ذہین ڈیزائن
تعارف
باب 2 میں ہم نے اختصار کے ساتھ ذہین ڈیزائن (Intelligent Design: ID) کی تحریک کا جائزہ لیا تھا اور دیکھا تھا کہ یہ دیگر مسیحی ردِعمل،یعنی ینگ ارتھ کری ایشنزم، اولڈ ارتھ کری ایشنزم، اور تھی اسٹک ایوولیوشن، کے مقابلے میں کہاں کھڑی ہے۔ باب 4 میں یہ بات سامنے آئی کہ بعض مسلم مفکرین، مثلاً مظفر اقبال اور ہارون یحییٰ، آئی ڈی کے بیانیے کی تائید کرتے ہیں۔ یہ دونوں مائیکل بیہی کے حوالے دیتے ہیں، اور بعض مواقع پر اسے ارتقا کے مقابل ایک واحد الٰہیاتی متبادل کے طور پر اختیار کر لیتے ہیں۔ اس کی وجہ ارتقا کو ایک لادینی یا مادّیاتی نظریہ سمجھنا ہے، یا پھر نیو-ڈارونیت میں تصادف کے تصور کو پریشان کن خیال کرنا ہے۔ باب 6 میں یہ استدلال پیش کیا گیا کہ طریقہ کار کی سطح پر نیچرل ازم کے تحت بھی خدا کے لیے ارتقائی عمل کی تدبیر اور رہنمائی ممکن رہتی ہے، اور تصادف سوائے مضبوط وجودی اتفاق کےنظریہ اوکیژنل ازم کے تحت مسئلہ نہیں بنتا۔ مزید یہ کہ باب 6 میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ارتقا بذاتِ خود نہ تو لامذہب ہے اور نہ ہی لازماً نیچرل ازم پر مبنی۔ جب الحاد، نیچرل ازم اور ارتقا کے درمیان لازمی انحصار کو غلط ثابت کر دیا گیا، تو اب ضروری ہے کہ آئی ڈی کو اس کی اپنی بنیاد پر پرکھا جائے اور یہ طے کیا جائے کہ آیا یہ نظریہ لازماً الٰہیاتی ہے یا نہیں۔ اسی مقصد کے تحت یہ باب سائنسی اعتبار سے اور اشعری نقطہ نظر سے الٰہیاتی سطح پر آئی ڈی کی حیثیت کو واضح کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
یہ باب چار حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصے میں چند ابتدائی نکات بیان کیے گئے ہیں۔ دوسرے حصے میں مائیکل بیہی جو آئی ڈی کے حامی ہیں، کے پیش کردہ ایک خاص نوعیت کے استدلال کا اجمالی جائزہ لیا گیا ہے۔ تیسرے حصے میں اُن چیلنجز کا جائزہ لیا گیا ہے جن کا سامنا آئی ڈی کو ارتقا کے سائنسی متبادل کے طور پر اعتبار حاصل کرنے میں ہے۔ چوتھا حصہ اشعری نقطہ نظر سے آئی ڈی کی عدمِ متعلقیت کو واضح کرتا ہے۔ اس باب میں استعمال ہونے والے متعدد مخففات کی وضاحت کے لیے انہیں اس جملے کے ساتھ منسلک نوٹ میں خلاصہ اور جدول کی صورت میں پیش کر دیا گیا ہے، مگر یہاں ترجمہ میں ہم یہ سب پیش کرنے سے بوجوہ قاصر ہیں۔ خواہش مند اصل کتاب میں ملاحظہ کرسکتے ہیں۔
ابتدائی نکات
آنے والی بحثوں کو پوری طرح سمجھنے کے لیے تین ابتدائی نکات کا ذکر ضروری ہے۔ ان میں (1) ڈیزائن کے استدلال کی مختلف صورتیں، (2) زیریں سطح سے بالائی سطح (bottom-up) اور بالائی سطح سے زیریں سطح (top-down) کے زاویہ نظر میں فرق، اور (3) کونیاتی (cosmological) ڈیزائن/ڈیزائنر اور حیاتیاتی (biological) ڈیزائن/ڈیزائنر کے مابین امتیاز شامل ہیں۔ آئیے ان کا اجمالی جائزہ لیتے ہیں۔
ڈیزائن کے استدلال کی مختلف پیشکشیں
اولاً ڈیزائن کے استدلال منطقی طور پر عموماً دو طریقوں میں سے ایک کے تحت پیش کیے جاتے ہیں: (الف) تمثیلی استدلال، اور (ب) بہترین توضیح کی طرف استنتاج، جسے ابڈکشن (abduction) بھی کہا جاتا ہے۔ بعض اہلِ علم کے نزدیک تمثیلی استدلال کی مثال ولیم پیلے William Paley کی معروف گھڑی کی تمثیل میں ملتی ہے (Nagasawa 2010, 71-73)۔ پَیلے گھڑی کو ایک مُصنَّع شے قرار دیتا ہے کیونکہ یہ معلوم ہے کہ اس کا ایک بنانے والا یعنی گھڑی ساز ہوتا ہے، پھر وہ اسی تمثیل کو کائنات میں پائی جانے والی بظاہر ڈیزائن شدہ خصوصیات پر منطبق کرتا ہے۔ اس کے مطابق، اگر کائنات میں ایسے عناصر موجود ہوں جو گھڑی کی طرح ڈیزائن شدہ ہوں، تو لازماً ان خصوصیات کا بھی کوئی ڈیزائنر ہونا چاہیے، جیسے گھڑی کا گھڑی ساز ہوتا ہے۔
اس کے برعکس، ابڈکشن مختلف انداز سے کام کرتی ہے۔ اس طریقِ استدلال میں کسی مظہر کے لیے ممکنہ منظرناموں یا توضیحات کی نشاندہی کی جاتی ہے، پھر شواہد کے تدریجی اجتماع اور امکانوں کے اخراج کے ذریعے یہ جانچنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کون سی توضیح اس مظہر کی بہترین وضاحت کرتی ہے۔ ذہین ڈیزائن (ID) کے دلائل عموماً ابڈکٹیو قالب میں پیش کیے جاتے ہیں، جہاں حیاتیاتی پیچیدگی کی توضیح کے لیے ارتقا کی کفایت کو ایک ذہین ڈیزائنر کے تصور کے مقابل رکھا جاتا ہے، اور آئی ڈی کے حامیوں کے نزدیک مؤخر الذکر کو زیادہ برتر توضیح سمجھا جاتا ہے (189-225، Jantzen 2014)۔
بالائی سطح اور زیریں سطح کے درمیان فرق
دوسرے نکتے کے طور پر، ڈیزائن اور ڈیزائنر کو سمجھنے میں بالائی سطح (top-down) اور زیریں سطح (bottom-up) کے طریقِ کار میں امتیاز ضروری ہے۔ بالائی سطح کا طریقہ یہ دیکھتا ہے کہ کسی ڈیزائنر کی صلاحیتوں کے پیشِ نظر وہ کیا بنا سکتا ہے اور کیا نہیں۔ مثال کے طور پر، فرض کریں کہ ایک معمار لکڑی کے گھروں کے ڈیزائن میں غیر معمولی مہارت رکھتا ہے اور اس کے سوا کسی اور مادّے میں کام نہیں کرتا۔ ان معلومات کی بنیاد پر ہم جانتے ہیں کہ وہ کیا کر سکتا ہے،یعنی معیاری لکڑی کے گھر بنانا، اور کیا نہیں کر سکتا مثلاً کنکریٹ کے گھر بنانا۔ اس کے برعکس، زیریں سطح کا طریقہ کار اس بات سے ڈیزائنر کی صلاحیتوں کا تعین کرتا ہے کہ کیا چیز ڈیزائن شدہ سمجھی جا رہی ہے۔ تصور کیجیے کہ دو میزیں ہیں جن کی پیچیدگی کی سطح ایک دوسرے سے خاصی مختلف ہے۔ ایک میز نہایت سادہ ہے، محض ہموار سطح اور چار سادہ پائے، اگرچہ اس کی تکمیل (finishing) عمدہ ہے۔ دوسری میز کہیں زیادہ شاندار ہے، اس کے پاؤں اور سطح پر نہایت نفیس نقش و نگار ہیں، اور اس میں متحرک حصے بھی موجود ہیں، مثلاً درازیں وغیرہ۔ سوال یہ ہے کہ ہر میز کے ڈیزائنر کے بارے میں ہم کیا نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں؟ پہلی میز کی سادگی کی بنا پر، ڈیزائنر کے بارے میں جو بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے وہ صرف یہ ہے کہ وہ سادہ میزیں بنانے کی صلاحیت رکھتا/رکھتی ہے۔ اس سے فطری طور پر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پاس اتنا علم اور جسمانی ساخت موجود ہے کہ وہ ایسی میز بنا سکے، یہ معلومات قابلِ حصول ہیں۔ لیکن یہ باتیں معلوم نہیں کی جا سکتیں کہ آیا یہ ڈیزائنر کی پہلی میز ہے یا اب تک کی بہترین، یا یہ کہ اس کے بالوں کا رنگ کیا ہے۔ ممکن ہے وہ شخص فی الواقع ایک نہایت تخلیقی ڈیزائنر ہو اور کسی خاص موقع یا کسی بیماری وغیرہ، کی وجہ سے اس نے جان بوجھ کر ایک سادہ میز بنائی ہو۔
