں۔

درجہ بندیوں ے حوالے سے اشاعرہ GDA اور SDA کے درمیان کسی بھی قسم کی تقسیم کو رد کریں گے، کیونکہ نظریہ اتفاقیت کے تحت عام اور خاص واقعات میں تمیز کرنا بے معنی ہو جاتا ہے، اس لیے کہ تمام اثرات علت کے اعتبار سے براہِ راست خدا کی مشیت میں جڑے ہوتے ہیں۔ اشعری نقطہ نظر سے خدا کی مداخلت اور عدمِ مداخلت کے تصور پر قائم پوری بحث ہی کسی حد تک غیر موزوں اور بے محل نظر آتی ہے۔ اس امتیاز کی بنیاد یہ مفروضہ ہے کہ فطرت کے قوانین کسی نہ کسی درجے میں ایک خودمختار وجودی فعالیت رکھتے ہیں جو ازخود جاری رہتی ہے، اور خدا ضرورت پڑنے پر یا تو پیچھے ہٹ جاتا ہے یا مداخلت کرتا ہے۔

اشعری تناظر میں، اس کے برعکس، خدا ہر لمحہ زمانی ترتیب سے ماورا، فطرت کے قوانین اور موجودات کو براہِ راست ارادہ کرتا اور قائم رکھتا ہے۔ اس لیے معاملے کو مداخلت یا عدمِ مداخلت کی صورت میں پیش کرنا فی نفسہٖ قابلِ اطلاق نہیں رہتا۔ تاہم، اگر مختلف الٰہیاتی ماڈلز کے تقابلی مطالعے کے لیے کوئی مشترک زبان اختیار کی جائے، توحد درجہ مداخلت hyper-interventionism  کا تصور ایک مناسب اصطلاح کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

جہاں ہم سازیت (compatibilism) اور عدمِ ہم سازیت (incompatibilism) کی دوئی کا تعلق ہے، اشاعرہ کو اصولی طور پر ہم سازیت کے دائرے میں رکھا جا سکتا ہے، تاہم یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ ہم سازیت لازماً خدا کے خاص افعال کے تصور (SDA) کے ذریعے قائم نہیں ہوتی۔ آگے چل کر یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اشعری نقطہ نظر میں اس امر سے کوئی بنیادی فرق واقع نہیں ہوتا کہ کائنات طبعی اعتبار سے معین ہو یا غیر معین۔ آخر میں، فطرت کے قوانین کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اشعری موقف میں دونوں پہلوؤں کی گنجائش موجود ہے۔ یہاں فطرت کے قوانین اور سائنس کے قوانین کے درمیان پہلے بیان کیا گیا امتیاز مددگار ثابت ہوگا۔ فطرت کے قوانین اس معنی میں تجویزی ہیں کہ وہ خدا کی مشیت سے مقرر ہیں، جب کہ سائنس کے قوانین فطرت کے انہی قوانین کی توصیفی توضیحات ہیں۔ یوں اشاعرہ اپنی پوزیشن کی وضاحت کے لیے دونوں عناصر کو مفید سمجھتے ہیں۔DAP اور اشعری فکری تناظر کے درمیان فرق کا خلاصہ اصل کتاب کے صفحہ 193پر موجود جدول6.2  میں دیکھا جاسکتا ہے۔

طبعیت پسندی، تصادف اور عدم معنویت کے اعتراضات

اشعریت کے DAP سے تعلق کو واضح کرنے اور اس بحث میں استعمال ہونے والی بنیادی اصطلاحات سے واقف ہو لینے کے بعد، اب ہم اس باب کے آغاز میں اٹھائے گئے نظریہ ارتقا سے متعلق تین بنیادی اعتراضات پر غور کر سکتے ہیں۔ ذیل میں یہ تینوں اعتراضات، یعنی طبعیت پسندی کا اعتراض، تصادف کا اعتراض، اور عدمِ معنویت کا اعتراض، اسی ترتیب سے زیرِ بحث آئیں گے جس ترتیب سے انہیں ابتدا میں پیش کیا گیا تھا۔

طبعیت پسندی کا مسئلہ

جیسا کہ باب 4 میں پہلے واضح کیا جا چکا ہےکہ بعض مفکرین یہ سمجھتے ہیں کہ نظریہ ارتقا بالخصوص قدرتی انتخاب کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خدا کا فطری دنیا میں کوئی فعال کردار باقی نہیں رہتا۔ مثال کے طور پر نوح ہامیم کیلر جو انسانی اختصاص (human exceptionalism) کے قائل ہیں، شعور کے مسئلے کو اس وقت سنگین سمجھتے ہیں جب اسے ارتقائی عمل کی پیداوار مانا جائے۔ ان کے مطابق اگر ارتقائی مفکرین یہ فرض کرتے ہیں کہ "انسانی شعور" بھی ارتقا کے زیرِ اثر ہے، تو پھر عدد، مکان، زمان، پیمائش، منطق، سببیت وغیرہ جیسے تمام تصورات محض کسی مخصوص نوع میں وقوع پذیر ہونے والے اتفاقی تغیرات اور قدرتی انتخاب کے جسمانی حادثات  بن کر رہ جاتے ہیں (Keller 2011, 351)۔ اس بنیاد پر وہ یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ یوں نظریے کے اندر دیا جانے والا ہر بیان اُن غیر شعوری اور اُن اندھے تاریخی عوامل سے صادر ہوتا ہے جنہوں نے 'شعور'  کو پیدا کیا (Keller 2011, 351)۔ گویا کیلر ارتقا پر اپنے شکوک کا اظہار اس وجہ سے کرتے ہیں کہ اس کے نتائج انسانی شعور کی معنویت اور اعتماد کو مجروح کرتے ہیں۔

اسی نوعیت کی تشویش امریکی فلسفی الوِن پلینٹنگا Alvin Plantinga نے بھی ظاہر کی ہے، جنہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ اگر انسانی ادراک ارتقائی عمل کے ذریعے وجود میں آیا ہو تو اس پر اعتماد کی کیا بنیاد باقی رہتی ہے (Plantinga 2011, 311)۔ تاہم، پلینٹنگا کے نزدیک مسئلہ محض ارتقا بذاتِ خود نہیں۔ ان کا مکمل استدلال یہ ہے کہ سخت طبعیت پسندانہ تناظر میں سائنسی ارتقا پر ایمان رکھنا ممکن نہیں، کیونکہ اصل اشکال ارتقا اور طبعیت پسندی کے امتزاج سے پیدا ہوتا ہے۔ یہی امتزاج انسان کو اپنے ادراکی آلات پر اعتماد کرنے میں شکوک میں مبتلا کر دیتا ہے۔

یہاں اصل تشویش واضح کرنے اور دو ٹوک انداز میں سامنے لانے کے لیے دو الگ الگ نکات کو ایک دوسرے سے الگ کرنا ضروری ہے۔

اوّل، علمیاتی سطح پر وہ مسئلہ ہے جو طبعیت پسندی اور نظریہ ارتقا کے باہمی امتزاج سے پیدا ہوتا ہے۔ اگر یہ امتزاج درست مان لیا جائے تو، جیسا کہ نوح ہا میم کیلر اور الوِن پلینٹنگا  دونوں نے نشان دہی کی ہے، یہ امکان پیدا ہو جاتا ہے کہ انسانی شعور کی صداقت اور اس پر اعتماد کی بنیاد ہی مشکوک ہو جائے۔ دوم، ایک ما بعد الطبیعی سوال یہ ہے کہ آیا خود طبعیت پسندی درست نظریہ ہے یا نہیں۔ اس مقام پر اصل توجہ اسی دوسرے سوال پر مرکوز ہے، کیونکہ اگر یہ دکھایا جا سکے کہ نظریہ ارتقا کو لازماً سخت طبعیت پسندانہ تعبیر میں سمجھنا ضروری نہیں، تو اس کے ساتھ ہی علمیاتی سطح پر پیدا ہونے والی کشیدگی بھی بڑی حد تک کم ہو جاتی ہے۔

