▲ ☰

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۹)

بشر اور انسان کے درمیان امتیاز

دوسرا طریقۂ کار بشر اور انسان کے درمیان امتیاز پر قائم ہے، جس کا جائزہ ہم باب 4 میں لے چکے ہیں۔ نضال گیسوم اور ڈاکٹر اسرار احمد اس موقف کو اختیار کرتے ہیں۔ اس دعوے کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے مناسب ہوگا کہ گیسوم کی اس جامع توضیح کو دوبارہ نقل کیا جائے، جسے انہوں نے محمد شحرور کے موقف سے اخذ کیا ہے:

شحرور ابتدا ہی میں یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ عربی/قرآنی الفاظ انسان، جسے عموماً ‘آدمی’ کے معنی میں لیا جاتا ہے، اور بشر، جس کا ترجمہ عموماً ‘انسانی وجود’ کیا جاتا ہے، کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے، کیونکہ ان کے نزدیک یہ دونوں انسانی ارتقا کے دو بالکل مختلف مراحل کی نمائندگی کرتے ہیں۔ (Guessoum 2011b, 313–314) قرآن میں حضرت آدم کے واقعے کا جائزہ لیتے ہوئے وہ یہ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ جب بھی لفظ انسان استعمال ہوا ہے تو اس میں 'فہم و ادراک'، 'تجریدی تصور' خصوصاً مابعد الطبیعیاتی حقائق کے ادراک اور 'ذہانت' کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ اس کے برعکس لفظ بشر صرف تخلیق کے اس مرحلے کے لیے استعمال ہوا ہے جب وہ ابھی انسان کے درجے تک ارتقا پذیر نہیں ہوا تھا اور ذہنی و شعوری صلاحیتوں کا حامل نہیں بنا تھا۔ سادہ الفاظ میں کہا جائے تو محمد شحرور بشر کے مرحلے کو قدیم انسان نما مخلوقات (hominid)، بلکہ ہومو (Homo)، سے اور انسان کو جدید انسان سے منسلک کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنے اس موقف کے حق میں اس بات سے بھی استدلال کرتے ہیں کہ قرآن میں اس انسان نما وجود میں 'خدا کی روح پھونکے جانے' کا ذکر آیا ہے۔ شحرور اس پورے تصور کو دو نکات میں سمیٹتے ہیں:
(1) حضرت آدمؑ سے پہلے بہت سے انسان نما/Homo افراد موجود تھے؛
(2) پھر خدا نے حضرت آدمؑ کو 'منتخب' کیا اور ان میں اپنی روح پھونکی۔ یہی وہ فیصلہ کن تبدیلی تھی جس نے حیوانی حالت سے انسانی حالت کی طرف انتقال پیدا کیا۔

اس موقف پر خاصی تفصیلی تنقید کی گئی ہے (Ayoub 2005; Elshahat et al. 2019; Saeed 2019)۔ ناقدین نے اس طریقۂ کار کے خلاف دو بنیادی اعتراضات پیش کیے ہیں۔ پہلا اعتراض یہ ہے کہ بشر اور انسان کے الفاظ کو اس مخصوص مفہوم میں استعمال کرنا ایک غیر معمولی اور شخصی تعبیر معلوم ہوتی ہے (Ayoub 2005, 188)۔ لغات سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ دونوں الفاظ عمومی طور پر انسان یا نوعِ انسانی کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا ان الفاظ کا اطلاق جدید انسان کے ارتقائی پیش روؤں پر بھی کیا جا سکتا ہے یا نہیں (Principle 1)۔

دوسرا اعتراض یہ ہے کہ بشر اور انسان کے درمیان یہ نیا امتیاز پورے قرآن میں یکساں طور پر قائم نہیں رہتا (Principle 2)۔ مثال کے طور پر سورہ التغابن کی آیت 6، سورہ الاسراء کی آیت 90 تا 93 اور سورہ مریم کی آیت 26 اس تعبیر کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہیں۔

سورہ التغابن کی آیت 6 میں خدا ان لوگوں کا اعتراض نقل کرتا ہے جنہوں نے اپنے پاس بھیجے گئے انبیا کو اور ان میں رسول اللہ ﷺ کو بھی اس بنا پر ماننے سے انکار کیا کہ وہ ایک انسان تھے، نہ کہ کوئی "برتر" مخلوق۔ ان کا یہ اعتراض اس سوال میں ظاہر ہوتا ہے: "کیا بشر ہمیں ہدایت دیں گے؟"

سورہ الاسراء کی آیت 90 تا 93 میں خدا نے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ وہ اپنی بشریت کا اعلان کریں، کیونکہ منکرین نے ان سے ایسے نامعقول مطالبات کیے تھے جنہیں پورا کرنا ان کے اختیار میں نہیں تھا۔ یہ آیات گیسوم، شحرور اور احمد کے موقف کے لیے مشکل پیدا کر سکتی ہیں، کیونکہ یہاں رسول اللہ ﷺ کو بشر کہا گیا ہے۔ پہلی آیت میں بالواسطہ اور دوسری میں صراحت کے ساتھ۔ اگر لفظ بشر کو صرف ان انسان نما ارتقائی پیش روؤں کے لیے مخصوص مانا جائے جو انسان بننے سے پہلے نسبتاً کم ذہنی و شعوری صلاحیت رکھتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ کے لیے اس لفظ کا استعمال ان کے دعوے سے کسی حد تک متصادم معلوم ہوتا ہے (Principle 2)۔

مزید یہ کہ سورہ مریم کی آیت 26 میں حضرت مریم کے ہاں حضرت عیسیٰ کی معجزانہ ولادت کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ ولادت کے بعد ان کی تکلیف کم کرنے کے لیے انہیں کھانے پینے کا انتظام دیا گیا، پھر خدا نے انہیں ہدایت کی کہ کسی شخص سے گفتگو نہ کریں۔ یہاں خاص بات یہ ہے کہ نوعِ انسانی یا انسانوں کے لیے بشر اور انسان، دونوں کے مشتقات ایک ہی سیاق میں استعمال ہوئے ہیں۔ اسی وجہ سے بعض اہلِ علم نے یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ یہ دونوں الفاظ بنیادی طور پر ہم معنی یا قریب المعنی ہو سکتے ہیں، اور ان کے درمیان وہ گہرا مفہومی فرق موجود نہیں جسے گیسوم کے نقل کردہ موقف میں بیان کیا گیا ہے (Saeed 2019, 128–129; Elshahat et al. 2019; Principle 2)۔

اگرچہ پہلا اعتراض کسی حد تک وزن رکھتا ہے، لیکن دوسرا اعتراض اصل نکتے کو پوری طرح نظر انداز کر دیتا ہے۔ بشر کو صرف ماقبل انسان مخلوقات اور انسان کو صرف موجودہ انسانوں کے لیے مخصوص سمجھنے کے بجائے، یعنی دونوں کو ایسے جداگانہ زمروں کے طور پر دیکھنے کے بجائے جن میں کوئی باہمی اشتراک نہ ہو، انہیں باہم مربوط زمروں کے طور پر بھی سمجھا جا سکتا ہے۔

گیسوم اور ان سے اتفاق رکھنے والے اہلِ فکر بشر کو ایک وسیع تر زمرہ سمجھتے ہیں، جس میں ہر وہ وجود شامل ہو سکتا ہے جسے Homo سے متعلق قرار دیا جا سکے، جبکہ انسان، بشر کی ایک ذیلی قسم ہے جو ان ہستیوں کے لیے استعمال ہوتی ہے جنہیں باقاعدہ انسان کہا جا سکتا ہے۔ اس لحاظ سے ہر انسان بشر ہے، لیکن ہر بشر انسان نہیں۔

اگر اس فرق کو اس انداز میں سمجھا جائے تو اوپر بیان کیے گئے بعض مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔ مثلاً یہ کہا جا سکتا ہے کہ جہاں بشر کا لفظ استعمال ہوا ہے وہاں انسان کے عقلی یا شعوری پہلو کے بجائے اس کے جسمانی اور حیاتیاتی پہلو پر زور دینا مقصود ہے۔

تاہم اس تجویز کے باوجود ایک ممکنہ مشکل یہ ہے کہ بشر، انسان کے امتیاز کے قائل خود اس باہمی نسبت کی ترتیب پر متفق دکھائی نہیں دیتے۔ مثال کے طور پر حسن حمد عطیہ بھی اسی بیانیے کو اختیار کرتے ہیں، لیکن ان کے نزدیک وسیع تر زمرہ انسان ہے، جبکہ بشر انسانوں کی ایک ذیلی قسم ہے۔ (Ḥasan Ḥamad ʿAṭiyya 1999, 109–111)

اگر کچھ اور نہیں تو کم از کم اس سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں الفاظ کے مخصوص معنوی مفہوم کے بارے میں کوئی واضح اتفاق موجود نہیں۔ اور جب الفاظ کے معانی میں اس درجے کی لچک ہو تو یہ استدلال اپنی قوت کھو دیتا ہے۔

