▲ ☰

حنفی اصولی منہج (۶)

تعارض اور رفعِ تعارض پر حنفی منہج

حنفی فقہاء کا جو امتیازی کنٹریبیوشن سمجھا جاتا ہے عام طور پر، وہ قیاس کی بات کی جاتی ہے کہ حنفی قیاس میں بڑے ماہر ہیں؛ اور بہت سارے واقعات بھی امام ابوحنیفہؒ کے لوگوں نے روایت کیے ہوئے ہیں کہ فلاں موقع پر یہ کیا، فلاں موقع پر یہ کیا۔ اس قیاس کو بہت سارے لوگوں نے تنقید کا بھی نشانہ بنایا اور یہ بھی اعتراض کیا کہ آپ تو حدیث کو چھوڑ کر قیاس لے رہے ہیں، وغیرہ۔ لیکن خود امام ابوحنیفہؒ کے شاگرد یہ کہتے ہیں کہ ہم امامؒ کے ساتھ بحث تو کرتے تھے، جب تک قیاس پر بات ہوتی تھی، لیکن جب وہ کہتے تھے ’’استحسن‘‘ تو خاموشی چھا جاتی۔

استحسان اور قیاس کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ کافی ساری تفصیلات اس میں بھی موجود ہیں، لیکن ایک بات جو اس موضوع سے متعلق میں یہاں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ استحسان کے ذریعے اصل میں امامؒ ان کو بتا دیتے تھے کہ آپ جس اصول پر بات کر رہے ہیں، مسئلہ اُس اصل کے تحت نہیں آ رہا، وہ تو کسی اور اصل کے تحت ہے جو آپ کی نظر سے خفی ہے، لیکن مؤثر وہ ہے۔ تو خاموشی چھا جاتی کہ اچھا! ہم تو کہیں اور بھٹک رہے تھے، یہ تو کوئی اور اصول اِدھر کارفرما ہے۔

اگر مجھ سے پوچھیں، تو حنفی منہج کی امتیازی خصوصیت قیاس نہیں، استحسان ہے۔ جب قیاس پر کبھی بات کریں گے تو اس نقطے کو مزید واضح کریں گے، لیکن اسے نوٹ کر لیجیے، کبھی اللہ نے موقع دیا تو بات کریں گے کہ حنفی منہج کی اصل جو امتیازی خصوصیت ہے وہ قیاس نہیں بلکہ استحسان ہے۔

تو میں رچرڈ پوزنر کی بات کر رہا تھا، اس نے کہا کہ ایک اینالوجیکل میتھڈ (قیاس) ہوتا ہے اور ایک اینالیٹیکل میتھڈ (تحلیلی منہج) ہوتا ہے۔ تحلیلی منہج کیا ہوتا ہے؟ وہ یہ ہوتا ہے کہ آپ تمام رولز کا جائزہ لینے کے بعد ایک عمومی اصول بنا لیتے ہیں، جس کے تحت اگر مثال کے طور پر دس اصول ہیں، دس جزئیات ہیں، دس مقدمات ہیں، دس مسائل ہیں، تو ان میں سے زیادہ تر اس ایک اصول کے تحت آ جاتے ہیں، جبکہ ایک دو آپ کو اس اصول سے ہٹ کر نظر آتے ہیں، تو آپ کہتے ہیں کہ یہ تو جنرل رُول ہوا اور یہ ایکسیپشن ہوا، یعنی یہ عام اصول ہوا اور یہ اس سے استثناء ہوا۔ پھر اس استثناء کی آپ وجہ بیان کرتے ہیں کہ یہ کس اصول کے تحت آ رہا ہے۔

