شریعت کی پانچویں خصوصیت یا فقہِ اسلامی کا پانچواں امتیازی وصف ’’اعتدال‘‘ ہے۔ اعتدال سے مراد یہ ہے کہ انسانی زندگی کے جتنے تقاضے ہیں، ان سب کے درمیان اس طرح ہم آہنگی رکھی گئی ہو کہ کوئی تقاضا مجروح نہ ہونے پائے، کسی ایک تقاضے کی قیمت پر دوسرے تقاضے کی تکمیل کا سامان نہ کیا گیا ہو۔ اس باب میں دنیا کی کوئی قوم فقہِ اسلامی یا اسلامی شریعت کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
سیکولر نظاموں نے انسانوں کی مادی اور جسمانی ضروریات پر زور دیا اور روحانی تقاضوں کو چھوڑ دیا۔ بعض قدیم مذاہب نے روحانی تقاضوں پر زور دیا اور جسمانی و مادی تقاضوں کو نظرانداز کر دیا۔ بعض اقوام نے محض اخلاقی ہدایات کو کافی سمجھا اور تعلق مع اللہ اور روحانیات کو غیر ضروری سمجھا۔ کچھ لوگوں نے محض روحانیات اور تعلق مع اللہ کو کافی سمجھا اور بقیہ تفصیلات کو چھوڑ دیا۔
عیسائیت اور بدھ ازم کی مثالیں سامنے ہیں۔ بدھ ازم کے علمبرداروں نے یہ محسوس کیا کہ اگر انسان کو اخلاقی ہدایات دے دی جائیں اور اخلاقی اصولوں پر عملدرآمد کی تربیت دے دی جائے، تو پھر باقی کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ ان کے ہاں نہ آخرت کا تصور ہے، نہ کسی خالق کا یا کسی باریِ کائنات کا تصور ہے۔ اصل بدھا کے ہاں (یہ تصور) تھا کہ نہیں تھا، ہم نہیں جانتے، لیکن جو آج چیزیں ان سے منسوب ہیں اس میں یہ تصور موجود نہیں ہے۔ صرف اخلاق کا نظام دینے پر انہوں نے اکتفا کیا۔ اخلاق میں بھی اگر شریعت کی رہنمائی ہوتی، تو شاید یہ عدمِ اعتدال کا مظاہرہ نہ ہوتا۔
آج سے کئی سال پہلے مجھے ایک ایسے ملک میں جانے کا موقع ملا جہاں بدھسٹوں کی اکثریت ہے۔ تو بدھسٹوں کے ایک گروہ نے کہا کہ آپ ہم سے ایڈریس (خطاب) کریں۔ میں ان سے ایڈریس کرنے کے لیے گیا۔ تو جب پوری گفتگو ہو گئی، غالباً سیرت پر بات کروانا چاہتے تھے، سیرت پر تقریر ہو گئی تو ایک صاحب نے سوال کیا جس میں — بعض اوقات لوگ سوال کرتے ہیں جس میں اپنا تبصرہ پنہاں ہوتا ہے، اپنا تبصرہ سنانا مقصود ہوتا ہے، سوال مقصود نہیں ہوتا — تو اپنا تبصرہ یہ کیا کہ بدھ ازم میں جو اعلیٰ اخلاقی اقدار ہیں، مسلمانوں میں وہ اقدار موجود نہیں ہیں؛ اور مسلمانوں کا جو مذہبی ڈسکورس ہے، یعنی جو مذہبی بیان یا جو مذہبی مباحث ہیں، ان میں اخلاق کو وہ مقام حاصل نہیں ہے جو بدھسٹوں کے یہاں حاصل ہے۔ یہ گویا ان کے سوال کا بنیادی حصہ تھا۔
میں نے ان سے عرض کیا — خیر، سوال کا جو جواب میں نے دینا تھا وہ دے دیا — میں نے کہا کہ آپ نے جس اخلاقی تصور کا ذکر کیا ہے، جس پر آپ نے اظہارِ فخر بھی کیا ہے، وہ اخلاقی تصور ایک شکست خوردہ انسان کا اخلاقی تصور تو ہو سکتا ہے، ایک کامیاب و کامران انسان کا اخلاقی تصور نہیں ہو سکتا۔ دوسرے یہ کہ، یہ اخلاقی تصور اگر آج انسان اپنا لے، تو اس کے نتیجے میں اس روئے زمین پر سے انسانی آبادی ختم ہو جائے گی اور تہذیب و تمدن کی ہر چیز کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اگر آپ کو یہ منظور ہے کہ تہذیب و تمدن کا خاتمہ ہو جائے، روئے زمین سے انسانی آبادی مٹ جائے، تو پھر آپ ضرور مہاتما بدھ سے منسوب اخلاق کو فروغ دیں۔