اس کے باوجود، جب ڈیزائنر کے بارے میں اس میز کے سوا کوئی اضافی معلومات دستیاب نہ ہوں اور محض میز کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے، تو ہم قطعی طور پر صرف یہی طے کر سکتے ہیں کہ وہ ایک سادہ ڈیزائنر ہے؛ اس کے علاوہ تمام قیاسات محض اندازے ہیں۔
البتہ دوسری میز کے ڈیزائنر کے بارے میں یہی بات نہیں کہی جا سکتی، کیونکہ اس کی کاریگری میں اضافی نفاست اور پیچیدگی پائی جاتی ہے۔ دوسری میز کا ڈیزائنر زیادہ باریک اور اعلیٰ درجے کی میزیں بنانے کی صلاحیت رکھتا/رکھتی ہے، لہٰذا اس کے ساتھ اعلیٰ سطح کی میز سازی کی صلاحیتیں منسوب کرنا معقول معلوم ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ بات عقلی طور پر قابلِ قبول ہے کہ زیادہ نفیس میز کا ڈیزائنر سادہ میز بھی بنا سکتا ہے، کیونکہ زیادہ پیچیدہ کام کے لیے زیادہ مہارت اور بہتر کاریگری درکار ہوتی ہے؛ تاہم ہم یقین کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتے کہ سادہ میز کا ڈیزائنر زیادہ نفیس میز بھی بنا سکے گا۔
اب تک ہم یہ فرض کرتے آئے ہیں کہ ڈیزائنر ایک انسان ہے، حالانکہ یہ بھی بالکل ممکن ہے کہ دونوں میں سے کسی بھی میز کا ڈیزائنر ایک مشین ہو۔ چونکہ انسان اور مشین دونوں میزیں بنا سکتے ہیں، اس لیے اضافی معلومات کی عدم موجودگی میں دونوں امکانات قابلِ غور رہتے ہیں۔ اسی طرح یہ بات بھی واضح نہیں کہ اس عمل میں ایک ڈیزائنر شامل تھا یا متعدد۔ ممکن ہے میز کے مختلف حصوں کی تیاری مختلف ڈیزائنرز نے کی ہو، یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس میں انسان اور مشین دونوں کی مشترکہ کاوش شامل ہو۔ صرف میزوں کو بطور واحد دستیاب شہادت سامنے رکھ کر نہ تو ڈیزائنر کی شناخت یقینی طور پر متعین کی جا سکتی ہے اور نہ ہی یہ واضح ہوتا ہے کہ اس عمل میں کتنے ڈیزائنرز شامل تھے۔ البتہ ہم قطعی طور پر یہ طے کر سکتے ہیں کہ کم از کم ایک ڈیزائنر ضرور شامل تھا۔ جب تک میز بیچنے والا ہمیں یہ اطلاع نہ دے کہ میز انسان نے بنائی یا مشین نے، اور اس عمل میں کتنے افراد یا آلات شریک تھے، تب تک ہم ان امکانات کو واضح طور پر رد نہیں کر سکتے۔
بالائی سطح (top-down) اور زیریں سطح (bottom-up) کے طریقِ کار کے مابین یہ امتیاز، ذہین ڈیزائن (ID) کے الٰہیاتی تجزیے میں ہمارے لیے خاص طور پر مفید ثابت ہوگا۔
کونیاتی ڈیزائن بمقابلہ حیاتیاتی ڈیزائن
آخر میں، کونیاتی ڈیزائن (cosmological design) اور حیاتیاتی ڈیزائن (biological design) کے درمیان فرق کو سمجھنا مفید ہوگا (Stephen Barr 2003, 69-70)۔ کونیاتی ڈیزائن کے دلائل پوری کائنات کی خصوصیات کی بنیاد پر کسی ڈیزائنر کی طرف استنتاج کرتے ہیں۔ فائن ٹیوننگ (fine-tuning) کا استدلال یعنی یہ تصور کہ کائنات میں بعض طبعی مستقلات نہایت تنگ، زندگی کے لیے سازگار حدود کے اندر متعین ہیں، اسی نوعیت کی ایک نمایاں مثال ہے (Bruce Waller 2020)۔
اس کے برعکس، حیاتیاتی ڈیزائن ایسے استدلالات پر مشتمل ہے جو حیاتیاتی دنیا میں پائی جانے والی پیچیدہ خصوصیات کی بنا پر کسی ڈیزائنر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اگرچہ صرف اسی تک محدود نہیں، مگریہ میدان بنیادی طور پر ذہین ڈیزائن (ID) کے زیرِ بحث آتا ہے۔ اس فرق کے حوالے سے ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ ہر قسم کے استدلال سے اخذ ہونے والی ڈیزائنر کی صلاحیتیں مختلف ہوتی ہیں۔ محض پیمانےکے فرق ہی کی بنا پر کائنات کے ڈیزائنر کو حیاتیاتی دنیا کے ڈیزائنر کے مقابلے میں کہیں زیادہ ذہین اور طاقتور ہونا چاہیے، بالکل ویسے ہی جیسے ہم نے پہلے میز کے ڈیزائنر کی مثال میں دیکھا تھا۔
یہ نکتہ اس لیے اہم ہے کہ اس سے ہر استدلال کے لیے ممکنہ ڈیزائنر امیدواروں کی معقولیت واضح ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، ایک نہایت ترقی یافتہ خلائی مخلوق کا تصور کیجیے جو زمین پر حیات کے آغاز سے پہلے کسی اور سیارے پر وجود میں آ چکی ہو۔ ممکن ہے وہ زمین پر آ کر اس کی حیاتیاتی تاریخ میں مداخلت کرے، جس کے نتیجے میں آج نظر آنے والی حیاتی کیمیائی تنوع اور پیچیدگی وجود میں آئی ہو۔ اس صورت میں، انہیں بجا طور پر زمین کی حیاتیاتی دنیا کے ڈیزائنر کہا جا سکتا ہے۔ تاہم، وہ لازماً کائنات کے ڈیزائنر کے منطقی امیدوار نہیں ہوں گے، کیونکہ ان کا اپنا وجود کائنات (اس کے طبعی مستقلات اور قوانین) پر منحصر ہے۔
اگر کوئی ہستی کائنات کی ڈیزائنر ہو، تو اس میں یہ صلاحیت بھی ہونی چاہیے کہ وہ زمین پر پائی جانے والی حیاتیاتی پیچیدگی کو ڈیزائن کر سکے۔ اس فرق کی نشاندہی اس لیے ضروری ہے کہ اس سے کونیاتی ڈیزائنر (CD) اور حیاتیاتی ڈیزائنر (BD) کے درمیان منطقی تعلق واضح ہوتا ہے۔ CDمثلاً خدا، یا کوئی ایسی ہستی جو کثیر کائنات (multiverse) میں یا اس سے ماورا وجود رکھتی ہو، BD بھی ہو سکتی ہے، لیکن اس کے برعکس یہ لازم نہیں۔ دوسرے الفاظ میں، BD کا وجود خود بخود CD کو مستلزم نہیں کرتا۔ یہ نکتہ نہایت اہم ہے اور مزید آگے ذہین ڈیزائن کے الٰہیاتی تجزیے میں اس کے نمایاں مضمرات سامنے آئیں گے۔
مائیکل بیہی کا نظریہ
