▲ ☰

کیا مذہب پر سوال اٹھانا الحاد ہے؟
الحاد کے نئے چہرے اور ہمارے معاشرے کے تلخ سوالات

عامر احمد عثمانی:

تعریفیں تمام اس ربِ دو جہان کے نام جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ درود و سلام آقائے نامدار رسالت مآب، سرکار ختمِ مرتبت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر۔ عزیزانِ من، جی ٹی وی کے پروگرام ’’ا ل م‘‘ سے اپنے میزبان عامر عثمانی کا سلام قبول کیجیے۔

ناظرین، آج کا نوجوان سوال کر رہا ہے خدا کے وجود پر، مذہب کی ضرورت پر، زندگی کے مقصد پر، اور سزا و جزا کے دن پر۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ اس نوجوان کا محض ایک ذہنی تجسس ہے یا ایک بہت بڑا گہرا فکری بحران ہے جس دلدل میں وہ نوجوان دھیرے دھیرے چلا جا رہا ہے؟ کیا وجہ ہے کہ الحاد آج کے نوجوان کو خدا سے انکار پر مجبور کر رہا ہے؟ کیا وجہ ہے کہ ملحدین کے اعتراضات اور سوشل میڈیا پر چلنے والے چند منٹ کے کلپس اور پوڈکاسٹس کے حوالے سے چلنے والی چیزیں نوجوان کو مذہب سے دور کر رہی ہیں؟ وہ نوجوان کو سزا و جزا کے دن پر اعتراض کے لیے کھڑا کر رہی ہیں۔ وہ نوجوان کو اس سوال پر ابھار رہی ہیں کہ کیا قبر میں سوال و جواب ہوگا؟ کیا وہ جو چیزیں قرآن میں بتائی گئی ہیں، احادیث میں بتائی گئی ہیں، دینِ اسلام جو ہمیں بتاتا ہے، شریعت جو ہمیں راستہ دکھاتی ہے، کیا یہ ساری چیزوں کا حقیقت میں کوئی وجود ہے، یا یہ صرف افسانے ہیں؟ کیا جنت اور جہنم واقعتاً‌ کسی چیز کا نام ہے، یا یہ ایک کہانی ہے جو سنا دی گئی ہے؟ وہ کسی نے کہا کہ آج کے بچے یہ سوال کر رہے ہیں کہ ہم نے اپنے بڑوں سے جب یہ سوال کیا کہ جنت اور جہنم کا کیا تصور ہے؟ آپ نے، آپ کے باپ نے، دادا نے، آپ کی نسلوں میں سے کسی نے وہ چیز دیکھی ہے جس کی طرف آج آپ ہمیں دعوت دے رہے ہیں؟ تو جواب نفی میں ہوتا ہے۔

یہ ساری چیزیں مل کر آج کے بچے کو اور اس کے بعد نوجوان کو اور پھر جوان کو الحاد کی طرف لے جا رہی ہیں۔ اور المیہ یہ ہے کہ پڑھے لکھے لوگ بھی اس دلدل میں دھنستے چلے جا رہے ہیں۔ آج ہم نے خاص طور پر اس موضوع پر بات کرنی ہے اور سوال کرنا ہے کہ وجہ کیا ہے؟ کیا یہ نوجوان عالمِ دین کے پاس آ رہا ہے اور اس کو وہاں سے تشفی بخش جواب نہیں مل رہا؟ کیا اس کو منبر و محراب سے وہ رہنمائی فراہم نہیں کی جا رہی جس رہنمائی کی آج کے نوجوان کو ضرورت ہے؟

ناظرین، خوش قسمتی یہ ہے کہ پاکستان کے بہت معروف اور مفکر عالمِ دین آج کی نشست میں مجھے جوائن کر رہے ہیں۔ میں اس پروگرام ’’ا ل م‘‘ کی بھی خوش قسمتی سمجھتا ہوں اور اپنی ذاتی حیثیت میں بھی۔ تعلیمی خدمات پر آپ کو حکومتِ پاکستان نے تمغہ امتیاز سے نوازا؛ آپ ڈائریکٹر ہیں الشریعہ اکیڈمی کے، ۱۹۸۹ء میں جس کا قیام عمل میں لایا گیا؛ آپ پنجاب بورڈ (حکومتِ پنجاب) کے اہم رکن بھی ہیں؛ اور ساتھ ساتھ آپ ماہنامہ الشریعہ رسالے کے مدیرِ اعلیٰ بھی ہیں، جناب علامہ مولانا زاہد الراشدی صاحب مجھے آج کے پروگرام میں جوائن کر رہے ہیں۔ بہت شکریہ علامہ صاحب۔

جس موضوع پر آج ہم نے بات کرنی ہے وہ موضوع بہت زیادہ اہم ہے، اور اس طرح کے موضوعات پر عموماً‌ ٹی وی چینلز پر یا ٹاک شوز کے اندر گفتگو نہیں ہوتی۔ اور ظاہر ہے آپ کا ایک فکری میدان رہا ہے، تعلیمی خدمات ہیں، اور اس حوالے سے ایک وسیع تجربہ بھی آپ رکھتے ہیں۔ تو میں گفتگو کا آغاز یہاں سے کرنا چاہوں کہ الحاد کی جب بات کی جاتی ہے، تو اگر ہم اس کو سمجھ لیں کہ الحاد بنیادی طور پر کیا صرف خدا کے انکار کا نام ہے؟ اگر خدا کا انکار کر دیا جائے اس کو الحاد کہیں گے؟ یا پھر مذہب سے دوری، مذہب سے لاتعلقی، یہ ساری چیزیں بھی الحاد کی تعریف اور ڈیفینیشن کے اندر آتی ہیں؟

مولانا زاہد الراشدی:

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ میں سب سے پہلے تو جی ٹی وی کے اس پروگرام ’’ا ل م‘‘ کا شکرگزار ہوں کہ اس اہم موضوع پر گفتگو میں مجھے شرکت کا موقع فراہم کیا۔ اللہ پاک قبول فرمائیں اور ہمیں نئی نسل کی رہنمائی کے لیے صحیح اور مثبت باتیں کہنے کی توفیق عطا فرمائیں۔

میں گزارش کرنا چاہوں گا کہ الحاد لفظی طور پر تو اس معنی میں نہیں ہے جس میں ہم بولتے ہیں۔ بہرحال مذہب سے دوری، مذہب سے نئی نسل کا دور ہونا، میں اس حوالے سے پہلے بات کروں گا۔ مذہب سے دوری کی بات تو ہم تب کریں جب ہم نے انہیں مذہب کے قریب کیا ہو۔ مذہب سے قُرب پیدا ہوا ہو، مذہب سے متعارف ہوں، اور پھر مذہب سے دور ہو جائے تو یہ مذہب سے دوری ہے۔ لیکن ہمارا حال یہ ہے؛ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ذمہ داری ماں باپ کی بیان فرمائی ہے: ’’کل مولود یولد علی الفطرۃ، ابواہ یہودانہ او ینصرانہ او یمجسانہ‘‘، ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرتِ سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے، یہ ماں باپ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کو یہودی بنا دیں، عیسائی بنا دیں، مجوسی بنا دیں، مسلمان بنا دیں،۔ گویا بچے کا رُخ متعین کرنا ماں باپ کی ذمہ داری ہے اور اس کا مدار گھر کے ماحول پر ہے۔ میں اس کو یوں تعبیر کیا کرتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ تو خالی سی ڈی بھیجتے ہیں، اس پر ماں باپ کی مرضی ہے کہ وہ جو بھی فیڈ کر دیں۔ اور ماں باپ سے مراد ماحول ہے۔

میرا سوال یہ ہے کہ بچہ پیدا ہوتا ہے تو ہم اس بات کا اہتمام کرتے ہیں کہ بچے کو نہلا دھلا کے صاف ستھرا کر کے اس کے ایک کان میں اذان دیتے ہیں اور دوسرے کان میں تکبیر کرتے ہیں، بس؛ اس کے بعد ماں باپ کا کوئی کردار بچے کو مذہب سے واقف کرانے کا، مذہب کے ماحول سے مانوس کرنے کا، اور اس کا مذہبی رُخ متعین کرنے میں ماں باپ کا کوئی سنجیدہ عملی کردار ہمارے ہاں ہے؟ جب ماحول کا رُخ متعین کرنے میں ماں باپ کا کوئی کردار نہیں ہے، گھر کے ماحول کا کوئی کردار نہیں ہے، اور اس نے اپنا رُخ خود متعین کرنا ہے اور پھر آگے جا کر اس کے ہاتھ میں موبائل آ جانا ہے، تو وہ مذہب کے قریب کب آیا تھا کہ ہم اس پر مذہب سے دور ہونے کا الزام لگاتے ہیں؟ پہلی بات تو یہ ہے۔

ہمارے تین دائرے ہیں۔ پہلا دائرہ گھر کا ماحول ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی بھی بچے کے ذہنی رُخ کے متعین ہونے میں بنیادی کردار گھر کے ماحول کو قرار دیتے ہیں۔ پھر سوسائٹی اور تعلیمی ادارے ہیں، وہاں ہمارے ہاں کون سی سنجیدہ محنت ہے کہ ہم بچوں کو اپنے دین سے، خدا سے، اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے متعارف کرائیں۔ ہم نے اپنے بچوں کو سنجیدگی کے ساتھ خدا اور رسولؐ سے متعارف ہی نہیں کرایا، تو اب ان کے پاس جو بات بھی آئے گی وہ ان کے ذہن میں بیٹھ جائے گی۔ اس پر بچوں کو موردِ الزام ٹھہرانے کی بجائے ہمیں اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا چاہیے اور اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جو خلا ہماری کوتاہیوں کی وجہ سے رہ گیا ہے، اور وہ ہے بے خبری کا خلا، ہمیں اس پر غور کرنا چاہیے۔