اس پر انہوں نے حیرت سے میری طرف دیکھا کہ یہ بات کس بنیاد پر میں نے کہی! میں نے کہا کہ آپ کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ مہاتما بدھ کپل وستو کی ریاست کے ایک ہندو راجہ کے بیٹے تھے۔ یہ بہت بڑی ریاست تھی، اس ریاست میں لوگ انتہائی خوشحال تھے، لوگوں کو تمام وسائل میسر تھے، عدل و انصاف تھا۔ آپ یہ سب بیان کرتے ہیں کہ سب موجود تھا۔ مہاتما بدھ ایک مرتبہ ایک نوجوان شہزادے کے طور پر اپنے گھر سے نکلے اور ایک غریب، غالباً بیوہ خاتون کو دیکھا جو ایک چھوٹے بچے کو گود میں لیے ہوئے تھی اور بہت پریشان تھی۔ ان کی نازک طبیعت پر اور حساس ذہن پر اس منظر کا بڑا اثر ہوا اور وہ آئے، اپنے گھر آئے، اپنی نوجوان بیوی کو اور چھوٹے بچے کو چھوڑا اور ترکِ دنیا کر کے جنگل میں چلے گئے۔ پھر پوری زندگی انہوں نے جنگل میں گزار دی۔
ان کی نظر میں بہترین خوبی — اخلاقی اور روحانی — یہ ہے کہ انسان ہر قسم کی مادی آسائشوں سے اور نعمتوں سے دور رہے، کم سے کم لباس پہنے، صرف ایک تہبند باندھ لے، اور بھیک مانگ کر روزانہ دو وقت یا ایک وقت کھانا کھایا کرے۔ کچھ کمانے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ جائیں، بھیک مانگیں، اس سے آپ کا نفس مرے گا، نفس میں تعلی اور تکبر پیدا نہیں ہو گا۔ بھیک مانگنے سے یہ خوبی — ان کی نظر میں — پیدا ہوتی ہے کہ تکبر نہیں پیدا ہو گا، اور تکبر ہی سے ساری خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ تو تکبر مٹانے کا ذریعہ یہ ہے کہ انسان بھیک مانگا کرے، بھیک مانگ کے پیٹ بھر لے اور ایک تہبند باندھے، اس سے کام لے۔
اگر یہ انسانیت کا مطمحِ نظر ہے، اور فرض کیجیے آج دنیا کے چھ ارب انسان اس کو اختیار کر لیں، تو ہر مرد کو چاہیے کہ گھر چھوڑ کے چلا جائے، ہر خاتون کو چاہیے کہ پھر بیوگی کی زندگی گزارے۔ اور جس طرح وہ عورت بے سہارا پھر رہی تھی، اس طرح سے ساری عورتیں بے سہارا پھرا کریں۔ اور یہ بچے، جب تک ان کی زندگی ہے، یہ مر جائیں، پھر آئندہ نہ کسی کی متاہلانہ (ازدواجی) زندگی ہو گی، نہ عائلی زندگی ہو گی، نہ آئندہ نسلیں چلیں گی۔ اور موجودہ انسان پچاس سو برس میں مر جائیں گے۔ اور چونکہ ہر شخص بھیک مانگ کے کمائے گا، لہٰذا نہ کاروبار ہو گا، نہ تجارت ہو گی، نہ زندگی کی کوئی معاشی سرگرمی ہو گی۔ لوگ جنگلوں میں رہا کریں گے، تو نہ مکانوں کی، نہ سڑکوں کی، نہ پلوں کی، نہ فیکٹریوں کی، نہ بینکوں کی، کچھ ضرورت نہیں ہو گی! تو نہ تہذیب رہے گی، نہ تمدن رہے گا، نہ انسان رہیں گے۔
