’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۷)

غزالی کے اصولِ تعبیر

مجازی تعبیر کے لیے غزالی کا منہج

اس مقام پر غزالی کے تفصیلی اصولِ تعبیر کا تعارف مناسب معلوم ہوتا ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے، ان کا منہجِ تعبیر پانچ درجات پر مشتمل ہے، اور بظاہر وہ وجود کو بھی پانچ مراتب میں تقسیم کرتے ہیں۔ تعبیر کا آغاز پہلے درجے، یعنی سب سے ظاہر معنی سے کیا جانا چاہیے، اور اس سے نچلے درجات کی طرف صرف اسی وقت منتقل ہونا چاہیے جب اس کے لیے قوی اور اطمینان بخش وجوہ موجود ہوں۔ ان پانچ درجات میں درج ذیل شامل ہیں (Bello 1989, 53–57; Al-Ghazālī 2002, 94–100; Griffel 2004; Sands 2006, 56–57; Whittingham 2007, 16–20):

1. وجودِ ذاتی

اس درجے میں اسلامی نصوص کو الفاظ کے ظاہری معنی کے مطابق سمجھا جاتا ہے اور کسی مجازی تعبیر کی طرف نہیں جایا جاتا، کیونکہ جن اشیا کا ذکر ہوتا ہے وہ اپنی ذات میں موجود ہوتی ہیں، خواہ حواس یا تخیل ان کا ادراک کریں یا نہ کریں۔ دوسرے لفظوں میں، انہیں فی نفسہٖ موجود حقائق کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ غزالی اس کی مثال قرآن میں مذکور سات آسمانوں سے دیتے ہیں (القرآن 20: 25)۔ یہ واضح نہ بھی ہو کہ ان سات آسمانوں کی حقیقت کیا ہے، تب بھی انہیں ان کے ظاہری مفہوم پر قبول کیا جا سکتا ہے، کیونکہ ان کے وجود میں فی نفسہٖ کوئی منطقی تناقض نہیں۔

2. وجودِ حسی

اس درجے میں اشیا کو حسی اور تجربی ادراک کی صورت میں سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً ہمارے سامنے ایک شخص موجود ہو اور اسے دیکھنے سے ہمارے ذہن میں اس کی ایک تصویر قائم ہو جائے۔ پہلے درجے، یعنی وجودِ ذاتی، کے برخلاف اس دوسرے درجے میں نصوص کے بیانات کو خارجی حقیقت کے بجائے حسی مظہر کے طور پر لیا جاتا ہے۔ غزالی اس کی مثال ایک حدیث سے دیتے ہیں جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت آپ کے سامنے ایک دیوار میں پیش کی گئی جس کی طرف آپ دیکھ رہے تھے (البخاری 6468)۔ غزالی کے مطابق اس بیان کو پہلے درجے کے مطابق، یعنی بالکل ظاہری معنی میں، نہیں لیا جا سکتا، کیونکہ جنت جیسی عظیم حقیقت ایک محدود دیوار میں سما نہیں سکتی۔ لہٰذا ممکن ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دیوار میں جنت کی ایک حسی صورت یا تصویر دیکھی ہو۔

3. وجودِ خیالی

اس درجے سے مراد ان اشیا کی ذہنی صورتیں ہیں جنہیں عام حالات میں حواس کے ذریعے محسوس کیا جا سکتا ہے، لیکن اس وقت ان کا کوئی براہِ راست خارجی وجود ہمارے سامنے موجود نہیں ہوتا۔ مثلاً آپ اپنے ذہن میں ایک ہاتھی کا تصور کر سکتے ہیں، حالاں کہ حقیقت میں وہ آپ کے سامنے موجود نہ ہو۔ غزالی اس کی مثال ایک حدیث سے دیتے ہیں جس میں رسول اللہ ﷺ حضرت یونسؑ کو کسی عمل میں مصروف دیکھتے ہیں (المسلم 166)۔ چونکہ حدیث میں "گویا کہ..." کے الفاظ آئے ہیں، اس لیے غزالی کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے حضرت یونسؑ کو حقیقتاً اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا تھا، بلکہ یہ منظر آپ کے ذہن یا تخیل میں پیش کیا گیا تھا۔ غزالی اس تعبیر کی معقولیت کے حق میں یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ حضرت یونسؑ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں موجود نہیں تھے۔

4. وجودِ عقلی

اس درجے سے مراد کسی شے کی مادی صورت سے قطع نظر اس کی حقیقت یا معنی کا عقلی ادراک ہے۔ مثلاً قلم کی ایک مخصوص جسمانی شکل ہوتی ہے، لیکن اس کی اصل معنوی حیثیت یہ ہے کہ وہ علم کو ثبت یا محفوظ کرنے کا ذریعہ ہے۔ اس کی نصوصی مثال کے طور پر غزالی ایک حدیث کا ذکر کرتے ہیں جس کا مفہوم یہ ہے کہ جو شخص جہنم سے نکلے گا، گناہوں کی سزا پا لینے اور پاک ہو جانے کے بعد، اسے جنت میں دنیا سے دس گنا بڑی جگہ عطا کی جائے گی (البخاری 806)۔ غزالی کے مطابق یہاں مراد طول، عرض اور حجم کے اعتبار سے دنیا سے دس گنا بڑی جگہ نہیں، بلکہ قدر و قیمت کا بیان ہے۔ چونکہ مسلمانوں کے نزدیک جنت سب سے زیادہ مطلوب اور قیمتی چیز ہے، اس لیے اس کی قدر ہر دنیاوی چیز سے کہیں بڑھ کر ہے۔ چنانچہ دنیا سے دس گنا بڑی جنت کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جنت میں انسان کو جو کچھ بھی ملے گا، اس کی قدر و قیمت بے حد زیادہ ہوگی۔

