’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۴)

اخلاقیات اور نظریہ ارتقا

تعارف

باب شسشم میں ہم نے ابو حامد الغزالی کے نظریہ اتفاقیت پسندی (Occasionalist) پر مبنی فریم ورک کی تشکیل و توضیح کی۔ اس کے بعد اسی فریم ورک کو اتفاق (chance)، فطریت (naturalism) اور علت و افادیت (efficiency) جیسے مسائل کے جائزے کے لیے بروئے کار لایا گیا۔ اس بحث کا حاصل یہ نکلا کہ اتفاق فی نفسہٖ کوئی مسئلہ نہیں، الا یہ کہ اسے اپنے قوی مفہوم (OC2) میں لیا جائے۔ مزید برآں، نظریہ ارتقا (بلکہ عمومی طور پر سائنسی نظریات) کو اگر فلسفیانہ فطریت (philosophical naturalism) کے تحت سمجھا جائے تو غزالی کے فریم ورک میں اس کی گنجائش نہیں، لیکن اگر اسے منہجی فطریت (methodological naturalism) کے دائرے میں تعبیر کیا جائے تو اس پر کوئی بنیادی اعتراض باقی نہیں رہتا۔ اسی طرح یہ بھی واضح کیا گیا کہ اشعری الٰہیات میں "افادیت" یا "غایتِ کارکردگی" (efficiency) کا سوال سرے سے خدا کے بارے میں قابلِ اطلاق نہیں۔

باب ہفتم میں اشعریت کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے یہ دکھایا گیا کہ "ڈیزائن" (design) کا تصور بھی اشعری الٰہیاتی تناظر میں کوئی بنیادی حیثیت نہیں رکھتا۔ خدا کی تمام مخلوقات کا مدار امکان (contingency) پر ہے۔ لہٰذا اگر نظریہ ارتقا کو اس بنیاد پر رد کیا جائے کہ اس میں ڈیزائن کا تصور کمزور یا غیر متعلق معلوم ہوتا ہے، اور اس بنا پر اسے خدا کے لیے غیر موافق سمجھا جائے، تو اشعری فریم ورک میں یہ اعتراض محلِّ نظر نہیں رہتا۔

زیرِ نظر باب میں ہم اس بحث کے اخلاقی پہلو کا جائزہ لیں گے۔ اس باب میں استعمال ہونے والی اختصارات کی تفصیل آخر میں ملحق نوٹ میں دی گئی ہے۔

باب اول اور چہارم میں ہم نے یہ دیکھا تھا کہ بعض مفکرین کے نزدیک نظریہ ارتقا کے اخلاقی مضمرات مسئلہ پیدا کرتے ہیں اور یہ خدا کی کامل خیرخواہی کے بارے میں سوالات اٹھاتے ہیں۔ اس باب میں اخلاقیات سے متعلق دو بنیادی مسائل زیرِ بحث آئیں گے: (1) مسئلہ شر (Problem of Evil: POE) اور (2) معروضی اخلاقیات کا مسئلہ (Problem of Objective Morality: POM)۔

مسئلہ شر عمومی طور پر تمام الٰہیاتی مکاتبِ فکر کے لیے ایک معروف اور اہم بحث ہے۔ اس ضمن میں ایک بنیادی تقسیم"اخلاقی شر" (moral evil) اور "طبعی شر" (natural evil) کے درمیان کی جاتی ہے۔ پہلی قسم سے مراد وہ برائیاں ہیں جو اخلاقی عاملین کے ارادی افعال کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوتی ہیں، جیسے ایک انسان کا دوسرے انسان کو محض تفریح یا ذاتی غرض کے لیے قتل کرنا۔ دوسری قسم سے مراد وہ فطری واقعات ہیں جو موت اور تکلیف کا باعث بنتے ہیں، جیسے زلزلے یا مہلک وبائیں جن سے بڑی تعداد میں انسان ہلاک ہوتے ہیں۔ ان دونوں کے درمیان بنیادی فرق انسانی اختیار کا ہے۔ اخلاقی شر انسان کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے، جب کہ طبعی شر اس کے اختیار سے باہر ہوتا ہے۔

اس امتیاز کے بعد مسئلہ شر اور اس کا خدا پر ایمان سے تعلق عموماً اس معروف استدلال سے واضح کیا جاتا ہے جو ایپی کیورس کی طرف منسوب ہے۔ ملاحظہ ہو:

اگر خدا شر کو روکنا چاہتا ہے مگر قادر نہیں، تو وہ قادرِ مطلق نہیں؛ اگر وہ قادر ہے مگر روکنا نہیں چاہتا، تو وہ خیرخواہ نہیں؛ اور اگر وہ نہ صرف قادر ہے بلکہ روکنا بھی چاہتا ہے، تو پھر شر کہاں سے آیا؟ (quoted in Hickson 2013, 6)

بالفاظِ دیگر، سوال یہ ہے کہ ایک ایسے خدا کو، جو قادرِ مطلق، عالمِ مطلق اور کامل خیرخواہ ہے، اس کائنات میں موجود وسیع پیمانے پر شر کے پس منظر میں کس طرح سمجھا جائے؟ ان اوصاف اور مشاہدہ شدہ شر کے درمیان تطبیق ایک مشکل مسئلہ ہے۔

یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ مسئلہ شر کا وجود نظریہ ارتقا کے سچ یا جھوٹ ہونے سے قطع نظر برقرار رہتا ہے۔ تاہم، نظریہ ارتقا اس مسئلے کو ایک نئے زاویے سے شدید تر بنا دیتا ہے، کیونکہ یہ ہمیں حیات کے ایک ایسے منظم نظام سے آگاہ کرتا ہے جسے بظاہر فطری طور پر سفاک سمجھا جاتا ہے، کیوں کہ اس کے نتیجے میں حیوانات کو غیر ضروری تکالیف برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ یوں یہ طبعی شر کی ایک ایسی صورت ہے جو حیاتیاتی قوانین کے اندرونی ڈھانچے میں پیوست نظر آتی ہے۔

جیسا کہ باب اول میں ذکر ہوا، حیات کے آغاز (تقریباً 3.5 ارب سال قبل) سے لے کر اب تک موجود ہونے والی تمام انواع میں سے تقریباً 99 فیصد معدوم ہو چکی ہیں۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے جس کے دوران بے شمار جاندار تکلیف اور موت سے دوچار ہوئے (Murray 2008; Francescotti 2013)۔ یوجی ناگاساوا (2018، ص 153–154) اس صورتِ حال کو"نظامی شر" (systemic evil) کا مسئلہ قرار دیتے ہیں:

مسئلہ شر کی روایتی بحث عموماً ایسے مخصوص واقعات پر مرکوز ہوتی ہے جنہیں شر قرار دیا جاتا ہے۔ مثلاً ہولوکاسٹ، روانڈا نسل کشی، یا جنوب مشرقی ایشیا میں آنے والا باکسنگ ڈے سونامی، یا پھر ایسے واقعات کی عمومی اقسام، جیسے جنگیں، قتل، عصمت دری، زلزلے اور سیلاب وغیرہ۔ تاہم زیرِ بحث مسئلہ اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ نہ صرف مخصوص واقعات یا ان کی اقسام شر ہیں، بلکہ وہ پورا حیاتیاتی نظام بھی، جس پر فطرت کی بنیاد قائم ہے، بنیادی طور پر شر پر مبنی ہے۔ اسی لیے اسے "نظامی شر کا مسئلہ" (problem of systemic evil) کہا جاتا ہے۔ نظامی شر کا یہ مسئلہ روایتی مسئلہ شر کے مقابلے میں زیادہ شدید اور وزنی ہے، کیونکہ یہ صرف مخصوص واقعات یا ان کی اقسام تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس سے کہیں زیادہ بنیادی سطح، یعنی خود فطرت کے نظام کو ہدفِ بحث بناتا ہے، جسے بذاتِ خود شر قرار دیا جا رہا ہے۔

