انسانوں میں سے بعض گمان رکھتے ہیں کہ ’’سائنس‘‘ انسانی تجربات اور مشاہدات پر مبنی علم ہے۔ اسی غلط فہمی کی بنیاد پر وہ بڑے فخر سے اس علم کو خدا کے درجے پر فائز سمجھے ہوئے ہیں۔ آئیے اس آدھی بات اور آدھے سچ کو پوری بات اور پورے سچ تک بڑھاتے ہیں تاکہ بعض انسانوں اور سائنس دونوں کا قبلہ درست ہو جائے۔
سائنس انسانی تجربات اور مشاہدات کا ہی علم ہے لیکن کیا کبھی آپ نے اس بات پر بھی غور کیا ہے کہ انسان کس ہستی کی بنائی اشیاء پر یہ تجربات اور مشاہدات کرتا رہا ہے؟ انسان اللہ کی بنائی ہوئی مادی و غیر مادی اشیاء اور ان سے متعلق اللہ کے قوانین پر اپنے مشاہدات اور تجربات کے نتیجے میں ہونی والی دریافتوں کو اپنے قوانین کے نام سے موسوم کرتا رہا ہے اور یہ تاثر دیا جاتا رہا ہے کہ یہ سب سائنس کے قوانین ہیں، جبکہ درحقیقت وہ اللہ کے قوانین اور انسانوں کے حوالے سے محض ان کی دریافتیں تھیں۔
نیوٹن کے قوانینِ حرکت میں سے ایک کو لے لیں۔ ہر لگائی گئی قوت کا ردِ عمل برابر مگر مخالف سمت میں ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا نیوٹن نے اپنے تجربات اور مشاہدات کے بعد یہ اصول طے کر کے کائنات میں رائج کیا تھا؟ یا اس نے پہلے سے رائج شدہ اللہ کے اس قانون کو دریافت کیا ہے؟
سائنس کے مطابق کرنٹ دراصل الیکٹرونز کے بہاؤ کو کہا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا سائنس نے الیکٹرونز کے اس بہاؤ کو جاری کیا ہے یا دریافت کیا ہے؟
کیا کائنات میں پھیلی گیسز اس لئے ایک ایسے طریقے سے ردِ عمل دیتی ہیں کہ جو بوائلز اور چارلز کے تجربے اور مشاہدے کے مطابق ہے؟ نہیں، بلکہ یہ گیسز اس نظم و ضبط اور حساب کتاب کے مطابق ردِ عمل دیتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے متعین کیا ہے، جبکہ بوائلز اور چارلز نے اس حساب کتاب اور نظم کو اپنے مشاہدے اور تجربے کی بنیاد پر صرف دریافت کیا ہے۔
اللہ کی کائنات اور اس کائنات میں موجود اللہ کی تمام مادی و غیر مادی اشیاء کے متعلق سائنسدان صرف مشاہدات اور تجربات کی بنیاد پر اپنے اپنے نتائج اخذ کر سکتے ہیں، جبکہ اس کائنات اور اس میں موجود تمام اشیاء کے متعلق قوانین، نظم اور حساب کتاب کا نفاذ صرف اور صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔ انسان کے حصے میں قوانین کی دریافت ہے، ان کا نفاذ نہیں۔
سورہ فرقان آیت 2 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اور ہر چیز کو اس نے پیدا کر کے ایک اندازہ ٹھہرا دیا ہے۔ سورہ مرسلت آیت 23 میں اللہ فرماتے ہیں: پھر ہم نے ایک اندازہ مقرر کیا اور ہم کیا ہی خوب اندازہ مقرر کرنے والے ہیں۔
انسانوں نے اللہ کی پیدا کردہ مادی اور غیر مادی اشیاء میں یہی اندازہ دریافت کیا ہے، نہ کہ نافذ اور متعین کیا ہے، ورنہ تو یہ کائناتی امور میں سائنسدانوں کی شرکت کے برابر متصور کیا جائے گا۔ اور یقیناً ایسا ہر گز نہیں ہے۔
میڈیکل سائنس کہتی ہے کہ انسانی جسم میں خون کا ایک بہاؤ موجود ہے اور اس کی انسان دوست سطح 120/80 ہے۔ تو سوال ہے کہ کیا سائنس نے انسان کے اندر خون کے اس بہاؤ اور اس بہاؤ کی انسان دوست سطح کو نافذ کیا ہے یا صرف دریافت کیا ہے؟ مزید یہ کہ میڈیکل سائنس کے مطابق انسانی دل چار خانوں پر مشتمل ہے، تو کیا سائنس کے اس مشاہدے کو نفاذ کہا جائے یا دریافت؟ حقیقت یہ ہے کہ انسانی خون کی انسان دوست بہاؤ کی مقدار اور دل کے چار خانوں کی تعداد کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے نافذ و متعین کیا ہے۔
