غزالی کا اخلاقی فریم ورک
پچھلے حصے میں ہم نے ارتقائی اخلاقیات کا ایک مختصر جائزہ لیا۔ اب یہ جاننے کے لیے کہ آیا غزالی کے فکری فریم ورک میں ارتقائی مسئلہ شر (POE) یا ارتقائی مسئلہ اخلاق (POM) واقعی کوئی اشکال پیدا کرتے ہیں یا نہیں، سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ اخلاقیات کے بارے میں غزالی کے اپنے بنیادی تصورات کیا ہیں۔ اس مقصد کے لیے پہلے ہم یہ جائزہ لیں گے کہ غزالی اخلاقی خیر کو کس طرح سمجھتے ہیں، اور پھر ان کے نظریات پر کیے جانے والے بعض ممکنہ اعتراضات کا تجزیہ کریں گے۔
ابتدا ہی میں یہ بات واضح کر دینی چاہیے کہ غزالی نظریہ حکمِ الٰہی کے قائل ہیں؛ یعنی ان کے نزدیک کسی عمل کی اخلاقی حیثیت بالآخر خدا کے حکم سے متعین ہوتی ہے۔ اسی طرح وہ اخلاقی مواد کے بارے میں فطری/پیدائشی علم کے قائل نہیں ہیں؛ یعنی انسان پیدائشی طور پر مخصوص اخلاقی احکام کا علم لے کر پیدا نہیں ہوتا۔ یہاں اس نکتے کی وضاحت اس لیے ضروری ہے کہ ان دونوں مواقف سے متعلق مستقل کلامی اعتراضات اور بحثیں موجود ہیں، جن کا ذکر متعلقہ علمی لٹریچر میں بآسانی مل جاتا ہے۔ تاہم اس باب کا مقصد ان تمام دلائل کا تفصیلی تنقیدی جائزہ لینا نہیں ہے۔
جیسا کہ اس کتاب کے آغاز ہی میں واضح کر دیا گیا تھا، یہاں غزالی کے بیان کردہ اشعری تصورات کو اس لیے اختیار کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں نظریہ ارتقا کے ساتھ تقابلی طور پر رکھ کر دیکھا جا سکے۔ ان تصورات سے اتفاق یا اختلاف اس کتاب کا اصل موضوع نہیں ہے۔ البتہ جہاں اس باب کے مقاصد کو واضح کرنے کے لیے ضروری ہوگا، وہاں بعض مقامات پر غزالی کے موقف کے حق میں توضیحی دفاع بھی پیش کیا جائے گا، تاکہ بحث کی نوعیت زیادہ صاف اور منظم ہو سکے۔
غزالی کے نزدیک خیر کا مفہوم
غزالی خیر کی تعریف بڑی حد تک غایت پسندانہ انداز میں کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، کسی چیز کا اچھا ہونا اس کے انجام، مقصد یا غایت سے وابستہ ہے۔ وہ خیر کی تین اقسام میں فرق کرتے ہیں۔ خیر کی پہلی قسم کو، سہولت کے لیے، خیر اوّل (G1) کہہ لیتے ہیں۔ اس سے مراد وہ عمل ہے جو فاعل کے اپنے مقصد سے متعلق ہو۔ مثلاً اگر کوئی شخص آج کام کرنے کا ارادہ اس لیے رکھتا ہے کہ اسے اجرت ملے، اور پھر وہ واقعی کام کر کے وہ اجرت حاصل کر لیتا ہے، تو اس اعتبار سے یہ ایک اچھا عمل شمار ہوگا۔ اسی تعریف کے ضمن میں غزالی یہ بھی کہتے ہیں کہ کبھی یہ مقصد فاعل کے اپنے اندر سے نہیں آتا بلکہ باہر سے اس پر عائد کیا جاتا ہے۔ مثلاً اگر ایک افسر اپنے ملازم سے یہ چاہے کہ وہ ہفتہ وار تعطیل کے دن بھی کام کرے تاکہ کوئی مقررہ کام وقت پر مکمل ہو سکے، تو افسر کے مقصد کے لحاظ سے ملازم کا ایسا کرنا اچھا سمجھا جائے گا۔ دوسرے لفظوں میں، خیر اوّل ایک نسبتی اور تعلقی تصور ہے؛ یعنی اس کا اچھا ہونا کسی خاص مقصد اور کسی خاص نسبت کے ساتھ متعین ہوتا ہے۔ غزالی لکھتے ہیں:
اگر کوئی عمل ایک شخص کے مقصد کے مطابق ہو مگر دوسرے کے مقصد کے مطابق نہ ہو، تو پہلے شخص کے حق میں اسے "اچھا" کہا جائے گا اور دوسرے کے حق میں "برا"۔ اس لیے کہ "اچھا" اور "برا" جیسے الفاظ دراصل موافقت اور مخالفت کی بنیاد پر استعمال ہوتے ہیں، اور موافقت و مخالفت تعلقی امور ہیں جو افراد کے بدلنے سے بدل جاتے ہیں۔ بلکہ یہ ایک ہی شخص کے مختلف احوال کے لحاظ سے بھی بدل سکتے ہیں، اور ایک ہی حالت کے ساتھ وابستہ مختلف مقاصد کے اعتبار سے بھی مختلف ہو سکتے ہیں۔ ممکن ہے کوئی عمل ایک پہلو سے کسی شخص کے موافق ہو اور دوسرے پہلو سے اس کے مخالف؛ اس لیے وہی عمل ایک اعتبار سے اس کے لیے اچھا اور دوسرے اعتبار سے برا ہو جائے گا۔ مثلاً ایک بے دین شخص کسی دوسرے کی بیوی سے زنا کو اچھا سمجھ سکتا ہے اور اسے اپنے لیے کامیابی اور نعمت خیال کر سکتا ہے۔ لیکن وہی شخص اس آدمی کے عمل کو برا کہے گا جو اس کا راز ظاہر کر دے، اور اسے "بدگو" یا "عیب جو" کہے گا جس نے برا کام کیا ہے۔ اس کے برعکس، ایک دیندار شخص اسی راز ظاہر کرنے والے کو "نیک آدمی" کہے گا جس نے اچھا کام کیا ہے۔ اس طرح ہر شخص "اچھا" اور "برا" کے الفاظ اپنے مقصد کے مطابق استعمال کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی بادشاہ کو قتل کر دیا جائے تو اس کے تمام دشمن قاتل کے فعل کو اچھا سمجھیں گے، جبکہ اس کے تمام حامی اسے برا قرار دیں گے (Al-Ghazālī 2013, 161)۔
