امت کی فکرِ اجتماعی کے بنیادی خدوخال
ماقبل میں جو کچھ بیان ہوا اُس کا خلاصہ یہ ہے کہ امور اور احکامِ شرعیہ — چاہے وہ اوامر ہوں یا نواہی، یعنی ان میں کسی کام کے کرنے کا حکم ہو یا کسی کام سے رکنے کا کہا گیا ہو — تمام کے تمام چند مقاصدِ شرعیہ سے متعلق ہیں۔ پھر ان احکام اور امورِ شرعیہ کی تین بنیادی سطحیں اور درجے ہیں: (۱) ضروریات، (۲) حاجیات، (۳) تحسینیات۔ مقاصد سمیت یہی چار عنوانات نظامِ شریعت کے بارے میں امتِ مسلمہ کی فکرِ اجتماعی کے بنیادی خدوخال ہیں۔ تمام نظامِ شریعت انہی چار دائروں میں بند ہے۔ پھر ضروریاتِ دین، حاجیاتِ دین اور تحسینیاتِ دین کے ان تین بنیادی دائروں میں احکام و امورِ شرعیہ کی چند ذیلی تقسیمات بھی ہیں۔ دراصل ان تین بنیادی اور چند ذیلی تقسیمات کی بنیاد دو چیزوں پر ہے: (۱) شریعتِ مطہرہ کے تفصیلی دلائل، (۲) حکمتِ تشریع کے اصول۔
شریعت کے تمام امور و احکامِ شریعت کے تفصیلی دلائل یعنی قرآن، سنت، اجماع، قیاسِ شرعی، مصالحِ مرسلہ وغیرہ سے حکمتِ تشریع کے اصول کے مطابق ثابت ہوتے ہیں۔ اور انہی دونوں چیزوں سے احکامِ شرعیہ کی تعیین ہوتی ہے کہ آیا وہ ضروریاتِ دین سے تعلق رکھتے ہیں، یا حاجیاتِ دین سے، یا تحسینیاتِ دین سے؟ آیا وہ فرائض میں سے ہیں، یا واجبات میں سے ہیں، یا سنن سے ہیں؟ مستحب ہیں یا مباحات، حرام ہیں یا مکروہات ہیں؟ آیا وہ احکام یا امورِ شرعیہ کسی اور حکمِ شرعی کے لیے ارکان ہیں یا شرائط، اسباب ہیں یا اوصاف؟ وغیرہ وغیرہ۔
آپ امور اور احکامِ شرعیہ کی ان بنیادی اور ذیلی تقسیمات سے بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ شریعت کے متعلق لاکھوں کروڑوں امور اور احکام اور ان پر دلالت کرنے والی ہزاروں اصطلاحات کس طرح سمیٹ کر ان تین بنیادی اور تیس چالیس کے درمیان ذیلی تقسیمات میں سما جاتی ہیں۔ جن کے نام ہی نہ صرف ان کے مابین پائے جانے والے گہرے معنوی ربط، ترتیب اور توازن پر دلالت کرتے ہیں؛ بلکہ نظامِ شریعت میں ان کے صحیح حجم، مقام اور مرتبے کی شہادت بھی دیتے ہیں۔ امورِ شریعت کی یہی وہ بنیادی اور ذیلی تقسیمات ہیں جو امتِ مسلمہ کی فکرِ اجتماعی میں نظامِ شریعت کی مکمل تصویر کشی کرتی ہیں۔
یہاں یہ حقیقت ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ نظامِ شریعت کوئی بے جان تصویر نہیں ہے جسے فریم کروا کر دیواروں پر چسپاں کر لینا کافی ہے، اور نہ ہی محض کتابوں میں لکھے اصولوں کا نام ہے جنہیں رٹ لینا کافی ہے؛ بلکہ نظامِ شریعت تو حرکت اور عمل سے بھرپور ایک ایسے ابدی نظام کا نام ہے جو اپنی حرکت اور عملیت کی بناء پر ہر دور کے تقاضوں کا سامنا کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ اس کی حرکت کا سب سے بڑا مظہر یہ ہے کہ نظامِ شریعت ہر تہذیب، ہر تمدن اور ہر کلچر کے صالح اور بہترین اجزاء کو اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی یہی وہ خصوصیت ہے جس کی بناء پر اسے مکمل ضابطۂ حیات کہا جا سکتا ہے۔
