حنفی اصول اور حنفی فقہ کا باہمی تعلق
ہماری گفتگو رہی ہے حنفی اصولی منہج کے متعلق، اسی کو آگے بڑھاتے ہوئے آج ہم اس پہلو پر بات کریں گے کہ اس اصولی منہج کا حنفی فقہ کے ساتھ کس طرح کا تعلق ہے۔ کیونکہ کل جو گفتگو ہوئی اس میں، میں نے اس بات پر اپنی رائے واضح کرنے کی کوشش کی کہ متاخرین کی جو کتابیں ہیں اصول پر، اور اسی طرح جو معاصرین کی ہیں، ان کو پڑھ کر محسوس یہ ہوتا ہے کہ فقہ اور اصولِ فقہ کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ الگ الگ جزئیے پر الگ الگ تو بحث ہوتی ہے لیکن اصولِ فقہ کی یہ کتابیں پڑھ کر آپ کو یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ حنفی منہج ہے کیا؟ وہ کرتے کیا ہیں؟
اچھا، جب آپ حنفی فقہ کی کوئی کتاب اٹھا کر دیکھیں کہ اس میں کس طرح ان امور کو برتا گیا ہے، ان کی تطبیق کی گئی ہے مختلف مسائل پر، وہاں سے ہمیں کچھ اور نظر آتا ہے۔ جبکہ اصولِ فقہ کی کتابوں میں جو لکھا ہوتا ہے وہ کچھ اور ہوتا ہے۔ اس لیے آج کی گفتگو میں، میں اس پہلو پر خصوصاً آپ کی توجہ چاہتا ہوں کہ حنفی اصول اور حنفی فقہ کا آپس میں کس طرح کا تعلق ہے؟ اور جو حنفی منہج کی چند خصوصیات کل ہم نے ذکر کی ہیں اور کچھ آج بھی ذکر کریں گے، ان کی عملی تطبیق کیسے ہوتی ہے، فقہ کی کتابوں سے ہمیں کیا نظر آتا ہے؟
مناسب ہو گا کہ میں بات وہاں سے شروع کروں جہاں کل ہم نے گفتگو کا اختتام کیا تھا۔ کل کی ساری گفتگو کا نچوڑ آخر میں ہم نے یوں ذکر کیا تھا کہ جو امام محمدؒ کی کتابیں ہیں — ظاہر الروایہ جنہیں ہم کہتے ہیں، باقی بھی، لیکن بالخصوص جو ظاہر الروایہ ہیں — تو ان کو صرف فقہ کی کتابیں نہ سمجھیں کہ اِس کتاب میں یا اُس کتاب میں یہ جزئیہ ذکر کیا گیا ہے یا وہ ذکر کیا گیا ہے، تو اس سے آپ کو اس مسئلے کے متعلق فتویٰ مل گیا ہے اور حنفی مذہب کے مطابق حکمِ شرعی معلوم ہو گیا ہے۔ صرف اتنا نہیں ہے، بلکہ ان کو آپ اصول کی کتابیں سمجھ کر پڑھیے اور اس طرح ان کو دیکھیے کہ امام محمدؒ حنفی مذہب کے اصول آپ کو کس میتھڈ کے ذریعے بتا رہے ہیں اور سکھا رہے ہیں۔ یہی وہ منہج ہے جس کو اصولِ فقہ کی کتابوں میں فقہاء کرام کا منہج کہا جاتا ہے — طریقۃ الفقہاء — جس میں ہم فروع سے اصول کی طرف جاتے ہیں۔
اس پر اب میں اس بات کا اضافہ کرنا چاہوں گا — جو کل نہیں ہوئی تھی کیونکہ وہ آج کرنے کی تھی — کہ ٹھیک ہے ہم فروع سے اصول مستخرج infer کرتے ہیں۔ یہ کیس امام محمدؒ نے رکھا ہے مضاربہ کا کہ رب المال اور مضارب کا آپس میں اختلاف ہے۔ مضارب کہتا ہے کہ مجھے تو اس نے پابند نہیں کیا تھا کہ آپ نے صرف اس ایک مخصوص معاملے میں مضاربہ کرنا ہے، اس نے مجھے عام اختیار دیا تھا۔ جبکہ رب المال کہتا ہے کہ نہیں، میں نے اس کو پابند کیا تھا کہ یہ کرنا ہے اور وہ نہیں کرنا ہے، یہاں کرنا ہے اور وہاں نہیں کرنا ہے۔ ثبوت دونوں میں سے کسی کے پاس نہیں ہے۔ تو اس سے قطع نظر ہم دیکھیں گے کہ عموم کا کون قائل ہے، رب المال ہے یا مضارب؟ جو بندہ عموم کا قائل ہے، اس کی بات مانی جائے گی، کیونکہ یہ مقتضائے عقد کے مطابق ہے۔ عقدِ مضاربہ کا تقاضا عموم کا ہوتا ہے، اِلا یہ کہ اس کو آپ خصوصاً specify کر کے محدود کر دیں۔
تو اس سے کیا معلوم ہوا؟ امام محمدؒ کے جزئیے سے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ عام اور خاص برابر ہیں۔ کیونکہ اگر وہ برابر نہ ہوتے اور خاص کو عام پر ترجیح ہوتی، تو پھر مقتضائے عقد کی طرف جانے کی ضرورت نہ ہوتی، پھر وہ یہ بتاتے کہ جو خصوص کا قائل ہے اس کی بات مانی جائے گی، چاہے وہ مضارب ہو چاہے رب المال ہو، کیونکہ خاص قطعی ہے اور عام ظنی ہے۔ لیکن اس کے برعکس وہ کہتے ہیں: نہیں، یہ دونوں برابر ہیں، اس لیے ہم ان دونوں کو چھوڑ کر مقتضائے عقد کو دیکھیں گے۔ مقتضائے عقد عموم کے حق میں ہے، تو اس لیے ہم عموم کو ترجیح دے رہے ہیں۔ تو گویا ان کے نزدیک عام اور خاص برابر ہیں، اور خاص چونکہ قطعی ہے، تو معلوم یہ ہوا کہ عام بھی قطعی ہے۔ یوں ہم فرع سے اصل کی طرف چلے گئے، ہم نے اس فرع سے اصل مستخرج کر لیا۔
لیکن اب اس پر میں اس بات کا اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ یہ فرع ہو یا وہ فرع ہو، جتنی بھی فروع ہیں وہ اصلاً تو کسی اصول پر ہی مبنی تھیں۔ یہ ایسا نہیں کہ الل ٹپ انہوں نے پہلے اصولوں کو جانے بغیر بس اِس معاملے میں یوں فیصلہ دیا، اُس معاملے میں یوں فیصلہ دیا، اِس میں یوں دیا، اور اب ہم اس سے اصول مستخرج کریں گے۔ ایسا ہوتا تو پھر یہ اتنا مستحکم فقہی نظام کھڑا کیسے ہوتا؟ کہ وہ اصول جو یہاں اِس مسئلے میں مضاربہ میں نظر آتا ہے، وہ اُس مسئلے میں وصیت میں بھی نظر آیا — ایک مثال ہم نے وصیت کی ڈسکس کی تھی — اسی طرح وہ مثال ہمیں ایک اور جگہ بھی نظر آتی ہے جہاں ’’عرنیین‘‘ کی مثال ہم نے ذکر کی اور ’’استنزہوا‘‘ کی حدیث آئی۔ اس طرح اور بھی مثالیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ ایک ہی اصول ہے جس سے یہاں ’’کتاب المضاربہ‘‘ سے، وہاں ’’کتاب العین والدین‘‘ سے، اور کسی اور کتاب سے مختلف فروع نکالی گئی ہیں۔ الفاظ میں بتائے بغیر، قولاً اس اصل کو آپ کے سامنے رکھے بغیر، کیس کے ذریعے بتا دیا، جزئیے کے ذریعے بتا دیا۔ یہ جزئیہ اِس باب سے، یہ جزئیہ اُس باب سے، وہ جزئیہ اِس باب سے — ان سب کے پیچھے ایک ہی اصول کارفرما ہے۔