5. وجودِ شبہی یا مجازی

یہ آخری درجہ ان صورتوں سے متعلق ہے جہاں کوئی شے نہ تو اپنی ذات میں اسی معنی کے ساتھ خارجی وجود رکھتی ہے اور نہ ہی محض کسی ذہنی یا حسی تصویر کی صورت میں۔ بلکہ یہاں دو چیزوں کے درمیان کسی ایسی صفت یا خاصیت کی بنیاد پر مشابہت قائم کی جاتی ہے جسے ذہن دونوں میں مشترک طور پر سمجھ سکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، یہ تشبیہ چوتھے درجے کی طرح اشیا کی ماہیت یا جوہر کی بنیاد پر نہیں، بلکہ ان کی عارضی صفات اور خواص کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ اس کی مثال کسی بہادر شخص کو "شیر" کہنا ہے (Moosa 1995, 135)۔ بہادری نہ شیر کی لازمی ماہیت ہے اور نہ انسان کی، کیونکہ شیر اور انسان دونوں بزدل بھی ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا بہادری ایک ایسی صفت ہے جو ان دونوں میں پائی جا سکتی ہے، لیکن اس کا پایا جانا ضروری نہیں۔ غزالی اسی نکتے کی وضاحت کے لیے خدا کے غضب کی مثال دیتے ہیں (القرآن 20:81)۔ غزالی کی تعریف کے مطابق انسانی غضب میں انتقام کی خواہش کے باعث خون کا جوش میں آ جانا شامل ہے۔ یہ معنی خدا کے لیے محال ہے، کیونکہ خدا انسان کی مانند نہیں اور اس پر انسانی جذبات و کیفیات کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا (Al-Ghazālī 2008; Al-Ghazālī 2013a; Al-Ghazālī 2015)۔ اسی لیے پہلے بیان کردہ درجات اس قسم کے اوصاف پر منطبق نہیں ہوتے۔ البتہ ہم خدا کے "غضب" کو اس کے نتیجے، مثلاً سزا دینے، کے معنی میں سمجھ سکتے ہیں۔ یوں انسانی زبان اور تصورات کے ذریعے خدا کے بارے میں ایک محدود درجے کی مماثلت قائم کی جاتی ہے، بغیر اس کے کہ خدا اور انسان کے درمیان مکمل مشابہت فرض کر لی جائے۔

غزالی نے یہ درجہ بندی اس لیے وضع کی کہ اصولِ تعبیر میں انتشار اور نسبیت پیدا نہ ہو، یعنی نصوص کی ایسی غلط یا من مانی تعبیر نہ ہونے لگے جس کے لیے کوئی ضابطہ موجود نہ ہو۔ ان کے نزدیک کسی آیت یا حدیث کو سب سے پہلے اس کے ظاہر اور متبادر معنی پر سمجھا جانا چاہیے، پھر اسے اس درجہ بندی کی روشنی میں پرکھا جائے۔

اس عمل کا آغاز سب سے بلند درجے، یعنی وجودِ ذاتی سے ہوتا ہے۔ اگر کسی نص کا ظاہری مفہوم اس درجے میں قابلِ قبول نہ ہو تو پھر دوسرے درجے، یعنی وجودِ حسی، کی طرف جایا جائے۔ مفسر یا شارح اسی طرح بتدریج نچلے درجات کی طرف بڑھتا رہے، یہاں تک کہ کوئی ایسی تعبیر مل جائے جو ان پانچ درجوں میں سے کسی ایک کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ غزالی کے نزدیک اگر کوئی شخص لفظی یا ظاہری معنی سے ہٹ کر مجازی تعبیر کی طرف جانا چاہے اور اس درجہ بندی میں اس کا مطلب وجودِ ذاتی سے نیچے اترتے ہوئے بالآخر وجودِ شبہی یا مجازی تک پہنچنا ہے، تو اس کے لیے اسے ایک قطعی عقلی دلیل یعنی برہان پیش کرنا ہوگا۔ صرف اسی وقت زیادہ مجازی تعبیر اختیار کرنے کی گنجائش پیدا ہوتی ہے جب ظاہری معنی کو ناممکن یا غیر مربوط سمجھنے کی مضبوط دلیل موجود ہو (Whittingham 2014, 25–27)۔
اگر کوئی شخص مناسب دلیل کے بغیر کسی نچلے درجے کی طرف منتقل ہو تو غزالی کے نزدیک یہ ایک غیر مجاز تعبیری اقدام، یعنی بدعت میں شمار ہوگا۔ اور اگر کوئی شخص ان تمام ممکنہ درجات ہی کو رد کر دے تو معاملہ کفر تک پہنچ سکتا ہے (Bello 1989, 62)۔

یہاں ایک اور نکتے کی وضاحت بھی ضروری ہے۔ غزالی متعدد تعبیرات کے امکان کا انکار نہیں کرتے۔ کسی نص کی جو تعبیر ان پانچ درجات میں سے جس بلند تر درجے پر قائم ہو جائے، اس سے نچلے درجات اسی نص کے مزید اضافی معانی فراہم کر سکتے ہیں:

غزالی کے نزدیک اس بات پر زور دینا ضروری ہے کہ وحی کے متن کے ایک سے زیادہ معانی ہو سکتے ہیں۔ "اصولِ تعبیر" متن کی سب سے زیادہ معتبر تعبیر متعین کرتا ہے، یعنی وہ تعبیر جو وجود کے ان پانچ درجات میں سے ممکنہ طور پر بلند ترین درجے سے متعلق ہو۔ یہی تعبیر یہ متعین کرتی ہے کہ متعلقہ نص کس نوعیت کی خبری یا توصیفی معلومات فراہم کر رہی ہے۔ جب یہ بنیادی تعبیر متعین ہو جائے تو اس کے بعد اس سے نچلے تمام درجات کی گنجائش پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ نچلے درجات متن کے اضافی معانی فراہم کرتے ہیں (Griffel 2009, 113)۔

جب تک بلند ترین درجے پر قائم سب سے معتبر تعبیر مجروح نہ ہو، یہ اضافی تعبیرات ایسے مزید معانی فراہم کر سکتی ہیں جو نص کو زیادہ گہرائی سے سمجھنے میں مدد دیں۔ مثال کے طور پر حضرت موسیٰؑ کے اس واقعے کو دیکھیے جب خدا نے ان سے کلام کیا۔ قرآن کی ایک آیت (20:12) میں خدا انہیں حکم دیتا ہے کہ وہ اس وقت پہنے ہوئے اپنے جوتے اتار دیں۔ صوفیا اس آیت کی روحانی تعبیر بھی کر سکتے ہیں۔ مثلاً جوتوں کو دنیا اور آخرت کی علامت سمجھا جا سکتا ہے، اور حضرت موسیٰؑ کو یہ ہدایت دی گئی ہو کہ وہ دونوں سے دل ہٹا کر اپنے آپ کو پوری طرح خدا کے سپرد کر دیں (Griffel 2009, 113)۔