یوجی ناگاساوا واضح طور پر اس بات کے قائل ہیں کہ نظریہ ارتقا مسئلہ شر (POE) کو مزید شدت بخشتا ہے۔ ان نکات کی روشنی میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک کامل خیرخواہ خدا اس صورتِ حال کو کیوں کر وقوع پذیر ہونے دیتا ہے؟

اسی طرح معروضی اخلاقیات کا مسئلہ (POM) اخلاقی اصولوں کی معروضیت پر سوال اٹھاتا ہے۔ اگر ہمارے اعتقادات اور ہماری اعتقادی صلاحیتیں ارتقائی عمل کے تابع ہیں، تو یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ اگر حیات کی کہانی دوبارہ دہرائی جائے تو ہم ایک بالکل مختلف اخلاقی نظام کے حامل ہوں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اخلاقیات کی بنیاد نہایت غیر مستحکم ہو جاتی ہے، اور یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ فی نفسہٖ کوئی شے بذاتِ خود نہ اچھی ہے اور نہ بری۔

ہم محض اس لیے کسی چیز کو اچھا یا برا سمجھتے ہیں کہ ارتقائی تاریخ کے دباؤ جو سراسر امکانی نوعیت کے حامل ہیں، نے ہمیں اس پر آمادہ کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، ہمارے ہاں "اچھائی" اور "برائی" کا تصور اتفاقی عوامل کے رحم و کرم پر ہے، اور یوں معروضی اخلاقیات کا وجود محلِّ نظر ہو جاتا ہے۔

اس باب کا مقصد ان مسائل کا جائزہ ابو حامد الغزالی کے اخلاقی فریم ورک کی روشنی میں لینا ہے۔ اس غرض سے ضروری ہے کہ اس بحث کو چار نمایاں حصوں میں تقسیم کیا جائے، جو اس باب کی ساخت تشکیل دیتے ہیں۔

پہلا حصہ ان بنیادی اصطلاحات کی وضاحت پر مشتمل ہوگا جو آئندہ بحث کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ دوسرا حصہ اس سائنسی اور فلسفیانہ ارتقا کا جائزہ لے گا جو "ارتقائی اخلاقیات" (evolutionary ethics) کے نام سے معروف شعبے میں سامنے آیا ہے۔ اس ضمنی بحث کی ضرورت اس لیے ہے کہ یہ ارتقا اور اخلاقیات کے باہمی تعلق کو مزید واضح کرے گی اور مسئلہ شر (POE) اور معروضی اخلاقیات کے مسئلے (POM) کے پس منظر میں موجود باریکیوں کو سامنے لائے گی۔ مزید برآں، اس میدان میں بعض تصوری امتیازات ابو حامد الغزالی کے افکار کو زیادہ بہتر انداز میں بیان کرنے میں مدد دیں گے اور یہ واضح کریں گے کہ وہ کن پہلوؤں سے ان مباحث سے اتفاق یا اختلاف کر سکتے ہیں۔

تیسرا حصہ ابو حامد الغزالی کے اخلاقی فریم ورک اور اس سے متعلق نکات کی تفصیل پیش کرے گا، جب کہ چوتھا اور آخری حصہ مسئلہ شر (POE) اور معروضی اخلاقیات کے مسئلے (POM) کا جائزہ الغزالی کے تناظر میں لے گا۔

اصطلاحات

نظریہ ارتقا اور اخلاقیات کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے چند بنیادی امتیازات کو پیشِ نظر رکھنا مفید ہوتا ہے (Fitzpatrick 2016): توصیفی ارتقائی اخلاقیات (Descriptive Evolutionary Ethics: DEE)، معیاری ارتقائی اخلاقیات (Normative Evolutionary Ethics: NEE)، اور ارتقائی مابعد الاخلاقیات (Evolutionary Metaethics: EM)۔ ذیل میں ہم ان میں سے ہر ایک کا اجمالی جائزہ لیتے ہیں۔

توصیفی ارتقائی اخلاقیات

چونکہ نظریہ ارتقا ہماری حیاتیاتی تاریخ اور تنوع کی توضیح کے لیے غالب بیانیہ بن چکا ہے، اس لیے یہ بات باعثِ تعجب نہیں کہ سائنس دانوں نے اس کے دائرے میں مختلف خصوصیات، بشمول اخلاقیات کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ توصیفی ارتقائی اخلاقیات (DEE) دراصل حیاتیاتی جانداروں کا ایک تجرباتی مطالعہ ہے جس میں ان کے اخلاقی رویّوں اور صلاحیتوں کو بیان کیا جاتا ہے۔ اس کے تحت درج ذیل سوالات زیرِ بحث آتے ہیں:

اخلاقی فیصلہ سازی کی صلاحیت کیا ہے؟ انواع میں یہ صلاحیت کس طرح پیدا ہوتی ہے؟ افراد کسی مخصوص صورتِ حال میں کس نوع کے اخلاقی فیصلے کرتے ہیں؟ کیا اخلاقی فیصلے صرف کسی خاص حیاتیاتی وجود تک محدود ہوتے ہیں یا پوری نوع پر ان کا اطلاق کیا جا سکتا ہے؟ مختصراً، توصیفی ارتقائی اخلاقیات ارتقائی تناظر میں اخلاقیات کی صرف بیانی (descriptive) توضیح پیش کرتی ہے۔

معیاری ارتقائی اخلاقیات

معیاری ارتقائی اخلاقیات (NEE) بسا اوقات توصیفی ارتقائی اخلاقیات (DEE) کے مقابلے میں زیادہ متنازع سمجھی جاتی ہے۔ یہ اس بات کا جائزہ لیتی ہیں کہ نظریہ ارتقا کو اخلاقی احکام کی توضیح، توجیہ یا عقلی بنیاد فراہم کرنے کے لیے کس حد تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، NEE اس سوال پر غور کرتا ہے کہ آیا ارتقا کے اصول یا اس سے حاصل ہونے والے نتائج اس امر کا تعین کر سکتے ہیں کہ کون سے افعال اخلاقی طور پر جائز یا ناجائز ہیں، اور اس طرح ہمیں کس طرزِ زندگی کو اختیار کرنا چاہیے۔ مثلاً: کیا نظریہ ارتقا ہمیں یہ بتاتا ہے کہ بعض انواع دوسری کے مقابلے میں زیادہ قیمتی یا معزز ہیں؟ کیا خوراک کے لیے قتل کرنا برا ہے؟ کیا اجتماعی تحفظ کو ترجیح دی جائے یا فرد کی سلامتی کو؟

مختصراً، معیاری ارتقائی اخلاقیات اس امر کی تحقیق کرتی ہے کہ آیا ارتقا ہمیں ایسا کوئی اخلاقی ذخیرہ فراہم کرتا ہے جس کی بنیاد پر ہم اپنی اخلاقی تشکیل اور رویّوں کو منظم کر سکیں۔

ارتقائی مابعد الاخلاقیات

ارتقائی مابعد الاخلاقیات (EM) اپنی نوعیت کے اعتبار سے معیاری ارتقائی اخلاقیات (NEE) جتنی بلکہ بعض اوقات اس سے بھی زیادہ متنازع بحث ہے، کیونکہ اس کے مضمرات اخلاقی حقیقت پسندی اور عدمِ حقیقت پسندی جیسے بنیادی مباحث سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ شعبہ اس سوال کو زیرِ غور لاتا ہے کہ آیا نظریہ ارتقا اخلاقی معروضیت کو باطل کر دیتا ہے یا نہیں۔ بعض مفکرین، جیسا کہ آگے واضح بھی ہو جائے گا، یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ نظریہ ارتقا اخلاقیات کو نسبتی (relative) بنا دیتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ یہ بحث ایک حساس اور متنازع موضوع بن گئی ہے۔ بنیادی طور پر یہ میدان ہمیں اس سوال کا سامنا کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ آیا اخلاقیات فطرت پر منحصر ہے یا نہیں۔ اگر اخلاقیات ارتقائی عوامل پر موقوف ہے، تو لازماً یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اخلاقیات کسی نہ کسی درجے میں عالمِ طبیعی (natural world) پر علّی (causal) طور پر منحصر ہے۔ قبل ازیں جس معروضی اخلاقیات کے مسئلے (POM) کا ذکر ہوا، اس کا تعلق بھی اسی دائرہ بحث سے ہے۔

