▲ ☰

تاریخ کا ایک ورق

۱۹ شعبان ۱۳۱۱ ہجری، بروز دوشنبہ، بعد نماز صبح شہر ویلور (مدراس) میں درگاہ قطب ویلور کے روبرو میدان میں ایک جلسہ گاہ میں ہزاروں نفوس جمع ہیں۔ علماء، مشائخ، امراء اور ارکان مدرسہ لطیفیہ ویلور موجود ہیں۔ چہرے فرط محبت علم سے نورانی ہیں۔ آج مدرسہ کا اجتماع بعنوان ”دستار بندی“ ہے۔ فضا مئے عرفان کی پھوار سے ارغوانی ہے۔ ہندوستان کا دور دراز علاقہ ہے، اکابرین قوم رونق افروز ہیں کہ حسب پروگرام ایک جواں سال، قوی الجثہ عالم، جو قرآنی اصطلاح ”بسطۃ فی العلم والجسم“ کا مصداق تھا، پانچ فارغ التحصیل طلبہ کے جلو میں تشریف لائے، جن کے سر پر فضیلت کے عمامے باندھنے کا ارادہ تھا۔ عالم مذکور موضع طورو، ضلع مردان، صوبہ سرحد کا باشندہ حضرت مولانا حافظ سید عبدالجمیل ابن مولانا حافظ سید حفیظ اللہ تھا۔ آپ حضرت مولانا مفتی لطف اللہ علی گڑھی کے فخر روزگار شاگرد تھے، اور بقول علامہ سید انظر شاہ دیوبندی، علامہ سید انور شاہ کشمیری کے اساتذہ میں سے تھے (بحوالہ ”نقش دوام“، مطبوعہ ملتان)۔ ان کے پیچھے حافظ قاری قادر حسین صاحب تھے، جو اپنے پانچ شاگردوں کے ہمراہ آئے۔ یہ شاگرد حفظ قرآن کا تمغۂ امتیاز پانے والے تھے۔

فارغ التحصیل حضرات: مولوی محمد محی الدین حسین صاحب مدراسی، مولوی عبدالرحیم صاحب مدراسی، مولوی محمد عبدالشکور صاحب عظیم آبادی، مولوی کنجی احمد صاحب ملیباری اور مولوی میر محی الدین صاحب بنگلوری تھے؛ اور حفاظ مدرسہ: حافظ سید مودود ویلوری، حافظ سید محمود بنگلوری، حافظ سید ابراہیم کلیکوٹی، حافظ غوث محی الدین ویلوری اور حافظ اصغر حسین ویلوری تھے۔

جلسہ کی صدارت شمس العلماء حاجی رکن الدین سید شاہ محمد قادری نے فرمائی۔ آپ نے ارشاد فرمایا:

خود آنکس چہ فرخ بدوران بود
کہ آن دین شاہ را نگہبان بود
ترجمہ: وہ شخص اپنے زمانے میں کتنا خوش نصیب ہے جو اس شاہ (شاہِ دو عالم یعنی نبی کریم ﷺ) کے دین کا نگہبان ہو۔

”حضارِ مجلس! فقیر آپ صاحبوں کا تہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہے کہ اس دینی کام میں اپنی شرکت سے مجلس کی رونق اور اسلام کی شوکت ظاہر فرمائی۔“ آپ نے مزید فرمایا: ”علم وہ عمدہ نعمت ہے کہ جس سے دین و دنیا دونوں حاصل ہوتے ہیں۔“ صدر محترم نے اسلام اور مسلمانوں کی زبوں حالی پر افسوس کرتے ہوئے ایک شکست خوردہ بادشاہ اور چیونٹی کی کہانی سنائی اور فرمایا: ”اگر ہم کمر ہمت کو چست کریں اور حوصلہ کو بلند رکھیں تو کیا اسلام اور اسلامیوں کی ترقیات میں کامیاب نہیں نکلیں گے؟“ صدر جلسہ نے ”ہندی، اردو، ملیباری زبانوں میں تعلیم دینے کا عندیہ ظاہر کیا“ اور مختلف علوم و فنون — انگریزی، عربی، فارسی، طب، جدید ڈاکٹری اور مختلف ہنر — کی تعلیم دینے کی ضرورت واضح کی۔

یہاں ایک جملۂ معترضہ پڑھ لیجیے: ہم ۱۴۲۲ھ میں جی رہے ہیں، ایٹمی پاور ہیں، کمپیوٹر کے ہنر میں آگے بڑھ رہے ہیں اور ابھی تک اپنی مادری زبانوں کا گلا گھونٹ رہے ہیں۔ پشتو، پنجابی، سندھی اور بلوچی پاکستانی زبانیں ہیں۔ پشتو افغانستان کی قومی اور سرکاری زبان ہے، صوبہ سرحد کے ڈیڑھ کروڑ عوام کی زبان ہے۔ انگلینڈ، روس، بھارت، امریکہ، جرمنی وغیرہ ممالک کے ذرائع ابلاغ سے پشتو زبان میں پروگرام نشر ہوتے رہتے ہیں، لیکن یہاں پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن اسلام آباد سے پشتو یونٹ ختم کرنے کی افواہ گرم ہے۔

