▲ ☰

عرب حکومتوں کا مستقبل: بحران، خطرات اور امکانات

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشمکش اور خلیجی عرب بادشاہتوں کے مستقبل کے حوالے سے معروف امریکی عسکری تجزیہ کار ڈگلس میک گریگر، ایرانی نژاد امریکی تجزیہ کار ڈاکٹر ٹریٹا پارسی اور ممتاز امریکی ماہرِ سیاسیات پروفیسر جان میئرشائمر کے تبصرے خطے میں بدلتے ہوئے تزویراتی حالات کی اہم جہات کو نمایاں کرتے ہیں۔ ان کے تجزیوں میں سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان تصادم، خلیجی ریاستوں کے دفاعی نظام کی حدود، امریکی سرپرستی کی افادیت اور مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے بدلتے ہوئے توازن جیسے اہم موضوعات زیرِ بحث آتے ہیں۔ ان تبصروں کی روشنی میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا موجودہ بحران محض علاقائی کشیدگی کا ایک عارضی مرحلہ ہے یا اس کے نتیجے میں خلیجی بادشاہتوں کے سیاسی استحکام اور پورے خطے کی موجودہ جغرافیائی و سیاسی ترتیب کو بھی بنیادی نوعیت کے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مذکورہ مبصرین کی زیر مطالعہ تین گفتگوؤں میں اس صورتحال کو مختلف زاویوں سے دیکھا گیا ہے:

  1. پہلی میں ڈگلس میک گریگر نے سعودی عرب اور دیگر خلیجی بادشاہتوں کے ممکنہ زوال کو تاریخی اور تہذیبی تناظر میں پیش کیا ہے۔
  2. دوسری میں ڈاکٹر ٹریٹا پارسی نے یمن کی جنگ، حوثیوں کی پیش قدمی، خلیجی ریاستوں کی داخلی کمزوریوں، اور امریکہ کی علاقائی بالادستی میں کمی کی طرف توجہ دلائی ہے۔
  3. تیسری میں پروفیسر جان میئرشائمر نے دفاعی ٹیکنالوجی کی بنیادی حدود کا جائزہ لیتے ہوئے یہ استدلال پیش کیا ہے کہ جدید میزائلوں اور ڈرونز کے مقابلے میں انتہائی مہنگے دفاعی نظام بھی کسی ملک کو مکمل تحفظ فراہم نہیں کر سکتے۔

ان تجزیوں کو یکجا کرنے سے جو مجموعی تصور سامنے آتا ہے وہ مختصراً‌ اس طرح سے ہے کہ عرب بادشاہتوں کے لیے خطرہ محض کسی بیرونی حملے میں نہیں ہے بلکہ ان پر بڑھتا ہوا جنگی دباؤ، دفاعی کمزوریاں، سیاسی جواز کا بحران، اور بیرونی سرپرستی پر انحصار کے عوامل ایک دوسرے کو تقویت دینے لگے ہیں۔ تاہم، ان عوامل سے لازماً بادشاہتوں کے خاتمے کا نتیجہ اخذ کرنا شاید درست نہ ہو کیونکہ سقوط کی پیشگوئی، ممکنہ اسباب، اور بظاہر امکانات، یہ الگ الگ سوالات ہیں جنہیں ایک دوسرے سے ممتاز رکھنا ضروری ہے۔

سعودی عرب: علاقائی طاقت سے سلامتی کے بحران تک

سعودی عرب طویل عرصے سے خلیجِ فارس کی اہم ترین عرب ریاستوں میں شمار ہوتا ہے۔ تیل کے وسیع ذخائر، مالی وسائل، مذہبی اہمیت، جدید اسلحے کی خریداری، اور امریکہ کے ساتھ طویل تزویراتی تعلقات نے اسے خطے میں غیر معمولی اثرورسوخ عطا کیا ہے۔ لیکن یہ طاقت اپنی نوعیت کے اعتبار سے کئی ایسے مفروضوں پر قائم رہی ہے جنہیں موجودہ تنازعات نے سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ ان مفروضوں میں سب سے بڑا یہ ہے کہ مالی وسائل اور جدید مغربی اسلحہ کسی ریاست کو بیرونی خطرات سے مؤثر طور پر محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ سعودی عرب نے اپنے دفاع پر خطیر رقوم خرچ کی ہیں اور امریکہ سے جدید جنگی طیارے، میزائل شکن نظام، اور دوسرے دفاعی آلات حاصل کیے ہیں، اس کے باوجود اگر مخالف قوتیں مسلسل میزائل اور ڈرون حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں تو دفاعی برتری برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔

ڈگلس میک گریگر نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے مستقبل اور سعودی ریاست کے استحکام کے بارے میں نہایت سخت پیشگوئیاں کی ہیں۔ ان کے مطابق یمن میں حوثیوں کے خلاف طویل جنگ سعودی قیادت کی ایک بنیادی تزویراتی غلطی ثابت ہوئی ہے، جس کے نتائج اب خود سعودی عرب کی سلامتی تک پہنچ سکتے ہیں۔ انہوں نے سعودی نظام کے مستقبل کے بارے میں نہایت سنگین خدشات ظاہر کیے اور اس کے ممکنہ زوال کو قریب الوقوع خطرے کے طور پر پیش کیا۔ اس تجزیے کا زیادہ قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ ایک ریاست کی عسکری اور مالی قوت کے باوجود اس کی سلامتی کمزور پڑ سکتی ہے، یعنی اگر اس کی جنگی حکمتِ عملی اسے ایسے تنازعے میں پھنسا دے جس سے نکلنے کا راستہ محدود ہوتا جائے۔ سعودی عرب کے لیے یمن کا مسئلہ اسی نوعیت کا چیلنج بن کر سامنے آتا ہے۔