اس باب میں ان تینوں مباحث سے متعلق تصورات مختلف مقامات پر سامنے آتے رہیں گے۔ سہولت کے لیے قاری کو صرف یہ امتیازات ذہن میں رکھنے چاہییں:

  1. چیزیں فی الواقع کیسی ہیں، یعنی توصیفی ارتقائی اخلاقیات (DEE)؛
  2. چیزیں کیسی ہونی چاہییں،یعنی معیاری ارتقائی اخلاقیات (NEE)؛ اور
  3. ہمارے اخلاقی شعور کی بنیاد کیا ہے، یعنی ارتقائی مابعد الاخلاقیات (EM)۔

ارتقا اور اخلاقیات

نظریہ ارتقا اور اخلاقیات کے باہمی تعلق کے دو بنیادی پہلو ہیں: ایک سائنسی جہت اور دوسری فلسفیانہ تعبیر۔ ہم اپنی بحث کا آغاز اس سوال سے کریں گے کہ نظریہ ارتقا اخلاقیات کے بارے میں کیا بتاتا ہے۔

ارتقائی اخلاقیات کی سائنسی جہت

ارتقائی تناظر میں اخلاقیات کے تجربی مطالعے نے بعض نہایت دلچسپ نتائج پیش کیے ہیں۔ جیسا کہ باب اول میں بیان ہوا، نظریہ ارتقا بنیادی طور پر جینز (genes) کے تحفظ سے متعلق ہے۔ یہ ایک طرح کی خود غرض محرک قوت (selfish driving force) ہے، یعنی جین کے فعلی (functional) نقطہ نظر سے، نہ کہ اس معنی میں کہ جینز کے اندر واقعی کوئی نیت یا ارادہ پایا جاتا ہے۔ نظری طور پر اس کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ ہم حیاتیاتی دنیا کے ہر گوشے میں خالص خود غرض رویّوں (egoistic behaviours) کا غلبہ دیکھتے۔ تاہم، مشاہدہ اس کے برعکس ہے۔ انسانوں میں (اکثر مواقع پر) باہمی تعاون کے رویّوں کے علاوہ ہم حیوانات میں بھی اشتراک اور تعاون کے مظاہر دیکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر شہد کی مکھیوں کو لیجیے۔ جب کوئی شکاری چھتے پر حملہ کرتا ہے تو مکھیاں اس پر ڈنک مارتی ہیں، مگر اس عمل کی قیمت اپنی جان کی صورت میں چکاتی ہیں، یعنی ڈنک مارنے کے بعد مکھی مر جاتی ہے (James 2011, 27)۔ یہ رویہ بظاہر ایثار سے مشابہ ہے، یعنی دوسروں کے لیے اپنی جان قربان کرنا، جو ہمارے فہمِ اخلاق میں ایک قابلِ قدر صفت سمجھی جاتی ہے (کم از کم بادی النظر میں)۔

حیوانی دنیا میں اس نوعیت کی مزید مثالیں بھی ملتی ہیں، مگر فی الحال یہی مثال کافی ہے۔ اصل نکتہ یہ ہے کہ ایک ایسے ارتقائی نظام کے اندر، جہاں خود غرضی کو غالب ہونا چاہیے تھا، وہاں حیوانات میں ایثار اور تعاون جیسے رویّوں کا پیدا ہونا بظاہر تعجب خیز معلوم ہوتا ہے، کم از کم ابتدائی نظر میں۔ تاہم سائنس دانوں نے اس امر کی وضاحت پیش کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ سب کیسے شروع ہوا۔ چونکہ نظریہ ارتقا بنیادی طور پر جینز (genes) کے گرد گھومنے والا بیانیہ ہے، اس لیے یہ بعید از قیاس نہیں کہ بعض سائنس دانوں نے اخلاقیات کی جڑ بھی جینز ہی کو قرار دیا ہے ((Wilson 1995; Dawkins 2006)۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ توضیح کس طرح پیش کی جاتی ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق اخلاقیات کا آغاز انواع کے اندر اور ان کے مابین کسی نہ کسی نوع کی تدریجی تعاون پر مبنی حکمتِ عملیوں سے ہوا۔ لیکن یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب جینز خود "باشعور" ہستیاں نہیں ہیں تو پھر جینز سے تعاون تک کا سفر کیسے طے ہوتا ہے؟

اس کی وضاحت کے لیے باب اول میں بیان کردہ اس فرق کو یاد رکھنا مفید ہوگا جو ایک فرد کے جینیاتی سانچے (genotype) اور خود اس فرد کی ظاہری و فعلی صورت (phenotype) کے درمیان پایا جاتا ہے۔ جین کے نقطہ نظر سے اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ وہ تولیدی تسلسل کے ذریعے اگلی نسل تک منتقل ہو جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اہمیت فرد کی بقا کو نہیں، بلکہ ان بنیادی جینز کو حاصل ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتے ہیں۔

چونکہ یہ جینز نہ صرف فرد میں بلکہ اس کے خاندانی افراد میں بھی موجود ہوتے ہیں، اس لیے یہ زیادہ اہم نہیں رہتا کہ کون سا فرد باقی رہتا ہے، جب تک کہ خاندانی دائرے میں جینز کی بقا برقرار رہے۔ اسی تناظر میں یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ فرد اپنے خاندانی افراد کو پہچانے اور ان کے ساتھ تعاون کرے، کیونکہ جینز کی بقا افراد کی انفرادی بقا سے بالاتر ہو جاتی ہے۔ اسی طرزِ عمل کی توضیح کے لیے ایک سادہ قاعدہ بھی پیش کیا گیا ہے جسے ولیم ڈی ہیملٹن کا"ہیملٹن اصول" کہا جاتا ہے (Hamilton 1964)۔

C < R × B

یہ مساوات بظاہر نہایت سادہ ہے۔ یہاں C اس عمل کی لاگت (cost) کو ظاہر کرتا ہے جو کسی قریبی فرد کے لیے انجام دیا جاتا ہے، R سے مراد فریقین کے درمیان جینیاتی قرابت ہے (مثلاً والدین کے لیے 0.5، دادا/نواسا کے لیے 0.25 وغیرہ)، جبکہ B اس (حیاتیاتی) فائدے کی نمائندگی کرتا ہے جو اس عمل کے نتیجے میں وصول کنندہ کو حاصل ہوتا ہے۔ اس اصول کا مفہوم یہ ہے کہ جب تک جینیاتی قرابت (R) اور فائدہ (B) کا حاصل ضرب اس عمل کی لاگت (C) سے زیادہ ہو، تب تک یہ عمل تولیدی کامیابی کے اعتبار سے سودمند شمار ہوگا۔ اسی نوع کے تعاون کو شمولی فٹنس (inclusive fitness) یا قرابتی انتخاب (kin selection) سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

اگر ہم شہد کی مکھی کی مثال کی طرف رجوع کریں تو اس کی وضاحت اب ارتقائی تناظر میں زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔ جب مکھی کسی شکاری کو ڈنک مارتی ہے اور اس کے نتیجے میں خود ہلاک ہو جاتی ہے، تو یہ ظاہری نقصان فیصلہ کن نہیں رہتا، کیونکہ اس کا یہ عمل اس کے خاندان کے جینیاتی ذخیرے (gene pool) کے تحفظ میں معاون ہوتا ہے۔ یوں مرنے والی مکھی اپنے خاندان کے دیگر افراد میں موجود جینز کے لیے بقا کے امکانات بڑھا دیتی ہے۔ تاہم ایک اہم سوال بدستور باقی رہتا ہے کہ وہ تعاون جو خاندانی دائرے سے باہر ظاہر ہوتا ہے، اس کی توجیہ نظریہ ارتقا کس طرح پیش کرتا ہے؟