انسان کا علمِ فلکیات کہتا ہے کہ زمین پر کششِ ثقل 9.8m/s ہے اور چاند پر کششِ ثقل 1.6m/s ہے۔ تو کیا علمِ فلکیات نے یہ دونوں کششِ ثقل نافذ اور متعین کی ہیں یا انہیں محض دریافت کیا ہے؟
کیا انسان کے ایٹمی علم کی شاخ نے ایٹم کے اندر الیکٹرونز، پروٹونز اور نیوٹرونز کو نیوکلیس کے گرد مدار میں گردش کرنے پر متعین کیا ہے؟ یا اس علم کے ذریعے ان ایٹمی اجسام اور ان کی گردش کو محض دریافت کیا گیا ہے؟
یہ تصور بہت عام سننے کو ملتا ہے کہ آج انسان نے جتنی بھی ترقی کی ہے وہ سب سائنس کے مرہونِ منت ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب سمجھ میں آ جانے والے اللہ کے قائم کردہ اس نظم و ضبط اور حساب کتاب کی وجہ سے ہے جو اللہ نے اپنی بنائی ہوئی ہر ایک مادی و غیر مادی آیت میں رکھ دیا ہے۔ اس حوالے سے صرف کرنٹ یعنی الیکٹرونز کے بہاؤ کی مثال پیشِ خدمت ہے:
- اگر ان الیکٹرونز میں اللہ تعالیٰ نے بہاؤ نہ رکھا ہوتا تو انسان کے کروڑوں برقی آلات کیسے کام کرتے؟
- اور پھر صرف بہاؤ پر ہی بات موقوف نہیں ہے، اگر الیکٹرونز کا سائز ایک پنگ پونگ بال جتنا بڑا ہو جاتا تو ہم اپنے برقی آلات کے سائز کو چھوٹا کیسے کرتے؟
اللہ نے اپنی مادی آیات میں نہ صرف یہ کہ انسانی سمجھ آ جانے والا نظم اور حساب کتاب رکھا ہے بلکہ اسے انسان کے لئے قابلِ تسخیر بھی کر دیا ہے۔ سورہ لقمان آیت 20 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے زمین و آسمان کی تمام چیزوں کو تمہارے کام میں لگا رکھا ہے اور تمہیں اپنی باطنی اور ظاہری تمام نعمتیں بھرپور عطا کر رکھی ہیں۔ اس پیش کردہ آیت مبارکہ کی سچائی کا ثبوت یہ ہے کہ پوری کائنات میں صرف انسان کو اللہ کی مادی و غیر مادی اشیاء کے علم پر دسترس نصیب ہوئی اور اسی نے اس دسترس کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کی ہر مادی و غیر مادی چیز کو اس قدر نپے تلے حساب کتاب اور ناپ تول کے ساتھ بنایا ہے کہ اللہ کا قائم کردہ یہ حساب کتاب فزکس، کیمسٹری اور حساب کے علم میں حسابی مساواتوں کی صورت ہمارے سامنے ہے۔
اللہ تعالیٰ نے علم کو اپنی مادی و غیر مادی آیات میں پنہاں کر کے انسان کو بے یارومددگار چھوڑ نہیں دیا تھا بلکہ اللہ نے انسان کو ہر زمانے میں، درجہ بہ درجہ اس علم سے روشناس کرایا ہے۔ آیت الکرسی میں اللہ کا ارشاد ہے: اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا وہ چاہتا ہے معلوم کرا دیتا ہے۔
اور معلوم اس لئے کرایا کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور کائنات اللہ کا فعل ہے۔ لہٰذا جب کبھی بھی انسان اپنے آس پاس شعور کی نظر دوڑائے تو اسے اللہ کے کلام اور فعل میں تضاد نہ مل سکے اور وہ جان لے کہ قرآن اور کائنات ایک ہی ہاتھ کی تحریر ہیں اور یوں وہ زبردستی نہیں بلکہ خالصتاًً علمی بنیادوں پر اللہ کی ذات کا شعور اور ادراک حاصل کر سکے۔
سورہ مائدہ کے مطابق قابیل جب اپنے بھائی کی لاش کو اٹھائے اٹھائے پھر رہا تھا تو اللہ نے کوے کو بھیج کر اسے قبر کھودنے کا علم سکھایا اور اللہ کی مادی آیت قبر کے متعلق صراطِ مستقیم کی طرف ایک غیر محسوس طریقے سے رہنمائی کی۔