یمن کی جنگ: سعودی حکمتِ عملی کا طویل مدتی امتحان

مبصرین نے یمن کی جنگ کو سعودی عرب کے لیے ایک فیصلہ کن چیلنج کے طور پر پیش کیا ہے۔ ایک تجزیے میں کہا گیا ہے کہ سعودی قیادت نے 2014ء میں انصار اللہ یعنی حوثیوں کے خلاف فوری عسکری کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن یہ مہم ایک طویل اور پیچیدہ تنازعے میں تبدیل ہو گئی۔ ایک دوسرے تجزیے میں بھی اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف کارروائیوں اور یمن کی ناکہ بندی کو جاری رکھ کر اپنے لیے مشکلات بڑھائی ہیں۔

اس جنگ کی پیچیدگی کا ایک سبب یہ ہے کہ حوثیوں کے مخالف محاذ میں شامل مختلف گروہ ضروری نہیں کہ ایک دوسرے کے ساتھ مکمل طور پر متفق ہوں۔ یمن میں حوثیوں کے مخالف عناصر کے درمیان اختلافات اس حد تک گہرے ہیں کہ ان سب کو ایک متحد اور مؤثر عسکری قوت سمجھنا مشکل ہے۔ اس صورتحال میں محض زیادہ اسلحہ یا بیرونی مدد کے ذریعے حوثیوں کو فیصلہ کن طور پر شکست دینا آسان نہیں ہو گا۔

یہ امکان بھی بیان کیا گیا ہے کہ حوثیوں نے بعض علاقوں میں کامیابیاں حاصل کرنے کے لیے صرف عسکری طاقت پر انحصار نہیں کیا، بلکہ مختلف مقامی گروہوں اور فوجی اہلکاروں کے ساتھ مذاکرات اور مفاہمت سے بھی فائدہ اٹھایا۔ اس طرزِ عمل نے ان کی پیش قدمی میں اہم کردار ادا کیا اور مخالف قوتوں کی صورتحال کے بارے میں بیرونی انٹیلیجنس کی معلومات کی حدود بھی نمایاں کیں۔

یہاں بنیادی مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کون سا فریق زیادہ طاقتور ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ کون اپنے مخالف کی داخلی تقسیم، سیاسی مشکلات، اور جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت کو بہتر طور پر سمجھتا ہے۔ طویل جنگوں میں بعض اوقات نسبتاً کم وسائل رکھنے والا فریق بھی اپنے حریف کو مسلسل اخراجات، غیر یقینی صورتحال، اور سیاسی دباؤ میں مبتلا کر کے اہم نتائج حاصل کر سکتا ہے، اور اس حوالے سے افغانستان میں بیس سالہ امریکی قبضے کے خلاف افغان طالبان کی جدوجہد کی مثال بھی پیش کی گئی۔

اسی پس منظر میں ڈاکٹر ٹریٹا پارسی نے سعودی عرب کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ناکہ بندی ختم کرنے اور جنگ سے نکلنے کے لیے کسی معاہدے پر سنجیدگی سے غور کرے۔ ان کا استدلال ہے کہ اگر جنگ جاری رکھنے کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہو اور فیصلہ کن کامیابی کا امکان کم ہوتا جائے تو سابقہ پالیسی پر اصرار ریاستی مفادات کے خلاف جا سکتا ہے۔

جدید جنگ کا بنیادی مسئلہ: حملہ سستا، دفاع مہنگا

سعودی عرب کے ممکنہ بحران کو سمجھنے کے لیے امریکی ماہرِ سیاسیات جان میئرشائمر کا تجزیہ خاص اہمیت رکھتا ہے جس میں وہ جدید جنگ کے ایک بنیادی مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حملہ آور میزائلوں اور ڈرونز کے مقابلے میں مؤثر دفاع قائم کرنا مشکل اور مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔ سعودی عرب نے امریکہ سے جدید دفاعی نظام حاصل کیے ہیں لیکن اس کے باوجود میزائلوں اور ڈرونز کے خطرے کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں ہو سکا۔ اس تجزیے میں یہی نکتہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے کہ جدید دفاعی نظاموں کی موجودگی مکمل دفاع کی ضمانت نہیں۔ حملہ آور فریق کم لاگت پر بڑی تعداد میں ڈرونز اور بعض اقسام کے میزائل تیار کر سکتا ہے، جبکہ ان حملوں کو روکنے کے لیے دفاع کرنے والے ملک کو مہنگے انٹرسیپٹر میزائل استعمال کرنا پڑتے ہیں۔ اگر حملے مسلسل جاری رہیں تو دفاعی ذخائر کم ہونے لگتے ہیں، دوبارہ اسلحہ حاصل کرنے پر مزید اخراجات آتے ہیں اور اہم تنصیبات کی حفاظت ایک مستقل چیلنج بن جاتی ہے۔ اس صورتحال کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر کسی گھر پر بار بار نسبتاً سستے پتھر پھینکے جائیں تو گھر کے مالک کو ہر پتھر روکنے کے لیے مہنگا حفاظتی انتظام کرنا پڑے، تب بھی وہ اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتا کہ کوئی پتھر اندر نہیں آئے گا۔ ریاستی سطح پر معاملہ کہیں زیادہ پیچیدہ ہے، کیونکہ اس میں توانائی کی تنصیبات، ہوائی اڈے، فوجی اڈے، مواصلاتی نظام اور شہری بنیادی ڈھانچہ بھی شامل ہوتے ہیں۔

