ذیشان ہاشم:
اگلا جو سوال ہے، میرے خیال میں اس کو مختصراً یوں کیا جا سکتا ہے، کیونکہ ہم کافی اس پر بات کر چکے ہیں، کہ جس طرح لبرل ازم اور سوشل ازم ایک دوسرے سے مختلف اور کسی حد تک متصادم سیاسی اور معاشی نظام ہیں، تو کیا ایسا ہی فکر کا ایک مکمل سیٹ اپ سیاست میں اور معیشت میں اسلام مہیا کرتا ہے؟ یعنی اگر مختصراً کہا جائے کہ اسلام سیاسی اور معاشی نظام ایک مکمل پیکج کے ساتھ دیتا ہے؟
عمار خان ناصر:
میرا خیال ہے کہ سیاسی یا معاشی، یا کوئی بھی چیز جس کو ہم سسٹم کہتے ہیں، سسٹم کی طرح کی کوئی چیز اسلام — اسلام سے مراد یہ کہ جس کو ہم کہیں کہ خدا نے شریعت کی صورت میں مکمل شکل میں دیا ہو، اور وہ ساری جو عملی ضرورتیں اور انتظامی ضرورتیں ہیں ان کو وہ پورا کرتا ہو — تو ایسا تو کوئی سسٹم اسلام نے یعنی شریعت نے نہیں دیا۔ شریعت نے ہر معاملے میں دو تین چیزیں کی ہیں:
ایک تو، جیسے میں نے عرض کیا کہ، ذمہ داریاں اور حقوق کیا ہیں، ان کا تعین کیا ہے؟ خاص طور پر ایسی جگہوں میں جہاں پر انسان ایک دوسرے کے حق پر دست درازی کرنے کا رجحان رکھتا ہو۔ایک تو شریعت نے یہ کیا ہے۔ دوسرا، اجتماعی زندگی میں جو بڑے مقاصد ہیں کہ مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں یہ یہ اخلاقی اقدار ہیں جو زندہ رہنی چاہئیں اور ان کو حاصل کرنا چاہیے، شریعت نے وہ متعین کر دی ہیں۔ وہ سیاسی نظام کی کچھ بنیادی اخلاقی دینی اجتماعی ذمہ داریاں ہیں۔ اس طرح معاشی نظام جو ہے وہ ان اخلاقی حدود کا پابند ہو گا اور اس کے تحت ہو گا۔ تو مقاصد اس نے بتا دیے ہیں، وہ اقدار بتا دی ہیں جو روح کے طور پر اُن کے اندر سرایت کی ہوں گی، اور بہت ضروری چیزوں میں حقوق و فرائض کی تعیین اس نے کر دی ہیں۔
اب ان قوانین کو، یا ان اقدار کو، یا ان مقاصد کے حصول کو ایک سسٹم کی شکل کیسے دینی ہے، یہ تو ایک تاریخی چیز ہے، انسانی تجربے سے متعلق ہے، اور یہ اجتہاد کے دائرے سے متعلق ہے۔ یعنی شریعت مکمل نہیں ہوتی جب تک اس کے ساتھ اجتہاد شامل نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں پکی پکائی ہنڈیا نہیں بنا کر دے دی کہ بیٹھ کر کھاؤ، اس نے سبزیاں پیدا کر دی ہیں، اس نے گوشت دے دیا ہے، اب اس کو پکا کر کھانا، اور اپنے ذائقے اور ضرورت کے مطابق ڈشز بنانا، یہ انسانوں کا کام ہے۔ تو شریعت بھی بنیادی طور پر بڑے دائرے متعین کر دیتی ہے، اقدار بتا دیتی ہے، اور کچھ ضروری حقوق و فرائض متعین کر دیتی ہے، اس کی بنیاد پر سسٹم جو بھی بنے ہیں، جن کو ہم اسلامی کہتے ہیں، وہ تاریخ میں مسلمانوں کی کوششیں اور تجربات ہیں، اور ان میں بہت تنوع بھی رہا ہے اور تاریخی ارتقا بھی ہوتا رہا ہے۔ تو سسٹم طرح کی کوئی چیز میرے فہم کے مطابق اسلام نہیں دیتا۔
