▲ ☰

اوّلیاتِ برصغیر
برصغیر میں پیش آنے والی اولین علمی کاوشیں

’’اوائل‘‘ یا ’’اولیات‘‘ کے موضوع پر کئی علما نے قلم اٹھایا ہے، ان میں امام سیوطی، سلیمان بن احمد الطبرانی، اور ابن ابی عاصم شیبانی (علیہم الرحمہ) کے نام قابل ذکر ہیں۔ اردو زبان میں اس موضوع پر انھی علما کی کتب سے قابل اعتماد معلومات کا انتخاب کر کے ترمیم و اضافے کے ساتھ ’’سب سے پہلے کون‘‘ کے عنوان سے شیخ عظیم حاصل پوری نے کتاب لکھی ہے۔ اوائل یا اولیات عربی کے لفظ ’’اول‘‘ کی جمع ہے، جس کے معنی ’’پہلی چیز‘‘ کے آتے ہیں۔ ہر وہ کام جو سب سے پہلے سرانجام پائے ’’اول‘‘ کہلانے کا مستحق ہے۔ درج ذیل مضمون میں خاص طور پر ’’برصغیر‘‘ کے حوالے سے پیش آنے والی ’’اولیات‘‘ کو جمع کیا گیا ہے۔

برصغیر میں سب سے پہلے عوامی سطح پر درسِ قرآن شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ نے شروع کیا، اس سے پہلے عوامی سطح پر درسِ قرآن نہیں ہوا کرتا تھا، محدود درسِ قرآن کا آغاز شاہ عبد العزیز کے دادا شاہ عبد الرحیم نے شروع کیا تھا، پھر شاہ ولی اللہ نے اس کو جاری رکھا، لیکن عام سطح پر درسِ قرآن، جس میں ہزاروں لوگ شریک ہوا کرتے تھے، وہ شاہ عبد العزیز کا درسِ قرآن تھا، جو ہفتہ میں دو بار ہوا کرتا تھا1۔

سر عبد الرحیم جو ایک مسلمان قانون دان تھے، ان کا تعلق کلکتہ سے تھا، انہوں نے اسلام کے نقطۂ نظر کو ایک نئے انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے اسلام کے اصول قانون پر ایک کتاب لکھی جو انگریزی زبان میں اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے (Principles of Muhammadan Jurisprudence) اور یہ انگریزی زبان میں اصول الفقہ پر پہلی کتاب ہے۔ کتاب کے مصنف عربی زبان سے کسی حد تک، اور فارسی اور اردو سے بڑی حد تک واقف تھے۔ اور فقہ اسلامی سے مصنف کو اچھی خاصی واقفیت تھی، انگریزی زبان پر مکمل دسترس حاصل تھی، انگریزی قانون کے بڑے ماہر تھے، اس لیے انھوں نے انگریزی زبان میں، انگریزی اصطلاحات اور انگریزی اسلوب بیان میں اصول فقہ کے موقف کو پہلی مرتبہ مغربی دنیا کے سامنے رکھا2۔

پاکستان میں بنکاری کے نظام کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کا کام ۱۹۸۰ء میں شروع ہوا۔ ۱۹۸۰ء میں اسلامی نظریاتی کونسل نے ایک رپورٹ پیش کی، جو اس اہم موضوع پر ایک متفق علیہ رپورٹ تھی۔ اس رپورٹ کی تیاری میں ماہرین بنکاری بھی شامل تھے، پاکستان کے تمام بڑے بنکوں کے سربراہ یا سینئر نمائندے اس رپورٹ کی تیاری میں شریک تھے۔ پاکستان کی تمام یونی ورسٹیوں کے شعبہ ہائے اکنامکس کے اس وقت کے سربراہان اس رپورٹ کی تیاری میں شریک تھے، علما میں دیوبندی، بریلوی، شیعہ، اہل حدیث اور کوئی مسلک نہ رکھنے والے سب علما نے اس کے ساتھ اتفاق کیا۔ یہ رپورٹ ایک خالص فقہی مسئلہ کے بارے میں تھی کہ پاکستان سے سود کا خاتمہ کس طرح کیا جائے؟ اور کن مراحل میں ختم کیا جائے؟ یہ رپورٹ ماہرین معاشیات، ماہرین قانون، علماے شریعت سب کی متفقہ طور پر تیار کردہ تھی۔ یہ دنیاے اسلام کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا کہ ایک فقہی اور قانونی مسئلہ پر دنیائے اسلام میں دستیاب تمام مہارتوں نے اور مختلف نقطۂ نظر رکھنے والے لوگوں نے ایک متفقہ رائے پیش کی3۔

ہندیات کے مشہور محقق ابو ریحان بیرونی کے حوالہ سے یہ بات نقل کی گئی ہے کہ جس زمانے میں بیرونی ہندوستان آیا تھا، اس کی آمد سے کچھ دن پیشتر ایک کشمیری پنڈت نے پہلے پہل ویدوں کو کتابی قالب عطا کیا، ورنہ اس سے پہلے ویدوں کا سارا دارومدار ان پنڈتوں کے حافظہ پر تھا جو نسلا‌ بعد نسل اس کے اشلوکوں کو زبانی یاد کرتے آرہے تھے۔ اس کشمیری پنڈت سے پہلے زبانی یادداشت کی شکل میں کم از کم دو ہزار سال تک ہندو دھرم کی یہ بنیادی کتاب کاغذ، سیاہی اور قلم و دوات کی منت کشی سے آزاد رہی4۔