تو جب آپ یہ طے کریں، یا انسانیت یہ طے کرے کہ آئندہ سو برس میں انسانیت کو تباہ ہو جانا چاہیے، تو پھر وہ آپ کا مسلک قبول کر لیں۔ لیکن اگر انسانیت کو ابھی یہ فیصلہ نہیں کرنا اور اس نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اسے ابھی رہنا ہے، اور اخلاق اور روحانیت کے ساتھ رہتے ہوئے تمدن کو بھی چلانا ہے، تو اس کے سامنے صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ وہ روحانیت اور اخلاق کو رکھتے ہوئے تہذیب و تمدن کو فروغ اگر دے سکتے ہیں، تو صرف آپؐ کے اسوہ کے ذریعے دے سکتے ہیں، کسی اور اسوہ کے ذریعے نہیں دے سکتے۔
یہ اعتدال ہے جس کی آج انسانیت کو عملاً ضرورت ہے۔ انسانیت زبان سے جو بھی کہتی ہو — عیسائی اور بدھسٹ اور ہندو اور جین مت والے زبان سے جو بھی کہتے ہوں — عملاً وہ جس چیز کو جائز و درست سمجھ رہے ہیں، عملاً جس حل کو انسانیت کے لیے واحد کامیاب حل سمجھ رہے ہیں، وہ وہی حل ہے جو شریعتِ اسلامی نے دیا ہے ’’فی الدنیا حسنۃ وفی الآخرۃ حسنۃ‘‘ (البقرۃ ۲۰۱) کہ دنیا کی کامیابیاں اور آخرت کی کامیابیاں، دونوں کو ایک ساتھ لے کر چلنا ہے۔ اصل اور حقیقی کامیابی آخرت کی ہے، لیکن دنیوی کامیابی کو چھوڑنے کا حکم اسلام نے نہیں دیا۔ رہبانیت جو عیسائیوں نے اختیار کی، اس کے بارے میں قرآنِ مجید نے کہا ہے ’’ورہبانیۃ ابتدعوہا‘‘ کہ انہوں نے رہبانیت کی بدعت کو اختیار کر لیا تھا، ’’ما کتبناہا علیہم‘‘ ہم نے رہبانیت ان کے لیے نہیں لکھی تھی، انہوں نے اپنی دانست میں اللہ کی رضا رہبانیت میں سمجھی، ’’فما رعوہا حق رعایتہا‘‘ (الحدید ۲۷) انہوں نے جو چیز خود اختیار کی تھی اس کی رعایت بھی نہیں رکھی، اس کے تقاضوں کو بھی پورا نہیں کر سکے۔
گویا جب توازن اور اعتدال سے ہٹ کر کسی راستے کو اختیار کیا جائے گا، تو انسان اس کے تقاضوں کی تکمیل نہیں کر سکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی شریعت نے ہر معاملے میں اعتدال اور توازن کا حکم دیا ہے: ’’ان ھذا الدین یسر‘‘ یہ دین ایک آسان دین ہے، ’’فاوغلوا فیہ برفق‘‘ اس میں نرمی اور آسانی کے ساتھ داخل ہو۔ پھر جو آپ نے بات ارشاد فرمائی وہ بڑی اہم ہے: ’’ولن يشاد الدين احد الا غلبہ‘‘ تم میں سے کوئی شخص دین کے بارے میں سخت رویہ نہیں اپنا سکتا، جس کا یہ نتیجہ نہ نکلے کہ دین اس پر غالب ہو جائے۔ جو سخت رویہ اس نے اپنایا ہے وہ اس پر خود غالب آ جائے گا اور وہ اس سخت رویے کو نبھا نہیں سکے گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کو اس کی تربیت فرمائی کہ وہ اسلام کے معتدلانہ اور متوازن مزاج کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ صحابہ کرامؓ سے — نعوذ باللہ — اس کا امکان تو نہیں تھا کہ ان میں حبِ دنیا پیدا ہو، حبِ جاہ پیدا ہو، لیکن اس کا امکان پیدا ہوا کہ ان میں ایک للٰہیت کا جذبہ اتنی شدت سے پیدا ہو جائے کہ وہ دنیاوی تقاضوں کو بھول جائیں، اس کا امکان موجود تھا۔ تعلق مع اللہ اتنا قوی ہو جائے کہ اس تعلق کی شدت میں وہ ظاہری اور مادی تقاضوں کو بھول جائیں، اس کا امکان موجود تھا۔ چنانچہ اس کی ایک دو مثالیں بھی سامنے آئیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دولت خانے پر تشریف فرما تھے، بعض صحابہ کرامؓ مسجدِ نبوی میں بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ کس روحانی کیفیت میں تھے، تعلق مع اللہ کے کس عالم میں تھے، کیا جذبات اور احساسات تھے، اللہ ہی کو بہتر معلوم ہے، یقیناً غیر معمولی احساسات میں اس وقت ہوں گے۔
