▲ ☰

بنیادی مذہبی تعلیم

انسانی دل و دماغ کی تعمیر اور اس کی ذہنی قوتوں کے نشو و ارتقاء کا واحد ذریعہ تعلیم و تربیت ہے۔ پند و نصیحت، وعظ و تلقین، اور تذکیر و موعظت بلاشبہ نافع اور ضروری ہیں، لیکن ان سے ذہن نہیں بنایا جا سکتا۔ یہ چیزیں بنے بنائے ذہن میں صرف انبساط، شگفتگی اور وسعت پیدا کر سکتی ہیں۔ اس لیے کسی قوم کے ذہن بنانے اور دل و دماغ کسی خاص سانچے میں ڈھالنے کے لیے صرف تعلیم ہی ایک مؤثر اور پائیدار ذریعہ ثابت ہوئی ہے جس نے تاریخی طور پر ہمیشہ ہی ذہن سازی کا اثر دکھلایا ہے۔

مسئلہ تعلیم کی اہمیت اور اولیت کا اندازہ صرف اسی ایک بات سے ہو سکتا ہے کہ حق تعالیٰ شانہ نے خلافت کا مسئلہ اٹھا کر تخلیقِ آدم کے بعد سب سے پہلے جس مسئلہ کی طرف توجہ منعطف فرمائی وہ مسئلہ تعلیم تھا۔ اور وہ بھی اس شان سے کہ آدم کو سکھانے پڑھانے کا ذمہ بلا واسطہ خود ہی لیا۔ خود ہی انہیں تعلیم دی اور پھر خود ہی انہیں امتحانِ مقابلہ میں بٹھلا کر کامیاب ہونے کا موقع عطا فرمایا، جس سے خلافت اور تنظیمِ عالم کا مسئلہ خودبخود حل ہو گیا۔

پھر انسانوں سے دنیا آباد ہو جانے پر تمام انسانی حلقوں میں، ہر ملت میں اور ہر قوم میں انبیاء علیہم السلام مبعوث فرمائے اور کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار مقدسین کا یہ قافلہ دنیا کے اِس سرے سے اُس سرے تک گھمایا گیا جو اپنے نقطۂ آغاز سے لے کر نقطۂ انتہا تک کے ہزارہا سالہ سفر میں وقتاً‌ فوقتاً‌ انسانی جتھوں میں پہنچتا رہا۔ کیا اُس کی غرض تعلیم و تربیت کے سوا بھی کچھ تھی؟ نہیں، بلکہ اس پاک گروہ کے آخری فردِ اکمل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کی اس بنیادی غرض و غایت (تعلیم و تربیت) پر اپنی مہرِ تصدیق ان الفاظ میں ثبت فرما دی کہ ’’انما بعثت معلما‘‘ میں بھیجا ہی گیا ہوں معلم بنا کر۔ اور ’’بعثت لاتمم مکارم الاخلاق‘‘ میرے بھیجے جانے کی غرض و غایت ہی تکمیلِ اخلاق ہے۔

پس اگر بعثتِ انبیاءؑ کی غرض و غایت ہی تعلیم و تربیت تھی، اور بلاشبہ یہی تھی، تو اندازہ کیجیے کہ رب العالمین نے مکتبِ عالم میں سوا لاکھ سچے معلّموں اور پاکباز استادوں کو بھیج کر مسئلہ تعلیم کو کس درجہ اہم بنایا، اور کس حد تک اس مسئلہ پر اپنی مخصوص عنایت و عطوفت مبذول فرمائی۔ پھر اس اہتمام و توجہ کا عالم یہ ہے کہ ان سارے معصوم استادوں کی تعلیم کی کفالت بھی حق تعالیٰ نے بذاتِ خود ہی فرمائی۔ اور بلاتوسطِ کتاب و استاد بنفس کریم خود انہیں سکھا پڑھا کر دنیا کی تعلیم گاہ میں بھیجا تاکہ وہ انسانوں کی جبلی جہالت کو مٹا کر انہیں تعلیم یافتہ بنائیں۔ اسی پر بس نہیں کی گئی، بلکہ ان کی سیرتوں کو بھی اپنے ہی اخلاق کا نمونہ بنا کر بھیجا تاکہ وہ تعلیمِ بنی آدم کے ساتھ ان ہی اخلاق پر ان سارے انسانوں کی سیرتوں کو بھی ڈھالنے کی جدوجہد فرمائیں، اور اس طرح تعلیم و تربیت کا نظام اِس عالم میں تا ابد چلتا رہے۔

