▲ ☰

حدیث میں بیان کی گئی علاماتِ قیامت کی تاریخی واقعات سے ہم آہنگی (۷)

بنی اسرائیل کی ارضِ مقدس میں واپسی: اللہ کا وعدہ اور اُس کی شرائط

یہود کی ارضِ مقدس کی طرف واپسی سابق صحیفوں کی واضح ترین پیش گوئیوں میں سے ایک ہے، اور بیسویں صدی میں یہ پوری ہو چکی ہے۔ مسلمانوں کے لیے یہ اِس بات کی نشانی ہے کہ تاریخ اللہ کے حکم کے تابع ہے۔ لیکن انبیا نے اِس واپسی کے ساتھ بنی اسرائیل کی جن نعمتوں کا ذکر کیا تھا، اُن میں سے بیش تر حاصل نہیں ہوئیں، اور اِس کی وجہ خود اُن کے صحائف بیان کرتے ہیں۔

انبیا کا وعدہ

حضرت إشعياء علیہ السلام آٹھویں صدی قبل مسیح میں یروشلم میں مبعوث ہوئے۔ اُس وقت اسور (Assyria) دنیا کی سب سے بڑی طاقت تھا۔ اُنھوں نے اسور کو ایک گھنے جنگل سے تشبیہ دی، جسے اللہ ہمیشہ کے لیے کاٹ ڈالے گا (إشعياء ۱۰: ۳۳–۳۴)۔ اِس کے برعکس، حضرت داؤد علیہ السلام کا شاہی خاندان کٹ کر ایک ٹھنٹھ رہ جانے کے باوجود پھر سے پھوٹے گا: ”اور یسّی کے تنے سے ایک کونپل نکلے گی“ (۱۱: ۱)۔ یسّی حضرت داؤد علیہ السلام کے والد تھے، اور اُن کی جڑ سے نکلنے والا یہ شخص ”اپنے لبوں کے دم سے شریروں کو فنا کر ڈالے گا“ (۱۱: ۴)۔ انجیل کے مطابق، حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی حضرت داؤد علیہ السلام کی نسل سے تھے (متی ۱: ۱)۔

اِسی شخص کے دور میں اللہ بنی اسرائیل کو ”دوسری بار“ جمع کرے گا (۱۱: ۱۱)، اور یہ واپسی مصر سے خروج کی طرح آسان ہو گی:

”تب خداوند بحرِ مصر کی خلیج کو بالکل نیست کر دے گا، اور اپنی بادِ سموم سے دریاے فرات پر ہاتھ چلائے گا، اور اُس کو سات نالے کر دے گا، اور ایسا کرے گا کہ لوگ جوتے پہنے ہوئے پار چلے جائیں گے۔ اور اُس کے باقی لوگوں کے لیے، جو اسور میں سے بچ رہیں گے، ایک ایسی شاہراہ ہو گی جیسی بنی اسرائیل کے لیے تھی جب وہ ملکِ مصر سے نکلے...“ (إشعياء ۱۱: ۱۵–۱۶)

مزید یہ کہ قومیں خود جلاوطن اسرائیلیوں کو اُن کے وطن پہنچائیں گی: ”وہ تیرے بیٹوں کو اپنی گود میں لائیں گے، اور تیری بیٹیوں کو اپنے کندھوں پر بٹھا کر پہنچائیں گے“ (۴۹: ۲۲)۔

اِس کے ایک صدی سے زیادہ عرصے بعد، حضرت حزقی ایل علیہ السلام نے بابل میں جلاوطن یہود کے درمیان نبوت کی۔ اُنھوں نے جوج (Gog) کی رؤیا کو ”آخری برسوں“ سے متعلق قرار دیا (حزقی ایل ۳۸: ۸)۔ اِس رؤیا میں جوج دُور شمال سے قوموں کا ایک لشکر لے کر بنی اسرائیل پر چڑھ آتا ہے (۳۸: ۱۶)۔ یہ بنی اسرائیل کی ایک ہی قوم ہے، جو ”بہت سی قوموں میں سے جمع کی گئی“ ہے، مگر ابھی پوری جمع نہیں ہوئی؛ کیونکہ رؤیا اُسی وقت مکمل ہوتی ہے جب قوموں میں اُن کا کوئی فرد باقی نہ رہے (۳۹: ۲۸)۔ جوج کا مقصد بنی اسرائیل کے مال و اسباب لوٹنا ہے (۳۸: ۸–۱۲)۔

