▲ ☰

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۱۱)

الحاد کی تاریخ اور فکری ارتقاء: قرونِ وسطیٰ سے عصرِ حاضر تک

قرونِ وسطیٰ کا دور (تقریباً 5ویں سے 15ویں صدی عیسوی) مغربی دنیا میں چرچ کے مطلق اختیار کا دور تھا۔ اس دور میں الحاد کی فضا بہت محدود تھی، کیونکہ خدا کے وجود سے انکار پر سزائے موت دی جاتی تھی۔ تاہم، اس دور میں بھی کچھ فکری رجحانات پیدا ہوئے جو بعد میں الحاد کی بنیاد بنے۔ یہ رجحانات براہ راست خدا کے انکار سے زیادہ چرچ کے سیاسی اور فکری جمود کے خلاف تھے۔

چرچ اور مذہب کے خلاف لاحق ہونے والے اعتراضات

قرونِ وسطیٰ میں چرچ کی بالادستی کے خلاف جو فکری بغاوت سامنے آئی، اس کی کئی وجوہات تھیں:

فکری جمود اور قدامت پرستی

چرچ نے یونانی فلسفے اور سائنسی نظریات کو اپنے عقائد کے خلاف سمجھا۔ گیلیلیو گیلیلی (Galileo Galilei) کی مثال اس کی واضح دلیل ہے۔ جب گیلیلیو نے یہ ثابت کیا کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے، تو چرچ نے اسے مذہبی عقائد کے خلاف قرار دیا اور اس کے نظریات کو رد کر دیا۔ اس رویے نے لوگوں میں مذہب اور سائنس کے درمیان ایک گہری خلیج پیدا کر دی۔

عقائد پر عقلی اعتراضات

کچھ مفکرین نے چرچ کے عقائد، جیسے تثلیث (Trinity)، پر عقلی اعتراضات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عقائد منطق کے خلاف ہیں اور انہیں محض ایمان کی بنیاد پر قبول کرنا مشکل ہے۔

سیاسی طاقت کا غلط استعمال

چرچ نے اپنی سیاسی طاقت کا استعمال لوگوں پر ظلم اور جبر کرنے کے لیے کیا۔ انکوِزیشن (Inquisition) کی عدالتوں کے ذریعے لوگوں کو اذیتیں دی گئیں اور ان کی جان لی گئی، جس سے لوگ مذہب سے متنفر ہو گئے۔ یہ ظلم لوگوں میں مذہب کے خلاف شدید نفرت کا سبب بنا، جس کا فائدہ بعد میں آنے والے ملحدین نے اٹھایا۔

مالی بدعنوانیاں

اس دور میں پوپ کے اختیارات کا بے دریغ استعمال اور مالی بدعنوانیاں عروج پر تھیں۔ سب سے زیادہ قابلِ ذکر "Indulgence" (انڈلجنس) کا فروخت تھا۔ انڈلجنس وہ خط تھا جسے خرید کر لوگ اپنے گناہوں کی بخشش کروا سکتے تھے۔ اس عمل نے چرچ کی روحانی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا اور لوگوں کو یہ یقین دلایا کہ یہ ادارہ صرف مالی فائدہ حاصل کر رہا ہے [1]۔ نتیجہ یہ ہوا کہ چرچ کے ان اقدامات نے مذہب کی بنیاد کو کمزور کر دیا، اور جب روشن خیالی کے فلاسفہ نے عقل اور منطق کو اپنایا، تو ان کے لیے مذہب اور چرچ کو تنقید کا نشانہ بنانا آسان ہو گیا۔ یہ وہ تاریخی اور سماجی پس منظر تھا جس نے جدید الحاد کو پھلنے پھولنے کا موقع دیا۔

روشن خیالی کے فلاسفہ اور الحادی رجحانات

قرونِ وسطیٰ کے بعد، جسے روشن خیالی (Enlightenment) کا دور بھی کہا جاتا ہے، چرچ کے اختیار کو چیلنج کیا گیا۔ اس دوران کچھ ایسے فلسفی بھی سامنے آئے جن کے نظریات نے الحاد کے لیے زمین ہموار کی۔

باروخ اسپینوزا (Baruch Spinoza) (1632-1677)