ظاہر ہے کہ ایسی تعبیرات ظنی اور تاویلی نوعیت کی ہیں، اور غزالی بھی اس کا اعتراف کرتے ہیں (Al-Ghazālī 2002, 108)۔ تاہم چونکہ یہ تعبیر آیت کے ظاہری معنی سے متصادم نہیں، اس لیے اس میں کوئی حرج نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غزالی صوفیانہ تعبیرات کے معاملے میں نسبتاً وسعت کا مظاہرہ کرتے ہیں، بشرطیکہ وہ ان حدود کے اندر رہیں جن کی وضاحت پہلے کی جا چکی ہے:

اور شاید ایسی تعبیرات کے بارے میں ان کے حق میں حسنِ ظن سے کام لینا چاہیے جن کا تعلق عقیدے کے بنیادی اصولوں سے نہ ہو... انہیں نہ کافر قرار دیا جانا چاہیے اور نہ بدعتِ غیر مشروع کا مرتکب (Al-Ghazālī 2002, 109)۔

یہی، دراصل، غزالی کا اصولِ تاویل ہے۔ تاہم یہ بات اہم ہے کہ اس طریقۂ تعبیر کو بغیر کسی قید و شرط کے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے دو امور خاص طور پر ضروری ہیں: عربی زبان سے واقفیت اور سیاق و سباق کی درست تفہیم:

فہم کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ مخاطب کو اس زبان کے عرف اور اسالیب کا پہلے سے علم ہو جس میں کلام کیا گیا ہے۔ پھر اگر کلام اپنے معنی میں قطعی اور واضح ہو تو اسے سمجھنے کے لیے زبان کا جاننا کافی ہے۔ لیکن اگر اس میں متعدد معانی کا احتمال ہو تو کلام کی مراد اس وقت تک صحیح طور پر معلوم نہیں ہو سکتی جب تک کوئی قرینہ ساتھ موجود نہ ہو۔ یہ قرینہ کبھی کسی دوسری منقول نص کی صورت میں ہوتا ہے، جیسے خدا کا یہ ارشاد: "فصل کی کٹائی کے دن اس کا حق ادا کرو"، جہاں "حق" سے مراد پیداوار کا دسواں حصہ ہے۔ اور کبھی یہ عقلی قرینہ ہوتا ہے، جیسے خدا کا یہ ارشاد: "آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے"، یا رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان: "مومن کا دل رحمان کی دو انگلیوں کے درمیان ہے"۔ اسی طرح کبھی قرائن حالات و واقعات سے حاصل ہوتے ہیں، مثلاً اشاروں، حرکات، علامات، یا کلام سے پہلے اور بعد کے سیاق سے؛ اور اس نوع کے قرائن بے شمار ہیں (Al-Ghazālī 2000b, 185)۔

اس عبارت میں ہم دیکھتے ہیں کہ غزالی مختلف قسم کے قرائن کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ پہلی مثال، یعنی فصل کی کٹائی سے متعلق عبارت، قرآن کی ایک بڑی آیت کا حصہ ہے جس میں مختلف قسم کی زرعی پیداوار کا ذکر کیا گیا ہے۔ "حق ادا کرنے" کی ہدایت سے مراد یہ ہے کہ خدا اس پیداوار کا ایک حصہ صدقے یا زکوٰۃ کے طور پر نکالنے کا حکم دے رہا ہے، اور غزالی اس مقدار کو دسواں حصہ قرار دیتے ہیں۔ جہاں تک عقلی قرائن کا تعلق ہے، خدا کے "ہاتھ" اور "انگلیوں" سے متعلق تعبیروں کو ان کے لفظی معنی میں نہیں لیا جا سکتا، کیونکہ غزالی خدا کے لیے اس نوع کے جسمانی اعضا کے قائل نہیں ہیں؛ ایسی تعبیر انسان نما تصورِ خدا کو لازم کرتی ہے (Al-Ghazālī 2013a, 55–62)۔ اب مناسب ہوگا کہ زبان اور سیاق سے متعلق ان نکات اور باریکیوں کو کچھ مزید تفصیل سے سمجھا جائے۔

کلاسیکی عربی

سب سے اہم شرائط میں شاید کلاسیکی عربی زبان کی تفہیم ہے، یعنی وہ اصل زبان جس میں رسول اللہ ﷺ کے عہد کے عرب گفتگو کرتے تھے:

… یہ طے کرنا کہ کون سا لفظ یا عبارت مجازی تعبیر کی گنجائش رکھتی ہے اور کون سی نہیں، کوئی آسان کام نہیں۔ اس کا فیصلہ صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو عربی زبان میں مہارت رکھتے ہوں، اس کے بنیادی اسالیب اور ساخت سے اچھی طرح واقف ہوں، اور عربوں کے محاورات، مجازی تعبیرات، بلاغی اسالیب اور تشبیہات کے مختلف طریقوں کا گہرا علم رکھتے ہوں (Al-Ghazālī 2002, 116–117)۔

اس نکتے کی وضاحت کے لیے درج ذیل مثالوں پر غور کیجیے۔ قرآن میں متعدد ایسے قرائن موجود ہیں جن سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ کسی نص کو مجازی یا تمثیلی معنی میں کیسے سمجھا جائے۔ ان میں ایک قسم وہ ہے جس میں تشبیہ کو واضح کرنے والے الفاظ، مثلاً کَ (جیسے) اور مِثْل (مانند) صراحت کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں:

اللہ نے انسان کو ٹھیکری کی مانند کھنکھناتی ہوئی خشک مٹی سے پیدا کیا (القرآن 55:14)۔
جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کو کارساز بنا لیتے ہیں، ان کی مثال مکڑی کی سی ہے جو اپنے لیے گھر بناتی ہے، حالاں کہ سب گھروں میں سب سے کمزور گھر مکڑی ہی کا ہوتا ہے، کاش وہ جانتے (القرآن 29: 41)۔

بعض دوسری آیات میں تشبیہ کے ایسے صریح الفاظ موجود نہیں ہوتے، لیکن موضوع، سیاق اور مضمون کی بنیاد پر انہیں غیر لفظی معنی میں سمجھا جا سکتا ہے۔ عرفی استعمال سے متعلق درج ذیل مثال پر غور کیجیے:

اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے آگے پیش قدمی نہ کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو؛ بے شک اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے (القرآن 40: 1)۔ بَيْنَ يَدَيْ کا لفظی ترجمہ "دو ہاتھوں کے درمیان" ہے، لیکن عربی محاورے میں اس سے مراد "سامنے" یا "آگے بڑھنا/پیش قدمی کرنا" ہوتی ہے (Shafi 2008, 114)۔

غالباً اس محاورے کی اصل تاجروں کے اس طرزِ عمل سے وابستہ ہے کہ لین دین کے وقت وہ اپنے ہاتھ آگے بڑھاتے تھے۔ یہی تصور یہاں اور کئی دوسری آیات میں بھی استعمال ہوا ہے، جہاں خدا انسانوں کو اس بات سے روکتا ہے کہ وہ اپنی غیر اخلاقی خواہشات، مثلاً شہوت، کے تابع ہو کر غلط فیصلے یا نامناسب معاملات کریں؛ اس کے بجائے انہیں خدا کے قانون کی پابندی کرنی چاہیے۔ اسی لیے خدا اور اس کے رسول کو معیار اور مرجع کے طور پر ذکر کیا گیا ہے (Mir 1989, 268)۔

ایک اور مثال، جو آگے باب 10 میں خاصی اہم ثابت ہوگی، عربی زبان میں مبالغے کے استعمال سے متعلق ہے۔ آج کی انگریزی / اردو میں ہم کسی بات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کے لیے سو، ہزار یا دس لاکھ جیسے اعداد استعمال کرتے ہیں، مثلاً: میں نے گاڑی کو جیسے دس لاکھ مرتبہ دھویا ہے۔ ظاہر ہے، ان اعداد سے ہماری مراد ان کی حقیقی تعداد نہیں ہوتی، بلکہ ہم صرف بات میں مبالغہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

کلاسیکی عربی میں، اس کے برعکس، مبالغے کے لیے استعمال ہونے والے اعداد عموماً سات کے گرد گھومتے ہیں، مثلاً سات، ستر اور سات سو (Lane 2010, 1297–1298; Omar 2010, 245–246)۔ اس نکتے کو سامنے رکھا جائے تو درج ذیل آیت کو بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے:

جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں، ان کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیاں اگیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں.. .(القرآن 2:261)۔

درحقیقت اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے صدقہ کرنا ایسا ہے جیسے اس کے بدلے سات سو گنا اجر حاصل ہو؛ یعنی یہاں زبان میں مبالغہ پایا جاتا ہے۔ زبان اور موضوع کے سیاق کے لحاظ سے ایسے قرائن موجود ہوتے ہیں جو یہ متعین کرنے میں مدد دیتے ہیں کہ کسی آیت، یا اس کے کسی حصے، کو لفظی معنی میں لیا جائے یا مجازی معنی میں۔

آخر میں یہ بات بھی مفید ہے کہ بعض اوقات الفاظ کی معنوی وسعت کسی ایک آیت کی متعدد تعبیرات کی گنجائش پیدا کر دیتی ہے۔ اس نکتے کی وضاحت کے لیے ایک مثال دیکھیے۔ قرآن کی ایک معروف آیت میں ایک ایسے لفظ کی وجہ سے بالکل متضاد آرا سامنے آتی ہیں جو متضاد معانی رکھتا ہے (Al-Ghazālī 1987, 471):

طلاق یافتہ عورتیں تین ماہواری کے ادوار تک انتظار کریں (القرآن 2: 228)۔

یہاں ادوار کے لیے استعمال ہونے والا لفظ قُرُوء ہے، اور یہ دو ایسے معانی رکھ سکتا ہے جو ایک دوسرے کے بالکل برعکس ہیں۔ ایک معنی حیض ہے، جس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ طلاق یافتہ عورتیں تین حیض گزرنے تک انتظار کریں۔ دوسرا معنی دو حیضوں کے درمیان کا پاکی کا زمانہ ہے، جس صورت میں آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ وہ تین ایسے ادوار تک انتظار کریں جن میں حیض نہ ہو۔

دونوں تعبیرات لغوی طور پر درست ہیں، اور اسی وجہ سے اسلامی فقہ میں اس مسئلے پر دو مختلف شرعی آرا پائی جاتی ہیں (Kamali 2008, 134)۔ چنانچہ ایک ہی لفظ یا آیت کے متعدد معانی اس وقت قبول کیے جا سکتے ہیں جب زبان خود ان کی گنجائش رکھتی ہو۔ مفسرین اور فقہا جب بعض آیات یا الفاظ میں پائے جانے والے ابہام کو سمجھنے کی کوشش کرتے تھے تو وہ زبان کے دائرے اور اس کے قواعد ہی کے اندر رہتے ہوئے ایسا کرتے تھے۔

ان تمام نکات کو سامنے رکھتے ہوئے (Shah 2012, 593) لکھتے ہیں:

[مسلمانوں کی] مجازی تعبیرات زبان کے حوالے سے نہایت متعین اور سخت لسانی قواعد کی پابند تھیں، اور انہیں انہی قواعد کی پاسداری کرنا ہوتی تھی۔ مزید یہ کہ ان کی مجازی تعبیرات ہر لفظ کے ان محدود اور متعین معانی تک مقید رہتی تھیں جو زبان میں اس کے لیے پہلے سے رائج تھے ۔دوسرے لفظوں میں، تعبیر کا عمل واضح طور پر متعین لسانی حدود کے اندر انجام پاتا تھا۔ اس بنا پر [مسلمانوں] کو زیرِ بحث لفظ کے پہلے سے موجود لغوی معانی میں سے ہی کسی ایک کو مناسب یا مراد معنی کے طور پر اختیار کرنا پڑتا تھا۔ اس طرح متن سے اپنی مطلوبہ بات ثابت کرنے کے لیے دور از کار مفروضے، خیالی حقائق یا قیاسی امکانات گھڑنے کی گنجائش باقی نہیں رہتی تھی۔
مزید برآں، یہ تحدید اس بات سے بھی مضبوط ہوتی تھی کہ یہی معانی عربی زبان کے مسلمہ اور معروف مجازی استعمالات میں بھی پائے جاتے تھے۔ اگرچہ ایک ہی عبارت سے متعدد، مگر باہم مربوط، تعبیرات تک پہنچنے کی گنجائش موجود تھی، اور مختلف اہلِ علم کسی عبارت کے چند معروف معانی میں سے مختلف پہلوؤں یا معانی پر زور دے سکتے تھے، لیکن یہ صورت حال آزاد اور بے قید قیاس آرائی سے بہت مختلف تھی۔ یوں من گھڑت، خیالی اور نامعقول تعبیرات کے دروازے بند رہتے تھے۔