ان میں سے ایک صاحب نے کہا کہ میں نے تو یہ سوچا ہے کہ میں پوری زندگی نماز میں گزار دوں گا، اور میں نے ایک جگہ تلاش کی ہے، وہ پہاڑوں میں ایک غار ہے، بڑی پرسکون جگہ ہے، میں وہاں جا کے بیٹھ جاؤں گا اور اپنا پیٹ بھرنے کے لیے کوئی جنگلی پھل وغیرہ کھا لیا کروں گا، لیکن پوری زندگی میں عبادت میں گزار دوں گا۔ ایک دوسرے صاحب نے فرمایا کہ میرا ذوق تو یہ ہے کہ میں ساری زندگی روزے رکھوں گا، اور اپنی ازدواجی زندگی سے لا تعلق ہو جاؤں گا، پوری زندگی عبادت میں گزار دوں گا۔ اس طرح کی مختلف باتیں مختلف حضرات نے آپس میں ایک دوسرے کو بتائیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ باتیں سن رہے تھے۔ جب آپؐ باہر تشریف لائے تو آپؐ نے پوچھا کہ یہ باتیں کون لوگ کر رہے تھے؟ ان میں سے جو حضرات یہ باتیں کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! ہم لوگ تھے۔ تو آپؐ نے فرمایا کہ یہ یاد رکھو کہ میں تم میں سب سے زیادہ شریعت کو جاننے والا ہوں، تم میں سب سے زیادہ تقویٰ کرنے والا ہوں، اور تم میں سب سے زیادہ اللہ کو یاد کرنے والا ہوں۔ اس مفہوم کے آپؐ نے دو تین جملے فرمائے۔ میں ازدواجی زندگی بھی گزارتا ہوں، اللہ کی عبادت بھی کرتا ہوں، رات کو سوتا بھی ہوں اور عبادت بھی کرتا ہوں، میں روزے رکھتا بھی ہوں اور روزے کھولتا بھی ہوں، بعض دنوں میں نہیں رکھتا اور بعض دنوں میں رکھتا ہوں، میں دنیاوی معاملات سے دلچسپی بھی لیتا ہوں۔ میرا طریقہ یہ ہے جو میں نے اپنایا ہے۔ پھر آپؐ نے وہ جملہ ارشاد فرمایا جو اکثر آپ نے نکاح کے خطبے میں سنا ہو گا: ’’فمن رغب عن سنتی فلیس منی‘‘ جس نے میری سنت سے روگردانی کی، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔
گویا اعتدال اور توازن پر آپؐ نے اتنا زور دیا، اتنا زور دیا کہ اپنے صحابہ کرامؓ کو، جن میں وہ صحابیؓ بھی شامل تھے — ابھی ان کا واقعہ ذہن آیا میں عرض کرتا ہوں — جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انتہائی محبوب تھے۔ ان کو بھی آپؐ نے اس کی اجازت نہیں دی کہ وہ اپنی زندگی صرف عبادتِ الٰہی کے لیے وقف کر سکیں۔ عبادتِ الٰہی کے لیے زندگی وقف کرنا اور دنیاوی تقاضوں کو چھوڑ دینا، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے طریقے کے خلاف قرار دیا، اور اس طریقے کو اختیار کرنے والوں سے لا تعلقی ظاہر فرمائی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ تو یقیناً اس کے تقاضوں کو پورا کرتے، اگر وہ ایسا کرتے، لیکن صحابہ کرامؓ کے بعد آنے والے جب صحابہ کرامؓ کو دیکھ کر اس طریقے کو اختیار کرتے تو وہ اس کے تقاضوں کو پورا نہ کر سکتے، اور وہ انہی خرابیوں کا شکار ہوتے جن خرابیوں کا شکار عیسائی ہوئے، جنہوں نے رہبانیت کی بدعت ایجاد کی۔