اسپینوزا کا فلسفہ "توحیدِ وجود" (Pantheism) کہلاتا ہے۔ اس نے خدا کو کائنات سے الگ ایک ہستی کے بجائے کائنات کی روح قرار دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ خدا اور کائنات ایک ہی حقیقت کے دو مختلف نام ہیں۔ یہ نظریہ براہ راست الحاد نہیں تھا، لیکن اس نے ایک ایسے شخصی خدا (Personal God) کے تصور کو رد کر دیا جو انسانوں سے مخاطب ہوتا ہے، وحی بھیجتا ہے، اور کائنات میں براہ راست مداخلت کرتا ہے۔ اس طرح، اس کے نظریات نے روایتی مذہبی تصورات کو ختم کر کے الحاد کے لیے ایک فکری بنیاد فراہم کی[2]۔

ڈیوڈ ہیوم (David Hume) (1711-1776)

ڈیوڈ ہیوم ایک سکاٹش فلسفی تھا جو شک پرستی (Skepticism) کے لیے مشہور ہے۔ اس نے معجزات اور وحی پر عقلی اعتراضات اٹھائے۔ اس نے اپنی کتاب "An Enquiry Concerning Human Understanding" میں معجزات کو اس لیے ناممکن قرار دیا کہ وہ فطرت کے قوانین کے خلاف ہوتے ہیں، اور فطرت کے قوانین کو توڑنے والا کوئی بھی واقعہ کبھی نہیں ہوتا۔ ہیوم کے نظریات نے مذہب اور ایمان پر شک کو فروغ دیا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ معجزات کو سائنسی اصولوں پر پرکھنا چاہیے۔ اس کے نظریات نے بعد میں آنے والے بہت سے ملحدین کو ایک مضبوط ہتھیار فراہم کیا[3]۔

دیگر فلاسفہ

ژاں ژاک روسو (Jean-Jacques Rousseau) اور والٹیئر (Voltaire) جیسے مفکرین نے بھی مذہب اور چرچ کے جبر پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے روشن خیالی (Enlightenment) کی تحریک کو فروغ دیا، جس کا مقصد عقل کو ہر چیز پر فوقیت دینا تھا۔ ان کی تحریروں نے چرچ کے سیاسی اثر و رسوخ کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور الحاد کے لیے ایک فکری راستہ ہموار کیا۔

یہ تمام فکری تحریکیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ الحاد کوئی یکدم پیدا ہونے والا نظریہ نہیں تھا، بلکہ یہ صدیوں کی فکری کشمکش، چرچ کے جبر اور مذہبی عقائد پر اٹھنے والے سوالات کا نتیجہ تھا۔

روشن خیالی کے دور میں الحاد

روشن خیالی (Enlightenment) اور الحاد کا کیا تعلق ہے؟ ایک بہت اہم اور فکری نکتہ ہے۔ یہ وہ دور تھا جب مغربی معاشرہ مذہب اور چرچ کی صدیوں پرانی بالادستی سے باہر نکل کر عقل اور منطق کو اپنا رہنما بنانے لگا۔ اسی فکری انقلاب نے الحاد کے لیے زمین ہموار کی۔ روشن خیالی کا دور براہ راست الحادی نہیں تھا، لیکن اس نے ایک ایسا فکری ماحول پیدا کیا جہاں خدا، مذہب اور چرچ کے اختیار پر آزادانہ طور پر سوال اٹھائے جا سکتے تھے۔

  1. اس دور میں ہر چیز کو عقل کی کسوٹی پر پرکھا جانے لگا۔ جو چیز عقل کے خلاف تھی، اسے مسترد کر دیا جاتا تھا۔
  2. چرچ کے ظلم اور جبر نے لوگوں کو اس سے متنفر کیا، جبکہ سائنسی دریافتوں نے معجزات اور روایتی عقائد کو کمزور کر دیا۔

روشن خیالی ایک ایسا فکری اور ثقافتی انقلاب تھا جو 17ویں اور 18ویں صدی میں یورپ میں آیا۔ اس تحریک کا مقصد عقل، منطق، اور سائنس کی بنیاد پر معاشرتی، سیاسی، اور مذہبی مسائل کو سمجھنا اور ان کا حل تلاش کرنا تھا۔ اس نے چرچ کے روایتی اختیار کو چیلنج کیا اور انسانیت کو فکری آزادی کی ایک نئی راہ دکھائی۔ اس کا الحاد سے کیا تعلق تھا، اسے ہم درج ذیل نکات میں سمجھ سکتے ہیں:

1. مذہب پر سوالات اور چرچ کے خلاف اعتراضات

روشن خیالی کے مفکرین نے سب سے پہلے چرچ کی مذہبی تعلیمات پر سوالات اٹھائے۔ یہ سوالات الحاد کے لیے ایک راستہ ہموار کر گئے۔

والٹیئر جیسے مفکرین نے چرچ کے سیاسی جبر اور مذہبی عدم رواداری پر شدید تنقید کی۔ اس کے مشہور قول "Ecrasez l'infame" (اس بدنام چیز کو کچل دو) کا اشارہ چرچ کے ظلم کی طرف تھا۔ چرچ کی طرف سے سزائے موت اور انکوِزیشن جیسی کارروائیوں نے لوگوں کو مذہب سے متنفر کیا اور یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ کیا یہ واقعی خدائی احکام ہیں یا محض انسانی جبر۔

اس دور میں آئزک نیوٹن جیسے سائنسدانوں نے فطرت کے ایسے قوانین دریافت کیے جو مذہبی معجزات کے روایتی تصور کو چیلنج کرتے تھے۔ کائنات کو ایک گھڑی کی طرح سمجھا جانے لگا جو ایک دفعہ چلنے کے بعد خود کار طریقے سے کام کرتی ہے۔ اس نے خدا کے اس تصور کو کمزور کیا جو ہر لمحہ کائنات میں مداخلت کرتا ہے۔

2. دیزم (Deism) اور الحاد کی طرف پہلا قدم

روشن خیالی کے دوران الحاد کا ایک اہم پیشرو دیزم (Deism) کا نظریہ تھا۔ دیزم کے پیروکار یہ مانتے تھے کہ خدا نے کائنات کو بنایا ہے، لیکن اس کے بعد اس میں کوئی مداخلت نہیں کی۔ یہ خدا ایک "گھڑی ساز" (Watchmaker) کی طرح تھا جس نے گھڑی (کائنات) کو بنایا اور اسے چلتا ہوا چھوڑ دیا۔ دیزم اگرچہ خدا کے وجود کو تسلیم کرتا تھا، لیکن یہ اس کے شخصی، زندہ اور فعال ہونے کا انکار کرتا تھا۔ اس نے وحی، معجزات، اور الہامی کتب کی اہمیت کو رد کیا۔ یہ نظریات براہ راست الحاد نہیں تھے، لیکن انہوں نے روایتی مذہبی تصورات کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا اور بعد میں الحاد کو قبول کرنے کا راستہ کھولا۔

3. ڈیوڈ ہیوم اور شک پرستی (Skepticism)

ڈیوڈ ہیوم (1711-1776) روشن خیالی کا ایک اہم فلسفی تھا جس کے نظریات نے مذہب پر گہرے شکوک پیدا کیے۔ ہیوم نے اپنی مشہور کتاب "An Enquiry Concerning Human Understanding" میں معجزات کو عقلی طور پر ناممکن قرار دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ معجزہ فطرت کے قوانین کی خلاف ورزی ہے، اور ہمارے پاس فطرت کے قوانین کے درست ہونے کے زیادہ شواہد ہیں بہ نسبت کسی معجزے کے وقوع پذیر ہونے کے۔ ہیوم نے مذہب کی بنیاد کو محض دلیل کے بجائے انسانی جذباتی رویوں پر قرار دیا، جس نے مذہب کو عقلی طور پر کمزور ثابت کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

4. اسپینوزا اور توحیدِ وجود (Pantheism)

باروخ اسپینوزا (1632-1677) کا فلسفہ بھی روشن خیالی کے دوران ابھرا، جس نے روایتی خدا کے تصور کو ایک نئی شکل دی۔ اسپینوزا کا کہنا تھا کہ خدا اور کائنات ایک ہی حقیقت ہیں۔ یعنی خدا کوئی ایسی ہستی نہیں جو کائنات سے باہر ہو، بلکہ وہ ہر چیز میں موجود ہے۔ یہ نظریہ اگرچہ خالص الحاد نہیں تھا، لیکن اس نے ایک شخصی خدا کے تصور کو مکمل طور پر رد کر دیا جو انسانوں کی دعائیں سنتا ہے یا انہیں وحی بھیجتا ہے۔ یہ نظریہ بعد میں آنے والے دہریوں اور ملحدین کے لیے ایک فکری اساس بنا[4]۔