اس تجویز کا زیادہ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ یہ سورہ النساء کی آیت 1 اور آل عمران کی آیت 59 کو نظر انداز کرتی ہے جو تخلیقیت اور ارتقا کے باہمی اختلاف سے زیادہ براہِ راست متعلق ہیں۔ جیسا کہ باب 3 میں ذکر ہوا، ان دونوں آیات سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ حضرت آدم خدا کی ایک خصوصی تخلیق تھے اور ان کی تخلیق کسی سابقہ حیاتیاتی عمل کے ذریعے نہیں ہوئی، بلکہ براہِ راست اور فوری طور پر ہوئی (Majid 2015)۔

تاہم یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اگرچہ گیسوم ان آیات کا براہِ راست جائزہ نہیں لیتے، لیکن داؤد سلیمان جلاجل کی کتاب Islam and Biological Evolution: Exploring Classical Sources and Methodologies پر اپنے تبصرے میں وہ حضرت آدم کی معجزانہ تخلیق کے تصور پر ضرور گفتگو کرتے ہیں۔ جلاجل کی کتاب پر ان کی بعض تنقیدیں اس ضمن میں خاصی معنی خیز ہیں۔ ہماری موجودہ بحث سے خاص طور پر متعلق گیسوم کا معجزات کو قبول نہ کرنا ہے (Guessoum 2011c, 303–341)۔

جلاجل (Jalajel 2009, 149–156) کلاسیکی اسلامی تفاسیر کا جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ تمام کلاسیکی مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت آدمؑ کی پیدائش میں کسی والدین کا دخل نہیں تھا۔ وہ کلاسیکی مسلم متکلمین کے منہج کو اختیار کرتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ حضرت آدمؑ کی تخلیق ایک معجزانہ واقعہ تھی۔ جلاجل (Jalajel 2009, 123–131) وضاحت کرتے ہیں کہ کلاسیکی مفسرین اور متکلمین کے لیے یہ نتیجہ قبول کرنا بالکل دشوار نہ تھا، کیونکہ ان کے فکری نظام میں معجزات ممکن حقائق تھے۔ چنانچہ قرآن میں مذکور معجزات ان کے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرتے تھے اور انہیں ان کے ظاہری معنی پر قبول کیا جاتا تھا۔ اس نکتے کے بارے میں گیسوم لکھتے ہیں:

[جلاجل] اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ آدم کو ایک معجزانہ تخلیق سمجھا جائے۔ ان کے 'روایتی' نقطۂ نظر کے مطابق، اول یہ کہ ہم دنیا میں خدا کے افعال کے صرف عمومی نمونے دیکھتے ہیں، فطرت کے کوئی ایسے سخت اور اٹل قوانین نہیں؛ اس لیے خدا جب چاہے انہیں توڑ یا معطل کر سکتا ہے۔ دوم، سائنس کبھی بھی یہ طے کرنے کی امید نہیں کر سکتی کہ ایک مخصوص انسان، آدم... کو کس طرح خصوصی طور پر پیدا کیا گیا... مقدس نصوص حضرت آدم کی تخلیق کے بارے میں جو کچھ کہتی ہیں، اس کی بنیاد پر کلاسیکی علما اس نتیجے پر پہنچے کہ ان کی تخلیق منفرد، بلکہ معجزانہ تھی... [وہ مزید کہتے ہیں] یہ فرض کرنے کی کوئی وجہ نہیں کہ حضرت آدم کی تخلیق لازماً اسی طریقے پر ہوئی ہو جس طریقے سے دوسری انواعِ حیات وجود میں آئیں۔ یہ کہنا شاید ضروری بھی نہیں کہ یہ موقف نہ صرف اس موضوع سے متعلق پورے سائنسی نقطۂ نظر سے متصادم ہے، بلکہ بے شمار تجربی شواہد سے بھی(Guessoum 2011c, 478)۔

گیسوم کے اس تبصرے کے بارے میں دو باتیں کہی جا سکتی ہیں۔ اولاً، یہ واضح نہیں کہ سائنس انسانی استثنائیت (human exceptionalism) کے اس موقف سے کیسے متصادم ہو سکتی ہے جسے یاسر قاضی نے پیش کیا ہے، یا آدمی استثنائیت (Adamic exceptionalism) کے اس موقف سے جس کی وکالت جلاجل کرتے ہیں۔

پہلی صورت میں، اگر حضرت آم واقعی زمین پر اس طرح آئے ہوں کہ ان میں وہ تمام حیاتیاتی خصوصیات موجود ہوں جو ارتقائی عمل کے نتیجے میں متوقع ہوتی ہیں، اور یوں ان کا ظہور انسانی ارتقا کے ایک مسلسل سلسلے ہی کا حصہ دکھائی دے، پھر یہی خصوصیات ان کی تمام اولاد میں منتقل ہو گئی ہوں، تو گیسوم ایسا کون سا تجرباتی ثبوت پیش کر سکتے ہیں جس کی بنیاد پر اس امکان کو سائنسی طور پر رد کیا جا سکے؟

اسی طرح آدمی استثنائیت کے موقف میں ایسا کون سا سائنسی تجربہ کیا جا سکتا ہے جو یہ ثابت کر دے کہ ماضی میں کسی وقت آدم نامی کوئی فرد، بلا سابقہ حیاتیاتی وجود، معجزانہ طور پر زمین پر ظاہر نہیں ہوا تھا، خصوصاً جبکہ اس کا وجود نہ مشترک نسب (common ancestry) کی نفی کرتا ہو اور نہ انسانی حیاتیات میں کوئی ایسا قابلِ شناخت اثر چھوڑتا ہو جسے سائنسی طور پر الگ کیا جا سکے؟

ان دونوں امکانات میں سے کوئی بھی بظاہر انسانی ارتقا کی سائنسی توضیح سے لازماً متصادم نہیں۔

ثانیاً، یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ بعض معجزات کی ایسی تعبیر ممکن ہے جو سائنسی تقاضوں سے بھی ہم آہنگ رہے۔ مثال کے طور پر قرآن کی ایک معروف آیت میں چاند کے شق ہونے کا ذکر آیا ہے (القمر، 1)، جس پر گیسوم نے اپنی کتاب میں بھی بحث کی ہے (Guessoum 2011b, 9-13)۔ اس آیت کی دو تعبیرات ممکن ہیں: ایک یہ کہ یہ واقعہ ماضی میں پیش آ چکا ہے، اور دوسری یہ کہ یہ قیامت کے دن پیش آنے والے واقعے کی خبر ہے (Mourison 2002, 130)۔ دوسری تعبیر سائنس سے متصادم نہیں ہوگی، جبکہ پہلی تعبیر سائنسی شواہد کی عدم موجودگی کی وجہ سے مسئلہ پیدا کر سکتی ہے۔ اصولِ تعبیر کے لحاظ سے دونوں امکانات موجود ہیں۔

عربی متن میں صیغۂ ماضی استعمال ہوا ہے، گویا وہ دن پہلے ہی آ پہنچا ہو، تاکہ قاری یا سامع اس منظر کو اپنے ذہن میں محسوس کر سکے۔ بعض روایتی مفسرین اسے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں پیش آنے والا حقیقی واقعہ سمجھتے ہیں، لیکن یہ واضح طور پر دنیا کے اختتام کی طرف اشارہ کرتا ہے (Haleem 2005, 350)۔

اس کے برعکس اسلامی نصوص میں مذکور بعض دوسرے نبوی معجزات، مثلاً حضرت موسیٰ کے لیے سمندر کا پھٹ جانا، زبان کی حدود کے اندر رہتے ہوئے کسی بالکل مختلف معنی میں سمجھنا خاصا مشکل ہوگا (الشعراء، 63)۔

گیسوم اور غزالی کے درمیان الٰہیاتی اور تعبیری اختلافات سے قطع نظر، اسلامی نصوص میں خدا، فرشتوں، شیاطین، جنت اور جہنم کا ذکر بھی موجود ہے، اور یہ سب مشاہدہ پذیر طبیعی دنیا کا حصہ نہیں ہیں۔ اگر سائنس ہی وہ فیصلہ کن زاویہ قرار پائے جس کے ذریعے نصوص کی تعبیر کی جانی چاہیے، تو یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ان ہستیوں اور حقائق کو کس طرح قبول کیا جائے گا، حالاں کہ یہ اسلامی عقیدے کے بنیادی اجزا میں شامل ہیں۔

یوں ایک طرف گیسوم کا سائنس کے تابع اصولِ تعبیر معجزات کو قبول نہیں کرتا، اور دوسری طرف ان کے طریقۂ کار کے سامنے یہ مستقل سوال باقی رہتا ہے کہ خدا، فرشتوں، شیاطین، جنت اور جہنم جیسے مافوق الطبیعی حقائق کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے۔ اگرچہ گیسوم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ نصوص کی ہر بات استعارہ نہیں، لیکن اگر زبان، موضوعاتی سیاق اور تاریخی پس منظر کی فراہم کردہ حدود کو نظر انداز کر دیا جائے تو پھر ایسا کوئی واضح اور غیر من مانا اصول باقی نہیں رہتا جو یہ طے کر سکے کہ کسی خاص بیان کو کہاں مجازی سمجھنا ہے اور کہاں نہیں۔ ایسی صورت میں اصولاً ہر چیز کو استعارہ قرار دینے کا دروازہ کھل جاتا ہے (Bigliardi 2014, 175; Principle 1; Principle 2; Principle 3)۔