رہبانیت کی بدعت کے نام پر اس وقت دنیا میں کیا ہو رہا ہے، وہ بیان کرنے کی بات نہیں، ایسی ایسی اخلاقی خرابیاں پیدا ہوئی ہیں، ایسے ایسے جرائم کا ارتکاب ہوا ہے رہبانیت اور ترکِ دنیا کے نام پر، جس کی مثالیں آدمی دے نہیں سکتا۔
آپ میں سے جو بہنیں پڑھنا چاہیں، ایک کتاب ایک شخص نے لکھی تھی، لیکی (W.E.H. Lecky) ایک شخص تھا، اس نے یہ کتاب دو جلدوں میں لکھی تھی: History of European Morals۔ یہ کتاب پچھلی صدی میں، 1880ء وغیرہ میں لکھی گئی تھی، اس کا اردو ترجمہ مولانا ظفر علی خانؒ نے کیا تھا، جو اردو زبان کے مشہور صحافی، شاعر اور ادیب تھے، ’’تاریخِ اخلاقِ یورپ‘‘ کے نام سے یہ اردو ترجمہ ملتا ہے۔ یہ کتاب پڑھ لیں، اندازہ ہو جائے گا کہ مغرب کے عیسائیت کے مذہبی طبقے، ان کے مذہبی قائدین اور پادری اخلاق کے کس معیار پر تھے، اس کتاب سے معلوم ہو جائے گا جو انہی کے ایک آدمی کی لکھی ہوئی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صرف وہ چار صحابہؓ نہیں تھے جو یہ بات ارشاد فرما رہے تھے۔ وہ صحابہؓ اگر اس طرزِ عمل کو اختیار کرتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی اجازت دیتے، تو آئندہ ایسے ہزاروں یا شاید لاکھوں واقعات پیش آتے کہ مسلمان ایک وقتی مذہبی جذبے میں اس طرزِ عمل کو اختیار کر لیتا، پھر اس کو نبھا نہ سکتا۔ نبھا نہ سکنے کی یہ بات دوسروں کے سامنے بڑی سبکی کا باعث بنتی کہ بڑے ذوق سے گئے تھے کہ میں جنگل میں ساری عمر رہوں گا، روزہ رکھا کروں گا، دو مہینے بعد چلے آئے۔ جی کہاں گئی آپ کی مذہبیت؟ اس طرز کے خوف سے لوگ (واپس) نہ آتے، وہیں رہتے، کہیں اور چلے جاتے، پھر وہاں جا کے کیا گل کھلاتے اور کیا کیا ہوتا، کوئی نہیں کہہ سکتا۔ صرف اللہ کے رسولؐ ہی کو اس کا اندازہ ہو سکتا ہے کہ کیا ہوتا۔
یہ ہم میں سے ہر ایک کی زندگی میں ہوتا ہے، آپ کے ساتھ بھی ہوا ہو گا، ہر ایک کے ساتھ ہوتا ہے کہ بعض اوقات کسی خاص ماحول میں — آپ حج میں گئے ہیں، عمرہ پہ گئے ہیں، بیت اللہ میں بیٹھے ہوئے ہیں، کوئی درس ہے، کوئی اچھی دینی بات ہے، کوئی کتاب پڑھی ہے، اور بہت شدید جذبہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ (دنیاداری) سب بیکار ہے، سب چھوڑ دینا چاہیے اور یہی کام کرنا چاہیے۔ اس طرح کا جذبہ وقتی بھی ہوتا ہے، کبھی دو چار دن میں ختم ہو جاتا ہے، سال میں ختم ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ کمی تو اس میں ضرور آ جاتی ہے۔
آپ نے حضرت حنظلہ کا واقعہ سنا ہو گا۔ حضرت حنظلہؓ مشہور صحابی ہیں جو غسیلِ ملائکہ (فرشتوں کے غسل دیے ہوئے) کہلاتے ہیں — غالباً وہی ہیں — وہ ایک مرتبہ اپنے گھر سے انتہائی پریشانی کے عالم میں نکلے ہوئے جا رہے تھے اور چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ راستے میں سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نظر آئے، پوچھا: کہاں جا رہے ہو؟ کہنے لگے: حنظلہ تو منافق ہو گیا ہے! تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا رہا ہوں، میں تو منافق ہوں۔ (پوچھا:) بھئی کیا ہوا؟ کہنے لگے کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھتا ہوں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان کی جو کیفیت ہے وہ غیر معمولی ہے، اس سے بڑھ کر کوئی کیفیت نہیں ہو سکتی، گویا جنت بھی سامنے ہے، دوزخ بھی سامنے ہے اور دنیا سے کوئی تعلق نہیں معلوم ہوتا اور بالکل خالص روحانیت اور اللہ کے باب میں حضوری معلوم ہوتی ہے۔ جب واپس اپنے گھر جاتا ہوں، بیوی بچوں میں بیٹھتا ہوں، کاروبار کو دیکھتا ہوں، تو وہ کیفیت نہیں معلوم ہوتی۔ یہ تو غلط بات ہے کہ وہاں حضورؐ کے سامنے کوئی کیفیت، حضورؐ کی عدم موجودگی میں کوئی کیفیت، یہ تو نفاق ہے! تو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا کہ یہ تو مجھے بھی معلوم ہوتا ہے، میں بھی محسوس کرتا ہوں یہ فرق۔ چلیں! تو دونوں نے جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ بات پیش کی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تسلی دی کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے، بعض اوقات ایسا ہوتا ہے۔ حضورؐ نے ہاتھ سے اشارہ فرمایا کہ کبھی یہ ہوتا ہے، کبھی یہ ہوتا ہے۔ اور اگر وہ کیفیت رہتی جو میرے سامنے محسوس ہوتی ہے، تو فرشتے گلیوں میں تمہارے ہاتھ چوما کرتے! اس لیے وہ کیفیت (مستقل) نہیں رہ سکتی۔
اس لیے یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ کیفیت اللہ کی نعمت ہے، اللہ کا ایک انعام ہے، اگر ہے تو قدر کرنی چاہیے، لیکن اس کیفیت کی وجہ سے آدمی وہ ذمہ داری لے لے جو بعد میں نہ نبھا سکے، اللہ کی شریعت نے اس کو اعتدال کے خلاف سمجھا اور اس اعتدال کے خلاف رویے کی اجازت نہیں دی۔
اعتدال کی مثالیں اتنی ہیں اور اتنے پہلو ہیں کہ شریعت کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے، اسلام کی تعلیم کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جہاں یہ اعتدال کی شان نہ پائی جاتی ہو۔ اعتدال کی یہ شان عقائد میں بھی ہے، احسان اور تزکیے کے باب میں بھی ہے، لیکن سب سے زیادہ جس باب میں ہے وہ فقہ اور شریعت کا باب ہے۔ فقہ میں پوری انسانی زندگی ایک مربوط کُل کا حصہ ہے۔ اس مربوط کُل کے اجزا آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ متعارض نہیں ہیں، ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ تکمیل تب ہو سکتی ہے جب سب میں اعتدال پایا جاتا ہو، جس چیز کو جہاں رکھنا ہے وہیں رکھا گیا ہو، اس کی حیثیت سے آگے بڑھ کر نہ رکھا گیا ہو۔ یہ وہ چیز ہے جس کو عربی زبان میں ’’عدل‘‘ بھی کہتے ہیں، ’’اعتدال‘‘ بھی کہتے ہیں۔ اس کے مخالف کیفیت کو عربی زبان میں ’’ظلم‘‘ کہتے ہیں۔ ظلم کے معنی محض پرسیکیوشن (جبر و ستم) کے نہیں ہیں، اگرچہ ظلم کی ایک قسم پرسیکیوشن بھی ہے۔ ظلم کے معنی عربی زبان میں ہیں: ’’وضع الشیء فی غیر محلہ‘‘ کسی چیز کو اس کی جگہ کے علاوہ کہیں رکھ دینا۔ (مثلاً) اس گلاس کی جگہ یہ میز کا درمیانی حصہ ہے اور اس پلیٹ کے اندر ہے۔ میں اس گلاس کو اس پلیٹ کے کونے پر رکھ دوں گا تو یہ گلاس کے ساتھ ظلم ہو گا، اس لیے کہ وہ اس کی جگہ نہیں ہے، بے خیالی میں ٹھوکر لگ کے گرے گا، یہ گلاس کے ساتھ ظلم ہے۔ یہ ہے ’’وضع الشیء فی غیر محلہ‘‘ آپ کو گھر کی کوئی چیز کہیں رکھنی ہے، چمچہ اور برتن کچن کی الماری میں رکھنا ہے، آپ اسے لے جا کے کتابوں کی الماری میں رکھ دیں، یہ اس کے ساتھ ظلم ہے۔ کتاب اٹھا کے کچن میں نیچے جہاں برتن دھوئے جاتے ہیں، سنک کے نیچے رکھ دیں گے، یہ کتاب کے ساتھ ظلم ہے۔ یہ عربی زبان میں ظلم کہلاتا ہے۔
جب قوت کا بے جا استعمال ہو گا، وہ ظلم ہو گا۔ جہاں قوت استعمال نہیں کرنی وہاں کی جائے گی، وہ ظلم ہو گی۔ جس کے ساتھ سختی نہیں کرنی اس کے ساتھ سختی کریں گے، ظلم ہو گا۔ جس کے ساتھ نرمی نہیں کرنی، نرمی کریں گے تو ظلم ہو گا۔ گویا ظلم ایک وسیع اصطلاح ہے اور یہ استعمال ہوتی ہے ’’وضع الشیء فی غیر محلہ‘‘ آدمی یہ طے کر لے کہ اسے ظلم نہیں کرنا، ظلم سے بچنا ہے، یعنی جس چیز کی جو جگہ ہے اس کو وہاں رکھنا ہے، جو کام جس وقت میں کرنا ہے اسی وقت میں کرنا ہے، جو کام جس کیفیت میں کرنے کا حکم ہے اسی کیفیت میں کرنا ہے، تو انسان اعتدال کے راستے پر خودبخود چل پڑے گا۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ جب قرآنِ پاک میں آیا: ’’الذین آمنوا ولم یلبسوا ایمانہم بظلم اولئک لہم الامن‘‘ (الانعام ۸۲) جو لوگ ایمان لائے اور ان کا ایمان ظلم سے ذرا برابر ملوث نہیں ہوا، ظلم کا ذرہ برابر چھینٹا نہیں پڑا، ظلم مس ہو کے نہیں گزرا، تو ’’اولئک لہم الامن‘‘ انہی کے لیے روزِ آخرت امن ہو گا اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔
تو صحابہ کرامؓ تو ظلم کے اس مفہوم سے مانوس تھے کہ ظلم یہ بھی ہے کہ اس پلیٹ کو میں میز کے نیچے رکھ دوں، یہ اس کے ساتھ ظلم ہے۔ تو انہوں نے پوچھا: یارسول اللہ! ایسا کون ہے جس نے کبھی کسی قسم کے ظلم کا ارتکاب نہ کیا ہو؟ آپؐ نے فرمایا کہ نہیں، یہاں ظلم سے مراد شرک ہے، ’’ان الشرک لظلم عظیم‘‘ (لقمان ۱۳) ظلم کی سب سے بڑی قسم شرک ہے۔ چھوٹے چھوٹے ظلم ہزاروں قسم کے ہو سکتے ہیں۔ گویا یہ شریعت کی پانچویں خصوصیت ہے۔
شریعت کی چھٹی خصوصیت ہے ’’مرونت‘‘ یعنی نرمی۔ نرمی شریعت کے ہر حکم میں پائی جاتی ہے۔ فقہ کے جتنے احکام ہیں، وہ نرمی پر مبنی ہیں۔ نرمی سے مراد یہ ہے کہ شریعت کے احکام میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ جس پر عملدرآمد کرنے میں انسان کو ایسی ناگزیر مشکل یا ناقابلِ برداشت صورتحال پیش آ جائے جس سے وہ عہدہ برآ نہ ہو سکے۔ گویا ہر نئی آنے والی صورتحال میں شریعت کے احکام اس طرح سے رہنمائی کر دیتے ہیں کہ انسان کامیابی سے اپنا راستہ نکال لیتا ہے۔ اس کو مرونت کہتے ہیں۔