اس طرح قانون میں جو آپ کو بظاہر تعارض نظر آتا ہے کہ یہاں ایک چیز کی اجازت دی ہے اور وہاں نہیں دی ہے، تو اس کا حل آپ کو سمجھ میں آ جاتا ہے کہ قانون کے اندر تضاد یا تعارض نہیں ہے؛ یہ عمومی اصول ہے اور یہ اس سے مستثنیٰ ہے، اور اس استثناء کے پیچھے یہ اصول ہے جس کے تحت وہ آ رہا ہے۔ جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے ’’والذہب بالذہب … مثلًا بمثل، سواءً‌ بسواء، یدً‌ا بید‘‘، جو عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مشہور روایت ہے کہ سونے کا سونے کے ساتھ تبادلہ ہو، چاندی کا چاندی کے ساتھ ہو، چھ اصناف جو ذکر کرتے ہیں۔ تو اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ جب سونے اور سونے کا تبادلہ ہو، چاندی اور چاندی کا تبادلہ ہو، تو وہ ’’مثلًا بمثل‘‘ بھی ہو اور ’’یدً‌ا بید‘‘ بھی ہو۔ تو اس کا نتیجہ تو یہ ہونا چاہیے کہ جیسے مثال کے طور پر درہم ہیں، تو وہ تو چاندی سے بنتے تھے، تو درہم کا درہم کے ساتھ تبادلہ ہو تو وہ ’’مثلًا بمثل‘‘ بھی ہو اور ’’یدً‌ا بید‘‘ بھی ہو، نہ اس میں اضافہ ہو اور نہ اس میں تاخیر ہو، اور ’’تقابض فی المجلس‘‘ ضروری ہے کہ مجلس کے اندر دونوں آپس میں ایکسچینج کریں۔ تو اس کا نتیجہ تو یہ ہونا چاہیے کہ جس کو ہم قرضِ حسن کہتے ہیں وہ تو اس اصول کے تحت ناجائز ہونا چاہیے۔ کیونکہ اس میں کیا ہوتا ہے، اختتام پر قرض کیا بن جاتا ہے؟ آپ نے دراہم دیے، پھر کچھ دنوں بعد وہ آپ کو اتنے ہی دراہم لوٹائے گا جتنے آپ نے دیے ہیں۔ لیکن ’’یصیر بیع الدراہم بالدراہم نسیئۃ وہو ربوٰا‘‘۔ یہ ہدایہ کے الفاظ ہیں کہ ’’دراہم بالدراہم نسیئۃ‘‘ تو رِبا ہے۔

علامہ بابرتیؒ یہاں حاشیہ چڑھاتے ہیں اور بالکل درست جگہ پر، ان کو معلوم ہے کہ یہاں سے لوگوں کے ذہن میں مسئلہ پیدا ہوگا، تو وہ کہتے ہیں: ’’وہذا یقتضی فساد القرض‘‘ اس سے تو قرض کا فاسد ہونا معلوم ہوتا ہے۔ ’’ولکن ندب الشرع الیہ واجمعت الامۃ علیٰ جوازہ فقلنا بجوازہ بلا لزوم‘‘۔ لیکن شریعت نے قرض پر ثواب کا وعدہ کیا ہے، حدیث موجود ہے، امت کا اس کے جواز پر اجماع ہے، اس لیے قرض کو ہم جائز مانتے ہیں، لیکن بلا لزوم۔ کیونکہ پیچھے ہدایہ میں ہی ہے کہ قرض ابتدا میں کیا ہے؟ اعارہ ہے، تبرع ہے، اپنی جانب سے آپ اپنے بھائی کی مدد کر رہے ہیں۔ جیسے میری کتاب ہے، آپ پڑھ کر لوٹا دیں گے؛ میری گاڑی ہے، آپ نے صدر تک جانا ہے پھر واپس دے دیں گے۔ میں اس کی اجرت بھی لے سکتا ہوں، میں اس اجرت کو چھوڑ کر آپ کے ساتھ تبرع بھی کر سکتا ہوں، تو یہ اعارہ ہے۔ انتہا میں بیع بن جاتا ہے کیونکہ لوٹانا اس کا مثل ہے جو لازم ہے۔ مثل اس لیے کیونکہ عین تو آپ لوٹا نہیں سکتے۔ اعارہ میں تو آپ عین لوٹاتے ہیں، جبکہ قرض میں تو آپ کو اس کا مثل لوٹانا ہے کیونکہ پیسوں کا تو مسئلہ یہ ہے کہ جب تک جیب میں ہیں وہ آپ کو کوئی فائدہ نہیں دیتے، جب خرچ ہو جائیں تو آپ کو فائدہ ہوتا ہے۔ جب خرچ ہو جائیں تو آپ کو اس کا مثل لوٹانا ہے۔