پلینٹنگا خود بھی اس امتیاز کو نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ جب وہ ارتقا اور طبعیت پسندی کے امتزاج سے پیدا ہونے والے علمیاتی مسائل پر تنقید کرتے ہیں تو اپنا مشہور طبعیت پسندی کے خلاف ارتقائی استدلال (EAAN) پیش کرتے ہیں۔ لیکن جب وہ طبعیت پسندی کو بذاتِ خود ایک ما بعد الطبیعی موقف کے طور پر پرکھتے ہیں، تو وہ فلسفیانہ طبعیت پسندی اور منہجی طبعیت پسندی کے درمیان فرق قائم کرتے ہیں، تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ مسیحی مفکرین دوسری صورت (منہجی طبعیت پسندی) کے تحت نظریہ ارتقا کو بآسانی قبول کر سکتے ہیں، جب کہ پہلی صورت (فلسفیانہ طبعیت پسندی) کے تحت نہیں (Plantinga 2011, 168–177)۔

بالکل یہی نکتہ یہاں اشعری فکر کے زاویہ نظر سے پیش کیا جا رہا ہے: یعنی ارتقا کو قبول کرنا لازماً طبعیت پسندی کو قبول کرنے کے مترادف نہیں، اور جب یہ فرق واضح کر دیا جائے تو علمیاتی اشکالات خود بخود اپنی شدت کھو دیتے ہیں۔

یہی پلینٹنگا کا مشہور ارتقائی استدلال بر ضدِ طبعیت پسندی (Evolutionary Argument Against Naturalism: EAAN) ہے (Plantinga 2011, 307–350)۔ متبادل کے طور پر، پلینٹنگا یہ تجویز دیتے ہیں کہ اگر ارتقا کو الٰہیاتی تناظر میں یعنی طبعیت پسندی کے بجائے قبول کیا جائے، تو یہ اشکال خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔

اب یہاں پر طبعیت پسندی کی دو اقسام کے درمیان فرق واضح کرنا مفید ہوگا۔ فلسفیانہ، مابعد الطبیعی یا وجودی طبعیت پسندی (جسے آگے PN کہا جائے گا) ماورائے فطرت ہستیوں کے وجود کی صریح نفی کرتی ہے (Draper 2005, 279)۔ اس نفی کے نتیجے میں وہ سوالات جو روایتی طور پر مذہب کے دائرے میں آتے رہے ہیں، متبادل جوابات کے ساتھ ازسرِنو مرتب کیے جاتے ہیں، مثلاً: کیا کوئی خالق ہے؟ کیا فرشتے موجود ہیں؟ کیا موت کے بعد زندگی ہے؟ وغیرہ۔ فلسفیانہ طبعیت پسندی کے زاویہ نظر سے ان تمام سوالات کا جواب نفی میں دیا جاتا ہے، کیونکہ اس کے نزدیک صرف وہی فطری دنیا موجود ہے جو زمان و مکان کی حدود میں مقید ہے، اور اسی دنیا کو ہر قسم کے جواب کی آخری کسوٹی سمجھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس منہجی طبعیت پسندی (MN) کا مفہوم یہ ہے کہ سائنس دان اپنی تحقیق میں صرف فطری مظاہر پر توجہ دیتے ہیں اور انہیں ماورائے فطرت کے ساتھ جوڑنے کی کوشش نہیں کرتے۔ دوسرے لفظوں میں، MN  کے تحت سائنس محض فطری دنیا کا ایک منہجی مطالعہ ہے، جبکہ اس سوال کو معلق چھوڑ دیا جاتا ہے کہ آیا ماورائے فطرت ہستیاں موجود ہیں یا نہیں (Draper 2005, 279)۔ چنانچہ MN  ایک علمیاتی یا منہجی موقف ہے، نہ کہ وجودی دعویٰ۔

اسی بنا پر MN  کے ساتھ یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص بیک وقت ایمان دار بھی ہو اور سائنس دان بھی، جب کہ PN  کے تحت یہ امکان اصولی طور پر ختم ہو جاتا ہے۔

کیلر کی طرف دوبارہ رجوع کریں تو وہ یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ اہلِ ایمان کے نزدیک مادی دنیا اور ماورائے فطرت کے درمیان ایک ایسا "ہموار نورانی پردہ" حائل ہے جو تخلیق کے کمال کے ذریعے الوہیت کو نمایاں کرتا ہے، جبکہ وہ لوگ جو آدم کے معاملے میں ارتقا کے امکان کو تسلیم کرتے ہیں (اور یاد رہے کہ اس سیاق میں کیلر کے نزدیک اس کا مطلب طبعیت پسندی ہے) اس کائنات کو "باہم پیوست سببی تعلقات کا ایک کامل جال" سمجھتے ہیں، جس میں کسی ایسی شے کی گنجائش نہیں رہتی جو مادی نہ ہو (Keller 2011, 357)۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ کیلر یہاں فلسفیانہ طبعیت پسندی (PN) اور منہجی طبعیت پسندی (MN) کے درمیان مفید اور ضروری امتیاز قائم کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اس کے برعکس الوِن پلینٹنگا کے نزدیک مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سائنس کے ساتھ اضافی "فلسفیانہ رنگ" شامل کر دیا جائے۔ یعنی اسے فلسفیانہ طبعیت پسندی کے تحت سمجھا جائے۔ خصوصاً اس وقت جب یہ تصور قائم کیا جائے کہ "ارتقا نہ ہدایتی ہے، نہ رہنمائی یافتہ، اور نہ ہی خدا کی طرف سے منظم (Plantinga 2011, xii)۔ اگر ارتقا کو منہجی طبعیت پسندی کے زاویے سے دیکھا جائے تو خدا کا فطری دنیا سے کٹ جانا لازمی نتیجہ نہیں بنتا، اور اس طرح ارتقا کی ایسی تعبیرات کی گنجائش پیدا ہو جاتی ہے جو الٰہیاتی نقطہ نظر سے قابلِ قبول ہوں۔ مثلاً دانشمندانہ منصوبہ بندی (intelligent design)  یا الٰہیاتی ارتقا (Scott 2009, 53–76) (theistic evolution)۔

ارتقا کی تخصیص (Evolution Exclusionism)

فلسفیانہ طبعیت پسندی (PN) اور منہجی طبعیت پسندی (MN) کے درمیان امتیاز قائم کرنے سے بحث کو تقویت تو ملتی ہے، تاہم اس کے ساتھ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ بعض مفکرین ارتقا کو واحد سائنسی نظریہ سمجھتے ہیں جو لازماً PN  کے دائرے میں آتا ہے۔ اس کے مقابلے میں کیمیا، طبیعیات، انجینئرنگ، جغرافیہ اور دیگر متعدد علوم یا تو نظرانداز کر دیے جاتے ہیں یا کم از کم اس بحث سے خارج رہتے ہیں۔

یہ رویہ فکری طور پر غیر ہم آہنگ معلوم ہوتا ہے کہ ایک طرف ارتقا کو طبعیت پسندی کے مسئلے (PON) کا حامل قرار دیا جائے، جبکہ دوسری طرف الیکٹران، ایٹم، طبعی لہریں، جینز اور دیگر تمام سائنسی طور پر قابلِ تعین ہستیاں اسی طبعیت پسندانہ فریم ورک کے اندر بلا اشکال محفوظ سمجھی جائیں۔ اگر طبعیت پسندی واقعی ایک جامع مسئلہ ہے تو پھر اس کا اطلاق محض ارتقا تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔

اسی نکتے کی وضاحت کے لیے باب 1 میں رابرٹ پینوک Robert Pennock  کا وہ اقتباس دوبارہ یاد کرنا مفید ہوگا، جس میں وہ معروف تخلیق پرست مفکرفلپ جانسن Phillip Johnson  پر تنقید کرتے ہیں: 