جہاد فی سبیل اللہ
نظامِ شریعت کی عملیت کا سب سے بڑا مظہر ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ ہے۔ کیونکہ جہاد فی سبیل اللہ ہی مسلمانوں میں اسلام کی عملی تطبیق کا واحد راستہ، نظامِ شریعت کے عملی نفاذ کا واحد منہج، مقاصدِ شریعت اور جمیع انسانیت کے اجتماعی مفادات کے حصول کا واحد طریقہ ہے۔
جہاد فی سبیل اللہ کے مفہوم و معنی کی اصل وسعت اور جامعیت کو سمجھنے میں موجودہ دور کے بعض علماء سے تسامح ہوا ہے۔ چنانچہ ایک طبقے نے جہاد سے مراد صرف ’’جہاد بالنفس‘‘ لیا ہے، جبکہ دوسرے طبقے نے جہاد سے مراد محض ’’جہاد بالسیف‘‘ کو قرار دیا ہے۔ پھر ان دونوں طبقوں کو جہاد بالنفس اور جہاد بالسیف کی تشریح و تفہیم میں بھی تسامح ہوا۔ اگرچہ نصوصِ شرعیہ میں جہاد فی سبیل اللہ کے جزوِ اکبر ہونے کے اعتبار سے لفظِ جہاد کا اطلاق جہاد بالنفس پر ہوا ہے، اور جزوِ اعظم ہونے کے اعتبار سے بارہا جہاد بالسیف اور قتال کو مطلقاً جہاد کہا گیا، لیکن جہاد فی سبیل اللہ کی کامل حقیقت محض اتنی نہیں ہے۔ جو لوگ تمام نصوصِ شرعیہ اور مکمل نظامِ شریعت کا گہرا ادراک رکھتے ہیں، نیز صرف جزئیاتِ شرعیہ ہی نہیں بلکہ شریعت کی کلیات پر بھی مکمل نظر رکھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ فریضۂ جہاد کی اصل وسعت، مکمل مفہوم، جامعیت اور ہمہ گیریت کا کیا عالم ہے۔
برِصغیر کے نامور ترین عالمِ دین، مدبر سیاستدان، عظیم صحافی اور بے باک مجاہد مولانا ابو الکلام آزادؒ — جنہوں نے دین کے بہت سے شعبوں میں مسلمانوں کی رہنمائی فرمائی — نے انگریز کے خلاف اعلانِ بغاوت کیا۔ انہوں نے تمام باشندگانِ برِصغیر کو اس بغاوت پر آمادہ کیا اور اعلانِ جہاد بلند کیا۔ ان کے مایہ ناز جریدوں ’’الہلال‘‘ اور ’’البلاغ‘‘ میں سے ایک مستقل اور مسلسل مضمون ہمیشہ ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ کے نام سے شائع ہوتا رہا۔ انگریز کا بے انتہا جبر اور استبداد بھی انہیں اعلانِ جہاد سے باز نہ رکھ سکا۔ بابِ جہاد میں ان کی مجتہدانہ بصیرت اور عالمانہ نظر کا اعتراف اس وقت کے سب سے بڑے عالمِ دین حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندیؒ نے کیا اور انہیں ’’امام الہند‘‘ کا لقب عطا فرمایا۔ مولانا ابو الکلام آزادؒ نے ’’الہلال‘‘ کے ایک مضمون میں جہاد فی سبیل اللہ کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ:
’’اسلام اور جہاد ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں۔ جہاد کے بغیر اسلام ایسے ہی ہے جیسے کوئی جسم بلا روح کے ہو۔ کوئی مسلمان اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک کہ مجاہد نہ ہو۔‘‘