عالم اسلام میں علم جرح و تعدیل پر پہلی مستقل کتاب مولانا عبد الحی لکھنوی نے لکھی5۔

ابتدا میں برصغیر کے نصاب میں حدیث اور تفسیر کی کتابیں یا تو سرے شامل نہیں تھیں یا محض برائے نام شامل تھیں۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی جب حج کے لیے تشریف لے گئے تو پہلی بار مشکوۃ کا نسخہ ساتھ لائے، اس کے بعد ہی برصغیر میں اسلامی تاریخ میں غالبا پہلی بار باقاعدہ طور پر علم حدیث کی درسی کتاب کے طور پر مشکوۃ شریف مروج ہو گئی6۔

عوام کو دینی باتوں کے سمجھانے کے لیے عام فہم، سلیس اور ٹھیٹ اردو میں مختصر رسالے لکھنے کی داغ بیل سب سے پہلے سید احمد شہید نے ڈالی، انھی کی روش ان کے خلفا اور مریدان بااخلاص شاہ اسماعیل شہید، مولانا خرم علی بلہوری اور اولاد حسن قنوجی رحمہم اللہ نے اختیار کی اور روزمرہ کی سادہ اردو میں مفید رسالے لکھے7۔

برصغیر میں پہلی مرتبہ تصحیح و تعلیق اور تحقیق کے بعد بخاری شریف کو مولانا احمد علی سہارن پوری نے شایع کیا8۔

دور جدید میں ایک نئے علم الکلام کی ضرورت کا احساس پیدا ہو چلا ہے۔ علم کلام نو جس میں یونانیوں کی غیر ضروری عقلیات، ازکار رفتہ دلائل، اور غیر علمی خرافات سے جان چھڑا کر رائج الوقت اسلوب استدلال اور رائج الوقت علمیات کے اصول مسلمہ کے مطابق احکام قرآن کی وضاحت اس طرح کی جائے کہ اس میں نئے استدلال اور نئے اسلوب سے کام لیا گیا ہو۔ یہ بات ہمارے لیے بڑی خوش آئند ہے کہ اس ضرورت کا احساس سب سے پہلے برصغیر میں ہوا9۔

عالم اسلام میں علامہ اقبال نے سب سے پہلے اسلامی قوانین پر از سر نو غور و خوض کی ضرورت کا احساس کیا۔ انھوں نے صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کے نام ایک خط میں، جو غالبا‌ ۱۹۲۵ء کی کسی تاریخ میں لکھا گیا تھا، کہا تھا کہ مسلمانوں پر اس وقت جو وقت آیا ہے یہ بڑا نازک دور ہے۔ مذہب اسلام زمانے کی کسوٹی پر کسا جا رہا ہے۔ اس وقت یا تو مسلمان اپنی آزادی یا بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں یا اسلامی قوانین پر غور کر رہے ہیں۔ پھر علامہ اقبال نے لکھا کہ میرے خیال میں اس زمانے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ دور جدید کے اصول قانون پر ایک تنقیدی نگاہ ڈال کر احکام اسلام کی ابدیت کو ثابت کیا جائے، جو شخص اس کام کو کرے گا اور احکام اسلامیہ کی ابدیت کو ثابت کرے گا، وہ میرے نزدیک اس دور کا مجدد ہو گا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ علامہ اقبال کی نظر میں پاکستان بننے سے تقریبا‌ ۲۵ /۳۰ سال پہلے اسلامی قوانین پر غور و فکر اور تحقیقی کام کتنا اہمیت رکھتا تھا اور وہ برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی کے بعد پیش آنے والے مسائل اور معاملات پر کتنی گہرائی سے غور کر رہے تھے۔ علامہ اقبال کی مختلف تحریروں اور بیانات میں ان خطوط کی طرف بھی اشارات ملتے ہیں جن کی بنیاد پر وہ اسلامی قوانین پر غور کرنا چاہتے تھے۔ آج ہماری من حیث القوم یہ ذمہ داری ہے کہ ہم علامہ اقبال کے افکار و تجاویز سامنے رکھتے ہوئے ایک ایسا نقشہ ٔکار وضع کریں جس سے کام لے کر اسلامی قوانین کا نفاذ کیا جا سکے اور دور جدید کے انسانی ساختہ قوانین پر ان کی برتری ثابت کی جا سکے۔ چناں چہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ دور جدید کے وہ مسلم دانش ور اور محققین جو اسلامی قانون اور فقہ سے واقفیت رکھتے ہیں اور جن کو اللہ نے یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ دور جدید کے اصول قانون اور تصورات قانون پر نگاہ ڈال سکیں، ان کی یہ ملی اور اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ احکام اسلامیہ کی ابدیت کو ثابت کریں اور دور جدید کے تصورات کی روشنی میں دنیا کو یہ بتائیں کہ اسلام کے قوانین ہی انسان کے درد کا مداوا ہیں۔ ایک صحیح الخیال مسلمان جس کو اس بات کا مکمل یقین ہے کہ اسلام ہی اللہ تعالی کا آخری پیغام ہے، جس کو اس بات پر شرح صدر حاصل ہے کہ اسلام کا قانون ہی انسان کے انفرادی اور اجتماعی مسائل کا حل ہے اور جو ہر دور میں اسلامی شریعت کی معنویت اور صلاحیت پر کامل ایمان رکھتا ہے، اس کے لیے تو معاملہ اتنا زیادہ مشکل نہیں۔ علامہ اقبال نے جو توجہ دلائی ہے وہ ان لوگوں کو قائل کرنے اور مطمئن کرنے کے لیے ہے جن اسلام پر یا تو ایمان ہے ہی نہیں یا کم زور ہو چکا ہے، کو اسلام پر یاتو کاربند نہیں ہیں یا اسلام سے ان کی وابستگی بہت کم زور ہو چکی ہے، ایسے لوگوں کے لیے اسلام کے تصور حیات، تعلیمات اور قوانین کو اس انداز میں پیش کرنا کہ ایسے سب لوگ دور جدید میں احکام اسلامیہ کی ابدیت پر پوری طرح مطمئن ہو جائیں، وقت کی سب سے بڑی علمی اور فکری ضرورت ہے۔ یہ درحقیقت ایک مجددانہ کام ہے جو پوری دنیا کے مسلمانوں کا بالعموم اور پاکستانیوں کا بالخصوص ایک اجتماعی فریضہ ہے، کیوں کہ پاکستان ہی کے مصور اور پاکستان ہی کے فکری بانی اور مؤسس نے اس کی اہمیت کو سب سے پہلے محسوس کیا تھا اور اس کی طرف توجہ دلائی تھی10۔