ذہین ڈیزائن (ID) اس مقدمے پر قائم ہے کہ حیاتی کیمیائی دنیا میں ذہانت کے نہایت پیچیدہ اور دقیق اشاریے پائے جاتے ہیں، جو ہمیں کسی نہ کسی قسم کے ڈیزائنر پر ایمان رکھنے کا جواز فراہم کرتے ہیں۔ جیسا کہ باب 2 میں ذکر ہو چکا ہے، آئی ڈی کے حامی واضح طور پر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ وہ جو کچھ پیش کر رہے ہیں وہ ارتقا کا ایک سائنسی متبادل ہے، نہ کہ کوئی مذہبی موقف۔ آئی ڈی کے حامیوں کی جانب سے اس استدلال کی دو معروف صورتیں پیش کی جاتی ہیں۔ ایک صورتم مائیکل بیہی Michael Behe نے پیش کی ہے، جو "ناقابلِ تقلیل پیچیدگی" (Irreducible Complexity: IRC) کے تصور کے حوالے سے مشہور ہیں (Behe 2006; 2007; 2019)؛ جبکہ دوسری صورت William Dembski کی ہے (Dembski 1998; 1999; 2002; 2004)، جس میں نہایت فنی اور ریاضیاتی انداز اختیار کیا گیا ہے اور ایک ایسا عمومی فریم ورک تجویز کیا گیا ہے جسے حیاتیاتی یا غیر حیاتیاتی—ہر قسم کے نظامات پر لاگو کیا جا سکتا ہے۔
اگرچہ ان دونوں طرزِ استدلال کی پیشکش مختلف ہے، لیکن حاصلِ کلام ایک ہی ہے۔ آئی ڈی کے حامیوں کا مرکزی دعویٰ یہ ہے کہ قدرتی انتخاب اور اتفاقی تغیر، یعنی نیو-ڈارونین میکانزم حیاتیاتی دنیا میں نظر آنے والی بعض پیچیدگیوں کو وجود میں لانے کی صلاحیت نہیں رکھتے، چنانچہ ان کے نزدیک نیو-ڈارونین ارتقا، ایک intelligent designer کے تصور کے مقابلے میں کمزور توضیح ہے۔ سادگی کی خاطر یہاں صرف بیہی کے استدلال کا جائزہ لیا جائے گا، تاہم ڈمسکی اور دیگر مصنفین کے خیالات کے لیے قاری متعلقہ مراجع سے رجوع کر سکتا ہے (Johnson 1993; 1995; 1997; 2000; Wells 2000; 2006; Meyers 2009; Berlinski 2010; Wells 2011; Meyers 2013; Denton 2016; Wells 2017)۔
بیہی کے ہاں ذہین ڈیزائنر کے حق میں صورت بندی کی بنیاد IRC پر ہے۔ لیکن IRC سے مراد کیا ہے؟ بیہی اس کی توضیح کے لیے چوہے دانی کی مثال دیتے ہیں (Behe 2019: 227-252)۔ جیسا کہ اصل کتاب میں صفحہ 216 پر موجود شکل 7.1 میں دکھایا گیا ہے، چوہے دانی متعدد الگ الگ اجزا پر مشتمل ہوتی ہے، اور یہ اجزا صرف اسی وقت چوہے دانی کا مطلوبہ فعل انجام دیتے ہیں جب وہ سب مل کر کام کریں۔ چنانچہ اگر ان میں سے ایک جز بھی نکال دیا جائے تو پورا نظام اپنی فعّالیت کھو دیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، IRC نظام ایسے اجزا کے مجموعے پر قائم ہوتے ہیں جن میں ہر جز اپنی جگہ ضروری ہوتا ہے، اور یہ تمام اجزا مل کر ایک مخصوص اور متعین فعل پیدا کرتے ہیں۔ اس مفہوم کو واضح کرنے کے بعدبیہی حیاتیاتی دنیا کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور IRC کی مثالیں پیش کرتے ہیں تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ بعض حیاتیاتی نظام بھی اسی نوعیت کی ناقابلِ تقلیل پیچیدگی رکھتے ہیں۔
بیہی کی پسندیدہ مثالوں میں سے ایک بیکٹیریائی فلیجیلم ہے (Behe 2019: 283-287)۔ فلیجیلم ایک ایسا حیاتیاتی ڈھانچہ ہے جس میں باہر کی طرف نکلا ہوا ایک دم نما حصہ ہوتا ہے، جو اسے حرکت کی صلاحیت فراہم کرتا ہے، جیسا کہ اصل کتاب کے صفحہ 217 پر موجود شکل 7.2 میں دکھایا گیا ہے۔ فلیجیلم ایک موٹر سے مشابہ ساخت کے ساتھ جڑا ہوتا ہے،جو مختلف پروٹینز کی مجموعی ترتیب پر مبنی ہوتی ہے، اور یہی ساخت اسے گھومنے کی اجازت دیتی ہے۔ اس کی مزید تفصیل کے لیے قاری کو بیہی کی تصانیف میں دی گئی وضاحتوں سے رجوع کرنا چاہیے۔
اس مثال میں اصل اہم نکتہ یہ ہے کہ اگر اس نظام کا ایک جز بھی اپنی جگہ سے ہٹ جائے تو پوری ساخت حرکت کی صلاحیت کھو دیتی ہے۔ اگر واقعی یہ ناقابلِ تقلیل پیچیدگی (IRC) کی ایک مثال ہے، تو پھر اس سے کیا نتیجہ اخذ کیا جانا چاہیے؟ بیہی اس سوال کا جواب یوں دیتے ہیں (Behe 2006: 39):
ناقابلِ تقلیل پیچیدگی پر مبنی کوئی نظام براہِ راست پیدا نہیں کیا جا سکتا، یعنی اس طریقے سے نہیں کہ کسی ابتدائی فعل کو بتدریج بہتر بنایا جائے جبکہ وہی میکانزم مسلسل کام کرتا رہے، کیونکہ ناقابلِ تقلیل پیچیدگی والے نظام کا کوئی بھی پیش رو اگر کسی ایک جز سے محروم ہو تو وہ تعریفاً غیر فعّال ہوتا ہے۔ اگر واقعی کوئی ناقابلِ تقلیل پیچیدگی پر مبنی حیاتیاتی نظام موجود ہے تو وہ ڈارونین ارتقا کے لیے ایک طاقتور چیلنج ہوگا۔ چونکہ قدرتی انتخاب صرف اُن نظامات کو منتخب کر سکتا ہے جو پہلے ہی کارآمد ہوں، اس لیے اگر کوئی حیاتیاتی نظام بتدریج پیدا نہیں ہو سکتا تو اسے ایک مکمل اکائی کی صورت میں، یکبارگی وجود میں آنا ہوگا، تاکہ قدرتی انتخاب کے پاس کام کرنے کے لیے کچھ ہو۔
واضح رہے کہ اس بیان سے بیہی کا مدعا یہ ہے کہ یہاں معاملہ یا تو سب کچھ ہے یا کچھ بھی نہیں (all or nothing)۔ نیو-ڈارونین ارتقا، جسے بیہی اوپر کے اقتباس میں محض "ڈارونین" کہتے ہیں، مرحلہ وار ارتقائی عمل پر انحصار کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نئی حیاتیاتی ساختیں اپنے پیش رو سانچوں پر قائم ہوتی ہیں۔ لیکن اگر ضروری اجزا میں سے کوئی ایک بھی موجود نہ ہو تو بیکٹیریائی فلیجیلم جیسی کوئی پیشگی ساخت موجود ہی نہیں ہو سکتی، کیونکہ وہ اپنی فعّالیت کھو دے گی، اور یوں وجود ہی میں نہیں آئے گی۔ لہٰذا بیہی کے نزدیک تمام ضروری اجزا کا ایک ہی وقت میں موجود ہونا لازم ہے، ورنہ پورا نظام ناکام ہو جاتا ہے۔
اسی استدلال کی بنیاد پر بیہی یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ محض اتفاقی تغیرات اور قدرتی انتخاب کے ذریعے تمام ضروری اجزا کا درست حالات میں یکجا ہو جانا شماریاتی طور پر نہایت بعید ہے۔ چنانچہ ایک بہتر توضیح یہ ہے کہ اس کے پیچھے کسی ذہین ڈیزائنر کو فرض کیا جائے۔ مزید برآں، جیسے جیسے IRC نظام زیادہ پیچیدہ ہوتے جاتے ہیں، یعنی زیادہ اجزا کی ضرورت کے ساتھ کسی ایک مخصوص اجتماعی فعل کو حاصل کرتے ہیں، ویسے ویسے نیو-ڈارونین میکانزم کے ذریعے ان کا وجود میں آنا شماریاتی اعتبار سے مزید غیر محتمل ہو جاتا ہے، اور یوں ذہین ڈیزائنر کی توضیح نسبتاً زیادہ قابلِ قبول دکھائی دیتی ہے۔