الحاد کی کئی شکلیں ہیں۔ مثلاً‌ ہم اس کو الحاد کہتے ہیں کہ خدا کا انکار، رسول کا انکار، قیامت کا انکار؛ اور یہ بھی الحاد ہے کہ خدا اور رسول کو مان کر تعبیرات اور تشریحات اپنی کرنا۔ لیکن اس کی وجہ کیا ہے؟ میرے نزدیک اس کی سب سے پہلی وجہ بے خبری ہے کہ وہ قرآن سے، اللہ سے، رسول سے متعارف ہی نہیں ہے، جس کو ہم بنیاد بنا سکیں۔ اور اس کے بعد اگلے مرحلے پر پھر اس کو جو کچھ بھی سوسائٹی میں ملتا ہے وہ اس کا ذہن متعین کرتا ہے۔ اور تیسرے نمبر پر پھر جب اس کے ہاتھ میں موبائل آتا ہے تو عالمی سوسائٹی اس کے ذہن پر سوار ہو جاتی ہے۔

عامر احمد عثمانی:

یہ مذہب کی حضرت آپ نے بات کی، یہ بھی ایک سوال ہے کہ کیا مذہب صرف عقیدے کا نام ہے؟ یا عقل کے ذریعے بھی اس چیز کی گواہی دی جا سکتی ہے کہ واقعتاً‌ اس کائنات کے اندر خدا کا وجود ہے؟

مولانا زاہد الراشدی:

یہ دونوں باتیں ہیں۔ ایک ہے انسان کی اپنی عقل، لیکن محض اپنی عقل کافی نہیں ہے۔ اس کے ساتھ عقل کے ان پہلوؤں کو اجاگر کرنا، یہ ماحول کی اور ماں باپ کی ذمہ داری ہے۔ بچے کا ذہن خالی ہوتا ہے اور اس کو مختلف اطراف سے رہنمائی ملتی ہے، غلط ملے یا صحیح ملے، وہ رہنمائی اس کی معلومات کا رُخ متعین کرتی ہے۔ میں ایک بات درمیان میں کروں گا کہ عقل خود کچھ بھی نہیں دیتی۔ عقل محض کمپیوٹر ہے، جو فیڈ ہوتا ہے بس اسی کا نتیجہ دیتی ہے۔

عامر احمد عثمانی:

عقل کچھ بھی نہیں دیتی؟ آج جو یہ اتنی بڑی دنیا عقل پر کھڑی ہوئی ہے؟

مولانا زاہد الراشدی:

عقل کمپیوٹر ہے، اس میں جو پروگرام فیڈ کریں گے وہ اس کے مطابق نتیجہ دے گی، اپنی طرف سے عقل کچھ نہیں دیتی، معلومات اس میں سوسائٹی فیڈ کرتی ہے۔ دیکھیں، کامن سینس کی بات ہم کرتے ہیں، امریکہ میں کامن سینس اور ہے، افریقہ میں اور ہے، ہمارے ہاں اور ہے۔ اُس کی فیڈنگ اور ہے، اُس کی فیڈنگ اور ہے، اِس کی فیڈنگ اور ہے۔ عقل فیڈنگ کا نتیجہ دیتی ہے، جو پروگرام کمپیوٹر میں فیڈ کریں گے اس کے مطابق وہ جواب دے گا، پروگرام چینج کر دیں گے تو جواب چینج ہو جائے گا۔

عامر احمد عثمانی:

ڈاکٹر صاحب، بہت شکریہ جوائن کرنے کے لیے، آپ مجھے سن پا رہے ہوں گے یقیناً‌، مولانا زاہد الراشدی صاحب فرما رہے ہیں کہ عقل تو کچھ بھی نہیں دیتی، اور ظاہر ہے آج آدھی دنیا عقل کے اوپر کھڑی ہوئی ہے اور وہ اپنی عقل کو بنیاد بنا کر فیصلے کر رہی ہے، مذہب سے دوری اختیار کر رہی ہے، بہت ساری لاجیکل چیزیں ہمارے سامنے آتی ہیں، آپ کیسے دیکھتے ہیں اس سٹیٹمنٹ کو؟

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی:

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ عامر، بہت شکریہ آپ کا، ایک بہت اہم موضوع پر آج ایک مرتبہ پھر آپ نے پروگرام رکھا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ جب آپ ایتھیزم کی یا نیو ایتھیزم کی بات کرتے ہیں؛ یا بہت سے نوجوان اگناسٹسزم کی طرف جا رہے ہیں، جسے تشکیک کی کیفیت کہا جاتا ہے، اور قرآن نے کہا: ’’ومن الناس من یعبد اللہ علیٰ حرف‘‘ (الحج ۱۱)۔ یعنی بعض لوگ ایسے ہیں جو ایک کنارے پر کھڑے ہو کر اللہ تبارک و تعالیٰ کی عبادت کر رہے ہیں، اور کیفیت یہ ہے کہ نہ اِدھر کے رہتے ہیں نہ اُدھر کے رہتے ہیں۔ اور قرآن کا فلسفہ تو فلسفۂ لا ریب ہے، جو بغیر کسی ریب، قلق، اضطراب اور ڈاؤٹ کے ہمیں ایمان کی دولت عطا کرتا ہے۔

دیکھیں، جہاں تک تعلق ہے حتمی حقیقت تک پہنچنے کا، تو اس کے لیے ہمارے سامنے تین مختلف لوگ ہیں، تین مختلف جہات آپ کہہ سکتے ہیں، یا علوم کہہ سکتے ہیں، جو ہمیں رہنمائی کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں: ایک فلسفہ ہے، ایک سائنس ہے، اور ایک مذہب ہے۔ جب آپ فلاسفی یا سائنٹیفک میتھوڈولوجی کی بات کرتے ہیں، تو یہ تمام کا تمام، آپ غور کیجیے کہ وہ انڈکٹیو لاجک ہو یا ڈیڈکشن کی آپ بات کریں، ان تمام طرح کے امور میں یہ بات پیش نظر رہے کہ انسانوں نے اور بالخصوص مغرب نے یہ بات سیکھ لی ہے کہ انسان اگر محض اپنی عقل کی بنیاد پر چیزوں کو پرکھنے کی کوشش کرے گا تو خطا کر سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فرد سے فرد، زمانہ سے زمانہ، قوم سے قوم چیزیں بدلتی رہتی ہیں۔ آپ آبزرور کو بدلیں، آبجیکٹ کو بدلیں، انوائرنمنٹ کو بدلیں، نتائج مختلف ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے آپ غور کیجیے کہ آنکھوں کا دیکھا ہوا غلط ہو جاتا ہے، آپ کو روڈ پر پانی نظر آتا ہے (لیکن حقیقت میں نہیں ہوتا)۔ مولانا صاحب نے بہت عمدہ بات کہی ہے — عقل فی نفسہ — آپ غور کیجیے کہ جو آبزرویشنز آپ کی ہوتی ہیں، جس چیز کو آپ ایکسپیرینس کرتے ہیں، اور جو ڈیٹا آپ کے برین تک جاتا ہے، آپ کی عقل تک جاتا ہے، تو اسی کی بنیاد پر ہماری جو ریزن ہے وہ کسی چیز کے صحیح اور غلط ہونے کا فیصلہ کرتی ہے، کسی چیز کے ہونے اور نہ ہونے کا فیصلہ کرتی ہے۔

آپ دیکھیے کہ میرے ہاتھ پر جو مائیکروسکوپک ورلڈ ہے، جو جراثیم کی پوری دنیا آباد ہے، تو جب تک مائیکروسکوپ ایجاد نہیں ہوئی تھی تو کیا یہ مائیکروسکوپک ورلڈ کا وجود نہیں تھا؟ جب تک ٹیلی سکوپ کا وجود نہیں تھا، تو یہ دور جن ستاروں اور سیاروں کا آج ہم مشاہدہ کر رہے ہیں، تو کیا ان کا وجود نہیں تھا؟ لہٰذا کسی چیز کا ہمارے مشاہدے میں نہ آنا، ہماری عقل میں نہ آنا، یہ اس کے نہ ہونے کی دلیل نہیں ہوتی۔ تو یہ بات سمجھ لیجیے کہ فلسفہ ہو یا سائنٹیفک میتھوڈولوجی ہو، آپ عقل اور حواس دونوں کو جمع کر لیں، تو یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے وجود کے اثبات تک آپ کی کسی حد تک رہنمائی کر سکتے ہیں، لیکن جو ایمان ہے وہ اسی وقت نصیب ہوگا کہ جب ’’قل ہو اللہ احد‘‘ ہوگا۔ یعنی ’’ہو اللہ احد‘‘ نہیں کہا قرآن نے، ’’قل ہو اللہ احد‘‘ کہا ہے۔ تو جب تک بزبانِ رسالت آپ تک توحید کا کامل پیغام نہیں پہنچے گا، اس وقت تک آپ اس نتیجے پر نہیں پہنچ سکتے کہ وہ ذاتِ بابرکت واحد اور یکتا ہے۔