مسلم امہ کی چودہ سو سالہ تاریخ میں دینی مدرسے کا تصور سب سے پہلے برصغیر میں انگریز گورنر جنرل ہیسنگر نے ۱۷۸۱ء میں کلکتہ مدرسہ کھول کر پیدا کیا۔ اس سے قبل بغداد کے دارالحکومت سے شروع ہونے والی مدارس کی تحریک دنیا بھر کے علوم کی قائد بنی، اس کے زیر اثر قائم ہونے والے تمام مدارس علوم دینیہ اور دنیویہ میں کوئی فرق نہیں کرتے تھے۔ ان کے نزدیک سید الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مصداق علم مؤمن کی گم گشتہ متاع تھا۔ اس امت کے تمام مدارس میں قرآن و سنت اور فقہ کے علاوہ جو علوم پڑھائے جاتے تھے، ان میں علم طب، علم کیمیا، علم فلسفہ، علم تاریخ، اور دیگر کئی علوم بھی شامل تھے11۔

1810ء میں کلکتہ میں پہلا مشنری سکول کھولا گیا جس کے نصاب میں بائیبل کی اخلاقیات اور عیسائی تعلیم کے ساتھ تمام دنیوی علوم پڑھائے جاتے تھے، انگریزی کو ذریعۂ تعلیم بنایا گیا اور تمام نوکریوں کے لیے انگریزی لازمی قرار دے دی گئی12۔

قرآن مجید کا سب سے پہلا بامحاورہ ترجمہ شاہ عبد القادر دہلوی رحمہ اللہ نے کیا13۔ یہ ترجمہ نہ صرف اردو زبان کا پہلا بامحاورہ ترجمہ ہے؛ بلکہ صحت کے اعتبار سے اردو کا بہترین ترجمہ بھی ہے۔ اس سے استفادے کے دوران میں اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن مجید کے بہت سے مشکل مقامات جہاں مفسرین نے لمبی لمبی بحثیں کی ہیں اور بہت سے سوالات اٹھائے ہیں، وہاں شاہ صاحب ترجمہ اس طرح کر دیتے ہیں کہ کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا؛ بلکہ خودبخود ترجمہ سے ہی مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔ ترجمہ اگرچہ پرانا ہے اور اس کا اسلوب بھی اب متروک ہو چکا ہے؛ لیکن اردو زبان میں اس سے بہتر ترجمہ کرنا ممکن نہیں ہے14۔

احادیثِ نبویہ کو سب سے پہلے کمپیوٹرائز ڈاکٹر مصطفیٰ اعظمی نے کیا۔15

ہماری تراث کی چند اہم کتابیں ایسی ہیں جو برصغیر کے علما کی ہی کوششوں سے پہلی بار منظر عام پر آئیں۔ ان میں سے صحیح ابن خزیمہ جو صحیح بخاری و صحیح مسلم کے علاوہ احادیثِ صحیحہ پر مشتمل ایک اہم کتاب ہے، چار جلدوں میں اس کی اشاعت ڈاکٹر مصطفیٰ اعظمی کی تخریج و تحقیق کے بعد ہی ممکن ہو سکی۔

محدثین کے اسلوب نقد حدیث پر سب سے پہلے ڈاکٹر مصطفیٰ اعظمی نے قلم اٹھایا۔ اس موضوع پر آپ نے ایک کتاب ’’منہج النقد عند المحدثین نشاتہ، تاریخہ‘‘ کے نام سے لکھی16۔

’’الکفایۃ فی علم الروایۃ‘‘، یہ خطیب بغدادی کی مشہورِ زمانہ کتاب ہے، پہلی بار دائرۃ المعارف العثمانیہ، حیدرآباد، دکن کے ذریعے سامنے آئی۔

’’لسان المیزان‘‘ اور ’’تہذیب التہذیب‘‘، جو علم رجال پر حافظ ابن حجر عسقلانی کی انتہائی مشہور اور مستند کتابیں ہیں، پہلی بار اسی ادارے نے شائع کیں۔

