شیخ الحدیث علامہ زاہد الراشدی حفظہ اللہ سے ایک خوبصورت ملاقات
ازقلم: محمد ابرار ظہیر — چیف ایڈیٹر ہفت روزہ اہلِ حدیث لاہور
۳ اکتوبر ۲۰۲۶ء: شیخ الحدیث علامہ زاہد الراشدی حفظہ اللہ بلاشبہ عالمی سطح پر شہر گوجرانوالہ کی پہچان ہیں۔ وطنِ عزیز میں برپا ہونے والی تمام اسلامی تحاریک میں ہمیشہ کبھی صفِ اول کے سپاہی رہے اور کبھی قائد۔ آپ کی مجلس سے سیکھنے کو بہت کچھ ملتا ہے۔ آپ ایک مجسم تحریک ہیں۔ وسیع المشرب بھی ہیں۔ جب بھی آپ کی مجلس میں بیٹھنے کا اتفاق ہوا شیخ الحدیث مولانا اسماعیل سلفی، حکیم الامت حکیم محمود سلفی، مولانا عبدالواحد، شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صفدر رحمھم اللہ سمیت دیگر اکابرینِ امت کے تذکار جانفزا سے دل باغ باغ ہوا۔ آج بھی برادر عزیز مولانا حافظ محمد امتیاز محمدی حفظہ اللہ کی رفاقت میں اپنی کتاب ’’خامہ بیدار‘‘ پیش کرنے کی سعادت کے لئے حاضرِ خدمت ہوئے تو مجلس کا آغاز ہی شیر اسلام علامہ ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کے تذکرہ جمیلہ سے ہوا۔ ان کی کتاب ’’اسلام اور برٹش لاء‘‘ کے بارے پوچھا، ان کا ذکرِ خیر کرتے ہوئے فرمانے لگے کہ ہم نے مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کو ان کی خدمات کا صلہ ہی نہیں دیا۔ ان کی شخصیت کا ایک ہی پہلو ’’مناظرانہ‘‘ نمایاں رہا۔ حالانکہ آپ بیک وقت ایک محدث، مفسر، مدبر سیاسی راہنما اور اسلام کے حقیقی ترجمان تھے۔ جمعیت علمائے اسلام (ہند) ان کی تحریک پر ان کے گھر میں قائم ہوئی۔
علامہ زاہد الراشدی حفظہ اللہ نے حالیہ بہت سے اندرونی و بیرونی تنازعات پر بھی خوبصورت گفتگو فرمائی۔ استخفافِ حدیث کی سازشوں سے لے کر احتساب کے نام پر صحابہ کرام و اہل بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے زبان درازیوں پر تاسف کا اظہار کیا۔ مسلکی ہم آہنگی، باہمی تعلقات میں توسع اور فکری و نظریاتی اتفاقات میں وسعتِ ظرفی اختیار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ خود اپنے خلاف چلنے والی مہم کے حوالے سے بھی مخالفین بارے انتہائی محتاط انداز میں تبصرہ فرمایا۔
ہم نے ’’خامہ بیدار‘‘ پیش کی تو خوشی کے اظہار کے ساتھ حوصلہ افزائی کے کلمات سے نوازتے ہوئے فرمایا کہ ’’آپ کو پڑھتا رہتا ہوں اور آپ کی سرگرمیوں سے بھی شناسا ہوں۔ خوشی ہوتی ہے کہ آپ کچھ کر رہے ہیں‘‘۔ حضرت کے یہ کلمات یقیناً ہمارے لئے ایک اثاثہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
حضرت ہماری کتاب وصول کر کے خود اپنے تین کتب عنایت فرمائیں۔ یہ ان کی ذرہ نوازی تھے۔ اللہ پاک انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔
صحابہ کرامؓ کے تین طبقے
تلخیص: قاری محمد عثمان رمضان — پاکستان شریعت کونسل
۶ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی کا ہفتہ وار درس کا خلاصہ۔
صحابہ کرام اور اہل بیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک بزرگ کی توہین بھی ایمان کے لئے خطرہ ہے۔ اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا بہت سے مقامات پر تذکرہ فرمایا ہے، اور ان کے ساتھ اپنی رضامندی کا اظہار کیا ہے۔ ان میں سب سے جامع آیت سورہ التوبہ کی آیت 100 ہے، جس میں اللہ نے صحابہ کے تین طبقے بیان فرما کر آخر میں اپنی رضا کا اعلان فرمایا:’’رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ‘‘ یعنی وہ اللہ سے راضی ہیں اور اللہ ان سے راضی ہے۔