یہ نفوسِ قدسیہ ہر خطۂ زمین اور ہر ملتِ انسانی میں آفتاب و ماہتاب بن کر نمایاں ہوئے اور کسی خطۂ زمین کو اپنے نور کی بارش سے محروم نہیں فرمایا۔ بتصریح حافظ ابن کثیر محدث: عراق میں حضرت ابراہیم، حجاز میں حضرت ہود و صالح، شام میں حضرت عیسیٰ و یحییٰ، مصر میں حضرت موسیٰ و یوسف، مغربی دمشق میں حضرت الیاس، عبقہ و معان میں حضرت شعیب، روم میں حضرت ایوب، انطاکیہ میں حضرت صادق و صدوق و شلوم، آذربائیجان میں حضرت حنظلہ ابن صفوان، موصل و نینویٰ میں حضرت یونس، اردن کے علاقوں میں حضرت شمویل، سبا و یمن کے لیے حضرت سلیمان، ہند میں حضرت آدم و شیث، سدوم وغیرہ کے علاقوں میں حضرت لوط، اور آخر میں پورے عالم کے لیے حضرت محمد صلوٰۃ اللہ وسلامہ علیہم اجمعین آئے، علمی کمالات اور عمل و اخلاق کی پاکیزہ سیرتوں کے ساتھ آئے، اور ہر نوع کے اخلاقی، طبیعی، ریاضی، عقلی اور الٰہیاتی علوم سے دنیا کو نوازتے ہوئے آئے۔ جنہوں نے بنی نوع انسان کی فطری صلاحیتوں کو ابھار کر انہیں سعادت و خلافت کے بلند مقامات تک پہنچایا، جس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ اندھیری دنیا کا اجالا صرف مسئلہ تعلیم ہی سے وابستہ ہے۔ اگر علم کا آفتاب ان انبیاء مقدسینؑ کے آفاق سے طلوع نہ ہوتا اور یہ مقدسین روم و شام، مصر و عراق، ہند و سندھ، فارس و ایران اور دنیا کی سمت سمت میں نہ چمکتے، تو دنیا کی فطرتوں میں بھی چاندنا نہ ہوتا اور یہ انسانوں کی بھیڑ ڈھوروں اور ڈنگروں کا گلّہ ہو کر رہ جاتی۔

غور کریں، خود انبیاء مقدسینؑ کی عظمت اور تمام عالمِ بشریت بلکہ تمام جہاندوں پر فوقیت و فضیلت کا راز بھی اسی علم ہی میں پوشیدہ ہے، کیونکہ نبی کو غیر نبی پر فضیلت وحی الٰہی سے ہے، اور وحی کا حاصل بجز القاءِ علم کے اور کیا ہے؟ اس علم ہی سے ان کی فطری صلاحیتیں عقیدہ و عمل اور خلق و سیرت کے روپ میں چمکتی ہیں اور دنیا اس چمک سے راہِ مستقیم پاتی ہے جس کا حاصل وہی علم اور تعلیم ہے۔

بہرحال مقامِ نبوت سے لے کر بارگاہِ اُلوہیت تک علم و تعلیم کا ایک غیر منقطع نظام ہے جو مختلف صورتوں سے اپنے کو نمایاں کرتا رہا ہے۔ جس سے واضح ہے کہ بارگاہِ الٰہی کی جو توجہ اور ازلی عنایت، نیز انبیاء علیہم السلام کی جو عطوفت و سعی مسئلہ تعلیم و تربیت پر منعطف رہی ہے وہ کسی اور مسئلہ کے حصہ میں نہیں آ سکی ہے۔ اس لیے آج کے دور میں جو جماعتیں اور جو جمعیتیں مسئلہ تعلیم کو مرکزِ توجہ بنائے ہوئے ہیں اور ان میں خصوصیت سے جمعیۃ العلماء ہماری ہر جہتی تبریک و تہنیت کی مستحق ہے جس نے اِس دور میں — جبکہ مسلمانانِ ہندوستان دین و علم کے لحاظ سے بظاہر اسباب پسماندہ اور بے بس محسوس ہو رہے ہیں — علم اور دین کو سہارا لگا کر اپنے حقیقی فرض کو ادا کیا ہے، یا بالفاظِ دیگر منشاءِ خداوندی اور منشاءِ نبوت کے تقاضوں کو پورا کرنے پر اپنی ہمتیں اور مساعی مرکوز کر دی ہیں، حتیٰ کہ عروس البلاد بمبئی میں تعلیمی کنونشن کے نام سے اوروں کی ہمتوں اور مساعی کو بھی اس مسئلہ پر جمع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کوئی شبہ نہیں کہ یہ حق کی مخفی آواز پر علانیہ لبیک ہے جس کے لیے وہ تمام ملک کی طرف سے شکریہ و تحسین کی مستحق ہے۔