’’المؤتلف و المختلف‘‘، حافظ ابن ماکولا کی بڑی جامع کتاب ہے اور کئی جلدوں پر مشتمل ہے، پہلی بار اسی ادارہ سے شائع ہوئی۔

کتاب ’’الجمع بین کتابی ابی نصر الکلاباذی و ابی بکر الاصفہانی فی رجال البخاری و مسلم‘‘، صحیح بخاری اور مسلم کے مشترک رجال پر یہ کتاب سب سے پہلے اسی ادارہ سے شائع ہوئی17۔

برصغیر میں من گھڑت اور موضوع احادیث پر پہلی جامع اور مستند کتاب شیخ طاہر پٹنی کے قلم سے وجود میں آئی، انھوں نے ’’تذکرۃ الموضوعات‘‘ کے نام سے کتاب لکھی۔ یہ انتہائی جامع اور ضخیم کتاب ہے، اس کے کئی ایڈیشن پاکستان، ہندوستان اور عرب دنیا میں شائع ہوئے اور عام طور مشہور و معروف ہیں18۔

برصغیر میں سب سے پہلے موطا امام مالک کا درس شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے شروع کیا19۔

مصنف عبد الرزاق ایک بڑی جامع کتاب ہے، اتنی جامع کہ حدیث کے چند جامع ترین مجموعوں میں اس کا شمار ہوتا ہے، صحابہ اور تابعین کے اقوال اور فتاوی کا بہت بڑا ماخذ ہے، فقہ حنفی کے لیے مفید ذخیرہ ہے؛ لیکن اس کے مخطوطے بہت محدود تھے کہیں کہیں پائے جاتے تھے، مولانا حبیب الرحمن اعظمی رحمہ اللہ نے اسے ایڈٹ کیا اور بھارت کے سملک (صوبہ گجرات) سے چھپوا کر پوری دنیا میں تقسیم کرا دیا۔

’’مسند الحمیدی‘‘، ابوبکر عبد اللہ بن زبیر حمیدی کی تالیف ہے، جو امام بخاری کے استاذ ہیں، یہ کتاب عام طور پر نہیں ملتی تھی، کہیں کہیں اس کے مخطوطے اور نسخے موجود تھے، مولانا حبیب الرحمن اعظمی نے اس کو بھی ایڈٹ کیا، اور صوبہ گجرات کے شہر سملک سے ہی شائع کرا دیا، آج وہ دنیا کی ہر لائبریری میں موجود ہے۔

’’سنن سعید بن منصور‘‘، امام سعید بن منصور کی تالیف ہے، جو امام مسلم، امام ابوداود، ابوزرعہ دمشقی، ابو زرعہ الرازی اور امام احمد بن حنبل کے استاذ اور شیخ تھے۔ اس کے اجزا کی اولین دریافت، تحقیق و تعلیق اور ترتیب ڈاکٹر حمید اللہ نے کی اور مجلس علمی، ڈابھیل سے چھپوا کر دنیا میں عام کیا20۔

امام ابوبکر بزار کی کتاب مسند بزار، اس کے زوائد پر ایک پرانی کتاب چلی آرہی تھی جس کا نام تھا ’’کشف الاستار عن زوائد البزار‘‘، یہ بھی پہلی مرتبہ مولانا حبیب الرحمن اعظمی نے ایڈٹ کروا کر شائع کروا دی21۔

جدید علم اقتصاد پر اردو زبان میں سب سے پہلی کتاب علامہ اقبال نے لکھی22۔

حضور ﷺ کے مکاتیب اور دستاویزات پر پہلی کتاب شیخ ابو جعفر محمد بن ابراہیم الدیبلی نے لکھی۔ دیبل بعض لوگوں کے خیال میں کراچی کا پرانا نام تھا۔ بعض لوگوں کے خیال میں ٹھٹہ کے قریب کسی بستی کا نام تھا۔ بہر حال یہ سندھ ہی کی کوئی بستی تھی اور علامہ ابو جعفر الدیبلی سندھ ہی کی کسی علاقے سے تعلق رکھتے تھے۔ چوتھی صدی ہجری میں ان کا انتقال ہوا۔ انھوں نے مکاتیب نبوی پر ایک کتاب لکھی۔ یہ مکاتیب نبوی پر قدیم ترین کتاب ہے، جس کا اردو ترجمہ بھی ڈاکٹر عبد الشہید نعمانی نے شائع کیا ہے اور آج کل دستیاب ہے23۔

شیخ عبد الحق دہلوی رحمہ اللہ برصغیر میں علم حدیث کے امام گزرے ہیں۔ حدیث کے علاوہ سیرت پر بھی ان کا کام بہت بلند پایہ ہے۔ برصغیر میں سیرت پر جو بہترین اور ابتدائی کتابیں لکھی گئیں، وہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی کے قلم سے سامنے آئیں۔ مدارج النبوہ ان کی دو جلدوں میں بارہ سو صفحات پر مشتمل ایک ضخیم کتاب ہے۔ کئی مرتبہ چھپ چکی ہے۔ یہ برصغیر کی سب سے پہلی اور مستند کتاب سیرت ہے۔ سیرت کے ہر گوشے سے بحث کرتی ہے24۔