غیر خاندانی افراد کے مابین تعاون کی وضاحت کو عموماً باہمی تعاون (reciprocity) یا باہمی ایثار (reciprocal altruism) کہا جاتا ہے (Trivers 1971; Trivers 2002)۔ خلاصہ کلام یہ کہ یہ ایک طرح کی لے دے (tit-for-tat) کی دنیا ہے۔ اگر آپ کسی کے لیے کچھ کریں گے تو وہ بھی کسی موقع پر آپ کے لیے کچھ کرے گا۔

یہ اصول بنیادی طور پر قرابتی انتخاب ہی کی توسیع ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہاں جاندار محض اپنے جینیاتی رشتہ داروں ہی کی نہیں بلکہ غیر خاندانی افراد، حتیٰ کہ بعض اوقات دوسری انواع کے افراد کی بھی مدد کرتا ہے۔ اس صورت میں براہِ راست جینیاتی فائدے کے بجائے یہ باہمی تعاون بالواسطہ طور پر بقا میں مدد دیتا ہے، مثلاً خوراک، پناہ گاہ اور دیگر وسائل کے حصول کے ذریعے۔ اس طرزِ عمل میں یہ توقع شامل ہوتی ہے کہ ایک وقت میں وسائل کی صورت میں اٹھایا گیا خرچ مستقبل میں کسی نہ کسی مرحلے پر واپس مل جائے گا۔ اس کی ایک نمایاں مثال ویمپائر چمگادڑیں (vampire bats) ہیں۔ انہیں دو سے تین دن کے اندر خوراک حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے، ورنہ وہ ہلاک ہو سکتی ہیں۔ چونکہ یہ خون پر گزارہ کرتی ہیں اور بغیر خوراک کے ان کی بقا کا عرصہ محدود ہوتا ہے، اس لیے مشاہدہ کیا گیا ہے کہ یہ چمگادڑیں غیر خاندانی افراد کے ساتھ بھی اُگلا ہوا خون (regurgitated blood) بانٹتی ہیں (James 2011, 41; Carter and Wilkinson 2013)۔ یہ طرزِ عمل بقا کے ایک مؤثر نظام کے طور پر سامنے آتا ہے، خصوصاً اس وقت جب قریبی رشتہ داروں کے مقابلے میں غیر خاندانی افراد کی تعداد زیادہ ہو۔ اس نوع کے تبادلے دیگر کئی سیاق و سباق میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں، جو غیر قرابتی افراد کے درمیان تعاون کے لیے ایک تجربی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

یقیناً اس طرزِ تعاون کی اپنی حدود ہیں۔ باہمی تعاون (reciprocity) کو ایک مؤثر بقا کے طریقہ کار کے طور پر کامیاب ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ایسے تعاملات کثرت سے وقوع پذیر ہوں اور ان میں کسی نہ کسی درجے کا ایسا نظام موجود ہو جو دھوکہ دینے والوں کو چھانٹ کر باہر کر دے (James 2011, 66–86)۔ تعامل کی تکرار اس لیے اہم ہے کہ ایک یا دو مرتبہ کا تبادلہ طویل المدت فائدے کی بنیاد فراہم نہیں کرتا، جب کہ مسلسل روابط پائیدار تعاون کو جنم دیتے ہیں۔

جہاں تک دھوکہ دہی کا تعلق ہے، اسے سادہ مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ ویمپائر چمگادڑوں ہی کو لیجیے: اگر کوئی چمگادڑ بار بار دوسروں سے خون حاصل کرتی رہے لیکن خود کبھی کسی کو واپس نہ دے، تو بظاہر اسے بغیر کسی لاگت کے فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔ تاہم، گروہ کے دیگر افراد بالآخر اس بات کو سمجھ لیں گے کہ اس کے ساتھ تبادلہ کسی مثبت نتیجے تک نہیں پہنچ رہا۔ یہ ادراک رفتہ رفتہ اس بات کا باعث بنے گا کہ ایسی چمگادڑ کو آئندہ کسی تبادلے سے خارج کر دیا جائے، جس کا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ وہ بالآخر ہلاک ہو جائے۔ اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ باہمی تعاون غیر قرابتی تعاون کی ایک معقول توضیح فراہم کرتی ہے، بشرطیکہ تعامل کی تکرار اور دھوکہ دہی کی روک تھام کا نظام برقرار رہے۔

قرابتی انتخاب اور باہمی تعاون، یہ دونوں نظریات دراصل حیاتیاتی ایثار (biological altruism) کی مثالیں ہیں۔ یہ اس امر کی وضاحت کرتے ہیں کہ حیاتیاتی نقطہ نظر سے ایثار کس طرح اور کن اسباب کی بنا پر پیدا ہوتا ہے، جہاں بنیادی محرک ارتقائی فٹنس ہوتا ہے۔ تاہم، اگرچہ یہ نظریات اس بات کی وضاحت کر سکتے ہیں کہ تعاون کا آغاز کیسے ہوا، ایک اہم سوال بدستور باقی رہتا ہے: کیا یہ واقعی اخلاقی رویّے ہیں؟ بالخصوص، کیا انہیں حقیقی معنوں میں ایثار کہا جا سکتا ہے؟

ویمپائر چمگادڑ کی مثال کو دوبارہ دیکھیے۔ اگر ایک چمگادڑ اس امید پر خون فراہم کرتی ہے کہ مستقبل میں اسے بھی مدد ملے گی، تو کیا اسے واقعی ایثار کہا جا سکتا ہے؟ بظاہر ایسا نہیں، کیونکہ کسی فعل کا محض ظاہری طور پر مددگار ہونا اسے اخلاقی فعل ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔ مثال کے طور پر ایک چور وقتی طور پر خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتا ہے، مگر اس کا مقصد آخرکار اپنے شکار کو قیمتی شے سے محروم کرنا ہوتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ظاہری اچھا رویہ لازماً اخلاقی فعل کی ضمانت نہیں دیتا۔

یہ بحث ہمیں اس قدیم سوال کی طرف لے جاتی ہے کہ اخلاقی فعل ہے کیا؟ فلاسفہ اور متکلمین نے اس کا جواب مختلف انداز سے دیا ہے، مثلاً فضیلت پر مبنی اخلاقیات یا قطعی اصولی احکام وغیرہ، اور ارتقائی تناظر میں بھی اس پر بحث ہوئی ہے، مثلاً (Clark 2014)۔ یہاں اس پیچیدہ اور دل چسپ میدان کی تفصیل میں جانا مقصود نہیں۔

اس باب کے لیے اتنا واضح کرنا کافی ہے کہ حیاتیاتی ایثار کو عموماً نفسیاتی ایثار (psychological altruism) کے مقابلے میں رکھا جاتا ہے۔ نفسیاتی ایثار سے مراد وہ طرزِ عمل ہے جس میں کسی دوسرے کی مدد خالصتاً اس نیت سے کی جائے کہ اسے فائدہ پہنچے، بغیر کسی ذاتی منفعت کی توقع کے۔ دوسرے لفظوں میں، حقیقی ایثار ایک شعوری فیصلہ ہے جس میں انسان اپنے نقصان پر بھی دوسرے کی مدد کرتا ہے، بغیر کسی بدلے کی امید کے۔

اس تعریف کی روشنی میں نہ تو قرابتی انتخاب اور نہ ہی باہمی تعاون مکمل طور پر حقیقی ایثار کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حیوانات کی ایک بڑی تعداد درحقیقت ایثار پر مبنی اخلاقی رویّوں کی حامل نہیں (Okasha 2020):