اسی ذیل میں غزالی خیر کی دوسری تعریف بھی پیش کرتے ہیں، جسے ہم خیر دوم (G2) کہہ سکتے ہیں۔ یہ تعریف اپنی نوعیت میں پہلی تعریف سے ملتی جلتی ہے، لیکن اس کا تعلق اخروی مقاصد سے ہے؛ یعنی جنت کے اجر، نجات اور آخرت کی کامیابی سے (Al-Ghazālī 2013, 161–162)۔ تاہم خیر اوّل اور خیر دوم میں بنیادی فرق یہ ہے کہ خیر دوم کی بنیاد صرف وحی پر ہے، اسے محض عقل کے ذریعے متعین نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ خیر اوّل کو عقلِ انسانی وحی کے بغیر بھی کسی حد تک پہچان سکتی ہے، لیکن خیر دوم اس وقت تک مکمل طور پر نامعلوم رہتا ہے جب تک وحی نہ آ جائے۔
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دونوں کے درمیان کسی قسم کا اشتراک یا مماثلت ممکن نہیں۔ وحی کے بغیر بھی کوئی شخص بہت سے ایسے کام کر سکتا ہے جو بعد میں وحی کے احکام سے ہم آہنگ ثابت ہوں؛ مثلاً پڑوسی کی مدد کرنا۔ لیکن کسی عمل کی اخلاقی قدر کو جو چیز بدل دیتی ہے وہ اس عمل کے ساتھ وابستہ مقصد اور نیت ہے۔ یہ بات اسلام کی عمومی اخلاقی تفہیم سے بھی ہم آہنگ ہے، خصوصاً اس معروف حدیث سے جس میں کہا گیا ہے کہ اعمال کی قدر و قیمت ان کے پیچھے موجود نیتوں کے اعتبار سے متعین ہوتی ہے۔
اب جب کہ ہم خیر اوّل (G1) اور خیر دوم (G2) کے درمیان فرق واضح کر چکے ہیں، تو آئیے خیر اوّل پر قدرے مزید غور کرتے ہیں۔ غزالی کے نظریہ حکمِ الٰہی کو سمجھنے کے لیے ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ خیر اوّل کے دائرے میں اچھائی کی یہ قدریں ابتدا میں پیدا کیسے ہوتی ہیں؟ آخر کوئی نہ کوئی چیز تو ایسی ہوگی جو لوگوں کو کسی عمل کے وقوع سے پہلے ہی یہ سوچنے پر آمادہ کرتی ہے کہ یہ عمل اچھا ہے یا برا۔ انسانی نفسیات کے بارے میں غزالی کے تصورات نہایت دل چسپ ہیں، لیکن یہاں ہمارے مقصد کے لیے صرف تین نکات اہم ہیں۔
پہلا نکتہ یہ ہے کہ غزالی کے نزدیک انسان کے علمی ڈھانچے کے دو اجزا ہیں۔ دونوں الگ الگ چیزیں فراہم کرتے ہیں، مگر مل کر کام کرتے ہیں۔ ایک طرف وہ علم ہے جو بدیہی یا پیشینی نوعیت کا ہے، یعنی ایسے خود واضح اصول جو نفس میں ودیعت ہیں؛ مثلاً قانونِ عدمِ تناقض۔ دوسری طرف وہ اکتسابی علم ہے جو تجربے کے بعد حاصل ہوتا ہے (Umaruddin 2010, 111)۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ غزالی کے نزدیک اخلاقی اصول بدیہی یا فطری اصول نہیں ہیں، بلکہ اکتسابی ہیں (Griffel 2012, 29)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اخلاقیات کے کسی پیدائشی تصور کے ساتھ پیدا نہیں ہوتا۔ تیسرا نکتہ یہ ہے کہ جب اخلاقی اصول اکتسابی ہیں، تو پھر انسان بالآخر جن چیزوں کو اچھا یا برا سمجھنے لگتا ہے، وہ دو انسانی تجربات سے اخذ ہوتی ہیں۔ یہ دونوں تجربات ایک دوسرے سے قابلِ لحاظ حد تک الگ ہیں، مگر عموماً ایک ساتھ کام کرتے ہیں۔ پہلا تجربہ خیالات کی تعمیم سے متعلق ہے، اور دوسرا طبعی میلان یا پسند و ناپسند سے۔ فاعل بار بار پیش آنے والے واقعات، سماجی تربیت، ثقافتی یا دینی تعلیم، ذاتی مشاہدات، معاشرتی افراد کے ساتھ تجربات، یا اپنی فطری ساخت اور ذاتی رجحانات کی بنا پر آہستہ آہستہ اس کا عادی ہو جاتا ہے کہ کسی خاص عمل کو اچھا یا برا سمجھے (Hourani 1985, 159)۔ مثلاً ایک ماں اگر بچے کو آگ سے کھیلنے پر بار بار ڈانٹے، تو بچے کے ذہن میں یہ تاثر قائم ہو سکتا ہے کہ آگ بری چیز ہے۔ اسی طرح جب بچہ دیکھتا ہے کہ لڑائی جھگڑا زخمی ہونے یا تکلیف اٹھانے کا باعث بنتا ہے، تو وہ اسے برا سمجھنے لگتا ہے۔ یا پھر بعض جذباتی محرکات، جیسے دل کی نرمی، انسان کو اس نتیجے تک پہنچا سکتے ہیں کہ جانوروں کو مارنا برا ہے۔ غزالی کے نزدیک اس طرح کے تجربات بالآخر خیر و شر کے بارے میں فرد کی سمجھ کو، خیر اوّل کی مذکورہ تعریف کے مطابق، ایک مستحکم شکل دے دیتے ہیں۔ غزالی لکھتے ہیں:
اس سب کی اصل یہ ہے کہ انسان اوائلِ عمر ہی سے بعض چیزوں کو پسند یا ناپسند کرنے کا عادی بنایا جاتا ہے، اور اسی مرحلے میں وہ کچھ خاص اخلاقی عادات و اوصاف بھی حاصل کر لیتا ہے(Al-Ghazālī 2013, 166)۔
مجموعی طور پر یہ تصورات غزالی کو اس نتیجے تک پہنچاتے ہیں کہ معروضی یا آفاقی اخلاقیات نام کی کوئی چیز موجود نہیں؛ یعنی کوئی عمل اپنی ذات میں، مطلق طور پر، نہ اچھا ہوتا ہے نہ برا۔ غزالی اپنے موقف کے حق میں کئی دلائل دیتے ہیں، مگر یہاں چند اہم دلائل کا ذکر کافی ہوگا۔
پہلی دلیل یہ ہے کہ اخلاقیات آفاقیت کے معیار پر پوری نہیں اترتیں (Hourani 1985, 155)۔ انسان جن اصولوں کو آفاقی اخلاقی قواعد سمجھ بیٹھتا ہے، وہ درحقیقت ناقص استقرائی نتائج ہوتے ہیں۔ انسان چند جزوی مثالوں کو بذاتِ خود اخلاقی وجودی اکائیاں سمجھ لیتا ہے، اور پھر غلطی سے انہیں آفاقی اخلاقی اصول قرار دے دیتا ہے۔ غزالی جھوٹ کی مثال کے ذریعے اس نکتے کو واضح کرتے ہیں، اگرچہ یہی بات کسی بھی اصول کو آفاقی بنانے کے معاملے میں صادق آ سکتی ہے، خواہ وہ اصول اچھائی سے متعلق ہو یا برائی سے۔ غزالی لکھتے ہیں (Al-Ghazālī 2013, 164):
مثلاً کوئی شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ جھوٹ ہر حال میں مطلقاً برا ہے، اور اس کی برائی صرف اس بنا پر ہے کہ وہ جھوٹ ہے، نہ کہ کسی اضافی پہلو کی وجہ سے۔ اس فیصلے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس بات سے بے خبر ہوتا ہے کہ بعض مخصوص حالات میں کتنے ہی مفید امور جھوٹ پر موقوف ہو سکتے ہیں۔ بلکہ اگر ایسے حالات پیش بھی آ جائیں، تب بھی ممکن ہے کہ وہ اپنی طبیعت کے اعتبار سے جھوٹ کو اچھا سمجھنے سے گریز کرے، کیونکہ وہ جھوٹ کو برا سمجھنے کا پوری طرح عادی ہو چکا ہوتا ہے۔ اس کی طبیعت اوائلِ عمر ہی سے تربیت اور اچھی پرورش کے نتیجے میں جھوٹ سے متنفر ہو جاتی ہے؛ اسے یہ سکھایا جاتا ہے کہ جھوٹ اپنی ذات میں برا ہے اور اسے کبھی جھوٹ نہیں بولنا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ جھوٹ یقیناً ایک خاص شرط کے تحت برا ہوتا ہے، اور یہ شرط شاذ و نادر صورتوں کے سوا عموماً جھوٹ کے ساتھ پائی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے اسے اس شرط سے آگاہ نہیں کیا جاتا۔ نتیجتاً جھوٹ کی برائی اور اس سے اس کی مطلق نفرت اس کی طبیعت میں راسخ ہو جاتی ہے۔
دوسرے لفظوں میں، غزالی امرِ مطلق کے اس تصور کو قبول نہیں کریں گے جسے امانوئیل کانٹ نے تشکیل دیا تھا (Abdullah 1992)۔ اسی وجہ سے بعض اوقات ہمیں خیر اوّل (G1) اور خیر دوم (G2) کے درمیان تصادم بھی دکھائی دیتا ہے۔ فرض کیجیے کوئی شخص یہ آفاقی اخلاقی اصول اختیار کرتا ہے کہ جھوٹ کبھی نہیں بولنا چاہیے۔ لیکن اگرچہ اسلامی فکر میں جھوٹ عموماً جائز نہیں، اسلامی نصوص بعض مخصوص حالات میں جھوٹ کی اجازت دیتی ہیں؛ مثلاً لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے، یا جنگ سے بچنے کے لیے۔ اسی طرح شراب پینے یا خنزیر کا گوشت کھانے کے مسئلے کو دیکھیے۔ خیر اوّل کے دائرے میں یہ چیزیں بالکل عام استعمال کی اشیا سمجھی جا سکتی ہیں۔ تاہم اسلامی نصوص ان دونوں کو سختی سے ممنوع قرار دیتی ہیں، البتہ بعض استثنائی صورتوں کی اجازت بھی دیتی ہیں؛ مثلاً زندگی اور موت کی ایسی حالت میں جب انسان کے پاس ان کے سوا کوئی چارہ نہ ہو۔ اس لیے عمومی احکام بھی وحی سے متعین ہوتے ہیں اور ان کے استثنائی احوال بھی۔ ان میں سے کوئی بھی، اس بات پر منحصر ہے کہ تقابل کس چیز سے کیا جا رہا ہے، خیر اوّل سے متصادم ہو سکتا ہے (Al-Ghazālī 2016, 34)۔
دوسری بات، جو پچھلے نکتے ہی سے گہرا تعلق رکھتی ہے، یہ ہے کہ غزالی کے نزدیک اخلاقیات ایسی چیز نہیں جسے شک و شبہ سے بالاتر قرار دیا جا سکے (Hourani 1985, 155; Griffel 2012, 29)۔ جیسا کہ اوپر بیان ہوا، اخلاقیات بڑی حد تک بیرونی طور پر فراہم ہونے والے سماجی حالات اور شخصی مزاج و افتادِ طبع پر منحصر ہوتی ہیں؛ اسی وجہ سے یہ ایک حد تک موضوعی ہوتی ہیں، کیونکہ یہ ایک معاشرے سے دوسرے معاشرے تک بدل سکتی ہیں۔ مثلاً اگر کوئی شخص معاشرے سے بالکل الگ پیدا ہو اور اسی طرح پرورش پائے، تو خیر و شر کے بارے میں اس کی سمجھ کسی حد تک مختلف ہوگی۔ ممکن ہے وہ بعض اخلاقی مواقف کو قطعی اور حتمی نہ سمجھے، حالاں کہ مخصوص سماجی ماحول میں انہی مواقف کو یقینی اور غیر مشتبہ سمجھا جاتا ہے۔ اس مسئلے پر حورانی یہ نکتہ بیان کرتے ہیں (Hourani 1985, 155):