گیسوم کے اختیار کردہ عدمِ تعارض کے اصول پر ایک اور تنقید بھی کی جا سکتی ہے۔ اس اصول میں پہلے ہی سے یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ سائنس اور مذہبی نصوص کے درمیان تعارض کا امکان سرے سے موجود نہیں۔ یہ بات درست ہے کہ فطرت اور وحی دونوں خدا ہی کی طرف سے ہیں، اس لیے اصولی طور پر ان کے درمیان کوئی حقیقی تعارض نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن ان دونوں تک ہماری رسائی انسانی تصورات، تعبیرات اور طریقۂ کار کے ذریعے ہوتی ہے، اور چونکہ یہ انسانی ذرائع خطا سے پاک نہیں، اس لیے ان کے درمیان ظاہری یا ممکنہ تعارض پیدا ہو سکتا ہے (Haarsma 2010, 112–114)۔

مزید یہ کہ گیسوم کا موقف ان دو ممکنہ علمی رویّوں کو نظر انداز کرتا ہے: ایک یہ کہ جہاں سائنس اور مذہبی نص کے درمیان بظاہر تعارض سامنے آئے وہاں تفویضِ معنی اختیار کرتے ہوئے حتمی فیصلہ مؤخر کر دیا جائے؛ اور دوسرا یہ کہ جہاں نص کسی مسئلے پر بالکل خاموش ہو، یعنی تعبیر کے لیے کوئی نصی بیان ہی موجود نہ ہو، وہاں توقف اختیار کیا جائے (Principle 5; Principle 6; Principle 7)۔ اگرچہ بعض لوگوں کو یہ دونوں رویّے مکمل طور پر اطمینان بخش نہ لگیں، لیکن فیصلہ مؤخر کرنا یا کسی مسئلے پر رائے قائم کرنے سے گریز کرنا بہرحال معتبر علمی امکانات ہیں۔ جیسا کہ ہم باب 4 اور باب 9 میں دیکھ چکے ہیں، خود مذہبی نصوص کی تعبیر کے دائرے میں مسلم علما نے بعض مواقع پر، جہاں نصوص کے درمیان بظاہر تعارض محسوس ہوا، حتمی فیصلہ دینے کے بجائے توقف یا تفویض کا راستہ اختیار کیا ہے۔

چنانچہ اگر نصوص کی تعبیر کے اندر ہی بعض مواقع پر فیصلہ مؤخر کرنا قابلِ قبول رہا ہے، تو سائنس اور مذہبی نصوص کے باہمی تعلق میں اس امکان کو اختیار کرنے کی گنجائش اور بھی زیادہ ہونی چاہیے، کیونکہ یہاں ایسے بہت سے عوامل، احتمالات اور پہلو موجود ہو سکتے ہیں جو کسی ایک تجزیے میں ہماری نظر سے اوجھل رہ جائیں۔

یہ بات اس صورت میں اور بھی زیادہ واضح ہے جب کوئی سائنسی مسئلہ ایسا ہو جس کے بارے میں مذہبی نص سرے سے خاموش ہو۔ ایسی صورت میں توقف زیادہ مناسب ہے، کیونکہ جب نص کوئی دعویٰ ہی نہیں کر رہی تو کسی سائنسی دعوے سے اس کے تعارض کا سوال بھی پیدا نہیں ہوتا۔

گیسوم کے عدمِ تعارض کے اصول کے بارے میں اصل تشویش یہ ہے کہ سائنس اور نص کے درمیان ہر حال میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کہیں ہمیں سائنس یا اصولِ تعبیر، دونوں میں سے کسی ایک کے منہجی اصولوں یا متعلقہ حقائق کو نظر انداز کرنے پر مجبور نہ کر دے۔ گیسوم کی اپنی تجویز میں یہ مسئلہ دیکھا جا سکتا ہے، جہاں کسی نہ کسی درجے کی مطابقت پیدا کرنے کے لیے متعدد تعبیری تقاضوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

مزید برآں، اگر ہم پہلے ہی سے ہم آہنگی کو لازم مان لیں تو شاید خود گیسوم کے لیے بھی یہ نتیجہ باعثِ اطمینان نہ ہو اس کے بالکل برعکس صورت بھی پیدا کی جا سکتی ہے۔ مثلاً کوئی تخلیقیت پسند متکلم یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ سائنس دراصل تخلیقیت ہی کی تائید کرتی ہے، اور اس مقصد کے لیے وہ سائنسی نتائج کی نئی تعبیر کرے یا غیر معروف سائنسی نظریات، بلکہ حتیٰ کہ شبہ سائنس، پر انحصار شروع کر دے۔ دونوں نتائج مسائل پیدا کرتے ہیں۔ اسی لیے فیصلہ مؤخر کرنے یا رائے محفوظ رکھنے کے امکانات کو پہلے ہی سے خارج نہیں کر دینا چاہیے۔

واضح رہے کہ یہاں عدمِ تعارض کے اصول پر اس لیے تنقید نہیں کی جا رہی کہ وہ ایک علمی آدرش کے طور پر غلط ہے، بلکہ تنقید اس کے اس اطلاق پر ہے جس میں سائنس یا مذہبی نص، کسی ایک کے منہجی تقاضوں کو نظر انداز یا پس پشت ڈال دیا جائے۔ دوسرے لفظوں میں، جس طرح سائنس دان یہ توقع رکھتے ہیں کہ غیر سائنس دان سائنس کی باریکیوں اور پیچیدگیوں کو سمجھیں، اسی طرح ایک متکلم بھی یہ توقع رکھتا ہے کہ غیر متکلم علم کلام اور مذہبی تعبیر کی باریکیوں اور پیچیدہ مناہج کا لحاظ رکھیں۔

قرآن میں ارتقا کی براہِ راست قابلِ اخذ تعبیرات

اس زمرے میں آنے والے اہلِ فکر نہ تو حضرت آدم کی تخلیق کے بیان کو لازماً مجازی معنی میں لیتے ہیں اور نہ ضروری طور پر بشر اور انسان کے درمیان امتیاز کو بنیاد بناتے ہیں۔ اس کے بجائے وہ دوسرے طریقوں سے یہ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ قرآن میں ایسی تعبیرات کی گنجائش موجود ہے جنہیں نسبتاً براہِ راست ارتقا کے حق میں پڑھا جا سکتا ہے۔

ان میں سے بعض اہلِ فکر پر وہی اعتراض وارد ہوتا ہے جو اس سے پہلے گیسوم کے موقف پر کیا گیا تھا، یعنی وہ ان اہم آیات کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو تخلیقیت اور ارتقا کے اختلاف سے زیادہ براہِ راست تعلق رکھتی ہیں۔ مثال کے طور پر باسل الطائی انسانی تخلیق کے تین ایسے مراحل بیان کرتے ہیں جنہیں ارتقائی عمل سے ہم آہنگ سمجھا جا سکتا ہے (Altaie 2018)۔ تاہم ان کا استدلال سورۃ النساء کی آیت 1 اور سورۃ آل عمران کی آیت 59 کو بالکل زیرِ بحث نہیں لاتا، حالاں کہ تخلیقیت پسندوں اور ارتقا پسندوں کے درمیان اصل اختلاف بڑی حد تک انہی آیات کے گرد گھومتا ہے (Principle 2)۔

بعض دوسرے اہلِ فکر الطائی کے عمومی طریقۂ کار کو اختیار کرتے ہوئے ان دونوں میں سے ایک یا دونوں آیات سے بھی بحث کرتے ہیں۔ مثلاً ٹی۔ او۔ شناواس سورۃ النساء کی آیت 1 میں مذکور نفسٍ واحدۃٍ کو کسی جسمانی فرد کے بجائے ایک روحانی وجود کے طور پر سمجھتے ہیں (Shanavas 2005, 156)۔ اس تعبیر کے ذریعے وہ اس نتیجے سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں کہ نوعِ انسانی کی جسمانی ابتدا حضرت آدمؑ ہی سے ہوئی تھی؛ یوں ان کے نزدیک یہ آیت انسانی ارتقا سے متصادم نہیں رہتی۔

اسی تعبیر کی بنیاد پر شناواس یہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت آدم کی تخلیق کا قرآنی بیان دراصل ایک ذہنی اور مسرت آمیز کیفیت کا بیان ہے۔ مجموعی طور پر ان کا موقف روح پھونکے جانے کی ایک ایسی تعبیر کی طرف جاتا ہے جو کسی حد تک ڈاکٹر اسرار احمد کے موقف سے مشابہ ہے۔

سورۃ النساء کی آیت 1 میں آنے والا لفظ نفس، جس کا ترجمہ یہاں "جان" کیا گیا ہے، کسی غیر مادی وجود کے معنی میں لیا جا سکتا ہے، لیکن یہ لفظ کسی فرد یا شخص، نیز انسان کی داخلی اور جذباتی کیفیات کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے (Badawi and Haleem 2008, 954)۔ اس اعتبار سے صرف لفظ نفس کو دیکھا جائے تو شناواس کی تعبیر کے لیے کسی حد تک گنجائش نکل سکتی ہے۔