تاہم ناقدین اس طرزِ استدلال کو قائل کن نہیں سمجھتے۔ اس بات کو ایک طرف رکھتے ہوئے کہ غیر محتمل ہونا لازماً ناممکن ہونے کو مستلزم نہیں، ناقدین یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ بیہی نے بحث کو ایک دو رخے زاویے میں محدود کر دیا ہے، جس کی کوئی مضبوط بنیاد نظر نہیں آتی (Miller 2002: 131-164; Miller 2003)۔ یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ بیکٹیریائی فلیجیلم جیسی ساختوں کے لیے کئی بنیادی مگر لازمی اجزا کا اکٹھا ہونا ضروری ہے، لیکن جس نکتے پر سوال اٹھایا جا رہا ہے وہ بیہی کا پیش کردہ "سب یا کچھ نہیں" والا طریقِ استدلال ہے۔
ممکن ہے کہ انفرادی اجزا اس انداز میں دستیاب رہے ہوں جس سے IRC جیسے نظامات کے وجود میں آنے کا امکان یا احتمال بڑھ گیا ہو۔ بعید نہیں کہ یہ اجزاء اپنی ارتقائی تاریخ میں ابتدا میں مختلف افعال انجام دیتے رہے ہوں، اور وقت کے ساتھ ان کے افعال بدلتے چلے گئے ہوں، یہاں تک کہ بیکٹیریائی فلیجیلم جیسی پیچیدہ ساختیں وجود میں آ گئیں۔ اس بنا پر، اگرچہ کسی پیشگی یا ابتدائی بیکٹیریائی فلیجیلم کا وجود نہ ہو، لیکن اس کے اجزا ممکن ہے پہلے سے موجود ہوں اور بالآخر ان کے امتزاج سے ایسی ساخت سامنے آئی ہو۔
اب دوبارہ چوہے دانی کی مثال پر غور کیجیے۔ کم از کم اس میں ایک اسپرنگ کا نظام، کسی نہ کسی قسم کا ضرب لگانے والا حصہ، ایک پکڑنے والی سلاخ، اور ایک بنیادی تختہ شامل ہوتا ہے ۔ اگر آپ اپنے گھر میں ہوں اور اچانک چوہے دانی بنانے کا خیال آئے، تو اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ یہ تمام پرزے آپ کو ویسے ہی تیار حالت میں مل جائیں جیسے چوہے دانی کے لیے درکار ہوتے ہیں۔ لیکن اگر آپ گھر میں موجود اشیا میں ان کے متبادل تلاش کر سکیں تو معاملہ بدل جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، اسپرنگ کسی پرانے کھلونے سے لیا جا سکتا ہے، ضرب لگانے والا حصہ کپڑوں کے ہینگر سے، اور بنیاد فالتو لکڑی سے بنائی جا سکتی ہے۔ یہ اجزا اپنی انفرادی حیثیت میں مختلف افعال رکھتے ہوں گے، لیکن جب انہیں ایک خاص ترتیب کے ساتھ اکٹھا کیا جائے تو یہی اجزاء ایک چوہے دانی بنانے کے کام آ سکتے ہیں۔ بیہی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ IRC نظامات کی ارتقائی تشکیل بھی کچھ اسی انداز سے ممکن ہو سکتی ہے۔
ان اختلافی آرا کے پیشِ نظر اب سوال شواہد کا بنتا ہے۔ وضاحت کے لیے ہمیں دو الگ سوالات میں امتیاز کرنا ہوگا:
- کیا اس بات کے سائنسی شواہد موجود ہیں کہ حیاتیاتی اجسام عموماً وقت کے ساتھ اپنے افعال تبدیل کرتے رہے ہوں؟
- کیا ایسے سائنسی شواہد موجود ہیں جو انفرادی اجزا کے ارتقائی راستوں کو دکھاتے ہوں جو بالآخر ناقابلِ تقلیل پیچیدگی (IRC) پر مبنی نظامات تک لے جاتے ہوں؟
پہلے سوال کے جواب میں عام طور پر یہ مثال دی جاتی ہے کہ پر (feathers) ابتدا میں حرارتی تحفظ (thermal insulation) کے لیے استعمال ہوتے تھے، جو بعد میں پرواز کی صلاحیت کے حصول میں کارآمد ہو گئے (McLennan 2008)۔ جہاں تک دوسرے سوال کا تعلق ہے، مختلف تجربات، میکانزمز اور نظریاتی سیمولیشنز (theoretical simulations) تجویز کی گئی ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ IRC نظامات کی تشکیل کا باعث بن سکتی ہیں (Gishlick 2005; Doolittle et al. 2008; Durett and Schmidt 2008; Näsvall et al. 2012; Chou et al. 2015; Good et al. 2017; Lang and Rice 2019; Lents et al. 2019)۔
تاہم اپنی تازہ ترین کتاب Darwin Devolves میں بیہی گزشتہ دو دہائیوں کے دوران سامنے آنے والی ان تمام مطالعات کا جائزہ لیتے ہیں جو اسی نوعیت کے دلائل پیش کرتی ہیں، اور یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی حتمی طور پر مطلوبہ نتیجہ فراہم نہیں کرتی۔ ان کے نزدیک اس بحث کا خلاصہ یوں ہے:
فلیجیلم کے ارتقا سے متعلق تقریباً تمام کام محض ترتیبوں (sequences) کے تقابل پر مشتمل ہے—یہ طریقہ اگرچہ اس بارے میں دلچسپ قیاسات کی تائید کر سکتا ہے کہ کون کس سے نکلا، مگر یہ ارتقا کے میکانزم کے بارے میں کچھ نہیں بتاتا۔ اس میکانزم سے متعلق جو بہت تھوڑا سا کام ہوا ہے، وہ اس کتاب کے دلائل کی مضبوط تائید کرتا ہے (Behe 2019: 294)۔
بیہی کے نزدیک اب تک کوئی ایسا ثبوت سامنے نہیں آیا جو اس بات کو کافی حد تک ثابت کرے کہ IRC نظامات کے لیے ارتقائی راستے واقعی وقوع پذیر ہو چکے ہیں۔ اس نکتے میں مزید اضافہ کرتے ہوئےبیہی (2019: 232) ناقدین کے اُس مطالبے پر سخت اعتراض کرتے ہیں جس کے تحت ان سے، اور عمومی طور پر آئی ڈی سے، ایسے امکانات کی قطعی نفی کا ثبوت مانگا جاتا ہے:
… بہت سے ناقدین … مجھ جیسے شکوک رکھنے والوں کو اس بات پر مجبور کرتے ہیں کہ ہم کسی منفی دعوے کو ثابت کریں۔ وہ اصرار کرتے ہیں کہ یہ دکھایا جائے کہ کوئی فعّال پھندابتدریج کبھی بھی ممکن نہیں ہو سکتا، یعنی یہ ثابت کیا جائے کہ یہ کسی نہ کسی طرح منطقی طور پر ناممکن ہے۔ مگر یہ سراسر ناموزوں معیار ہے۔ اگرچہ سائنس منطق استعمال کرتی ہے، مگر وہ کسی نظریے کی کامیابی کو تجربی شواہد کے وزن سے پرکھتی ہے۔ مناسب اور سیدھا معیار یہ ہے: اگر اس بات کے ٹھوس طبعی اسباب موجود ہوں کہ [نیو-]ڈارونین راستے کارگر نہیں ہو سکتے، اور بھرپور تلاش کے باوجود کوئی ایسا ثبوت نہ ملے جو ان کے کارگر ہونے کو دکھائے، تو نظریہ ناکام ہو چکا۔ اس کے برعکس دکھاوا کرنے کی کوئی ذمہ داری نہیں، اور نہ ہی ہمیشہ کے لیے لوخ نیس مونسٹر کی تلاش لازم ہے۔
دوسرے الفاظ میں، بیہی کے نزدیک یہ مطالبہ نہایت مسئلہ خیز ہے کہ ان سے یہ ثابت کرنے کو کہا جائے کہ قدرتی انتخاب اور اتفاقی تغیر کے ذریعے کبھی بھی پیچیدہ خصوصیات پیدا نہیں ہو سکتیں۔ ان کے خیال میں یہ ایک غیر عملی تقاضا ہے۔ تاہم دیگر اہلِ علم بیہی کے دلائل اور نتائج سے اتفاق نہیں کرتے (Lang and Rice 2019; Lents et al. 2019)۔
اس مقام سے آگے اس مناظرانہ بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ یہاں توجہ دینے کا اصل نکتہ یہ ہے کہ بیہی کے نزدیک IRC نظامات کی مناسب توضیح نیو-ڈارونین میکانزم کے ذریعے ممکن نہیں، اور اس کی نسبتاً بہتر توضیح ایک ذہین ڈیزائنر کا تصور ہے۔ اس کے برعکس ناقدین کا استدلال یہ ہے کہ یہ طریقِ کار بہت جلد کسی نتیجے پر پہنچ جاتا ہے، اور اُن دلائل اور ممکنہ منظرناموں کو مناسب وزن نہیں دیتا جو پیش کیے جا چکے ہیں، یا جو اگرچہ فی الحال نامعلوم ہیں، یا معلوم مگر تجربی طور پر ثابت نہیں، تاہم ممکن ہے مستقبل میں تجربی طور پر قائم ہو جائیں (Musgrave 2005; Ussery 2005; Young 2005; Dorit 2007; Elsberry 2007)۔