۱۳۱۱ھ میں ایک مدراسی پیر فقیر کی حقیقت پسندانہ رائے ملاحظہ کیجیے کہ درسِ نظامی کے لیے ملیباری زبان کے اساتذہ کی تلاش میں ہے، اور ہمارے پاک وطن کے یرقان زدہ افلاطونوں کو داد دیجیے کہ اپنی قوم کی زبان کاٹ رہے ہیں اور پھر بھی انہیں I۔T۔ کلچر میں ایڈوانس کرنے کا دعویٰ ہے۔

مقررین میں جناب ابوالبرکات مولوی سید شاہ درویش پیر صاحب قادری میسوری بھی تھے، جنہوں نے فرمایا: ”اس مبارک جلسہ کو دیکھتے ہوئے مجھے روئیداد مدرسہ نظامیہ بغداد، جو تاریخوں میں پڑھی ہے، یاد آتی ہے۔“ فرمایا: ”وزیر نظام الملک نے بغداد میں مدرسہ نظامیہ قائم کیا… دہم ذیقعدہ سنہ ۴۵۹ھ کو اس کا افتتاح ہوا… امام غزالی، طبری، خطیب تبریزی کو اسی مدرسہ کی بدولت عالمگیر شہرت اور مقبولیت عامہ کی دستار فضیلت نصیب ہوئی… سعدی شیرازی نے یہاں سے تعلیم پائی…“ آگے فرمایا: ”مدرسۂ نظامیہ کی جیب میں سلطنت بغداد کا خزینہ تھا، اور بانیٔ مدرسۂ لطیفیہ کے خرقۂ خلافت میں توکل کا گنجینہ۔“ پیر صاحب نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا: ”طلبۂ فارغ التحصیل مدرسہ لطیفیہ ہمارے حواس خمسہ ہیں۔ اس جلسہ کو دیکھو، ہجوم اہل جلسہ کو دیکھو، شان و شوکت کو دیکھو، صرف زر و ہمت کو دیکھو، سعی جمیل کو دیکھو، اور ان پانچ طلبۂ فارغ التحصیل کو دیکھو، تو حواس خمسہ ششدر ہو جاتے ہیں۔“ 

(سعیِ جمیل: یہاں ”جمیل“ سے لطیف اشارہ مولانا حافظ سید عبدالجمیل طوروی کی طرف ہے۔ مصنف کا حاشیہ) 

پیر صاحب میسوری نے تجویز پیش کی کہ ”اس مدرسہ میں ایک شاخ تعلیم انگریزی کی بھی بڑھا دیں… اس کے علاوہ ایک مدرسۂ فنون بھی قائم کریں، تاکہ طلبہ علم کے ساتھ ہنر بھی سیکھ لیں اور تحصیل علوم سے فارغ ہونے کے بعد بزور بازو کسب و ہنر سے وجہ معاش بھی پیدا کر لیا کریں۔“ آپ نے فرمایا: ”ہارون رشید نے جو ایک گھڑی بطور تحفہ شارلمین بادشاہ فرانس کو بھیجی تھی، اور جس کا ذکر ہچن ہارڈ نے کیا ہے، مسلمانوں کی دستکاری کا بڑا ثبوت ہے۔“

آپ کے بعد سید شاہ محمد نظام الدین صاحب نقوی القادری الفخری نے عربی زبان میں تقریر فرمائی: «ولا یمکن تہذیب النفوس الا بالعلم، وہو کالقمر المنیر فی اللیالی الظلم، فلا شیء انفع من العلم» ترجمہ: ”نفوس کی تہذیب علم ہی سے ممکن ہے، اور علم رات کے اندھیروں میں چمکتا چاند ہے، پس علم سے زیادہ نفع بخش کوئی شے نہیں۔“ مزید فرمایا: «العلم للانسان کالروح للابدان» کہ علم انسان کے جسم میں روح کی طرح ہے۔

آپ کے بعد منشی غلام محمود صاحب مدراسی نے تقریر کی اور ایک نظم سنائی۔

بعد ازاں حاجی حافظ مولوی شاہ محمد ولی اللہ صاحب قادری شاہ نوری کی باری تھی۔ فرمایا: ”کیا میری زبان کو یہ یارا بھی ہے کہ کچھ بھی اس محفل مینو مشاکل کی فضیلت کے ادائے حق توصیف میں لب ہلا سکے۔“ مزید فرمایا: 