لہٰذا میں آپ کی بات کو یوں کنکلیوڈ کرنا چاہوں گا کہ اسلام میں جو علمیات کی بحث ہے، نظریۂ علم کی بحث ہے، تو ہم ترتیب یوں رکھتے ہیں کہ سب سے پہلے اللہ تبارک و تعالیٰ کی وحی ہے، پھر علم بالعقل اور علم بالحواس کو ہم اس کے تابع رکھتے ہیں۔ یا آپ اگر ان دونوں کو جوڑ کر کوئی سائنٹیفک میتھڈ ڈیولپ کر لیتے ہیں تو ہم سائنس کو، علم بالحواس کو، علم بالعقل کو وحی کے ماتحت رکھتے ہیں۔ تو لہٰذا یقیناً‌ ایسا ہی ہے کہ آپ اگر ایمان کی تصدیق کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو پھر یہ وحی کے ساتھ نصیب ہوگا۔ اور عقل کے ذریعے سے حاصل ہونے والا علم، حواس کے ساتھ حاصل ہونے والا علم، اس میں غلطی کا امکان ہوتا ہے، خطا کا احتمال ہوتا ہے، یہ ارتقا پذیر رہتا ہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ ہمیں یقینی علم فراہم نہیں کرتے۔ جبکہ وحی الٰہی کی طرف سے جو علم آ رہا ہے وہ ہمیں یقینی علم عطا کر رہا ہے۔

آپ دیکھیے کہ تین طرح سے لوگ آج الحاد کا ارتکاب کر رہے ہیں: نعوذ باللہ من ذالک، یا تو خدا کے وجود کا فی نفسہ انکار کر دیا جاتا ہے کہ خدا کا کوئی وجود نہیں، اور کسی بھی مذہب کی تصورِ خدا کو نہیں مانا جاتا۔ دوسری قسم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں الحاد ہو رہا ہے۔ الحاد کا مطلب ہی انحراف ہے۔ تو آپ غور کیجیے کہ جو لوگ شرک کا ارتکاب کر رہے ہیں یا کسی کو خدا کا بیٹا یا بیٹی قرار دے رہے ہیں، تو وہ خدائی صفات مان لیتے ہیں، تو یہ بھی الحاد فی الصفات کی قسم ہے۔ لیکن الحاد فی الآیات — یعنی قرآن مجید کی آیات اور وحی میں الحاد، انکار اور اعراض — آج یہ صورت ہمیں بہت بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔

اور میں سمجھتا ہوں کہ جب سے ٹیکنولوجیکل ریوولوشن برپا ہو رہا ہے تو نئے چیلنجز کا اہلِ علم سامنا بھی کر رہے ہیں۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ دنیا میں اس وقت اے آئی گاڈز بنائے جا چکے ہیں۔ انبیاء کرامؑ کے اے آئی مجسمے ڈیجیٹل وجود کے ساتھ بنائے جا رہے ہیں، جن میں سارا ڈیٹا اس مذہب کا فیڈ کیا جا رہا ہے، یہ شرک کی ایک نئی قسم ہے جو اس وقت چلنا شروع ہوئی ہے۔ دورِ جدید کا ایک اور بڑا مسئلہ آپ دیکھیے کہ چیٹ جی پی ٹی کے ذریعے، یا کسی اور اے آئی ٹول کے ذریعے، کوئی اپنی مذہبی کتاب جیسی کتاب بنانے کا دعویٰ کر دیتا ہے۔ تو کیا ہمارے پاس ایسے اہلِ علم ہیں جو آج بھی علم البدیع، معانی اور بیان، علم الصرف اور علم النحو کی روشنی میں یہ بتانے کی اہلیت رکھتے ہوں کہ کس طرح قرآن اللہ تبارک و تعالیٰ کا معجزانہ کلام ہونے کی حیثیت سے تمہارے اس لکھے ہوئے عربی کے جملوں سے زیادہ بالا ہے؟

اب نوجوانوں کی طرف سے اس طرح کے سوالات سامنے لائے جا رہے ہیں، اور بہت سی باتیں جو مختلف علماء کی طرف سے کی جاتی رہی ہیں، ظاہر ہے کہ اب ٹیکنولوجیکل ریوولوشن کے پیش نظر آپ کو سمجھنا پڑے گا۔ دیکھیے، دلائل تو وہ ہی ہیں جو ہمارے اکابرین نے بیان کر دیے ہیں، بس ان کی پریزنٹیشن جب تک سائنٹیفک فارم آف نالج کے ساتھ — اقبالؒ کے کہنے کے مطابق — آپ نہیں کریں گے تو میں سمجھتا ہوں کہ آپ اس جدید الحاد کا سامنا نہیں کر سکیں گے۔

عامر احمد عثمانی:

بہت شکریہ ڈاکٹر عمیر صاحب۔ ناظرین، میں نے آج کے دور کے بھی سوالات رکھنے ہیں مہمان علماء کے سامنے۔ ظاہر ہے یہ سوال کیے جاتے ہیں اور میں کروں گا، بڑے عام سے ذہن کے سوالات ہیں۔ اگر خدا کا وجود ہے اس کائنات کے اندر تو پھر مسلمانوں پر تکلیفیں کیوں آتی ہیں؟ جنگیں کیوں ہو رہی ہیں؟ معصوم بچوں کو ذبح کیوں کیا جا رہا ہے؟ اتنی تکالیف اور مصائب، یہ ساری چیزیں کیا ہیں؟ میں یہ بھی سوال کروں گا اور اس سے متعلق دیگر بھی وہ تمام سوالات جو آج سوشل میڈیا پر مختلف ویڈیوز کو سننے اور سمجھنے کے بعد نوجوان کے ذہن میں آ رہے ہیں۔

مولانا زاہد الراشدی صاحب، ایک سوال یہ بھی بہت زیادہ کیا جاتا ہے اور نوجوان ذہن میں ظاہر ہے یہ سوالات آ سکتے ہیں۔ کہا یہ جاتا ہے کہ دنیا کے اندر ناانصافی ہو رہی ہے، بچوں پر ظلم و زیادتی ہو رہی ہے، معصوموں کی زندگیوں کو اجیرن بنایا جا رہا ہے، مسلمانوں پر تکلیفیں ہیں، دعائیں قبول نہیں ہو رہیں۔ اگر خدا کا وجود ہے تو پھر وہ خدا اپنے ان بندوں کی مدد کے لیے آتا کیوں نہیں ہے؟

مولانا زاہد الراشدی:

اللہ تبارک تعالیٰ نے قرآن پاک میں خود بیان کیا ہے کہ میں یہ باتیں آزمائش کے لیے کرتا ہوں: ’’ولنبلونکم بشیء من الخوف والجوع ونقص من الاموال والانفس والثمرات‘‘ (البقرۃ ۱۵۵) یہ ساری باتیں میں ایک پلاننگ کے تحت کرتا ہوں، آزمائش کے لیے کرتا ہوں۔ دنیا جزا کا گھر نہیں ہے، دنیا آزمائش کا گھر ہے، ہم امتحان کے لیے آئے ہیں۔ ’’لتبلون فی اموالکم وانفسکم‘‘ (اٰل عمران ۱۸۶) یہ اللہ پاک کے نظام کا حصہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں آدمی آزمائشوں سے گزرے، اس میں جو ثابت قدم ہوگا وہ جنت میں جائے گا، جو ثابت قدم نہیں رہے گا وہ دوسری طرف جائے گا۔ یہ سارا سسٹم آزمائش کا اللہ پاک نے خود بنایا ہے، اور اللہ پاک نے خود کہا ہے کہ دنیا راحت کی جگہ نہیں ہے۔ یہ آزمائش کی جگہ ہے جہاں آزمائشیں اللہ کی طرف سے آتی رہتی ہیں۔ اس کے لیے اللہ پاک نے ضابطے بھی بیان فرمائے ہیں کہ یوں کرو گے تو یوں ہوگا، یوں کرو گے تو یوں ہو گا۔ اس میں ہمارے امتحان بھی ہیں، ہم اس کے مطابق نہیں چلتے تو آزمائشوں میں اضافہ ہوتا ہے، ہم اس کے مطابق چلتے ہیں تو کمی بھی ہو جاتی ہے، لیکن یہ کمی ضروری نہیں ہے، یہ آزمائش کا حصہ ہے، امتحان میں یہ ساری باتیں ہوتی ہیں۔ اور یہ قرآن پاک نے واضح کہا کہ دنیا میں تم آزمائش اور امتحان کے لیے آئے ہو، ’’الذی خلق الموت والحیاۃ لیبلوکم ایکم احسن عملا‘‘ (الملک ۲)۔

عامر احمد عثمانی:

اسی بات کو اگر ہم عقلی طور پر سمجھنا چاہیں؟ ظاہر ہے کہ ایسے لوگ ہیں جو قرآن کی آیات کا تو انکار کر رہے ہیں، نہیں مان رہے ہیں، تو ان کو یہی بات ہم نے لاجیکلی سمجھانی ہے۔

مولانا زاہد الراشدی:

ایسے لوگ اپنی آمد کا مقصد کیا سمجھتے ہیں کہ کس نے بھیجا ہے اور کیوں بھیجا ہے؟

عامر احمد عثمانی:

وہ تو کہہ رہے ہیں کہ ایک دھماکہ ہوا اور دنیا بنی۔

مولانا زاہد الراشدی:

لیکن آج کی سائنس کیا اس مقام پر نہیں آگئی کہ وہ اس کے پیچھے تلاش کر رہی ہے کہ اس کے اسباب کیا تھے اور اس کے نتائج کیا ہیں؟ آج سائنس تو خود اس مقام پر آگئی ہے۔ اور اللہ پاک نے یہ قرآن پاک میں فرمایا ہے کہ ہم اپنی آیات دکھاتے رہیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ مرحلہ آگیا ہے کہ سائنسی حقائق اور سائنسی تجربات کے نتیجے میں اللہ کے وجود کو ماننا پڑ رہا ہے۔ کوئی چیز بھی کیا بغیر بنانے والے کے بنتی ہے؟ ایک بچے کی عقل بھی کہتی ہے کہ کوئی چیز بغیر بنانے والے کے کیسے وجود میں آتی ہے؟ وہ باتیں جو وحی نے کہی ہیں، سائنس آہستہ آہستہ ان کی تصدیق کرتی جا رہی ہے۔

عامر احمد عثمانی:

اور یہ جو بات کہی جاتی ہے کہ سائنس نے بھی ایک درجہ میں خدا کے وجود کو غیر ضروری قرار دے دیا ہے۔

مولانا زاہد الراشدی:

اب سائنس اس مقام پر آ رہی ہے کہ پیچھے کوئی ہے، اور وہ مذہبی حقائق کی تصدیق کرتی جا رہی ہے۔ میں ایک چھوٹی سی مثال دوں گا۔ ایک بچے نے مجھ سے سوال کیا کہ فرشتے ہیں؟ میں نے کہا، بالکل ہیں۔ پوچھا، کہاں ہیں؟ میں نے کہا، دو تیرے کندھے پر، دو میرے کندھے پر۔ کہا، محسوس نہیں ہوتے، نظر نہیں آتے۔ میں نے کہا، موجود ہونے کے لیے محسوس ہونا اور نظر آنا ضروری نہیں ہے۔ بہت سی چیزیں ہمارے اردگرد موجود ہیں جو ہم استعمال کرتے ہیں، وہ نہ محسوس ہوتی ہیں اور نہ نظر آتی ہیں۔ میں نے کہا، یہ موبائل کے جو میسجز دنیا بھر میں جاتے ہیں، کون لے جاتا ہے، سورس کیا ہے؟ میری بات تو دیوار کے پیچھے کوئی نہیں سنتا۔ لیکن میں واشنگٹن بات بھی کر رہا ہوں، سن بھی رہا ہوں، دیکھ بھی رہا ہوں، تصدیق بھی کر رہا ہوں، تو اس کا سورس کیا ہے؟ اس نے کہا کہ یہ لہریں ہیں جو پیغام کو لے جاتی ہیں اور پیغام کو لے آتی ہیں۔ میں نے کہا کہ لہریں کام کر رہی ہیں اور ہم بھی استعمال کرتے ہیں لیکن نہ نظر آتی ہیں اور نہ محسوس ہوتی ہیں، یعنی لہروں کا ایک پورا سسٹم زمین کے گرد گھوم رہا ہے جو نہ محسوس ہوتی ہیں اور نہ نظر آتی ہیں، تو اسی طرح فرشتے بھی کام کر رہے ہیں اور وہ نظر نہیں آتے۔ اس لیے کسی چیز کے موجود ہونے کے لیے اس کا نظر آنا اور محسوس ہونا ضروری نہیں ہے، اور سائنسی تجربات نے یہ بات ثابت کر دی ہے۔

عامر احمد عثمانی:

حضرت، اگر یہ ساری چیزیں اتنی لاجیکل ہیں اور اتنی عام فہم ہیں تو پھر یہ الحاد کا نظریہ کیوں اتنا بڑھ رہا ہے؟ لوگ خدا کے وجود کا انکار کیوں کر رہے ہیں؟ اتنے عام فہم انداز میں آپ نے یہ بات سمجھا دی ہے، اُن لوگوں کو یہ بات سمجھ کیوں نہیں آ رہی؟

مولانا زاہد الراشدی:

ہم ان تک بات پہنچاتے ہی نہیں ہیں۔ میرے نزدیک نوجوان نسل کی بے خبری ہی ساری بیماریوں کی جڑ ہے۔ میں دو باتیں عرض کیا کرتا ہوں: (۱) نوجوان سے بات کرو لیکن اس کو قصوروار سمجھ کر نہیں بلکہ بے خبر سمجھ کر بات کرو۔ ہم گھور کر بات شروع کرتے ہیں تو وہ کنفیوژ ہو جاتا ہے۔ (۲) اور اس کی ذہنی سطح پر بات کرو، جس فریکوئنسی میں وہ بات سمجھے گا اس فریکوئنسی میں بات کرو۔ ہم اس کو قصوروار سمجھ کر ڈانٹتے ہیں اور ساری ذمہ داری اس پر ڈالتے ہیں۔ میں آج کے نوجوان کو کسی بات میں ذمہ دار نہیں سمجھتا۔ ہمارا طرزِ عمل اور اس کی بے خبری، یہ سب سے بڑی وجہ ہے۔ اس بے خبری کو دور کر دیں اور سادہ طریقے سے بات کریں، آج کا نوجوان بات سننے اور سمجھنے کو تیار ہے۔

عامر احمد عثمانی:

یعنی آپ کو یہ لگتا ہے کہ منبر و محراب کی جو ذمہ داری تھی وہ ادا نہیں ہوئی ہے۔

مولانا زاہد الراشدی:

ہم کر رہے ہیں لیکن پوری طرح نہیں کر رہے۔ ہمیں آج کے ان تقاضوں کو سمجھنا چاہیے۔ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ایک ارشاد نقل کروں گا، بخاری شریف میں ہے، وہ فرماتے ہیں: ’’[کلموا الناس علیٰ قدر عقولہم]، حدثوا الناس بما یعرفون، اتحبون ان یکذب اللہ ورسولہ‘‘۔ یعنی لوگوں سے ان کے معروف لہجے میں بات کرو۔ حضرت علیؓ فرماتے ہیں، کیا تم یہ پسند کرو گے کہ اللہ اور رسول کی بات کا انکار اس لیے ہو گیا ہے کہ تم انہیں سمجھا نہیں سکے؟

اس کو میں کہتا ہوں کہ ان کی فریکوئنسی میں بات کرو، ہم کسی اور فریکوئنسی میں بات کر رہے ہوتے ہیں، جبکہ وہ اور سطح کا آدمی ہے۔ جس لہجے کو اور جس اسلوب کو لوگ پہچانتے ہیں، اس میں بات کرنی ہے۔ ہمارا پہلا قصور یہ ہے کہ ہم نوجوان تک پہنچتے نہیں ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہم جب پہنچتے ہیں تو اپنے لہجے میں بات کرتے ہیں، اس کی ذہنی سطح کو ملحوظ رکھے بغیر، تو وہ مزید کنفیوژ ہو جاتا ہے۔

عامر احمد عثمانی:

ڈاکٹر عمیر صاحب، آج کل کے بچے اپنے والدین سے یہ سوال کرتے ہیں کہ آپ لوگوں نے یہ چیزیں دیکھی ہیں؟ جنت اور جہنم کا جو تصور آپ ہمیں بتا رہے ہیں، تو آپ نے کبھی خود اس کو دیکھا ہے، محسوس کیا ہے کہ یہ چیز ہے؟ اور جو قبر کے بارے میں آپ بات کر رہے ہوتے ہیں کہ وہاں سوال و جواب ہوگا، تو آپ نے جا کر کبھی آواز سنی ہے کہ کسی مردے سے سوال ہو رہا ہو؟ ان بچوں کو کیسے سمجھایا جائے کہ یہ بات حقیقت ہے، قرآنی آیات ہیں، احادیث ہیں، نصوص ہیں، یہ ساری چیزیں ہیں، یہ افسانے نہیں ہیں؟

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی:

میں دو چیزوں پر پہلے بات کرنا چاہتا ہوں۔ دیکھیں، الحاد کا جو سب سے بڑا سوال ہے نا، وہ problem of evil ہے، جسے مسئلۂ خیر و شر کہا جاتا ہے، اور اسی سے متعلق آپ نے ایک سوال بھی کیا کہ دنیا میں لوگ شہید ہو رہے ہیں، قتل ہو رہے ہیں، مسلمانوں پر جنگیں برپا ہو رہی ہیں اور بڑے پیمانے پر کشت و خون ہو رہا ہے۔ تو پہلی بنیادی بات سمجھ لیں کہ جو مسئلہ تقدیر ہے، خیر اور شر دونوں من جانب اللہ ہیں۔ اور تقدیر جڑی ہوئی ہے تدبیر کے ساتھ، کیونکہ تقدیر کا علم اللہ تعالیٰ نے بندوں کو نہیں دیا، تو اسی لیے تدبیر کا حکم ہے۔ اور یہ تدبیر جڑی ہوئی ہے احکامِ الٰہیہ کے ساتھ۔ پوری مسلم دنیا میں جہاں کہیں بھی مسلمانوں کا کشت و خون ہو رہا ہے، بچے شہید ہو رہے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے اللہ کے حکم پر عمل نہیں کیا اور جہاد نہیں کیا، یہ وہ بنیادی سبب ہے۔ مجھے آپ بتائیے کہ اللہ رزاق ہے، علیم ہے، حکیم ہے …