پروفیسر جان میئرشائمر اس دلیل کو اسرائیل اور یوکرین کی مثالوں سے بھی واضح کرتے ہیں۔ اسرائیل کو امریکی مدد اور جدید دفاعی نظام میسر ہونے کے باوجود ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے حملوں سے مکمل تحفظ حاصل نہیں ہوا۔ جبکہ یوکرین کو روسی حملوں کے مقابلے میں دفاعی میزائلوں کی قلت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان مثالوں کی مدد سے وہ یہ عمومی نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ جدید میزائل اور ڈرون جنگ میں حملہ آور قوت کو بعض اہم عملی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔

اس استدلال کا سعودی عرب کے مستقبل سے براہِ راست تعلق ہے۔ اگر کوئی ریاست اپنی سلامتی کے لیے مہنگے دفاعی نظاموں پر انحصار کرتی ہو، لیکن اس کے مخالف مسلسل حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، تو اس کی مالی طاقت اور اسلحے کی فراوانی بھی اسے غیر محدود تحفظ فراہم نہیں کر سکتی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دفاعی نظام بیکار ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ان کی صلاحیت، لاگت اور دستیاب ذخائر کی حدود کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ پروفیسر جان میئرشائمر کے مطابق کے مطابق، سعودی عرب کے دفاعی مسائل کو صرف امریکہ کی عدم دلچسپی، دونوں ملکوں کے تعلقات میں خرابی، یا سعودی مالی وسائل کی کمی سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ 

امریکی سرپرستی کی حدود اور خلیجی سلامتی کا مستقبل

خلیجی بادشاہتوں کے سیاسی و عسکری نظام کی ایک اہم بنیاد امریکہ کے ساتھ ان کے دفاعی تعلقات ہیں۔ سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان اسلحے کی خریداری، دفاعی تعاون، اور علاقائی مفادات پر مبنی قریبی تعلقات رہے ہیں۔ خلیجی ریاستوں نے اسی وسیع تر سلامتی کے نظام کے تحت اپنی دفاعی پالیسیاں تشکیل دی ہیں۔ اس حوالے سے ان تجزیات میں چند پہلو نمایاں ہو کر سامنے آتے ہیں۔

اگر امریکہ اپنے قریبی اتحادیوں کو بھی میزائلوں اور ڈرونز کے حملوں سے مکمل طور پر محفوظ نہیں رکھ سکتا تو خلیج میں امریکی فوجی اڈوں اور اتحادی ریاستوں کے تحفظ کی عملی حدود کیا ہوں گی؟ اگر مخالف قوتوں کے پاس بڑی تعداد میں جدید میزائل اور ڈرون موجود ہوں تو امریکہ کے لیے اپنے فوجی اڈوں اور خلیجی اتحادیوں کو مؤثر طور پر محفوظ رکھنا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔ خطے میں امریکی دفاعی سرپرستی کی حدود نمایاں ہونے کی صورت میں علاقائی ریاستوں کو اپنے مفادات، خطرات اور دفاعی حکمتِ عملی کا ازسرِنو جائزہ لینا پڑ سکتا ہے۔

البتہ ان تجزیات کے مطابق امریکی دفاعی صلاحیت کی حدود کو امریکی سرپرستی کے مکمل خاتمے کے مترادف سمجھنا شاید قبل از وقت ہو گا۔ کسی اتحادی کو ہر حملے سے محفوظ نہ رکھ پانا؛ اور اس کی دفاعی، سفارتی یا عسکری مدد کرنے سے قاصر ہونا؛ یہ دو مختلف باتیں ہیں۔ چنانچہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا خلیجی ریاستیں بدلتی ہوئی جنگی صورتحال میں اپنی سلامتی کی حکمتِ عملی کو نئے حالات کے مطابق ڈھال سکتی ہیں؟ اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب رہیں تو دفاعی مشکلات کے باوجود اپنا سیاسی نظام برقرار رکھ سکتی ہیں، لیکن اگر ان کا انحصار ایسے دفاعی انتظامات پر برقرار رہے جو بڑھتے ہوئے خطرات کا مؤثر جواب نہ دے سکیں تو ان کی کمزوریاں زیادہ نمایاں ہو سکتی ہیں۔

سعودی عرب کی داخلی سلامتی اور حکمران خاندان کا مستقبل

یمن میں طویل جنگ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خطرات سعودی قیادت کے لیے سنگین مسئلہ بن سکتے ہیں۔ ڈگلس میک گریگر نے یہاں تک کہا ہے کہ محمد بن سلمان کا زوال ناگزیر ہے۔ 