اب اگر ابتدا کو دیکھیں تو اعارہ ہے، اس اصول پر اس کو ہم جائز مانتے ہیں۔ انتہا کو دیکھیں تو ناجائز ہوگا۔ لیکن چونکہ دیگر نصوص سے ہمیں معلوم ہوا کہ جائز ہے بلکہ باعثِ ثواب ہے، تو ہم اعارہ کے اصول پر اس کو جائز مانیں گے۔ لیکن اب جب ہم نے اعارہ کے اصول پر اس کو جائز مان لیا تو اب اعارہ کے جو دیگر نتائج ہیں وہ بھی ماننے ہوں گے۔ ہدایہ کے الفاظ ہیں: ’’فلا یملکہ من لا یملک التبرع‘‘ کہ جو بندہ تبرع نہیں کر سکتا، وہ کسی کو قرض بھی نہیں دے سکتا۔ ’’کالوصی والصبی‘‘ جیسے وصی ہے، جس کو قاضی نے مقرر کیا ہے کہ یہ یتیم کا مال ہے، آپ نے اس کی حفاظت کرنی ہے اور اس کے اِن اِن حقوق کا خیال رکھنا ہے۔ تو اس کے مال میں وہ یہ یہ تصرفات کر سکتا ہے اور یہ یہ نہیں کر سکتا۔ تو جو کچھ وہ نہیں کر سکتا اس میں ایک صدقہ خیرات ہے جو وہ نہیں کر سکتا، تبرع نہیں کر سکتا، قرض بھی نہیں دے سکتا۔ نابالغ بچہ ہے، تبرع نہیں کر سکتا تو قرض بھی نہیں دے سکتا۔ اور اسی طرح جو مدت کی قید ہے وہ اس میں لازم نہیں ہو سکتی، کیونکہ ہدایہ کے الفاظ ہیں: ’’لا جبر فی التبرع‘‘ کہ تبرع پر آپ کسی کو مجبور نہیں کر سکتے۔

ہماری بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں نیا کیمپس جنوری 2002ء میں بنا جس میں ہم منتقل ہوئے، اب مئی 2025ء ہے، ابھی تک اس میں مرکزی جامع مسجد نہیں بنی۔ وہاں منتقل ہونے سے پہلے بننی چاہیے تھی لیکن نہیں تھی، بعد میں مسجد بنانے کے لیے کبھی یہ وعدہ کبھی وہ وعدہ۔ تو ایک دن ایسے ہوا کہ صدر جامعہ کی جانب سے پوری یونیورسٹی میں ایک نوٹیفکیشن آیا کہ مسجد کی تعمیر کے لیے آپ کی تنخواہ سے ایک دن کی تنخواہ کاٹ لی جائے گی، اور جس کو اس پر اعتراض ہو تو وہ لکھ کر دے دے۔ تو میں نے لکھا کہ مسجد کی تعمیر کے لیے ہم پوری مہینے کی تنخواہ بھی دے سکتے ہیں، جو دینا چاہیں وہ دے لیں گے، لیکن ہم سے پوچھے بغیر آپ ایک دن کی تنخواہ بھی نہیں کاٹ سکتے، کیونکہ ’’لا جبر فی التبرع‘‘ آپ کسی کو تبرع پر مجبور نہیں کر سکتے۔ اور اگر آپ نے یہ کام ہماری تنخواہ سے ہی کرنا ہے تو آپ اس طرح لکھیں کہ ’’جو لوگ مسجد کے لیے اپنی تنخواہ سے ایک دن، دو دن، یا جتنے دن کی بھی تنخواہ کٹوانا چاہیں وہ لکھ کر دیں‘‘، بجائے اس کے کہ ’’جو نہ کٹوانا چاہیں وہ لکھ کر دیں‘‘۔ آپ ان کو خوامخواہ کیوں شرمندہ کرنا چاہتے ہیں؟ یہ آپ کا حق نہیں ہے۔

اچھا، جب یہ میں نے لکھا، تو ڈاکٹر منیر صاحب ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین تھے — اسحاق عالم صاحب ان سے بخوبی واقف ہیں — میرے استاد محترم بھی ہیں اور ظاہر ہے تیس سال پر محیط پرانی دوستی بھی ہے، تو ویسے ہی میرے دل میں خیال آیا اور میں نے ان کے سامنے رکھا کہ سر! میں یہ بھیجنا چاہتا ہوں۔ میرا خیال تھا کہ وہ تھوڑی ڈانٹ ڈپٹ کریں گے کہ وہ ڈانٹتے بھی ہیں۔ میں نے ان کے سامنے رکھا تو انہوں نے کہا کہ اِدھر میرا نام بھی شامل کرو، اور انہوں نے بھی سائن کیے۔ اتنے میں ایک اور ٹیچر آئے، ان کے سامنے رکھا کہ یہ دیکھیں، مشتاق نے یہ لکھا ہے، میں نے بھی سائن کیے ہیں، آپ کرنا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا میں بھی کرتا ہوں۔ پھر ہم نے پورے ڈیپارٹمنٹ آف لاء کی جانب سے وہ ڈرافٹ کیا اور دستخط کر کے بھیج دیا۔ اس کے بعد وہ معاملہ ٹھپ ہوا۔ صدر جامعہ نے ایک بڑی میٹنگ میں بہت شکوہ کیا کہ ہم مسجد تعمیر کرنا چاہتے ہیں اور لاء والے اس کی راہ میں رکاوٹ بن گئے ہیں۔ میں نے کہا کہ لاء والے مسجد کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے، وہ ایک اصول کی پاسداری کر رہے ہیں۔