جوج بالآخر آسمان سے برسنے والی آگ سے، اور باہمی لڑائی سے تباہ ہو جاتا ہے: ”ہر ایک کی تلوار اُس کے بھائی پر چلے گی“ (۳۸: ۲۱–۲۲)۔ یہ فتح اللہ کی طرف سے ہے؛ حزقی ایل علیہ السلام اِسے اسرائیل کی قوتِ بازو کا نتیجہ قرار نہیں دیتے۔ اِس کے بعد بنی اسرائیل ”اپنے لوٹنے والوں کو لوٹیں گے“، مُردوں کو دفن کریں گے اور دشمن کے ہتھیار جلائیں گے۔ یوں واپسی مکمل ہو جاتی ہے، اور اللہ فرماتا ہے کہ اُس نے ”اُن میں سے کسی کو وہاں باقی نہ چھوڑا“ (۳۹: ۹–۱۲، ۲۸)۔

قرآن و حدیث میں یہی دور

اِس سلسلے کے گذشتہ مضامین (حدیث میں بیان کی گئی علاماتِ قیامت کی تاریخی واقعات سے ہم آہنگی)، جو ماہنامہ الشریعہ جون تا اکتوبر ۲۰۲۵ء میں شائع ہوئے، اِس بات کو واضح کرتے ہیں کہ قیامت کی جو نشانیاں حدیث میں بیان ہوئی ہیں، وہ بیسویں صدی میں پوری ہو چکی ہیں۔ اُن میں سے تین نشانیاں براہِ راست اِس واپسی سے متعلق ہیں:

  • یاجوج و ماجوج: حدیث میں بیان کی گئی یاجوج و ماجوج کی آخری جنگ دوسری عالمی جنگ (۱۹۳۹–۱۹۴۵ء) ہے۔ اِس جنگ میں نازی جرمنی نے بنی اسرائیل کو شدید نقصان پہنچایا، مگر اُسے ختم نہیں کیا۔

  • دجال: اِس سے مراد ملحد سوویت یونین (۱۹۱۷–۱۹۹۱ء) ہے، جو زمین پر جنت بنانے کا جھوٹا دعوے دار تھا۔

  • حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول: اِن سے مراد سرد جنگ کا امریکا ہے، جو اِس جھوٹی نجات کے مقابلے میں ڈٹا رہا۔ حضرت عیسیٰ کا بابِ لُدّ پر دجال کو قتل کرنا (صحيح مسلم، رقم ۲۹۳۷ الف) ۱۹۸۹–۱۹۹۱ء میں سوویت کمیونزم کا خاتمہ ہے۔

بیسویں صدی میں بنی اسرائیل کی ارضِ مقدس میں واپسی: کیا پورا ہوا اور کیا نہیں

حزقی ایل علیہ السلام کی رؤیا کی طرح بیسویں صدی میں بھی یہ ایک ہی یہودی قوم کی داستان ہے۔ یہی یہودی قوم دوسری عالمی جنگ سے پہلے واپس آنا شروع ہوئی، جنگ کے دوران ہولوکاسٹ (Holocaust) کا شکار ہوئی، اور جنگ کے بعد اِسے اسرائیل کی ریاست مل گئی۔ اِن میں سے ہر مرحلہ قوم کے الگ الگ حصوں پر گزرا، مگر مجموعی طور پر یہ سب ایک ہی قوم کے ساتھ پیش آیا۔

پیش گوئیوں کو تاریخ کے سامنے رکھا جائے تو تصویر بالکل واضح ہو جاتی ہے: قوم اور سرزمین کا بنیادی وعدہ، اور حملہ آوروں سے متعلق پیش گوئیاں پوری ہوئیں؛ لیکن نجات کے بعد بنی اسرائیل کو ملنے والی مشروط نعمتیں حاصل نہیں ہوئیں۔

انبیا کا بیان

نتیجہ

تاریخ میں کیا ہوا

جوج بنی اسرائیل پر حملہ کرتا ہے جو ابھی جمع ہو رہی ہے (حزقی ایل ۳۸: ۸؛ ۳۹: ۲۸)

پوری ہوئی

یہود کی واپسی ارضِ مقدس میں ۱۸۸۰ء کی دہائی میں شروع ہوئی۔ ۱۹۳۹ء میں، دوسری عالمی جنگ کے آغاز تک، یہودی قوم کا ایک قابلِ ذکر حصہ مختلف ممالک سے آ کر اِس سرزمین میں آباد ہو چکا تھا۔