بہرحال یہ ایک سیاسی پیشگوئی ہے، البتہ اس تجزیے کا اہم پہلو یہ ہے کہ ریاستی سلامتی اور حکمران خاندان کی سلامتی ایک دوسرے سے وابستہ ہونے کے باوجود یکساں نہیں ہوتیں۔ کوئی حکومت بیرونی حملوں کے باوجود برقرار رہ سکتی ہے، اور کسی حکمران کو داخلی سیاسی وجوہات سے بھی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ اسی طرح، کسی حکمران کی اپنی مشکلات کا مطلب لازماً ریاست کا خاتمہ نہیں ہوتا۔

اس سلسلے میں سعودی عرب کی معاشی اور ترقیاتی پالیسیوں کا سوال بھی سامنے آتا ہے۔ سعودی وژن 2030ء کے مستقبل پر جنگ کے منفی اثرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اگر مسلسل عسکری خطرات، توانائی کی ترسیل میں رکاوٹیں، اور دفاعی اخراجات بڑھتے رہیں تو ترقیاتی منصوبوں، سرمایہ کاری اور معاشی تنوع کی کوششوں پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔ معاشی ترقی کے بڑے منصوبوں کے لیے سیاسی استحکام، سرمایہ کاروں کا اعتماد، اور بنیادی ڈھانچے کی حفاظت اہم شرائط ہیں۔ اگر ان شرائط کو مسلسل خطرات لاحق رہیں تو حکومت کے لیے اپنے معاشی اہداف حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر ریاست اپنے دفاع کو مؤثر بنائے، جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کرے، اور معاشی سرگرمیوں کو تحفظ فراہم کرے تو یہی دباؤ مؤثر حکمتِ عملی کا محرک بھی بن سکتا ہے۔

چنانچہ سعودی قیادت کے مستقبل کا جائزہ صرف حوثیوں کی عسکری پیش قدمی سے نہیں لیا جا سکتا۔ اس کے لیے یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ سعودی حکومت داخلی استحکام، معاشی کارکردگی، عوامی اعتماد اور علاقائی سفارتکاری کے درمیان توازن قائم رکھنے میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔

عرب عوام میں حوثی مقبولیت کا سوال اور سیاسی جواز کا بحران

ڈاکٹر ٹریٹا پارسی نے حوثیوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا ایک سیاسی پہلو بھی بیان کیا ہے کہ عرب دنیا اور وسیع تر مسلم معاشروں کے بعض حلقوں میں حوثیوں کو اس لیے حمایت مل رہی ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ بعض دوسری عرب حکومتوں کے رویے کو اسرائیل کے مقابلے میں کمزور یا مفاہمت پسند سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر پارسی نے اردن کی فوج کی بعض سرگرمیوں اور اسرائیل کے ساتھ عرب ریاستوں کے تعلقات پر تنقید کی ہے۔

خلیجی بادشاہتوں کے مستقبل کے حوالے سے یہ نکتہ اہم ہے کیونکہ کسی حکومت کی طاقت صرف اس کے اسلحے، دولت اور بیرونی اتحادیوں سے متعین نہیں ہوتی۔ عوامی تاثر، سیاسی جواز اور حکمرانوں کے فیصلوں کے بارے میں معاشرتی ردِعمل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم، اس دعوے کو فی الحال عرب عوام کی مجموعی رائے کا نمائندہ سمجھنا شاید درست نہ ہو۔ بہرحال اس بحث سے ایک اہم سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی عرب حکومت کی خارجہ پالیسی اور اس کے عوام کے ایک حصے کے سیاسی و اخلاقی تصورات میں نمایاں فاصلہ پیدا ہو جائے تو اس کے داخلی استحکام پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟ اگر عوام کا کوئی حصہ یہ محسوس کرے کہ اس کے حکمران قومی یا علاقائی مفادات کے تحفظ میں ناکام ہیں، یا فلسطین جیسے اہم مسئلے پر ان کا رویہ عوامی توقعات سے مطابقت نہیں رکھتا، تو حکومت کے سیاسی جواز پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ لیکن ایسے عدمِ اطمینان کا نتیجہ لازماً بغاوت یا بادشاہت کا خاتمہ نہیں ہوتا۔ اس کے نتائج کا انحصار داخلی سیاسی حالات، ریاستی اداروں، عوامی تنظیموں اور حکومت کے ردِعمل پر بھی ہوتا ہے۔

اسی طرح حوثیوں کی اس قدر مقبولیت کو پورے عرب معاشرے کی یکساں رائے قرار دینا بھی شاید مجموعی صورتحال کی عکاسی نہ ہو۔ البتہ یہ بات درست ہے کہ اب خلیجی بادشاہتوں کے لیے چیلنج صرف بیرونی دشمنوں کا مقابلہ کرنا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے عوام کے سامنے اپنی پالیسیوں کا جواز کس طرح پیش کرتی ہیں۔

کویت اور بحرین: علاقائی جنگ سے داخلی بحرانوں کا خدشہ

سعودی عرب کے علاوہ کویت اور بحرین کے مستقبل کے بارے میں بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ اس امکان کا ذکر کیا گیا ہے کہ عراق میں موجود بعض مسلح گروہوں کی پیش قدمی کویت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، جب کہ بحرین میں داخلی مخالفت اور بیرونی مسلح گروہوں کی حمایت مل کر عدمِ استحکام پیدا کر سکتی ہے۔