سورہ قریش میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو مختلف موسموں سے مانوس کرنے کی صلاحیت عطاء کرنے کا ذکر کیا۔ سورہ سبا آیت 11 میں حضرت داؤد علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے زرہ بنانے کا حکم ہے، ظاہر ہے کہ جب حکم دیا ہوگا تو طریقہ بھی بتایا ہوگا، جیسے ہمیں نماز کا حکم دیا ہے تو نماز کا طریقہ بھی سکھایا۔ سورہ ہود میں حضرت نوح علیہ السلام کو ممکنہ سیلاب سے بچاؤ کے لئے کشتی بنانے کا حکم ہے۔ سورہ یوسف میں اللہ کے عطاء کردہ زراعت کے علم کے ذریعے ممکنہ قحط کا حل کرنا۔ سورہ کہف کے مطابق حضرت ذوالقرنینؑ کے ذریعے انسانوں کو یاجوج ماجوج سے بچاؤ کے لیے لوہے اور تانبے کی دھاتوں کے استعمال کے علم کی طرف راہنمائی کی اور اس سے وہ دیوار بنائی گئی کہ جو آج تک انسانیت کے لئے یاجوج ماجوج سے بچاؤ کی ضامن ہے۔
نبی آخر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے تیر بنانے، تیر اندازی سیکھنے اور تیر کو بہترین ہتھیار قرار دینا، جنگِ خندق میں خندق کی ٹیکنالوجی کو بطور دفاع استعمال میں لانا، قرآن مجید میں سورہ الانفال آیت 60 میں گھوڑوں کو تیار رکھنے کا حکم، یہ سب اللہ کی مادی آیات کے حوالے سے اشیاء سازی کے لیے صراطِ مستقیم کی رہنمائی ہی تو تھی۔ یوں اس بات کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے طے فرما دیا گیا کہ انسانی فلاح کے لئے اللہ کی مادی و غیر مادی آیات کا علم اختیار کر کے ٹیکنالوجی ڈیویلوپمنٹ یعنی اشیاء سازی، اللہ کی رحمت ہے۔ (سورہ کہف آیت 98)
صراطِ مستقیم صرف عباداتی اور اعتقاداتی تناظرات کی اصطلاح نہیں ہے۔ اللہ کی مادی و غیر مادی آیات کے حوالے سے صراطِ مستقیم کی اصطلاح کو اس تناظر میں دیکھا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں دشمن سے جنگ کے لئے گھوڑوں کو تیار رکھنے کا حکم دیا ہے تو اس حوالے سے مسلمانوں کا اٹھایا ہر قدم صراطِ مستقیم ہو گا۔ اس کے علاوہ سورہ کہف میں انسانیت کی فلاح کے لئے اللہ کی مادی آیات کو بنانے اور ان کے استعمال کرنے کو اللہ کی رحمت کہا گیا ہے۔ البتہ اللہ کی مادی آیات کے حوالے سے انسانیت کے خلاف ناجائز طور پر عام اور ایٹمی اسلحہ کا استعمال شیطانی اور حیوانی رستہ ہے۔
مندرجہ بالا نکات دینِ محمدؐ کو ایک دینِ مکمل ثابت کرنے کو کافی ہیں کہ جو نہ صرف عبادات و اعتقادات کے حوالے سے ہی نہیں بلکہ سائنس و ٹیکنالوجی کے حوالے سے بھی ایک کامل صراطِ مستقیم کی ہدایت کرتا ہے۔ یوں ان مستشرقین کا بھی منہ بند ہوتا ہے کہ جو کہتے ہیں کہ دینِ اسلام وہ کھنڈر ہے جو عصرِ حاضر سے بالکل بھی مطابقت نہیں رکھتا۔
حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے قابیل سے لے کر آج تک کے تمام انسانوں کو ٹیکنالوجی ڈیویلوپمنٹ کے صراطِ مستقیم کی راہنمائی اللہ فرمائے؛ اپنی مادی و غیر مادی آیات میں نظم و حساب کتاب کو انسانوں کے لئے قابلِ فہم اور قابلِ استعمال اللہ بنائے؛ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں، آنکھیں، کان اور دماغ اللہ عطاء کرے؛ اور ہم ہر روز سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور مدرسوں میں حرکت کے قوانین کو نیوٹن کے قوانینِ حرکت کے نام سے پڑھائیں، تو کیا یہ اللہ کے حق میں ایک علمی خیانت نہیں ہے؟ ضرور جس نے دریافت کیا ہے اس کا نام بھی لیا جانا چاہئے، لیکن جس نے بنایا ہے اس کا نام تک بھی لینا گوارا نہیں کیا جاتا؟ کیا انسان کے خلاف یہ مقدمہ بنتا ہے یا نہیں کہ قوانین تو اللہ کے ہوں اور نام صرف نیوٹن کا لیا جائے؟ یہ سیدھا سادھا کاپی رائیٹ کا مقدمہ بنتا ہے۔