اگر "حقیقی" ایثار سے مراد ایسا ایثار لیا جائے جو شعوری نیت کے ساتھ دوسروں کی مدد کے لیے انجام دیا جائے، تو پھر بیشتر جاندار نہ تو "حقیقی" ایثار کے قابل ہیں اور نہ ہی "حقیقی" خود غرضی کے۔ مثال کے طور پر چیونٹیاں اور دیمک غالباً شعوری ارادوں کی حامل نہیں ہوتیں، لہٰذا ان کا رویّہ نہ تو اس نیت سے انجام دیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی ذاتی منفعت کو فروغ دیں اور نہ ہی اس ارادے سے کہ دوسروں کے مفاد کو بڑھائیں۔ اس بنا پر یہ دعویٰ کہ اوپر بیان کردہ ارتقائی نظریات یہ ثابت کرتے ہیں کہ فطرت میں موجود ایثار محض ظاہری ہے، زیادہ معنی خیز نہیں رہتا۔ "حقیقی" ایثار اور محض ظاہری ایثار کے درمیان جو فرق قائم کیا جاتا ہے، وہ بیشتر حیوانی انواع پر لاگو ہی نہیں ہوتا۔

اس عدمِ مطابقت کے پیشِ نظر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسانوں میں پائے جانے والے نفسیاتی ایثار (psychological altruism) کی توضیح کس طرح کی جائے؟ مزید اہم یہ کہ انسان نے بالآخر اخلاقی شعور یا صلاحیت کیسے حاصل کی؟ یہیں سے قیاسی توضیحات کا آغاز ہوتا ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوا، قرابتی انتخاب اور باہمی تعاون کے تحت انواع اس لیے تعاون کرتی ہیں کہ ان کے اندر جینز کے تحفظ کے لیے ایک غیر تنقیدی رویّاتی محرک کارفرما ہوتا ہے۔ یوں یہ معاملہ اس بات سے متعلق نہیں کہ وہ اپنے عمل کو "درست" سمجھتی ہیں، بلکہ محض اس لیے کہ ایسا رویّہ ان کی بقا میں مدد دیتا ہے، خواہ انہیں اس کا شعور ہو یا نہ ہو۔ تاہم، اس نوع کی ابتدائی بنیادوں کے باوجود یہ امکان باقی رہتا ہے کہ بعض افراد خود غرضی اختیار کرتے ہوئے گروہ کے فوائد سے فائدہ اٹھاتے رہیں۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ کسی مرحلے پر ایسا کچھ ضرور ہوا جس نے افراد، خصوصاً انسان کے ابتدائی، نسبتاً زیادہ ادراکی صلاحیت رکھنے والے اسلاف کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ شعوری اور سنجیدہ انداز میں یہ سوچیں کہ اگر کوئی عمل باہمی تعاون کے نظام کے خلاف ہو تو وہ "غلط" ہے۔

ایسا ایک داخلی تناؤ پیدا ہوا ہوگا جو فرد کو حدود کی خلاف ورزی اور اس کے ممکنہ نتائج، مثلاً گروہ سے اخراج کا شعور دیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، اخلاقیات نے گروہی اصولوں اور روایات کے ساتھ وابستگی کو زیادہ مضبوط بنانے کا کام کیا۔ یوں ارتقائی سفر کے کسی مرحلے پر سماجی و اخلاقی دباؤ اور اصول ایک منظم اخلاقی ڈھانچے کی صورت میں نمودار ہوئے، شاید ایک ارتقائی تطبیق کے طور پر، جس نے باہمی تعاون پر مبنی نظام کو برقرار رکھنے میں مدد دی۔ جیسا کہ جیمز (2011, 59) کے الفاظ میں: "تعاون محض ایک پسندیدہ چیز نہیں، بلکہ یہ ایسی شے ہے جسے ہم لازمی سمجھتے ہیں۔"

فطری اخلاقیات

اس مقام پر فطری اخلاقیات (moral nativism/innatism) کی بحث متعارف کرانا مناسب ہوگا۔ اس سے مراد یہ نظریہ ہے کہ انسان بعض اخلاقی صلاحیتوں، تصورات یا اصولوں کے ساتھ فطری طور پر پیدا ہوتا ہے۔ یقیناً یہ سوال کہ آیا انسان کے اندر اس نوع کے بنیادی عناصر موجود ہیں یا نہیں، نظریہ ارتقا سے بہت پہلے سے زیرِ بحث رہا ہے (Samet and Zaitchik 2017; Samet 2019)۔ تاہم، نظریہ ارتقا اس بحث کو ایک نیا تناظر فراہم کرتا ہے۔ اگر ہم بحیثیتِ انسان ارتقائی عمل کی پیداوار ہیں، تو لازماً ہماری ادراکی ساختیں بھی کسی نہ کسی درجے میں اسی عمل کے زیرِ اثر تشکیل پائی ہوں گی۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ہم اخلاقی ادراک کی کوئی منظم توضیح اس انداز میں پیش کر سکتے ہیں جسے ارتقائی تناظر میں شناخت اور مزید ترقی دی جا سکے؟

اس سوال کے جواب میں صلاحیتی فطریت (capacity nativism) اور مضمونی فطریت (content nativism) کے درمیان امتیاز مفید ثابت ہوتا ہے (Sripada 2008a, 321; Sripada 2008b, 362–363)۔

صلاحیتی فطریت سے مراد یہ تصور ہے کہ انسان کے اندر ایک ایسی فطری ادراکی ساخت موجود ہوتی ہے جو اسے اخلاقی فیصلے کرنے کے قابل بناتی ہے۔ کسی اخلاقی حکم تک پہنچنے کے لیے فرد کو چند مراحل سے گزرنا پڑتا ہے: وہ کسی عمل کو دیکھتا ہے، یہ تعین کرتا ہے کہ یہ کسی ارادی فاعل کا عمل ہے نہ کہ کسی بے جان شے کا، جیسے درختوں کا ہوا میں ہلنا، پھر فرد اس کا اخلاقی جائزہ لیتا ہے۔ چنانچہ کسی اخلاقی اصول کے اختیار اور اطلاق سے پہلے یہ ضروری ہے کہ فرد کے پاس اعمال، رویّوں اور اپنے اندر کے ارادہ کو پہچاننے اور سمجھنے کی بنیادی صلاحیت موجود ہو۔ ان پیشگی شرائط کے بغیر کوئی بھی اخلاقی قدر بندی ممکن نہیں۔ اس کے برعکس، مضمونی فطریت وہ موقف ہے جس کے مطابق بعض اخلاقی اصول، مثلاً ممانعت اور اجازت، جیسے "قتل غلط ہے" یا "ایک دوسرے کی مدد کرنا چاہیے"، انسان کے اندر پیدائشی طور پر موجود ہوتی ہیں۔

اگرچہ صلاحیتی فطریت کے پسِ پشت کارفرما میکانزم اور ارتقائی عمل کی تفصیلات ابھی پوری طرح واضح نہیں ہیں (Dwyer 2008; Harman 2008; Prinz 2008; Tiberius 2008), Sripada (2008b, 363)) کے مطابق اخلاقی شعور رکھنے والے انسان کے لیے اس کی اہمیت اور ناگزیریت پر عمومی اتفاق پایا جاتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف مضمونی فطریت (content nativism) کے بارے میں مفکرین کے درمیان واضح اختلاف پایا جاتا ہے (Mikhail 2008; Prinz 2008; Sripada 2008b)۔ اس بنیادی اختلاف کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ ایسے آفاقی اخلاقی اصولوں کے حق میں ٹھوس تجربی شواہد دستیاب نہیں جو زمان و مکان کی تمام تہذیبوں میں یکساں طور پر پائے جائیں۔