حدیث میں یاجوج و ماجوج کا بیت المقدس کے پہاڑ جبل الخمر تک پہنچنا (صحيح مسلم، رقم ۲۹۳۷ ب) نازی جرمنی کے یہودی قوم پر اِسی حملے کی علامت ہے۔

قوم بغیر فصیل کی بستیوں میں امن اور خوش حالی سے رہتی ہے، اور جوج اُس کا مال لوٹنے آتا ہے (حزقی ایل ۳۸: ۱۱–۱۲)

پوری ہوئی

یورپ میں قانونی مساوات (Emancipation) کے بعد یہودی محلوں (Ghettos) کی دیواریں گر چکی تھیں، اور یہودی معاشرے میں گھل مل کر خوش حال مگر بے دفاع زندگی گزار رہے تھے۔ نازیوں نے اپنے حملے کا آغاز ہی اُن کے کاروبار، گھروں اور جمع پونجی پر قبضے سے کیا۔

ویران زمین پھر سے پھل دیتی ہے، اور ”ویران اور اجڑے ہوئے اور مسمار شہر“ پھر سے تعمیر اور آباد ہوتے ہیں (حزقی ایل ۳۶: ۸، ۳۵)

پوری ہوئی

واپس آنے والے یہودیوں نے دلدلیں خشک کیں، زمین کو پھر سے کاشت کیا، اور پورے ملک میں قصبے اور شہر آباد کیے۔

قومیں جلاوطن یہودیوں کو گھر پہنچاتی ہیں، اور دریا اُن کے آگے خشک ہو جاتے ہیں (إشعياء ۴۹: ۲۲؛ ۱۱: ۱۵–۱۶)

پوری نہیں ہوئی

قومیں جلاوطنوں کو گھر پہنچانے کے بجاے اُن کے لیے دروازے بند کرتی رہیں۔ ۱۹۳۸ء میں فرانس کے شہر ایویان (Évian) میں ۳۲ ملکوں کی کانفرنس ہوئی، مگر تقریباً کوئی ملک جرمنی سے بھاگنے والے یہودیوں کو لینے پر تیار نہ ہوا۔ ۱۹۳۹ء میں برطانیہ نے ایک سرکاری اعلان (White Paper) کے ذریعے فلسطین میں یہودیوں کی آمد کو پانچ سال میں صرف ۷۵ ہزار تک محدود کر دیا۔ ۱۹۴۷ء میں ہولوکاسٹ سے بچ جانے والوں کا جہاز ”ایکسوڈس“ (Exodus) فلسطین پہنچا تو برطانیہ نے اُسے واپس لوٹا دیا، اور مسافروں کو جرمنی بھیج دیا گیا۔ بعد میں یمن، عراق اور ایتھوپیا کے یہودیوں کو خاص کارروائیوں کے ذریعے ہوائی جہازوں سے نکالنا پڑا۔

جوج کا لشکر آسمانی آگ اور باہمی خوں ریزی سے تباہ ہوتا ہے: ہر ایک کی تلوار اپنے بھائی پر چلتی ہے (حزقی ایل ۳۸: ۲۱–۲۲)

پوری ہوئی

نازی جرمنی، یورپی طاقتوں کی باہمی جنگ اور فضائی بمباری سے تباہ ہوا۔

قرآنِ مجید کے مطابق اُس دن یاجوج و ماجوج لہروں کی طرح ایک دوسرے سے ٹکرائیں گے (الكهف ۱۸: ۹۹)۔ دوسری عالمی جنگ میں یورپی طاقتیں اِسی طرح آپس میں ٹکرائیں۔

جوج یہود کی قوم پر چڑھ آتا ہے، لیکن وہ محفوظ رہتی ہے (حزقی ایل ۳۸–۳۹)

پوری نہیں ہوئی

یہودی قوم محفوظ نہیں رہی: تقریباً ساٹھ لاکھ یہودی قتل کیے گئے۔

بنی اسرائیل اپنے لٹیروں کو لوٹتے ہیں، مُردوں کو دفن کرتے ہیں اور اُن کے ہتھیار جلاتے ہیں (حزقی ایل ۳۹: ۹–۱۲)

پوری نہیں ہوئی

یہود کی تلافی سست رفتاری سے اور صرف جزوی طور پر ہوئی۔ خاص طور پر مشرقی یورپ میں بہت سی جائیدادیں کبھی واپس نہیں ملیں، اور بہت سے بچ جانے والے اپنے دعووں کا فیصلہ ہونے سے پہلے ہی وفات پا گئے۔ مُردوں کی تدفین اور ہتھیاروں کو تلف کرنے کا کام بچ جانے والوں نے نہیں، اتحادی افواج نے کیا۔