قرآن مجید کو پہلی مرتبہ نصابی متن کے طور پر شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے متعارف کرایا۔ شاہ صاحب سے پہلے تک قرآن مجید خود بطور درسی متن کے نصاب میں شامل نہ تھا۔ بعض تفسیروں کا انتخاب پڑھا دیا جاتا تھا؛ لیکن یہ بھی وہ تفسیریں تھیں جو کلامی اور فلسفیانہ نقطۂ نظر سے لکھی گئی تھیں یا ادبی اور بلاغتی نقطۂ نظر سے لکھی گئی تھیں۔ ایسی تفاسیر کے کچھ حصے برائے نام یا کچھ نمونے، نصاب میں شامل تھے۔ اس کے علاوہ قرآن پاک براہ راست نہیں پڑھایا جاتا تھا25۔

امام ترمذی کی ’’شمائل‘‘ کا سب سے پہلا اردو ترجمہ مولانا کرامت علی جون پوری نے کیا، یہ سید احمد شہید کے تلامذہ میں سے تھے، اور ان کے خاص شاگردوں اور مریدین میں شامل تھے۔ ان کے اصلاحی اور جہادی کارناموں سے برصغیر کی تاریخ کا ایک باب روشن ہے۔ انھوں نے مشرقی ہندوستان بہار، اڑیسہ اور بنگال کے علاقوں میں جہاد اور اصلاح کی شمع روشن کی اور سیرت و حدیث کے مضامین کو مقبول بنایا۔ ان کا یہ ترجمہ ’’انوار محمدی‘‘ کے نام سے ۱۲۱۲ھ میں مکمل ہوا تھا26۔

ڈاکٹر حمید اللہ مرحوم نے سیرت نبوی کے بعض ایسے پہلو نمایاں کیے جو ان سے پہلے کسی سیرت نگار کے سامنے نہیں تھے، انھوں نے دریافت کیا کہ مکہ ایک ’’شہری ریاست‘‘ یعنی سٹی اسٹیٹ تھا۔ انھوں نے قدیم مآخذ سے یہ ساری معلومات جمع کیں۔ اس پر اردو، انگریزی، فرانسیسی، عربی اور جرمن زبانوں میں متعدد تحقیقی مقالات لکھے، اور پہلی مرتبہ انھوں نے ہی مکہ مکرمہ کے بارے میں ’’سٹی اسٹیٹ‘‘ ہونے کی بات کی۔

اسی طرح ڈاکٹر حمید اللہ نے ہی پہلی مرتبہ مدینہ منورہ میں ’’سٹی سٹیٹ‘‘ کے آغاز کی بات کی۔

ڈاکٹر حمید اللہ پہلے مسلمان محقق اور سیرت نگار تھے جنھوں نے میثاقِ مدینہ پر اس نقطۂ نظر سے غور کیا کہ ’’میثاق مدینہ‘‘ اسلام کی تاریخ تو کیا بلکہ پوری انسانیت کی تاریخ کا پہلا تحریری دستور ہے۔ انھوں نے اس پر کتاب لکھی (The First Written Constitution of the World)، یہ انگریزی میں ایک چھوٹی سی کتاب ہے۔

سیرت کے بعض مآخذ کی ایڈیٹنگ بھی پہلی مرتبہ ڈاکٹر حمید اللہ کے قلم سے سامنے آئی، واقدی کی ’’کتاب الردۃ‘‘ کی انھوں نے ایڈیٹنگ کی۔

سیرت ابن اسحاق کی اولین دریافت، ایڈیٹنگ اور اشاعت کا سہرا بھی ڈاکٹر حمید اللہ مرحوم کو جاتا ہے27۔

بلاذری کی کتاب الانساب کی سب سے پہلی ایڈیٹنگ اور اشاعت بھی ڈاکٹر حمید اللہ کے ذریعے لوگوں کے سامنے آئی28۔

ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے مسلمانوں کے قانون بین الممالک کو ۱۹۳۰ کے لگ بھگ اپنی تحقیق کا موضوع بنایا۔ کئی سال کی طویل تحقیق اور عرق ریزی کے بعد ڈاکٹر صاحب نے اس موضوع پر اپنا تحقیقی کام مکمل کیا جس پر آپ کو عثمانیہ یونی ورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی ملی۔ ڈاکٹر صاحب کا یہ مقالہ پہلی بار ۱۹۴۱ میں لاہور سے مسلم کنڈکٹ آف سٹیٹ کے نام سے شائع ہوا، اب تک اس کے کم و بیش ایک درجن ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں اور ہر ایڈیشن میں مصنف نے حتی الامکان اپنی تازہ ترین تحقیقات و معلومات کو سمونے اور مقالے کے مندرجات میں ضروری ترامیم و اصلاحات کرنے کی کوشش کی۔ ڈاکٹر حمید اللہ کی یہ کتاب مسلم ‘‘کنڈکٹ آف سٹیٹ‘‘ (انگریزی) کسی مغربی زبان میں اسلام کے قانون بین الممالک پر لکھی جانے والی پہلی جامع اور تحقیقی کتاب ہے29۔

اردو زبان کی صَرف و نحو پر برصغیر میں سب سے پہلے اردو کے مشہور شاعر میر انشاء اللہ خان انشا دہلوی نے قلم اٹھایا، ان کی کتاب دریائے لطافت ۱۸۰۲ء/۱۲۲۲ھ میں بہ عہد نواب سعادت علی خان بہادر لکھی گئی۔ اس میں علاوہ قواعد صرف و نحو کے عورتوں کے محاورات، مختلف قوموں کی بولیاں اور گفتگوئیں اور طرح طرح کی نظم و نثر بھی شریک ہے۔ بعض محاورات و الفاظ کی تحقیق بھی خوب کی ہے30۔