اگر ۱۸۵۷ء کے انقلاب پر دینی نبض شناسوں نے قوم کے دل و دماغ کی تعمیر کے لیے تعلیمی مدارس کا سلسلہ جاری کر کے قوم کو سنبھالا تھا کہ اس کے بغیر اس کے سنبھلنے اور پنپنے کی کوئی دوسری صورت نہ تھی، تو آج کے دور میں انہی بانیانِ مدارس کے اخلافِ رشید کا بھی بلاشبہ یہی فریضہ ہونا چاہیے تھا کہ وہ ۱۹۴۷ء کے دورِ انقلاب میں بھی قوم کی بے بسی اور ناتوانی کا مداوا اسی علم و تعلیم کی قوت سے کریں جو ہر قوت کا سرچشمہ اور ہر طاقت کا میگزین ہے۔

یہ ضرور ہے کہ ۱۸۵۷ء میں تعلیم نے نفسِ اسلام کو سنبھالا تھا جسے چہار طرف سے خطرات نے گھیر لیا تھا، اور آج ۱۹۴۷ء میں اسلام کے نونہالوں کو سنبھالنے اور اسلام پر باقی رکھنے کے لیے یہ جدوجہد کی جا رہی ہے جن کے علم و دین پر تعلیمی لائنوں سے یلغار کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم دونوں مساعی جبکہ وقت کے تقاضوں کے عین مطابق ہیں تو عینی شکریہ کی مستحق ہیں جن میں کفایت کافی نہیں ہو سکتی۔

بمبئی کے اس ۸ جنوری والے کنونشن کا اساسی مقصد اور واحد نصب العین ’’بنیادی مذہبی تعلیم‘‘ کے نصاب اور اس کے طریق کار پر غور ہے۔ مگر ایسے انداز سے کہ ہندوستان کے تمام مسلم فرقوں اور تمام مکاتیبِ خیال کے افراد کے لیے وہ یکساں قابلِ قبول اور قابل عمل ہو۔ اور ہو بھی اس جامعیت کے ساتھ کہ جہاں اس میں محبتِ اِلٰہ و رسول، خدا پرستی، اطاعتِ نبویؐ، پیروئ اسوۂ حسنہ اور اُخروی فلاح و بہبود کا سامان ہو، وہیں تمدنی تقاضوں، وقت کی ضرورتوں اور ملک کی مصالح کے ساتھ ہم آہنگی کے مواد بھی فراہم ہوں۔ یعنی اس میں دین و دنیا دونوں کی کامیابی کی راہ کھلی ہوں۔ نہ وہ انقطاع پسند، متقشف قسم کے دیندار بنائے، اور نہ بے دین اور بے قید قسم کے دنیادار تیار کرے، بلکہ دینی فکر و عمل کے ساتھ دنیوی زندگی کے تمام گوشوں سے گزرنے اور ان میں کام کرنے کی اہلیت پیدا کر دے؛ یا بالفاظِ دیگر دیندار اور دنیادار کی تقسیم مٹا کر دین و ملک دونوں کا سچا حامل اور سچا خادم بنا سکے۔

ظاہر ہے کہ ایسی ہمہ گیر اور مقبول الکل تعلیم اُصول و کلّیات ہی کے رنگ میں ہو سکتی ہے، ورنہ جزئیات اور فروع میں پہنچ کر بہرحال اختلافات کی گنجائش پیدا ہو جاتی ہے۔ اس لیے:

(۱)        نصاب کی تیاری کے یہی معنی ہو سکتے ہیں کہ اعتقادات، عبادات، معاملات، معاشرات، قومیات، اور سیاسیات میں فروعی اور اختلافی جزئیات سے بالاتر صرف وہی حصے زیر تعلیم آئیں جو اصولی اور کلّیاتی ہوں۔

(۲)        اور پھر اسی کے لازم معنی کے طور پر اس نصاب کے لیے لٹریچر اور کتابیں بھی وہی ہوں جنہیں سارے فرقوں کا کلّی اعتماد حاصل ہو۔ ان کے مصنفوں پر سب کے سب مطمئن ہوں اور بلا تفریقِ مشرب و مسلک سارے ہی انہیں بلا جھجھک قبول کر لیں۔