اور کہہ رہی ہے نزاکت طبع
کچھ لطف سخن تو سوچیے گا
بلبل جو ترانہ سنج ہیں یوں
کس گل نے کیا ہے ان کو شیدا

اب مولوی محمد محی الدین حسین النور آئے اور اتفاق و اتحاد کے عنوان سے گلدستۂ افکار پیش فرمایا: ”کتب اخلاق میں انسان کو مدنی الطبع لکھا ہے، یعنی محتاج اتفاق۔“ آگے فرمایا: ”اب میں اپنے پیر و مرشد مدظلہ اور معلم نازک خیال، نردبان معارج کمال، حلال مشکلات علوم، کشاف معاقد فنون، مولانا و استاذنا صاحب مقامات جلیلہ مولوی عبدالجمیل دام فیوضہ اور بانیان مدرسہ کا، جن کی حسن کوشش اور نیک نیتی و جانفشانی سے اس جلسہ کا ظہور ہوا، شکریہ ادا کرتا ہوں۔“

ازاں بعد منشی مرزا محمد مہدی انسپکٹر نے قصیدہ سنایا جو 42 اشعار پر مشتمل تھا:

شنیدہ مژدہ کہ در عین بلدۂ ویلور
عجیب مدرسۂ علم و فن گرفتہ قرار
چہ طرفہ درس و چہ طرفہ عبور استعداد
کہ دوش ابجد و امروز قابل دستار

منظوم ترجمہ از مرتبہ:

سنی نوید کہ ویلور کے عین دامن میں
عجب سا مدرسۂ علم و فن ہوا آباد
نرالا درس ہے، حیرت فزا کمال ہنر
جو کل تھا ابجد خواں، آج ہے دستار نہاد

 اب احمد میسوری کی باری تھی۔ انہوں نے فارسی میں اشعار پڑھے:

علم پیدا شد و پوشید لباسی از نور
کرد ذات احدیت ز لبس پردۂ ظہور
علم را خاصیتی ہست بہر جا کہ رسید
گر بود خاک سیہ مثل زرش باشد نور

منظوم ترجمہ از مرتبہ:

علم جب جلوہ نما ہو کے لباس نور میں آیا
ذات یکتا نے اسی پردے میں اپنا رخ دکھایا
علم کا وصف یہی ہے کہ جہاں بھی پہنچا
خاک تیرہ کو بھی سونے کی طرح چمکایا

علمائے کرام نے دین و دنیا کے علوم کے حصول پر زور دیا۔ ایک صاحب نے فرمایا: ”دین کیا ہے؟ یہی نا کہ پیغمبر علیہ السلام نے جو قاعدے بتا دیے ہیں، ان کے مطابق دنیا کو برتنا، اسی کا نام دین ہے۔“

دنیا نہ ہو تو دین کی رونق کہاں سے ہو
اعلائے شان قادر مطلق کہاں سے ہو

مولوی سید فخرالدین نے فرمایا: ”اگلے غیر مروج علم کے حاصل کرنے سے بہتر یہ ہے کہ دنیوی علوم حاصل کرنے میں ہمیں زمانہ کی رفتار اور ضرورتوں پر بہت کچھ نظر رکھنا چاہیے۔“ مولوی صاحب نے تمام علوم و فنون اور ہر قسم کی کاریگری کو ضروری سمجھا، اور مدارس میں ان کے اہتمام و انصرام پر زور دیا، اور طلبائے علوم دین کو انگریزی سیکھنے کی ترغیب دی۔ فرمایا: ”جب تک یہ طلباء انگریزی نہ جانیں گے، مخالفان اسلام پر عرض اسلام نہیں کر سکتے ہیں۔“

دیکھیے! ”مدرسہ لطیفیہ ویلور مدراس“ کے اراکین علمائے دین آج سے ۱۱۳ سال قبل، یعنی ۱۳۱۱ھ میں، مسلمانوں کو کس قدر ترقی پسندانہ تجاویز سے نوازتے رہے۔ ان حضرات نے تعلیمِ نسواں کو بھی ضروری سمجھا۔

اور آخر میں مولوی سید فخرالدین صاحب نے تحصیل یافتہ پنج تن کو نصیحت کی: ”اپنی فضیلت کے جامہ کو آپس کے اختلاف کی کشمکش میں تار تار اور برباد نہ ہونے دیں…اختلافات میں ہرگز نہ پھنسیں، بلکہ اس کی مسموم ہوا تک سے بھی اپنے کو محفوظ اور مصؤن رکھیں۔ سب مسلمانوں کو ایک ہی نظر سے دیکھیں، گو وہ حنفی ہوں یا شافعی، مالکی ہوں یا حنبلی، اہل حدیث ہوں یا اہل تصوف، سنی ہوں یا شیعہ، معتزلی ہوں یا فطرتی۔ آپ کی دعوت الی الحق، خواہ لسانی ہو یا تقریری، حکمت اور موعظۂ حسنہ کی حدود سے باہر نہ ہو۔ آپ کی سعی ہمیشہ مسلمانوں میں اتفاق قائم کرنے میں مبذول رہے، آپ کی ہمت ہمیشہ اسی میں مصروف ہو کہ اسلام اور اسلامیوں کو ترقی ہو۔“