دوسرے لفظوں میں، جہاں فی الحال کوئی جواب دستیاب نہ ہو، وہاں ڈیزائنر کو لازمی طور پر خودکار جواب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس پورے مسئلے کی بنیاد اس بات پر ہے کہ دستیاب اور ممکنہ شواہد کس طرح مختلف امکانات اور احتمالات کو سہارا دیتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو آئی ڈی کے ناقدین اور حامیوں کے درمیان اختلاف کی ایک بڑی وجہ بنتا ہے۔
ذہین ڈیزائن کا بطورِ سائنس جائزہ
یہ سوال کہ آیا ذہین ڈیزائن (ID) ایک معتبر سائنسی توضیح ہے یا نہیں، ایک طویل عرصے سے جاری اور مسلسل بحث کا موضوع رہا ہے۔ اس کثیرالجہتی بحث کو سمجھنے کے لیے ہم اختلاف کے نکات کو تین بنیادی پہلوؤں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ ان میں: (1) سائنس اور غیر سائنس یا جعلی سائنس کے درمیان امتیاز، (2) طریقہ کار کی سطح پر نیچرل ازم (Methodological Naturalism: MN)، اور (3) سائنس کا ثقافتی سیاق شامل ہیں۔ ان تینوں نکات کو الگ الگ اور باہم غیر متعلق نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ یہ ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں، بلکہ انہیں اس بحث کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے والے زاویوں کے طور پر دیکھنا چاہیے کہ آیا آئی ڈی کو ایک سائنسی نظریہ قرار دیا جا سکتا ہے یا نہیں۔
سائنس اور غیر سائنس یا جعلی سائنس کے درمیان حدِ فاصل قائم کرنے کا سوال ایک طویل تاریخی پس منظر رکھتا ہے، جس کا آغاز 1935 میں اس وقت ہوا جب کارل پوپر Karl Popper نے، جن پر باب 1 میں گفتگو ہو چکی ہے، سائنس اور غیر سائنس کے درمیان حدِّ فاصل کے معیارات پر گفتگو کی۔۔ اس کے بعد سے سائنس اور دیگر تمام سرگرمیوں کے درمیان واضح امتیاز قائم کرنے کے لیے متعدد تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ تاہم تقریباً تمام ایسی تجاویز کو غیر تسلی بخش قرار دیا گیا ہے: یا تو اس لیے کہ وہ سائنس دانوں کے لیے عملی طور پر ناقابلِ استعمال بن جاتی ہیں یعنی وہ حد سے زیادہ یہ طے کرنے لگتی ہیں کہ سائنس دانوں کو کیا کرنا چاہیے، یا اس لیے کہ ہر معیار کے ساتھ ایسے استثنائی معاملات سامنے آ جاتے ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا (Hansson 2017; McIntyre 2019; Reeves 2019)۔ مزید یہ کہ خود"سائنس" کا مفہوم بھی مختلف ادوار میں مختلف رہا ہے (Brooke 2014; Harrison 2017)۔ مثال کے طور پر، کمپیوٹر کے دور سے پہلے اور بعد میں جس چیز کو سائنسی سمجھا جاتا ہے، اس میں نمایاں فرق ہے۔ کمپیوٹر کی ایجاد سے پہلے سائنس دانوں کو عموماً تجرباتی عمل سے وابستہ سمجھا جاتا تھا، جبکہ آج بعض ایسے شعبے بھی موجود ہیں جو مکمل طور پر حسابی نوعیت کے ہیں۔ نظری طبیعیات اس کی ایک مثال ہے۔ ایسے شعبوں کی کوئی واضح تاریخی نظیر نہیں ملتی۔
آج کے دور میں سائنس کے شدید تخصص کے پیشِ نظر یہ طے کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے کہ کوئی ایک ایسا معیار وضع کیا جا سکے جو تمام سائنسی شعبوں پر یکساں طور پر صادق آ سکے۔ ارتقائی حیاتیات، فلکیات، نفسیات اور سماجیات کے درمیان کون سا مشترک بنیادی عنصر ہے؟ اور کیا ریاضی کو سائنس کہا جانا چاہیے؟ یہ ایسے پیچیدہ سوالات ہیں جن پر سنجیدہ غور و فکر درکار ہے۔
مختصریہ کہ ایسا کوئی واحد معیار متعین کرنا جو تاریخی ادوار اور علمی شعبوں سے ماورا ہو کر سائنس اور غیر سائنس یا جعلی سائنس کے درمیان واضح حد کھینچ سکے، ایک نہایت مشکل فلسفیانہ مسئلہ ہے۔ اسی وجہ سے بعض مفکرین نے واحد معیارقائم کرنے کے بجائے کئی معیاری طریقِ کار اختیار کرنے کی کوشش کی ہے (Hansson 2017)۔
تاہم اس سب کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ سائنس میں ہر چیز قابلِ قبول ہے۔ موجودہ دور میں کوئی بھی نجوم (astrology) یعنی زائچوں کے مطالعہ کو سائنس نہیں سمجھتا، کیونکہ اس میں سائنسی کشش موجود نہیں۔ یہ نہ تو متعین پیش گوئی کی صلاحیت فراہم کرتی ہے، نہ سادگی، نہ توضیحی یا تحقیقی وسعت، اور نہ ہی قابلِ ابطال ہونے کا معیار پورا کرتی ہے۔ احتیاطاً اس تمام بحث کا حاصل یہ ہے کہ ہر شعبے کو الگ الگ جانچا جاتا ہے، اور اسی کے بعد اسے سائنس کے دائرے میں شامل کیا جاتا ہے۔
درج بالا مباحث کی روشنی میں اب اصل سوال یہ بنتا ہے کہ ذہین ڈیزائن (ID) ایک سائنسی نظریے کے طور پر کس حد تک قابلِ قبول ہے۔ اس ضمن میں ایک مفید نقطہ آغاز Kitzmiller v. Dover Area School District کا عدالتی مقدمہ ہے، جسے Dover Panda Trial بھی کہا جاتا ہے، اور یہ 2005 میں پیش آیا تھا۔ یہ مقدمہ آئی ڈی کی قانونی، سماجی اور تدریسی سطح پر قبولیت کے حوالے سے ایک نہایت اہم موڑ ثابت ہوا۔ اس مقدمے کی بنیاد اس وقت پڑی جب بعض اسکولوں میں آئی ڈی کو بطورِ مضمون پڑھایا جا رہا تھا۔ اسی تناظر میں Of Pandas and People نامی ایک کتاب، جس سے Dover Panda Trial کا نام ماخوذ ہے، بطور نصابی کتاب کے سامنے آئی۔ تاہم اس پر شدید اعتراضات اٹھائے گئے، جو بالآخر عدالتی سماعت پر منتج ہوئے۔ دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد، اس مقدمے کی صدارت کرنے والے جج نے بالآخر آئی ڈی کو ایک سائنسی نظریہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا (Kitzmiller v. Dover 2005)۔