نظریہ ارتقا بھی اسی معنی میں طبعیت پسند ہے جس معنی میں تمام سائنسی نظریات ہوتے ہیں، یعنی یہ کسی بھی ماورائے فطرت ہستی یا قوت کا سہارا لیے بغیر آگے بڑھتا ہے۔ جب یہ بات عمومی طور پر سائنس کے بارے میں درست ہے تو پھر ارتقا ہی اہلِ ایمان کے لیے کوئی خاص تشویش کا باعث کیوں بنے؟ اگر مسئلہ دراصل سائنس کے طبعیت پسندانہ منہج ہی میں مضمر ہے، تو پھر جانسن کو کیمیا، موسمیات اور برقی انجینئرنگ کے بارے میں بھی اسی قدر فکرمند ہونا چاہیے۔ بلکہ اسے گاڑیوں کی مکینکس پر بھی اعتراض ہونا چاہیے، کیونکہ یہ شعبہ بھی اسی طبعیت پسند مفروضے کے تحت کام کرتا ہے کہ انجن کے چلنے کے عمل میں خدا براہِ راست مداخلت نہیں کرتا۔ لیکن ظاہر ہے کہ کوئی بھی یہ نہیں سمجھتا کہ ایسی طبعیت پسند سائنسں اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ خدا کا وجود ہی نہیں (Pennock 1999, 333)۔

دوسرے لفظوں میں، نظریہ ارتقا بھی دیگر سائنسی شعبوں کی طرح منہجی طور پر طبعیت پسند ہے۔ ارتقا میں بذاتِ خود کوئی ایسی داخلی خصوصیت موجود نہیں جو اسے لازماً فلسفیانہ طبعیت پسندی (PN) کا لازمی جزو بنا دے، بالکل اسی طرح جیسے کسی الیکٹران، ایٹم یا جین میں کوئی ایسی داخلی صفت نہیں پائی جاتی جو انہیں فلسفیانہ طبعیت پسندی کی پیداوار قرار دے۔

منہجی طبعیت پسندی کی کون سی صورت؟

اگرچہ منہجی طبعیت پسندی (MN) اشعری فکری فریم ورک کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے، تاہم علمی لٹریچر میں اس کے اندر بھی ایک مزید امتیاز قائم کیا گیا ہے: داخلی/ ذاتی منہجی طبعیت پسندی (intrinsic methodological naturalism: IMN) اور عملی یا عارضی منہجی طبعیت پسندی (pragmatic یا provisory methodological naturalism: PMN)۔

بوڈری اور ان کے رفقا کے مطابق،  IMN سے مراد سائنس کی ایک خود عائد کردہ یا داخلی حد ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ سائنس اپنی ساخت کے اعتبار سے ہی ماورائے فطرت دعوؤں سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتی (Boudry et al. 2010, 227)۔ اس کے برعکس، PMN سائنس دانوں کا ایک عارضی اور تجرباتی بنیادوں پر قائم رویہ ہے، جو اس بنا پر درست سمجھا جاتا ہے کہ تاریخِ سائنس میں طبعی توضیحات مسلسل کامیاب رہی ہیں، جبکہ ماورائے فطرت توضیحات کسی نمایاں کامیابی سے ہم کنار نہیں ہو سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماورائے فطرت سے رجوع کو اکثر قبل از وقت ثابت کیا گیا ہے، اور سائنس نے کبھی بھی اس راستے کو اختیار کر کے کوئی حقیقی پیش رفت حاصل نہیں کی (Boudry et al. 2010, 230)۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اشعری فکری تناظر میں ان دونوں میں سے کون سا زاویہ زیادہ موزوں اور قابلِ قبول قرار پاتا ہے؟

اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ دونوں ہی قابلِ قبول ہیں۔ اس نکتے کو سمجھنے کے لیے یہ بات واضح رکھنی ضروری ہے کہ منہجی طبعیت پسندی (MN) بنیادی طور پر ایک علمیاتی اور منہجی موقف ہے، جو اس بات سے متعلق ہے کہ بطورِ ایک علمی شعبہ سائنس کی حدود اور صلاحیتیں کیا ہیں۔ چنانچہ سائنس دان (اور ممکن ہے کہ فلسفیانِ سائنس بھی) سائنس کی سرحدیں کہاں متعین کرنا چاہتے ہیں اور اس کی استطاعت کو کس حد تک مانتے ہیں؟ یہ فیصلہ دراصل انہی پر چھوڑا جا سکتا ہے۔

الٰہیاتی اعتبار سے اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ خدا کو سائنسی پیمانوں کا پابند نہ سمجھا جائے۔ اشعری فکری تناظر میں خدا اس بات کا پابند نہیں کہ سائنس منہجی طور پر کیا طے کر سکتی ہے اور کیا نہیں۔ فطرت کے قوانین دراصل خدا کی مشیت کا وہ ظہور ہیں جو ایک مستقل ترتیب کے ساتھ جاری رہتا ہے۔ اسی باقاعدہ تسلسل کو سائنس فطرت کے قوانین کے طور پر متعین کرتی ہے، لیکن اس میں کوئی چیز ایسی نہیں جو خدا کو، اگر وہ چاہے، ان تسلسلات کو مقامی سطح پر یا کلی طور پر تبدیل کرنے سے روک سکے۔

IMN  کے تحت سائنس اصولی طور پر معجزات کو دیکھنے سے قاصر رہتی ہے۔ چنانچہ اگر واقعی کوئی معجزہ وقوع پذیر ہو بھی جائے تو اس موقف کے مطابق وہ سائنسی طور پر ناقابلِ تعین ہوگا۔ اس کے برعکس PMN  کے تحت معجزات کا سائنسی طور پر قابلِ تعین ہونا یا نہ ہونا واقعے کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے۔ بعض معجزات میں ممکن ہے کوئی سائنسی پہلو موجود ہو، مثلاً ایسی ابھی تک نامعلوم قوت جس کے ذریعے سمندر کو چیر دیا گیا ہو، جیسا کہ حضرت موسیٰ کے واقعے میں بیان ہوتا ہے۔ جبکہ بعض دوسرے معجزات سائنسی اعتبار سے قطعی ناممکن سمجھے جائیں گے، مثلاً کسی انسان کا ایک لمحے میں بندر میں تبدیل ہو جانا (باب 5 میں مذکور مسخ کے واقعے کو یاد کیجیے)۔ بہرکیف، سائنسی امکانات کی جہت، الٰہیاتی امکانات کی جہت کے مقابلے میں ایک محدود ذیلی دائرہ ہی ہے۔

ان نکات پر اس لیے زور دیا جا رہا ہے کہ بعض اوقات یہ کہا جاتا ہے کہ منہجی طبعیت پسندی (MN) خواہ وہ IMN  ہو یا PMN کو اختیار کرنے کا لازمی نتیجہ معجزات کی نفی ہے۔ حالانکہ معاملہ ایسا نہیں۔ معجزات کو سائنس کے زاویہ نظر سے تو رد کیا جا سکتا ہے، مگر الٰہیات کے دائرے میں نہیں۔ تاہم اگر کوئی شخص صرف سائنس ہی کے زاویے سے دیکھے اور اس سے ماورا کسی چیز کو قبول نہ کرے، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ یا تو فلسفیانہ طبعیت پسندی (PN) یا سائنس پرستی (scientism) کا پابند ہو چکا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے سائنس کو بطورِ ایک علمی شعبہ کم تر ثابت کرنا مقصود نہیں۔ سائنس ایک قابلِ احترام علمی کاوش ہے، مگر اس کا اپنا ایک دائرہ اور اپنی حدود ہیں۔ مزید یہ کہ فطرت میں پائی جانے والی باقاعدگیاں اسلامی فقہ کے لیے بھی نہایت اہم ہیں؛ اگر فطرت کے قوانین موجود نہ ہوں تو فقہ کا عملی نظام قائم ہی نہیں رہ سکتا (Opwis 2012; Eissa 2017; Malik 2021)۔ مثال کے طور پر وصیت، خاندان اور نسب سے متعلق اسلامی احکام حیاتیاتی عمل کی باقاعدگیوں ہی پر قائم ہیں۔