مثال سے میں یہ واضح کرنا چاہ رہا تھا، جو رچرڈ پوزنر کی بات تھی، کہ جب آپ نے ان رولز کا جائزہ لیا اور ایک عمومی اصول دریافت کیا، اس سے اتنے سارے مسائل تو اس میں کَور ہو گئے، اور جو دو تین نہیں ہو رہے تو اس کی آپ نے وجہ تلاش کرنی ہے کہ یہ کس اصول کے تحت آئیں گے؟ ان کو پھر اس پہلے والے اصول سے الگ سمجھیں گے۔ تو یہ جنرل رُول ہوا اور وہ ایکسیپشن ہوا۔ اس ایکسیپشن کے پیچھے دوسرا اصول ہے جس کی کارفرمائی یہاں ہو گی۔ تو اس سے جو تعارض ہے وہ دور ہو جاتا ہے۔ یہ استحسان کا طریقہ ہے، جہاں بظاہر آپ کو چیزیں اِدھر یوں نظر آتی ہیں اور اُدھر یوں نظر آتی ہیں، آپ بتا دیتے ہیں کہ اِدھر یوں کیوں ہے اور اُدھر یوں کیوں ہے، اس کو استحسان کہا جاتا ہے۔

اسی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ نصوص کے درمیان جو تعارض ہمیں نظر آتا ہو، اس کو کیسے رفع کیا جائے؟ اب یہ عبارت جو میں نے آپ کے سامنے رکھی ہے یہ ’’مسلم الثبوت‘‘ کی عبارت ہے۔ یعنی کچھ دیر پہلے جو میں نے اصولِ فقہ کی معاصر نصابی کتب کا حوالہ دیا، تو یہ بات صرف وہاں نہیں ہے، بلکہ یہ متاخرین کی جو اصول کی کتب ہیں ان میں بھی یہ لکھی ہوئی موجود ہے۔ ’’مسلم الثبوت‘‘ بہت اہم کتاب ہے اور اس میں تعارض کا حکم یہ بتایا گیا ہے: ’’وحکمہ ان نسخ ان علم المتقدم والا فالترجیح ان امکن والا فالجمع بقدر الامکان وان لم یکن تساقطا‘‘۔ 

’’وحکمہ ان نسخ‘‘ جب تعارض ہو تو کیا کریں گے؟ مانیں گے کہ ایک ناسخ ہے، ایک منسوخ ہے۔ ’’ان علم المتقدم‘‘ اگر معلوم ہو کہ کونسا متقدم ہے، کونسا متأخر ہے۔ ’’و اِلا‘‘ اور اگر معلوم نہ ہو کہ کون سا متقدم ہے اور کونسا متأخر ہے تو ’’فالترجیح ان امکن‘‘ پھر ترجیح کریں گے۔ اچھا، اب معلوم تو نہیں ہو رہا کہ یہ پہلے ہے یا وہ پہلے ہے، لیکن اب ترجیح کریں گے کہ ان میں سے یہ راجح ہے یا وہ راجح ہے۔ ترجیح وہاں کی جاتی ہے جہاں اصلاً‌ تو دونوں برابر ہیں لیکن کسی وصف میں ایک اوپر ہے اور ایک تھوڑا نیچے ہے۔ اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو ’’و اِلا فالجمع بقدر الامکان‘‘ اب ممکن حد تک ہم ان دونوں پر عمل کی کوشش کریں گے، اس طرح کہ تھوڑا اِس میں بھی کم ہو جائے گا، تھوڑا اُس میں بھی کم ہو جائے گا، اِس پر یہاں عمل کریں گے، اُس پر وہاں عمل کریں گے۔ جیسے سنن ابن ماجہ کی ایک روایت ہے: ’’لیس فی المال حق سوی الزکوٰۃ‘‘ کہ مال میں کوئی حق نہیں سوائے زکوٰۃ کے۔ اور اسی باب میں اگلی روایت ہے: ’’ان فی المال حقًا سوی الزکوٰۃ‘‘ کہ مال میں زکوٰۃ کے سوا بھی حق ہے۔ تو اب ایک طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ یہ حق اِس کا، یہ حق اُس کا۔ اس کے علاوہ بھی کئی طریقے ہو سکتے ہیں، تو بقدر الامکان۔ ’’وان لم یکن‘‘ اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو، یعنی دونوں پر عمل، ’’تساقطا‘‘ تو پھر دونوں دلیلیں ساقط ہو جائیں گی اور ہم اگلی دلیل کی طرف جائیں گے۔