اس بحث کا مرکزی نکتہ سائنس کے دائرہ کار اور اس کے نیچرل ازم کے ساتھ تعلق سے متعلق ہے (Koperski 2015: 202-214)۔ باب 6 میں بیان کیا جا چکا ہے کہ Methodological Naturalism (MN) کو Philosophical Naturalism (PN) سے اس اعتبار سے ممتاز کیا جاتا ہے کہ مؤخر الذکر ایک وجودی (ontological) مؤقف ہے، جبکہ اول الذکر ایک معرفتی (epistemic) طریقِ کار۔ ایم این کائنات کی کلی وجودی ساخت کے بارے میں کوئی دعویٰ نہیں کرتا، بلکہ سائنس کو محض فطری دنیا کی تحقیق کے ایک طریقہ کار تک محدود رکھتا ہے۔ ایم این کی یہی غیر جانبدار حیثیت اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ ملحد اور مذہبی دونوں پس منظر رکھنے والے افراد اعلیٰ درجے کی سائنس کر سکتے ہیں۔ اس کے باوجود، آئی ڈی کے حامی ایم این پر تنقید کرتے ہیں۔
آئی ڈی کے حامیوں کا استدلال ہے کہ ایم این سائنس پر ایک غیر ضروری قدغن عائد کرتا ہے۔ ان کے نزدیک سائنس کو ایسے پیشگی اصولوں کا پابند نہیں ہونا چاہیے جو ممکنہ طور پر معقول توضیحات کو خود بخود خارج کر دیں۔ اگر فطری مظاہر کی تحقیق کسی نوع کے ڈیزائنر کی طرف اشارہ کرتی ہے، اور یاد رہے کہ آئی ڈی کے نظریہ ساز اس ڈیزائنر کی تعیین نہیں کرتے، تو ایسی توضیح کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ آئی ڈی کے حامیوں کے مطابق، اگر سائنس دان ایسی بظاہر معقول توضیحات کو محض اس بنا پر مسترد کر دیں کہ وہ پہلے سے طے شدہ سائنسی تصورات سے ہم آہنگ نہیں، تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سائنس حقیقتاً ایک کھلا تحقیقی میدان نہیں رہی۔ مزید یہ کہ آئی ڈی کے حامی مسلسل اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ڈیزائنر متعین نہیں ہے اور وہ قدرتی ہستیاں بھی ہو سکتی ہیں، مثلاً خلائی مخلوق، اس لیے آئی ڈی کو مافوق الفطرت ڈیزائنر کے حق میں دلیل قرار دینا، ان کے نزدیک، اپنی قوت کھو دیتا ہے۔ تو پھر اصل مسئلہ کہاں ہے؟
آئی ڈی کی تحریک نے اپنی غیر جانب داری اس وقت کھو دی جب ڈسکوری انسٹیٹیوٹ سے 1999 میں Wedge document منظر عام پر آئے (Forrest and Gross 2007)۔ یہ ایک منشور تھا جس میں سائنس کے مادّیاتی فریم ورک پر غلبہ پانے کا واضح منصوبہ پیش کیا گیا تھا۔ اس دستاویز میں آئی ڈی تحریک کا خاکہ درج تھا، جس کا مقصد ارتقا کے مقابل ایک ایسا سائنسی متبادل قائم کرنا تھا جو خدا دوست ہو (Pigliucci 2002: 68-72; Kitzmiller v. Dover 2005: 720)۔ اس دستاویز کے منظرِ عام پر آنے سے آئی ڈی تحریک کے پس پردہ محرکات پوری طرح واضح ہو گئے، اور یہی امر جج کے فیصلے میں ایک فیصلہ کن عنصر ثابت ہوا، جس کے تحت آئی ڈی کو بطورِ سائنسی نظریہ تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا۔ چونکہ Wedge document سے یہ بات بالکل عیاں ہو گئی تھی کہ آئی ڈی ایک مذہبی محرکات پر مبنی تحریک ہے، اور اس میں ڈیزائنر درحقیقت خدا ہی کو تصور کیا جا رہا ہے، اس لیے غیر متعین ڈیزائنر کی بات کو محض عوامی غیر جانبداری کے لیے ایک رسمی دعویٰ سمجھا گیا (Kojonen 2016: 91)۔ چنانچہ جب یہ واضح ہو گیا کہ آئی ڈی کے ارکان ڈیزائنر کو ایک مافوق الفطرت ہستی کے طور پر شناخت کرتے ہیں، تو مذکورہ بالا معیار کی بنیاد پر آئی ڈی کو غیر سائنسی قرار دیا گیا (Kitzmiller v. Dover 2005: 737)۔ اگر Wedge document منظرِ عام پر نہ آتا، تو بعید نہیں کہ آج آئی ڈی کی قانونی، سماجی اور تعلیمی صورت بندی بالکل مختلف ہوتی۔
یہ بات باعثِ تعجب نہیں کہ ذہین ڈیزائن (ID) کے حامیوں نے اس تنقید کے جواب میں یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے ذاتی اعتقادات لازماً اُن دلائل کی علمی حیثیت کو مجروح نہیں کرتے جو وہ پیش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، اگرچہ ان کے عالمی نظریے (worldview) کی روشنی میں خدا ڈیزائنر کا ایک ممکنہ امیدوار ہو سکتا ہے، تاہم اسی درجے میں کوئی زمینی یا کہکشانی ڈیزائنر بھی اس کردار کے لیے تصور کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ محض اس بنیاد پر کہ ان کے ذاتی اعتقادات خدا سے وابستہ ہیں، ڈیزائنر کے حق میں پیش کی جانے والی دلیل کی معقولیت ختم نہیں ہو جاتی (Kojonen 2016: 91–93)۔
جیسا کہ بیہی خود اس بات کو یوں بیان کرتے ہیں (Behe 2003: 276):
اگرچہ میں ڈیزائن کے وجود کے حق میں دلیل دیتا ہوں، لیکن میں یہ طے نہیں کرتا کہ ڈیزائنر کون ہے۔ ڈیزائنر کے طور پر مختلف امکانات پیش کیے جا سکتے ہیں، مثلاً عیسائیت کا خدا، کوئی فرشتہ، افلاطون کا ڈیمیورج(یعنی کائنات کو عقلی نمونوں کے مطابق ترتیب دینے والا اصول) کوئی پراسرار قوت، الفا سینٹوری سے آنے والی خلائی مخلوق، وقت میں سفر کرنے والی کوئی ہستی، یا کوئی بالکل نامعلوم ذہین وجود۔ ظاہر ہے کہ ان میں سے بعض امکانات، سائنس سے ہٹ کر دوسرے علمی میدانوں کی روشنی میں، دوسروں کے مقابلے میں زیادہ معقول لگ سکتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بیہی یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ اگر کسی مافوق الفطرت ڈیزائنر کو اصولی طور پر قبول بھی کر لیا جائے، تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نہیں نکلتا کہ ہر مافوق الفطرت توضیح کو بلا چون و چرا مان لیا جائے یا سائنس کا ڈھانچہ ہی منہدم ہو جائے (Behe 2006: 241):
کوئی بھی انسانوں کے طرزِ عمل کی پیش گوئی نہیں کر سکتا، مگر مجھے یہ اندیشہ بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا محسوس ہوتا ہے کہ سائنس میں ہر جگہ مافوق الفطرت توضیحات در آئیں گی۔ اگر میری کوئی گریجویٹ طالبہ میرے دفتر میں آ کر یہ کہے کہ اس کی بیکٹیریائی ثقافت کو فرشتہ موت نے ختم کر دیا ہے، تو میں اس بات پر یقین کرنے کا رجحان نہیں رکھوں گا۔یہ ناممکن ہے کہ Journal of Biological Chemistry انزائم کی سرگرمی کو روحانی عوامل سے جوڑنے کے لیے کوئی نیا سیکشن قائم کرے۔
تاہم اگر اس نکتے کو تسلیم کر لیا جائے تو یہ بات جوابات سے زیادہ نئے سوالات کو جنم دے سکتی ہے۔ فرض کیجیے کہ بحث کی خاطر مافوق الفطرت ڈیزائنرز، اور حتیٰ کہ فطری ڈیزائنرز، کو بھی قابلِ قبول توضیحات مان لیا جاتا ہے، تب بھی یہ بات واضح نہیں رہتی، بلکہ شاید مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے، کہ سائنس دان آخر کس طرح کامیابی کے ساتھ ان توضیحات کے درمیان حدِ فاصل قائم کر سکیں گے جو مافوق الفطرت ڈیزائنر، فطری ڈیزائنر، یا محض فطری اسباب پر مبنی دعووں کی طرف رجوع کرتے ہیں (Ratzsch 2001: 27–39; Pigliucci 2002: 64–68)۔