اس دور نے لوگوں کو فکری آزادی دی۔ یہ وہ بنیاد تھی جس پر کھڑے ہو کر بعد کے فلاسفہ نے خدا کے وجود کا صریح انکار کیا۔

جدید الحاد کے معمار اور چرچ کا کردار

جدید الحاد، جس نے 19ویں اور 20ویں صدی میں مذہب کے خلاف ایک فکری محاذ کھولا، ان تین عظیم مفکرین کے نظریات پر کھڑا ہے: کارل مارکس، فریڈرک نیتشے، اور سگمنڈ فرائیڈ۔ ان فلاسفہ نے مذہب کو خدا کے بجائے سماجی، اقتصادی اور نفسیاتی عوامل کا نتیجہ قرار دیا۔

1. کارل مارکس: مذہب کو "عوام کی افیون" قرار دینے کا نظریہ

کارل مارکس (1818-1883) ایک جرمن فلسفی اور ماہرِ معاشیات تھا، جس کا مذہب پر تنقیدی نظریہ اس کے معاشی اور سیاسی فلسفے سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ مارکس کا مشہور قول ہے کہ "مذہب ایک مظلوم مخلوق کی آہیں ہے، ایک بے دل دنیا کا دل ہے، اور بے روح حالات کی روح ہے۔ یہ عوام کی افیون ہے۔" وہ اس نظریے کے ذریعے یہ کہنا چاہتا تھا کہ مذہب ایک ایسا نشہ ہے جو غریب اور مظلوم طبقے کو ان کی حقیقی حالت اور استحصال سے بے خبر رکھتا ہے۔ یہ انہیں یہ امید دلاتا ہے کہ اس دنیا کی مشکلات کے بدلے انہیں آخرت میں سکون اور خوشی ملے گی۔

مارکس کا نظریہ مذہب کو محض ایک سماجی ڈھانچے کا حصہ قرار دیتا ہے جو معاشرتی ناہمواری کو برقرار رکھتا ہے۔ اس کے خیال میں مذہب انسانی شعور کو بیدار ہونے نہیں دیتا، جس کے نتیجے میں وہ اپنے حقوق کے لیے لڑنے کی بجائے صبر و شکر کی تلقین کرتا ہے۔ اس نظریے نے بعد میں کمیونسٹ اور سوشلسٹ تحریکوں کو فکری بنیاد فراہم کی اور مذہب کو سیاسی اور سماجی تبدیلی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا[5]۔

2. فریڈرک نیتشے: "خدا مر چکا ہے" کی فکری تشریح

فریڈرک نیتشے (1844-1900) ایک جرمن فلسفی تھا جس کے نظریات نے مغربی تہذیب پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ اس کا سب سے مشہور اور متنازعہ قول ہے کہ "خدا مر چکا ہے۔" نیتشے کا یہ قول براہ راست خدا کی ہستی کے خاتمے کا اعلان نہیں تھا، بلکہ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ مغربی تہذیب نے اپنے روایتی مذہبی اور اخلاقی تصورات سے ایمان کھو دیا ہے۔ اس نے یہ پیشین گوئی کی کہ خدا کی موت کے بعد ایک اخلاقی بحران پیدا ہو گا کیونکہ اب خیر و شر کا تعین کرنے والی کوئی واحد ہستی باقی نہیں رہی۔

نیتشے نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ جب ہم نے خدا کے وجود سے انکار کر دیا ہے، تو ہمیں اس کے ساتھ جڑی ہوئی اخلاقیات سے بھی دستبردار ہو جانا چاہیے۔ اس کے مطابق، جدید سائنس اور عقلیت پرستی نے خدا کے تصور کو بے معنی کر دیا ہے۔ اس نظریے نے 20ویں صدی کی فکری دنیا میں بہت سے سوالات پیدا کیے اور وجودیت (Existentialism) اور مابعد جدیدیت (Postmodernism) جیسے فلسفوں کی بنیاد رکھی[6]۔