نواب کریم خان کا ’’سیاحت نامہ‘‘ اردو زبان کی پہلی ڈائری ہے۔ اس ڈائری کے مرتب ڈاکٹر عبادت بریلوی مقدمے میں لکھتے ہیں:

’’برٹش میوزیم لندن کے شعبۂ مشرقی کے کتب خانے میں نواب کریم خان کے سیاحت نامے کا ایک قلمی نسخہ، جس کا ذکر بلوم ہارٹ نے برٹش میوزیم کے اردو مخطوطات کی فہرست میں کیا ہے، لیکن صرف بلوم ہارٹ کے بیان سے اس کی صحیح اہمیت کا اندازہ نہیں ہوتا۔ اس نے تو صرف اتنی معلومات فراہم کی ہے کہ سیاحت نامی نواب کریم خان کی ڈائری ہے، جس میں انھوں نے اپنے قیام لندن کے حالات کی تفصیل پیش کی ہے۔ نواب کریم خان ریاست جھجھر کے رہنے والے تھے اور آخری تاج دار ہندوستان ابوظفر سراج الدین بہادر شاہ ظفر نے انھیں اپنے سفیر خاص کی حیثیت سے لندن بھیجا تھا۔ وہ یکم دسمبر ۱۸۳۹ء کو کشتی کے ذریعے دلی سے کلکتہ روانہ ہوے اور وہاں سے ۱۴ مارچ ۱۸۴۰ء کو بحری جہاز میں سوار ہو کر ۲۷ جولائی ۱۸۴۱ء کو لندن پہنچے۔ اس سفر کی تفصیل اور لندن کی روزانہ مصروفیتوں کا حال انھوں نے اس کتاب میں لکھا ہے۔ یہ نسخہ خود مصنف کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے۔ یہ کسی طرح گارساں دی تاسی کے پاس پہنچا اور اس نے اس کے پہلے حصے (یعنی اس کے سفرہندوستان کے حالات) کا ترجمہ فرانسیسی زبان میں کر کے REVUE DL'ORIENT FOR 1865 میں شائع کیا تھا۔ دی تاسی نے اپنے مختصر سے پیش لفظ میں اس بات کی وضاحت بھی کی تھی کہ نواب کریم خان کے تعلقات ڈاکٹر ڈکنکن فوربس سے بڑے گہرے تھے اور ڈاکٹر فوربس نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ نواب کریم خان غیر معمولی ذہانت کے انسان تھے اور انھیں یورپ کے نظام سیاست اور طرز حکومت کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنے کا بہت شوق تھا۔ اس نسخے کے شروع میں کچھ فارسی نظمیں اور شیخ سعدی کی گلستان کے چند اقتباسات بھی شامل ہیں۔

میں نے اپنے قیام انگلستان کے زمانے میں بلوم ہارٹ کے اس بیان کو پڑھ کر جب نواب کریم خان کی اس ڈائری کے اس قلمی نسخے کو نکلوایا، تو مجھے یہ اردو نثر کی بڑی ہی اہم کتاب معلوم ہوئی۔ مجھے یہ خیال آیا کہ یہ تو اردو کی باقاعدہ پہلی ڈائری ہے، جو ایک اہم شخص نے انگلستان میں بیٹھ کے لکھی ہے۔ پھر میں نے سوچا کہ اس سے قبل اردو میں ڈائری لکھنے کا کوئی تصور نہیں تھا اور میرے ذہن میں یہ بات بھی آئی کہ اس میں جس طرح ہندوستان کے حالات، بحری جہاز کے سفر کی روداد اور انیسویں صدی کے وسط میں لندن کی سیاسی، معاشرتی اور ثقافتی زندگی کی تفصیلات اور سات سمندر پار سے آئے ہوے ایک اہم غریب الوطن ہندوستانی مسلمان کے تاثرات اور تجربات کو جس طرح پیش کیا گیا ہے، اس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی 31۔

چوتھی صدی ہجری میں برصغیر میں سندھ کے علاقہ میں علم حدیث کی خدمات اپنے عروج کو پہنچی ہیں۔ اس صدی میں خدمت حدیث کے سلسلہ میں دیبل اور منصورہ کو خصوصی و امتیازی مقام حاصل ہے۔ اسی صدی کے آخر میں یہ خدمات وسیع ہو کر ملتان اور لاہور تک پھیل گئیں۔ چناں چہ چوتھی صدی کے آخری دہائی ۳۶۵ھ۔۱۰۰۴ء میں سادات بخارا میں سے ایک محدث شیخ محمد اسماعیل بخاری، بخاری سے ہجرت کر کے لاہور سکونت پذیر ہوگئے۔ یہ سلطان محمود غزنوی کا زمانہ تھا اور اس وقت لاہور فتح نہ ہوا تھا۔

لاہور میں سب سے پہلے درس حدیث کی شمع روشن کرنے والے شیخ محمد اسماعیل ہی ہیں، جن کے وعظ و درس کے ذریعے ہزاروں لوگ رشد و ہدایت پا کر آپ کے دست مبارک پر مشرف باسلام ہوے۔ درس تدریس اور وعظ و ارشاد کی یہ مجالس وفات تک جاری رہیں۔ آپ کو لاہور سے اس قدر محبت و موانست ہو گئی تھی کہ آپ بخاری کے بہ جاے اپنے آپ کو لاہوری کہنے لگے32۔