لیکن جیسا کہ میں نے عرض کیا، فقہی کتب میں ہمیں فقہاء یہ طریقہ اپناتے ہوئے نظر نہیں آتے۔ ہدایہ میں ہی دیکھ لیجیے، ’’کتاب الطہارۃ‘‘ سے ہی شروع کیجیے، رفع یدین کے باب میں جائیے، وہ نصوص کی کیا تعبیر کرتے ہیں اور کس طرح کرتے ہیں؟ نسخ کی طرف جاتے ہیں لیکن بہت کم، ایسا نہیں کہ نسخ کو سرے سے آؤٹ کر دیتے ہیں۔ اور نسخ کی طرف کب جاتے ہیں؟ یہاں آ کر ظاہر ہے ایک سوال ہمارے سامنے یہ آتا ہے کہ تعارض کا رکن کیا ہے؟ رکن سے مراد یہ ہے کہ اس کے بغیر تعارض کا تصور ہی نہ ہو۔

تو یہ ’’اصولِ بزدوی‘‘ سے ہے: ’’ورکن المعارضۃ تقابل الحجتین علی السواء لا مزیۃ لاحدھما فی حکمین متضادین‘‘۔ ایک ایک لفظ پر غور کیجیے۔ دو حجتیں ہیں، وہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئی ہیں اور بالکل برابر کی سطح پر، اور وہ دونوں حجتیں ایسی ہیں: ’’لا مزیۃ لاحدھما‘‘ ایک کو دوسرے پر کوئی فوقیت، کوئی ترجیح حاصل نہیں، دونوں برابر کی سطح پر ہیں۔ اور ان کا تقابل آپس میں آ گیا ہے ’’فی حکمین متضادین‘‘ کہ اِس سے ایک حکم معلوم ہوتا ہے اور اُس سے اس کے بالکل برعکس دوسرا حکم معلوم ہوتا ہے۔ تو دونوں برابر کی سطح پر آمنے سامنے آ گئی ہیں، ایک کو دوسرے پر کوئی ترجیح حاصل نہیں، اور اِس سے جو حکم معلوم ہوتا ہے وہ اُس کے بالکل برعکس ہے۔ تو یہ ہوا تعارض کا رکن۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر ہم تعارض اس کو کہتے ہیں کہ دو دلیلیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے اس صورت میں آ گئی ہیں کہ ایک کو دوسرے پر کوئی مزیت حاصل نہیں ہے، اور دونوں سے جو حکم ثابت ہوتے ہیں وہ ایک دوسرے کے بالکل برعکس ہیں، تو اس صورت میں نسخ یا تساقط الدلیلین کے سوا تیسرا راستہ ہو کیا سکتا ہے؟ اس میں تو اس کے علاوہ کوئی راستہ ممکن نہیں ہے، کیونکہ:

  • دونوں برابر ہیں تو ترجیح کو تو آپ نے نکال باہر کیا،
  • اور دونوں سے جو حکم معلوم ہوتا ہے وہ متضاد ہے، تو جمع کو بھی نکال باہر کیا۔
  • تو آپ کے پاس رہا کیا؟ نسخ، اگر تاریخ معلوم ہو۔
  • اور وہ بھی معلوم نہ ہو تو دونوں ہی چھوڑ کر اگلی دلیل پر جائیں گے۔

تو اگر تعارض اس کو کہتے ہیں تو اس صورت میں تو ترجیح یا جمع خارج از بحث ہیں، ان کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔

تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ متأخرین کی کتابیں پڑھ کر — جو بعض مثالیں وہ ذکر کرتے ہیں، وہ کسی اور چیز کی ذکر کرتے ہیں؛ اور جب ہم وہی مثال متقدمین کے ہاں دیکھیں تو وہ کسی اور چیز کی نظر آتی ہے۔ جسے وہ یہاں ترجیح کی مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں، وہ متقدمین کے ہاں ہمیں نسخ کی مثال کے طور پر مذکور نظر آتی ہے۔