ظاہر ہے کہ ایسا لٹریچر کتاب و سنت کے سوا دوسرا نہیں ہو سکتا، جس کے سامنے سب کی گردنیں بھی جھکی ہوئی ہوں اور جو کامل یکسانی کے ساتھ دین و دنیا دونوں کی بہبودی اور فلاح کی راہیں بھی کھولتا ہو۔ اس لیے بنیادی مذہبی تعلیم کے نصاب کا مطلب یہ ہو گا کہ دین کے تمام شعبوں، اعتقادات، عبادات، اخلاق، معاشرات اور تمام قومی، سیاسی اور ملکی معاملات کا تعلیمی ڈھانچہ کتاب و سنت کے اُس منصوص حصہ سے تیار کیا جائے جو ان ضروریات کے بارے میں اصولاً‌ مشعلِ راہ ہے۔

گویا نصاب بنانے کی ضرورت نہیں بلکہ بنے بنائے قدرتی نصاب میں سے ضروریات کے مطابق اجزاء کا انتخاب کر کے انہیں فصول و ابواب اور عنوانات پر ترتیب دے دیا جائے اور ان کے نیچے سادہ مگر جامع ترجمہ کر دیا جائے جس سے مدلول نص کی مطلب خیز وضاحت ہو۔ معلّم کا کام اتنا ہی ہو گا کہ وہ اپنے سادہ بیان کے ساتھ ان اصول و کلیات کو مثالوں سے واضح کر کے بچوں کے ذہن میں اتار دے اور ان نصوص کے مدلولات کو الفاظ پر منطبق کرتے ہوئے بچہ کے دل و دماغ میں پیوست کر دے۔

البتہ یہ احتمال پھر بھی رہتا ہے کہ ان نصوص ہی کی تشریح میں دو خیال ہو جائیں اور کوئی فرقہ اپنے ذہن میں ان کی کوئی دوسری شرح لیے ہوئے ہو، جس سے نصاب میں پھر اسی اختلافی بنیاد کے قائم ہو جانے کا خطرہ سامنے آجائے۔ تو اس کا حل اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ ہر فرقہ و گروہ ان آیات و روایات کی وہی شرح کرے جو اس کے مسلک اور مشرب کے مطابق ہو، مادۂ نصاب تو کم از کم ایک اور یکساں رہے گا۔

اور ظاہر ہے کہ ایک ایسی قوم میں — جس میں اس وقت گروہ بندیوں کی کمی نہیں — نصابِ تعلیم میں اتنی وحدت اور یکسانیت کا منظرِ عام پر آ جانا کہ مادۂ نصاب سب کا ایک کہلائے اور سب اس پر جمع شدہ اور متفق دیکھے جائیں، کوئی معمولی کامیابی نہیں ہے۔ وحدتِ نصاب کا عنوان خود ایک وزن رکھتا ہے، جس کا اثر مسلمانوں کے مستقبل پر بھی پڑے گا اور ان کی سیاسی پوزیشن بھی اس سے اچھا اثر لے گی، بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ اتنا ہی قدرِ مشترک باہمی ربط و اختلاط کا ذریعہ بن کر آئندہ اس تشریحی اختلاف کو بھی کم اور معتدل بنا دے۔

اس مرحلہ پر غور طلب بات یہ ہے کہ منصوصاتِ قرآن و حدیث کے اس مجموعی نصاب سے دین کا ایک ڈھانچہ تو یقیناً‌ بچہ کے ذہن میں بیٹھ جائے گا، لیکن اس ڈھانچے میں رنگ بھرا جانا اور اس کے خدوخال کو مشخص بنا کر نمایاں کیا جانا بغیر تاریخ کے ممکن نہیں، یعنی جب تک دین کے ساتھ سیرت کا پہلو شامل نہ ہو اُس وقت تک دین کا حقیقی تعارف نہیں ہو سکتا۔ اس لیے بنیادی مذہبی نصاب کا ایک اہم جزو یہ بھی ہونا چاہیے کہ شریعت کے ساتھ سیرت بھی متعلموں کے ذہن میں اتاری جائے، جس میں اولین مرتبہ سیرتِ نبوی اور تعاملِ رسالت کا ہے جس سے کلیاتِ دین کی جزئی تشخیص ہوتی ہے، اور ثانوی درجہ میں صحابہؓ اور تابعینؒ کی سیرتیں ہیں جن سے دین کے ڈھانچے کا رنگ و روغن بھی سامنے آ سکتا ہے۔