لیکن پوری آیت کو سامنے رکھا جائے تو یہ کہنا مشکل ہے کہ یہاں کسی خالص روحانی وجود کی بات ہو رہی ہے۔ باب 3 میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ حضرت آدم اور حوا کے حوالے سے سورۃ النساء کی اس آیت کی کم از کم دو معروف تعبیرات ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ حضرت حوا کو حضرت آدم کے کسی حصے سے پیدا کیا گیا، اور دوسری یہ کہ آدم اور حوا ایک ہی نوع یا ایک ہی اصل سے پیدا کیے گئے (Haleem 2011, 135)۔ اس لیے یہ تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ آیت کی صرف ایک ہی تعبیر نہیں۔ تاہم آیت کو پورے سیاق کے ساتھ پڑھا جائے تو نفس سے کسی روحانی وجود کو مراد لینا اس کے اگلے حصے سے پوری طرح ہم آہنگ دکھائی نہیں دیتا، کیونکہ وہاں واضح طور پر جسمانی مردوں اور عورتوں کا ذکر ہے:

اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، اور اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا، پھر ان دونوں سے بہت سے مردوں اور عورتوں کو پھیلا دیا... (النساء، 1)

اس آیت میں مردوں اور عورتوں کے لیے استعمال ہونے والے الفاظ واضح طور پر جسمانی انسانوں کے لیے ہیں۔ اس صورت میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کسی واضح اور غیر من مانے اصول کے بغیر آیت کے پہلے حصے کو روحانی موجودات اور دوسرے حصے کو جسمانی انسانوں کے بارے میں کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔ مزید برآں، قرآن میں ایسی دوسری آیات بھی ہیں جو انسانی نسل کے آغاز کو ایک مرد اور ایک عورت سے وابستہ کرتی ہیں:

اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو... (الحجرات، 13)

ان نکات کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سورۃ النساء کی آیت 1 کے بارے میں شناواس کی تعبیر کسی قدر تکلف پر مبنی محسوس ہوتی ہے (Principle 2)۔

یہ تاثر اس وقت مزید مضبوط ہوتا ہے جب وہ دوسری آیات سے بھی ارتقا کے قطعی مفاہیم اخذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً وہ اس آیت سے استدلال کرتے ہیں:

حالاں کہ اس نے تمہیں مختلف مراحل میں پیدا کیا ہے۔ (نوح، 14)

اس پر شناواس لکھتے ہیں:

یہ آیت دوٹوک انداز میں بیان کرتی ہے کہ نوعِ انسانی کی تخلیق کوئی جادوئی، فوری اور عدم سے یکایک وجود میں آنے والا واقعہ نہیں تھی، بلکہ یہ مرحلہ بہ مرحلہ تبدیلی کا عمل تھا(Shanavas 2010, 135)۔

تاہم اس آیت میں آنے والے لفظ أَطْوَارًا کا ترجمہ صرف "مراحل" ہی نہیں کیا جا سکتا۔ اس لفظ میں حالات، کیفیات اور مختلف صورتوں کے معانی بھی پائے جاتے ہیں (Badawi and Haleem 2008, 575–576; Lane 2010a, 1890)۔ اس معنوی وسعت کی بنا پر یہ لفظ زمانی تدریج کی طرف بھی اشارہ کر سکتا ہے اور ایسی مختلف حالتوں اور صورتوں کی طرف بھی جن کا کسی زمانی ترتیب سے تعلق ضروری نہیں (Principle 1)۔ مزید یہ کہ اگر زمانی تدریج کی تعبیر ہی اختیار کر لی جائے تو پھر بھی یہ ثابت کرنا باقی رہتا ہے کہ یہاں جس تدریج کی بات ہو رہی ہے، اس سے مراد جدید مفہوم میں حیاتیاتی ارتقا ہے یا انسان کی انفرادی تخلیق کے وہ تدریجی مراحل جن میں وہ جنین سے مکمل انسان بنتا ہے، جیسا کہ قرآن کے دوسرے مقام پر بیان ہوا ہے (المؤمنون، 12–14)، (Principle 2)۔

اس آیت سے پہلے کی آیات میں خدا کی نعمتوں، مثلاً بارش، اولاد اور مال، کا ذکر ہے (نوح، 11–13)، جبکہ بعد کی آیات میں آسمانوں کی تہوں، اجرامِ فلکی اور زمین کا بیان آتا ہے (نوح، 15–20)۔ اس موضوعاتی سیاق میں دیکھا جائے تو یہ آیت زیادہ قرینِ قیاس طور پر تخلیق کی مختلف حالتوں اور مراحل کا ایک عمومی بیان معلوم ہوتی ہے۔ اس کے باوجود یہ تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ آیت میں اس نوع کی مرحلہ وار تبدیلی بھی شامل ہو سکتی ہے جس کی طرف شناواس اشارہ کرتے ہیں۔ لیکن اسے اس قطعیت یا اس درجے کے قوی احتمال کے ساتھ پیش نہیں کیا جا سکتا جس طرح شناواس کرتے ہیں (Principle 2)۔ مزید یہ کہ شناواس سورۃ النساء کی آیت 1 سے تو بحث کرتے ہیں، لیکن سورۃ آل عمران کی آیت 59 کو زیرِ بحث نہیں لاتے (Principle 2)۔

داؤد عبدالفتاح بیچلر ان دونوں آیات سے ایک نہایت منفرد تعبیر اخذ کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک سورۃ آل عمران کی آیت 59 سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ چونکہ حضرت عیسیٰ حضرت مریم سے پیدا ہوئے، یعنی حضرت مریم ان کی حقیقی والدہ تھیں، اس لیے حضرت آدم کی بھی ایک حقیقی والدہ رہی ہوگی، اگرچہ وہ حضرت آدم سے پہلے موجود کسی مخلوق سے تعلق رکھتی ہوں (Batchelor 2018, 496)۔

یہ تعبیر باب 3 میں بیان ہونے والی معروف تعبیر کو تقریباً الٹ دیتی ہے۔ مفسرین نے حضرت آدم اور حضرت عیسیٰ کے درمیان متعدد وجوہِ مماثلت بیان کی ہیں۔ ایک تفسیر میں پندرہ مماثلتیں ذکر کی گئی ہیں، اور یہ سب ایک دوسرے کے ساتھ جمع ہو سکتی ہیں (Al-Gharnāṭī 2020a; Al-Gharnāṭī 2020b):

1. ساخت اور ہیئت میں مماثلت؛

2. اس مادی اصل کے اعتبار سے جس سے خدا نے ان دونوں کی صورت بنائی؛

3. بندگی میں؛

4. نبوت میں؛

5. آزمائش میں: حضرت عیسیٰ کو یہود کے ذریعے اور حضرت آدم کو شیطان کے ذریعے آزمائش پیش آئی؛

6. کھانے پینے میں؛

7. خدا کے محتاج ہونے میں؛

8. اوصاف میں؛

9. آسمان کی طرف اٹھائے جانے اور وہاں سے زمین پر اترنے میں؛

10. الہام میں؛

11. حضرت آدم نے چھینک آنے پر الہام کے ذریعے "الحمد للہ" کہا، جبکہ حضرت عیسیٰ نے اپنی والدہ کے بطن سے نکلتے ہی کہا: "میں اللہ کا بندہ ہوں"؛

12. علم میں: حضرت آدم کے بارے میں فرمایا گیا: "اس نے آدم کو تمام نام سکھائے"، اور حضرت عیسیٰ کے بارے میں:"وہ اسے کتاب اور حکمت سکھائے گا"؛

13. روح پھونکے جانے میں: حضرت آدم کے بارے میں "میں نے اس میں اپنی روح پھونکی"، اور حضرت عیسیٰ کے بارے میں "ہم نے اس میں اپنی روح پھونکی"؛

14. موت میں؛

15. باپ نہ ہونے میں۔

اس فہرست سے واضح ہے کہ حضرت آدم کے لیے کسی ماں کا ہونا حضرت عیسیٰ کے ساتھ مشترک مماثلت کے طور پر کہیں مذکور نہیں۔ یاد رہے کہ خود قرآن واضح کرتا ہے کہ حضرت مریم نے حضرت عیسیٰ کو کسی مرد کے تعلق کے بغیر، یعنی باپ کے بغیر، جنم دیا۔ سورۃ مریم میں یہ واقعہ یوں بیان ہوا ہے:

اور کتاب میں مریم کا ذکر کیجیے، جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر مشرقی جانب ایک جگہ چلی گئیں اور ان سے پردہ کر لیا۔ پھر ہم نے اپنی روح کو ان کے پاس بھیجا، جو ان کے سامنے ایک مکمل انسان کی صورت میں ظاہر ہوئی۔ مریم نے کہا: اگر تم خدا سے ڈرتے ہو تو میں تم سے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں۔ اس نے کہا: میں تو تمہارے رب کا بھیجا ہوا ہوں تاکہ تمہیں ایک پاکیزہ بیٹے کی بشارت دوں۔ مریم نے کہا: میرے ہاں بیٹا کیسے ہوگا جبکہ کسی مرد نے مجھے چھوا تک نہیں اور میں بدکار بھی نہیں ہوں؟ اس نے کہا: ایسا ہی ہوگا۔ تمہارے رب نے فرمایا ہے: یہ میرے لیے آسان ہے۔ اور ہم اسے لوگوں کے لیے ایک نشانی اور اپنی طرف سے رحمت بنائیں گے۔ (مريم، 16–21)