مثال کے طور پر "اصولِ ضرر" کو دیکھ لیں، جس کے مطابق دوسروں کو نقصان پہنچانا غلط ہے، اور جسے عموماً ایک آفاقی اخلاقی اصول سمجھا جاتا ہے۔ تاہم بعض مفکرین اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تاریخی اور عالمی تناظر میں "نقصان" کی نوعیت، اس کی حدود اور اس کے درجات میں نمایاں تنوع پایا جاتا ہے۔ جیسا کہ پرنز (2008, 373) لکھتے ہیں:

کیا ضرر کے خلاف کوئی آفاقی ممانعت موجود ہے؟ اس کے شواہد نہایت کمزور ہیں۔ تشدد، جنگ، گھریلو بدسلوکی، جسمانی سزا، جارحانہ کھیل، تکلیف دہ رسومِ ابتداء، اور لڑائی جھگڑا، یہ سب عام ہیں۔ جس طرح ضرر کی ممانعت پائی جاتی ہے، اسی طرح اس کی برداشت بھی عام ہے۔ مزید برآں، اس امر میں ثقافتی تنوع بہت وسیع ہے کہ کس کو اور کن حالات میں نقصان پہنچانا جائز سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے اپنے جغرافیائی دائرے کے اندر بھی مختلف ذیلی ثقافتیں اس بات پر اختلاف رکھتی ہیں کہ آیا سزائے موت، بچوں کی پٹائی، یا پُرتشدد کھیل جائز ہیں یا نہیں۔ عالمی سطح پر اس حوالے سے ہر انتہا کی مثالیں ملتی ہیں۔

اگر "اصولِ ضرر" جیسے ایک بنیادی تصور کے اطلاق اور اس کے دائرہ کار بارے اس قدر وسیع تنوع اور اختلاف پایا جاتا ہے، تو اس کی توجیہ کیسے کی جائے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں مضمونی فطریت کے ناقدین سامنے آتے ہیں۔ ان کے نزدیک اخلاقی اصولوں کو انسان کی فطرت میں جینیاتی طور پر پیوست ماننے کے بجائے انہیں خارجی عوامل، خصوصاً سماجی اداروں کے ذریعے بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ چنانچہ "اصولِ ضرر" جیسے تصورات کو سماجی استحکام کے لیے وضع کیے گئے ثقافتی معیارات کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جو بسا اوقات "اخلاقی احساسات سے براہِ راست تقویت نہیں پاتے (Prinz 2008, 375)۔ اس بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ بعض اخلاقی اصولوں کا اختیار محض یا براہِ راست جینیاتی محرکات کا نتیجہ نہیں ہوتا، بلکہ وہ جزوی یا کلی طور پر غیر جینیاتی ذرائع، مثلاً ادارہ جاتی ثقافتوں سے بھی تشکیل پاتے ہیں۔

اب تک کی گئی بحث کو احتیاط اور تنقیدی نگاہ کے ساتھ سمجھنا چاہیے، کیونکہ ارتقائی نفسیات اور اس سے متعلق شعبہ یعنی مذہب کی ادراکی سائنس، ابھی ترقی کے ابتدائی مراحل میں ہیں۔ اس بنا پر بعض اوقات ایسے دعوے سامنے آ جاتے ہیں جو نہ صرف دستیاب شواہد سے آگے بڑھ جاتے ہیں بلکہ خود ان علوم کی حدود سے بھی تجاوز کر جاتے ہیں۔

مزید یہ کہ فلاسفہ، متکلمین اور سائنس دانوں کے درمیان اس بات پر بھی اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا ارتقائی نفسیات واقعی سائنسی طور پر قابلِ اعتماد بصیرت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں، اور اگر رکھتی ہے تو کس حد تک(Rose and Rose 2000; Scher and Rauscher 2003; Smith 2020)۔ تاہم، ان تمام پیچیدگیوں کے باوجود، یہ مباحث ہمیں کم از کم ایک فکری سمت ضرور فراہم کرتے ہیں، جس کی مدد سے ہم یہ سمجھنے کی کوشش کر سکتے ہیں کہ اخلاقیات کو ارتقائی تناظر میں کس طرح تعبیر کیا جا سکتا ہے۔

ارتقا، معیاریّت اور اخلاقی حقیقت پسندی

گزشتہ حصے میں ہم نے ایک ممکنہ منظرنامے کا جائزہ لیا تھا جس کے تحت تاریخِ حیات میں اخلاقی شعور کے ابھرنے کی توضیح کی جا سکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں، وہاں ہماری بحث توصیفی ارتقائی اخلاقیات (DEE) کے دائرے میں تھی۔ تاہم ارتقائی اخلاقیات کی بحث یہیں ختم نہیں ہوتی۔ بعض مفکرین نے ارتقائی بیانیے کو اختیار کرتے ہوئے یہ کوشش بھی کی ہے کہ اس کی مدد سے سماجی اور سیاسی پروگراموں کے جواز کو واضح کیا جائے، یعنی معیاری ارتقائی اخلاقیات (NEE) کے دائرے میں استدلال پیش کیا جائے۔ اس کی معروف مثال ہربرٹ اسپینسر کی ہے، جو بیسویں صدی کے اوائل میں سوشل ڈارونزم (Social Darwinism) کے فروغ میں ایک اہم کردار کے حامل تھے (Peters and Hewlett 2003, 52–55; Ruse 2008, 203–204)۔ انہوں نے “survival of the fittest” (اصلح کی بقا) کی اصطلاح وضع کی تاکہ ارتقا کے جوہر کو بیان کیا جا سکے، اور پھر انہی اصولوں کو سماجی حرکیات پر منطبق کیا (Ruse 2008, 110; James 2011, 118–119)۔ اسپینسر کے نزدیک کمزور افراد کو ختم ہو جانے دینا چاہیے تاکہ زیادہ مضبوط اور ترقی یافتہ افراد کو پنپنے کا موقع ملے۔ چنانچہ ان کے خیال میں کسی معاشرے کو چاہیے کہ وہ اپنے کمزور افراد، مثلاً خصوصی ضروریات کے حامل افراد یا عمر رسیدہ خاندان کے افراد کو فطری طور پر ختم ہو جانے دے، تاکہ مضبوط افراد کی ترقی کی راہ ہموار ہو:

یہ لوگ اگرچہ نیک نیت ہیں مگر گہری سوچ سے عاری ہیں جو اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہیں کہ فطرت کے نظام کے تحت معاشرہ خودبخود اپنے کمزور، ناسمجھ، سست اور غیر قابلِ اعتماد افراد کو بتدریج باہر کر دیتا ہے۔ اس کے باوجود وہ ایسی مداخلت کی حمایت کرتے ہیں جو نہ صرف اس فطری تطہیری عمل کو روک دیتی ہے بلکہ معاشرتی بگاڑ میں مزید اضافہ کا سبب بنتی ہے۔ چنانچہ یہ مداخلت ایک طرف لاپرواہ اور نااہل افراد کو مستقل سہارا دے کر ان کی افزائش کو فروغ دیتی ہے، اور دوسری طرف اہل اور دور اندیش افراد کے لیے خاندان کی کفالت کو زیادہ مشکل بنا کر ان کی افزائش کی حوصلہ شکنی کرتی ہے (Spencer 1851, 151)۔

دوسرے لفظوں میں اسپینسر کے نزدیک مناسب طرزِ عمل یہ ہے کہ فطرت کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے، جہاں بالآخر زیادہ موافق اور مضبوط افراد ہی باقی رہتے ہیں اور ترقی کرتے ہیں۔ تاہم اس نوع کا بیانیہ عملاً یوجینکس (Eugenics)، نسل پرستی اور نوآبادیاتی نظریات جیسے مسئلہ خیز رجحانات کے جواز کے لیے استعمال ہوا (Peters and Hewlett 2003, 55–58)۔ اس کے برعکس، بعض مفکرین جیسے جولیان ہکسلے نے اس بات سے اختلاف کیا کہ نظریہ ارتقا سے یہی اخلاقی نتیجہ اخذ کیا جائے۔ ان کے نزدیک اگرچہ انسان ارتقائی عمل کا نتیجہ ہے، لیکن وہ اپنے فطری محرکات سے بالاتر ہو کر اخلاقی فیصلے کر سکتا ہے (Huxley 2009)۔ ان کے الفاظ میں "فطرت میں مجھے کسی اخلاقی مقصد کا سراغ نہیں ملتا؛ یہ محض انسانی تخلیق ہے اور قابلِ قدر تخلیق ہے۔"