3. سگمنڈ فرائیڈ: مذہب کو ایک "اجتماعی وہم" قرار دینے کا نفسیاتی تجزیہ

سگمنڈ فرائیڈ (1856-1939) آسٹریا کا ایک اعصابی سائنسدان اور ماہرِ نفسیات تھا جسے نفسیاتی تجزیہ (Psychoanalysis) کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ اس نے مذہب کو نفسیاتی بنیادوں پر پرکھا۔ اپنی کتاب "The Future of an Illusion" میں فرائیڈ نے مذہب کو ایک "اجتماعی وہم" (Collective Illusion) قرار دیا۔ وہم ایک ایسی چیز ہوتی ہے جسے انسان حقیقت سمجھتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ اس کے اپنے لاشعور کی پیداوار ہوتی ہے۔ فرائیڈ کے مطابق، جب انسان بچپن میں بے بسی اور لاچاری محسوس کرتا ہے تو وہ اپنے والدین میں پناہ لیتا ہے۔ اسی طرح، بڑے ہو کر جب انسان کائنات کی طاقتوں کے سامنے خود کو بے بس پاتا ہے، تو وہ ایک والد کی شکل میں خدا کا تصور کرتا ہے جو اسے تحفظ دے سکے۔

فرائیڈ کا نظریہ مذہب کی حقیقت کے بجائے اس کے نفسیاتی عوامل پر زور دیتا ہے۔ اس نظریے نے جدید نفسیات میں مذہب پر ہونے والی بحثوں کو ایک نئی سمت دی، جہاں مذہب کو انسان کی نفسیاتی ضرورتوں کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، اس نظریے پر یہ تنقید بھی کی گئی کہ یہ مذہب کی مکمل حقیقت کو بیان نہیں کرتا اور اسے محض ایک نفسیاتی مرض قرار دیتا ہے[7]۔

References
  1. The Cambridge History of Christianity, vol. 5, Eastern and Western Christendom, edited by Michael Angold (Cambridge: Cambridge University Press, 2006), 153.
  2. Baruch Spinoza, Ethics, Part 1, Proposition 15.
  3. David Hume, An Enquiry Concerning Human Understanding, Section X, "Of Miracles."
  4. Spinoza, Ethics, Part 1, Proposition 15. (Note: If this immediately follows the first Spinoza reference in your text, you can also use Ibid., Proposition 15).
  5. Karl Marx, "A Contribution to the Critique of Hegel's Philosophy of Right," in Early Writings, trans. Rodney Livingstone and Gregor Benton (London: Penguin Classics, 1975), 244.
  6. Friedrich Nietzsche, The Gay Science, Book 3, Aphorism 125.
  7. Sigmund Freud, The Future of an Illusion, in The Standard Edition of the Complete Psychological Works of Sigmund Freud, vol. 21 (1927–1931) (London: Hogarth Press, 1961), 431.


اسلامی روایت اور عصری مباحث

اقساط

(الشریعہ — نومبر ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — نومبر ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۱۱

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۷)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل کا نبوی منہج (۴)
مولانا ڈاکٹر محمد ابوبکر فاروقی

حدیث میں بیان کی گئی علاماتِ قیامت کی تاریخی واقعات سے ہم آہنگی (۷)
ڈاکٹر محمد سعد سلیم

محاضراتِ فقہ (۵)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۶)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کیا مذہب پر سوال اٹھانا الحاد ہے؟
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی
عامر احمد عثمانی

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۱۱)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۹)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

سائنس کا قبلہ
فرحت علی بیگ

فکری انحراف اور علماء کرام کی ذمہ داری
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی
مفتی شاد محمد شاد

اوّلیاتِ برصغیر
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

تاریخ کا ایک ورق
اسرار الرحمٰن
ڈاکٹر سید راشد علی

بنیادی مذہبی تعلیم
مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ

اسلام کا سیاسی نظام: ایک قانونی تجزیہ (۲)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اسلام اور شخصی آزادی (۳)
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
ذیشان ہاشم

عدالتی خلع کے مسائل
ڈاکٹر محمد امین

Pakistan and the Muslim World: Where We Stand, Where We Go
Maulana Fazal-ur-Rehman

Human Rights: Five Key Differences Between Islamic & Western Perspectives
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

امتِ مسلمہ کا انتشار اور بڑی طاقتوں کا کردار
محمد محسن اقبال

عرب حکومتوں کا مستقبل: بحران، خطرات اور امکانات
تبصرات

مولانا راشدی کے خطابات و بیانات اور مصروفیت
ادارہ

تلاش

شماریات