اس کی مرّوجہ صورت تو یہ ہے کہ سیرت کی کوئی بڑی یا چھوٹی کتاب داخلِ نصاب کر دی جائے، لیکن میرے خیال میں شاید اس سے یہ زیادہ بہتر ہو گا کہ اس آیات و روایات کے نصاب میں ہر باب اور ہر فصل سے متعلق سیرتِ نبوی کا حصہ ان ہی نصوص کے تحت لایا جائے، یعنی آپؐ کے کلماتِ طیبہ، افعالِ طاہرہ اور آپ کا پاکیزہ کردار ہر ہر تعلیمی جزو کے ساتھ پیش کیا جائے۔ اور پھر اسی باب سے متعلق اس سیرتِ مقدسہ کے نیچے صحابہ و تابعین، آئمہ مجتہدین اور صلحائے امت کے چیدہ چیدہ واقعات بھی بطور نظائر و شواہد کے جزوِ نصاب ہوں۔

حاصل یہ ہے کہ سیرتِ نبویؐ اور اولیائے امت کی یہ سیرتیں استقلالی شان سے نہیں بلکہ کتاب و سنت کے آثار و لوازم کے طور پر بطور تابع کے سامنے لائی جائیں جس میں اصل موضوع وہ آیات اور روایات ہی رہیں۔ اس سے جہاں دین کے عملی نقشہ کی پوری ہیئتِ کذائی سامنے آجائے گی، وہیں دین کی تاریخ بھی اپنے اپنے موقعہ پر مستفید کے ذہن میں بیٹھ جائے گی۔ اور اسی کے ساتھ بچہ کے ذہن پر یہ بھی اثر پڑے گا کہ اہل اللہ نے اگر اس تعلیم کو اپنا کر جزوِ نفس بنایا تو آج اُن کی زندگی اُس کی بدولت ایک مثالی سیرت بن گئی جو نمونہ کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کی جا رہی ہے۔ تعلیمِ کتاب و سنت کا ایک انقلابی تعلیم ہونا ذہن نشین ہو کر اس کا یہ انقلابی اثر ذہنوں میں بھی پیوست ہو جائے گا۔

یہ تعلیم بلاشبہ اردو میں ہو گی اور تفہیم کا سارا بار بھی اسی مادری زبان پر رہے گا، لیکن جب اصل نصاب کی تمام تر بنیاد کتاب و سنت پر رکھی گئی ہو، جو عربیت کا مغز ہیں، تو ضروری ہو گا کہ اسی ذیل میں بہت ہی لطیف اور ہلکے پیرایہ میں بچوں کو عربیت آشنا بھی بنا دیا جائے۔ اور ایسا طریقۂ تعلیم اختیار کیا جائے جس سے کم سے کم وقت میں بلا کسی خاص محنت و جانفشانی کے ضمناً‌ عربیت سے لگاؤ اور گونہ مناسبت پیدا ہو جائے جس سے بچہ کتاب و سنت کے ترجمہ کو کسی قدر باضابطہ بھی سمجھنے لگے۔ اس کے لیے اس قسم کا کوئی ایک آدھ رسالہ بھی جزوِ نصاب بنا دیا جائے جو کافی ہو جائے گا۔

ظاہر ہے کہ عربیت آشنائی یا عربیت کے مواد کی فراہمی کوئی اختلافی مسئلہ نہیں ہے جس میں فرقہ واریت کا احتمال ہو۔ بالخصوص جبکہ اس میں عربیت کے تمام قواعد کی امثلہ اور نظائر و شواہد بھی کتاب و سنت ہی سے پیش کیے جائیں، تو ایک طرف عربیت کی تمرین ہو جائے گی اور دوسری طرف علومِ کتاب و سنت بھی خودبخود ذہنوں میں ٖبیٹھتے رہیں گے، جو اصل مقصود ہیں۔

ہاں، اس مادۂ نصاب کی ترتیب و انتخاب میں — جو کتاب و سنت سے فراہم کیا جائے — یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت کی بنیادی ’’بیسک تعلیم‘‘ کے نصاب کو بھی سامنے رکھا جائے:

  • اولاً‌ اِس لیے کہ اُس میں جو امور ملکی بہبود و فلاح کے سامنے آئیں، جو عقلاً‌ اور تجربۃً‌ قابلِ قبول ہوں، تو انہیں اس نصاب میں قبول کرتے ہوئے ان کے مآخذ بھی کتاب و سنت سے پیش کر دیے جائیں تاکہ وہ ’’کلمۃ الحکمۃ ضالۃ المؤمن‘‘ کے مصداق بن کر جزوِ نصاب ہوں،
  • اور ثانیاً‌ اس لیے کہ جن امور سے کسی بھی مذہبی عقیدہ و عمل پر زد پڑتی ہو اس کے زہر کا تریاق کتاب و سنت سے اس نصاب میں شامل ہو جائے۔

