’’المؤتمر الدولي لجهود المملكة العربية السعودية في مواجهة الانحرافات الفكرية‘‘ کے عنوان سے ایک بین الاقوامی کانفرنس ۲۷ اور ۲۸ ستمبر ۲۰۲۶ء کو مدینہ منورہ کے مرکز الملك سلمان الدولي للمؤتمرات میں منعقد ہوئی، جس کا اہتمام جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ نے کیا تھا۔ کانفرنس کا مقصد فکری انحرافات اور انتہا پسندی کے اسباب و اثرات کا جائزہ لینا، ان کے تدارک کے لیے مؤثر حکمتِ عملی وضع کرنا اور فکری و سماجی تحفظ کے سلسلے میں سعودی عرب کے تجربات اور کوششوں کو اجاگر کرنا تھا۔ اس علمی اجتماع میں مختلف ممالک سے ممتاز علماء، مفتیانِ کرام، محققین اور ماہرین نے شرکت کی۔ کانفرنس کے پہلے روز ’’أثر الفتوىٰ فی مواجهة الانحرافات الفكرية‘‘ کے عنوان سے ایک اہم علمی اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں فکری انحرافات کی روک تھام، فتویٰ کے درست شرعی ضوابط اور معاشرے بالخصوص نوجوان نسل کے فکری تحفظ میں اس کے کردار پر گفتگو کی گئی۔ اس اجلاس میں شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے بھی خطاب کیا اور سعودی عرب کے نظامِ افتاء اور اس کے منہج پر روشنی ڈالی۔ ان کے خطاب کا خلاصہ مولانا مفتی شاد محمد شاد کے شکریہ کے ساتھ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ (ادارہ)
گزشتہ کل جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں منعقد کانفرنس بعنوان "أثر الفتوىٰ فی مواجهة الانحرافات الفكرية" میں استاذ محترم حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم نے ایک مختصر محاضرہ پیش کیا۔ اس محاضرہ کا خلاصہ اردو میں پیش خدمت ہے۔
انحراف کیا ہے؟
حمد وصلوٰۃ کے بعد حضرت نے کانفرنس کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اور پھر سب سے پہلے اس سوال کو ڈسکس کیا کہ انحراف ہے کیا؟
انحراف جادّۂ حق سے ہٹ جانے، یعنی صراطِ مستقیم سے عدول کرنے کا نام ہے۔ انسان جب بھی صراطِ مستقیم سے دائیں یا بائیں مڑ جائے، وہ منحرف ہے۔
اور صراطِ مستقیم وہ ہے جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے کلامِ مجید میں یا اپنے نبیِ کریم ﷺ کی سنت میں بیان فرما دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الشوریٰ میں رسول اللہ ﷺ کے حق میں گواہی دی: ﴿وانک لتہدی الیٰ صراط مستقیم﴾ (اور بلاشبہ آپ سیدھے راستے کی طرف رہنمائی فرماتے ہیں)۔
پھر رسول اللہ ﷺ نے خبر دی کہ اس شاہراہ سے بہت سے انحرافات پیدا ہوں گے، لیکن ساتھ ہی قیامت تک کے لیے ہم سب کو یہ رہنمائی بھی دے دی کہ صراطِ مستقیم وہی ہے جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔ چنانچہ صراطِ مستقیم قرآنِ کریم اور سنتِ نبویہ ہے، اسی فہم کے مطابق جو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور سلفِ صالحین نے سمجھا۔ جو شخص اس طریقے سے ہٹے، وہ منحرف ہے۔
انحرافات کا پس منظر
یہ انحرافات صحابہ کے زمانے سے شروع ہو گئے تھے۔ خوارج آئے، پھر معتزلہ، جہمیہ، کرامیہ جیسے فرقے پیدا ہوئے، جو برسوں عوام پر اثر انداز رہے۔ لیکن اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿فاما الزبد فیذہب جفاء ۖ واما ما ینفع الناس فیمکث فی الارض﴾ (جھاگ تو سوکھ کر ضائع ہو جاتا ہے، اور جو چیز لوگوں کو نفع دیتی ہے وہ زمین میں ٹھہری رہتی ہے)۔ چنانچہ یہ سارے منحرف نظریات آخرکار مٹ گئے اور اب کتابوں اور تاریخ کے صفحات کے سوا کہیں نہیں ملتے۔
اسی طرح موجودہ دور کے انحرافات بھی، خواہ کتنے ہی عام اور پھیلے ہوئے ہوں، ان شاء اللہ مسلمانوں اور علماء کی کوششوں سے ختم ہو جائیں گے۔
انحراف کی جڑ اور دو قسمیں
ان سب انحرافات کی جڑ نصوص کی غلط تاویل ہے۔ آج کے دور میں یہ دو صورتوں میں سامنے آتا ہے:
پہلی قسم: غلو