اس واقعے میں مذکور "روح" سے عموماً مراد حضرت جبرائیل لیے جاتے ہیں، جو حضرت مریم کے سامنے ایک انسان کی صورت میں ظاہر ہوئے تھے (Nasr 2015, 768)۔ خود حضرت مریم کا قرآن میں منقول بیان پوری وضاحت سے بتاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ بغیر باپ کے پیدا ہوئے: "میرے ہاں بیٹا کیسے ہوگا جبکہ کسی مرد نے مجھے چھوا تک نہیں اور میں بدکار بھی نہیں ہوں؟"

لہٰذا اگر والدین کے حوالے سے حضرت عیسیٰ اور حضرت آدم کے درمیان کوئی مماثلت قائم کرنی ہو تو اس نکتے کی روشنی میں مماثلت یہ بنتی ہے کہ دونوں کا کوئی باپ نہیں تھا۔ تاہم صرف اس دلیل کی بنیاد پر ابھی یہ امکان قطعی طور پر خارج نہیں ہوتا کہ حضرت آدم کی کوئی ماں رہی ہو۔

لیکن سورۃ آل عمران کی آیت 59 کے موضوعاتی اور تاریخی سیاق کو سامنے رکھا جائے تو یہ امکان خاصا کمزور پڑ جاتا ہے۔ جیسا کہ باب 3 میں ہم دیکھ چکے ہیں، جس سورت میں یہ آیت واقع ہوئی ہے اس کا ایک اہم موضوع مسیحی عقائد، بالخصوص حضرت عیسیٰ کو الوہیت میں شریک قرار دینے کے تصور، کی تردید ہے۔ اسی سیاق میں بعد کی آیات اس بات پر زور دیتی ہیں کہ الوہیت صرف خدا کے لیے ہے (آل عمران، 62)، یعنی کوئی انسان یا نبی خدا کی الوہیت میں شریک نہیں۔ اسی طرح اس سے پہلے حضرت عیسیٰ کا اپنے ان حواریوں کو پکارنا مذکور ہے جو خدائے واحد پر ایمان رکھتے تھے (آل عمران، 52)۔

قرآن کو مجموعی طور پر اور حضرت آدم کی تخلیق سے متعلق دوسری آیات کو سورۃ آل عمران کی آیت 59 کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو بظاہر یہاں ایک تقابل مقصود ہے: حضرت عیسیٰ کی معجزانہ ولادت، جو باپ کے بغیر ہوئی، حضرت آدم کی والدین کے بغیر تخلیق کے مقابلے میں کم غیر معمولی ہے۔

آیت کے آخری الفاظ، "پھر اس سے کہا: 'ہو جا'، تو وہ ہو گیا"، قرآن میں بار بار آنے والے ایک معروف مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اس سے خدا کی قدرتِ مطلقہ واضح کرنا مقصود ہے: خدا قوانینِ فطرت کا پابند نہیں اور جو چاہے کر سکتا ہے۔ اس لیے آیت کے موضوعاتی سیاق میں حضرت آدم کے لیے کسی ماں کا اثبات کرنا زیادہ موزوں تعبیر معلوم نہیں ہوتی۔

البتہ جو لوگ اس نوع کی معجزانہ تخلیق کو سرے سے قبول نہیں کرتے، ان کے لیے ظاہر ہے کہ یہ تعبیر قابلِ قبول نہیں ہوگی۔

تاریخی پس منظر بھی اس تقابل کو مزید واضح کرتا ہے۔ ایک مسیحی گروہ حضرت عیسیٰ کی معجزانہ، یعنی باپ کے بغیر، ولادت کو ان کی الوہیت کی دلیل سمجھتا تھا۔ اس پس منظر کو مجموعی طور پر سامنے رکھا جائے تو آیت کا بلاغی استدلال یہ بنتا ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ کو محض اس وجہ سے الوہی قرار دیا جائے کہ ان کا کوئی باپ نہیں تھا، تو حضرت آدم کی تخلیق تو اس سے بھی زیادہ غیر معمولی تھی، کیونکہ ان کے نہ باپ تھے اور نہ ماں (Principle 2)۔

تاہم یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس آیت کا یہ تاریخی پس منظر ایک حدیثِ آحاد سے معلوم ہوتا ہے، اور محدثین کی اصطلاح میں یہ روایت بالخصوص مرسل ہے(العوني، 1997، 452–453)۔ مرسل روایت وہ ہوتی ہے جس میں تابعی رسول اللہ ﷺ سے براہِ راست روایت نقل کرتا ہے اور درمیان میں صحابی کا واسطہ مذکور نہیں ہوتا۔ محدثین نے عمومی طور پر ایسی روایات کی حجیت کے بارے میں احتیاط برتی ہے (Brown 2009, 91–92)۔

غزالی اپنی اصولِ فقہ کی کتاب "المستصفى" میں، جس کا مختصر ذکر باب 9 میں ہو چکا ہے، بیان کرتے ہیں کہ بعض شرائط کے تحت مرسل روایت قبول کی جا سکتی ہے (Al-Ghazālī 1987, 650–656)۔ اگرچہ احادیثِ آحاد بذاتِ خود کسی عقیدے کو قطعی اور لازم نہیں بناتیں، لیکن ان کی تائید متواتر نصوص سے ہو سکتی ہے۔ اس لیے اگر قرآن سے حضرت آدم کی معجزانہ تخلیق ثابت سمجھی جائے تو یہ روایت سورۃ آل عمران کی آیت 59 کے تاریخی پس منظر کی وضاحت کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔ تاہم اگر اس روایت کو قابلِ اعتماد نہ بھی مانا جائے تو آیت کے موضوعاتی سیاق سے پیدا ہونے والا اعتراض اپنی جگہ باقی رہتا ہے۔

ان تمام نکات کی روشنی میں بیچلر کی تعبیر خاصی تکلف آمیز معلوم ہوتی ہے۔

سورۃ آل عمران کی آیت 59 کے علاوہ، بیچلر سورۃ النساء کی آیت 1 کی بھی ایک نہایت منفرد تعبیر پیش کرتے ہیں اور اسے حضرت آدم سے پہلے موجود ایک "ماں" کے تصور سے جوڑتے ہیں (Batchelor 2018, 496–497):

اس آیت میں نفسٍ واحدۃٍ کا استعمال اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ پہلے حضرت آدم کا زائیگوٹ، یعنی بارآور بیضہ، وجود میں آیا اور پھر حوا، بطور زوجہ، اس سے الگ ہوئیں۔ تخلیق سے متعلق اس بنیادی آیت میں خدا جس طرح ان ارحام کا لحاظ رکھنے کی تلقین کرتا ہے جنہوں نے تمہیں جنم دیا، اس سے بظاہر یہ اشارہ ملتا ہے کہ آدم اور حوا دونوں کسی رحم کے اندر پیدا ہوئے تھے۔مصنف اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ نفسٍ واحدۃٍ قواعدی طور پر مؤنث ہے، اور منها اور زوجها دونوں میں مؤنث ضمیر ها استعمال ہوئی ہے...
روایتی اسلامی تعلیمات اور اہلِ علم کے اجماع کے مطابق نفسٍ واحدۃٍ سے مراد آدم ہیں۔ لفظ نفس کو مؤنث رکھنے اور اس کے ساتھ مؤنث ضمیر ها کے استعمال کی مجوزہ توضیح یہ ہے کہ نفسٍ واحدةٍ ابھی مکمل انسان نہیں تھا؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ابھی زائیگوٹ کے مرحلے میں تھا۔ خدا نے بعد کے ایک ترقی یافتہ مرحلے میں اس میں روح پھونکی ہوگی، جس سے وہ ایک مکمل روحانی وجود بنا۔ یہی سب سے زیادہ منطقی توضیح معلوم ہوتی ہے۔

بیچلر کے موقف کا حاصل یہ ہے کہ نفسٍ واحدۃٍ، جس کا ترجمہ "ایک جان" کیا جاتا ہے، ان کے نزدیک دراصل ایک بارآور بیضہ (fertilised egg)، یعنی زائیگوٹ (zygote) ہے۔ پھر وہ یہ کہتے ہیں کہ نوعِ انسانی کے "ایک جان" سے وجود میں آنے کی بہترین سائنسی توضیح یہ ہے کہ حضرت آدم اور حوا کسی ماقبلِ آدمی وجود کے اندر یک زائیگوٹی جڑواں (monozygotic twins) کی صورت میں بنے۔ بعض دوسرے اہلِ فکر نے بھی اس سے ملتے جلتے خیالات پیش کیے ہیں۔