عامر احمد عثمانی:

ڈاکٹر صاحب، غزہ کا ماحول آپ دیکھیں، وہاں تو جہاد بھی ہوا، ساری زندگی ہوا، اس کے باوجود بھی معصوم بچوں کی جانیں گئیں۔

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی:

دیکھیے، شرعی حکم کیا ہے؟ کیا وہاں پر پوری مسلم دنیا نے مسجد اقصیٰ کی حرمت، عزت اور اس کے تقدس کے لیے جو شرعی تقاضا تھا، کیا مسلمانوں نے وہاں اللہ کے حکم پر عمل کرنے کی کوشش کی ہے؟ اس کا جواب ہے: ہرگز نہیں۔ جن لوگوں نے اس خطے میں رہتے ہوئے اللہ کی راہ میں بیت المقدس کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے، حدیث کے مطابق وہ افضل الشہداء ہیں کہ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان کے لیے بشارت دی ہے، لیکن گرفت ان لوگوں کی تو یقیناً‌ ہوگی جو اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق ان لوگوں کی مدد و نصرت کے لیے نہیں جا رہے، اور نتیجتاً‌ مغربی کنارے میں اس وقت یہ صورتحال ہے، اور وہ تو میڈیا کی نظر سے بھی اس وقت پوشیدہ رکھی گئی ہے۔

لہٰذا خیر و شر کے مسئلے کو سمجھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس کو تدبیر اور احکامِ الٰہیہ کے ساتھ سمجھا جائے۔ سانپ آپ کو ڈسے گا، آپ کو تکلیف ہوگی، اور ہو سکتا ہے کہ جس کو سانپ نے ڈسا ہے اس کی موت بھی واقع ہو جائے۔ اب کوئی کہے گا کہ جناب، یہ تو اللہ تعالیٰ کی تقدیر تھی۔ لیکن تقدیر کا علم تو ہمارے پاس نہیں ہے، تو تدبیر کرنے کا اور شرعی حکم کو بجا لانے کا حکم تھا کہ اس موذی جانور سے اپنے آپ کو بچایا جائے۔ تو چونکہ اللہ تعالیٰ نے free will دی ہے، تو جو سوال ہے وہ اس بارے میں نہیں ہوگا جس میں انسان مجبورِ محض ہے؛ سوال جو کیا جائے گا وہ آپ سے بنیادی طور پر آپ کی free will کے بارے میں کیا جائے گا۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ جتنے بھی لوگوں سے میرا واسطہ پڑتا ہے، یونیورسٹیز میں، کالجز میں، یا بین الاقوامی سطح پر، میں سمجھتا ہوں کہ جو نظریاتی الحاد ہے وہ بہت کم رہ گیا ہے۔ الحاد کا جو سب سے بڑا سبب ہے وہ فحاشی اور عریانیت ہے، وہ سیکولر لائف اسٹائل ہے، اور بے حیائی کی وجہ سے بہت تیزی کے ساتھ، بالخصوص مسلم ممالک کے جو نوجوان ہیں، وہ الحاد کے راستے کی طرف جا رہے ہیں۔ اس میں ایک اور اہم بات کہ جو مسلمانوں کا رویہ ہے، وہ بھی بعض اوقات ان لوگوں کو دین سے دور کرنے کا سبب بنتا ہے۔

سائنس کے بارے میں بات ہوئی، بگ بینگ تھیوری کا ذکر ہوا، تو یاد رکھیں کہ دنیا کے سارے سائنسدان ملحد نہیں۔ ڈاکٹر فرانسس کولن کی کتاب ہے The Language of God، اور یہ دنیا میں ہیومن جینوم ڈیپارٹمنٹ کا سب سے بڑا سائنسدان ہے، یہ پہلے کرسچیئن تھا اور پھر ملحد ہوا، لیکن جب اس نے ڈی این اے پر ریسرچ کی، آپ اس کی کتاب ’’دی لینگویج آف گاڈ‘‘ پڑھ کر دیکھ لیں، اس نے ڈی این اے کے بارے میں تفصیلات دینے کے بعد یہ نتیجہ لکھا ہے کہ یہ جو Book of Life اللہ تعالیٰ نے انسانی وجود میں ایک سیل کے اندر رکھ دی ہے، وہ کہتا ہے کہ یہ خودبخود ہو ہی نہیں سکتا، اس کا خالق خدا ہے۔ وہ پھر آگے کہتا ہے کہ یہ بالکل ممکن ہے کہ ایک شخص کٹر سائنسدان ہو اور ساتھ میں ایک مذہبی شخص بھی ہو۔ لہٰذا جو تضاد دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے سائنس اور ریلیجن کے مابین، تو تمام سائنسدان ملحد نہیں ہوتے۔ ہاں، ہوتا یہ ہے کہ جس کی تربیت اس انداز سے ہوئی ہوتی ہے، تو ظاہر ہے کہ جس نے مذہب کو اصلاً‌ اسلام کی صورت میں نہیں دیکھا، اس نے مذہب کی صورت میں مسیحیت کو دیکھا، بدھ مت کو دیکھا، یہودیت کو دیکھا …

عامر احمد عثمانی:

ڈاکٹر صاحب، یہ تو ظاہر ہے، آپ جس تھیوری اور فلسفے کی بات کر رہے ہیں، یہ تو بڑا واضح ہے۔ میں سوال یہ کر رہا ہوں کہ آج کا نوجوان اس تھیوری اور اتنے مشکل فلسفے کو سمجھ نہیں پا رہا، یعنی جو گفتگو آپ ابھی الحاد کے موضوع پر کر رہے ہیں، نوجوان یہ پروگرام دیکھ رہا ہے، اس کو یہ بات سمجھ نہیں آ رہی۔ میں نے آپ سے بڑے عام سے ذہن کا ایک سوال کیا ہے کہ اگر بچہ یا کوئی نوجوان یہ سوال کرتا ہے، اس کے ذہن میں یہ چیز آتی ہے، اس کو کیسے مطمئن کریں گے؟

ڈاکٹر عمیر احمد صدیقی:

جی، میں اسی طرف آ رہا ہوں۔ دیکھیں، جنت اور جہنم کا تعلق غیب سے ہے، اور جس طرح پہلے بھی گفتگو ہو رہی ہے کہ ہر وہ چیز جو آپ کی عقل اور حواس سے غائب ہے، ظاہر ہے کہ وہ غیب ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ جب آپ کسی چیز پر یقین کر کے اور تصدیق کر کے مان لیتے ہیں، تو کیا لازماً‌ بہرصورت آپ اسے ایکسپیریئنس کرتے ہیں اور خود مشاہدہ کرتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ آپ کو آج تک کسی بچھو نے ڈنگ نہیں مارا، لیکن جس کو ڈنگ مارا تھا اس کو دیکھنے سے آپ نے ایک مشاہداتی علم حاصل کر لیا کہ اس سے بچنا چاہیے۔

عامر احمد عثمانی:

یہی تو سوال ہے نا کہ وہاں آپ کو مشاہداتی علم مل جاتا ہے، لیکن یہاں سوال یہ ہوتا ہے کہ مشاہداتی علم بھی نہیں مل رہا۔

ڈاکٹر عمیر احمد صدیقی:

بات آگے تو سنیے! لیکن کیا دنیا میں ہم صرف اسی چیز کو مانتے ہیں جس کا مشاہداتی علم ہوتا ہے یا تجربہ ہوتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ آپ مخبرِ صادق کی بات کو بھی مانتے ہیں۔ مجھے بتائیں کہ کتنے لوگ ہیں جنہوں نے امریکہ اور برطانیہ اور کینیڈا کو عملاً‌ جا کر دیکھا ہے؟ لیکن آپ کے جانے والے چند رشتہ دار جو وہاں ان ممالک کو دیکھ کر آئے ہیں، آپ تصدیق کر دیتے ہیں کہ جناب، یہ مخبرِ صادق ہے۔

کرونا کا وائرس کتنے لوگوں نے دیکھا تھا؟ لیکن صرف چند سائنسدانوں کے کہنے پر پوری دنیا کو لاک ڈاؤن کا شکار کر دیا گیا اور کہا گیا کہ جناب، ہم ان کے سچا ہونے پر یہ مان لیتے ہیں کہ کرونا کا کوئی وائرس ہے جو دنیا کے اندر پھیل رہا ہے اور لوگوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ تو ہم نے لوگوں کی اموات کے ذریعے اور علامات کے ذریعے جان لیا کہ کوئی نہ کوئی بیماری ضرور ہے جس کے سبب سے لوگ مر رہے ہیں۔

تو لہٰذا یہ بات سمجھ لیجیے کہ جنت اور جہنم کا تعلق غیب سے ہے، انسان پر سے غیب کا پردہ مرنے کے بعد ہی اٹھے گا، اور یہاں اہم ترین بات یہ ہے کہ کیا دنیا میں ہم صرف چیزوں کو تجربے اور مشاہدے کے بعد ہی جانتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ ہم کسی مخبر کے کہنے پر بھی، اگر وہ سچا ہے، اس بات کو مان لیتے ہیں۔ میں نے آپ کو ابھی کرونا کی مثال دی۔

عامر احمد عثمانی:

کرونا میں بھی تو آپ خود کہہ رہے ہیں کہ علامات تھیں، اموات ہوئیں، ان ساری چیزوں نے بتایا کہ کچھ ہے۔