دلیلِ اباحت اور دلیلِ حرمت کے درمیان تعارض ہے، باقی ساری دلیلیں ختم ہو گئی ہیں، لیکن اب یہ ہے کہ ایک سے حرمت معلوم ہوتی ہے اور ایک سے اباحت معلوم ہوتی ہے۔ تو آگے ہم امام سرخسیؒ کی عبارت پڑھیں گے، وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم یہاں دلیلِ اباحت کو ترجیح دیتے ہیں تو یہاں ہمیں دو نسخ ماننے ہوں گے: 

(۱)     ایک اباحتِ اصلیہ تھی — اس کی بھی وضاحت کریں گے کہ کیا چیز ہے — اس کو دلیلِ حرمت نے منسوخ کر دیا؛ 

(۲)     پھر اس دلیلِ حرمت کو اس دلیلِ اباحت نے منسوخ کر دیا۔

اور اگر ہم کہیں کہ نہیں، دلیلِ حرمت کو ترجیح حاصل ہے، تو جو اصلی اباحت تھی اور یہ دلیلِ اباحت ایک چیز ہو گئی، اس کو دلیلِ حرمت نے منسوخ کر دیا۔ تو دو نسخوں کے بجائے ایک نسخ کو ہم لے لیتے ہیں۔ اس کو امام سرخسیؒ اور امام بزدویؒ ’’نسخِ غیر صریح‘‘ کہتے ہیں۔ لیکن ’’مسلم الثبوت‘‘ میں اسی مثال کو ترجیح کی مثال کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ چلیں، آپ کہہ سکتے ہیں: ’’لا مشاحۃ فی الاصطلاح‘‘ کہ انہوں نے اس بنا پر اس کا نام یہ رکھ دیا۔ لیکن یہ صرف اصطلاح کا مسئلہ نہیں ہے، یہ تصور کا مسئلہ ہے کہ ان کے نزدیک ترجیح کیا ہے، اور آگے ابھی ہم ذکر کریں گے۔ جب امام سرخسیؒ اور امام بزدویؒ ترجیح بتاتے ہیں تو وہاں ترجیح سے ان کی مراد کیا ہوتی ہے؟ یہاں جس تصور کو انہوں نے ترجیح کا عنوان دیا ہے وہ کچھ اور چیز ہے، اور جس کو امام سرخسیؒ اور امام بزدویؒ ترجیح کہتے ہیں وہ کچھ اور چیز ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے غامدی صاحب ’’سنت‘‘ کی بات کرتے ہیں حالانکہ جس کو وہ سنت کہتے ہیں وہ تو کچھ اور سنت ہے۔

یہ جو پچھلی سلائیڈ تھی، اس پر میں آپ کو بتاؤں کہ یہ جو متأخرین کی کتابیں ہیں، اس میں جو تعارض سے نکلنے کا طریقہ بتایا گیا ہے: پہلے نسخ، پھر ترجیح، پھر جمع، پھر تساقط الدلیلین، تو اس میں:

  • ایک مسئلہ ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ فقہی کتب میں ایسے نہیں ہوتا، ایسے نظر نہیں آتا کہ فقہاء یہ کرتے ہیں۔
  • دوسرا مسئلہ یہ کہ تعارض کی جو تعریف متقدمین بتاتے ہیں، اس کا جو رکن وہ ذکر کرتے ہیں، اس میں تو ترجیح یا جمع کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، کیونکہ اس میں تو دونوں بالکل برابر کی سطح پر کھڑے ہیں اور متضاد حکم ان کا معلوم ہو رہا ہے۔
  • اور تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ بعض اوقات یہ جس کو ترجیح کہہ رہے ہوتے ہیں، وہ اُن کے نزدیک ترجیح نہیں بلکہ کچھ اور ہے؛ اور جو اُن کے نزدیک ترجیح ہے وہ اِن کے نزدیک نہیں بلکہ کچھ اور ہے۔ گویا لفظ ایک استعمال کر رہے ہیں اور اس کا اطلاق الگ الگ مفاہیم پر ہو رہا ہے۔

اس لیے اب ہم مسئلے میں پھنس گئے ہیں: ایک implicit (مضمر/شامل) ہے، ایک implied (مراد/مفہوم) ہے۔ تو یہاں میں دو اصولی باتیں ان کتب کے متعلق عرض کرنا چاہتا ہوں: 