تاہم یہاں ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ بیچلر نے لفظ نفس کو جس طرح "زائیگوٹ" کے مفہوم میں تبدیل کیا ہے، اس کی لسانی بنیاد خاصی کمزور ہے۔ عربی میں اسماء مذکر یا مؤنث ہوتے ہیں، اور اس تذکیر و تانیث کی مختلف نوعیتیں ہیں، جن میں معنوی جنس (semantic gender)، صرفی جنس (morphemic gender) اور قواعدی جنس (grammatical gender) شامل ہیں (The Qurʾānic Arabic Corpus 2009)۔

کسی لفظ کا مذکر یا مؤنث ہونا کبھی حقیقی جنس کی بنا پر ہوتا ہے اور کبھی محض زبان کی ساخت کا تقاضا ہوتا ہے (Principle 1)۔ مثلاً عربی میں کسی خاتون کے لیے صفت استعمال کی جائے تو وہ مؤنث صیغے میں آئے گی، کیونکہ متعلقہ شخص واقعی عورت ہے۔ لیکن عربی میں بہت سی ایسی اشیا بھی قواعدی طور پر مؤنث ہیں جن کی کوئی حیاتیاتی جنس نہیں۔ مثال کے طور پر شمس یعنی سورج مؤنث ہے، حالاں کہ سورج میں کوئی حقیقی نسوانی خصوصیت نہیں۔ اس کے باوجود عربی میں اس کے ساتھ مؤنث صیغے ہی استعمال ہوتے ہیں۔

لفظ نفس کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ عربی زبان میں یہ لفظ مؤنث شمار ہوتا ہے۔ اس کے عمومی معنی "جان" یا "شخص" کے ہیں، لیکن بذاتِ خود یہ لفظ کسی حیاتیاتی جنس کی نشان دہی نہیں کرتا (Badawi and Haleem 2008, 954–955; Lane 2010b, 2826)۔

اسی قواعدی مناسبت کی بنا پر اس کے ساتھ مؤنث ضمیر ها استعمال ہوتی ہے۔ عربی میں جب کسی اسم کی قواعدی جنس متعین ہو تو اس کی طرف لوٹنے والی ضمیریں بھی اسی کے مطابق آتی ہیں۔ چنانچہ منها اور زوجها میں مؤنث ضمیر کا استعمال اس لیے ہے کہ نفس عربی میں مؤنث ہے؛ اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ یہاں کوئی حیاتیاتی طور پر مؤنث وجود یا زائیگوٹ مراد ہے۔

لہٰذا صرف عربی زبان کے قواعدی تذکیر و تانیث کی بنیاد پر نفس اور روح کے درمیان ایسا فرق قائم کرنا، اور پھر نفسٍ واحدةٍ سے زائیگوٹ مراد لینا، بیچلر کی نسبتاً کمزور دلیل معلوم ہوتی ہے۔ یہ تعبیر لفظ نفس کے معروف اور معمول کے استعمال سے بھی مطابقت نہیں رکھتی (Principle 1)۔

توقفِ حکم

باب 4 میں ہم نے دیکھا تھا کہ جانر تسلمان اور ڈیوڈ سلیمان جلاجل کا طریقۂ کار بڑی حد تک ایک دوسرے سے ملتا جلتا ہے۔ دونوں اس اصول پر اعتماد کرتے ہیں کہ اگر کسی مسئلے کی تفصیلات مذہبی نصوص میں موجود نہ ہوں اور ان کی بنیاد پر ارتقا کے حق یا مخالفت میں کوئی قطعی موقف اختیار نہ کیا جا سکے تو توقف اختیار کرنا چاہیے۔ البتہ دونوں کے درمیان ایک اہم فرق ہے۔ جلاجل کے نزدیک حضرت آدم کی معجزانہ تخلیق کو نص کے ظاہری مفہوم کے مطابق قبول کیا جانا چاہیے، جبکہ جانرتاسلمان کا رجحان یہ ہے کہ حضرت آدم کی تخلیق کی بھی ایسی توضیح ممکن ہے جس میں معجزے کا سہارا لینا ضروری نہ ہو۔ جانرتسلمان اپنے موقف کے حق میں بنیادی طور پر دو طریقے اختیار کرتے ہیں۔

پہلا یہ کہ معجزات کے بارے میں حتمی فیصلہ دینے کے بجائے ایک طرح کا لاادری موقف اختیار کیا جائے۔ ان کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ممکن ہے خدا نے ایسے قوانینِ فطرت کے ذریعے معجزات ظاہر کیے ہوں جو اس زمانے کے لوگوں کے علم میں نہ تھے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ خدا نے قوانینِ فطرت کو معطل کر دیا ہو۔ دونوں صورتیں ممکن ہیں، اس لیے ہمارے پاس اس معاملے میں کوئی قطعی موقف اختیار کرنے کی بنیاد نہیں۔ جانرتسلمان لکھتے ہیں:

یہ سوال کہ قوانینِ فطرت معطل کیے گئے تھے یا نہیں، ایک فلسفیانہ بحث ہے۔ اس سوال کا درست جواب دینے کے لیے کہ کیا خدا قوانینِ فطرت کو معطل کرتا ہے؟ ضروری ہے کہ ہمیں قوانینِ فطرت کا مکمل علم ہو، جبکہ ہم ابھی ایسے مکمل علم سے بہت دور ہیں۔ مذہبی لوگ اس بات سے اتفاق کر سکتے ہیں کہ خدا کی مداخلت قوانینِ فطرت کو معطل کرکے بھی ہو سکتی ہے اور انہیں معطل کیے بغیر بھی۔ ان دونوں میں سے کوئی ایک موقف اختیار کیا جائے تو دوسرا امکان پھر بھی باقی رہتا ہے (Taslaman 2020, 93)۔

کوئی مسلمان معقول طور پر یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ 'خدا قوانینِ فطرت کو معطل کرکے انواع کو پیدا نہیں کر سکتا'، اور نہ ہی یہ معقول دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ 'خدا قوانینِ فطرت کو معطل کیے بغیر انواع کو پیدا نہیں کر سکتا۔' دونوں امکانات موجود ہیں، اور چونکہ خدا کے ارادوں تک ہماری علمی رسائی نہیں، اس لیے ہمیں اس بارے میں فیصلہ معلق رکھنا چاہیے کہ حقیقت میں ان دونوں میں سے کون سی صورت واقع ہوئی۔ قرآن کا متن ہمیں ان دونوں میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے پر مجبور نہیں کرتا۔

تسلمان کے اس نکتے کو کسی حد تک تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ خدا نے ایسے معجزات ظاہر کیے ہوں جنہیں اس زمانے کے لوگ اپنے محدود سائنسی علم کی وجہ سے قوانینِ فطرت کے دائرے میں سمجھنے سے قاصر رہے ہوں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ خدا ایسے واقعات ظاہر کرے جو انتہائی غیر معمولی اور بہت کم احتمال کے حامل ہوں۔

لیکن اشعری الٰہیات میں خدا ایسے معجزات بھی ظاہر کر سکتا ہے جو ہمارے موجودہ سائنسی تصورات اور احتمالات کی حدود سے بالکل باہر ہوں۔ باب 6 میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ اشاعرہ کے نزدیک خدا ہر وہ کام کر سکتا ہے جو منطقی طور پر ممکن ہو، اور منطقی امکانات کا یہ دائرہ سائنسی طور پر ممکن امور سے کہیں وسیع ہے۔

اس لیے اگر سائنس مستقبل میں اس قدر ترقی بھی کر جائے کہ ہمیں فطرت کے بارے میں ایک نہایت جامع، بلکہ بقول تسلمان "مکمل فہم" حاصل ہو جائے، تب بھی اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ خدا ایسے معجزات نہیں کر سکتا جو اس سائنسی دائرے سے باہر ہوں۔ معجزے کا بنیادی مقصد ہی خدا کی قدرتِ مطلقہ کو اس طرح ظاہر کرنا ہے کہ ایسا واقعہ رونما ہو جو فطرت کے معمول کے تسلسل سے مختلف ہو۔ جس طرح خدا ماضی کی تہذیبوں کے سائنسی علم سے ماورا معجزات ظاہر کر سکتا تھا، اسی طرح وہ ہمارے موجودہ علم سے بھی ماورا معجزات ظاہر کر سکتا ہے، خواہ ہمارا علم کتنا ہی ترقی یافتہ کیوں نہ ہو۔

معجزات کا یہ مسئلہ تسلمان کے اصولِ تعبیر سے گہرا تعلق رکھتا ہے، اور یہی ہمیں ان کی دوسری حکمتِ عملی کی طرف لے جاتا ہے۔

تسلمان کا دوسرا طریقہ یہ دکھانا ہے کہ قرآن اشیا کی تخلیق کی تفصیلی کیفیت بیان نہیں کرتا، حتیٰ کہ حضرت آدم اور نوعِ انسانی کی تخلیق کے طریقۂ کار کی بھی مکمل تفصیل فراہم نہیں کرتا۔ جلاجل کے آدمی استثنائیت (Adamic exceptionalism) کے موقف کے مطابق حضرت آدم کی تخلیق معجزانہ طور پر ہوئی، لیکن تسلمان کے نزدیک ضروری نہیں کہ ایسا ہی ہوا ہو۔