ڈیزائنرز کو بطورِ قابلِ قبول توضیح تسلیم کرنے کے حوالے سے ایک وسیع تر تشویش یہ ہے کہ اگر کسی مظہر کی فوری طور پر کوئی فطری توضیح دستیاب نہ ہو تو تحقیق کے ممکنہ راستے بہت آسانی سے منقطع ہو سکتے ہیں۔ اگر نیو-ڈارونین میکانزم بعض پیچیدہ حیاتیاتی خصوصیات کی وضاحت میں غیر محتمل ثابت ہوتے ہیں، جیسا کہ آئی ڈی کے حامی دعویٰ کرتے ہیں، تو اس سے لازماً یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ فوراً کسی ڈیزائنر کو فرض کر لیا جائے۔ ممکن ہے کہ دیگر متبادل توضیحات بھی موجود ہوں جن پر غور کیا جا سکتا ہو۔ جیسا کہ باب 1 میں ذکر کیا گیا ہے، اس وقت ارتقائی حیاتیات کے ماہرین کے درمیان خود نیو-ڈارونین میکانزم کے بارے میں ایک بحث موجود ہے، جس کے نتیجے میں بعض ایسے متبادل میکانزم تجویز کیے گئے ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ اُن مظاہر کی وضاحت کر سکتے ہیں جنہیں نیو-ڈارونین ارتقا واضح کرنے سے قاصر ہے (Extended Evolutionary Synthesis) کو یاد کیجیے۔ ممکن ہے کہ یہ نئی پیش رفتیں اس بات پر کچھ نئی روشنی ڈالیں کہ بعض حیاتیاتی طور پر پیچیدہ خصوصیات کس طرح وجود میں آئیں (Koperski 2015: 218)۔ اس تناظر میں خدشہ یہ ہے کہ اس قسم کی سوچ تحقیقی سرگرمی کو بہت جلد دبانے یا روک دینے کا باعث بن سکتی ہے۔
اسی نکتے پر معروف مسیحی سالماتی حیاتیات دان ڈینس الیگزینڈر Denis Alexander نے آئی ڈی پر سخت تنقید کی ہے (Alexander 2008: 306-307):
"ناقابلِ تقلیل پیچیدگی" کا تصور، اور اس کے ساتھ جڑا ہوا"ڈیزائن کے استنتاج" کا خیال، حقیقت میں سائنس کے لیے نہایت غیر زرخیز ہے اور سائنسی فکر کا حصہ ہی نہیں بنتا۔ تصور کیجیے کہ میری تجربہ گاہ میں ایک پی ایچ ڈی طالب علم ہے، جسے میں نے سفید خون کے خلیات میں پائے جانے والے ایک پیچیدہ حیاتی کیمیائی سگنلنگ راستے کو سمجھنے کا کام سونپا ہے، جو ہمارے جسم کو وائرسز کے خلاف دفاع فراہم کرتے ہیں۔ لیکن دو سال کی سخت محنت کے بعد وہ طالب علم میرے دفتر میں آ کر یہ کہتا ہے: "مجھے بہت افسوس ہے، میں نے اس منصوبے پر دو سال پوری محنت سے کام کیا، مگر یہ سگنلنگ راستہ اتنے زیادہ اجزاء پر مشتمل ہے کہ اسے ٹھیک طرح سے سمجھنا ممکن نہیں، اس لیے میرا خیال ہے کہ یہ ناقابلِ تقلیل پیچیدگی رکھتا ہے اور لازماً ڈیزائن کیا گیا ہے۔" اس کے بعد ہونے والی گفتگو کو میں آپ کے تصور پر چھوڑتا ہوں، لیکن نتیجہ یقیناً یہ ہوگا کہ طالب علم کو دوبارہ تجربہ گاہ بھیج دیا جائے گا تاکہ وہ کچھ اور محنت کرے! کسی چیز کو محض "ڈیزائن شدہ" قرار دے دینا ایسے تجربات تجویز کرنے میں کوئی مدد نہیں دیتا جن کے ذریعے اس مفروضے کو جانچا جا سکے۔ میرا پی ایچ ڈی طالب علم تجربہ گاہ میں یہ خیال آخر کیسے جانچے گا کہ زیرِ بحث حیاتی کیمیائی سگنلنگ راستہ ڈیزائن کیا گیا ہے؟ اور ایسی بات کو قابلِ ابطال کیسے بنایا جا سکتا ہے؟ جب تک حیاتیاتی علوم میں پیش کیے جانے والے خیالات قابلِ آزمائش نہ ہوں اور ایک بامعنی تحقیقی پروگرام کی طرف نہ لے جائیں، وہ غیر زرخیز رہتے ہیں اور درحقیقت سائنسی سرگرمی کا حصہ نہیں بنتے۔
عملاً، کسی ڈیزائنر کو فرض کرنا سائنس کے لیے مسئلہ خیز دکھائی دیتا ہے، اور اگر اسے نیو-ڈارونین ارتقا (یا اس کے متبادل نظریات) کے مقابل ایک طے شدہ متبادل کے طور پر پیش کیا جائے تو یہ موقف ناقابلِ ابطال ہونے کے خطرناک حد تک قریب پہنچ جاتا ہے۔ مافوق الفطرت یا حتیٰ کہ فطری ڈیزائنرز کو بطورِ سائنسی توضیح قبول کرنے میں درپیش یہ اضافی مشکلات اس مزاحمت کی وضاحت کرتی ہیں جو سائنس دانوں میں آئی ڈی کو بطورِ سائنس قبول کرنے کے حوالے سے پائی جاتی ہے۔
اس پوری بحث میں یہ بات نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے کہ کچھ پس منظر ی وابستگیاںایسی ہوتی ہیں جو ناگزیر طور پر اس امر کو متاثر کرتی ہیں کہ آئی ڈی، اور درحقیقت ہر اُس شے کا جائزہ کیسے لیا جائے جو سائنس کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے دیکھا، نظریات کو بعض سائنسی اوصاف کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے۔کوپرسکی Koperski (2015: 25–29) ان اوصاف کو ماورا نظریاتی تشکیل دینے والے اصول (metatheoretical shaping principles: MSPs) کا نام دیتے ہیں، اور انہیں مجموعی طور پر دو اقسام میں تقسیم کرتے ہیں: مابعدالطبیعی (metaphysical) اور معرفتی (epistemic) MSPs۔ مابعدالطبیعی MSPs کی مثالوں میں فطرت کی یکسانیت (uniformity of nature)، علیّت (causation)، اور واقعیت پسندی (realism) شامل ہیں؛ جبکہ معرفتی MSPs میں توجیہ (justification)، استقرا (induction)، اور طریقہ کار کی سطح پر نیچرل ازم (Methodological Naturalism: MN) شامل ہیں۔ یہ اُن متعدد اصولوں میں سے چند ہیں جنہیں سائنس دان سائنسی نظریات اور ڈیٹا کے بارے میں اپنے فیصلوں اور جائزوں کی رہنمائی کے لیے اختیار کرتے ہیں۔ ان تمام اصولوں پر بحث و مباحثہ ہوتا رہا ہے (Pigliucci 2010; Koperski 2015: 11–57)۔ ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ ایم این اس مباحثے کا ایک بڑا نکتہ ہے۔ تاہم کوپرسکی کے ہاں ایک پہلو یا تو غائب ہے یا واضح طور پر بیان نہیں کیا گیا، اور وہ یہ کہ اقدار سائنسی سرگرمیوں کو کس طرح متاثر کرتی ہیں۔ سائنسی سرگرمیاں کبھی بھی خلا میں انجام نہیں پاتیں، وہ ہمیشہ ایک بڑے ثقافتی سیاق کا حصہ ہوتی ہیں۔ بعض اوقات اس معاشرے کی قدریں اس بات کو متاثر کرتی ہیں کہ عملی سطح پر سائنس کیسے آگے بڑھتی ہے۔ مثال کے طور پر، کسی ایسے زمانے اور معاشرے کا تصور کیجیے جہاں مردہ جسم کو چیر پھاڑ کرنا شدید طور پر معیوب یا ممنوع سمجھا جاتا ہو۔ ایسے ماحول میں انسانی جسم کے اندرونی ڈھانچے کو سمجھنے کا شوق رکھنے والے سائنس دان کسی بھی قسم کی جراحی سے پہلے کئی بار سوچیں گے، کیونکہ اس عمل کے ساتھ مضبوط سماجی قدغنیں وابستہ ہوں گی۔ اس مثال میں ایک خاص قدر تحقیق کے ایک خاص راستے میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ اگرچہ یہ ایک فرضی مثال ہے، لیکن حقیقت میں ایسے واقعات کم نہیں۔ جیسا کہ باب 1 میں ذکر کیا گیا، ڈارونین ارتقا کو ابتدا میں منفی نگاہ سے دیکھا گیا کیونکہ یہ اُس وقت کی نہایت قدر کی جانے والی غائی توضیحات سے ہٹ کر تھا (Bowler 1983; Bowler 2009; Behe 2019: 81–86)۔ یا بیسویں صدی کے اوائل کی مثال لیجیے، جب بعض سائنس دانوں نے سفید اور سیاہ فام انسانوں کے درمیان فرق کی ارتقائی توضیحات پیش کیں، جن میں سیاہ فام افراد کے دماغ کے چھوٹے حجم کا دعویٰ بھی شامل تھا، بلکہ بعض اوقات انہیں غیر آدمی (non-Adamic) سلسلوں کی اولاد قرار دیا گیا، اور یوں سفید فام افراد کے مقابلے میں ان کی "ابتدائیت" کو جواز فراہم کیا گیا (Livingstone 2008)۔ یہ سب اس بات کی واضح مثالیں ہیں کہ قدریں اور تعصبات سائنسی عمل کو کس طرح متاثر کرتے ہیں۔
یقیناً اس سے یہ مراد نہیں کہ سائنس دان مکمل طور پر یا محض سماجی اقدار ہی کے تابع ہوتے ہیں۔ یہاں محض یہ نکتہ اجاگر کرنا مقصود ہے کہ پس منظر کی قدریں، خواہ وہ سماجی ہوں یا فردی، اس بات کے ساتھ گہرے طور پر پیوست ہوتی ہیں کہ MSPs کو کیسے اختیار کیا جاتا ہے اور عملی طور پر کیسے استعمال میں لایا جاتا ہے۔
اس نکتے کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ موجودہ تدریسی اور سماجی سیاق ذہین ڈیزائن (ID) کے حق میں سازگار نہیں۔ آئی ڈی کے منظرِ عام پر آنے سے پہلے، تخلیقیت پر مبنی تحریکوں) ینگ ارتھ اور اولڈ ارتھ کری ایشنزم(نے اپنی اپنی عدالتی کارروائیوں اور سائنسی برادری کے ساتھ سماجی و سیاسی کشمکش کے ذریعے قانونی، سیاسی اور تعلیمی منظرنامے پر ایک دیرپا مگر منفی اثر چھوڑا تھا (Numbers 2006; Bowler 2007; Nagasawa 2010: 51–54; Phy-Olsen 2010; Caudill 2013; Rios 2014; Kaden 2015: 1–66)۔ سائنس کے خلاف تخلیقیت پر مبنی تنقیدات کے خدشات کے پیشِ نظر، متعدد مفکرین اور اداروں نے اس کے جواب میں ملک گیر سطح پر ایسے اقدامات کیے جن کا مقصد تعلیمی اداروں میں تخلیقیت پر مبنی نظریات کی دراندازی کو روکنا تھا (Berkman and Plutzer 2010)۔ ان اقدامات میں تعلیمی اداروں کے درمیان ہم آہنگی بھی شامل تھی، مثلاً National Academy of Science تاکہ ایسے رہنما اصول وضع کیے جائیں جو یہ واضح کریں کہ جماعتوں میں کس نوعیت کی سائنس پڑھائی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، متعدد کتب اور تربیتی پروگرام بھی شائع کیے گئے جو تخلیقیت پسند دعووں کے جواب میں مرتب کیے گئے تھے۔
اس کشیدہ ماحول کے پس منظر میں، آئی ڈی کو ایک اور تخلیقیت پسند کیمپ کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اگرچہ وہ نسبتاً زیادہ نفیس صورت میں سامنے آتا ہے اور اسی بنا پر اس کے ساتھ انتہائی شکوک و شبہات کا برتاؤ کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر Wedge document اور اس کے پس منظر میں موجود آئی ڈی تحریک پر کی گئی تفصیلی تحقیق کا عنوان ہی Creationism’s Trojan Horse رکھا گیا۔ اس صورتِ حال میں یہ بات باعثِ تعجب نہیں کہ سائنسی برادری ہر اُس چیز سے شدید بدگمان نظر آتی ہے جو تخلیقیت کے قریب بھی محسوس ہو۔ یہ بات آئی ڈی کی سائنسی حیثیت کے حق میں کوئی عذر یا جواز فراہم نہیں کرتی، بلکہ یہاں محض اُن قدری نظاموں کی نشان دہی مقصود ہے جو آئی ڈی پر جاری بحث کو اپنے حصار میں لیے ہوئے ہیں، اور جن کی جڑیں گہرے تاریخی تجربات میں پیوست ہیں۔ یہی پس منظر اس امر کی ایک اہم وجہ بن سکتا ہے کہ موجودہ دور میں آئی ڈی کو خاص طور پر ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔
اگرچہ درج بالا نکات کو پیشِ نظر رکھے بغیرسین کیرل Sean Carroll کا درجِ ذیل بیان اس بات پر کچھ روشنی ڈالتا ہے کہ آئی ڈی طرز کے تصورات کسی اور زمانے اور دور میں شاید قابلِ عمل محسوس ہوتے، مگر معاصر عہد میں ایسا نہیں ہے: (Carroll 2005: 631)
مثال کے طور پر، چند صدیوں پہلے یہ بات بالکل معقول سمجھی جاتی کہ جانداروں کے حیاتیاتی نظام میں پائی جانے والی پیچیدگی اور باریکی کا مشاہدہ کیا جائے اور یہ نتیجہ اخذ کیا جائے کہ ایسی نزاکت محض اتفاق سے پیدا نہیں ہو سکتی، بلکہ لازماً کسی خالق کے منصوبے کا نتیجہ ہے۔ تاہم ڈارون کے نظریہ ارتقا کی آمد، جس میں تبدیلی کے ساتھ نسل در نسل ارتقا اور قدرتی انتخاب جیسے تصورات شامل ہیں، نے ایک ایسا میکانزم فراہم کیا جس کے ذریعے بظاہر نہایت غیر محتمل ساختیں بے شمار تدریجی تبدیلیوں کے نتیجے میں وجود میں آ سکتی ہیں۔
یہ کہ آیا ذہین ڈیزائن (ID) کو کبھی سنجیدگی سے لیا جائے گا یا نہیں، اس کا انحصار بڑی حد تک سائنسی محنت کے ثمرات اور سائنسی برادری کے اتفاقِ رائے پر ہے۔ موجودہ صورتِ حال میں آئی ڈی کو یا تو مکمل طور پر غیر سائنسی سمجھا جاتا ہے، یا محض ناقص سائنس قرار دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ پہلے دیکھا جا چکا ہے، یہ اعتراضات ملحد سائنس دانوں (مثلاً Sean Carroll) کی جانب سے بھی سامنے آتے ہیں اور مسیحی سائنس دانوں (مثلاً Denis Alexander) کی طرف سے بھی۔ تاہم ان مسائل کے باعث جو ہم نے دیکھے، یعنی حدِّ فاصل کے معیارات، طریقہ کار کی سطح پر نیچرلزم (MN)، اور سائنسی برادری کے ثقافتی سیاق جیسے عوامل کی وجہ سے یہ بات ابھی تک واضح نہیں کہ آئی ڈی کو سائنس کے کس خانے میں رکھا جائے۔ اس جائزے میں احتیاط برتتے ہوئےیوجن ناگاساوا Yujin Nagasawa اس صورتِ حال کو یوں سمیٹتے ہیں :"یہ دکھانا کہ ذہین ڈیزائن سائنس نہیں ہے، اس کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہے کہ یہ دکھایا جائے کہ اسے ایک اچھی اور قابلِ عمل سائنسی نظریے کے طور پر قائم نہیں کیا جا سکا (Nagasawa 2011: 100)۔"
(جاری)