(۱)     ایک تو وہی بات جو کل ہم نے تفصیل سے ڈسکس کی ہوئی ہے کہ جو حنفی مذہب کے ہمارے اصول ہیں، وہ مستخرج کیے گئے ہیں ظاہر الروایہ کی جزئیات سے۔ اس میں ممکن ہے استنباط کی غلطی ہوئی ہو، اگر کوئی بندہ کہے کہ اس جزئیے سے یہ اصول نہیں معلوم ہوتا۔ ہمارے محترم دوست ہیں زاہد مغل صاحب، ایک دن ان کے ساتھ گپ شپ اور ڈسکشن ہو رہی تھی ایک مسئلے پہ، وہ کہتے ہیں: مشتاق بھائی! اگر ہم یہ کہیں کہ ان جزئیات سے امام سرخسیؒ جو اصول بتا رہے ہیں، اس کے بجائے اس سے کچھ اور اصول معلوم ہوتا ہے؟ میں نے کہا: کر کے دیکھ لیں! یعنی میں ہائپوتھیٹیکل لیول پر، مفروضے کی سطح پر تو انکار نہیں کرتا، ممکن ہے کہ استنباط کی غلطی ہوئی ہو، ان تین چار جزئیات سے اِس اصول کے بجائے وہ اصول معلوم ہوتا ہو، لیکن کر کے دکھائیں! اِن تین چار جزئیات سے اور اُن تین چار جزئیات سے اس کے بجائے کچھ اور اصول مستخرج کر کے بتائیں۔ یعنی جو امام سرخسیؒ نے یا دیگر اصولیین نے بتایا ہے اس کی غلطی واضح کریں۔ مولانا مودودیؒ نے کہا تھا — ان پر یہ تھا کہ آپ مجدد ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں — تو انہوں نے کہا کہ تجدید دعوے کی چیز نہیں، کر دکھانے کی چیز ہے۔ میں نے جب پڑھا تو میں نے کہا کہ اس کے اندر بھی دعویٰ موجود تو ہے، ملفوف، لیکن بات ان کی درست ہے کہ کر دکھانے کی چیز ہے۔ تو اگر آپ کہتے ہیں کہ اصول کے استخراج میں یا استنباط میں کوئی غلطی ہوئی ہے، تو نہ گھوڑا دور ہے نہ میدان؛ یہ جزئیات ہیں، ان سے انہوں نے یہ اصول مستخرج کیے ہیں، آپ بتائیے کہ ان سے اس کے بجائے وہ اصول معلوم ہوتا ہے۔

(۲)     دوسرا مسئلہ یہ ہو سکتا ہے، اور یہ اصول کی کتب میں امام سرخسیؒ خصوصاً‌ بتاتے رہتے ہیں کہ استقراء کا مسئلہ ہو سکتا ہے کہ آپ سے پہلے جو گزرے — کل ہم نے امام کرخیؒ کی ایک مثال ذکر کی کہ انہوں نے یہ یہ کہا ہے، امام سرخسیؒ بتاتے ہیں کہ ان کی نظر مثال کے طور پر اِن اِن جزئیات پر نہیں پڑی۔ آگے بھی ایک مثال ہم ذکر کریں گے کہ نافی اولیٰ ہے یا مثبت اولیٰ ہے۔ امام کرخیؒ یہ کہتے ہیں، امام عیسیٰ بن ابانؒ یہ کہتے ہیں۔ امام کرخیؒ ان جزئیات کا حوالہ دیتے ہیں، امام عیسیٰ بن ابان ان جزئیات کا حوالہ دیتے ہیں۔ امام سرخسیؒ کہتے ہیں کہ دونوں جزئیات کا جو مجموعہ ہے وہ ہمارے لیے اصول ہیں۔ تو اب کیا کریں؟ تو وہ بتاتے ہیں کہ اگر ایسی صورت ہو تو مثبت اولیٰ ہے، اور اگر ویسی صورت ہو تو نافی اولیٰ ہے۔ یہ کیسے ہے؟ ابھی ہم آگے ڈسکس کریں گے۔ 

تو یہ طریقہ ہو سکتا ہے کہ آپ بتائیں کہ وہ جزئیہ رہ گیا ہے اور اس کی رو سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جو اصول آپ بتا رہے ہیں، یہ اِن حالات میں تو ہے، اُن میں نہیں ہے۔ اس کو قانون کی اصطلاح میں ہم distinguishing کہتے ہیں کہ جب آپ کے سامنے سپریم کورٹ کے پچھلے نظائر بیان کیے جائیں کہ فلاں میں سپریم کورٹ نے یہ کہا ہے، فلاں میں ہائی کورٹ نے یہ کہا ہے۔ تو آپ کہتے ہیں کہ ہاں وہ ٹھیک ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ ماننا مجھ پر لازم ہے، لیکن وہ اُس معاملے میں ہے، ہمارا معاملہ اس سے مختلف ہے، یہ اُس کے تحت نہیں آتا۔ The art of distinguishing cases