اسلام اور جہاد کی حقیقت کے ایک ہونے کا مطلب وہی ہے جسے ہم نے سادہ الفاظ میں یوں بیان کیا ہے کہ جہاد اِسلام کی عملی تطبیق، نظامِ شریعت کے عملی نفاذ، مقاصدِ شریعت اور جمیع انسانیت کے مشترکہ مفادات کے حصول کی عملی جدوجہد کا نام ہے۔ جہاد کے اس وسیع تر تصور اور جامع ترین مفہوم کی سب سے بڑی دلیل خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تئیس سالہ دورِ نبوت اور سیرتِ طیبہ ہے۔ کیونکہ آپؐ کی حیاتِ مبارکہ کا یہ تئیس سالہ دور اور سیرتِ طیبہ کا ہر پہلو اعلائے کلمۃ اللہ، اسلام کی عملی تطبیق، نظامِ شریعت کے عملی نفاذ، مقاصدِ شریعت اور جمیع انسانیت کے مشترکہ مفادات کے حصول کی عملی جدوجہد سے عبارت ہے۔
کون کہہ سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت، تعلیم، تبلیغ، تربیت، تزکیہ، ہجرت، ریاست کا قیام، حکومت سازی، عدالتی انصاف کی فراہمی، منافقین اور کفار سے مقابلہ، خارجہ و داخلہ پالیسیاں اور سفارت کاری وغیرہ میں سے کسی ایک پہلو یا شعبے کا مقصد ان مذکورہ بالا مقاصد کے علاوہ کچھ اور تھا؟ اور نہ یوں کہا جا سکتا ہے کہ سیرت النبیؐ کے جملہ پہلوؤں میں سے ہر پہلو دوسرے پہلوؤں سے جدا اور بے نیاز ہو کر ان تمام مقاصد کی تکمیل کر سکتا ہے کہ باقی شعبے ہوں یا نہ ہوں، اکیلا کوئی سا بھی ایک سیرت کا شعبہ اسلام کی عملی تطبیق اور نفاذِ شریعت کے لیے کافی ہے؟
حقیقت جو قرآن و سنت اور سیرتِ طیبہ سے واضح ہے وہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام کی تمام سیرت اعلائے کلمۃ اللہ کی عملی جدوجہد سے عبارت ہے، اور کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ پہلو یا جزو بھی اس مقصد سے خالی نہیں۔ آپؐ کے کردار و سیرت کے تمام پہلو اور دین کے تمام شعبے باہم دیگر ایسے وابستہ ہیں کہ ان میں سے کوئی ایک بھی مقاصدِ شریعت کے حصول کے لیے دوسرے شعبوں سے بے نیاز نہیں، اور ان کی وحدت ہی حصولِ مقاصد کی ضامن ہے۔
چنانچہ یہ تصور کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا ایک پہلو تو جہاد ہے اور دوسرے جہاد نہیں ہیں، گویا یہ تصور کرنا ہے کہ آپؐ کی سیرت کا مذکورہ پہلو تو اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے تھا اور دوسرے پہلوؤں کا کوئی اور مقصد تھا۔ نعوذ باللہ من ذالک۔ جب ثانی الذکر تصور غلط ہے تو یہ تصور بھی غلط ہے کہ صرف قتال ہی جہاد ہے، یا صرف جہاد بالنفس ہی جہاد ہے؛ یا یہ سب تو جہاد ہیں لیکن ایک دوسرے سے بے نیاز ہیں۔ آج جہاد کے بارے میں امتِ مسلمہ کی مجموعی عملی صورت کیا ہے، اس کا اندازہ آپ میری اس بات سے کر سکتے ہیں۔ لہٰذا صحیح بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری کی ساری سیرتِ طیبہ جہاد فی سبیل اللہ سے عبارت ہے، اور یہی مطلب ہے مولانا آزادؒ کے اس قول کا کہ ’’اسلام اور جہاد ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں‘‘۔