چنانچہ رسول اللہ ﷺ کے عہد کی عربی زبان اور عرب معاشرتی و ثقافتی سیاق، تعبیر و تاویل کے دائرے کو متعین اور محدود کرتے ہیں۔

سیاقی قرائن

آخر میں مجازی تعبیر کے حوالے سے ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ نص کو سیاقی قرائن کی روشنی میں سمجھا جائے۔ یہ قرائن لسانی بھی ہو سکتے ہیں اور زبان سے باہر کے عوامل، مثلاً تاریخی پس منظر، سے بھی متعلق ہو سکتے ہیں (Al-Ghazālī 2008)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی نصوص کو الگ تھلگ اور ٹکڑوں میں بانٹ کر نہیں پڑھنا چاہیے، بلکہ زیرِ غور آیات کو ان کے قریبی سیاق میں رکھ کر دیکھنا چاہیے، یعنی یہ بھی دیکھا جائے کہ ان سے فوراً پہلے اور بعد میں کیا بیان ہوا ہے۔ بصورتِ دیگر اصل سیاق نظروں سے اوجھل ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر قرآن کہتا ہے: "پس ہلاکت ہے ان نمازیوں کے لیے(القرآن 107: 4)"۔ بظاہر یہ بات متناقض معلوم ہو سکتی ہے، کیونکہ مسلمانوں کو نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ لیکن جب اس آیت کو اس کے بعد آنے والی آیات کے ساتھ پڑھا جائے تو اس کا مفہوم فوراً اپنے درست سیاق میں واضح ہو جاتا ہے:

پس ہلاکت ہے ان نمازیوں کے لیے جو اپنی نماز سے غافل رہتے ہیں؛ جو محض دکھاوا کرتے ہیں اور معمولی ضرورت کی چیزیں بھی دوسروں کو دینے سے روکتے ہیں (القرآن 107: 4-7)۔

اس کے بعد آنے والی آیات واضح کرتی ہیں کہ وہ لوگ جو نماز پڑھتے ہیں لیکن اپنی نماز سے غافل رہتے ہیں، دکھاوا کرتے ہیں، اور ضرورت مندوں کی مدد سے گریز کرتے ہیں، ممکن ہے اپنی نمازوں کے حقیقی اثر اور قدر کو زائل کر رہے ہوں۔

بعض اوقات قرآن کی ایک دوسرے سے دور واقع آیات کو بھی باہم ملا کر دیکھنا ضروری ہوتا ہے۔ قرآن مختلف مقامات پر بار بار ایک ہی تصورات اور موضوعات کو مختلف انداز سے بیان کرتا ہے۔ جیسا کہ باب 3 میں ذکر ہوا، حضرت آدمؑ کا واقعہ قرآن میں مختلف مقامات پر منتشر انداز سے بیان ہوا ہے۔ لیکن اگر ان میں سے ہر حصے کو بالکل الگ تھلگ اور صرف اپنے مقامی سیاق میں اس طرح پڑھا جائے کہ وہ دوسرے حصوں سے شدید مختلف یا متضاد نظر آنے لگے، تو پھر کہیں نہ کہیں تعبیر میں مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ اسی لیے Ali (2000, 5) لکھتے ہیں کہ “قرآن کو ایک مکمل متن کی حیثیت سے پڑھنا چاہیے” تاکہ اس کی مجموعی معنوی ہم آہنگی میں کوئی تضاد پیدا نہ ہو۔ خود قرآن بھی اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ اگر یہ کتاب خدا کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتی تو اس میں بہت سے اختلافات پائے جاتے (Qurʾān 4:82)۔

یہی اصول احادیث کے ذخیرے کے مطالعے پر بھی لاگو ہوتا ہے:

قرآن کے علاوہ دوسرے نصوص کے بارے میں ایسا فیصلہ کرنا نہایت مشکل کام ہے۔ اس کی اہلیت صرف ان لوگوں کو حاصل ہو سکتی ہے جو تاریخ کی کتابوں، گزشتہ نسلوں کے حالات، حدیث کی کتابوں، راویوں کے احوال و مراتب، اور ان عقائد یا روایات کو نقل کرنے کے پیچھے ان کے مقاصد کا مطالعہ رکھتے ہوں (Al-Ghazālī 2002, 117)۔ مثال کے طور پر رسول اللہ ﷺ سے منقول اس حدیث کو دیکھیے:

اگر نحوست کسی چیز میں ہوتی تو گھوڑے، عورت اور گھر میں ہوتی (المسلم 2225-2226)۔

بظاہر یہ حدیث خاصی تشویش پیدا کر سکتی ہے، کیونکہ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ گھوڑے، عورت اور گھر میں کوئی مشترک وصف نحوست کا ہے۔ آغاز میں موجود شرطیہ انداز، یعنی "اگر..." کسی حد تک قاری کو مطمئن کر سکتا ہے، لیکن پھر بھی یہ سوال باقی رہتا ہے کہ ایسی بات کہی ہی کیوں گئی۔ تاہم ہمارے پاس ایک تاریخی روایت موجود ہے جس میں رسول اللہ ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہؓ نے اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے اس غلط فہمی کو دور کیا۔ ان سے منقول ہے:

"زمانۂ جاہلیت کے عرب کہا کرتے تھے کہ عورت، گھر اور جانور نحوست کا باعث ہوتے ہیں (quoted from Khan 2010, 70)۔"

چنانچہ کسی بھی موضوع کو اس کے درست سیاق میں سمجھنے کے لیے اس سے متعلق تمام دستیاب اور متعلقہ ماخذ کو سامنے رکھنا نہایت ضروری ہے۔