حاصل یہ کہ نفیاً‌ اور اثباتاً‌ ’’بیسک تعلیم‘‘ کے نصاب سے فائدہ اٹھانے کی پوری پوری کوشش کی جائے، اُس میں قومی اور ملکی معاملات کے سلسلہ کے بہت سے عنوانات اور شقوق و جوانب ایسے مل جائیں گے جو انفرادی طور پر سوچنے سے نہیں مل سکتے تھے، اور جبکہ ان تمام اصولی شقوق و جوانب کے بارے میں شرعی مآخذ مہیا کر کے شاملِ نصاب کر دیے جائیں گے تو نصاب کا معاملاتی حصہ کافی جامع اور بصیرت افروز ہو جائے گا اور ملکی معاملات کے سمجھنے میں آئندہ نسلوں کو بہت کچھ کام دے گا۔

ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ اس نصاب کو بالکل آخری چیز نہ سمجھا جائے اور نصاب خواں کو یہ باور نہ ہونے دیا جائے کہ اس نے دینی تعلیم مکمل کر لی اور اب اسے کسی بڑے دینی ادارہ میں پہنچ کر کسی استفادہ کی ضرورت نہیں رہی ہے۔ ورنہ اِن ابتدائی مکاتب کی اِس ابتدائی تعلیم کو انتہائی باور کر لینے کا نتیجہ مدارسِ دینیہ سے استغناء اور تکمیلِ علوم سے بے نیازی کی صورت میں نکلے گا جو مدارس کی تخریب اور علماء کی پیداوار بند ہو جانے پر منتج ہو گا، اور یہ یقیناً‌ ایک خطرناک نتیجہ ہے۔ اس لیے اس بنیادی مذہبی تعلیم کے نصاب کا ایک جزو تکمیلِ علوم، تحصیلِ فضائل و کمالات کی ترغیب، اور تعلیم کے ابتدائی حصہ کو تشنۂ تکمیل باور کرانا ہو، تاکہ نئے ابتدائی مکاتب پرانے بنے بنائے مدارس کی بے رونقی کا باعث نہ بن جائیں۔

اس جدید تعلیمی سسٹم کے سلسلہ میں یہ بات بھی کافی توجہ طلب ہے کہ ان جدید مکاتب سے جبری تعلیم کے بعض نقائص اور مضررات کا تدارک ضرور ہو جائے گا، لیکن حفظِ قرآن کے شخصی، خانگی اور جماعتی مکاتب کو جو دھکا لگے گا اُس کا کوئی علاج اِس جدید نصاب سے نہیں ہو سکتا۔ ۶ سے ۱۲ ہی سال تک کی عمر حفظِ قرآن کی ہے، اس عمر میں جبری تعلیم میں پورا وقت دے کر اور پھر خارج میں ایک دو گھنٹے بنیادی مذہبی تعلیم میں لگا کر ناممکن ہے کہ بچہ حفظِ قرآن کی محنت بھی برداشت کر سکے، جس کا حاصل حفظِ قرآن کا انقطاع اور حفاظ کی پیداوار کا انسداد ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کا علاج نہ بنیادی مذہبی تعلیم کا اجراء ہے، اور عمر اور وقت کا بڑھا دیا جانا بھی دائرۂ امکان میں نہیں ہے، اس لیے یہ مسئلہ مستقلاً‌ غور و فکر کا مستحق ہے۔ بجز اس کے کہ خصوصی طور پر حفظِ قرآن کرنے والے بچوں کو اگر کلیۃً‌ بیسک تعلیم سے مستثنیٰ نہیں کرایا جا سکتا تو کم از کم ان کے ان ۶ سالہ وقت ہی کو مستثنیٰ کرنے کی جدوجہد کی جائے تاکہ حفظِ قرآن کے بعد — جس کا سرٹیفیکیٹ بچہ کے پاس ہونا چاہیے — بارہ سالہ عمر میں اسے بیسک تعلیم میں داخل کیا جائے۔ اب اگر اس حفظِ قرآن کی مدت میں اس کا ایک گھنٹہ یومیہ لے کر اس کی بنیادی مذہبی تعلیم ہی جاری رکھی جائے تو حفظِ قرآن کے بچوں کی حد تک یہ دونوں رہے۔ بیسک تعلیم سے پہلے پہلے نمٹ سکتے ہیں۔ اندریں صورت اگر یہ مخصوص بچے بارہ سالہ عمر میں بیسک تعلیم میں لیے جائیں تو اس میں نہ تو کوئی قانونی پیچیدگی پیدا ہوتی ہے اور نہ قانون کی خلاف ورزی ہی لازم آتی ہے، جبکہ حکومت سے ایسی رعایتیں ان خاص بچوں کے بارے میں حاصل کر لی جائیں۔