بالفاظِ صریح، جہاد فی سبیل اللہ اپنے کامل و وسیع، جامع اور صحیح مفہوم میں آپؐ کی سیرتِ طیبہ کے ایک یا دو شعبوں یا پہلوؤں میں محدود نہیں بلکہ پوری سیرت النبیؐ پر محیط ہے اور سیرت کے تمام شعبے اس کے مفہوم اور حقیقت میں شامل ہیں۔ اور نہ صرف یہ کہ شامل ہیں، بلکہ اس طرح شامل ہیں کہ کسی ایک کے نکال دینے سے یا کسی ایک سے بے نیاز ہو کر جہاد مکمل نہیں ہوتا۔ ان تمام شعبوں کے درمیان کامل ربط، توازن اور ترتیب ہے اور تمام شعبوں کی بہترین کارکردگی ایک دوسرے کی محتاج ہے۔ اگر ان میں سے کوئی ایک شعبہ بھی کمزور ہو گیا یا مٹ گیا تو باقی تمام شعبوں کی کارکردگی کو ناقابلِ تلافی نقصان برداشت کرنا پڑے گا اور منزلِ مقصود تک پہنچنا ناممکن ہو جائے گا۔
چنانچہ جہاد فی سبیل اللہ اپنے کامل مفہوم میں سیرتِ طیبہ اور اسلام کے مترادف ہے اور سیرتِ طیبہ اور دین کے تمام شعبے جہاد فی سبیل اللہ کے شعبے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ سورۃ الاحزاب میں — جو غزوۂ خندق کے بعد نازل ہوئی — نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام سیرت کو تمام مسلمانوں کے لیے اسوۂ حسنہ اور کامل نمونہ قرار دیا گیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ لمن کان یرجوا اللہ والیوم الاٰخر۔ (الاحزاب ۲۱)
’’تمہارے لیے (اجتماعی و انفرادی زندگی کے ہر شعبے میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کامل نمونہ ہے، (اس کا فائدہ) ہر اس شخص کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ (کی رحمت) اور روزِ قیامت کی ملاقات کی امید رکھتا ہے۔‘‘
اس آیتِ مبارکہ کا سورۃ الاحزاب میں ہونا نہ تو اتفاقی ہے اور نہ ہی اس کا مفہوم یہ قرار دیا جا سکتا ہے کہ آپؐ کی سیرت صرف قتال کے شعبے میں مسلمانوں کے لیے نمونہ ہے، باقی شعبوں میں نہیں۔ بہرحال جہاد فی سبیل اللہ سیرت النبیؐ کے تمام شعبوں پر مشتمل دین کا اہم ترین فریضہ اور قطعی ضرورت ہے؛ جو اسلام کی عملی تطبیق، نظامِ شریعت کے عملی نفاذ، مقاصدِ شریعت اور تمام انسانیت کے مشترکہ مفادات کے حصول کا واحد راستہ اور منہج ہے۔
جہاد فی سبیل اللہ کے مراحلِ اربعہ
سیرتِ طیبہ اور جہاد فی سبیل اللہ کے تمام شعبے جو باہم مربوط اور بے حد منظم ہیں، نصوصِ شرعیہ کی روشنی میں ان کے چار بڑے مراحل ہیں: (۱) جہاد بالنفس (۲) جہاد بالشیطان (۳) جہاد بالکفار والمنافقین (۴) اہلِ ظلم اور بدعت کے خلاف جہاد۔ جہاد فی سبیل اللہ کے ان مراحلِ اربعہ کی تفصیل بجائے خود ایک نہیں کئی کتابوں کی متقاضی ہے، اس لیے ہم یہاں صرف اشاروں پر اکتفا کرنے پر مجبور ہیں۔
۱- جہاد بالنفس
نفس کے ساتھ جہاد کے چار مراتب ہیں:
(۱) علم کا حصول،