علمِ کلام اور احادیث

احادیث کی بحث کو دانستہ طور پر باب کے آخر تک مؤخر کیا گیا ہے، اگرچہ پورے باب میں مختلف مقامات پر ان کا ذکر آتا رہا ہے۔ اس کی ایک معقول وجہ ہے۔ اصولِ حدیث بذاتِ خود ایک پیچیدہ علمی موضوع ہے، اسی لیے یہ دوسرے اسلامی علوم، مثلاً علمِ کلام، فقہ اور تفسیر، کی طرح ایک مستقل شعبہ ہے۔ اس باب میں ہم نے متعدد مقامات پر متواتر اور آحاد احادیث کے درمیان فرق کیا ہے۔ متواتر سے مراد وہ احادیث ہیں جو اتنے وسیع پیمانے پر منتقل ہوئی ہوں کہ معرفتی اعتبار سے ان کا ثبوت یقینی سمجھا جائے۔ قرآن اور بعض احادیث اس معیار پر پورا اترتے ہیں۔ تاہم احادیث کے ذخیرے کا بڑا حصہ آحاد روایات پر مشتمل ہے، جبکہ متواتر روایات کو تاریخی طور پر الگ سے جانچنے کی ضرورت نہیں رہتی، کیونکہ ان کی روایت اس قدر عام اور وسیع ہوتی ہے۔ اسی بنا پر محدثین نے احادیث کو صرف متواتر اور آحاد کی دوئی میں تقسیم کر کے دیکھنے اور برتنے میں کوئی خاص عملی فائدہ محسوس نہیں کیا (Hansu 2020, 254)۔ آحاد احادیث کے وسیع ذخیرے کو بہتر طور پر جانچنے کے لیے انہوں نے مضبوط اور کمزور احادیث کے درمیان امتیاز کے اصول وضع کیے۔ عام طور پر کسی حدیث کی جانچ کے لیے پانچ بنیادی معیار استعمال کیے جاتے ہیں:

1. اتصالِ سند

2. عدالتِ رواۃ

3. ضبطِ رواۃ

4. عدمِ علت

5. عدمِ شذوذ

اتصالِ سند کا تقاضا یہ ہے کہ حدیث کی سند بلا انقطاع اپنے اصل مصدر تک پہنچتی ہو، تب ہی وہ قابلِ قبول قرار پاتی ہے۔ مزید یہ کہ سند کے ہر راوی کا اپنے سے پہلے والے راوی سے براہِ راست سماع ثابت ہو۔

اگر سند میں ایک یا ایک سے زیادہ واسطے ساقط ہوں تو اس سے حدیث کی قوت متاثر ہوتی ہے۔ اس کی ایک صورت مرسل روایت کی ہے، جس میں تابعی رسول اللہ ﷺ سے براہِ راست روایت بیان کرتا ہے اور درمیان میں صحابی کا واسطہ مذکور نہیں ہوتا۔

دوسرا اصول، یعنی عدالتِ رواۃ، اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ سلسلۂ سند میں شامل ہر شخص راست گو اور دیانت دار ہو۔ چونکہ رسول اللہ ﷺ کی علمی و دینی میراث احادیث کے راویوں کے ذریعے ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہو رہی تھی، اس لیے محدثین اس بات کے تعین میں نہایت محتاط تھے کہ کون شخص اس ذمہ داری کا اہل ہے۔ اسی مقصد کے لیے انہوں نے ایسی کتابیں مرتب کیں جن میں ہر دور اور ہر طبقے کے راویوں کے تفصیلی حالاتِ زندگی اور ان کے کردار سے متعلق معلومات محفوظ کی گئیں۔ ان میں یہ بھی دیکھا جاتا تھا کہ کسی راوی میں نفاق یا کفر جیسی کوئی بات تو نہیں پائی جاتی۔

تیسرا اصول، یعنی ضبطِ رواۃ، کسی حد تک دوسرے اصول سے مشابہ ہے، لیکن اس کا تعلق راوی کے کردار کے بجائے اس کی یادداشت، علمی مہارت اور روایت میں احتیاط سے ہوتا ہے۔ اس ضمن میں راوی کے حافظے، اس کی روایتوں میں پائی جانے والی غلطیوں اور ان کی تعداد کا جائزہ لیا جاتا تھا۔ جس راوی سے جتنی زیادہ غلطیاں ثابت ہوتیں، اس کا درجہ اتنا ہی کم سمجھا جاتا۔

چوتھا اصول، یعنی عدمِ علت، اس امر کو یقینی بنانے کے لیے تھا کہ حدیث کے متن یا سند میں کوئی ایسی مخفی کمزوری نہ ہو جو اس کی صحت کو متاثر کرے۔ یہ اصول خصوصاً ان روایات کی جانچ میں مفید تھا جو ابتدا میں صحیح سمجھی جاتی تھیں، لیکن بعد کی تحقیق میں ان میں کوئی پوشیدہ نقص سامنے آ جاتا تھا۔

پانچواں اصول، یعنی عدمِ شذوذ، اس بات سے متعلق ہے کہ کسی خاص راوی کی بیان کردہ حدیث کے الفاظ یا مضمون کا تقابل زیادہ ثقہ راویوں کی روایات سے کیا جائے۔ اگر اس کی روایت زیادہ مضبوط راویوں کی روایات سے مختلف ہو تو اس اختلاف کا جائزہ لیا جاتا ہے، تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ کہیں اس میں کوئی غلطی یا غیر معمولی انفراد تو موجود نہیں۔

ان پانچ اصولوں کی تفصیل اس سے کہیں زیادہ ہے، لیکن ہماری موجودہ بحث کے لیے اتنی وضاحت کافی ہے۔

اس جانچ کے منہج کی روشنی میں آحاد احادیث کی صحت کا تعین کرنے کے لیے عموماً تین بڑی قسمیں قائم کی گئیں: صحیح، حسن اور ضعیف۔ متواتر احادیث بہرحال صحیح کے درجے میں شمار ہوتی ہیں۔ محدثین کے نزدیک اس درجہ بندی کا بنیادی مقصد یہ امتیاز قائم کرنا تھا کہ کون سی احادیث اعتقادی یا فقہی استدلال میں قابلِ استعمال ہیں، یعنی صحیح اور حسن کے دائرے میں آتی ہیں، اور کون سی اس مقصد کے لیے قابلِ اعتماد نہیں، یعنی ضعیف ہیں (Brown 2009, 100–103)۔

اس وضاحت کے بعد اب ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ غزالی کے فکری فریم ورک میں احادیث مختلف معرفتی حیثیتیں کس طرح اختیار کرتی ہیں۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، غزالی کے نزدیک اعتقادی طور پر لازمی حجیت صرف ان نصوص کو حاصل ہے جو متواتر ہوں۔ چنانچہ عقیدے کے کسی بنیادی اور لازمی مسئلے کی بنیاد محض آحاد احادیث پر نہیں رکھی جا سکتی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آحاد احادیث کو رد کر دیا جائے؛ مطلب صرف یہ ہے کہ کسی لازمی اعتقادی التزام کی بنیاد تنہا آحاد روایت پر نہیں ہو سکتی۔