یہ امکانات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ خلیجی ریاستوں کو درپیش خطرات کی نوعیت یکساں نہیں۔ سعودی عرب کے لیے یمن سے متعلق عسکری دباؤ اور وسیع جغرافیائی حدود کے دفاع کا مسئلہ اہم ہے، جبکہ کویت اور بحرین کے حوالے سے ان کی جغرافیائی صورتحال، داخلی سیاسی ماحول اور علاقائی مسلح گروہوں کے ساتھ ممکنہ تعلقات زیرِ بحث آتے ہیں۔ تاہم یہ ضروری ہے کہ ان خدشات کو ثابت شدہ واقعات یا طے شدہ مستقبل کے طور پر نہ لیا جائے۔ کسی مسلح گروہ کی ممکنہ پیش قدمی، کسی ملک میں داخلی مخالفت، اور کسی ریاست پر حقیقی قبضے کے درمیان کئی مراحل اور رکاوٹیں ہوتی ہیں۔ ان کے وقوع پذیر ہونے کے لیے سیاسی، عسکری اور داخلی حالات کا ایک خاص انداز میں جمع ہونا ضروری ہے۔ 

ان امکانات کا ذکر ایک وسیع تر مسئلے کو نمایاں کرتا ہے۔ اگر کسی خطے میں متعدد تنازعات بیک وقت شدت اختیار کر جائیں، دفاعی وسائل پر دباؤ بڑھے اور بیرونی سرپرستی کی قابلِ اعتماد حیثیت پر سوال اٹھنے لگیں، تو نسبتاً چھوٹی ریاستوں کے لیے اپنے استحکام کو برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ یہی وہ صورتحال ہے جس میں کسی ایک ملک کا بحران دوسرے ملک کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔ یمن میں جنگ کی شدت، عراق میں مسلح گروہوں کی سرگرمیاں، اور خلیج میں توانائی کی ترسیل کے راستوں کی سلامتی، یہ سب الگ الگ مسائل ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے مربوط ہو سکتے ہیں۔

آبنائے ہرمز، تیل کی ترسیل اور معاشی دباؤ

خلیجی بادشاہتوں کی طاقت کا ایک اہم حصہ ان کے توانائی کے وسائل اور ان وسائل کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی صلاحیت سے وابستہ ہے۔ اسی لیے آبنائے ہرمز اور تیل کی ترسیل کے دوسرے راستوں کی سلامتی پورے خطے کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ سعودی عرب کی مشرق سے مغرب جانے والی تیل کی پائپ لائن کو آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے مقابلے میں ایک متبادل راستے کے طور پر اہمیت حاصل رہی ہے۔ اس پائپ لائن پر حملے نے سعودی عرب کی تیل کی ترسیل کے متبادل انتظامات کو متاثر کیا ہے۔

چنانچہ توانائی کے وسائل کی فراوانی بذاتِ خود معاشی تحفظ کی ضمانت نہیں۔ اگر تیل کی پیداوار، پائپ لائنوں، بندرگاہوں یا سمندری راستوں کو خطرات لاحق ہو جائیں تو ایک دولت مند ریاست کو بھی اپنی آمدنی اور عالمی تجارتی روابط کے تحفظ کے لیے مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ نیز توانائی کی ترسیل میں خلل صرف متعلقہ ملک کو متاثر نہیں کرتا، بلکہ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں، نقل و حمل کے اخراجات، انشورنس اور دوسرے معاشی عوامل بھی اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ یوں خلیج میں محدود جغرافیائی دائرے کا کوئی عسکری تصادم عالمی معاشی اثرات پیدا کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلیجی بادشاہتوں کے مستقبل پر بحث کرتے ہوئے دفاعی نظاموں کے ساتھ ساتھ توانائی کے بنیادی ڈھانچے، متبادل راستوں اور علاقائی اقتصادی روابط کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

بڑھتے ہوئے تصادم کے بے قابو ہونے کا خطرہ

مبصرین کی گفتگوؤں کے مجموعی مطالعے سے ایک اور اہم مسئلہ سامنے آتا ہے۔ وہ یہ کہ علاقائی تنازعات ایک دوسرے پر اس طرح سے اثرانداز ہونے لگ جائیں کہ تصادم کی شدت کو قابو میں رکھنا مشکل ہو جائے۔ یعنی محدود اور منصوبہ بند کارروائیاں کرنے والے فریق کسی مرحلے پر طیش میں آ کر ایسے اقدامات کر گزریں کہ جن کے نتائج ان کے اپنے قابو سے باہر نکل جائیں۔ ایک فریق اگر اپنے مخالف کی تنصیبات یا توانائی کے نظام کو نشانہ بنائے تو مخالف فریق بھی اسی نوعیت کے جوابی حملے کر سکتا ہے۔ اس طرح محدود کارروائیوں کا سلسلہ وسیع جنگ میں تبدیل ہونے کا خطرہ پیدا کرتا ہے۔

ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں اور ممکنہ جوابی کارروائیوں کے تعلق پر بھی بحث کی گئی ہے۔ اگر پابندیاں کسی حکومت کے فیصلوں کو تبدیل نہ کر سکیں تو ان کی سیاسی افادیت محدود رہ سکتی ہے۔ دوسری طرف اگر یہ پابندیاں بہت زیادہ دباؤ پیدا کریں تو متاثرہ حکومت جوابی اقدامات کی طرف بڑھ سکتی ہے۔ اسی طرح توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے جواب میں دوسرے ممالک کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا امکان عالمی معیشت کے لیے شدید خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ ایسے تصادم میں نقصان صرف براہِ راست جنگ کرنے والے ممالک تک محدود نہیں رہتا، بلکہ عالمی تجارت، تیل کی فراہمی اور علاقائی استحکام بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ عرب بادشاہتوں کے لیے یہ صورتحال اس لیے اہم ہے کہ ان کی معاشی اور سیاسی قوت کا ایک بڑا حصہ علاقائی استحکام سے وابستہ ہے۔ اگر خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تنازعات میں گھرا رہے تو ریاستوں کو بیک وقت دفاعی، معاشی، سفارتی اور داخلی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تاریخی ریاستیں اور مصنوعی سرحدوں کا نظریہ

ڈگلس میک گریگر نے خلیجی بادشاہتوں کے ممکنہ زوال کو ایک وسیع تاریخی تناظر میں پیش کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلی عالمی جنگ کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں برطانیہ اور فرانس کی سرپرستی میں قائم ہونے والی سرحدوں کو ازسرِنو جانچنے کا وقت آ سکتا ہے۔ انہوں نے سائیکس پیکو معاہدہ، جنگِ عظیم اول کے بعد کے سیاسی فیصلوں، اور اردن جیسی ریاستوں کی تشکیل کا ذکر کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ بعض موجودہ ریاستیں گہری تاریخی بنیادوں کے بجائے بیرونی طاقتوں کے سیاسی فیصلوں سے وجود میں آئی تھیں، اس لیے اگر امریکی اثرورسوخ میں کمی واقع ہوتی ہے تو اس خطے کی سیاسی ترتیب بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔ اسی تناظر میں ایران، ترکی اور مصر کو ایسی بڑی ریاستوں کے طور پر پیش کیا گیا ہے جن کی تہذیبی اور تاریخی جڑیں بہت گہری ہیں، چنانچہ یہ ریاستیں مستقبل میں مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی نظام پر زیادہ اثرانداز ہو سکتی ہیں، جبکہ بعض خلیجی ریاستوں کا موجودہ انتظام کمزور پڑ سکتا ہے۔ اس تصور کو تاریخی انتقام یا تاریخ کی واپسی کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے۔

مبصر کی اس تاریخی تعبیر میں یہ اہم نکتہ موجود ہے کہ خطے کی موجودہ سیاسی ترتیب کو ہمیشہ کے لیے غیر متغیر نہیں سمجھنا چاہیے، طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلیاں، بیرونی سرپرستی میں کمی، اور علاقائی تنازعات کی شدت ریاستوں کے باہمی تعلقات اور سیاسی کردار کو تبدیل کر سکتی ہیں۔ البتہ یہ ضروری نہیں کہ جدید ریاستوں کی بقا صرف ان کی تہذیبی قدامت اور بنیادوں پر منحصر ہو؛ ریاستی اداروں کی مضبوطی، قومی شناخت، معاشی نظام، سیاسی قیادت اور داخلی مفاہمت بھی اہم عوامل ہیں۔ چنانچہ ایران، ترکی اور مصر کی طویل تاریخ ان کے علاقائی اثرورسوخ کو سمجھنے میں مدد ضرور دیتی ہے لیکن اس سے یہ نتیجہ خودبخود اخذ نہیں ہوتا کہ یہ ریاستیں پورے مشرقِ وسطیٰ پر غالب آ جائیں گی یا موجودہ عرب بادشاہتیں لازماً ختم ہو جائیں گی۔

کیا اسرائیل اور امریکہ کے علاقائی کردار میں تبدیلی آ سکتی ہے؟

مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے حوالے سے اسرائیل کے وجود اور علاقائی کردار پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے۔ اسرائیل کو جدید سیاسی تاریخ میں قائم ہونے والی ریاست قرار دیتے ہوئے یہ سوال زیرِ بحث لایا گیا ہے کہ اگر امریکہ خطے سے اپنا کردار کم کرے تو اسرائیل سمیت دیگر ممالک کی سلامتی اور سیاسی حیثیت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ امریکہ کے سابقہ جنگی تجربات بالخصوص ویتنام سے انخلا کی مثال دے کر یہ خیال پیش کیا گیا ہے کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں بھی اپنے موجودہ کردار کو محدود کر سکتا ہے، اور اس صورت میں خطے کی بڑی تاریخی ریاستوں کو زیادہ اہمیت حاصل ہو سکتی ہے۔

تاہم اس امکان کو اس طرح سے دیکھنا شاید زیادہ بہتر ہو گا کہ امریکہ کے علاقائی کردار میں کمی کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں: 