یہاں اصل نکتہ صرف یہ ہے کہ اشعری تناظر میں معجزات کو اصولی طور پر ناممکن قرار نہیں دیا جا سکتا، الا یہ کہ کوئی شخص فلسفیانہ طبعیت پسندی یا سائنس پرستی کو اختیار کرے۔

اتفاق (chance) کا مسئلہ

کسی ایسے طریقِ کار کو تسلیم کرنا جس میں اتفاق جیسا عنصر شامل ہو، چند ایسے نتائج پیدا کرتا ہے جو الٰہیاتی اعتبار سے مسئلہ خیز ہو سکتے ہیں۔ تاہم اگر نظریہ ارتقا کے عمل کا سنجیدہ الٰہیاتی جائزہ لینا مقصود ہو تو پہلے یہ سمجھنا مفید ہوگا کہ "اتفاق" سے مراد کیا ہے۔ یہ ایک بدنام حد تک مبہم اصطلاح ہے۔ اس کے لیے مستعمل یا متبادل الفاظ میں حادثہ، تصادف، بے علت ہونا، نصیب یا اتفاقِ حسن، محض وقوع، امکان (یا احتمال)، غیر متوقع پن، اتفاقیہ ہم زمانی، خود رو پن اور خوش گوار اتفاق وغیرہ شامل ہیں (Johnson 2015, 1–2)۔ اسی طرح یہ دیکھنا بھی مددگار ہوگا کہ اتفاق کو کن تصورات کے مقابل رکھا جاتا ہے، مثلاً تعینیت، ناگزیریت، سببیت، پیش بینی، مہارت، ارادۂ آزاد، مقصدیت، طراحی اور یکسانیت وغیرہ (Johnson 2015, 2)۔ اس باب کے مقاصد کے لیے ہر مترادف اور متضاد جوڑے کی تفصیل میں جانا ضروری نہیں۔ یہاں جس خاص پہلو پر توجہ دی جائے گی وہ یہ ہے کہ اتفاق کو پیش بینی (بالخصوص خدا کے حوالے سے) اور مقصدیت کے مقابل کیسے سمجھا جاتا ہے۔ آئیے پہلے پیش بینی سے آغاز کرتے ہیں۔

اتفاق اور خدا

اتفاق (chance) کو دو فلسفیانہ زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے۔ پہلا زاویہ علمیاتی اتفاق (epistemic chance) کا ہے، جو کسی نظام کے بارے میں ہمارے علم کی کمی کو ظاہر کرتا ہے، اسی وجہ سے وہ نظام ہمیں اتفاقی محسوس ہوتا ہے۔ اس کی مزید دو صورتیں ہیں۔

پہلی صورت وہ ہے جس میں ہم کسی نظام کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہوتے ہیں (جسے آگے EC1  کہا جائے گا)۔ مثال کے طور پر ہمیں معلوم ہے کہ سکہ اچھالنے پر یا تو ہیڈ آئے گا یا ٹیل، مگر کسی خاص بار سکہ اچھالنے پر ہیڈ کیوں آیا یا ٹیل کیوں؟ یہ ہمارے لیے غیر یقینی ہوتا ہے۔ اگر ہمارے پاس سکے کے اچھالنے سے متعلق تمام معلومات موجود ہوں، مثلاً سکے کی طبیعی حالت، اس کی حرکت، اور ماحول کی تفصیلات، تو ممکن ہے ہم یہ متعین کر سکیں کہ اس خاص بار سکہ کس رخ پر گرے گا۔

علمیاتی اتفاق کی دوسری صورت وہ ہے جو اصولی طور پر ناقابلِ معرفت ہو (جسے آگے EC2  کہا جائے گا)۔ اس سے مراد یہ ہے کہ کسی فاعل کے لیے کسی واقعے تک علمی رسائی ہی ممکن نہ ہو۔ مثال کے طور پر ہم بطور انسان کبھی یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ جولیس سیزر نے اپنی زندگی کے آخری 37ویں گھنٹے میں کیا لباس پہنا ہوا تھا، اس بارے میں ہمارے پاس کوئی تاریخی دستاویز موجود نہیں، اور چونکہ (کم از کم فی الحال) وقت میں سفر ممکن نہیں، اس لیے یہ معلومات ہمیشہ کے لیے ہماری دسترس سے باہر رہیں گی۔

اب اگر ہم اس بحث کو نظریہ ارتقا کی طرف منتقل کریں تو ماضی میں اگر کچھ (یا کئی) اتفاقی واقعات پیش آئے ہوں، مثلاً کوئی خاص تغیر (mutation) یا تغیرات کا ایسا مجموعہ جس کے نتیجے میں نئی انواع وجود میں آئیں، تو آج ہمارے لیے ان کا قطعی علم حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تغیرات کے وقوع پذیر ہونے کی مختلف توضیحات دی جا سکتی ہیں، جیسے جینز کی نقل میں غلطیاں یا شعاعی اثرات۔ ہم ماضی میں واپس جا کر یہ متعین نہیں کر سکتے کہ کسی خاص تغیر کا درست سبب کیا تھا۔ یوں EC1  اور EC2 دونوں درحقیقت اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ہم کیا جان سکتے ہیں اور کیا نہیں جان سکتے۔

اتفاق کو وجودی (ontological) سطح پر بھی دیکھا جا سکتا ہے، اور اس زاویے سے بھی اس کی دو صورتیں بنتی ہیں۔ وجودی اتفاق کی پہلی صورت (جسے آگے OC1  کہا جائے گا) وہ ہے جس میں کسی واقعے کے لیے کوئی سابق طبعی سبب موجود نہ ہو۔ چنانچہ اگر کوئی شے بغیر کسی پیشگی طبعی علت کے مادی وجود میں آ جائے یا اس سے خارج ہو جائے، تو ایسے واقعات کو اتفاق نما مظاہر کے طور پر سمجھا جائے گا۔ وجودی اتفاق کی دوسری صورت وہ ہے جس میں نہ کوئی طبعی سبب ہو اور نہ ہی کوئی مابعد الطبیعی سبب( جسے آگے OC2  کہا جائے گا)۔ اس تناظر میں اتفاق محض فطری دنیا کی عملی خاصیت نہیں رہتا بلکہ ایک مابعد الطبیعی وصف بھی بن جاتا ہے۔ اس کی نہایت قوی صورت میں اس کا مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خدا خود بھی اشیا کے سابق اسباب یا ان کے آئندہ وقوع پذیر ہونے کے طریقے سے واقف نہ ہو، اور یوں اشیا حتیٰ کہ خدا کے لیے بھی غیر متعین ہوں۔ OC1  اور OC2  دراصل اس بات سے متعلق موقف ہیں کہ حقیقت اپنی بنیاد میں کیسی ہے۔

ان امتیازات کو واضح کرنے کے بعد یہ بات آسانی سے سمجھی جا سکتی ہے کہ EC1، EC2 اور OC1تینوں اشعری فکری فریم ورک میں بالکل غیر مسئلہ خیز یعنی بلا اشکال ہیں۔ EC1  اور EC2  محض انسانی جہالت کی عکاسی کرتے ہیں، اس لیے ان میں کوئی نظری تضاد پیدا نہیں ہوتا۔ یہ کہ ہم (بطور انسان) کسی فطری واقعے کے خاص سبب کو متعین نہیں کر پاتے، اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ خدا بھی اس سے ناواقف ہے۔ ہمارے پاس احتمالی قوانین اور نظریہ آشوب (chaos theory) موجود ہیں، جو اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ کسی بھی نظام کو پوری طرح سمجھنے کی ہماری صلاحیتیں محدود ہیں (Polkinghorne 1995; Polkinghorne 2001; Briggs 2016)۔