اچھا، یہ تو ایک بات ہوئی۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر ہم کہیں کہ یہ جو اصول بتا رہے ہیں یہ درست ہے، یا وہ جو اصول بتا رہے ہیں وہ درست ہے، تو فیصلہ کیسے کیا جائے گا؟ واپس آئیے اصل بات کی طرف۔ ظاہر الروایہ کی جزئیات سے ہی بتائیں گے۔ عام قطعی ہے یا ظنی ہے؟ اس میں ہم شخصیت کو نہیں دیکھیں گے کہ کس نے کیا کہا ہے۔ شخصیت کا بھی اپنا اثر ہوتا ہے۔ وہ جو مشہور قول حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی طرف منسوب ہے، اس کا اپنا مقام ہے کہ ’’یہ نہ دیکھو کہ کون کہہ رہا ہے، یہ دیکھو کہ کیا بات کہی جا رہی ہے‘‘۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے لیکن بعض اوقات کہنے والے سے بھی بات کے مفہوم پر اثر پڑتا ہے۔ اگر آپ کسی بندے کے بارے میں جانتے ہوں کہ وہ اس طرح کی غلط بات نہیں کہہ سکتا، تو ایک بات اس نے کسی موقع پر ایسی کوئی غلط کہہ دی، تو آپ اس کا کوئی اچھا محل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ نہیں، اس کا مطلب یہ ہو گا۔ اگر وہی بات کسی اور بندے نے کہی، جس کا سابقہ ریکارڈ یہی کچھ بتاتا ہے، تو آپ کہتے ہیں کہ وہ تو ہے ہی ایسا۔ تو فرق پڑتا ہے، ایسا نہیں کہ بالکل ہی نہیں پڑتا۔

بہرحال ایک معاملے میں ہم نے اگر یہ بتانا ہو کہ اِس اصولی کی بات درست ہے یا اُس اصولی کی بات درست ہے، تو بتانے کے لیے معیار کیا ہو گا؟ ظاہر ہے کہ ظاہر الروایہ کی طرف جائیں گے اور وہاں سے کوئی جزئیہ بتائیں گے جس سے یہ معلوم ہو کہ یہ درست ہے یا وہ درست ہے۔ 

ان اصولی بنیادوں کے بعد اب ہم اپنے لیے کچھ سوالات رکھتے ہیں۔

https://youtu.be/DKwbdEHIIcs

فقہ / اصول فقہ

اقساط

(الشریعہ — نومبر ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — نومبر ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۱۱

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۷)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل کا نبوی منہج (۴)
مولانا ڈاکٹر محمد ابوبکر فاروقی

حدیث میں بیان کی گئی علاماتِ قیامت کی تاریخی واقعات سے ہم آہنگی (۷)
ڈاکٹر محمد سعد سلیم

محاضراتِ فقہ (۵)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۶)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کیا مذہب پر سوال اٹھانا الحاد ہے؟
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی
عامر احمد عثمانی

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۱۱)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۹)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

سائنس کا قبلہ
فرحت علی بیگ

فکری انحراف اور علماء کرام کی ذمہ داری
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی
مفتی شاد محمد شاد

اوّلیاتِ برصغیر
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

تاریخ کا ایک ورق
اسرار الرحمٰن
ڈاکٹر سید راشد علی

بنیادی مذہبی تعلیم
مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ

اسلام کا سیاسی نظام: ایک قانونی تجزیہ (۲)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اسلام اور شخصی آزادی (۳)
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
ذیشان ہاشم

عدالتی خلع کے مسائل
ڈاکٹر محمد امین

Pakistan and the Muslim World: Where We Stand, Where We Go
Maulana Fazal-ur-Rehman

Human Rights: Five Key Differences Between Islamic & Western Perspectives
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

امتِ مسلمہ کا انتشار اور بڑی طاقتوں کا کردار
محمد محسن اقبال

عرب حکومتوں کا مستقبل: بحران، خطرات اور امکانات
تبصرات

مولانا راشدی کے خطابات و بیانات اور مصروفیت
ادارہ

تلاش

شماریات