قوموں میں اُن کا کوئی فرد باقی نہیں رہتا (حزقی ایل ۳۹: ۲۸)

پوری نہیں ہوئی

جنگ کے خاتمے کے تین سال کے اندر اسرائیل کی ریاست قائم ہو گئی، لیکن یہودی قوم کا ایک بڑا حصہ آج بھی دوسرے ملکوں میں آباد ہے۔

مسیح اپنے لبوں کے دم سے شریروں کو ہلاک کرتا ہے (إشعياء ۱۱: ۴)

پوری ہوئی

مسیحی اکثریت کا ملک امریکا، جس کی علامت حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں، سرد جنگ کے چار عشروں تک ملحد سوویت یونین، یعنی دجال کے مقابلے میں ڈٹا رہا۔

سوویت بلاک حیرت انگیز طور پر بہت کم تشدد کے ساتھ گرا، اور یہ جنگ — جو ریڈیو، چوری چھپے لائی گئی کتابوں، خطبات، دستخط شدہ معاہدوں اور تقریروں کے ذریعے لڑی گئی — اِس میں مرکزی حیثیت رکھتی تھی۔ اِسی کو حدیث میں اِس طرح بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سانس جس کافر تک پہنچے گی، وہ زندہ نہیں بچے گا (صحيح مسلم، رقم ۲۹۳۷ الف)۔

سوویت طاقت کے زوال کے ساتھ ہی ۱۹۹۰ء کی دہائی میں سابق سوویت یونین سے تقریباً دس لاکھ یہودی اسرائیل منتقل ہوئے۔

بنی اسرائیل کے دونوں حصے، یہوداہ اور اسرائیل، پھر سے ایک قوم بنیں گے۔ اُن پر ایک ہی بادشاہ ہو گا، اللہ اُن سے امن کا ہمیشہ کا عہد کرے گا، اور اُس کا گھر (ہیکل) ہمیشہ اُن کے درمیان رہے گا (حزقی ایل ۳۷: ۲۲–۲۸)

پوری نہیں ہوئی

اِن میں سے کچھ بھی نہیں ہوا۔ اسرائیل میں منقسم سیاست اور ہر دہائی میں جنگ کا خطرہ معمول رہا ہے۔

کچھ پیش گوئیاں کیوں پوری ہوئیں اور کچھ کیوں نہیں

یہ تقسیم وہی ہے جو خود عہد میں موجود ہے: عہد کے وعدے ٹوٹ نہیں سکتے، لیکن اُن کی نعمتوں سے فیض یاب ہونا عمل سے مشروط ہے۔ کتابِ احبار کے باب ۲۶ میں دونوں باتیں موجود ہیں: اِس میں تنبیہ ہے کہ بنی اسرائیل کے لیے نافرمانی کا نتیجہ جلاوطنی ہو گا، لیکن یہ بھی کہا گیا ہے کہ جلاوطنی میں بھی اللہ ”اُن سے اپنا عہد نہیں توڑے گا“ (احبار ۲۶: ۴۴)۔ گویا تعلق قائم رہتا ہے، مگر نعمتیں فرماں برداری پر موقوف ہیں۔

یرمیاہ کی کتاب میں یہ اصول صاف بیان ہوا ہے: اگر اللہ کسی قوم سے بھلائی کا وعدہ کرے اور وہ قوم نافرمانی پر اتر آئے، تو وہ اُس بھلائی پر نظرِ ثانی کرتا ہے جس کا اُس نے وعدہ کیا تھا (یرمیاہ ۱۸: ۱۰)۔ قرآنِ مجید نے یہی حد ابراہیمی عہد کی بنیاد میں رکھ دی ہے: ﴿لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ﴾، یعنی ’میرا یہ عہد اُن لوگوں تک نہیں پہنچے گا جو ظالم ہوں گے‘ (البقرة ۲: ۱۲۴)۔ اِسی طرح فرمایا کہ اگر اہلِ کتاب اُس ہدایت پر قائم رہتے جو اُن پر نازل کی گئی تھی، تو وہ اوپر سے بھی کھاتے اور پاؤں کے نیچے سے بھی (المائدة ۵: ۶۶)۔