لہٰذا جب کوئی تغیر واقع ہوتا ہے تو ارتقائی ماہرین لازماً یہ نہیں جانتے کہ وہ خاص اسی وقت کیوں واقع ہوا، تاہم عموماً وہ اس کے لیے ممکنہ توضیحات کی ایک حد پیش کرتے ہیں، مثلاً جینز کی نقل میں غلطی۔ اصل اختلاف کا مقام تب سامنے آتا ہے جب ارتقائی مفکرین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کوئی تغیر فائدہ مند بھی ہو سکتا ہے، نقصان دہ بھی، یا غیر مؤثر بھی، اور یہ کہ جینز، انواع اور ان کے ماحول کے باہمی تعامل کے تحت طویل زمانی ادوار میں اس کا رخ مختلف سمتوں میں جا سکتا ہے۔ ارتقائی فریم ورک میں یہی کھلا پن نظریہ ارتقا کو اتفاق نما تاثر دیتا ہے۔ تاہم ایک بار پھر، اس کو EC1  یا EC2  کے تحت ہی رکھا جا سکتا ہے، یعنی یہ محض انسانی جہالت کی علامت ہے۔ اس ضمن میں برائن سویٹ مین کی درج ذیل بات قابلِ توجہ ہے، جو وہ یوں بیان کرتے ہیں:

ہم اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ حیاتیات میں وقوع پذیر ہونے والے ہر اثر کے پیچھے کوئی نہ کوئی مخصوص سبب ہوتا ہے، حتیٰ کہ وہ تمام تغیرات بھی جنہیں بظاہر "اتفاقی" یا "تصادفی" کہا جاتا ہے، اور اسی طرح ہر ماحولیاتی تبدیلی کا بھی ایک سبب ہوتا ہے، جو سلسلۂ اسباب میں وقت کی ابتدا تک جا پہنچتا ہے۔ ارتقائی نظریہ دان بعض اوقات ارتقا کے عمل پر گفتگو کرتے ہوئے اس حقیقت کو یا تو بھول جاتے ہیں یا دانستہ نظر انداز کر دیتے ہیں Sweetman 2015, 124–125)

چنانچہ اگرچہ ارتقا کا عمل انسانوں کو اتفاقی محسوس ہوتا ہے، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ خدا کو معلوم نہیں کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ بآسانی یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ خدا پورے عمل کو منظم کرتا ہے، یعنی اسے اس کا مکمل علم اور اس پر کامل اختیار حاصل ہے، مگر اسے اس انداز میں نافذ کرتا ہے کہ وہ ہمیں غیر متعین (indeterministic) دکھائی دے۔

جہاں OC1  کا تعلق ہے، اور نظریہ اتفاقیت کو پیشِ نظر رکھا جائے، تو یہ بھی بلا اشکال ہے، کیونکہ خدا کسی بھی فطری قانون کی پابندی میں مقید نہیں۔ خدا کے لیے یہ بالکل ممکن ہے کہ وہ بغیر کسی پیشگی طبعی مادّے کے ایک نئی نوع کو وجود میں لے آئے، اور اسی طرح کسی نوع کو بالکل نیست و نابود کر دے، جس کے نتیجے میں یہ عمل ہمیں اتفاقی محسوس ہو۔ تاہم یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ اتفاق محض ظاہری نہیں بلکہ طبعی سطح پر وجودی طور پر بھی حقیقی ہے۔ اس فریم ورک میں یہ پوری طرح قابلِ قبول ہے کہ خدا ہر شے کو جانتا بھی ہے اور اس پر کامل اختیار بھی رکھتا ہے۔

اس کی مثال ایک گرافکس اینیمیٹر سے  دی جا سکتی ہے جو ایک فریم سے دوسرے فریم تک چیزوں کو عدم سے وجود میں لا سکتا ہے۔ اینیمیٹر کو مجموعی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ پوری اینیمیشن کس طرح آگے بڑھے گی، اگرچہ درمیان میں لمحاتی "انقطاع" یا اچانک تبدیلیاں واقع ہوتی رہتی ہیں۔

اصل اور حقیقی مشکل اس وقت پیدا ہوتی ہے جب اتفاق کو OC2  کے مفہوم میں سمجھا جائے۔ اس نوع کا اتفاق اشعری تناظر کے ساتھ ہم آہنگ نہیں، کیونکہ اس سے ایک ایسا محدود خدا لازم آتا ہے جو اس بات سے ناواقف ہو کہ تخلیق کس طرح آگے بڑھتی ہے یا کام کرتی ہے۔ مثال کے طور پر پولکنگ ہورن کو دیکھیے، جو کوانٹم مکینکس کے سیاق میں جس میں بھی ارتقا کی طرح ایک غیر متعین ساخت پائی جاتی ہے (کم از کم کوپن ہیگن تعبیر کے مطابق) یہ کہتے ہیں کہ:

میں یہ مانتا ہوں کہ جو خدا بننے والی دنیا (world of becoming) کا خالق ہے، وہ ایسا خدا ہونا چاہیے جس میں زمانی پہلو بھی ہو اور ازلی پہلو بھی۔ چونکہ ایسی دنیا کا مستقبل ابھی وجود میں نہیں آیا، اس لیے خود خدا بھی اسے ابھی نہیں جانتا۔ یہ الٰہی ذات میں کوئی نقص نہیں، کیونکہ خدا ہر اُس چیز کو جانتا ہے جو جانی جا سکتی ہے؛ البتہ مستقبل بذاتِ خود ابھی فطری طور پر ناقابلِ علم ہے (John Polkinghorne 1995, 156)۔

یہ تصور اشعری فکری تناظر میں ایک نہایت سنگین خلل پیدا کرتا ہے، کیونکہ خدا کے مستقبل سے ناواقف ہونے کا تصور اشعریت کے لیے شدید طور پر مسئلہ خیز ہے۔ تاہم یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ اگر ارتقا کو منہجی طبعیت پسندی (MN) کے تحت سمجھا جائے تو یہ دعویٰ دراصل سائنس کے دائرہ کار سے باہر چلا جاتا ہے۔

یہاں بیان کیے گئے اتفاق کے مختلف پہلوؤں کو مدنظر رکھا جائے تو نظریہ ارتقا سوائے اس صورت کے جب اتفاق کو OC2 کے مفہوم میں لیا جائے، اشعری فریم ورک کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکتا ہے۔ چنانچہ اشعری تناظر میں اس بات سے کوئی بنیادی فرق نہیں پڑتا کہ کائنات متعین ہے یا غیر متعین، بشرطیکہ اس غیر تعین کو OC2  کے طور پر تعبیر نہ کیا جائے۔

اتفاق اور مقصدیت

اتفاق کو غایتیت (teleology) کے زاویے سے دیکھا جائے تو یہ اس لیے تشویش پیدا کرتا ہے کہ بظاہر اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ فطرت میں کوئی حتمی مقصد موجود نہیں۔ اگر زندگی کی پوری تاریخ بنیادی طور پر اتفاق پر قائم ہو اور یوں متعدد ممکنات پر منحصر ہو، تو پھر انسان محض ایک خوش قسمتی کا حادثہ دکھائی دیتا ہے۔ یہ تصور قرآن کے اس بیانیہ سے متصادم معلوم ہوتا ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ انسان کا مقصد خدا کی عبادت ہے (القرآن، سورہ 51، آیت 56)۔

اس ظاہری تعارض کو سلجھانے کے لیے اس بحث میں استعمال ہونے والی اصطلاحات کے بارے میں محتاط رہنا ضروری ہے۔ بعض مفکرین قریبی مقاصد (proximate goals) اور حتمی مقاصد (ultimate goals) کے درمیان ایک  امتیاز قائم کرتے ہیں (Kurt 2012, 46–48)۔ قریبی مقاصد سے مراد وہ مقامی یا فوری توضیحات ہیں جن کے ذریعے یہ بتایا جاتا ہے کہ چیزیں کیوں واقع ہوتی ہیں یا کسی خاص انداز میں کیوں عمل کرتی ہیں، مثلاً کسی جین کا فعل یا کسی جانور کا اپنے ماحول کے مطابق ڈھل جانا۔ اس کے برعکس، حتمی مقاصد وہ توضیحات ہیں جو کائناتی پیمانے پر دی جاتی ہیں؛ مثلاً انسان کی غایت کیا ہے، اور خدا نے دنیا اور اس کے باشندوں کو کیوں پیدا کیا۔