مزید برآں، سنہری اصول کہ دوسروں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرو جیسا تم اپنے لیے پسند کرتے ہو، کمزور طبقات کو نظر انداز کرنے کے خلاف ایک مضبوط اخلاقی دلیل فراہم کرتا ہے۔ اسی بنیاد پر بیماروں، محتاجوں اور عمر رسیدہ افراد کی دیکھ بھال کو ایک لازمی اخلاقی ذمہ داری قرار دیا جاتا ہے (Mizzoni 2009; Beck 2017)۔ حتیٰ کہ ڈارون خود بھی اس موقف کے حامی تھے، وہ لکھتے ہیں:

اخلاقی حس شاید انسان اور ادنیٰ حیوانات کے درمیان سب سے نمایاں اور اعلیٰ امتیاز فراہم کرتی ہے؛ تاہم اس موضوع پر مزید کہنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ میں حال ہی میں یہ واضح کرنے کی کوشش کر چکا ہوں کہ سماجی جبلّتیں جو انسان کی اخلاقی ساخت کا بنیادی اصول ہیں، فعال عقلی صلاحیتوں اور عادت کے اثرات کے ساتھ مل کر فطری طور پر اس سنہری اصول تک پہنچاتی ہیں:'جیسا تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں، ویسا ہی تم بھی ان کے ساتھ کرو' اور یہی اصول اخلاقیات کی بنیاد ہے (2009, 106)۔

مذکورہ بالا وجدانی اخلاقی تناؤ کے علاوہ ارتقا کو اخلاقیات کے میدان میں منطبق کرنے سے متعلق دو بنیادی فلسفیانہ مسائل بھی سامنے آتے ہیں۔ ان میں پہلا ڈیوڈ ہیوم (2007) کا معروف “is–ought gap” ہے۔ ہیوم کے مطابق ہم محض اس بنیاد پر کہ ہم کسی شے کا مشاہدہ کرتے ہیں (یعنی"ہے" (is) کی بنیاد پر ہم یہ نتیجہ اخذ نہیں کر سکتے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے، یعنی "چاہیے" (ought)((the is; James 2011, 132–142)۔ مثال کے طور پر ایک جین، ایک فوسل، بندروں کا ایک گروہ اور ایک ابتدائی انسانی معاشرہ لیجیے، اور فرض کیجیے کہ آپ بطور سائنس دان ان سب کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ ہیوم کے نزدیک آپ جتنا بھی ان کا مشاہدہ کریں، ان سے کوئی اخلاقی حکم یا اصول اخذ نہیں کر سکتے۔ جینز اور فوسلز اپنے ساتھ کوئی اخلاقی ہدایات نہیں لاتے، اور نہ ہی محض دور سے حیوانات یا انسانی معاشروں کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے۔

ایسے مطالعے سے زیادہ سے زیادہ جو چیز حاصل ہوتی ہے وہ ایک توصیفی بیان ہے۔ چنانچہ بظاہر فطری دنیا اور اخلاقی دنیا دو مختلف نوعیت کے دائروں سے تعلق رکھتی ہیں۔ ہیوم کے مطابق یہ مفروضہ کہ ان دونوں کے درمیان کوئی سیدھا اور لازماً اخذ کیا جا سکنے والا ربط موجود ہے، یہ ایک بنیادی مسئلہ ہے۔

اس سے قریب تر دوسرا مسئلہ جی ای مور کی معروف “naturalistic fallacy” ہے۔ اس مغالطے کے مطابق ہم "اچھا" اور "برا" جیسے اخلاقی تصورات کو فطری خصوصیات، مثلاً لذت یا تکلیف کے ساتھ خلط ملط نہیں کر سکتے، کیونکہ یہ دونوں بنیادی طور پر مختلف نوعیت کے دائرے سے تعلق رکھتے ہیں(James 2011, 143–149)۔

اس نکتے کو واضح کرنے کے لیے شطرنج کی مثال لیجیے۔ اس کھیل میں دونوں کھلاڑی اپنی چالوں کے ذریعے جیت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لہٰذا جو چال اس مقصد کو آگے بڑھائے، اسے "اچھی" چال کہا جائے گا۔ لیکن یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ وہی چال اخلاقی اعتبار سے بھی "اچھی" ہے۔ شطرنج کی "اچھی چال" اور اخلاقی "اچھائی" دو بالکل مختلف معانی رکھتے ہیں، اس لیے ان کو ایک دوسرے کے برابر قرار دینا درست نہیں۔ اسی طرح مور کے مطابق اخلاقی خصوصیات کو فطری خصوصیات کے ساتھ یکساں قرار نہیں دیا جا سکتا۔ درحقیقت ڈیوڈ ہیوم اور مور، دونوں کے مؤقف کی بنیاد یہی ہے کہ اخلاقیات کو نہ تو فطرت تک محدود کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے محض فطری اصطلاحات میں مکمل طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ماہرینِ اخلاق کے درمیان اختلاف پیدا ہوتا ہے کہ کس حد تک توصیفی ارتقائی اخلاقیات (DEE) سے معیاری ارتقائی اخلاقیات (NEE) اخذ کی جا سکتی ہے (James 2011, 150–160)۔

اگرچہ سوشل ڈارونزم اب خاصی حد تک اپنی مقبولیت کھو چکا ہے، تاہم بعض مفکرین نے اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ دعویٰ کیا ہے کہ نظریہ ارتقا کا اثر ارتقائی مابعد الاخلاقیات (EM) پر بھی پڑتا ہے۔ ارتقائی اخلاقیات کی بحث کو نئی زندگی اس وقت ملی جب ایڈورڈ اوسبورن ولسن نے 1975 میں اپنی معروف کتاب Sociobiology: The New Synthesis شائع کی۔ اس میں وہ لکھتے ہیں:

حیاتیات کا ماہر، جو فعلیات (physiology) اور ارتقائی تاریخ کے سوالات سے سروکار رکھتا ہے، اس بات کا ادراک کرتا ہے کہ خود آگہی (self-knowledge) دراصل دماغ کے ہائپوتھیلمس (hypothalamus) اور لمبک نظام (limbic system) میں موجود جذباتی مراکز کے زیرِ اثر محدود اور متشکل ہوتی ہے۔ یہی مراکز ہماری شعوری دنیا کو مختلف جذبات، مثلاً نفرت، محبت، احساسِ جرم، خوف وغیرہ سے معمور کرتے ہیں، جن سے اخلاقی فلسفی "اچھائی" اور "برائی" کے معیارات اخذ کرنے کی کوشش میں رجوع کرتے ہیں۔ اس کے بعد لازماً یہ سوال اٹھتا ہے کہ خود ہائپوتھیلمس اور لمبک نظام کی تشکیل کیسے ہوئی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ طبیعی انتخاب (natural selection) کے ذریعے ارتقا پذیر ہوئے۔ یہ سادہ حیاتیاتی بیان ہمیں اس امر پر مجبور کرتا ہے کہ ہم اخلاقیات اور اخلاقی فلسفے کی توضیح انہی بنیادوں پر، اور اس کی تمام گہرائیوں میں، تلاش کریں (Wilson 1975, 1)۔