اختتام تقریب پر مولوی سید محمد فخرالدین نقوی فخری نے دعا فرمائی:

یا رب تو ہمیں علم دے، جاہ و خرد دے
تہذیب دے، اخلاق دے، مال و زر دے
اوروں کی طرح جملہ مسلمانوں کو
تعلیم کی جانب متوجہ کر دے

مصنف کا تعارف

اس مضمون کے مصنف اسرار الرحمٰن، قلمی نام اسرار طوروی (۱۹۳۹ء – ۲۰۲۵ء)، گاؤں طورو ضلع مردان سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ حضرت مولانا حافظ سید عبدالجمیل (۱۸۶۴ء – ۱۹۴۶ء) کے پوتے ہیں، جن کا تذکرہ اسی مضمون میں ہے۔ آپ ادیب و شاعر، بیسیوں کتابوں کے مصنف اور سینکڑوں مضامین کے لکھنے والے تھے۔ تقریر و بیان کے ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ طبیعت کے اعتبار سے نہایت عاجز اور فقیر منش انسان تھے۔ ۱۸ فروری ۲۰۲۵ء کو صبح کی اذان سے کچھ پہلے اللہ کو پیارے ہو گئے۔ اسی رات چار بجے، موت سے چند لمحے پہلے، انہوں نے اپنی ڈائری میں پشتو زبان میں آخری دو جملے لکھے، جن کا مفہوم ہے: ”اے اللہ! مجھے صحت دے، مجھے ایمان دے۔“ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور درجات بلند فرمائے۔ آمین۔

یہ مضمون ”روئیداد جلسہ دستار بندی مدرسہ لطیفیہ ویلور، واقع مکان قطب ویلور مدراس“ (۱۳۱۱ھ، مطبوعہ مطبع سعیدیہ مدراس) سے ماخوذ ہے۔ یہ نادر روئیداد اصلاً‌ حضرت مولانا حافظ سید عبدالجمیل طورویؒ (۱۸۶۴ء – ۱۹۴۶ء) کے کتب خانے کا حصہ تھی۔ آپ خود اس جلسے میں شریک تھے اور فارغ التحصیل طلبہ کے استاد کی حیثیت سے دستار بندی کی تقریب میں تشریف لائے تھے۔ بعد ازاں یہ قیمتی دستاویز خاندانی ورثے کے طور پر آپ کے پوتے جناب اسرار الرحمٰن (اسرار طوروی) کے کتب خانے میں منتقل ہوئی اور اب وہیں محفوظ ہے۔

ڈاکٹر سید راشد علی ابن اسرار طوروی

(الشریعہ — نومبر ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — نومبر ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۱۱

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۷)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل کا نبوی منہج (۴)
مولانا ڈاکٹر محمد ابوبکر فاروقی

حدیث میں بیان کی گئی علاماتِ قیامت کی تاریخی واقعات سے ہم آہنگی (۷)
ڈاکٹر محمد سعد سلیم

محاضراتِ فقہ (۵)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۶)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کیا مذہب پر سوال اٹھانا الحاد ہے؟
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی
عامر احمد عثمانی

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۱۱)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۹)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

سائنس کا قبلہ
فرحت علی بیگ

فکری انحراف اور علماء کرام کی ذمہ داری
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی
مفتی شاد محمد شاد

اوّلیاتِ برصغیر
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

تاریخ کا ایک ورق
اسرار الرحمٰن
ڈاکٹر سید راشد علی

بنیادی مذہبی تعلیم
مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ

اسلام کا سیاسی نظام: ایک قانونی تجزیہ (۲)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اسلام اور شخصی آزادی (۳)
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
ذیشان ہاشم

عدالتی خلع کے مسائل
ڈاکٹر محمد امین

Pakistan and the Muslim World: Where We Stand, Where We Go
Maulana Fazal-ur-Rehman

Human Rights: Five Key Differences Between Islamic & Western Perspectives
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

امتِ مسلمہ کا انتشار اور بڑی طاقتوں کا کردار
محمد محسن اقبال

عرب حکومتوں کا مستقبل: بحران، خطرات اور امکانات
تبصرات

مولانا راشدی کے خطابات و بیانات اور مصروفیت
ادارہ

تلاش

شماریات