اب جہاں تک بنیادی مذہبی تعلیم کا تعلق ہے، جس کی تفصیلات ابھی عرض کی گئی ہیں، اس سے تعلیم کا مسئلہ تو حل ہو سکتا ہے لیکن تربیت اور ذہن سازی کا منصوبہ حل طلب باقی رہ جاتا ہے۔ کیونکہ ذہن کاغذ اور اس کے سیاہ نقوش سے نہیں بنتا بلکہ استاد کے ذہن سے بنتا ہے۔ تعلیم کی راہ سے درحقیقت استاد ہی اپنا ذہنی نقشہ شاگرد کے ذہن میں فٹ کرتا ہے۔ اس لیے نصاب سے زیادہ استاد کی شخصیت کو دیکھا گیا ہے۔ بقول ابن سیرین:

ان ھذا العلم دین فانظروا عمن تاخذون دینکم۔
’’یہ علم ہی تمہارا دین ہے، اس لیے پہلے اُسے دیکھ بھال لو جس سے یہ دین حاصل کرو گے۔‘‘

اور سب جانتے ہیں کہ فرقوں اور گروہوں کی لائن میں معلم کی ذہنیت اپنے گروہ اور فرقہ کی امانت اور نمائندہ ہوتی ہے جسے وہ خود سے کبھی تبدیل نہیں کر سکتا۔ ظاہر ہے کہ اِس صورت میں بھی فرقہ وارانہ مختلف ذہنیتیں انتخابِ معلم میں نزاع و اختلاف کا سبب بن سکتی ہیں، اور وحدتِ نصاب مان لیے جانے کے باوجود بھی یہ بنیادی مذہبی تعلیم کا مسئلہ بدستور ایک اختلافی مسئلہ باقی رہ جاتا ہے، اور وہی نزاعی صورت جوں کی توں قائم رہ سکتی ہے جس کے مٹانے کے لیے یہ ساری جدوجہد کی جا رہی ہے۔

سو اس کے حل کی صورت یہ ہے کہ جو جو فرقے اس مشترک نصاب کو اپنائیں وہی اس کی معلّمی کے لیے اپنے اپنے حلقوں کے لیے اپنے گروہ میں سے ایسے افراد کا انتخاب کریں جو قابل و مستعد ہونے کے ساتھ معقول پسند، تحقیق دوست، اور اُن کے خیال میں کتاب و سنت کا فہم رکھتے ہوں، اور اسی کے ساتھ ان کا کردار بھی قابلِ اعتماد ہو۔ 

پھر اس انتخابِ معلمین کو سہل اور نافذ العمل بنانے کی موزوں تدبیر مدارسِ دینیہ ہیں، جن میں فارغ التحصیل طلبہ کا ایک جمِ غفیر ہر وقت رہتا ہے جو قرآن و حدیث اور دینیات کی تعلیم سے فارغ ہو کر تکمیلِ فنون کے لیے مدارس میں قیام پذیر رہتے ہیں۔ یوں بھی فضلائے مدارس کی فہرستیں اور ملازمتوں کی امیدوارانہ درخواستیں مدارس میں ہر وقت جمع رہتی ہیں جن میں سے ہونہار اور قابل افراد کا انتخاب بآسانی کیا جا سکتا ہے، جو مدارس کے لیے غیر تعلیمی اداروں کی نسبت زیادہ سہل ہے، اور ایسے مدارس یقیناً‌ ہر گروہ اور ہر فرقہ کے یہاں موجود ہیں۔ 

اس لیے انتخابِ معلمین کا مسئلہ ہر فرقہ و گروہ اور اس کے مدارس کے ہاتھ میں رہ کر بلا اختلاف و نزاع چل سکتا ہے، لیکن تدوینِ نصاب، قواعدِ تعلیم و ضوابط، انتخابِ معلمین وغیرہ کی مہمات، اور پھر اصولی اور ہنگامی حالات کو پیش نظر رکھ کر آیات و روایات اور اجزائے سیرت و سوانح کا انتخاب بلاشبہ چند مفکر علماء کے اجتماع ہی سے حل ہو سکتا ہے۔ اس لیے ایسے افراد کی ایک کمیٹی بنا دیا جانا ضروری ہو گا جو عصری حالات اور شرعی روایات پر پورا پورا عبور رکھتے ہوں، اور ان میں واقعات سامنے رکھ کر ان شرعی ماخذوں کے تلاش کرنے کا جوہر اور سلیقہ بھی موجود ہو۔ نیز ان ماخذوں کو ایک طبعی ترتیب سے ابواب و فصول پر تقسیم کر کے ایسا جامع اور مختصر مجموعہ تیار کر دیں جو کم از کم وقت میں زیرِ تعلیم لایا جا سکے۔