1۔ مہاجرین (السابقون الاولون من المہاجرین)
یہ وہ صحابہ ہیں جنہوں نے مکہ مکرمہ میں کفار کے ظلم و ستم کے باوجود ایمان قبول کیا۔ کفار کے تنگ کرنے پر پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کی، پھر مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ یہ ہجرت کا سلسلہ فتح مکہ تک آٹھ سال تک جاری رہا۔ اس کے بعد لا ہجرت بعد الفتح کا اعلان ہوا۔
2۔ انصار (السابقون الاولون من الانصار)
یہ اہل مدینہ ہیں جنہوں نے مہاجرین کو اپنایا، ان کو جگہ دی، کھانے پینے کی جگہ بنائی، ان کی خدمت کی اور ان کو ٹھکانہ فراہم کیا۔ ان کی ایمانی و ایثاری صفت قرآن میں بھی بیان ہوئی ہے۔
3۔ تابعین اور ان کی پیروی کرنے والے (والذین اتبعوہم باحسان)
یہ وہ لوگ ہیں جو صحابہ کے بعد آئے۔ قیامت تک آنے والے تمام مسلمان جو ان کی پیروی کرتے ہیں، ان سے محبت رکھتے ہیں اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں، وہ اسی طبقے میں شامل ہیں۔ سورہ الحشر میں ان کی خاص صفت یہ بیان ہوئی ہے کہ وہ دعا کرتے ہیں:
ربنا اغفر لنا ولاخواننا الذین سبقونا بالایمان ولا تجعل فی قلوبنا غلا للذین آمنوا۔
’’اے اللہ! ہمیں اور ہم سے پہلے ایمان لانے والے ہمارے بھائیوں کو بخش دے، اور ہمارے دلوں میں ان کے بارے میں کوئی کینہ نہ رہنے دے۔‘‘
ائمہ اہل سنت کا عقیدہ
ان تینوں طبقوں کے ساتھ محبت رکھنا، ان کے ساتھ عقیدت کا اظہار کرنا، اور اللہ کی رضا پر راضی ہونا لازم ہے۔ اگر اللہ ان سے راضی ہے تو ہمیں بھی ان سے راضی ہونا چاہیے۔ کسی بھی صحابی کے بارے میں دل میں کینہ، بغض یا میل رکھنا اسی رضا کے خلاف ہے۔
امام زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ
حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے تحفہ اثنا عشریہ میں نقل کیا ہے کہ امام زین العابدین رحمہ اللہ کی مجلس میں ایک شخص نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں نامناسب لہجے میں سوال کیا۔ امام صاحب نے اس سے پوچھا: تم مہاجر ہو یا انصاری ہو؟ اس نے دونوں کا انکار کیا۔ امام صاحب نے فرمایا: تیسرے طبقے کی صفت تو یہ ہے کہ پہلوں کے لیے دعا کرتے ہیں، ان کے لیے دلوں میں محبت رکھتے ہیں۔ تم اس صفت سے بھی خالی ہو، تو تم حضرت عثمانؓ کے بارے میں بات کرنے کے اہل ہی نہیں ہو۔
انبیاء کرام سے تقابل کی ممانعت
بخاری شریف کی روایت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے موسی علیہ السلام پر فضیلت مت دو، مجھے یونس علیہ السلام پر فضیلت مت دو۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ فضیلت نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ دو عظیم شخصیات کو مقابلہ کر کے نہ تولو، کیونکہ جب آپس میں مقابلہ کریں گے تو کسی نہ کسی کی توہین ہوگی۔ اسی طرح صحابہ کرام بھی ہر پھول کی طرح ہیں، ہر ایک کا اپنا رنگ اور اپنی خوشبو ہے، ان میں تقابل نہ کرو، محبت سب سے رکھو۔ صحابہ کرام اور اہل بیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک بزرگ کی توہین بھی ایمان کے لیے خطرہ ہے۔