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی:

کائنات کا نظام، یہ پوری دنیا میں چرندے، پرندے، درندے، یہ پہاڑوں کی صلابت اور ان کی رفعت، آسمان کی بلندی اور پرندوں کا چہچہانا، سمندر کی لہریں، دریاؤں کی طغیانی، سمندروں کی روانی، یہ ذرہ ذرہ اللہ تعالیٰ کے وجود پر دلیل ہے، کیونکہ cause and effect کی تھیوری کو سب مانتے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ خودبخود کوئی چیز وجود میں نہیں آتی، تو یہ پوری کائنات ازخود وجود میں کیسے آ سکتی ہے؟ لہٰذا قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ یہ کائنات کے دروازے پر جو divine knock ہو رہی ہے، یہ جو آپ روزانہ پوری کائنات کے نظام میں universality اور eternity دیکھ رہے ہیں، یہ اس بات کی علامتیں اور دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وجود ہے۔ اس لیے حضرت علیؓ کا ایک فرمان ہے، ’’عرفت بربی بفسخ العزائم‘‘ میں نے اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے (اپنے رب کو پہچانا) جب میرے ارادوں پر کسی اور کا ارادہ غالب آیا، تو پتہ چلا کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ارادوں پر غالب ہے۔ تو کسی اور کے منصوبے کا ہمارے منصوبے پر غالب آ جانا، یہ کائنات کے نظام میں universality اور eternity کا ہونا، یہ اس بات کی علامت ہے، سائن ہے کہ خدا موجود ہے۔ اور اب تو دنیا کے غیر مسلم سائنسدان بھی intelligent design کے قائل ہیں۔ میں یہ بات بار بار دہرا رہا ہوں کہ علی الاطلاق پوری دنیا کے سائنسدان ملحد نہیں ہیں، ہر دفعہ سائنس کا نتیجہ الحاد نہیں ہوتا۔ بلکہ علامہ اقبالؒ نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ جیسے جیسے دنیا مزید ترقی کرے گی تو آپ دیکھیں گے کہ سائنس اور مذہب میں harmony (ہم آہنگی) پیدا ہو جائے گی۔

لہٰذا تجربہ، مشاہدہ اور خبرِ صادق — جب آپ کسی بھی سائنسدان کی بات کو مان لیتے ہیں، تو ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاءؑ جو دنیا کے مختلف خطوں میں تشریف لائے، ان کا بظاہر نسبی کوئی تعلق اور رشتہ نہیں ہے، زمان و مکان میں بے تحاشا بُعد موجود ہے، اس کے باوجود وہ سب ایک بات کہہ رہے ہیں: ‘‘لا الٰہ الا اللہ‘‘، تو یہ ان کے پیغام کی یکسانیت اور directive principles میں ان کا ایک ہونا، اس میں کبھی کوئی تضاد بنیادی عقائد میں نہیں رہا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ مخبرِ صادق ہمیں بتا رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ وحدہٗ لا شریک ہے۔

عامر احمد عثمانی:

ناظرین، گفتگو بڑے اہم موڑ پر آ گئی ہے اور یہاں سے کچھ مزید ایسے سوالات بھی جنم لے رہے ہیں جن پر میں گفتگو کرنا چاہوں گا۔ مولانا زاہد الراشدی صاحب، ایک سوال یہ بھی ذہن میں آتا ہے اور کیا جاتا ہے کہ اگر ایک شخص ہے، وہ دیانتدار بھی ہے، امانتدار بھی ہے، ہمدرد بھی ہے، قانون کی پیروی کرنے والا بھی ہے، لیکن وہ خدا کے وجود پر ایمان نہیں رکھتا، تو یہاں پر ہم ان اخلاقیات اور مذہب کے باہمی جوڑ کو کیسے ڈیفائن کریں گے، کیسے سمجھیں گے؟

مولانا زاہد الراشدی:

ایک آدمی ملک میں رہتا ہے اور سارے قوانین کی پابندی کرتا ہے لیکن دستور کو نہیں مانتا تو کیسے ڈیل کریں گے؟ کام سارے ٹھیک ہیں لیکن اتھارٹی کو مانے بغیر کر رہا ہے۔

عامر احمد عثمانی:

لیکن ظاہر ہے دستور میں یہی ساری چیزیں لکھی ہوئی ہیں۔ وہ یہ کہے کہ میں عملی طور پر وہی تو سارے کام کر رہا ہوں۔

مولانا زاہد الراشدی:

سارے کام دستور کے مطابق کر رہا ہے لیکن دستور کا زبان سے انکار کر رہا ہے، تو کیا کریں گے ہم؟ یہ سارے کام کس کے کہنے پر کر رہا ہے؟ اتھارٹی کو مانے تب بات ہے۔ ایک چھوٹی سی بات کہ آپ کی گفتگو میں ایک جملہ آپ نے فرمایا تھا کہ ’’نئی نسل کیوں سمجھ نہیں پا رہی؟‘‘ میں اس کو تھوڑا سا تبدیل کرنا چاہوں گا کہ ’’ہم نئی نسل کو سمجھا کیوں نہیں پا رہے؟‘‘ ہم نے نئی نسل کو خدا سمجھانے کی ضرورت کب محسوس کی ہے؟ مذہب کی ضرورت کا احساس کب دلایا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منوانے کا طریقہ ہم نے کب اختیار کیا ہے؟ اس لیے دو باتیں ہیں: ایک یہ کہ میں نئی نسل کو سمجھا کیوں نہیں پا رہا، میرے سمجھانے میں کہاں کہاں خلا ہے؟ اور دوسری بات وہی جو میں نے عرض کی ہے کہ ایک اتھارٹی کا انکار کر کے آپ سارے کام صحیح کریں، تو کون سی اتھارٹی ہے جو اس کے سارے اعمال کو تسلیم کرے گی؟

عامر احمد عثمانی:

اہم سوال ہے۔ آپ مجھے اجازت دیں، میں اسی پر ایک سوال کر لوں۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ ہم سمجھا نہیں پا رہے نئی نسل کو۔ لیکن وہ نسل جو یہ ساری چیزیں سمجھ چکی ہے، انہوں نے سبقاً‌ اس کو پڑھا ہے، آٹھ دس سال ان اداروں میں گزارے کہ جہاں پر یہ چیزیں انہیں بتائی گئیں، سمجھائی گئیں، اور اس کے بعد انہوں نے خود عمل کیا، خود جا کر انہوں نے آگے باقی نسل کو بھی سمجھایا، آج وہ فکری الحاد کی اس دلدل میں چلے گئے، اس کی کیا وجہ ہے؟ وہ علماء ہیں، جن دینی اداروں میں انہوں نے پڑھا ہے، کیا وہاں ان کو یہ مقدمہ نہیں سمجھایا گیا؟ یہ سوال تو پھر نظام تعلیم پر بنتا ہے۔

مولانا زاہد الراشدی:

میری ساری بات کا خلاصہ یہی ہے کہ صرف نظامِ تعلیم نہیں بلکہ گھر کا ماحول، سوسائٹی، تعلیمی ادارے، یہ تینوں قصوروار ہیں اپنی نوجوان نسل کو صحیح بات نہ سمجھانے پر اور خدا رسول سے متعارف نہ کروانے پر، یہ تینوں ذمہ دار ہیں۔

عامر احمد عثمانی:

ڈاکٹر عمیر صاحب نے اپنی گفتگو میں ایک یہ بات بھی کی ہے کہ آج نظریاتی الحاد موجود نہیں ہے، وہ کہہ رہے ہیں کہ الحاد کے اسباب بے حیائی، فحاشی، عریانی اور یہ ساری چیزیں ہیں، اس کو دیکھتے ہوئے نوجوان الحاد میں جا رہے ہیں۔ آپ اس کو درست سمجھتے ہیں؟

مولانا زاہد الراشدی:

میں اس کو اسباب نہیں بلکہ نتیجہ سمجھتا ہوں۔ بے حیائی اور عریانی وغیرہ کے پیچھے الحاد سبب کے درجے میں ہے۔

عامر احمد عثمانی:

کسی نوجوان کے دل و دماغ میں کسی مذہبی چیز کے حوالے سے کوئی شک اگر پیدا ہوتا ہے تو اس کو الحاد کی علامت سمجھا جائے گا؟

مولانا زاہد الراشدی:

شک، الحاد نہیں ہے۔ شک تو اُس کا حق ہے۔ اعتراض کرنا اور سوال کرنا اُس کا حق ہے۔ اسے اس کی فریکوئنسی میں جواب دینا میری ذمہ داری ہے۔ یہ ذمہ داری اگر پوری ہو رہی ہے تو اُس کا قصور ہے، اگر نہیں پوری ہو رہی تو میرا قصور ہے۔

عامر احمد عثمانی:

تو آپ کو کیوں لگتا ہے کہ آج مذہبی طبقہ نوجوان کے سوال سننے کے لیے تیار نہیں ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟

مولانا زاہد الراشدی:

سوال سنتے ہیں لیکن جواب الٹا دیتے ہیں۔ میں یہ کہتا ہوں کہ اس کو قصوروار سمجھ کر جواب نہ دیں۔ میری ایک عام بات ہوتی ہے کہ نئی نسل کو نومسلم سمجھ کر ڈیل کریں۔

عامر احمد عثمانی:

آپ سارا بار داعی کے اوپر ڈال رہے ہیں۔ دوسری طرف کو آپ بالکل کلین چٹ دے رہے ہیں۔

مولانا زاہد الراشدی:

بالکل، یہی بات حضرت علیؓ فرماتے ہیں ’’اتحبون ان یکذب اللہ ورسولہ‘‘ کہ تم سمجھا نہ پاؤ اور اللہ و رسول کی بات کا انکار ہو جائے۔ یہ سمجھانے والے کا قصور ہے۔

عامر احمد عثمانی:

بہت بڑا مسئلہ پیدا ہو جائے گا، کتنا بڑا نظام ہے، کتنے علماء ہیں، کتنے مدارس ہیں، کتنی منبر و محراب سے چیزیں جا رہی ہیں۔

مولانا زاہد الراشدی:

ریاست کا نظام اس سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔ کیا ریاست کا نظام اپنی ذمہ داری پوری کر رہا ہے؟

عامر احمد عثمانی:

تو اگر وہ نہیں کر رہا، پھر ہم بھی نہیں کریں گے؟

مولانا زاہد الراشدی:

ہم کر رہے ہیں، لیکن آج کے تقاضوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ میرا سوال یہ نہیں کہ ہم کر نہیں رہے، کر تو رہے ہیں، خطیب بھی کر رہا ہے، استاد بھی کر رہا ہے، مدرس بھی کر رہا ہے، امام بھی کر رہا ہے، لیکن آج کی فریکوئنسی میں نہیں کرتا، یہ میرا سوال ہے۔

عامر احمد عثمانی:

آج کی فریکوئنسی کیا ہے؟

مولانا زاہد الراشدی:

لوگوں کی ذہنی سطح کے مطابق بات کریں؛ ان کو قصوروار سمجھ کر نہیں، بے خبر سمجھ کر بات کریں؛ ڈانٹ کر نہیں، ہمدردی اور محبت سے بات کریں؛ اور ان کے شکوک و شبہات کا ازالہ کریں۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے، مدارس کی بھی، مساجد کی بھی، خطباء کی بھی، ہم اس کو صحیح طریقے سے پورا نہیں کر پا رہے ہیں۔

مولانا زاہد الراشدی:

اگر آپ کے پاس کوئی نوجوان آتا ہے اور وہ آپ سے یہ عرض کرتا ہے کہ میں خدا کے وجود کا انکار کرتا ہوں اور میرے یہ چند سوالات ہیں، مجھے ان کے سچے اور منطقی جوابات چاہئیں، قرآن و حدیث اور نصوص سے نہیں، بلکہ لاجیکل جوابات چاہئیں۔ آپ اپنی بات کا آغاز کہاں سے کریں گے؟

مولانا زاہد الراشدی:

لاجک سے ہی کروں گا۔ اس لیے کہ پہلے اس کو قرآن پر لاؤں گا تو پھر قرآن کا حوالہ دے سکوں گا۔

عامر احمد عثمانی:

قرآن پر لانے کا طریقہ ہو گا؟

مولانا زاہد الراشدی:

آخر وہ زندگی کے کسی مسئلے پر ہی بات کر رہا ہو گا۔ ایک سوال میں عرض کر دیتا ہوں آج کے اسلوب کے حوالے سے۔ مجھ سے یونیورسٹی کے پروگرام میں ایک لڑکی نے سوال کیا کہ خدا کی ضرورت کیا ہے؟ میں نے کہا، بیٹی تمہاری ضرورت کیا ہے، تمہیں اپنے وجود کی ضرورت محسوس ہوتی ہے؟ اس نے کہا، جی ہاں۔ تو میں نے کہا کہ تمہاری موجودگی کی ضرورت ہے، تو کیا تمہارے بنانے والے کی موجودگی ضروری نہیں ہے، تم کسی کے بنائے بغیر دنیا میں آگئی ہو؟

یہ جواب پورا ہے یا نہیں، لیکن آج کا اسلوب یہ ہے کہ اس سے کامن سینس میں بات کریں، لاجک میں بات کریں، دلیل سے سمجھائیں۔ قرآن کا حوالہ تو میں تب دوں گا جب قرآن پر لے آؤں گا، اس کی ایک پوری ترتیب ہے۔ میرا بنیادی مقدمہ ہی یہ ہے کہ ہم آج کی نوجوان نسل کو آج کی فریکوئنسی میں محبت اور پیار کے ساتھ سمجھانے کے انداز میں بات کریں۔ یہی میں عرض کرتا ہوں اور میری اپنی کوشش بھی یہی ہوتی ہے۔

عامر احمد عثمانی:

ڈاکٹر عمیر صاحب، آپ اس حوالے سے کیا کہیں گے؟ میں تو اس بات پر تھوڑا سا پریشان بھی ہو گیا ہوں، اتنا بڑا نظام ہے، اور علامہ زاہد الراشدی صاحب اس طرف کی بات کر رہے ہیں، اور ظاہر ہے ان کا یہ مقدمہ ہے، وہ کہہ رہے ہیں کہ میں ہر جگہ جا کر یہی مقدمہ رکھتا ہوں۔ کیا آپ کا بھی اس حوالے سے کوئی مقدمہ ہے، اتفاقی یا اختلافی؟

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی:

میں اس بات میں تھوڑا سا اضافہ کرنا چاہوں گا۔ پہلی بات یہ ہے کہ ہمیں قاضی اور مفتی بن کر اور جلاد بن کر گفتگو نہیں کرنی چاہیے۔ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم بطور داعی اور بطور اسلام کے مبلغ لوگوں تک دین کی بات پہنچائیں اور کوشش کریں کہ جو قرآن و سنت کا منہج ہے ہم اس کے مطابق انہیں اسلام کی طرف مائل بھی کریں اور قائل بھی کریں۔ اس میں جو چیز ناپید ہے وہ ہے spiritual experience (روحانی کیفیت)، کیونکہ اب علم جو ہے وہ صرف علمِ ظاہر رہ گیا ہے، لوگوں نے علم پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے، تو اس عمل کے نتیجے میں جو زبان میں تاثیر پیدا ہوتی ہے، اس تاثیر سے لوگ دور ہو گئے۔ اب ظاہر ہے کہ جنہوں نے خود ’’انا جلیس من ذکرنی‘‘ کی کیفیت کو حاصل نہیں کیا، اور جن کو یہ تجربہ نہیں ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کیا ہے، اس کا قُرب کیا ہے، تو وہ لوگوں کو بھی اپنے کلام سے اور اپنے تجربے سے اس قُرب کا احساس نہیں دلوا سکتے۔

دیکھیں، اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے: ’’لا تدرکہ الابصار‘‘ (الانعام ۱۰۳)، وہاں ادراک کی نفی کی گئی، اور خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’ولا یحیطون بشیء من علمہ الا بما شاء‘‘ (البقرۃ ۲۵۵)، اللہ تعالیٰ کے علم کا آپ احاطہ نہیں کر سکتے۔ مسئلہ کہاں پیدا ہوتا ہے کہ جو ملحدین ہوتے ہیں، وہ الحاد کے دعوے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی پوری کُلی حکمت کا احاطہ کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ تو ہم اگر اس سمجھانے کی کیفیت میں اس کُلی علم کا احاطہ اور ادراک کروانے کی کوشش کریں گے تو ہم یقیناً‌ کبھی بھی اپنی بات کو ان تک ڈیلیور نہیں کر سکتے۔ یہاں پر ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم علم کے ساتھ ساتھ جو عمل کا پہلو ہے (اس کی طرف بھی توجہ دیں) جس کی وجہ سے انسان کی زبان میں تاثیر پیدا ہوتی ہے، اخلاقی اقدار پیدا ہوتی ہیں؛ اور ایک روحانی کیفیت کے ذریعے، اندرونی کیفیت کے ذریعے آپ کی صحبت اور مجلس میں بیٹھنے والے لوگوں کو بھی ایک اندرونی کیفیت حاصل ہو جاتی ہے۔ یہ بہت بڑا خلا ہے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ میں محض علماء کو قصوروار نہیں سمجھتا؛ علماء ضرور قصوروار ہیں، میں علامہ زاہد الراشدی صاحب کی بات سے سو فیصد متفق ہوں، کیونکہ جس انداز سے ہمارے نوجوانوں کو بعض اوقات دھتکار دیا جاتا ہے، ان کے سوالوں کا جواب نہیں دیا جاتا؛ اور سب سے بڑی بات یہ جو فرقہ وارانہ اختلافات ہوتے ہیں، اس کی وجہ سے سوشل میڈیا پر جو طوفانِ بدتمیزی مچا ہوا ہے، تو نوجوانوں میں کنفیوژن پیدا ہو جاتی ہے، نتیجتاً‌ وہ ان تمام تر مذہبی ایشوز سے لاتعلق رہنے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے ہیں۔ لیکن قصور اس نوجوان کا بھی ہے، اس سائل کا بھی ہے، جو ایک اچھا سکول تلاش کرنے کے لیے بڑا سروے کرتا ہے، انٹرنیٹ پر تحقیقات کرتا ہے، اچھے کالج میں داخلہ لینے کے لیے، اپنا کیریئر بنانے کے لیے، یونیورسٹیز میں داخلے کے لیے، سکالرشپس کے لیے، وہ رات دن ایک کرنے کے بعد اپنے فوری مسائل کو حل کرنے کے لیے، کھانا پینا، رہائش، تعلیم وغیرہ، وہ بڑی محنت کر رہا ہے، لیکن جو دیرپا مسائل ہیں کہ میں کہاں سے آیا ہوں، میری منزل کیا ہے، میٹافزکس سے متعلق سوالات ہیں، غیب سے متعلق سوالات ہیں؛ یہ کیا بات ہوئی کہ محض کسی ایک شخص سے اگر سوالات کے جوابات نہ مل سکے تو اتنے بڑے بڑے سوالات کے جوابات کے لیے اس نے نعوذ باللہ الحاد کا راستہ اختیار کر لیا؟ تو بالکل، وہ بھی قصوروار ہے، کیونکہ اس نے علم کا وہ طریقہ اختیار نہیں کیا جو بطور ملحد بھی کسی شخص کو اختیار کرنا چاہیے، کیونکہ جو لوگ الحاد میں صادق ہوتے ہیں، میں نے یہ دیکھا ہے کہ …