اس کی مثالیں بہت ہیں، ایک چھوٹی سی مثال آپ کو دیتا ہوں۔ شریعت نے حکم دیا کہ فلاں فلاں قسم کی نجاستِ غلیظہ ہیں، اگر وہ بدن یا جسم یا کپڑے پر لگ جائیں تو کپڑا ناپاک ہو جاتا ہے۔ یہ نجاستِ غلیظہ ہر مسلمان جانتا ہے کہ کیا کیا ہیں، کپڑا اور بدن کس سے ناپاک ہوتا ہے۔ ایک صحابیؓ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! میں جب گلی میں جا رہا ہوتا ہوں تو بعض اوقات جانور بھی وہاں سے گزرتے ہیں، وہ جانور بھی گزرتے ہیں جن کی نجاست غلیظہ ہے، وہ بھی گزرتے ہیں جن کی نجاست خفیفہ ہے، بعض اوقات کپڑے پر بھی لگ جاتا ہے، جوتے پر بھی لگ جاتا ہے اور پاؤں پر بھی لگ جاتا ہے، تو ایسے میں کیا کرنا چاہیے؟ تو آپؐ نے فرمایا کہ ’’یطہرہا ما بعدہا‘‘ جو بعد والا حصہ ہے زمین کا وہ اس کو پاک کر دیتا ہے۔ جوتے پر نجاست لگ گئی، خشک اور پاک زمین پر چلو گے، تھوڑا چلنے سے نجاست کا اثر مٹ جائے گا، یہ چیزیں بھی پاک ہو جاتی ہیں۔
اس طرح کے مختلف سوالات کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کے جوابات دیے۔ اس سے فقہاء اسلام نے بالاتفاق ایک اصول نکالا: ’’عمومِ بلویٰ‘‘۔ یعنی وہ چھوٹی موٹی کمزوری یا وہ معمولی درجے کی برائی، جو اتنی پھیل جائے کہ اس سے بچنا عام آدمی کے لیے ممکن نہ رہے، یہ چیز عمومِ بلویٰ کہلاتی ہے، اور شریعت میں اس میں تخفیف واقع ہو جاتی ہے۔ (مثال کے طور پر) کوئی شخص جانوروں کی رکھوالی کرتا ہو، جانوروں کو پالتا ہو، آپ نے ملازم رکھا ہوا ہے، بھینسیں آپ نے پالی ہوئی ہیں، گھوڑے رکھے ہوئے ہیں، اصطبل ہے، اس میں ملازم رکھے ہوئے ہیں۔ وہ ملازم، ظاہر ہے اس کے کپڑوں پر کبھی چھینٹ پڑے گی، کبھی جانور کے جسم کو ہاتھ لگانے کا موقع ملے گا، اب پتا نہیں کہ وہاں گندگی تو نہیں لگی، یقین نہیں ہے لیکن شبہہ تو ہوتا ہے۔ شریعت نے اس طرح کے شبہات کو معاف قرار دیا ہے: ’’الیقین لا یزول بالشک‘‘۔ اگر کوئی شک ہے کہیں کہ یہ چیز ناپاک ہے کہ پاک ہے، اور آپ کو یقین ہے کہ صبح آپ نے گھوڑے کو غسل دیا تھا، شام تک ممکن ہے اس نے گندگی لگا دی ہو، ثبوت کوئی نہیں ہے لیکن امکان ہے، تو اس اِمکان سے یا اس شک سے وہ آپ کا یقین جو صبح کے غسل کا ہے، وہ ختم نہیں ہو گا۔
اس طرح کی درجنوں مثالیں ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ شریعت کے احکام میں ایک نرمی ہے اور مختلف حالات اور مختلف صورتحال کے لحاظ سے شریعت کے احکام اس طرح رہنمائی کر دیتے ہیں کہ آپ مشکل سے نکل کر آسانی کی طرف جا سکیں۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی ناگزیر صورتحال میں شریعت اپنے حکم میں خود نرمی کر دیتی ہے۔ رخصت اور عزیمت کی مثالیں کل میں نے دی تھیں۔ بعض معاملات میں عزیمت کا حکم ایک ہے اور رخصت کا حکم ایک ہے۔ اگر کوئی شخص یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ رخصت پر عمل کرنے پر مجبور ہے، یا عزیمت پر عمل کرنے کی اس میں ہمت نہیں ہے یا استطاعت نہیں ہے، وہ رخصت پر عمل کر سکتا ہے۔ یہ ساری چیزیں مرونت کی مثالیں ہیں۔
(جاری)





