میر سید عبدالاول، برصغیر کے کبار محدثین میں سے تھے۔ ۹۶۸ھ/۱۵۶۰ء میں وفات پائی اور قلعہ ٔ دہلی کے اندر کشک نرور کے نزدیک قبرستان میں دفن ہوے۔ درس و تدریس کے علاوہ آپ کی زندگی تصنیف و تالیف میں گزری۔ آپ کا سب سے بڑا علمی کارنامہ وہ ہے، جس کی بنا پر آپ برصغیر میں ایک محدث کی حیثیت سے معروف ہوے۔ ’’فیض الباری‘‘ کے نام سے آپ نے شرح بخاری تالیف کی اور اس شرح کو برصغیر کی پہلی شرح بخاری ہونے کا شرف حاصل ہے33۔

اردو زبان کی سب سے پہلی آپ بیتی مولانا محمد جعفر کی کتاب ’’کالاپانی‘‘ ہے۔ حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی اس کے پڑھنے کی ترغیب دیتے تھے34۔


حوالہ جات

  1. محاضرات حدیث، محمود احمد غازی، ص ۴۲۷، الفیصل ناشران، اردو بازار لاہور، اشاعت ہفتم، مئی، ۲۰۱۲ء
  2. محاضرات فقہ، ص: ۵۲۳۔
  3. محاضرات فقہ، محمود احمد غازی ص: ۵۳۴۔
  4. تدوین حدیث، مولانا مناظر احسن گیلانی، ص:۸۹۔
  5. لمحات من تاریخ السنۃ وعلومہا، عبد الفتاح ابوغدۃ، ص: ۹۸۔
  6. نزہۃ الخواطر وبہجۃ المسامع والنواظر ۵/۵۵۴، عبد الحی بن فخر الدین بن عبد العلی الحسنی الطالبی، دار النشر: دار ابن حزم - بیروت، لبنان، الطبعۃ الاولی: ۱۴۲۰ ہ، ۱۹۹۹م۔
  7. سید احمد شہید کی اردو تصانیف و اردو ادب پر ان کی تحریک کا اثر اور سید شہید کا فقہی مسلک، عبد الحلیم چشتی،ص: ۱۳، الرحیم اکیڈمی کراچی، تاریخ طبع:۱۹۸۶ء۔
  8. الاتجاہات الحدیثیۃ فی القرن الرابع عشر الہجری، محمود سعید ممدوح، ص:۳۲، دار البصائر، الطبعۃ الاولی: ۲۰۰۹م – ۱۴۳۰ہ۔
  9. عصر حاضر اور شریعت اسلامی، محمود احمد غازی، ص:۳۱۱، طبع اول، ۲۰۰۹ء، ناشر: انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز، اسلام آباد۔
  10. اسلام کا قانون بین الممالک، محمود احمد غازی، ص: ۱۸ و ۱۹، شریعہ اکیڈمی، اسلام آباد، ۲۰۱۴ء۔
  11. ماہنامہ تعمیر افکار، کراچی، مدارس نمبر، مقالہ: اوریا مقبول جان ص: ۱۴۵۔
  12. ماہنامہ تعمیر افکار، کراچی، مدارس نمبر مقالہ: اوریا مقبول جان ص: ۱۴۷۔
  13. حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمہ اللہ اپنے ترجمہ قرآن کے مقدمے میں فرماتے ہیں: ’’اسی کے ساتھ یہ امر بھی اچھی طرح سمجھ میں آگیا کہ جو لوگ زبان عربی سے ناواقف ہیں، ان کے لیے اگرچہ ترجمہ تحت لفظی میں بعض مخصوص فائدے ہیں، جو بامحاورہ ترجمے میں نہیں ہیں، مگر ترجمہ سے جو بڑی غرض یہ ہے کہ عام اہل اسلام ہندکو قرآن مجید کا سمجھنا سہل ہو جاوے، یہ غرض جس قدر بامحاورہ ترجمہ سے حاصل ہو سکتی ہے، تحت لفظی سے ممکن نہیں۔ چناں چہ شاہ عبد القادر دہلوی جو کہ بامحاورہ اردو ترجمے کے بانی اور امام ہیں، انھوں نے ترجمہ تحت لفظی کو چھوڑنے اور بامحاورہ ترجمے کو اختیار کرنے کی یہی وجہ بیان فرمائی ہے۔ (قرآنی ترجمہ نگاری کی اہمیت اور اصول و قوانین، عبدالخالق آزاد، ص:۸۴، رحیمیہ مطبوعات لاہور، ۲۰۱۶ء)۔
  14. محاضرات قرآنی، محمود احمد غازی، ص:۲۱۹، الفیصل ناشران و تاجران کتب، اردو بازار لاہور، اشاعت پنجم: ۲۰۰۹ء۔
  15. الحاسب الآلی واستخدامہ فی علوم السنۃ، احمد معبد عبد الکریم، انظر ہذا المقال فی "موسوعۃ علوم الحدیث الشریف"، ص:۳۳۸۔
  16. اس کتاب میں موصوف نے دلائل سے ثابت کیا ہے کہ محدثین کرام نے احادیث کے علمی ذخیرہ کو صحیح قرار دینے کے لیے جو اسلوب اختیار کیا ہے، اس کی کوئی نظیر حتی کہ ہمارے زمانہ میں بھی نہیں ملتی ہے۔ نیز اس کتاب میں تدوین حدیث کے ابتدائی دور میں محدثین کے حقیقی طریق کار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ کتاب عربی زبان میں ہے اور ۲۳۴ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن ۱۹۷۵ء میں ریاض سے، دوسرا ایڈیشن ۱۹۸۲ء میں ریاض سے اور تیسرا ایڈیشن ۱۹۸۳ء میں ریاض سے شائع ہوئے ہیں، اس کے بعد بھی اس کتاب کے شائع ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ کتاب جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے نصاب میں داخل ہے۔ (ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ ۵‏، جلد: ۹۸ ‏، رجب ۱۴۳۵ ہجری مطابق مئی ۲۰۱۴ء، الحدیث: مجلۃ علمیۃ محکمۃ نصف سنویۃ۔ السنۃ الرابعۃ، ص:۲۱۹، العدد الثامن، صفر ۱۴۳۶ھ دیسمبر۲۰۱۴م)
  17. محاضرات حدیث، محمود احمد غازی، ص: ۴۳۵۔
  18. محاضرات حدیث، محمود احمد غازی، ص ۴۱۸۔
  19. محاضرات تعلیم، محمود احمد غازی، ص: ۲۵۹، زواراکیڈمی پبلی کیشنز، کراچی، طبع دوم ۲۰۱۴ء۔، محاضرات حدیث، ص: ۴۲۶
  20. مقالہ بعنوان: المجلس العلمی: برصغیر میں خدمت و اشاعت حدیث کا قدیم ادارہ، نثار احمد، ص:۱۳۳، مجلہ فکر و نظر، اسلام آباد، جلد: ۴۲۔۴۳، شمارہ:۱،۴۔
  21. محاضرات حدیث، ص: ۴۴۷۔
  22. اسلام اور مغرب تعلقات، محمود احمد غازی، ص:۳۴۷۔
  23. محاضرات سیرت، محمود احمد غازی، ص:۸۵، الفیصل ناشران، غزنی سٹریٹ، اردو بازار، لاہور، اشاعت پنجم: ۲۰۱۵ء
  24. محاضرات سیرت، محمود احمد غازی، ص:۵۹۸۔
  25. محاضرات سیرت، محمود احمد غازی، ص:۶۰۵۔
  26. محاضرات سیرت، محمود احمد غازی، ص: ۶۱۴۔
  27. مقالہ بعنوان: ڈاکٹر محمد حمید اللہ بطور سیرت نگار، محمد اکرم رانا، مجلہ فکر و نظر، جلد: ۴۰۔۴۱، شمارہ: ۱،۴۔
  28. محاضرات سیرت، محمود احمد غازی، ص: ۶۷۶۔
  29. اسلام کا قانون بین الممالک، ص: ۲۰۶۔
  30. قواعد اردو، مولوی عبد الحق، الناظر پریس واقع خیالی گنج لکھنؤ، (۱۹۱۴ء) ص: ۲۵
  31. سیاحت نامہ، نواب عبد الکریم خان، مرتب: ڈاکٹر عبادت بریلوی، ادارہ ادب و تنقید لاہور، ص: ۷۔۸
  32. علم حدیث اور پاکستان میں اس کی خدمت، ڈاکٹر سعد صدیقی، شعبۂ تحقیق، قائد اعظم لائیبریری، لاہور، طبع اول: ۱۹۸۸ء، ص:۲۰۰
  33. علم حدیث اور پاکستان میں اس کی خدمت، ڈاکٹر سعد صدیقی، ۲۳۴
  34. ندوہ کا ایک دن، ڈاکٹر اکرم ندوی، مجلس نشریات اسلام، ناظم آباد کراچی، ص۵۵