(۲) علم کے مطابق تربیت کا حصول،
(۳) دعوت و تبلیغ کرنا،
(۴) اس دوران راستے میں آنے والے کٹھن حالات کا مقابلہ تحمل، حلم، وقار اور برداشت کے ساتھ کرنا۔
۲- جہاد بالشیطان
شیطان کے ساتھ جہاد کے دو مراتب ہیں، یعنی شیطان اور اس کے حواری دو طرح سے انسان سے دشمنی کرتے ہیں:
(۱) فتنۂ شبہات کا مقابلہ
دین کے مسلّمہ عقائد و ایمانیات اور ثابت شدہ اصول و قواعد کے بارے میں طرح طرح کے شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں۔ ان کے اس عمل کو فتنۂ شبہات کہا جاتا ہے۔ جہاد بالشیطان کا پہلا مرتبہ یہ ہے کہ اس فتنۂ شبہات کا مقابلہ کیا جائے، جو دین پر یقینِ محکم کے ساتھ ہی ممکن ہے۔
(۲) فتنۂ شہوات کا مقابلہ
شیطان اور اس کے ساتھیوں کا دوسرا کام یہ ہے کہ وہ انسان کی نفسیاتی کمزوریوں سے کھیلتے ہیں، اس کی خواہشات اور شہوات بھڑکا کر اسے صراطِ مستقیم سے ہٹاتے ہیں اور غلط راستے پر چلنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ان کے اس عمل کو فتنۂ شہوات کہا جاتا ہے۔ اس فتنۂ شہوات کا مقابلہ کرنا جہاد بالشیطان کا دوسرا مرحلہ اور مرتبہ ہے، اور یہ صبر، تحمل، برداشت اور استقامت علی الدین کے ساتھ ہی ممکن ہے۔
۳- کفار اور منافقین کے خلاف جہاد
منافقین اور کفار کے خلاف جہاد کے چار مراتب ہیں:
(۱) جہاد بالقلب
کفار اور منافقین کی ریشہ دوانیوں، سازشوں اور مکارانہ چالوں کے خلاف دل و دماغ، سوچ و تدبر، فراست و بصیرت اور تمام فکری قوتوں کے ساتھ جہاد کرنا۔
(۲) جہاد باللسان
کفار اور منافقین کی میڈیا وار کا مقابلہ میڈیا، بیانات، تقریروں، تحریروں اور صحافت کے ذریعے کرنا۔
(۳) جہاد بالمال
کفار اور منافقین کے خلاف دولت اور مال خرچ کیے بغیر جدوجہد کرنا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ اسی لیے جہاد بالمال کا حکم دیا گیا، جو انفاق فی سبیل اللہ کا ایک اہم ترین حصہ ہے۔
(۴) جہاد بالسیف
کفار اور منافقین اگر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف قوت اور طاقت استعمال کرنے کا سوچیں، منصوبہ بندی کریں، افواج کی تیاری کریں، اسلحہ سازی کریں اور اسلام کی دعوت، تعلیم اور آزادی میں رکاوٹ بنیں تو مسلمانوں کا فرض ہے کہ ان کے خلاف طاقت اور قوت کا استعمال کریں۔ اسے جہاد بالسیف یعنی قتال کہا جاتا ہے۔ چنانچہ اسلحہ بنانا، دشمن کی سیاسی و معاشی و عسکری طاقت پر نظر رکھنا، اور ان میدانوں میں مسلم امہ کو کفار پر غالب رکھنا قتال کے مفہوم میں شامل ہے۔
۴- اہلِ ظلم اور اہلِ بدعت کے خلاف جہاد
اہلِ ظلم اور اہلِ بدعت کے خلاف جہاد کے تین مراحل ہیں:
(۱) جہاد بالیَد