امید ہے کہ مذکورہ بالا عرضداشتوں کی روشنی میں یہ مسئلہ بلا اختلاف یا کم سے کم غیر معتد بہ اختلاف کے ساتھ طے ہو جائے گا اور اس تعلیمی وحدت کے منظرِ عام پر آنے سے یکجہتی میں ہر جہتی اضافہ ہو گا۔ 

خلاصہ بحث یہ ہے کہ:

(۱)        بنیادی مذہبی تعلیم کے لیے مادۂ نصاب محض کتاب و سنت ہو۔

(۲)        دین کے تمام شعبوں کے لیے یہ مادۂ نصاب اصولی رنگ میں تیار کیا جائے۔

(۳)        اس کی تشریح و توضیح میں ہر فرقہ آزاد رہے گا، لیکن نصاب سب کا ایک ہو گا۔

(۴)        مسائل کے ہر باب میں اس کی متعلقہ سیرتِ نبویؐ اور سوانحِ صلحاء جزوِ نصاب ہو۔

(۵)        تعلیم کے ساتھ فی الجملہ عربیت کا ذوق پیدا کرانے کی گنجائش بھی نصاب کے ساتھ رکھی جائے۔

(۶)        ترتیبِ نصاب کے سلسلہ میں ’بیسک تعلیم‘ کا نصاب بھی پیشِ نظر رکھا جائے۔

(۷)        اس ابتدائی تعلیم کو انتہائی تعلیم سے غفلت و بے نیازی کا ذریعہ نہ بننے دیا جائے۔

(۸)        حفظِ قرآن کی راہیں مسدود ہونے سے بچائی جائیں۔

(۹)        انتخابِ معلمین کا تعلق مدارسِ دینیہ سے قائم کیا جائے۔

(۱۰)        تدوین و ترتیبِ نصاب کے لیے چند مفکر علماء کی کمیٹی بنائی جائے۔ ’’تلک عشرۃٌ کاملۃ‘‘۔

اگر بمبئی کے حوصلہ مند اور اصحابِ وسائل مسلمان بنیادی مذہبی تعلیم کے سلسلہ میں دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں تو وہ بلاشبہ اس کے اہل ہیں اور ان کا روایتی جوشِ عمل کو لیے ہوئے حزم و احتیاط کے ساتھ آگے بڑھ جائیں گے، اور ان کا یہ اقدام مسلمانانِ ہند کے لیے ایک مثالی نمونہ ہو گا جس کے لیے وہ یقیناً‌ امام کہلائے جانے کے مستحق ہوں گے۔ وباللہ التوفیق۔

(ماہنامہ دارالعلوم دیوبند مارچ ۱۹۵۵ء)

مدارس و جامعات / تعلیم و تعلم

(الشریعہ — نومبر ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — نومبر ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۱۱

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۷)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل کا نبوی منہج (۴)
مولانا ڈاکٹر محمد ابوبکر فاروقی

حدیث میں بیان کی گئی علاماتِ قیامت کی تاریخی واقعات سے ہم آہنگی (۷)
ڈاکٹر محمد سعد سلیم

محاضراتِ فقہ (۵)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۶)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کیا مذہب پر سوال اٹھانا الحاد ہے؟
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی
عامر احمد عثمانی

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۱۱)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۹)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

سائنس کا قبلہ
فرحت علی بیگ

فکری انحراف اور علماء کرام کی ذمہ داری
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی
مفتی شاد محمد شاد

اوّلیاتِ برصغیر
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

تاریخ کا ایک ورق
اسرار الرحمٰن
ڈاکٹر سید راشد علی

بنیادی مذہبی تعلیم
مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ

اسلام کا سیاسی نظام: ایک قانونی تجزیہ (۲)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اسلام اور شخصی آزادی (۳)
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
ذیشان ہاشم

عدالتی خلع کے مسائل
ڈاکٹر محمد امین

Pakistan and the Muslim World: Where We Stand, Where We Go
Maulana Fazal-ur-Rehman

Human Rights: Five Key Differences Between Islamic & Western Perspectives
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

امتِ مسلمہ کا انتشار اور بڑی طاقتوں کا کردار
محمد محسن اقبال

عرب حکومتوں کا مستقبل: بحران، خطرات اور امکانات
تبصرات

مولانا راشدی کے خطابات و بیانات اور مصروفیت
ادارہ

تلاش

شماریات