  • براہِ راست عسکری مداخلت میں کمی، فوجی اڈوں کی پالیسی میں تبدیلی، اتحادیوں سے زیادہ ذمہ داریاں اٹھانے کا مطالبہ، یا سفارتی ترجیحات کی تشکیلِ نو۔ ان میں سے ہر صورت کے نتائج مختلف ہوں گے۔ 
  • اسی طرح، اسرائیل کے مستقبل کا سوال صرف امریکی موجودگی یا غیر موجودگی سے طے نہیں ہوگا، بلکہ اس کی اپنی عسکری صلاحیت، داخلی سیاست، علاقائی تعلقات اور دوسرے ممالک کے ساتھ تصادم یا مفاہمت کی صورتیں بھی اہم ہوں گی۔ 
  • جبکہ خلیجی بادشاہتوں کے لیے اس بحث کا تعلق اس امر سے ہے کہ اگر خطے کی بڑی طاقتیں اپنے مفادات اور سلامتی کی حکمتِ عملی تبدیل کرتی ہیں تو موجودہ اتحادوں اور علاقائی انتظامات کو بھی نئے دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے۔

ترکی، پاکستان اور علاقائی دفاعی اتحادوں کی حدود

سعودی عرب کے دفاع اور علاقائی استحکام کے حوالے سے ترکی اور پاکستان کا ذکر کیا گیا ہے۔ اگر حوثیوں کی کارروائیاں سعودی سرزمین تک پھیل جاتی ہیں تو ترکی اور پاکستان کو ایک مشکل صورتحال کا سامنا ہو سکتا ہے، کیونکہ انہیں سعودی عرب کے ساتھ تعلقات، اپنے قومی مفادات، اور ممکنہ وسیع تر جنگ کے خطرات کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔

یہ نکتہ علاقائی دفاعی معاہدوں کی عملی حدود کو سمجھنے کے لیے اہم ہے۔ کسی ملک کے ساتھ دفاعی تعاون یا سیاسی معاہدہ ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ ہر ممکنہ جنگ میں تمام فریق یکساں طور پر شریک ہوں گے۔ عملی فیصلہ خطرے کی نوعیت، معاہدے کی شرائط، داخلی سیاسی حالات، اور جنگ کے ممکنہ نتائج کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔ چنانچہ ترکی اور پاکستان کا ایران کے خلاف براہِ راست جنگ میں شریک ہونا ایک غیر یقینی سی بات لگتی ہے، اور موجودہ حالات میں ایسی جنگ دونوں ممالک کے لیے سنگین پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔

اس تجزیے سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ کسی اتحاد کی حقیقی قوت کا اندازہ صرف سیاسی اعلانات سے نہیں لگایا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے عملی ذمہ داریوں، مشترکہ حکمتِ عملی، اور بحران کی صورت میں فریقین کے ممکنہ فیصلوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ چنانچہ سعودی عرب کی سلامتی کا انحصار اس کے اپنے دفاعی وسائل کے ساتھ ساتھ علاقائی تعلقات اور اتحادیوں کے ممکنہ ردِعمل پر بھی ہے۔

عرب بادشاہتوں کا ممکنہ سقوط: حقیقت، امکان یا مبالغہ؟

اب بنیادی سوال کی طرف واپس آتے ہیں: کیا سعودی عرب اور دیگر عرب بادشاہتیں واقعی سقوط کی طرف بڑھ رہی ہیں؟

  • ڈگلس میک گریگر نے اس سوال کا جواب اثبات میں دیتے ہوئے کہا ہے کہ خلیجی بادشاہتوں کی موجودہ سیاسی ترتیب تاریخی طور پر کمزور بنیادوں پر قائم ہے اور امریکی اثرورسوخ میں کمی کے بعد اس کے برقرار رہنے کی ضمانت نہیں۔
  • ڈاکٹر ٹریٹا پارسی نے حوثیوں کی پیش قدمی، خلیجی ریاستوں کی ممکنہ داخلی کمزوریوں، اور علاقائی دفاعی نظام کے بحران کو اس خدشے کی بنیاد بنایا ہے۔
  • پروفیسر جان میئرشائمر نے جدید دفاعی ٹیکنالوجی کی حدود کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سعودی عرب جیسے دولت مند ملک کے لیے بھی میزائل اور ڈرون حملوں سے مکمل تحفظ حاصل کرنا دشوار ہو سکتا ہے۔

ان تجزیوں کے مجموعی مطالعے سے یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ خلیجی ریاستوں کی سلامتی کو غیر مشروط یا ناقابلِ شکست سمجھنا درست نہیں۔ مالی وسائل، جدید اسلحہ اور بیرونی اتحاد اہم اثاثے ہیں، لیکن ان کی افادیت کی حدود بھی ہیں۔ اگر ریاستی قیادت غلط تزویراتی فیصلے کرے، طویل جنگ میں پھنس جائے، اپنے بنیادی ڈھانچے کا تحفظ نہ کر سکے، اور داخلی سیاسی جواز بھی کمزور پڑنے لگے، تو لامحالہ اس کی مشکلات ایک دوسرے کو بڑھا سکتی ہیں۔ لیکن ان عوامل سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ سعودی عرب، کویت، بحرین، یا متحدہ عرب امارات کا خاتمہ طے شدہ بات ہے۔ ریاستوں کے پاس بحرانوں سے نکلنے کے کئی راستے ہوتے ہیں، جن میں سفارتی مفاہمت، جنگ کا خاتمہ، دفاعی حکمتِ عملی کی اصلاح، معاشی پیشکش اور علاقائی تعلقات کی ازسرِنو تشکیل شامل ہیں۔