تاہم معاملہ اس وقت پیچیدہ ہو تا ہے جب"قریبی" اور"حتمی" جیسی اصطلاحات کو حیاتیاتی معنی پہنا دیے جاتے ہیں۔ بیسویں صدی کے ممتاز ارتقائی ماہر ارنسٹ مائر Ernst Mayr (1961) نے ان اصطلاحات کو حیاتیاتی توضیح کے دو مختلف پہلوؤں کے لیے استعمال کیا۔ پرندوں کی ہجرت کی مثال لیتے ہوئے انہوں نے ان دونوں کے درمیان یوں فرق واضح کیا :

اب اگر ہم اس پرندے کی ہجرت کے اسباب کو ایک بار پھر غور سے دیکھیں تو یہ بات بآسانی واضح ہو جاتی ہے کہ ہجرت کے قریبی اسباب  کا ایک فوری مجموعہ موجود ہوتا ہے۔ یہ اسباب پرندے کی جسمانی حالت، دن کے دورانیے اور درجہ حرارت میں کمی کے باہمی تعامل سے بنتے ہیں۔ ہم ان اسباب کو ہجرت کے قریبی اسباب کہہ سکتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں حتمی اسباب وہ ہیں جن میں سردیوں کے دوران خوراک کی قلت اور پرندے کی جینیاتی ساخت یا جبلّت شامل ہے۔ یہ وہ اسباب ہیں جن کی ایک تاریخی تشکیل ہوتی ہے اور جو قدرتی انتخاب کے طویل عمل کے ذریعے ہزاروں نسلوں میں بتدریج اس نظام کا حصہ بن جاتے ہیں۔یہ بات واضح ہے کہ فعلی حیاتیات دان (functional biologist) قریبی اسباب کے تجزیے میں دلچسپی رکھے گا، جبکہ ارتقائی حیاتیات دان (evolutionary biologist) حتمی اسباب کے تجزیے پر توجہ دے گا۔ یہی صورتِ حال تقریباً ہر اس حیاتیاتی مظہر میں پائی جاتی ہے جس کا ہم مطالعہ کرنا چاہیں۔ ہر جگہ اسباب کا ایک قریبی مجموعہ بھی ہوتا ہے اور ایک حتمی مجموعہ بھی۔ اور کسی بھی مظہر کی مکمل تفہیم کے لیے ان دونوں کی توضیح اور تعبیر ناگزیر ہے (Mayr 1961, 1503)۔

یہ امتیازات پروفیسر سمیر عکاشا کی پیش کردہ تعریفات کے ساتھ  بھی ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں، جنہیں وہ قسم اوّلاور قسم دوم کے طور پر بیان کرتے ہیں:

قسم اوّل  میں غایت کسی ارتقا یافتہ جاندار سے متعلق ہوتی ہے، یعنی جاندار کو ایک عامل کے طور پر دیکھنے کا مقصد یہ واضح کرنا ہوتا ہے کہ اس کی ارتقائی خصوصیات، بشمول اس کے رویّے،مطابقتی ہیں، اور اسی بنا پر بقا اور افزائشِ نسل کے ہدف کی طرف رہنمائی کرتی ہیں۔اس کے برعکس قسم دوم  میں مفروضہ غایت خود ارتقائی عمل سے منسوب کی جاتی ہے (جسے بعض اوقات "mother nature" کہا جاتا ہے)۔ اس تصور کے مطابق قدرتی انتخاب میں یہ اندرونی رجحان پایا جاتا ہے کہ وہ آبادی کو کسی خاص سمت میں لے جائے، اور اسی معنی میں اسے ہدف رُخ (goal-directed) سمجھا جاتا ہے۔ یوں پہلی صورت میں غایتی توضیح ارتقا کی پیداواروں پر لاگو ہوتی ہے، جبکہ دوسری صورت میں وہ خود ارتقائی عمل پر منطبق کی جاتی ہے (Okasha 2018, 16)۔

ان باریکیوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے، اگر ارتقا اور مذہب کے تناظر میں اتفاق اور غایتیت پر ایک بامعنی اور تعمیری گفتگو کرنی ہو، تو ضروری ہے کہ غایتیت کی تین سطحوں یا اقسام کے درمیان واضح حد بندی  قائم کی جائے۔ ان اقسام کو یہاں کُلّی غایتیت (macroteleology: MAT)، درمیانی غایتیت (mesoteleology: MET) اور جزوی غایتیت (microteleology: MIT) کے نام دیے جائیں گے۔

 MAT سے مراد تخلیق کے مجموعی اور حتمی مقاصد ہیں، یعنی غایت کا وہ تصور جو حیاتیاتی دائرے تک محدود نہیں۔ یہ اس نوعیت کے سوالات کا جواب دیتا ہے جیسے: زندگی کا مقصد کیا ہے؟ MET ایک ساختی اور کلی نوعیت کی غایتیت ہے جو فطرت کے قوانین میں پیوست ہوتی ہے۔ یہ اس بات کی توضیح کرتی ہے کہ فطرت کے قوانین کس طرح بعض نتائج تک لے جاتے ہیں یا بعض واقعات کے وقوع کا سبب بنتے ہیں۔ یہ سطح ارنسٹ مائر کے ہاں "حیاتیاتی قالب میں ڈھالی گئی حتمی علل" (biologicised ultimate causes) اور سمیر عکاشا کے قسم دوم غایت کے مساوی ہے۔ MIT فوری اور مقامی نوعیت کی توضیحات پر مشتمل ہوتی ہے، مثلاً کیمیائی تعاملات، جینز کے اشارتی نظام، بیماریوں کے اسباب، دل کے افعال وغیرہ۔ یہ مائر کے ہاں قریبی مقاصد (proximate goals) اور عکاشا کے قسم اوّل غایت کے مماثل ہے۔

اگر اس فریم ورک کو قبول کر لیا جائے تو ان سطحوں کے باہمی انحصار کی نشان دہی بھی آسان ہو جاتی ہے۔ MIT اور MET بظاہر ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔ آج کسی جاندار یا حیاتیاتی وجود کا طرزِ عمل کسی نہ کسی درجے میں اس کی ارتقائی تاریخ سے متاثر ہو سکتا ہے۔ اسی طرح، کسی مخصوص وقت پر کسی نوع کے آئندہ ارتقائی راستے بڑی حد تک اس کی بقا کی صلاحیت اور اس کے جینیاتی ذخیرے پر منحصر ہوں گے۔ ان امور پر گفتگو اور بحث کرنا سائنس دانوں کے دائرہ  کار میں آتا ہے۔

تاہم یہ بات اب بھی واضح نہیں ہو پاتی کہ MAT کو محض فطرت کے مشاہدے سے کس طرح اخذ کیا جائے۔ بطورِ حوالہ، تصمیمی دلائل (design arguments) پر ہونے والی بحثوں کو سامنے رکھیے (جن پر باب 7 میں تفصیل سے گفتگو کی جائے گی)۔ اس موضوع پر ایک وسیع علمی لٹریچر موجود ہے کہ آیا کائنات میں طراحی کے آثار نظر آتے ہیں یا نہیں اور یہی بحث MAT کے سوال کی سمت متعین کرنے میں مدد دیتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض اہلِ ایمان بھی طراحی کے دلائل سے پوری طرح مطمئن نہیں ہوتے۔حیاتیاتی طراحی کے سیاق میں، مثال کے طور پر امریکی فلسفی الوِن پلینٹنگا  یہ کہتے ہیں:

اگر انہیں باقاعدہ دلائل کے طور پر نہیں بلکہ ڈیزائن پر مبنی بیانیات کے طور پر لیا جائے تو یہ بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔ میرے خیال میں اس سے اخذ ہونے والا درست نتیجہ یہ ہے کہ طراحی کے بیانیے الٰہیات کی تائید تو کرتے ہیں، اگرچہ یہ کہنا آسان نہیں کہ وہ کتنی مضبوط تائید فراہم کرتے ہیں  (Alvin Plantinga 2011, 264)۔

اس کے مقابلے میں، معروف نقادرچرڈ ڈاکنز ایک زیادہ سخت مگر  منفی تشریح پیش کرتے ہیں:

فطری دنیا میں ہر سال ہونے والی اذیت کی مجموعی مقدار ایسی ہے کہ کسی بھی حساس ذہن کے لیے اس پر غور کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔ اس ایک منٹ کے دوران، جس میں میں یہ جملہ لکھ رہا ہوں، ہزاروں جانور زندہ کھائے جا رہے ہیں، بہت سے دوسرے اپنی جان بچانے کے لیے خوف سے سسکتے ہوئے بھاگ رہے ہیں، کچھ اندر ہی اندر کھردرے طفیلی کیڑوں کے ہاتھوں آہستہ آہستہ کھائے جا رہے ہیں، اور ہزاروں مختلف انواع بھوک، پیاس اور بیماری سے مر رہی ہیں۔ یہ سب ناگزیر ہے۔ اگر کبھی خوشحالی کا کوئی دور آ بھی جائے، تو یہی حقیقت خود بخود آبادی میں اضافے کا سبب بنے گی، یہاں تک کہ فطری حالت یعنی بھوک اور بدحالی دوبارہ بحال ہو جائے۔ الیکٹران اور خود غرض جینز، اندھی طبعی قوتوں اور جینیاتی نقل کے اس کائنات میں، کچھ لوگ لازماً زخمی ہوں گے، کچھ خوش قسمت نکل آئیں گے، اور اس میں آپ کو نہ کوئی نظم ملے گا نہ کوئی وجہ، نہ ہی کوئی انصاف۔ جس کائنات کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں اس میں بعینہٖ وہی خصوصیات پائی جاتی ہیں جن کی توقع ہمیں اس صورت میں ہونی چاہیے اگر حقیقت کی تہہ میں نہ کوئی طراحی ہو، نہ کوئی مقصد، نہ خیر ہو نہ شر بلکہ محض بے رحم بے اعتنائی ہو (Richard Dawkins, 1995, 131–133)۔

حیاتیاتی طراحی (biological design) سے آگے بڑھتے ہوئے، معروف طبیعیات دان اور ملحد مفکر، اسٹیون وائنبرگ کے یہ الفاظ ملاحظہ کیجیے:

"جوں جوں کائنات ہمیں قابلِ فہم دکھائی دیتی ہے، اسی قدر وہ ہمیں بے مقصد بھی محسوس ہونے لگتی ہے" (Steven Weinberg 1993, 149)۔اسی مفہوم کو آگے بڑھاتے ہوئے مرحوم کرسٹوفر ہچنزانسان کے محض اتفاقی ظہور اور فطرت میں کسی واضح کُلّی غایت (MAT) کی عدم موجودگی پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں:
کائنات میں ہماری حیثیت اس قدر ناقابلِ تصور حد تک معمولی ہے کہ اپنے دماغی مادّے کی قلیل سی پونجی کے ساتھ ہم اس پر زیادہ دیر غور ہی نہیں کر سکتے۔ اتنا ہی دشوار یہ ادراک بھی ہے کہ شاید زمین پر ہماری موجودگی بھی محض ایک اتفاق ہو۔ ہم نے پیمانے میں اپنی محدود جگہ کو پہچان لیا ہے، اپنی عمروں کو طول دینے، بیماریوں کا علاج کرنے، دوسری اقوام اور جانوروں کے ساتھ احترام اور فائدے کا رشتہ قائم کرنے، اور رابطے کی سہولت کے لیے راکٹوں اور سیارچوں (satellites) کو استعمال کرنے کا ہنر سیکھ لیا ہے، لیکن اس شعور سے جو تسلی بہت کم ملتی ہے وہ یہ ہے کہ ہماری موت آنے والی ہے، اس کے بعد نوعِ انسانی کی موت ہوگی، اور بالآخر کائنات بھی حرارتی موت (heat death) سے دوچار ہو جائے گی  (Christopher Hitchens 2007, 91)۔

اس تنوع کو سامنے رکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ کلی غایت (MAT) پر اتفاق کرنا، درمیانی غایت (MET) اور جزوی غایت (MIT) کے مقابلے میں کہیں زیادہ دشوار ہے۔ اشعری تناظر میں MAT کا علم صرف خدا ہی کی جانب سے حاصل ہو سکتا ہے، اور اسی بنا پر وہ وحی سے وابستہ ہے (Frank 2005, 135–138 ،Al-Ghazālī 2013, 157–198 )۔ انسان کی تخلیق کا مقصد کیا ہے، اس کا دارومدار فطری دنیا کی ساخت پر نہیں۔ اس پہلو سے دیکھیے تو خدا کی عبادت کو انسان کا مقصد قرار دینا یعنی MAT اس بات سے قطع نظر درست رہے گا کہ انسان کو یک لخت پیدا کیا گیا ہو یا ارتقائی عمل کے ذریعے وجود میں آیا ہو۔ اس لیے یہ سوال کہ کون سا طریقہ درست ہے، MAT کو متاثر نہیں کرتا۔

لیکن اگر ہم ترتیب کو الٹ دیں اور MET اور/یا MIT سے MAT اخذ کرنے کی کوشش کریں تو یہ ایک نہایت مشکل اور حد درجہ قیاسی کام بن جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم محدود اور قریبی توضیحات سے کلی اور ہمہ گیر مقصد کا اندازہ لگانے کی سعی کرتے ہیں، جس کے نتائج فرد بہ فرد مختلف ہو سکتے ہیں، جیسا کہ اوپر نقل کیے گئے اقتباسات سے ظاہر ہوا۔ چنانچہ یہ بات محلِ نظر رہتی ہے کہ خدا کے مقصود کے طور پر MAT کو غیر متعین فطری عمل، جیسے ارتقا، کے ذریعے نہ تو قطعی طور پر متعین کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی فیصلہ کن طور پر باطل ٹھہرایا جا سکتا ہے۔

اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ خواہ انسان کسی ایسے طریق کار کے ذریعے منظرِ عام پر آئے ہوں جو بظاہر اتفاقی محسوس ہوتا ہو، جیسے ارتقائی عمل، تب بھی یہ بات باعثِ تشویش نہیں ہونی چاہیے کہ انسان فطرت کی قریبی یا ساختی بنیادوں  یعنی MIT یا MET سے کوئی ہمہ گیر مقصد اخذ کرنے سے قاصر ہے۔ محض اس وجہ سے کہ کلی غایت (MAT) کو MET  یا MIT سے براہِ راست حاصل نہیں کیا جا سکتا، یہ لازم نہیں آتا کہ کوئی عظیم یا حتمی مقصد سرے سے موجود ہی نہیں۔

ممکن ہے کہ خدا کے پیشِ نظر کوئی آخری اور حتمی مقصد ہو، لیکن یہ مقصد کائنات کی ساختی راہوں کے ذریعے کس طرح بروئے کار آتا ہے، یہ نہ تو فوراً سمجھ میں آنے والی بات ہے اور نہ ہی لازماً ظاہری طور پر واضح۔ وائلڈمین بھی بظاہر اسی نوعیت کا زاویہ نظر پیش کرتے ہیں:

فطرت میں بظاہر نظر آنے والے مقاصد کا تجزیہ کر کے یہ نتیجہ نکالنا کہ کائنات میں کوئی بنیادی غایتی اصول موجود ہے، اور پھر وہاں سے یہ طے کرنا کہ خدا کس طرح عمل کرتا ہے، یہ سب ایک مضبوط اور مسلسل منطقی سلسلے کے ذریعے ممکن نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کے برعکس سمت میں بات زیادہ آسانی سے سمجھی جا سکتی ہے۔جب ہم فطرت میں دکھائی دینے والے مقاصد سے آگے بڑھ کر حقیقی اور حتمی مقاصد کا اثبات کرنا چاہتے ہیں، پھر ان سے مابعد الطبیعی نظریات قائم کرتے ہیں، اور آخرکار مخصوص صورتوں میں الٰہی فعل کو ثابت کرنا چاہتے ہیں، تو ہر مرحلے پر دلیل ٹوٹ جاتی ہے،خصوصاً اس وقت جب گفتگو صرف حیاتیاتی ارتقا تک محدود ہو۔ایسے نتائج تک پہنچنے کے لیے ہر مرحلے پر اضافی مفروضات درکار ہوتے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ حیاتیاتی ارتقا خود یہ اضافی مفروضات فراہم نہیں کرتا۔ اس لیے ارتقا کی بنیاد پر نہ تو حقیقی مقاصد کو یقینی طور پر ثابت کیا جا سکتا ہے، اور نہ ہی مخصوص انداز میں الٰہی عمل کو رد یا ثابت کیا جا سکتا ہے (Wildman1998, 148)۔

مختصر یہ کہ اتفاق اس بات کی نفی نہیں کرتا کہ کائنات یا انسان کے پیچھے کوئی حتمی مقصد موجود ہو۔ البتہ یہ فطرت کے اندر کارفرما طریقِ کار اور فوری اسباب کے بارے میں ہماری فہم کو ضرور متاثر کرتا ہے، مگر ان بنیادوں پر انسان یا کائنات کے آخری مقصد کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔

عدمِ افادیت کا مسئلہ

ارتقا کی عدمِ افادیت سے متعلق اعتراض کا تعلق بڑی حد تک شر کے مسئلے سے جڑا ہوا ہے، جس پر باب 8 میں گفتگو کی جائے گی۔ یہ اعتراض یوں پیش کیا جاتا ہے کہ خدا ایسا طریقہ اختیار کر سکتا تھا جس میں انسان کی پیدائش کسی طویل، مشکل اور تکلیف دہ عمل سے وابستہ نہ ہوتی، اور جس میں اتنی زیادہ اذیت اور موت بھی شامل نہ ہوتی۔ تاہم افادیت اور شر اگرچہ دونوں قدرتی تصورات ہیں، لیکن یہ دو الگ الگ نوعیت کے جائزے ہیں۔

افادیت کا تعلق اس بات سے ہوتا ہے کہ کسی کام کو مخصوص زمانی، مکانی یا مادی حدود کے اندر کتنے بہتر طریقے سے انجام دیا گیا۔ مثال کے طور پر اگر دو یکساں کارخانے ایک ہی وسائل کے ساتھ ایک ہی شے تیار کریں، اور ایک کارخانہ ایک گھنٹے میں زیادہ پیداوار دے، تو اسے زیادہ مؤثر سمجھا جائے گا۔ اسی طرح اگر دو بڑھئیوں کو لکڑی کی یکساں مقدار دی جائے اور ایک بڑھئی کم لکڑی ضائع کرے، تو وہ زیادہ مؤثر قرار پائے گا۔ اسی طرح محدود جگہ کے بہتر استعمال کو بھی افادیت کہا جاتا ہے۔

لیکن جب معاملہ خدا کے فعل کا ہو تو افادیت کو ناپنے کا یہی پیمانہ لاگو نہیں ہوتا، کیونکہ خدا وقت، جگہ اور وسائل کی کسی حد میں مقید نہیں۔ افادیت کا تصور وہاں معنی رکھتا ہے جہاں ایسی پابندیاں موجود ہوں، جبکہ خدا ان پابندیوں سے ماورا ہے۔ اسی بنا پر خدا کے کام کو "غیر مؤثر" کہنا اصولی طور پر درست نہیں۔الیکزینڈر لکھتے ہیں:

ارتقا کو آخر کس معیار کے تحت غیر کفایتی یا غیر ضروری زیاں پر مبنی کہا جا سکتا ہے؟ … اس خدا کے بارے میں، جو تمام وجود کی اساس ہے، یہ طے کرنا ہی مشکل ہے کہ “زیاں” یا “غیر کفایت” کا مفہوم کیا ہو سکتا ہے۔ اسی طرح جو لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ارتقا کو انسان تک پہنچنے میں “اتنا طویل وقت کیوں لگا” … انہیں یہ بات پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ خدا اپنی ماورائیت میں نہ مکان کی حدود میں مقید ہے اور نہ زمان کی۔ چنانچہ ایسے خالق کے بارے میں یہ سوال کہ “یہ عمل اتنا طویل کیوں رہا” اصولی طور پر کوئی خاص معنویت نہیں رکھتا (Alexander 2012, 238)۔

یہ تصورِ خدا اشعری فکر کے ساتھ پوری طرح ہم آہنگ ہے۔ خدا کوئی مادی شے نہیں، اور نہ ہی زمان کے اندر واقع ہے، کیونکہ مادّیت اور زمانیت دونوں محدود وجود کو لازم آتی ہیں (Al-Ghazālī 2016, 59–68)۔ زمان، مکان اور مادّہ سب مخلوق ہیں جو وجود میں لائے گئے، اور جیسا کہ الیگزینڈر نے واضح کیا ہے، خدا ہی ان کے وجود کی بنیادہے۔

اسی بنا پر عدمِ افادیت پر مبنی استدلال درحقیقت کوئی ٹھوس وزن نہیں رکھتا، کیونکہ افادیت ایک انسان مرکز (anthropocentric) تصور ہے جس کا اطلاق خدا پر نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا وہ دلائل جو ارتقا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حیاتیاتی زیاں اور اس کے طویل طریقِ کار کی بنیاد پر ارتقا اور اسلام کے درمیان عدمِ مطابقت ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، سنجیدہ علمی اعتراضات نہیں سمجھے جا سکتے۔

(جاری)


اسلام اور عصر حاضر

اقساط

(الشریعہ — جنوری ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — جنوری ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۱

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۷)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۱)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد
عمرانہ بنت نعمت اللہ
سارہ بنت برکات

آثار السنن از حضرت علامہ ظہیر احسن شوق نیموی (۱)
مولانا طلحہ نعمت ندوی

A Prophetic Lesson on News, Responsibility, and Restraint
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مفتی شمائل ندوی اور جاوید اختر کے درمیان مباحثے کا تجزیہ
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی
مفتی شمائل احمد عبد اللہ ندوی

خدا کی زمان و مکان سے ماورائیت اور تصورِ ہمیشگی
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۲)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۱)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

حضرت کُعیبہ بنت سعد اسلمیہ رضی اللہ عنہا
مولانا جمیل اختر جلیلی ندوی

بیمار کی عیادت: ایک انسانی حق، ایک اخلاقی فریضہ
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

اولڈ ایج ہاؤس کی شرعی حیثیت
مفتی سید انور شاہ

27 ویں ترمیم پر وکلا اور قانون کے اساتذہ کا مکالمہ (۱)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

سپریم کورٹ کا تجربہ، تعلیمی و علمی سفر، آئینی و قانونی مباحث (۲)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
رفیق اعظم بادشاہ

زنا بالجبر یا زنا بالرضا؟ سپریم کورٹ کے فیصلہ پر ایک نظر
طاہر چودھری

حضرت پیر ذوالفقار نقشبندیؒ اور حضرت پیر عبدالرحیم نقشبندیؒ کی وفات پر اظہار تعزیت
مولانا حافظ اسعد عبید

مجلس اتحاد امت پاکستان کا اعلامیہ اور مطالبات
الخیر میڈیا سیل
مدارس نیوز

مجلس اتحادِ امت پاکستان کے متفقہ اعلامیہ کی بھرپور تائید
پروفیسر حافظ منیر احمد
پاکستان شریعت کونسل

الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام سالانہ ’’دورہ احکام القرآن و محاضراتِ علومِ قرآنی‘‘
ادارہ الشریعہ

مطبوعات

شماریات

Flag Counter