سسٹم ہم بنا سکتے ہیں، دنیا میں جو دوسرے سسٹمز بنے ہیں، ان سے ہم فائدہ اٹھا سکتے ہیں، بہت سی چیزیں اسلامی مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے ہم لبرل ازم سے سیکھ سکتے ہیں، بہت سی چیزیں شاید ہم سوشل ازم سے لے سکتے ہیں، جو اسلام کے ان مقاصد کو پورا کرنے میں مدد دیتی ہوں۔ تو یہ سب تجربات ہیں۔ یہ لبرل ازم یا سوشل ازم یا دوسرے، یہ بھی تو انسانی تجربات ہیں، اس میں بہتری، اس میں self critisism، اس میں سارا کچھ ہوتا رہتا ہے۔ اس دائرے میں مسلمان بھی اسی طرح شریک ہو سکتے ہیں اور اپنا کوئی سسٹم بنا سکتے ہیں یا اُن کو موڈیفائی کر کے اپنا سکتے ہیں۔ تو سسٹم طرح کی کوئی چیز کسی بھی دائرے میں اسلام نہیں دیتا۔
ذیشان ہاشم:
یعنی مطلب یہ کہ دنیا میں جو دو نظام موجود ہیں، سوشل ازم اور لبرل ازم، ان میں سے کسی ایک کو لے کر یا دونوں کو لے کر ان کے اندر کسٹمائزیشن سے — اسلام نے جو اصول و ضوابط دیے ہیں، یا جو مطالبات دیے ہیں، ان کے ساتھ مطابقت پیدا کر کے — اسی طرح سے ایک سسٹم بنایا جائے گا اور پھر مسلمان معاشرے ہی طے کریں گے کہ وہ اس سماجی بندوبست کو کیسے قائم کرتے ہیں۔
عمار خان ناصر:
یہ بھی ہو سکتا ہے — یہ تو اس صورتحال میں بات کر رہے ہیں کہ جو سیاسی طاقت ہے اور اقتصادی طاقت ہے اور دنیا میں جو تہذیبی (طاقت ہے) وہ اِس وقت مسلمانوں کے پاس نہیں ہے، فرض کریں کہ مسلمان کسی وقت اس مقام پر آجاتے ہیں کہ وہ دنیا کو نئی سولائزیشن دے سکیں، تو وہ کچھ اور تجربات کر سکیں گے، ہو سکتا ہے تب وہ کچھ اور سسٹم ڈیویلپ کریں جو دنیا کے لیے بھی کارآمد ہو۔ تو یہ سارا کچھ تجربے اور تاریخ کا عمل ہے، تو اس میں نہ تو کوئی تعصب ہونا چاہیے کہ ہم نے کسی اور سے کچھ نہیں سیکھنا، اور نہ اس میں یہ رجحان ہو کہ تاریخ میں ہمارے پاس جو کچھ ہے بس وہی حتمی اور آخری ہے، ایسی چیز نہیں ہے، تو ایک دائرے میں سارے انسان شریک ہیں اور ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
ذیشان ہاشم:
آخری سوال، اسلام کا پاکستانی ریاست میں جو کردار ہے، اس سے متعلق ہے۔ پاکستان کے اندر تقریباً پچانوے ستانوے فیصد مسلمان رہتے ہیں، اور جو اجتماعی معاشرہ موجود ہے اس کے اندر بھی جو اقدار موجود ہیں وہ مسلمانوں کی قائم کردہ اقدار ہیں، چاہے اس کے اندر اسلام کتنا موجود ہے کتنا نہیں موجود، ہم یہ دیکھتے ہیں کہ سماجی طور پر مسلمانوں کے معاشرے کی ایک آئیڈیل مثال ہم نہیں پیش کرتے۔ دوسری طرف اگر ہم سیاسی طور پر دیکھیں تو پاکستان کے اندر ایک حلقہ موجود ہے جو یہ کہتا ہے کہ ریاست اسلام کو اپنے فاشسٹ مقاصد کے لیے — ان لوگوں کے بقول — بطور ہتھیار کے استعمال کرتی ہے ، اور خاص طور پر جمہوریت اور انسانی حقوق اس کا نشانہ ہیں۔ تو ایسے کیونکر ہو رہا ہے؟ کون استعمال ہو رہے ہیں؟ اور یہ پورا میکانزم کیا ہے کہ ایک پورا کا پورا مذہب اور اس کے علماء کرام کا ایک طبقہ ریاست کے لیے بطور ڈھال استعمال ہو رہا ہے، صرف پاکستان میں نہیں، اگر ہم عرب ممالک میں دیکھیں یا باقی ممالک میں بھی دیکھیں تو ایک آسان سا ہتھیار موجود ہے، تو اس کی کیا وجہ ہے؟
عمار خان ناصر:
دیکھیں، پہلی بات جو آپ نے کہی کہ پاکستان میں مذہب کو ریاست استعمال کر رہی ہے، یا مذہبی طبقے کو ریاست استعمال کر رہی ہے، تو اس کو اگر تاریخی طور پر ہم دیکھیں تو مجھے لگتا کہ یہ ریاست نے آہستہ آہستہ سیکھا ہے۔ بہت ابتدا میں اور کافی عرصے تک ریاست شاید مذہبی معاملات کو یا مذہبی ایشوز کو یا مذہبی شناخت کو اپنانے میں بہت زیادہ دلچسپی نہیں رکھتی تھی۔ لیکن جو مذہبی حلقے ہیں، علماء ہیں، مذہبی جماعتیں ہیں، جو کہ ہمارا معاشرہ تاریخی طور پر اسلام سے تعلق رکھتا ہے اور وہ شناخت کا حصہ ہے، تو مذہبی طبقوں نے کوشش کر کے دباؤ ڈال کر ریاست کو مجبور کیا کہ وہ مذہب کو اور مذہبی چیزوں کو خاص طور پر شناخت کا حصہ بنائے اور ایسے اقدامات کرے جس سے یہ نظر آئے کہ یہ ایک اسلامی ریاست ہے۔ تو اس سے مجھے ایسا لگتا ہے کہ آہستہ آہستہ ریاست کو وہ پریشر لینا پڑا، ریاست نے وہ دباؤ لیا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس نے پھر آہستہ آہستہ یہ بھی سیکھ لیا کہ اگر ان کے ساتھ معاملہ کرنا ہے تو یہ یکطرفہ نہ ہو، تو ریاست نے بھی پھر مذہبی طبقوں کو manipulate کرنا سیکھا ہے اور اس کے بعد سے وہ اب تک ایسا کر رہی ہے، اور اس میں پھر جہاں جہاں وہ کام دے سکتے ہیں، وہ کوئی خارجہ پالیسی کے مقاصد ہوں وہاں وہ کام لے رہی ہے، وہ معاشرے کے اندر ایک طرح کا خوف یا اس طرح کی کیفیت پیدا کرنے میں کام لے رہی ہے، وہ شخصی آزادیوں کو روکنے کے لیے کام لے رہی ہے، مثال کے طور پر جمہوری آزادیاں یا لبرل ازم کی ایسی آوازیں جو شاید اقتدار کو یا طاقتوں کو پسند نہیں ہیں، تو ان کے خلاف بھی وہ کام لے رہی ہے۔ تو ایک تو تاریخی طور پر مجھے یہ لگتا ہے کہ اب ریاست نے بہت اچھی طرح سیکھ لیا ہے کہ وہ مذہبی طبقوں کو اور ان کے ذریعے سے مذہب کو وہ کیسے استعمال کرسکے۔