چنانچہ بادشاہت کے سیاسی نظام میں تبدیلی، اور ریاست کے جغرافیائی وجود کا خاتمہ، یہ دو مختلف نتائج ہیں۔ کسی ملک میں حکمران خاندان کی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے، سیاسی اداروں میں اصلاحات آ سکتی ہیں، حتیٰ کہ حکومت تبدیل ہو سکتی ہے، لیکن ریاست بطور سیاسی اکائی برقرار رہ سکتی ہے۔ اس لیے ممکنہ سقوط کی بحث میں یہ واضح ہونا چاہیے کہ بات حکمران خاندانوں کے مستقبل کی ہو رہی ہے، موجودہ سیاسی نظام کی، یا خود ریاستوں کی جغرافیائی وحدت کی؟

خلیجی نظام کے لیے اصل امتحان

زیر مطالعہ گفتگوؤں کا مرکزی پیغام اس طرح سے پیش کیا جا سکتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا موجودہ توازن دباؤ کی زد میں ہے۔ یمن کی جنگ نے سعودی عرب کے لیے سلامتی کے پیچیدہ مسائل پیدا کیے ہیں، جدید میزائلوں اور ڈرونز نے دفاعی نظاموں کی حدود واضح کر دی ہیں، امریکی سرپرستی کی عملی صلاحیت پر سوال اٹھے ہیں، اور علاقائی سیاست میں عوامی جذبات اور تاریخی شناخت کے کردار کو دوبارہ اہمیت حاصل ہوئی ہے۔ اس صورتحال میں عرب بادشاہتوں کا مستقبل محض ان کے مالی وسائل یا خریدے گئے اسلحے سے متعین نہیں ہوگا، بلکہ ان کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ

  • بدلتے ہوئے عسکری حالات کے مطابق اپنی دفاعی حکمتِ عملی کیسے تبدیل کرتی ہیں؟
  • غیر ضروری جنگوں سے نکلنے کے لیے کتنی سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتی ہیں؟
  • اپنے معاشی بنیادی ڈھانچے کو کس حد تک محفوظ رکھتی ہیں؟
  • اور اپنی داخلی و علاقائی پالیسیوں کے لیے عوامی اعتماد کیسے برقرار رکھتی ہیں؟

اگر یہ ریاستیں ان چیلنجوں کا مؤثر جواب دینے میں ناکام رہیں تو ان کی سلامتی، سیاسی استحکام، اور علاقائی حیثیت کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر وہ سفارتکاری، داخلی استحکام، اور دفاعی اصلاحات کے ذریعے ان چیلنجوں کا مؤثر جواب دے سکیں تو موجودہ بحران ان کے خاتمے کے بجائے انہیں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔ 

چنانچہ جہاں تک عرب بادشاہتوں کے ممکنہ سقوط کا سوال ہے، اس کا تزویراتی امکان تو ہے، مگر اسے ایک طے شدہ تاریخی انجام قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ زیادہ سنجیدہ سوال یہ ہے کہ کیا خلیجی ریاستیں اس بدلتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے تحفظ اور سیاسی استحکام کے لیے نئے راستے اختیار کر سکتی ہیں، یا وہ ایسے تنازعات میں مزید الجھتی جائیں گی جو ان کی موجودہ طاقت اور حکمرانی کے ڈھانچے کو کمزور تر کرتے ہوئے بالآخر خاتمے کا سبب بن جائیں؟

https://youtu.be/u3-5iFcANgs

https://youtu.be/hdjoF_ptrI8

https://youtu.be/akuGly0rSgI

حالات و مشاہدات

(الشریعہ — نومبر ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — نومبر ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۱۱

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۷)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل کا نبوی منہج (۴)
مولانا ڈاکٹر محمد ابوبکر فاروقی

حدیث میں بیان کی گئی علاماتِ قیامت کی تاریخی واقعات سے ہم آہنگی (۷)
ڈاکٹر محمد سعد سلیم

محاضراتِ فقہ (۵)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۶)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کیا مذہب پر سوال اٹھانا الحاد ہے؟
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی
عامر احمد عثمانی

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۱۱)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۹)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

سائنس کا قبلہ
فرحت علی بیگ

فکری انحراف اور علماء کرام کی ذمہ داری
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی
مفتی شاد محمد شاد

اوّلیاتِ برصغیر
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

تاریخ کا ایک ورق
اسرار الرحمٰن
ڈاکٹر سید راشد علی

بنیادی مذہبی تعلیم
مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ

اسلام کا سیاسی نظام: ایک قانونی تجزیہ (۲)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اسلام اور شخصی آزادی (۳)
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
ذیشان ہاشم

عدالتی خلع کے مسائل
ڈاکٹر محمد امین

Pakistan and the Muslim World: Where We Stand, Where We Go
Maulana Fazal-ur-Rehman

Human Rights: Five Key Differences Between Islamic & Western Perspectives
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

امتِ مسلمہ کا انتشار اور بڑی طاقتوں کا کردار
محمد محسن اقبال

عرب حکومتوں کا مستقبل: بحران، خطرات اور امکانات
تبصرات

مولانا راشدی کے خطابات و بیانات اور مصروفیت
ادارہ

تلاش

شماریات