لہٰذا جو آحاد احادیث صحیح ہوں، انہیں اصولاً سنجیدگی سے لیا جائے گا، خصوصاً اس صورت میں جب ان کے مضمون کی تائید متواتر ماخذ سے بھی ہوتی ہو (Hansu 2020, 253)۔ اس کی وجہ آحاد احادیث کی معرفتی حیثیت ہے۔ وہ بنیادی اعتقادی مسائل جن کی بنیاد پر ایمان و کفر کا فیصلہ کیا جاتا ہے، صرف قطعی یقین پر قائم ہو سکتے ہیں، اور یہ درجہ متواتر ماخذ فراہم کرتے ہیں۔ اس کے برعکس آحاد احادیث قطعی نہیں ہوتیں؛ زیادہ سے زیادہ وہ صدق کا قوی ظن پیدا کرتی ہیں۔ اسی لیے اگر کوئی شخص کسی آحاد حدیث کو رد بھی کر دے تو محض اس بنا پر اسے کافر قرار نہیں دیا جا سکتا (Al-Ghazālī 2002, 114)۔

اس کے باوجود آحاد احادیث کو آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور نہ انہیں بحیثیتِ مجموعی رد کیا جا سکتا ہے۔ ان پر اعتراض یا ان سے صرفِ نظر کے لیے مضبوط دلائل درکار ہوتے ہیں، حتیٰ کہ اس وقت بھی جب معاملہ عقیدے سے متعلق ہو، خصوصاً امورِ غیب میں جس کی بحث باب 4 میں گزر چکی ہے، مثلاً جنت و جہنم کی تفصیلات اور آخرت میں پیش آنے والے واقعات (Jalajel 2009, 23–24)۔

فقہی اعتبار سے بھی آحاد احادیث کو رد کرنا متعدد مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ عبادت سے متعلق بہت سے احکام آحاد احادیث پر قائم ہیں، اور اسلامی فقہ میں انہیں باقاعدہ شرعی دلیل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے (Hansu 2020, 252)۔ اسی لیے یہ حیرت کی بات نہیں کہ غزالی اپنی اصولی تصنیف المستصفى من علم الأصول میں آحاد احادیث کی جانچ کے اصولوں پر تفصیل سے بحث کرتے ہیں۔ اگر کوئی آحاد حدیث مقررہ معیارات پر پوری اترے تو اسے فقہی احکام کے استنباط میں استعمال کیا جا سکتا ہے (Al-Ghazālī 1987, 541–661)۔ چنانچہ فقہی نقطۂ نظر سے غزالی ان آحاد احادیث کو قبول کرتے تھے جو متعلقہ شرائط پر پوری اترتی ہوں، بلکہ وہ ان پر عمل کرنے کے بھی قائل تھے۔

دوسری طرف غزالی کی نسبتاً زیادہ روحانی نوعیت کی تصانیف، مثلاً احیاء علوم الدین، میں ہمیں ضعیف احادیث کا استعمال بھی نظر آتا ہے۔ بعض مقامات پر انہوں نے بہت ضعیف احادیث بھی نقل کی ہیں، جس پر ان پر تنقید کی گئی ہے (Brown 2009, 112; Palmer 2020, 271)۔ تاہم احیاء نہ خالص فقہی تصنیف ہے اور نہ محض علمِ کلام کی کتاب؛ بلکہ اس کا بنیادی مقصد مسلمانوں کو یہ سکھانا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے دین پر کیسے عمل کریں اور اس کے روحانی فوائد و مقاصد کو کس طرح سمجھیں۔ اسی لیے اس میں روحانیت کا نمایاں رنگ موجود ہے (Garden 2013)۔

صوفیانہ علمی روایت میں احادیث قبول کرنے کا معیار نسبتاً نرم رہا ہے (Brown 2009, 184–195)۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ صوفیا متکلمین یا محدثین کے سخت اصولوں کے مخالف تھے؛ بلکہ وہ ضعیف احادیث کو ایک مخصوص دائرے اور مقصد کے لیے استعمال کرتے تھے (Palmer 2020, 272)۔ فضائل اور نوافل کی ترغیب دینے والی احادیث، بشرطیکہ ان کا ضعف اس درجے کا نہ ہو کہ ان کے موضوع ہونے کا قوی احتمال پیدا ہو، اور وہ کسی مسلمہ اعتقادی یا فقہی حکم سے متصادم بھی نہ ہوں، صوفی مفکرین کے ہاں نسبتاً آسانی سے قبول کی جاتی تھیں (Brown 2011a)۔ لہٰذا یہ تعجب کی بات نہیں کہ غزالی نے اپنی عظیم تصنیف احیاء علوم الدین میں بعض ضعیف احادیث سے بھی استفادہ کیا۔

ان مشاہدات سے دو نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں۔ اول، غزالی احادیث کی معرفتی حیثیت کو علمی شعبے کے لحاظ سے مختلف سمجھتے ہیں؛ مثلاً علمِ کلام، فقہ اور روحانیت میں حدیث کا کردار ایک جیسا نہیں رہتا۔ دوم، مجموعی طور پر غزالی آحاد احادیث کے ساتھ احتیاط اور احترام کا رویہ اختیار کرتے دکھائی دیتے ہیں، اگرچہ متواتر نصوص کے مقابلے میں ان کی معرفتی حیثیت کمزور ہے۔ اس لیے آحاد احادیث کو رد یا نظر انداز کرنے کے لیے مضبوط دلائل اور شواہد درکار ہوتے ہیں۔ آحاد احادیث کو حتی الامکان برقرار رکھنے کا یہی رجحان باب 10 میں بھی ہماری رہنمائی کرنے والا ایک اہم اصول ہوگا۔

نتیجہ

غزالی کے اصولِ تعبیر سے متعلق ان کے افکار کا جائزہ مکمل کرنے کے بعد اب ہم اپنی بحث کے اہم نتائج کو سمیٹ سکتے ہیں۔

اول، غزالی واضح طور پر ایسا موقف اختیار کرتے ہیں جس میں عقل اور وحی، دونوں کو معرفتی اعتبار سے بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