علماء کرام قرآن و سنت کے عملی نفاذ کی جدوجہد میں سنجیدہ کردار ادا کریں
منجانب: حافظ شاہد الرحمٰن میر — سیکرٹری مالیات پاکستان شریعت کونسل
۱۲ اکتوبر ۲۰۲۶ء: پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے گزشتہ روز جامعہ فاروقیہ چوک امام صاحب سیالکوٹ میں درسِ قرآن کریم کی ایک نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشرہ میں امن اور فلاح کے لیے قرآن و سنت کے احکام و قوانین کا نفاذ اور عملداری ضروری ہے جس سے مسلسل گریز کے باعث ہم دن بدن مشکلات میں الجھتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے علماء کرام پر زور دیا کہ وہ قرآن و سنت کے احکام اور شریعت اسلامیہ کی برکات بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے عملی نفاذ کی جدوجہد میں بھی سنجیدہ کردار ادا کریں۔
اس سے قبل سیالکوٹ کے سرکردہ علماء کرام کی ایک خصوصی نشست سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں افسوسناک افراتفری کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ایک طرف دستور کو چیلنج کرنے والے عناصر مختلف حوالوں سے دہشت گردی کے ذریعہ ریاست کو کمزور کر رہے ہیں اور دوسری طرف بیرونی مداخلت ہماری قومی خودمختاری کے لیے مستقل روگ بن گئی ہے۔ جبکہ دستور کی وفاداری کا حلف اٹھانے والے کچھ عناصر دستور کی بالادستی اور عملداری کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہے جس کی وجہ سے ملک کا امن خطرے میں پڑ گیا ہے اور معاشرہ میں ہر طرف افراتفری کا پریشان کن ماحول دکھائی دے رہا ہے۔
مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ دستور کی بالادستی، قومی خودمختاری کی بحالی اور شریعت اسلامیہ کا عملی نفاذ ہمارے بنیادی مسائل ہیں جن سے صَرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا اور اس سلسلہ میں قوم کو آگاہ کرنے اور بیدار رکھنے کی ذمہ داری علماء کرام اور دینی جماعتوں پر ہے۔ انہوں نے دینی جماعتوں کی قیادتوں سے اپیل کی کہ وہ باہم مشاورت اور ہم آہنگی کے ساتھ اس نازک مرحلہ میں قوم کی راہنمائی اور مشترکہ قیادت کا اہتمام کریں۔
ان تقریبات سے مولانا حماد انذر قاسمی صاحب نے بھی خطاب کیا۔
’’احتسابِ ناصبیت‘‘ کتاب کے بارے میں رائے
از: قاری محمد عثمان رمضان — سیکرٹری جنرل پاکستان شریعت کونسل پنجاب
پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میری گزارش ہر ساتھی سے یہی ہے کہ شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب اس سلسلہ میں جو کوشش فرما رہے ہیں اسے مکمل توجہ اور خاموشی کے ساتھ سپورٹ کیا جائے اور اللہ رب العزت کی بارگاہ میں اس کی کامیابی کے لیے دعاؤں کا اہتمام کیا جائے۔
مولانا زاہد الراشدی کا دورۂ کراچی
منجانب: مولانا قاری خبیب احمد عامر — سیکرٹری جنرل پاکستان شریعت کونسل ضلع گوجرانوالہ
۱۷ اکتوبر ۲۰۲۶ء: پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی ایک ہفتہ کے دورہ پر آج کراچی پہنچ گئے ہیں۔ وہ آج شام معہد الخلیل بہادر آباد میں شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندیؒ کی تحریک فہم قرآن کریم کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں سیمینار میں شرکت کے علاوہ اگلے تین روز کے دوران کراچی کے نصف درجن کے لگ بھگ مدارس کی مختلف دینی و علمی تقریبات سے خطاب کریں گے اور بدھ کو حیدرآباد اور ٹنڈو الٰہ یار میں حرمین شریفین اور بیت المقدس کے حوالے سے ایک کنونشن سے خطاب کریں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ پاکستان شریعت کونسل گوجرانوالہ کے راہنما قاری خبیب احمد عامر اور حافظ حمزہ انصاری بھی ان کے ہمراہ ہیں۔