تعارف و تبصرہ

(الشریعہ — نومبر ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — نومبر ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۱۱

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۷)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل کا نبوی منہج (۴)
مولانا ڈاکٹر محمد ابوبکر فاروقی

حدیث میں بیان کی گئی علاماتِ قیامت کی تاریخی واقعات سے ہم آہنگی (۷)
ڈاکٹر محمد سعد سلیم

محاضراتِ فقہ (۵)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۶)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کیا مذہب پر سوال اٹھانا الحاد ہے؟
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی
عامر احمد عثمانی

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۱۱)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۹)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

سائنس کا قبلہ
فرحت علی بیگ

فکری انحراف اور علماء کرام کی ذمہ داری
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی
مفتی شاد محمد شاد

اوّلیاتِ برصغیر
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

تاریخ کا ایک ورق
اسرار الرحمٰن
ڈاکٹر سید راشد علی

بنیادی مذہبی تعلیم
مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ

اسلام کا سیاسی نظام: ایک قانونی تجزیہ (۲)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اسلام اور شخصی آزادی (۳)
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
ذیشان ہاشم

عدالتی خلع کے مسائل
ڈاکٹر محمد امین

Pakistan and the Muslim World: Where We Stand, Where We Go
Maulana Fazal-ur-Rehman

Human Rights: Five Key Differences Between Islamic & Western Perspectives
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

امتِ مسلمہ کا انتشار اور بڑی طاقتوں کا کردار
محمد محسن اقبال

عرب حکومتوں کا مستقبل: بحران، خطرات اور امکانات
تبصرات

مولانا راشدی کے خطابات و بیانات اور مصروفیت
ادارہ

تلاش

شماریات