مسلمان معاشروں کی عمومی صورتحال، اس میں مجھے لگتا ہے کہ دو تین چیزیں ہیں کہ ہماری جو تاریخی میراث ہے ، جو legacy ہمیں ملی ہے، تو اگرچہ ہم جدید سیاسی تصورات اور سسٹم وغیرہ سے متعارف ہو رہے ہیں لیکن ہمارا جو اجتماعی مزاج ہے اور نفسیات ہے، وہ وہی ہے۔ مثلاً آج زیادہ تر مسلمان ملکوں میں سیاسی طاقت کو legitimacy (جواز) کا سوال درپیش ہے، یعنی سیاسی طاقت جو ہے وہ ماڈرن سٹینڈرڈز پر، جدید تصورات کے مطابق وہ legitimit نہیں ہے۔ اور جن طبقوں کی حکمرانی ہے وہ چاہتے ہیں کہ وہ قائم رہے۔ تو اس کے لیے انہیں معاشروں میں اظہارِ خیال کی آزادی، سیاسی تنقید کی آزادی، اور نئے اسٹرکچرز بنانے کی آزادی، جو وہ نہیں دے سکتے، تو ایک بڑا مسئلہ سیاسی طاقت کے جواز کا ہے، وہ یہ تقاضہ کرتا ہے کہ معاشرے بند رہیں اور ان میں آزادیاں نہ ہوں۔
دوسری چیز یہ کہ ہمارے جو معاشرے ہیں وہ بنیادی طور پر نوآبادیاتی طاقتوں کے ذریعے سے متعارف ہوئے ہیں، جمہوریت سے بھی، جدید ریاستی مشینری سے بھی، اور جو سسٹمز ہیں ان سے بھی۔ یعنی ہم نفسیاتی طور پر بھی — جیسے ایک فرد کی عادتیں بنی ہوتی ہیں جو آسانی سے نہیں بدلتیں، تو معاشرے تو بہت ہی پیچیدہ ہوتے ہیں — تو ان کے جو بنے ہوئے سانچے ہیں، رویے ہیں، وہ آہستہ آہستہ بدل رہے ہیں، ٹوٹ پھوٹ بھی پیدا ہو رہی ہے، کچھ فرسٹریشن بھی اس سے پیدا ہو رہی ہے، اور ساتھ ساتھ تبدیلی کے ردعمل میں تھوڑا مزاحمت کا رویہ بھی ہے۔ تو میرا خیال ہے کہ چونکہ ہماری تاریخی صورتحال اس طرح کی ہے، تو اس پہ شاید وقت لگے گا کہ یہ دونوں چیزیں، معاشرتی سانچے جو بدل رہے ہیں تو ساتھ ساتھ ہمارے رویے بھی ان سے ہم آہنگ ہوں، اس کے لیے کچھ وقت چاہیے۔ اور ہماری جو سیاسی طاقت کے جواز کا مسئلہ ہے، وہ کسی طریقے سے اس سطح پہ آئے کہ وہ جمہوریت کے مطابق ہو جائے اور جمہوری اصولوں کے مطابق وہ مان لیں کہ یہاں یہ کام معاشرے کو اور سوسائٹی کو کرنا ہے۔ تو اس کی خواہش یا اس کی آمادگی پیدا ہونے میں، یا اتنا دباؤ بننے میں کہ وہ طاقتیں پھر پیچھے ہٹیں، یہ ایک عمل ہے، دیکھیں کہ یہ کب اور کس مرحلے پہ جا کے مکمل ہوتا ہے۔
ذیشان ہاشم:
اس پر میرے خیال میں ضروری ہے کہ ہم علیحدہ سے نشست رکھیں جس میں ہم اسلام اور جمہوریت، مسلمان معاشروں میں جمہوریت، اس پر تفصیل سے بحث کی جا سکتی ہے۔ وقت کی کمی ہے ورنہ اور بھی بہت سارے سوالات تھے، گفتگو ہم طویل کر سکتے تھے، آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے ٹائم دیا، اور میں ناظرین کا بھی شکرگزار ہوں کہ آپ نے یہ پروگرام دیکھا۔ اللہ حافظ۔
عمار خان ناصر:
بہت شکریہ، میری طرف سے بھی آپ کا مکرر شکریہ، اسی طرح کے موضوعات پر آپ اہلِ علم کے ساتھ (یہ سلسلہ جاری رکھیں) فی امان اللہ۔
(مکمل)





