اوپر بیان کی گئی پیش گوئیوں کے پورے ہونے اور نہ ہونے میں نظر آنے والی تقسیم کی وجہ یہی ہے۔ یاجوج و ماجوج کی شکست کا وعدہ بنی اسرائیل کے عمل سے مشروط نہیں تھا، اِس لیے وہ پورا ہوا؛ جبکہ بنی اسرائیل کی نعمتیں اللہ سے وفاداری سے مشروط تھیں، اِس لیے وہ حاصل نہیں ہوئیں۔ حزقی ایل علیہ السلام جب کہتے ہیں کہ اللہ بنی اسرائیل کو ”اپنے قدوس نام کی خاطر“ بحال کرے گا (۳۶: ۲۲)، تو اُس بحالی سے مراد خود قوم کا اجتماع ہے، اور وہ ہو چکا ہے۔

ایک سابقہ مثال

یہ صورتِ حال پہلے بھی پیش آ چکی ہے، اور وہ بھی خود حزقی ایل علیہ السلام کے وعدے کے ساتھ۔ اُن کی بحالی کی پیش گوئیوں کے اولین مخاطب بابل کے جلاوطن تھے۔ جب ۵۳۸ قبل مسیح میں شاہِ فارس خورس (Cyrus) کے دور میں وہ واپس آئے تو بنیادی وعدہ پورا ہوا اور ہیکل دوبارہ تعمیر ہوا، لیکن مشروط نعمتیں حاصل نہیں ہوئیں: نیا ہیکل حزقی ایل علیہ السلام کی رؤیا کے مقدس سے اِس قدر کم تر تھا کہ سلیمان علیہ السلام کا ہیکل دیکھنے والے بوڑھے اُس کی بنیاد رکھے جانے پر رو پڑے (عزرا ۳: ۱۲)۔ حزقی ایل علیہ السلام نے اِس ہیکل کو بھی ایک شرط سے مشروط کیا تھا: ”اگر وہ اپنے سب کاموں سے شرمندہ ہوں“ (۴۳: ۱۱)۔

خلاصہ

یہود کی ارضِ مقدس کی طرف واپسی ایک پیش گوئی کی تکمیل بھی ہے اور ایک تنبیہ بھی۔ جو کچھ غیر مشروط تھا، وہ پورا ہوا: قوم کا اجتماع، اور یاجوج و ماجوج اور شریر (دجال) کا زوال۔ اور جو کچھ عہد سے مشروط تھا، وہ حاصل نہیں ہوا: واپسی کی آسانی، حملے کا نشانہ بننے والوں کی حفاظت، اور اُس کے بعد آنے والا امن، بادشاہی اور مقدس ہیکل۔

مسلمانوں کے لیے اِس میں وہی سبق ہے جو گذشتہ مضامین ہر نشانی سے اخذ کرتے رہے ہیں: تاریخ اللہ کے حکم سے آگے بڑھتی ہے، اور اُس کے وعدے اُنھی شرائط کے مطابق پورے ہوتے ہیں جو اُس نے خود مقرر کی ہیں۔

حدیث و سنت / علوم الحدیث

اقساط

(الشریعہ — نومبر ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — نومبر ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۱۱

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۷)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل کا نبوی منہج (۴)
مولانا ڈاکٹر محمد ابوبکر فاروقی

حدیث میں بیان کی گئی علاماتِ قیامت کی تاریخی واقعات سے ہم آہنگی (۷)
ڈاکٹر محمد سعد سلیم

محاضراتِ فقہ (۵)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۶)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کیا مذہب پر سوال اٹھانا الحاد ہے؟
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی
عامر احمد عثمانی

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۱۱)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۹)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

سائنس کا قبلہ
فرحت علی بیگ

فکری انحراف اور علماء کرام کی ذمہ داری
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی
مفتی شاد محمد شاد

اوّلیاتِ برصغیر
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

تاریخ کا ایک ورق
اسرار الرحمٰن
ڈاکٹر سید راشد علی

بنیادی مذہبی تعلیم
مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ

اسلام کا سیاسی نظام: ایک قانونی تجزیہ (۲)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اسلام اور شخصی آزادی (۳)
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
ذیشان ہاشم

عدالتی خلع کے مسائل
ڈاکٹر محمد امین

Pakistan and the Muslim World: Where We Stand, Where We Go
Maulana Fazal-ur-Rehman

Human Rights: Five Key Differences Between Islamic & Western Perspectives
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

امتِ مسلمہ کا انتشار اور بڑی طاقتوں کا کردار
محمد محسن اقبال

عرب حکومتوں کا مستقبل: بحران، خطرات اور امکانات
تبصرات

مولانا راشدی کے خطابات و بیانات اور مصروفیت
ادارہ

تلاش

شماریات