اگر آپ مکمل طور پر عاقل وجود کی حیثیت سے پیدا ہوں، لیکن آپ کو نہ معاشرے کا کوئی تجربہ ہو اور نہ کسی قسم کی تعلیم و تربیت ملی ہو؛ آپ کے پاس صرف حسی تجربات اور ذہنی تصاویر ہوں، تو آپ اس طرح کے مقدمات پر شک کر سکیں گے، مثلاً یہ کہ ’کسی انسان کو قتل کرنا برا ہے‘، یا کم از کم ان کے بارے میں تردد کا شکار ہوں گے۔ لیکن آپ اس بات میں شک نہیں کر سکیں گے کہ ’نفی اور اثبات ایک ہی چیز کے بارے میں بیک وقت درست نہیں ہو سکتے‘، یا یہ کہ ’دو، ایک سے بڑا ہے‘۔
طبعی میلانات کی ایک اور مثال پر غور کیجیے۔ افراد جذباتی، ثقافتی اور حیاتیاتی اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ساخت رکھتے ہیں، اسی لیے ان کے مزاج بھی مختلف ہوتے ہیں۔ ممکن ہے ایک شخص دوسرے کے مقابلے میں زیادہ نرم دل ہو۔ ایسی صورت میں وہ اس نتیجے تک پہنچ سکتا ہے کہ جانوروں کو قتل کرنا برا ہے، کیونکہ وہ جانور کے ساتھ ہمدردی محسوس کرتا ہے (Hourani 1985, 155; Al-Ghazālī 2013, 166)۔
یہ بھی ایک ایسی مثال ہے جہاں خیر اوّل (G1) اور خیر دوم (G2) کے درمیان تصادم پیدا ہو سکتا ہے۔ غزالی اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اسلامی نصوص خوراک کے لیے جانوروں کو ذبح کرنے کی اجازت دیتی ہیں، حالاں کہ یہ اجازت اس شخص کے موقف سے متصادم ہو سکتی ہے جو خیر اوّل کے دائرے میں اسے برا سمجھتا ہو۔
دوسرے لفظوں میں، ان دونوں مثالوں کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اخلاقیات منطقی بدیہیات کی طرح ضروری اور غیر مشتبہ نہیں ہوتیں۔ جیکسن اشاعرہ کے اخلاقی موقف کا خلاصہ نہایت مناسب انداز میں یوں بیان کرتے ہیں (Jackson 2014, 84):
اشاعرہ اس بات پر اصرار کرتے تھے کہ: (1) وحی سے پہلے انسان کسی بھی اخلاقی حکم کا پابند نہیں تھا؛ (2) وحی کے احکام سے باہر اخلاقیات کا کوئی قابلِ اعتماد اور معروضی معیار موجود نہیں تھا؛ اور (3) وحی کے دائرے میں بھی انسانی اعمال کی اخلاقی حیثیت خود اعمال کی کسی داخلی صفت یا انسانی نفس کی کسی فطری کیفیت سے متعین نہیں ہوتی، بلکہ اسے متعین کرنے والی چیز خطابِ الٰہی ہے۔
آخر میں خیر کی تیسری تعریف آتی ہے، جسے ہم خیر سوم (G3) کہیں گے۔ اس سے مراد خدا کے افعال ہیں (Al-Ghazālī 2013, 162):
خدا کا فعل، خواہ وہ کوئی بھی ہو، اچھا ہے، اگرچہ خدا کسی حاجت کا محتاج نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے کسی فعل کے نتیجے میں نہ تو خدا پر کوئی اثر یا نقصان مترتب ہوتا ہے اور نہ اس پر کسی قسم کی ملامت لازم آتی ہے؛ کیونکہ وہ اپنی بادشاہی میں خود فاعلِ مختار ہے، ایسی بادشاہی جس میں کسی اور کا کوئی حصہ نہیں۔
چونکہ غزالی کے ہاں خیر کا عمومی تصور مضبوط طور پر غایت پسندی پر قائم ہے، یعنی کوئی چیز اپنے مقصد کے اعتبار سے اچھی ہوتی ہے، اس لیے ان کے فریم ورک میں خدا ایک غیر محدود ہستی ہے۔ اس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ خدا میں کسی قسم کا نقص یا کمی نہیں پائی جاتی۔ اسے نہ کسی چیز کی حاجت ہے، نہ وہ کسی چیز کا محتاج ہے؛ اس لیے اس کے لیے نہ کوئی ضرورت ہے نہ کوئی غرض و غایت۔ دوسرے لفظوں میں، خدا کے افعال کو کسی غایت کے تابع نہیں سمجھا جا سکتا۔ اسی بنا پر خدا افعال انجام دیتا ہے مگر کسی مقصد کے تحت نہیں، کیونکہ اسے کچھ کرنے کے لیے کسی سبب یا غرض کی ضرورت نہیں ہوتی۔
مزید یہ کہ خدا پر خیر اوّل (G1) اور خیر دوم (G2) کے معانی میں خیر کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ وہ حاکمِ مطلق اور وجودی اعتبار سے مستقل و بے نیاز ہے۔ اگر وہ کوئی کام نہ کرے تو اسے کوئی نقصان لاحق نہیں ہوتا، اور اگر وہ کوئی کام کرے تو اس کے نتیجے میں اس کے لیے کوئی منفی انجام یا ضرر منتظر نہیں ہوتا۔ اسی لیے خدا ہمیشہ خیر ہے، خواہ وہ جو بھی کرنے کا انتخاب کرے۔ دوسرے لفظوں میں، اس کی خیریت ایک غیر متغیر حقیقت ہے، خواہ وہ جو حکم دے اور جو ظاہر کرے (Yaqub 2012)۔ غزالی کے نزدیک یہ ایک غیر محدود ہستی کا لازمی نتیجہ ہے، اور خدا ایسی ہی ہستی ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ G1 وہ عمل جو فاعل کے مقصد سے متعلق ہو؛ G2 وہ عمل جس کے نتیجے میں فاعل کو اخروی اجر اور نجات حاصل ہو؛ اور G3 خدا کا فعل، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔
ممکنہ اعتراضات
اس مقام پر ایک ناقد دو اعتراضات اٹھا سکتا ہے۔ پہلا اعتراض یہ ہے کہ خود قرآن میں ایسے مقاصد کا ذکر موجود ہے جو خدا کی طرف سے مقرر کیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر درج ذیل دو آیات دیکھیے:
ہم نے آسمانوں اور زمین کو، اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں کیا (القرآن، سورہ 44، آیت 38)۔
اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں (القرآن، سورہ 51، آیت 56)۔
دوسرا اعتراض یہ ہو سکتا ہے کہ غزالی نے جب خدا کے بارے میں خیر کی تعریف کی ہے تو وہ دراصل بے معنی اور خالی از مفہوم محسوس ہوتی ہے۔ یہ تعریف خیر کو اس انداز میں واضح نہیں کرتی جس طرح ہم عام طور پر وجدانی سطح پر خیر کو سمجھتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ان دونوں اعتراضات کے جواب میں غزالی کیا کہیں گے؟ آئیے ان اعتراضات کو بالترتیب دیکھتے ہیں۔
پہلے اعتراض کے سلسلے میں ضروری ہے کہ ان آیات میں غایت یا مقصد کے محل کو احتیاط سے سمجھا جائے۔ پہلی آیت میں مقصد کا بیان صریح نہیں بلکہ ضمنی ہے، مگر یہ قاری کو زندگی کے مقصد پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے، اور یوں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ زندگی کا کوئی مقصد ہے۔ اس کے برعکس دوسری آیت واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ انسان کا مقصد خدا کی عبادت ہے۔
بظاہر یہ آیات غزالی کے موقف پر اعتراض معلوم ہو سکتی ہیں، لیکن حقیقت میں یہ اعتراض زیادہ مضبوط نہیں۔ یہاں ایک بنیادی فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے: ایک چیز ہے کسی مقصد کے لیے مخلوق کو پیدا کرنا، یعنی غرض؛ اور دوسری چیز ہے مخلوق کے لیے کوئی مقصد مقرر کرنا، یعنی مقصد۔ پہلی صورت میں مقصد خالق کے لیے سببِ تخلیق بنتا ہے، جبکہ دوسری صورت میں مقصد خود مخلوق کے لیے متعین کیا جاتا ہے۔
اس کی وضاحت ایک مثال سے کی جا سکتی ہے۔ فرض کیجیے ایک کھیل بنانے والا شخص ایک بورڈ گیم اس غرض سے بناتا ہے کہ وہ اس سے پیسہ کمائے۔ یہ اس کھیل کو بنانے میں خالق یا بنانے والے کی غرض ہوئی۔ لیکن جو لوگ اس کھیل کو کھیلتے ہیں، ان کا مقصد کھیل جیتنا ہوتا ہے۔ چنانچہ کھیل کے اندر کھلاڑیوں کا مقصد وہی نہیں جو کھیل بنانے والے کا مقصد تھا۔
اسی طرح خدا نے دنیا کو پیدا کیا، لیکن فرق یہ ہے کہ خدا کے بارے میں کوئی داخلی غرض یا حاجت نہیں مانی جا سکتی۔ یعنی خدا کے اندر کوئی ذاتی غایت نہیں پائی جاتی۔ وہ غیر محدود ہستی ہے؛ اسے کسی چیز کی ضرورت نہیں، اس لیے اس کے افعال کے لیے کسی سبب یا غرض کی ضرورت بھی نہیں۔ البتہ خدا نے دنیا کو اس مقصد کے ساتھ پیدا کیا کہ اس کے باشندے آخرت میں نجات حاصل کریں، اور اس نے اپنے اخلاقی احکام کے ذریعے یہ بھی واضح کر دیا کہ یہ نجات کیسے ممکن ہے؛ یعنی جیسے وہ مناسب سمجھے، ویسے حکم دے۔ اسے ہم خارجی غایت کہہ سکتے ہیں۔ اوپر مذکور آیات اسی دوسری قسم کے مقصد سے بحث کرتی ہیں، یعنی مخلوق کے لیے مقرر کردہ مقصد سے، نہ کہ خالق کے اندر کسی غرض یا حاجت سے۔ اس لیے یہ اعتراض غزالی کے موقف کو باطل نہیں کرتا۔
جہاں تک دوسرے اعتراض کا تعلق ہے، ہمیں دوبارہ اس کلامی تصورِ کائنات کی طرف لوٹنا ہوگا جسے غزالی اختیار کرتے ہیں۔ اشعری فکری نظام میں بنیادی اصل خدا کی قدرتِ مطلقہ ہے۔ خدا مطلق طور پر آزاد فاعل ہے اور کامل حاکمیت رکھتا ہے؛ اس لیے اس کی حاکمیت ہر قسم کے اقداری یا اخلاقی اعتبارات پر مقدم ہے۔ اشعری فریم ورک میں کوئی بھی ایسی بات جو خدا کی قدرت کو محدود کرتی ہو، فوراً محلِ اشکال بن جاتی ہے۔