اہلِ ظلم یعنی چور، ڈاکو، جرائم پیشہ افراد، اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے افسران، سیاستدان وغیرہ؛ اور اصحابِ بدعت یعنی دین میں نئی نئی باتیں ایجاد کرنے والے، شرعی اصطلاحات سے غیر شرعی معانی مراد لینے والے، یا غیر شرعی اور غیر اسلامی تصورات کو اسلام اور شریعت کا لبادہ اوڑھا کر پیش کرنے والے؛ اور نظامِ شریعت کے کسی بھی مسئلے کو مقاصدِ شریعت کے خلاف اپنے خود ساختہ مقاصد کے لیے استعمال کرنے والے تمام لوگوں کے خلاف ہر سطح پر سختی کے ساتھ نمٹنا ’’جہاد بالید‘‘ کہلاتا ہے۔ ان کے خلاف قانون، عدلیہ، انتظامیہ اور ریاستی اداروں کے ذریعے کارروائی عمل میں لانا اس کی صورتیں ہیں۔
(۲) جہاد باللسان
اگر ریاستی ادارے اہلِ ظلم اور اہلِ بدعت کے حامی ہوں تو ظلم اور بدعت کے خلاف بیانات، تقریروں، تحریروں، میڈیا اور صحافت کے ذریعے رائے عامہ ہموار کرنا، معاشرتی دباؤ پیدا کرنا؛ اور تعلیمی اداروں اور درسگاہوں کے ذریعے عوام میں ظلم، استبداد، جبر، لوٹ مار، بدعت اور دین میں تحریف کے خلاف شعور پیدا کرنا ’’جہاد باللسان‘‘ ہے۔
(۳) جہاد بالقلب
اگر ریاستی جبر و تشدد کی بنا پر اہلِ ظلم اور اہلِ بدعت کے خلاف جہاد باللسان بھی ممکن نہ ہو تو پھر کم از کم دلوں میں حق اور باطل کا امتیاز باقی رکھنا؛ نیز ذہنی غلامی، اندھی تقلید، فکری انتشار، عقلی بے راہ روی، کم علمی اور جہالت سے خود کو محفوظ رکھنا ’’جہاد بالقلب‘‘ ہے۔ یہ حالت مسلمانوں کی کمزوری، کسمپرسی اور ضعف کی انتہا ہے کہ مسلمان اسلامی ریاست میں انصاف، عدل اور حق کی پیروی سے محروم ہو جائیں اور باطل کے خلاف آواز تک نہ اٹھا سکیں۔ یہ ان کے ایمانی ضعف کا آخری درجہ ہے۔ حضرت ابو سعید خدریؓ کی یہ حدیث اسی بارے میں ہے:
’’حضرت ابو سعید خدریؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو کوئی کسی برے کام کو دیکھے تو اسے طاقت سے بدل دے، اگر اس کی استطاعت نہ رکھے تو اپنی زبان سے بدلنے کی کوشش کرے، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھے تو اپنے دل میں اسے برا سمجھے، اور یہ ایمان کا ضعیف ترین درجہ ہے۔‘‘
سیرتِ طیبہ اور جہاد فی سبیل اللہ کے یہ کل تیرہ (۱۳) بنیادی شعبے اور پہلو ہیں۔ ہم سیرتِ طیبہ کے آئینے میں دیکھ سکتے ہیں کہ ان تمام مراتبِ جہاد کا آپس میں ربط، تعلق، ترتیب اور توازن کیا تھا؛ کیسے یہ تمام شعبہ ہائے جہاد ایک دوسرے کے ساتھ مربوط اور جڑے ہوئے تھے؛ اور وقت و حالات کے تقاضوں کے مطابق شارع علیہ السلام نے ان میں کیا ترتیب قائم فرمائی تھی۔ اگر ان میں سے کسی ایک شعبے کو کوئی خطرہ درپیش ہوتا تو کیسے دوسرا شعبہ نمودار ہو کر اس کی حفاظت کے لیے آگے بڑھتا تھا۔ اور یہی وہ حکمتِ عملی ہے جو نفاذِ شریعت، تطبیقِ اسلام، حصولِ مقاصدِ شرعیہ، اور جمیع انسانیت کے مجموعی مفادات کے تحفظ کی بنیاد ہے۔ اسی کو جہاد فی سبیل اللہ کہا جاتا ہے اور یہی سیرت النبیؐ کا وہ اسوۂ حسنہ ہے جس کی پیروی ہر مسلمان پر فرض ہے۔





