دوم، غزالی یہ واضح کرتے ہیں کہ جب عقل اور وحی کے درمیان بظاہر کوئی تعارض پیدا ہو تو متن کو اپنے پہلے سے قائم شدہ مفروضات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اگر کسی نص کی ایک سے زیادہ ممکنہ تعبیرات ہوں اور سب یکساں طور پر قابلِ قبول دکھائی دیتی ہوں تو کسی ایک تعبیر کو حتمی قرار دینے کے بجائے فیصلہ مؤخر کر دینا چاہیے، کیونکہ خدا کی مراد کے بارے میں محض قیاس آرائی آخرت میں جواب دہی کا باعث بن سکتی ہے۔

سوم، اگر نصوص کسی مسئلے کے بارے میں خاموش ہوں تو غزالی کو اس امر میں کوئی تامل نہیں کہ اس بارے میں سرے سے فیصلہ ہی نہ کیا جائے، یعنی توقف اختیار کیا جائے۔

چہارم، غزالی سائنس اور اسلامی نصوص کے درمیان ممکنہ مناسبت اور باہمی ربط کو تسلیم کرتے ہیں۔ سائنس ان نصوص کے بعض پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے جن میں قدرتی مظاہر کا عمومی انداز میں ذکر ہوا ہے۔ تاہم غزالی قرآن کو سائنسی حقائق کی کتاب بنا دینے کے قائل نہیں۔ سائنس قرآن کو مزید گہرائی سے سمجھنے کے ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے، لیکن قرآن کی تفہیم کا واحد طریقہ نہیں۔

پنجم، غزالی کے اصولِ تعبیر ان کے اعتقادی تصورات سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک نصوص کو اصولاً ان کے ظاہری معنی پر محمول کیا جانا چاہیے، جب تک کہ اس سے ہٹنے کے لیے کوئی قطعی اور برہانی دلیل موجود نہ ہو۔ وہ تعبیر کے پانچ درجات قائم کرتے ہیں، جن کا آغاز وجودِ ذاتی سے ہوتا ہے اور آخری درجہ وجودِ شبہی یا مجازی ہے۔ اگر کوئی مفسر مناسب دلیل کے بغیر کسی نچلے درجے کی تعبیر اختیار کرے تو یہ اعتقادی انحراف کے زمرے میں آئے گا۔ اور اگر وہ ان تمام ممکنہ تعبیرات ہی کو رد کر دے تو معاملہ کفر تک پہنچ سکتا ہے۔

سائنس کے حوالے سے غزالی کا یہی اصولِ تعبیر انہیں اس قابل بناتا ہے کہ وہ ایک طرف معجزات کو تسلیم کریں اور دوسری طرف قرآن میں مذکور قدرتی مظاہر کو بھی ان کے مناسب مفہوم میں سمجھیں۔ یوں ان کا منہجِ تعبیر ان کے مجموعی اعتقادی نقطۂ نظر سے پوری طرح ہم آہنگ رہتا ہے۔

شسشم، عربی زبان اور سیاق و سباق، خواہ وہ لسانی ہو یا تاریخی، سے واقفیت نہایت اہم ہے۔ جب کسی نص کو غیر لفظی یا مجازی معنی میں سمجھنے کی ضرورت پیش آئے تو یہی دونوں عناصر اس بات کا تعین کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں کہ ایسی تعبیر کی بنیاد کیا ہے۔

آخر میں، احادیث سے متعلق بحث سے یہ بات سامنے آئی کہ غزالی حدیث کو اس علمی دائرے کی معرفتی ضروریات کے مطابق استعمال کرتے ہیں جس میں وہ گفتگو کر رہے ہوں۔ اعتقادی نقطۂ نظر سے، اور اس باب میں ہم نے بنیادی طور پر اسی زاویے کو اختیار کیا ہے، متواتر احادیث معرفتی طور پر یقینی ہوتی ہیں، اسی لیے وہ عقائد کی تشکیل کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ اس کے برعکس آحاد احادیث، خواہ صحیح ہی کیوں نہ ہوں، اس درجے کی قطعی معرفتی حیثیت نہیں رکھتیں۔ تاہم آحاد احادیث کو محض اس بنا پر رد یا نظر انداز نہیں کیا جا سکتا؛ ایسا کرنے کے لیے مضبوط دلائل درکار ہوتے ہیں۔

باب 10 میں انہی تمام اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے ان مختلف طریقوں کا جائزہ لیا جائے گا جن کے ذریعے لوگوں نے نظریۂ ارتقا کو اسلامی نصوص کے ساتھ ہم آہنگ کرنے یا ان میں اس کی گنجائش پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔

اسلامی روایت اور جدید مباحث

(الشریعہ — ستمبر ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — ستمبر ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۹

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۵)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

ابولہب کے لیے تخفیفِ عذاب کی روایت : تنقیدی جائزہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل کا نبوی منہج (۲)
مولانا ڈاکٹر محمد ابوبکر فاروقی

محاضراتِ فقہ (۴)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۵)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۹)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۷)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

ہبہ، وصیت اور میراث کے شرعی احکام و ضوابط
مولانا مفتی عبد الرحمٰن منیر

غیر مسلموں کو سلام کہنے کا شرعی و فقہی جائزہ
مفتی سید انور شاہ

افواجِ پاکستان کا ترانہ
سید امین گیلانیؒ

6 ستمبر 1965ء  —    وقار اور لازوال استقلال کا استعارہ
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

اسلام اور شخصی آزادی (۱)
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
ذیشان ہاشم

ریاست کی ناکامی پرکھنے کے اصول اور کامیاب بنانے کے اقدامات
اسرار ایوب

پاکستان اور افغانستان کا ایک مستقبل
مولانا فضل الرحمٰن

سیمینار: امتِ مسلمہ کی حالتِ زار اور راہِ نجات
تنظیمِ اسلامی

سعودیہ، ترکیہ اور پاکستان کا مشترکہ دفاعی معاہدہ
الاحسان ٹی وی

کتبۂ مرقدِ محمودؒ کے مندرجات
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازی اور شریعہ اکیڈمی اسلام آباد
ڈاکٹر شہزاد اقبال شام

Protection of Muslim Family Laws
Mufti Taqi Usmani

۱۹۵۱ء کے بائیس دستوری نکات اور ۱۹۵۲ء کی دستوری سفارشات میں ترمیمات (۳)
حافظ مجددی

The Qadiani Question in State Appointments
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

تلاش

شماریات