عامر احمد عثمانی:

یعنی آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ہمیں ملحدین بھی اچھے نہیں ملے؟

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی:

میں یہ کہتا ہوں کہ پاکستان میں نظریاتی الحاد بہت کم ہے۔ آپ دیکھیں کہ علامہ صاحب یہاں موجود ہیں، ایک زمانے میں جب religion is the opium for people یعنی مذہب کو افیون کہا گیا، اس زمانے میں شاید کچھ نظریاتی مباحث لوگوں کے سامنے رہتے تھے۔ اب تو جو ہے وہ زیادہ تر internal critique کی ایک صورت لوگ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ scientific form of religious knowledge کو استعمال کریں، آپ جو spiritual experience ہے، اس کو کرنے کی کوشش کریں۔

اور میں بار بار دوہراؤں گا، کیونکہ اس وقت تفصیل کا موقع نہیں کہ نظریاتی الحاد کم ہے، لیکن ایک بہت بڑا سبب جو لوگوں کے ملحد ہونے کا، پاکستانی سطح پر، میں آپ سے یہ عرض کر رہا ہوں کہ جو پورنوگرافک کانٹینٹ ہے، فحاشی پر مبنی مواد ہے، دیکھتے دیکھتے بعض اوقات لوگ اس قدر عادی ہو جاتے ہیں کہ مزید ایسے مواد تک پہنچنے کے لیے کوئی ایسا شخص ٹکرا جاتا ہے جو ان سے الحادی کاموں کا مطالبہ کرتا ہے، نعوذ باللہ من ذالک، اور وہ اپنی اس lust اور خواہش کی ناجائز تکمیل کے لیے الحاد کا راستہ اختیار کرتے ہیں، کیونکہ خدا کا تصور حلال اور حرام کے فرق کے مابین ایک رکاوٹ بن جاتا ہے۔

بس آخر میں ایک بات کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ آپ اگر غور کیجیے، جو غلطی میں سمجھتا ہوں کہ مجموعی طور پر ہم سے ہو رہی ہے، وہ یہ ہے کہ ہم نے قرآن کا منہج اختیار نہیں کیا۔ یعنی ایک دلیل وہ ہے جو ایک فلسفی دیتا ہے، ایک عالم دیتا ہے، ایک متکلم دیتا ہے؛ لیکن خدا نے اپنے وجود کی خود کیا دلیل عطا فرمائی، ہم نے قرآن مجید کی طرف کبھی اس حوالے سے غور نہیں کیا۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر علم بالعقل — rationalization اور empirical evidence — کے ساتھ وحی کی طرف آپ توجہ کریں، صرف ایک آیت کے ساتھ میں بات کو ختم کروں گا، اللہ تعالیٰ ملحدین کو مخاطب کرتا ہے اور فرماتا ہے: ’’یا ایہا الناس ضرب مثل فاستمعوا لہ ان الذین تدعون من دون اللہ لن یخلقوا ذبابا ولو اجتمعوا لہ‘‘ (الحج ۷۳)۔ ایک مثال دی جا رہی ہے، فرمایا کہ تم ایک مکھی نہیں بنا سکتے، اگرچہ پوری کائنات کے سائنسدان مل جائیں، جس مکھی کے سر سے بڑی اس کی دو آنکھیں ہیں، دو کمپاؤنڈ آنکھوں میں چار ہزار سے زیادہ لینزز جو 360 ڈگری پر مکھی کو مختلف اطراف میں دیکھنے کا موقع دے رہے ہیں، اور وہ مکھی اڑتی بھی چلی جا رہی ہے، اس میں پورا ایک نظامِ حیات موجود ہے۔ اور شہد کی مکھی کا تو سبحان اللہ کیا کہنا، جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں پوری ایک سورت نازل کر دی۔ تو میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اگر ہم قرآن کے منہج کو دیکھیں تو آیاتِ قرآن کو کتابِ کائنات کی آیات کے ذریعے سمجھانا پڑے گا۔ خود شناسی سے خدا شناسی کا تصور، اور آیاتِ کتابِ کائنات سے کتاب اللہ کی آیات کی تفہیم، یہی قرآن مجید کا منہج ہے۔

عامر احمد عثمانی:

بہت بہت شکریہ ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی صاحب۔ بہت شکریہ مولانا زاہد الراشدی صاحب، آپ کی تشریف آوری کا، قیمتی ترین وقت کا، اور اس پروگرام میں ہونے والی مؤثر ترین گفتگو کا۔ ناظرین آپ کا بہت شکریہ۔ میں نے بڑے عام اور بڑے سنجیدہ قسم کے سوالات رکھنے کی کوشش کی ہے آج، مجھے اندازہ ہے کہ پروگرام نامکمل ہے، مگر ظاہر ہے کہ ایک وقت ہے، ایک باؤنڈری ہے، اس کے اندر رہتے ہوئے ہم نے اس پروگرام کو نتیجہ خیز بھی بنانا ہوتا ہے۔ مجھے احساس ہے اس بات کا کہ آپ کے ذہن میں بہت سارے سوالات آ رہے ہیں، مگر میں یہ چاہوں گا کہ آپ کامنٹ باکس کو بھر دیں سوالات سے۔ اگر محسوس ہوتا ہے کہ اس موضوع پر بات ہونی چاہیے تو ہم اس پر بات کریں گے، ہم اس کی دوسری قسط بھی کریں گے، تیسری بھی کریں گے، چوتھی بھی کریں گے، لیکن اگر آپ کے سوالات سنجیدہ ہوئے تب۔ 

عموماً‌ ہوتا یہ ہے کہ اس طرح کے موضوعات کو لیا نہیں جاتا، یہ تھوڑے سے انٹلیکچوئل قسم کے موضوعات ہیں، مگر ایک وہ خاص طبقہ بھی پایا جاتا ہے جو ایسے موضوعات پر بات کرنا بھی چاہتا ہے، سننا بھی چاہتا ہے، اور دلائل سے بات کو سمجھنا بھی چاہتا ہے، تو اگر آپ بھی اسی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں تو آپ نے اپنے سوالات بھیجنے ہیں، کامنٹ باکس میں اپنی رائے کا اظہار کرنا ہے، اور اس پروگرام کو آپ نے ان لوگوں تک بھی ضرور پہنچانا ہے جو الحاد، اور new atheism کی جو بدلتی ہوئی شکلیں ہیں، اس پر بات کرنا جانتے ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان شاء اللہ اس موضوع پر ہم مزید بھی بات کریں گے مگر آپ کا فیڈبیک بہت زیادہ اہم ہے۔ فی الوقت اس پروگرام سے اپنے میزبان عامر عثمانی کو اجازت دیجیے۔ ان شاء اللہ اگلے پروگرام میں ملاقات ہوتی ہے۔ اللہ کی امان میں۔

youtube/JknnBL_OEjo

(الشریعہ — نومبر ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — نومبر ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۱۱

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۷)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل کا نبوی منہج (۴)
مولانا ڈاکٹر محمد ابوبکر فاروقی

حدیث میں بیان کی گئی علاماتِ قیامت کی تاریخی واقعات سے ہم آہنگی (۷)
ڈاکٹر محمد سعد سلیم

محاضراتِ فقہ (۵)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۶)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کیا مذہب پر سوال اٹھانا الحاد ہے؟
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی
عامر احمد عثمانی

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۱۱)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۹)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

سائنس کا قبلہ
فرحت علی بیگ

فکری انحراف اور علماء کرام کی ذمہ داری
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی
مفتی شاد محمد شاد

اوّلیاتِ برصغیر
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

تاریخ کا ایک ورق
اسرار الرحمٰن
ڈاکٹر سید راشد علی

بنیادی مذہبی تعلیم
مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ

اسلام کا سیاسی نظام: ایک قانونی تجزیہ (۲)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اسلام اور شخصی آزادی (۳)
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
ذیشان ہاشم

عدالتی خلع کے مسائل
ڈاکٹر محمد امین

Pakistan and the Muslim World: Where We Stand, Where We Go
Maulana Fazal-ur-Rehman

Human Rights: Five Key Differences Between Islamic & Western Perspectives
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

امتِ مسلمہ کا انتشار اور بڑی طاقتوں کا کردار
محمد محسن اقبال

عرب حکومتوں کا مستقبل: بحران، خطرات اور امکانات
تبصرات

مولانا راشدی کے خطابات و بیانات اور مصروفیت
ادارہ

تلاش

شماریات