ایڈورڈ اوسبورن ولسن اس امر کو واضح کرتے ہیں کہ وہ سماجیات کی بنیاد کو حیاتیاتی اصطلاحات میں قائم کرنا چاہتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، فرد اور معاشرے کی اخلاقی ساخت کو ارتقائی عمل ہی میں پیوست سمجھنا چاہیے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اگرچہ ارتقا نے ہمیں اخلاقی فیصلے کرنے کی ایک صلاحیت عطا کی ہے، لیکن یہ صلاحیتیں اور ان کے ساتھ وابستہ اخلاقی تصورات، درحقیقت تاریخی ارتقائی دباؤ کا محض نتیجہ (by-product) ہیں۔ چنانچہ اگر حیات کی کہانی کو دوبارہ چلایا جائے، اور انسان دوبارہ وجود میں آئے، تو بعید نہیں کہ وہ بالکل مختلف اخلاقی صلاحیتیں اور اچھائی و برائی کے مختلف تصورات اختیار کرے۔ اسی نوع کا استدلال مائیکل روس، شیرن اسٹریٹ، اور رچرڈ جوائس نے بھی پیش کیا ہے، اگرچہ تفصیلات میں کچھ اختلاف کے ساتھ۔

اس طرزِ استدلال کا نتیجہ نہایت واضح ہے: نظریہ ارتقا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معروضی اخلاقیات جیسی کوئی چیز موجود نہیں۔ اس بنا پر ولسن، روس، اسٹریٹ اور جوائس کو اخلاقی عدمِ حقیقت پسندی کا قائل قرار دیا جاتا ہے۔ سوشل ڈارونزم کے ساتھ اس مؤقف کا فرق واضح ہونا چاہیے۔ مزید لکھتے ہیں:

روایتی سوشل ڈارونسٹوں کے برخلاف، معاصر ارتقائی ماہرین اخلاقی ارتقا کے بیانیے کو کسی اخلاقی نظام کے جواز کے لیے نہیں بلکہ اس کی نفی کے لیے بروئے کار لا رہے ہیں۔ یوں "نئی لہر" (new wave) کے ارتقائی ماہرین اخلاق نے سوشل ڈارونزم کو الٹ کر رکھ دیا ہے۔ ان کے مطابق انسانی ارتقا کی کہانی بالآخر یہ ظاہر کرتی ہے کہ کوئی معروضی اخلاقی فرائض سرے سے موجود ہی نہیں ہیں(James 2011, 159)۔

چنانچہ جہاں سوشل ڈارونزم نے ارتقا کو انسانی معاشروں کے بعض سماجی و سیاسی نظموں کے جواز کے لیے استعمال کیا، وہیں اخلاقی عدمِ حقیقت پسندی کے حامل مفکرین اسی ارتقائی بیانیے کو اخلاقیات کی پوری عمارت کو چیلنج کرنے کے لیے بروئے کار لا رہے ہیں۔ تاہم، اس موقف کو بغیر چیلنج کے قبول نہیں کیا گیا۔ ڈیوڈ ہیوم کا “is–ought” اشکال اور جی ای مور کا “naturalistic fallacy” اب بھی مابعد الاخلاقیات (EM) کی بحث میں اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ دونوں اس بنیادی سوال کو چیلنج کرتے ہیں کہ آیا اخلاقی حقائق کو فطری حقائق سے اخذ کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو تو یہ احتمال پیدا ہوتا ہے کہ اخلاقی حقائق اپنی ایک مستقل خود مختاری (autonomy) رکھتے ہوں۔

اس نکتے کو سمجھنے کے لیے ریاضی کی مثال لی جا سکتی ہے۔ ریاضی کے بارے میں متعدد فلسفیانہ تعبیرات موجود ہیں (Horsten 2019)، جن میں ایک معروف موقف اوستین لینبو کے بیان کردہ ریاضیاتی افلاطونیت (mathematical platonism) کا ہے (Linnebo 2018)۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق، چاہے کائنات موجود ہو یا نہ ہو، یا اس کی ترتیب ہماری موجودہ کائنات سے بالکل مختلف ہو، ریاضیاتی حقائق تبدیل نہیں ہوتے۔ مثال کے طور پر 1+1=2 ہر حال میں درست رہے گا، خواہ کائنات ہو یا نہ ہو، یا اس کی ساخت مختلف ہو۔

اگر یہ بات درست ہو تو اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ریاضی کو محض فطری دنیا تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح یہ امکان بھی پیش کیا جاتا ہے کہ اخلاقیات کو بھی فطرت تک محدود نہ کیا جا سکے۔

یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ اخلاقی حقیقت پسندی کا تصور تاریخِ فلسفہ اور علمِ کلام میں ارتقا سے ہٹ کر بھی زیرِ بحث رہا ہے (Sayre-McCord 2020)۔ تاہم ارتقائی نظریے کے ممکنہ مابعد الطبیعیاتی مضمرات کے باعث اس بحث کو ایک نئے تناظر میں ازسرِ نو زندہ کر دیا گیا ہے۔

ہم یہاں ارتقائی اخلاقیات کے اس جائزے کو ختم کرتے ہیں۔ اس پوری بحث سے جو بنیادی نکتہ سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ ارتقائی اخلاقیات کے دائرے میں مختلف اور باہم متنوع فکری رجحانات پائے جاتے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا، ایک پہلو یہ ہے کہ نظریہ ارتقا اس امر کی کسی حد تک وضاحت فراہم کرتا ہے کہ اخلاقی شعور رکھنے والی ہستیاں کیسے وجود میں آئیں (توصیفی ارتقائی اخلاقیاتDEE)۔ دوسری طرف بعض مفکرین نے اسی ارتقائی بیانیے کو پورے کے پورے اخلاقی اور سیاسی نظاموں کے جواز کے لیے استعمال کیا، جیسا کہ سوشل ڈارونزم کی مثال میں دیکھا جا سکتا ہے) معیاری ارتقائی اخلاقیات (NEE۔ مزید برآں، بعض مفکرین، خصوصاً اخلاقی عدمِ حقیقت پسندی کے قائل، یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ نظریہ ارتقا اخلاقیات کو مکمل طور پر ارتقائی دباؤ کا تابع بنا دیتا ہے، جس کے نتیجے میں اخلاقی عدمِ حقیقت پسندی اور نسبیت (EM) کا تصور سامنے آتا ہے۔

(جاری)

اسلام اور عصر حاضر

اقساط

(الشریعہ — مئی ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — مئی ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۵

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۱)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۲)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۵)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد
عمرانہ بنت نعمت اللہ
سارہ بنت برکات

حدیث میں بیان کی گئی علاماتِ قیامت کی تاریخی واقعات سے ہم آہنگی (۶)
ڈاکٹر محمد سعد سلیم

فقہِ اسلامی کا تعارف و تاریخ
ڈاکٹر محمد فہیم اختر ندوی

حنفی اصولی منہج (۱)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ائمہ اہل بیت کے فقہی اجتہادات اور فقہ جعفری
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

’’کیا خدا کا وجود ہے؟‘‘ (۲)
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی
عمار خان یاسر

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۵)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۴)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

عمرِ اولؓ اور عمرِ ثانیؒ کا طرزِ حکومت
علامہ رضا ثاقب مصطفائی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۲)
محمد سراج اسرار

قیامِ پاکستان: فکری بنیاد، راہِ عمل، منزلِ مقصود (۴)
پروفیسر خورشید احمد

نظریۂ اسلام، نظریۂ پاکستان، دو قومی نظریہ
ڈاکٹر سعید احمد سعیدی

مسجد الاقصیٰ اور امتِ مسلمہ
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

القدس کی صورتحال پر اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے نام خط
سنیٹر مشتاق احمد خان

ایران پر چالیس روزہ امریکی اسرائیلی جارحیت اور پندرہ روزہ جنگ بندی
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

Our Destiny: America, Russia, China, or the Muslim World?
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سید محمد نقیب العطاس کی وفات: اسلامی فکر کے ایک عہد کا خاتمہ
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

حاجی عثمان عمر ہاشمیؒ کا سانحہ ارتحال
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
مولانا محمد اسامہ قاسم

مطبوعات

شماریات

Flag Counter