انسان کے سائنسی علم کو انسان کا علم تو تب مانا جائے کہ جب وہ بغیر اللہ کی تخلیق میں سے کچھ لئے کلوننگ کا کمال کر دکھائے۔ جب وہ اللہ کی طرف سے انسانوں میں پہلے سے فراہم کردہ جینز کے بغیر ہی جینیٹک انجینئرنگ کر دکھائے۔ کششِ ثقل کو 9.8m/s کے بجائے اپنی مرضی کے ہندسوں میں تبدیل کر دکھائے، جب اللہ کی یورینیم استعمال کرنے کے بجائے (اپنی بنائی ہوئی) مٹی کی اینٹ میں سے تابکاری کا عمل جاری کر دکھائے۔ جب انسان سورہ رحمٰن آیت 33 میں اللہ کے فرمان کے برعکس — کہ اے جن و انس! اگر تم اس زمین و آسمان کے کناروں سے باہر نکلنا چاہو تو اس کے لئے بڑا زور چاہیے اور بغیر زور کے تم نہیں نکل سکتے — انسان صرف اپنے سائنسی کے علم کی طاقت سے زمین کے مدار سے نکل کر دکھا دے۔ انسان کا سائنسی علم یہ چیلنج کبھی بھی قبول نہیں کرے گا کیونکہ انسان ان حدود و قیود کا پابند ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے لئے مقرر کر دیں ہیں۔ اللہ کی مادی و غیر مادی آیات میں پنہاں اللہ تعالیٰ کا حساب کتاب اور نظم وہ حدود ہیں کہ جن کی پاسداری انسان کی سائنس نے ہر صورت کرنی ہے۔
لہٰذا یہ کہنا کہ سائنس صرف انسانی تجربات اور مشاہدات کا علم ہے، ایک آدھی ادھوری بات ہے۔ لیکن جب ہم یہ کہیں کہ سائنس انسانی تجربات اور مشاہدات کا ہی علم ہے مگر یہ تجربات اور مشاہدات اللہ کے اس نظم اور حساب کتاب سے متعلق ہوتے ہیں جو اس نے اپنی کائنات کی ہر شے میں جاری و ساری کر دیا ہے۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو سائنس دراصل — سورہ فرقان اور سورہ مرسلت کی روشنی میں — اشیاء میں اللہ کے قائم کردہ نظم اور حساب کتاب کو تجربات اور مشاہدات کے ذریعے جاننے کا علم ہے۔ لہٰذا اگر ’’بعض انسان‘‘ اپنی سائنس کو اس زاویے پر لے آئیں تو ان انسانوں اور ان کی سائنس کا قبلہ درست ہو جائے گا۔
اس حوالے سے دو مزید وضاحتوں کا ذکر بھی ضروری ہے کہ:
- ایک یہ کہ اللہ کی مادی و غیر مادی آیات ارتقاء پذیر نہیں ہیں بلکہ انسان کا سائنسی علم ارتقاء پذیر ہے۔ انسان شروع ہی سے انسان ہی ہے اور باقی سب جاندار بھی اسی ڈھب پر ہیں، یعنی اسی نظم اور حساب کتاب پر ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے طے کر دیا ہے، اس لئے کہ اللہ کی مادی و غیر مادی آیات اللہ کے علم کا نتیجہ ہیں اور اللہ کا علم ارتقاء پذیر نہیں ہے۔
- دوسرا یہ کہ علم دراصل اللہ کی علمی و مادی آیات کی صورت اپنی کلیت میں ایک اکائی ہی ہے، ہماری نیت اسے دینی یا دنیاوی بناتی ہے۔ اللہ کی علمی آیات قرآن مجید اور مستند ترین احادیث پر مشتمل ہیں؛ جبکہ اللہ کی مادی آیات کا علم فزکس، کیمسٹری، اناٹومی، بیالوجی اور حساب وغیرہ کی صورت فی زمانہ میسر کر دیا گیا ہے۔
آج امتِ مسلمہ کو اللہ نے اپنی علمی آیات کا بہترین علم عطاء کیا ہے لیکن مسلمان آپس کی ضد کے باعث انتشار کا شکار ہیں، جبکہ دوسری طرف اہلِ مغرب اور یہودیوں کو اللہ نے اپنی مادی آیات کا بہترین علم عطاء کیا ہے لیکن انہوں مسلمانوں کے ساتھ ضد کی وجہ سے اسلام کا انکار کر رکھا ہے۔ سورہ جاثیہ آیت 17 کے مطابق پھر انہوں نے اپنے پاس علم آ چکنے کے بعد آپس کی ضد کے باعث اختلاف برپا کر دیا۔





