صحیح اور گہرے علم کے بغیر نصوص کی تعبیر کرنا، جس نے بہت سے لوگوں کو انتہا پسندی تک پہنچایا۔ وہ مسلمانوں کی تکفیر، تبدیع اور تضلیل کرنے لگے، خصوصاً مسلم ممالک کے حکمرانوں کو گمراہ اور مرتد قرار دے کر یہ فتویٰ دینے لگے کہ عام لوگوں پر ان کے خلاف ہتھیار اٹھانا واجب ہے، اور اسے "جہاد" کا نام دے دیا۔ حضرت کے بقول اسے نہ قرآن قبول کرتا ہے نہ سنت۔ یہ نصوص کو غلط طریقے سے پڑھنے کا نتیجہ ہے، اور اسی کی طرف نبی ﷺ نے غلو کرنے والوں کی تحریف اور جاہلوں کی تاویل کہہ کر اشارہ فرمایا۔
دوسری قسم: نصوص سے انحلال
یعنی نصوص کی پابندی سے آزادی اختیار کرنا۔ ایک طبقہ ایسا ہے جس نے اپنے آپ کو مغربی نظریات کے حوالے کر دیا، اور یہ اعتقاد بنا لیا کہ حق سارا کا سارا وہی ہے جو اہلِ مغرب فلسفے اور علوم میں مانتے ہیں۔ چنانچہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ نصوص کی گردنیں مروڑ کر انہیں اپنی ان خواہشات کے مطابق ڈھال لیں جو مغربی نظریات پر قائم ہیں۔ یہ بھی اسی فکری انحراف کا حصہ ہے جس میں ہم اپنے دور میں مبتلا ہیں۔ کچھ لوگ اسی بات پر اڑے ہوئے ہیں کہ سارا کا سارا حق مغرب ہی کے نظریات، فلسفے، آراء اور افکار میں ہے، اور وہ نصوص کی گردنیں اپنی خواہشات اور آراء کے مطابق موڑنا چاہتے ہیں۔
آج کے دور کے فکری انحرافات کی یہی دو قسمیں ہیں: ایک طرف غلو، دوسری طرف نصوص سے بے قیدی۔
علماء کی ذمہ داری اور کردار
حضرت نے فرمایا: دنیا بھر کے علماء پر لازم تھا کہ وہ قطعی دلائل کے ساتھ ان دونوں انحرافات کا مقابلہ کرتے، ایسے دلائل سے جو عوام اور خصوصاً نوجوانوں کو مطمئن کر دیں۔ اس میں مملکتِ سعودی عرب کا بڑا کردار ہے، اور یہ اس کی حیثیت کے مطابق ہی تھا، کیونکہ وہ حرمین شریفین اور جزیرۃ العرب کی محافظ ہے۔ اس نے فکری اور عملی دونوں سطح پر سنجیدہ اقدامات کیے۔
اس سلسلے میں انہوں نے خاص طور پر جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کا ذکر کیا، جس نے قرآن و سنت کے علوم سلفِ صالحین کے منہج پر پڑھائے، اور مشرق و مغرب میں پھیلی ہوئی مسلمانوں کی ایک ایسی نسل تیار کی جو غلو اور بے قیدی دونوں سے دور ہے اور صحیح منہج پر قائم ہے۔ اس پر انہوں نے ان کا شکریہ ادا کیا۔
فتویٰ کا کردار
پھر حضرت نے فتویٰ کے کردار کی بات کی، کیونکہ منحرف افکار کے مقابلے میں فتویٰ کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے ان اداروں کا نام لیا: ہیئۃ کبار العلماء، اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء، رابطۃ العالم الاسلامی کی مجمعِ فقہی، اور مجمع الفقہ الاسلامی الدولی، جسے سعودی عرب کی سرپرستی حاصل ہے۔ ان اداروں نے افتاء، گہری علمی تحقیق اور افراط و تفریط کے درمیان اعتدال کے ذریعے عصری مسائل حل کیے، اور ایسے ٹھوس فتاویٰ جاری کیے جو پورے عالمِ اسلام میں پھیلے اور ہر قسم کی انتہا پسندی، چاہے غلو کی ہو یا نصوص سے بے قیدی کی، کا مؤثر جواب بنے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ دوسرے ممالک میں بھی ایسے علماء موجود ہیں جنہوں نے ان باطل افکار کا مقابلہ کیا، کتابیں لکھیں، خطبات دیے اور صراطِ مستقیم کی دعوت دی، اور امت ان شاء اللہ راسخ العلم اور معتدل علماء سے کبھی خالی نہیں ہوگی۔ لیکن چونکہ اسلام کا سرچشمہ مکہ اور مدینہ ہیں، اس لیے ذمہ داری اس سرزمین پر دوسروں کی نسبت زیادہ ہے۔
سوال: مذاہب کے بارے میں جمود اور تعصب
نظامت کرنے والے نے درخواست کی کہ آخر میں ایک اور بات مختصراً بیان فرما دیں کہ بعض اوقات فقہی مذاہب کے بارے میں جمود اور تعصب بھی فکری انحراف کو ہوا دیتا ہے۔
جواب:
حضرت نے فرمایا کہ: تمام فقہی مذاہب معتبر ہیں۔ صحابہ کے درمیان بھی اختلاف رہا، مگر کسی صحابی سے یہ منقول نہیں کہ اس نے کسی مختلف رائے رکھنے والے کے پیچھے نماز پڑھنے سے انکار کیا ہو۔ یہ مذاہب فقہی مذاہب ہیں، الگ دین نہیں۔ اس لیے سب مذاہب اور ان کے پیروکاروں کا احترام کرنا چاہیے، ان کے درمیان اتحاد کی فضا قائم رکھنی چاہیے، اور فقہی اختلافات کو مسلمانوں کے درمیان تفرقے اور دوری کا سبب نہیں بننے دینا چاہیے۔ منحرف افکار کا مقابلہ کرنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے۔





