چنانچہ جب یہ کہا جاتا ہے کہ خدا ایسے ظالمانہ احکام نہیں دے سکتا، مثلاً بے گناہوں کے قتل کا حکم، تو غزالی اس کے جواب میں کہہ سکتے ہیں کہ یہ اعتراض ایک کمزور انسانی زاویہ نظر پر قائم ہے۔ خدا کی تنزیہ اس نوعیت کی ہے کہ وہ اپنی مخلوق کے بارے میں کسی اخلاقی فریضے کا پابند نہیں؛ اس لیے وہ اپنی حکمت کے مطابق جو چاہتا ہے کرتا ہے (also see Farahat 2019, 27–65)۔
پس غزالی دراصل یہ کہہ رہے ہیں کہ خدا انسانی خیر و شر کی خانہ بندیوں سے ماورا ہے (Campanini 2019, 62–63)۔ اس بات کو سمجھنے کا ایک طریقہ کمپیوٹر گیم بنانے والے شخص اور اس کے بنائے ہوئے کھیلوں کی مثال سے ہے۔ ایک ڈیزائنر ایسا کھیل بنا سکتا ہے جس میں کوئی خاص عمل اچھا شمار ہو۔ لیکن وہی ڈیزائنر اسی کھیل کی ایک دوسری صورت بھی بنا سکتا ہے جس میں بعینہٖ وہی عمل برا قرار پائے۔ دونوں کھیلوں کا "اخلاقی فریم ورک" ایسی چیز نہیں جس کے تابع خود کمپیوٹر ڈیزائنر ہو۔ وہ کھیل کے ان مقاصد کے مطابق، جنہیں اس نے خود متعین کیا ہے، جو فریم ورک مناسب سمجھتا ہے مقرر کر دیتا ہے؛ لیکن وہ خود نہ اس فریم ورک کا پابند ہوتا ہے اور نہ اس کے ذریعے محدود۔ اس لیے کسی بھی کھیل کے داخلی فریم ورک کی بنیاد پر خود ڈیزائنر کو اچھا یا برا کہنا درست نہیں ہوگا۔
ونٹرز اشاعرہ، اور اسی بنا پر غزالی، کے موقف کا خلاصہ نہایت مناسب انداز میں یوں بیان کرتے ہیں (Winters 2017, 242):
خدا انسانی معنوں میں "اخلاقی طور پر اچھا" نہیں ہے، بلکہ وہ اپنی عادت اور درست طور پر حکمت کے مطابق فعل انجام دیتا ہے۔ الٰہی افعال انسانی افعال کی مانند نہیں، کم از کم اس وجہ سے بھی کہ وہ اطاعت و نافرمانی کی اقداری قدروں سے تشکیل نہیں پاتے۔ اس نتیجے کے مطابق، قدرتِ الٰہی میں یہ امکان بھی شامل ہے کہ خدا ایسی تکلیف مسلط کرے جو انسانی پیمانوں کے مطابق یقیناً غیر منصفانہ یا ناقابلِ برداشت محسوس ہو، لیکن اس سے حکمتِ الٰہی کا اصول مجروح نہیں ہوتا۔
یقیناً خدا کی یہ تفہیم مسیحی تصورِ خدا سے بہت مختلف ہے، جس میں خدا کو سراسر محبت کرنے والی ہستی کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ اسلامی تاریخ کے بعض مکاتبِ فکر، مثلاً معتزلہ، اس معاملے میں مسیحی تصورِ کائنات سے کسی حد تک مشابہت رکھتے ہیں، لیکن یہ وہ موقف نہیں جسے غزالی، یا اشاعرہ، نے اختیار کیا ہو (Farfur 2010; Campanini 2019, 61–62)۔
خلاصہ یہ کہ دوسرے اعتراض کا جواب سادہ طور پر یہ ہے کہ خدا انسانی اقداری فریم ورک کے تحت نہیں آتا؛ یعنی وہ اقداری اعتبار سے انسانی خانہ بندیوں سے ماورا ہے۔
غزالی کے اخلاقی تصورات کے بارے میں اس سے کہیں زیادہ تفصیل سے گفتگو کی جا سکتی ہے، لیکن اس باب کے مقاصد کے لیے اتنی بحث کافی ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے (Malik 2021)۔ اب جب کہ یہاں بنیادی تصور واضح ہو چکا ہے، ہم اس طرف متوجہ ہو سکتے ہیں کہ غزالی ارتقائی مسئلہ شر (POE) اور ارتقائی مسئلہ اخلاق (POM) سے کس طرح معاملہ کریں گے۔
غزالی، مسئلۂ شر، اور معروضی اخلاقیات کا مسئلہ
مسئلۂ شر
پچھلے حصے سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ غزالی نظریہ حکمِ الٰہی کی ایک صورت اختیار کرتے ہیں۔ اس نظریے کا بنیادی مفہوم یہ ہے کہ اخلاقیات کا حتمی معیار صرف خدا مقرر کرتا ہے، اور یہ معیار وحی کے ذریعے معلوم ہوتا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ خیر و شر دراصل خدا کے مقرر کردہ احکام ہیں؛ چنانچہ خدا خود اپنے اخلاقی احکام کے تابع نہیں ہو سکتا۔ غزالی کا اصل نکتہ یہ ہے کہ خدا ایک ایسی منفرد ہستی ہے جسے کسی بھی اخلاقی فریم ورک کے تحت نہیں لایا جا سکتا۔ وہ خیر و شر کے ان نسبتی تصورات سے ماورا ہے۔ مزید یہ کہ اشعری فکری نظام میں خدا اس شرط کا پابند نہیں کہ اسے لازماً ہمہ گیر خیر خواہی یا کمالِ احسان کے معیار پر سمجھا جائے۔ درحقیقت غزالی نہایت صراحت سے کہتے ہیں کہ خدا کسی اخلاقی اعتبار کا پابند نہیں، بلکہ وہ اس بارے میں مطلق طور پر آزاد ہے کہ کیا کرے اور کیا نہ کرے (Al-Ghazālī 2013, 157):
ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے بندوں پر کوئی تکلیف/ذمہ داری عائد نہ کرے؛ اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ ان پر ان کی طاقت سے بڑھ کر ذمہ داری عائد کرے؛ اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ انہیں، ان کی کسی خطا کے بغیر اور کسی تلافی کے بغیر، تکلیف میں مبتلا کرے۔ اس پر یہ لازم نہیں کہ وہ ان کی بھلائی کا لحاظ رکھے؛ نہ اس پر یہ لازم ہے کہ اطاعت پر ثواب دے اور نافرمانی پر سزا دے۔ نیز کسی شخص پر کوئی چیز محض عقل کی بنا پر لازم نہیں ہوتی، بلکہ صرف وحی کی بنا پر لازم ہوتی ہے۔۔۔
اسی بنا پر شر اور تکلیف خدا کی تخلیق کے مظاہر ہیں۔ یہ حقیقی ہیں، اور خدا کے حکم و ارادے کے تحت وجود رکھتے ہیں (Jalajel 2010)۔ خود قرآن بھی واضح کرتا ہے کہ یہ زندگی آزمائش کے طور پر بنائی گئی ہے، جہاں مخلوق کو ابتلا، آزمائش اور مصائب کا سامنا کرنا پڑے گا؛ یعنی تکلیف اس دنیاوی نظام کا حصہ ہے۔ قرآن میں ایسے واقعات اور بیانات بھی موجود ہیں جو بظاہر ہمارے اخلاقی وجدانات سے متصادم محسوس ہو سکتے ہیں؛ مثلاً القرآن، سورہ 2، آیت 155۔
ان الٰہی ہدایات کے علاوہ انسان خدا کے پورے منصوبے سے واقف نہیں۔ مجموعی طور پر یہ نکات واضح کرتے ہیں کہ اشعری فکر شر یا تکلیف کو حقیقتاً کوئی کلامی مسئلہ نہیں سمجھتی۔ اگر نظریہ ارتقا تاریخِ حیات میں جانوروں کی مسلسل اور بے شمار تکالیف کی وجہ سے مسئلہ شر (POE) کو مزید شدید بھی کر دے، تب بھی اشعری فریم ورک میں یہ کوئی کلامی اشکال پیدا نہیں کرے گا۔ اسی وجہ سے مسئلہ شر کے بارے میں اشعری موقف کو ضدِ تھیوڈسی کہا جاتا ہے؛ یعنی ایسا موقف جو شر اور تکلیف کے معاملے میں خدا کو انسانی اخلاقی پیمانوں پر بری الذمہ ثابت کرنے کی کوشش نہیں کرتا (Winter 2017, 43)۔
یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ معاملہ صرف یہ نہیں کہ خدا شر کو واقع ہونے دیتا ہے، بلکہ غزالی کے فریم ورک میں خدا درحقیقت شر کا خالق ہے۔ غزالی کا نظریہ عادت/کسبی سببیت یا اوکیشنلزم، جس کا ذکر چھٹے باب میں آ چکا ہے، جب ان کے نظریہ حکمِ الٰہی کے ساتھ ملتا ہے تو یہ نتیجہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ چونکہ خدا ہر چیز کا واحد حقیقی سبب ہے، اس لیے وہ ان تمام چیزوں کا بھی خالق ہے جن میں تکلیف اور شر پائے جاتے ہیں۔ غزالی کو اس نتیجے سے کوئی تردد نہیں، کیونکہ ان کے نزدیک سب سے اہم بات خدا کی قدرتِ مطلقہ کو ہر اعتبار سے محفوظ رکھنا ہے۔
معروضی اخلاقیات کا مسئلہ
غزالی کے فریم ورک کے حوالے سے معروضی اخلاقیات کے مسئلے (POM) کے بارے میں دو باتیں ذکر کرنا ضروری ہیں۔
پہلی بات ان مفکرین کے پس منظر میں موجود فطرت پسندانہ مفروضے سے متعلق ہے جن کا ہم نے پہلے جائزہ لیا ہے۔ ان میں سے بعض مفکرین بظاہر یہ فرض کرتے ہیں کہ اخلاقیات ارتقائی دباؤ کے تابع ہے، کیونکہ ان کے نزدیک ہر چیز کی توجیہ فطری اسباب ہی کے ذریعے کی جانی چاہیے (Kitcher 2006; Flanagan et al. 2008)۔ لیکن جیسا کہ پہلے واضح کیا گیا، اور ہیوم اور مور کی مغالطہ آمیز بحثوں کو سامنے رکھتے ہوئے، ممکن ہے کہ فطری دنیا اور اخلاقی دنیا وجودی اعتبار سے دو مختلف دائروں سے تعلق رکھتی ہوں۔ اس صورت میں فطرت سے اخلاقیات کو اخذ کرنا، یا اخلاقیات کی بنیاد فطرت میں تلاش کرنا، مشکل ہو جاتا ہے۔
اگر ایسا ہے تو اخلاقیات فطرت سے سببی طور پر آزاد بھی ہو سکتی ہے؛ یعنی زندگی کی تاریخ کو جتنی بار بھی دوبارہ چلایا جائے، اخلاقیات اپنی جگہ تبدیل نہ ہوں۔ اس صورت میں اخلاقیات معروضی رہے گی اور تاریخِ حیات سے آزاد ہوگی۔ لیکن اخلاقی دنیا اور فطری دنیا کے باہمی تعلق کی بحث کو فی الحال ایک طرف بھی رکھ دیا جائے، تب بھی چھٹے باب میں یہ واضح کیا جا چکا ہے کہ غزالی فلسفیانہ فطرت پسندی کو قبول نہیں کرتے۔ مزید یہ کہ اس باب میں پہلے ہونے والی بحث کی روشنی میں غزالی کے نزدیک حتمی خیر و شر مکمل طور پر وحی سے آتے ہیں، اور وحی اپنی اصل کے اعتبار سے مافوق الفطرت ہے، یعنی خدا کی طرف سے ہے۔ اس لیے غزالی اخلاقی احکام اور اقداری ہدایات کے لیے فطرت کی طرف رجوع نہیں کریں گے، کیونکہ ان کے نزدیک اخلاقیات بالآخر اسی چیز کا نام ہے جسے خدا خیر یا شر قرار دے۔ اس بنا پر اخلاقیات کی اصل فطری نہیں بلکہ فطرت سے ماورا ہے۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ غزالی کو معروضی اخلاقیات کے مسئلے (POM) کو اس کی اصل صورت میں قبول کرنے میں کوئی دشواری نہیں۔ چونکہ وہ خدا کو مکمل طور پر آزاد فاعل سمجھتے ہیں، اس لیے خدا جس چیز کو چاہے اخلاقی طور پر اچھا یا برا قرار دے سکتا ہے۔ چنانچہ اگر اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اخلاقیات موضوعی ہے، تو غزالی کے فریم ورک میں یہ کوئی مسئلہ نہیں۔
یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ غزالی اور وہ مفکرین جنہیں اخلاقی عدمِ حقیقت پسند کہا جاتا ہے، ایک نکتے پر متفق ہیں کہ ان کے نزدیک معروضی اخلاقیات موجود نہیں۔ البتہ فرق ان کی وجودی بنیادوں میں ہے۔ غزالی خدا پرستی کی بنیاد پر اخلاقی عدمِ حقیقت پسندی تک پہنچتے ہیں، جبکہ ولسن، اسٹریٹ، روز اور جوئس جیسے مفکرین فطرت پسندی کی بنیاد پر اخلاقی عدمِ حقیقت پسندی اختیار کرتے ہیں۔ گویا یہ سب ایک ہی نتیجے تک پہنچتے ہیں، مگر ان کی مابعد الطبیعیاتی بنیادیں مختلف ہیں۔
مختصر یہ کہ غزالی کے فکری نظام میں فطری دنیا اور اخلاقی دنیا کے درمیان کوئی سببی تعلق نہیں، بلکہ دونوں مکمل طور پر خدا کے فیصلے اور ارادے کے تابع ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ارتقا واقع ہوا ہو یا نہ ہوا ہو، معروضی اخلاقیات کے مسئلے (POM) پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مسئلہ شر (POE) کی طرح، معروضی اخلاقیات کا مسئلہ (POM) بھی اشعری فریم ورک میں کوئی حقیقی اشکال پیدا نہیں کرتا۔
نتیجہ
اس باب میں کوشش کی گئی ہے کہ بحث کے اخلاقی پہلو کا جائزہ لیا جائے۔ مسئلۂ شر (POE) اور معروضی اخلاقیات کا مسئلہ (POM) دو بنیادی مسائل ہیں جو نظریہ ارتقا کے تناظر میں سائنس اور مذہب کی بحثوں میں اٹھائے جاتے ہیں۔ ان دونوں مسائل کو غزالی کے فکری فریم ورک کی روشنی میں دیکھا گیا، اور نتیجہ یہ نکلا کہ غزالی کے ہاں یہ حقیقی اشکال پیدا نہیں کرتے۔
مسئلہ شر اسی وقت مسئلہ بنتا ہے جب خدا کے بارے میں یہ اصرار کیا جائے کہ وہ لازماً ہر اعتبار سے سراسر خیر خواہ، یا ہمہ گیر خیر کا حامل ہے۔ لیکن جیسا کہ اس باب میں واضح کیا گیا، خدا کا یہ تصور اشعری فکری نظام میں سخت معنوں میں موجود نہیں۔ خدا ہر قسم کی اقداری خانہ بندیوں سے ماورا ہے؛ اس لیے اچھائی اور برائی کے الفاظ اس پر اس طرح لاگو نہیں ہوتے جیسے انسانی اعمال پر ہوتے ہیں۔ اس بنا پر شر اس لیے موجود ہے کہ خدا اسے چاہتا ہے۔
جہاں تک معروضی اخلاقیات کے مسئلے (POM) کا تعلق ہے، چونکہ غزالی نظریہ حکمِ الٰہی کے قائل ہیں، اس لیے ان کے نزدیک اخلاقیات بالآخر اسی چیز کا نام ہے جسے خدا چاہے۔ چنانچہ کوئی چیز اپنی ذات میں اخلاقی طور پر اچھی یا بری نہیں ہوتی، سوائے اس کے جس کا حکم خدا وحی کے ذریعے دے۔ اس اعتبار سے معروضی اخلاقیات کا ختم ہو جانا غزالی کے فریم ورک کا ایک فطری نتیجہ ہے۔
رہا اخلاقی مواد کے فطری یا پیدائشی ہونے کا نظریہ، تو غزالی یہ نہیں مانتے کہ انسان پیدائشی طور پر اخلاقی اصول اپنے اندر لے کر آتا ہے۔ ان کے نزدیک اخلاقی اصول تجربات، ماحول اور تربیت کے ذریعے اختیار کیے اور سیکھے جاتے ہیں۔ اس لیے اگر بعض مفکرین، جن کا اوپر جائزہ لیا گیا، یہ کہتے ہیں کہ اخلاقی اصولوں میں آفاقیت نہیں پائی جاتی، تب بھی غزالی کے فریم ورک میں اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔
اخلاقی مواد کے پیدائشی ہونے کا نظریہ اس شخص کے لیے اہم ہو سکتا ہے جو معروضی اخلاقیات پر یقین رکھتا ہو، اور ممکن ہے کہ وہ اسے معروضی اخلاقیات کے حق میں ایک تجربی دلیل کے طور پر استعمال کرے۔ لیکن اشاعرہ کے اختیار کردہ مجموعی تناظر، یعنی نظریۂ عادت/اوکیشنلزم اور نظریۂ حکمِ الٰہی کو سامنے رکھا جائے، تو یہ سوال کہ انسان اخلاقی اصولوں کو پیدائشی طور پر رکھتا ہے یا بعد میں سیکھتا ہے، کم از کم غزالی کے فریم ورک میں غیر متعلق ہو جاتا ہے۔
ان نکات کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ غزالی کی ماورائے اخلاقیات اور اخلاقی نفسیات نظریۂ ارتقا کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکتی ہیں۔
(جاری)