اس سلسلے میں وہ سورۃ النساء کی آیت 1 کے بارے میں چند نکات پیش کرتے ہیں۔ سب سے پہلے وہ اس تعبیر کو رد کرتے ہیں کہ حضرت حوا کو حضرت آدم کے کسی حصے، بالخصوص ان کی پسلی، سے پیدا کیا گیا تھا۔ وہ لکھتے ہیں:

بعض مسلم متکلمین اس آیت اور بعض دوسری آیات میں آنے والی تعبیر 'ایک جان/ایک نوع' کو اس معنی میں لیتے ہیں کہ حوا کو آدم کی پسلی سے پیدا کیا گیا اور پوری نوعِ انسانی اسی جوڑے کی اولاد ہے۔ تاہم قرآن میں کہیں یہ نہیں کہا گیا کہ حوا کو آدم کی پسلی سے پیدا کیا گیا تھا۔ یہ تصور یہودی و مسیحی روایت سے مسلم دنیا میں داخل ہوا۔ مسلم علما خود تسلیم کرتے ہیں کہ اسرائیلیات میں بہت سی غیر مستند روایات پائی جاتی ہیں؛ اس لیے مسلمانوں کو تخلیق کے بارے میں اپنے مذہبی تصورات کی بنیاد ایسی روایات پر نہیں رکھنی چاہیے(Taslaman 2020, 65)۔

مختصراً یہ کہ تسلمان ان روایات پر تنقید کرتے ہیں جن کے مطابق حضرت حوا کو حضرت آدم کی پسلی سے پیدا کیا گیا تھا۔ ان کے نزدیک یہ روایات ان یہودی و مسیحی حکایات کے زمرے سے تعلق رکھتی ہیں جنہیں اسرائیلیات کہا جاتا ہے اور جن کے اعتبار کے بارے میں تحفظات پائے جاتے ہیں۔ بعض دوسرے اہلِ علم نے بھی اس تنقید سے اتفاق کیا ہے (Nasr 2015, 189)۔ لیکن اس دلیل سے بذاتِ خود یہ تعبیری امکان ختم نہیں ہوتا کہ حضرت حوا کو حضرت آدم کے کسی حصے سے پیدا کیا گیا ہو، خواہ وہ پسلی ہو یا کچھ اور۔

تسلمان اس سے آگے بڑھتے ہوئے اخلاقی بنیاد پر بھی حضرت حوا کو حضرت آدم کے کسی حصے سے پیدا کیے جانے کے تصور پر اعتراض کرتے ہیں:

اس روایت کو عورت کی تحقیر کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے۔ یہ تصور کہ عورت مرد سے اور مرد کے لیے پیدا کی گئی، عورت کی وجودی کم تری ثابت کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ بعض لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ چونکہ عورت ایک ٹیڑھی پسلی سے پیدا ہوئی ہے، اس لیے اس میں پیدائشی طور پر راہِ راست سے ہٹنے کا رجحان موجود ہے۔ ایک بار پھر، قرآن نہ ایسی صنفی امتیاز پر مبنی دلیل پیش کرتا ہے اور نہ اسے قبول کرتا ہے(Taslaman 2020, 65–66)۔

یہ بات اپنی جگہ درست ہو سکتی ہے، لیکن یہ بنیادی طور پر ایک سماجی و سیاسی اعتراض ہے، تعبیری یا تفسیری دلیل نہیں۔ حضرت حوا کو حضرت آدم سے پیدا کیے جانے کی تعبیر کے بعض صنفی تعصب پر مبنی استعمالات ممکن ہیں، لیکن اس سے بذاتِ خود اس تعبیر کی صحت یا امکان ختم نہیں ہوتا۔

اس کے بعد تسلمان سورۃ النساء کی آیت 1 کی ایک ایسی تعبیر پیش کرتے ہیں جس میں نفسٍ واحدۃٍ سے مراد کسی ایک شخص کے بجائے ایک مشترک جوہر یا نوعِ طبیعی لی جاتی ہے:

اگر ہم 'ایک نوع/وجود سے تخلیق' کی تعبیر کو اسی طرح سمجھیں جس طرح اوپر کی دو آیات میں سمجھا گیا ہے، یعنی ایک ہی انسانی نوع کے افراد کے طور پر، تو ساری الجھن دور ہو جاتی ہے... ان آیات کا خطاب پوری نوعِ انسانی سے ہے؛ یہ آیت 'اے انسانو!' کے خطاب سے شروع ہوتی ہے اور پھر کہتی ہے کہ خدا نے ‘تمہیں ایک جان/نوع سے پیدا کیا۔ چنانچہ 'تم' سے مراد پوری نوعِ انسانی ہے، جس میں پہلا انسان، یعنی آدم، بھی شامل ہے(Taslaman 2020, 65–66)۔

باب 3 میں ہم نے اس آیت کی جس دوسری تعبیر کا ذکر کیا تھا، اس میں "ایک ہی اصل یا جوہر" کا مفہوم صرف حضرت حوا تک محدود تھا؛ یعنی حضرت حوا کو اسی نوع یا جوہر سے پیدا کیا گیا جس سے حضرت آدم پیدا ہوئے تھے۔ لیکن تسلمان اسی استدلال کو پوری نوعِ انسانی تک پھیلا دیتے ہیں۔

یہ تعبیر کسی قدر تکلف پر مبنی معلوم ہوتی ہے۔ اس کی بنیادی مشکل یہ ہے کہ آیت کا دوسرا حصہ بالکل واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ مردوں اور عورتوں کی کثرت ایک جوڑے سے وجود میں آئی:

اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں۔ (النساء، 1)

یہ کہنا کہ یہاں پوری نوعِ انسانی کے لیے محض کسی مشترک "جوہر" یا "نوع" کا ذکر ہے، نہ کہ کسی ابتدائی فرد یا جوڑے کا، آیت کے ظاہری مفہوم سے خاصا دور معلوم ہوتا ہے۔ تسلمان کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ پھر آیت میں حضرت آدم اور حوا کے جوڑے سے مردوں اور عورتوں کے پھیلنے کا کیا مفہوم ہوگا (Principle 1; Principle 2)۔

آخر میں تسلمان ایک نحوی استدلال بھی پیش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر آیت میں واقعی حضرت آدم ہی مراد ہوتے تو عربی عبارت کی نحوی صورت موجودہ صورت سے مختلف ہونی چاہیے تھی۔ وہ لکھتے ہیں:

اگر، جیسا کہ بعض لوگوں نے دعویٰ کیا ہے، ایک جان/وجود سے صرف آدم مراد ہوتے تو عربی لفظ کے آغاز میں حرفِ تعریف "ال" ہونا چاہیے تھا(Taslaman 2020, 67)۔

یعنی تسلمان کا کہنا یہ ہے کہ اگر آیت میں کسی ایک متعین فرد کی طرف اشارہ ہوتا تو نفس معرفہ ہونا چاہیے تھا، تاکہ معنی "وہ مخصوص ایک جان" کے ہوں۔لیکن یہ دعویٰ قواعدی اعتبار سے مشکل پیدا کرتا ہے، کیونکہ آیت میں موجود تعبیر اپنے معروف مفہوم کو ادا کرنے کے لیے بالکل درست ہے۔ اس میں ایسی کوئی نحوی کمی نہیں جو تسلمان کی مجوزہ تبدیلی کی متقاضی ہو۔ موجودہ عبارت کسی ایک فرد اور کسی ایک مشترک اصل، دونوں کے مفہوم کی گنجائش رکھتی ہے:

جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا۔

اگر عبارت معرفہ ہوتی تو مفہوم بنتا:

جس نے تمہیں اس ایک جان سے پیدا کیا۔

ایسی صورت میں یا تو یہ مفہوم پیدا ہوتا کہ وجود میں صرف ایک ہی جان یا ایک ہی جوہر تھا، نہ کہ صرف وہ جان جس سے انسانیت کو پیدا کیا گیا، یا پھر اس سے مراد کوئی ایسی جان یا اصل ہونا ضروری تھی جس کا ذکر اس سے فوراً پہلے ہو چکا ہوتا۔

مزید یہ کہ تسلمان کی تجویز کردہ ترکیب خود نحوی اعتبار سے مسئلہ پیدا کرتی ہے، کیونکہ اس صورت میں یہ محض صفت و موصوف کی ترکیب نہیں رہتی، بلکہ ایک مستقل جملے جیسی ساخت اختیار کر لیتی ہے۔ اگر اسی ساخت کو انگریزی مفہوم میں منتقل کیا جائے تو عبارت کچھ یوں بنے گی:

اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، جس نے تمہیں 'وہ جان ایک ہے' سے پیدا کیا، اور اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا، پھر ان دونوں سے بہت سے مردوں اور عورتوں کو پھیلا دیا۔

اس طرح تسلمان کی تجویز قواعدی اعتبار سے درست معلوم نہیں ہوتی اور نتیجتاً آیت کی ایک پیچیدہ اور غیر فطری تعبیر سامنے آتی ہے (Principle 1)۔

جہاں تک سورۃ آل عمران کی آیت 59 کا تعلق ہے، تسلمان اس آیت کی معروف تعبیر کو بالکل الٹ دیتے ہیں۔ ان کے استدلال کو واضح کرنے کے لیے ان کی عبارت نسبتاً تفصیل سے نقل کرنا مناسب ہوگا:

بعض لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ 'عیسیٰ کی نوعیت آدم کی نوعیت جیسی ہے' کا مطلب یہ ہے کہ آدم کی تخلیق بھی بغیر باپ کے ہوئی؛ چونکہ عیسیٰ والدین کے بغیر پیدا ہوئے، اس لیے آدم بھی والدین کے بغیر پیدا ہوئے، اور نتیجتاً وہ کسی پہلے سے موجود نوع سے ارتقا پذیر نہیں ہوئے۔

لیکن قرآن کے مطابق عیسیٰ کی ماں موجود تھیں اور وہ حمل اور ولادت کے معمول اور فطری مراحل کے ذریعے پیدا ہوئے۔ اگر آدم ہر اعتبار سے عیسیٰ جیسے ہیں تو آدم کو بھی ایک ماں سے، معمول کے فطری طریقے سے، پیدا ہونا چاہیے تھا۔ اس لیے آدم اور عیسیٰ کی مماثلت کا مطلب محض یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ کسی عمل کے بغیر وجود میں آئے۔

مزید یہ کہ عیسیٰ اور مسیحیوں سے متعلق اس آیت کے سیاق کو سامنے رکھا جائے تو آیت کا اصل موضوع آدم نہیں بلکہ عیسیٰ ہیں، اور مقصد عیسیٰ سے متعلق غلط عقیدے کی اصلاح ہے۔ اسلامی عقیدے کے مطابق عیسیٰ کے بارے میں بنیادی غلطی انہیں الوہی حیثیت دینا ہے۔ چنانچہ آیت کا مفہوم یہ بنتا ہے: 'تم عیسیٰ کو الوہیت دیتے ہو، حالاں کہ ان کی اصل بھی آدم ہی کی طرح مٹی ہے؛ آدم کی طرح عیسیٰ بھی کوئی خدائی فطرت نہیں رکھتے۔'

اس لیے آیت اپنے سیاق میں حضرت آدم کی والدین کے بغیر تخلیق کے بارے میں کچھ نہیں کہتی۔ اس کا مقصد حضرت عیسیٰ کی حقیقت کے بارے میں ایک غلط تصور کی اصلاح ہے۔ لہٰذا آدم کا ذکر ان کی بغیر باپ کے تخلیق کی دلیل نہیں، بلکہ اس سے یہ بتایا گیا ہے کہ عیسیٰ کی تخلیق بھی مٹی ہی سے ہوئی اور اس اعتبار سے ان کی فطرت کوئی غیر معمولی یا خدائی فطرت نہیں۔

مختصراً، تسلمان کا موقف یہ ہے کہ خود قرآن بتاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ کی پیدائش فطری مراحل کے ذریعے ہوئی۔ اگر ایسا ہے تو سورۃ آل عمران کی آیت 59 میں حضرت عیسیٰ اور حضرت آدم کے درمیان مماثلت کا پہلو یہ بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ حضرت آدم بھی کسی ماں سے پیدا ہوئے ہوں۔

تاہم اس استدلال میں ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ جیسا کہ ہم سورۃ مریم کی آیات 16–21 کے ضمن میں پہلے دیکھ چکے ہیں، حضرت مریم کا حمل اور ولادت بظاہر معمول کے جسمانی مراحل سے گزرے ہوں گے، لیکن اصل معجزہ حضرت عیسیٰ کا استقرارِ حمل ہے، یعنی ان کا بغیر باپ کے وجود میں آنا۔ یہی پہلو یہاں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، حضرت عیسیٰ کی تخلیق اس اعتبار سے معجزانہ ہے کہ وہ معمول کی انسانی جنسی تولید کے بغیر، یعنی باپ کے بغیر، پیدا ہوئے، اور انسانوں میں ایسا ہونا فطری طور پر ممکن نہیں (Nasr 2015, 769)۔

خود حضرت مریم کے الفاظ اس پر واضح دلیل ہیں:

میرے ہاں بیٹا کیسے ہو سکتا ہے جبکہ کسی مرد نے مجھے چھوا تک نہیں اور میں بدکار بھی نہیں ہوں؟ (مريم، 20)

اگر تسلمان یہ دعویٰ نہیں کرنا چاہتے کہ حضرت مریم کا یہ بیان حقیقت کے خلاف تھا، تو پھر انہیں حضرت عیسیٰ کی ولادت کے اس معجزانہ پہلو کو یا تو غلط سمجھنا پڑے گا یا نظر انداز کرنا پڑے گا (Principle 2; Principle 3)۔

جیسا کہ بیچلر کے موقف کا جائزہ لیتے ہوئے پہلے بیان ہوا، سورۃ آل عمران کی آیت 59 میں دراصل ایک تقابل کیا گیا ہے: اگر مسیحی حضرت عیسیٰ کی معجزانہ تخلیق یعنی باپ کے بغیر پیدائش کی وجہ سے ان کے لیے الوہیت کے قائل ہوتے ہیں، تو حضرت آدم کی تخلیق تو اس سے بھی زیادہ غیر معمولی تھی، کیونکہ وہ نہ ماں سے پیدا ہوئے اور نہ باپ سے۔

ان دو نکات کو سامنے رکھا جائے تو تسلمان کے سامنے دو ہی راستے رہ جاتے ہیں۔ اگر وہ معجزات اور ارتقا کے بارے میں اعتقادی لاادریت کا موقف برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں یہ واضح کرنا ہوگا کہ انسان میں بغیر باپ کے تولید سائنسی طور پر کس طرح ممکن ہے، اور ساتھ ہی حضرت مریم کے کنوارا نہ ہونے کی کوئی معتبر تعبیری قراءت بھی پیش کرنا ہوگی۔ اگر وہ ایسا نہیں کر سکتے تو ارتقا کے بارے میں ان کا اعتقادی لاادریت کا دعویٰ اپنی بنیاد کھو دیتا ہے (Principle 2; Principle 3)۔

جلاجل اس مشکل کا شکار نہیں ہوتے۔ ان کے نزدیک حضرت آدم کی معجزانہ تخلیق کو تسلیم کرنا ضروری ہے، کیونکہ ان کی رائے میں مذہبی نصوص اس معاملے میں واضح ہیں۔ وہ صرف حضرت آدم سے پہلے یا ان کے ساتھ ساتھ موجود انسانی مخلوقات کے امکان کے بارے میں توقف اختیار کرتے ہیں۔ نہ قرآن میں اور نہ، جیسا کہ اگلے حصے میں ہم دیکھیں گے، احادیث میں کوئی ایسی صریح بات موجود ہے جو اس امکان کی قطعی نفی یا اثبات کرتی ہو۔

اسی لیے جلاجل اسی مخصوص نکتے پر فیصلہ معلق رکھتے ہیں۔ اس طرح وہ ایک طرف حضرت آدم کی معجزانہ تخلیق کو برقرار رکھتے ہیں اور ان کا نسب جدید انسانوں سے جوڑتے ہیں، اور دوسری طرف اس امکان کو بھی کھلا رکھتے ہیں کہ آج زمین پر موجود انسانوں کے نسب میں حضرت آدم سے پہلے کے انسان بھی شامل رہے ہوں۔ تسلمان اور جلاجل کے ان دونوں طریقوں میں سے غزالی کا فریم ورک توقف کے اطلاق کے معاملے میں جلاجل کے موقف سے زیادہ ہم آہنگ ہے (Principle 7)۔

اسلامی روایت اور عصری مباحث

اقساط

(الشریعہ — نومبر ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — نومبر ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۱۱

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۷)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل کا نبوی منہج (۴)
مولانا ڈاکٹر محمد ابوبکر فاروقی

حدیث میں بیان کی گئی علاماتِ قیامت کی تاریخی واقعات سے ہم آہنگی (۷)
ڈاکٹر محمد سعد سلیم

محاضراتِ فقہ (۵)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۶)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کیا مذہب پر سوال اٹھانا الحاد ہے؟
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی
عامر احمد عثمانی

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۱۱)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۹)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

سائنس کا قبلہ
فرحت علی بیگ

فکری انحراف اور علماء کرام کی ذمہ داری
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی
مفتی شاد محمد شاد

اوّلیاتِ برصغیر
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

تاریخ کا ایک ورق
اسرار الرحمٰن
ڈاکٹر سید راشد علی

بنیادی مذہبی تعلیم
مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ

اسلام کا سیاسی نظام: ایک قانونی تجزیہ (۲)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اسلام اور شخصی آزادی (۳)
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
ذیشان ہاشم

عدالتی خلع کے مسائل
ڈاکٹر محمد امین

Pakistan and the Muslim World: Where We Stand, Where We Go
Maulana Fazal-ur-Rehman

Human Rights: Five Key Differences Between Islamic & Western Perspectives
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

امتِ مسلمہ کا انتشار اور بڑی طاقتوں کا کردار
محمد محسن اقبال

عرب حکومتوں کا مستقبل: بحران، خطرات اور امکانات
تبصرات

مولانا راشدی کے خطابات و بیانات اور مصروفیت
ادارہ

تلاش

شماریات