قومی خودمختاری کی منزل
منجانب: مولانا حافظ خرم شہزاد — امیر جمعیت علماء اسلام کامونکی
۱۸ اکتوبر ۲۰۲۶ء: پاکستان شریعت کونسل کے امیر حضرت مولانا زاہد الراشدی نے آج کراچی میں پاکستان شریعت کونسل کے صوبائی امیر مولانا قاری اللہ داد صاحب سے ملاقات کی اور ان کی بیمار پرسی کے ساتھ مختلف امور پر ان سے گفتگو کی۔ مولانا مفتی محمد مدنی، حافظ خرم شہزاد، قاری محمد خبیب عامر اور حافظ حمزہ انصاری ان کے ہمراہ تھے۔ انہوں نے محمود آباد میں جمعیت علمائے اسلام کے بزرگ راہنما مولانا عبد القیوم نعمانی سے بھی ملاقات کی اور مختلف امور پر ان سے تبادلہ خیال کیا۔ مولانا زاہد الراشدی نے جامعہ مصباح العلوم میں حفاظ ایجوکیشن سسٹم کے تحت منعقد ہونے والے تقریبی مسابقہ میں شرکت کی اور خطاب کرتے ہوئے علماء کرام اور طلبہ پر زور دیا کہ وہ آزادی کی تحریک میں اپنے اکابر کی جدوجہد کا بغور مطالعہ کریں اور ان کی روایات کے مطابق آزادی کی تکمیل اور قومی خود مختاری کے حصول کے لیے محنت کریں۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کا ٹائٹل تو ہم نے قیامِ پاکستان کے ساتھ حاصل کر لیا تھا مگر قومی خودمختاری کی منزل ابھی آگے ہے اور اس کے لیے تحریک آزادی کے جذبہ کے ساتھ ہی محنت کرنے کی ضرورت ہے۔
مولانا سید زوار حسین شاہ رحمۃ اللہ علیہ یادگاری خطبہ
ازقلم: ڈاکٹر سید عزیز الرحمٰن
دعوت نامہ
دارالعلم والتحقیق کے قیام کا اعلان اور اس کی افتتاحی تقریب ہی مولانا سید زوار حسین شاہ رحمۃ اللہ علیہ یادگاری خطبے پر مشتمل تھی۔ یہ خطبہ ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا تھا اور 2007ء سے 2010ء تک ابتدائی چار خطبے وہی ارشاد فرماتے رہے۔ آخری خطبہ انہوں نے انتقال سے دو ماہ سے بھی قلیل عرصے قبل ارشاد فرمایا تھا۔ یہ چاروں خطبے "خطباتِ کراچی" جلد اول کے عنوان سے شائع ہو چکے ہیں۔
پانچویں خطبے سے لے کر آٹھویں خطبے تک کا سفر بھی اسی طرح طے ہوا۔ یہ خطبات مولانا ڈاکٹر سید سلمان ندوی (ساؤتھ افریقہ)، مولانا زاہد الراشدی اور ڈاکٹر یاسین مظہر صدیقی رحمہ اللہ نے ارشاد فرمائے۔ یہ چاروں خطبے بھی، جن میں 2011ء سے لے کر 2014ء تک کے خطبات شامل ہیں، "خطباتِ کراچی" جلد دوم کے نام سے شائع ہو چکے ہیں۔
یہ سلسلہ الحمد للہ جاری ہے اور تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ اللہ تعالیٰ کا کرم و احسان یہ ہے کہ کرونا کے دوران بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ اس سال اس سلسلے کا بیسواں خطبہ اتوار کے روز (16 اکتوبر 2026ء) مولانا زاہد الراشدی مدظلہ العالی ارشاد فرما رہے ہیں، جس کا عنوان ہے: دعوت کی نبوی حکمت عملی اور عملی مشکلات
ضرور شرکت فرمائیے اور وقت کا خاص خیال رکھتے ہوئے مغرب کی نماز ادارے میں ہی جماعت سے ادا کرنے کا اہتمام فرمائیے، تاکہ نماز مغرب کے متصل تقریب کا آغاز کیا جا سکے۔ شرکت کی عام دعوت ہے۔ اس پیغام کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔
شرکاء کا شکریہ
آج ۱۸ اکتوبر ۲۰۲۶ء بہ روز اتوار دارالعلم و التحقیق، ناظم آباد میں بیس ویں مولانا سید زوار حسین شاہ رحمۃ اللہ علیہ یادگاری خطبے کا انعقاد ہوا، اور مولانا زاہد الراشدی مدظلہ نے "دعوت کی نبوی حکمتِ عملی اور عملی مشکلات" کے عنوان پر خطاب فرمایا۔ اس نشست میں مختلف طبقاتِ زندگی سے تعلق رکھنے والے حضرات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مہمان گرامی کے ساتھ تمام حاضرین کا شکریہ۔
مولانا محمد طیب کشمیریؒ کے اہلِ خاندان سے اظہارِ تعزیت
منجانب: حافظ حمزہ انصاری
پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے کراچی کی مسجد سبیل میں اپنے پرانے ساتھی اور دوست مولانا محمد طیب کشمیریؒ فاضل نصرت العلوم کی وفات پر ان کے فرزندوں مولانا منیب الرحمٰن، مولانا مجیب الرحمٰن اور دیگر اہلِ خاندان سے تعزیت کی اور مرحوم کی دینی خدمات پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے لیے دعائے مغفرت کی۔ مولانا مفتی محمد مدنی، حافظ خرم شہزاد، قاری محمد خبیب عامر اور حافظ حمزہ انصاری بھی ان کے ہمراہ تھے۔
فلسطین اور سعودی عرب میں جارحیت پر تشویش و اضطراب
منجانب: حافظ عبد الجبار — سیکرٹری اطلاعات سیٹیزن پروٹیکشن کونسل، گوجرانوالہ
پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی امیر شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی نے ۲۱ اکتوبر کو پریس کلب حیدرآباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت عالمِ اسلام بالخصوص اسلامی جمہوریہ پاکستان جس صورتحال سے دوچار ہے وہ دنیا کے ہر مسلمان اور ہر پاکستانی کے لیے باعثِ تشویش و اضطراب ہے۔
امتِ مسلمہ کو اس ذہنی خلفشار اور سیاسی افراتفری سے نکالنے کے لیے سنجیدہ محنت کی ضرورت ہے۔ بیت المقدس اور فلسطین میں اسرائیل کی مسلسل جارحیت اور دہشت گردی نے پوری دنیا کے امن کو خطرے میں ڈال رکھا ہے۔ اس کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ میں جاری مسلسل کشمکش اس خطے کے ممالک کی سلامتی اور عالمی امن و معیشت کے لیے دن بدن خطرات میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ سب سے بڑھ کر حرمین شریفین مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے لیے خطرات میں اضافے اور ان کے خلاف جارحانہ کارروائیوں نے پوری امتِ مسلمہ کو پریشانی اور اضطراب سے دوچار کر رکھا ہے۔
اس صورتحال میں پاکستان شریعت کونسل امتِ مسلمہ کے تمام طبقات خصوصاً اسلامی جمہوریہ پاکستان کی دینی اور سیاسی قوتوں سے درخواست گزار ہے کہ دینی، علمی اور سیاسی حلقوں کے درمیان امتِ مسلمہ کے وسیع تر تناظر میں باہمی مشاورت کا ازسرِنو اہتمام کیا جائے۔ بیرونی مداخلت سے بچتے ہوئے ملی اور اسلامی بنیادوں پر اجتماعی مشاورت کے ساتھ امتِ مسلمہ کی رہنمائی وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے، جس کا ہر سطح پر اہتمام ضروری ہے۔
پاکستان کے داخلی ماحول میں باہمی سیاسی اور فکری خلفشار انتہائی تکلیف دہ اور اذیتناک صورتحال اختیار کر چکا ہے۔ اس سے قوم کو نجات دلانے کے لیے دستورِ پاکستان کی بالادستی اور عملداری سب سے پہلی ضرورت ہے۔ تمام سیاسی و دینی جماعتوں، ریاستی اداروں اور معاشرتی طبقات کو اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔
ملک کے مختلف حصوں میں ریاست اور دستور کی رِٹ کو چیلنج کرتے ہوئے امنِ عامہ کو درہم برہم کرنے کی ہر قسم کی کارروائیوں کا سدِباب اور روک تھام ضروری ہے۔ اس فکری اور عسکری دہشت گردی کے خلاف پوری قوم کو متحد اور منظم ہونا چاہیے۔
ملک میں نظریۂ پاکستان اور دستورِ پاکستان کے مطابق شریعتِ اسلامیہ کے عملی نفاذ سے مسلسل گریز معاملات کو مزید بگاڑنے کا باعث ہے۔ متعلقہ حکام اور اداروں کو اس پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔
دینی و قومی مقاصد اور مسائل کے لیے دینی اور سیاسی جماعتوں کی مشترکہ جدوجہد ناگزیر ہے۔ اس مقصد کے لیے ماضی کے کئی مواقع کی طرح مشترکہ دینی اور سیاسی فورمز کا قیام وقت کا تقاضا ہے۔
ہم ملک کے تمام سیاسی و دینی حلقوں اور ریاستی اداروں سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ بیرونی مداخلت سے نجات، قومی خودمختاری کی بحالی، دستور کی بالادستی و عملداری اور دستور کے مطابق نظامِ شریعت کے نفاذ کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھائیں اور ملک و قوم کو خلفشار سے نجات دلانے کے لیے سنجیدہ کوششوں کا اہتمام کریں۔
پریس کانفرنس کے موقع پر پاکستان شریعت کونسل سندھ کے جنرل سیکریٹری مولانا ڈاکٹر سیف الرحمٰن آرائیں، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حیدرآباد کے امیر مولانا ڈاکٹر عبدالسلام قریشی، پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات حافظ ارمان احمد چوہان، بزم شیخ الہندؒ گوجرانوالہ کے مدیر مولانا خرم شہزاد و دیگر افراد بھی موجود تھے۔
جی ٹی وی نیوز کراچی کے ہیڈ آفس کا دورہ
۲۲ اکتوبر ۲۰۲۶: علم و دانش کی معتبر آواز، ممتاز عالمِ دین اور ڈائریکٹر شریعہ اکیڈمی علامہ زاہد الراشدی نے کراچی میں جی ٹی وی نیوز ہیڈ آفس کا دورہ کیا۔ انھوں نے پروگرام ’’الف لام میم‘‘ میں شرکت کی اور مینجنگ ڈائریکٹر جی ٹی وی نیوز نثار سید سے خصوصی ملاقات بھی کی۔
دینی و فکری حلقوں کی ممتاز شخصیت علامہ زاہد الراشدی کا کراچی میں جی ٹی وی نیوز ہیڈ آفس کا دورہ۔ علامہ زاہد الراشدی نے جی ٹی وی نیوز کے دینی و فکری پروگرام ’’الف لام میم‘‘ میں شرکت کی۔ پروگرام کے میزبان عامر عثمانی سے الحاد اور اس کی بدلتی شکلوں کے اہم موضوع پر گفتگو کی۔ انہوں نے اس موقع پر کہا:
’’قوم کو باخبر رکھنا اور قومی و ملی مسائل پر بریف کرنا، یہ ہماری بنیادی ذمہ داری ہے اور جی ٹی وی ماشاءاللہ بہت اچھا کردار ادا کر رہا ہے۔ میں دعا گو ہوں اللہ رب العزت ان خدمات کو بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے اور اس میں زیادہ سے زیادہ افادیت اور برکت کا پہلو عطا فرمائے۔‘‘
علامہ زاہد الراشدی نے جی ٹی وی نیوز کے مینجنگ ڈائریکٹر نثار سید سے ملاقات کی، اس موقع پر کنٹرولر نیوز مصطفیٰ حسین بھی موجود تھے۔ ملاقات میں ملکی موضوعات اور ذرائع ابلاغ کے کردار کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
حکومتِ پاکستان کی جانب سے تمغۂ امتیاز حاصل کرنے والی علمی شخصیت کی جی ٹی وی نیوز آمد کو علمی و فکری مکالمے کے حوالے سے خصوصی اہمیت حاصل رہی۔ انھوں نے جی ٹی وی نیوز کی پیشہ ورانہ صحافتی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا: ’’جی ٹی وی نیوز عوام کی آواز اعلیٰ ایوانوں تک پہنچا رہا ہے۔‘‘
حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ سیمینار
جاری کردہ: شعبہ نشر و اشاعت پاکستان شریعت کونسل، لاہور
۲۲ اکتوبر ۲۰۲۶ء: کارکنانِ جمعیت علماء اسلام شاہدرہ لاہور کے زیر اہتمام حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ سیمینار حسن شادی ہال نزد شاہدرہ موڑ لاہور میں منعقد ہوا۔ سیمینار سے امیر پاکستان شریعت کونسل مفکر اسلام مولانا زاہد الراشدی صاحب نے خصوصی خطاب فرمایا۔ آپ نے حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ کی علمی و ملی خدمات اور تحریکِ آزادی میں کردار پر روشنی ڈالی اور اہم نکات کی طرف متوجہ کیا۔ فتویٰ دارالحرب کا ازسرنو مطالعہ اور اس کے اسباب پر غور و فکر کی دعوت دیتے ہوئے حالات حاضرہ سے اس کا تقابلی جائزہ لینے کے لیے متوجہ کیا۔
پروفیسر امجد علی شاکر صاحب اور مولانا مفتی عبد الحفیظ صاحب نے بھی اس اجتماع سے خطاب کیا۔ پروگرام میں مولانا عبد الودود شاہد، مولانا عبد المنان انبالوی، پروفیسر حافظ مدثر سلیم گجر، مولانا قاری محمد عثمان رمضان، مولانا حافظ زبیر جمیل، مفتی سیف اللہ ربانی، مفتی زاہد حسین، مولانا عبد العزیز ندیم، جناب افضل خان، رانا منظور منج، حافظ شفیق، بلال احمد میر کے علاوہ کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
حق و باطل یا خطا و صواب
منجانب: مولانا محمد خبیب عامر — سیکرٹری جنرل پاکستان شریعت کونسل ضلع گوجرانوالہ
۲۴ اکتوبر ۲۰۲۶: استاذ محترم مولانا زاہد الراشدی سے ایک مجلس میں ’’احتسابِ ناصبیت‘‘ کے حوالے سے سوال ہوا تو انہوں نے کہا کہ ہم لوگ تو آج کل اس عنوان سے ’’باہمی احتساب‘‘ میں مصروف ہیں اور وہ بھی فری اسٹائل دنگل کی طرح کسی قاعدہ ضابطہ کے بغیر مسلسل جاری ہے۔ ہمارے چند بزرگوں نے اسے بریک لگانے کی کوشش فرمائی ہے مگر بریک لگتی نظر نہیں آتی، اللہ پاک ہمارے حال پر رحم فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔
ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ خطا و صواب کے معاملات کو حق و باطل کے دائرے سے الگ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اختلافات و تنازعات خطا و صواب کے دائرہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کی مثال قرآن کریم میں بھی موجود ہے کہ ایک مقدمہ کے فیصلے میں حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی رائے مختلف ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کی رائے کو صواب قرار دیتے ہوئے دونوں کے بارے میں فرمایا: ’’وکلاً اٰتیناہ حکماً و علما‘‘۔ ہم نے دونوں کو حکم اور علم عطا کیا تھا اور دونوں کو ’’محسنین‘‘ میں شمار فرمایا ہے۔ اس کی تعبیر بخاری شریف کی روایت کے مطابق حضرت حسن بصری رحمہ اللہ تعالیٰ نے یوں فرمائی ہے: ’’حمد سلیمان و لم یلم داؤد‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے فیصلہ پر ان کی تعریف کی ہے مگر حضرت داؤد علیہ السلام کی رائے پر انہیں کوئی ملامت نہیں فرمائی۔ چنانچہ ہمیں بھی صواب و خطا کے معاملات کو اسی پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔





