تو اس لیے جو بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں، وہ غلط فہمی پر مبنی اعتراض ہے۔ اگر اس سے مراد یہ ہو کہ پہلے تو کوئی اصول تھے ہی نہیں، یہ تو بعد میں — جیسے کل میں نے ذکر کیا — بعض بزرگ فرماتے ہیں کہ کچھ عیسیٰ ابن ابانؒ نے لکھے ہیں جو امام محمدؒ کے شاگرد تھے، کچھ بعد میں امام کرخیؒ نے کیے، پھر کچھ امام جصاصؒ نے کیے، پھر کچھ امام دبوسیؒ نے کیے، پھر کچھ امام سرخسیؒ اور بزدویؒ نے کیے، یہاں آ کر بات پوری ہو گئی۔ نہیں! اصول تو ان فروع میں پہلے ہی سے موجود تھے، تبھی تو یہ اتنا بڑا ذخیرہ وجود میں آیا جو آپس میں ہم آہنگ ہے اور ایک مستحکم نظام ہے۔ لیکن وہ اصول انہوں نے الفاظ میں نہیں بتائے، مجرد اصول کے طور پر نہیں بتائے، بلکہ اس فقہی جزئیے کے روپ میں وہ اصول آپ کے سامنے انہوں نے رکھ دیے۔ تو فروع سے ہم اصول کی طرف گئے، لیکن وہ اصول ان فروع میں پہلے سے موجود تھے۔
دوسری اہم بات یہ ہے — کل کی گفتگو سے بھی معلوم ہوا ہے، اسی کو آگے بڑھاتے ہیں — کہ جو حنفی منہج ہے اصول کا، اس میں یہ جو اصول ہے، یہ محض ذہنی مشق نہیں ہے کہ آپ مجرد حقائق سے ماورا، کسی مخصوص کیس کو ڈسکس کیے بغیر صرف اصول پر بات کریں کہ عام قطعی ہوتا ہے یا ظنی ہوتا ہے؟ صرف تخیل میں اور صرف مجرد حالت میں اس کو حقائق سے الگ کر کے صرف بطور اصول اس پر بات کریں۔ یہ بھی ایک طریقہ ہے جو متکلمین کا منہج کہلاتا ہے، اس کے اپنے فوائد بھی ہیں؛ لیکن جو حنفی طریقہ ہے، جو فقہاء کا طریقہ ہے، جیسے میں نے بار بار ذکر کیا، وہ یہ ہے کہ فروع سے ہم اصول نکالتے ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ فروع اور اصول آپس میں جڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔
اور اس تک پہنچنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ اصول سرخسی پڑھیں، دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ مبسوط پڑھیں۔ کیونکہ مبسوط میں وہ جزئیہ بیان کرتے ہوئے، اس کی تحلیل کر کے، اس کا تجزیہ کر کے، وہ آپ کو اصول مستخرج کر کے بتا دیں گے کہ اصل یہ ہے۔ پھر اگلا جزئیہ اسی سے متعلق ہوگا، تھوڑا مختلف ہوگا، وہاں یہ بتائیں گے تھوڑا مختلف کیوں ہے۔ پھر ’’کتاب السیر‘‘ میں مثال کے طور پر وہ مالِ غنیمت کا مسئلہ ڈسکس کرتے ہوئے حقِ شفعہ کی نظیر آپ کے سامنے رکھ دیں گے۔ اور آخر میں یہ مثال ہم ڈسکس بھی کریں گے، لیکن میں نے صرف نمونے کے طور پر آپ کے سامنے رکھی ہے۔
مبسوط میں وہ مسئلہ یہ ڈسکس کر رہے ہیں، کتاب السیر میں، کہ مجاہدین نے جہاد میں بہت سارا مالِ غنیمت حاصل کیا۔ تو اب اس کی تقسیم وہیں دارالحرب میں دشمن کے علاقے میں ہی کرنی ہے؟ یا اس کو دارالاسلام میں لانا ضروری ہے؟ اور پھر یہ کہ اگر مالِ غنیمت حاصل کر چکنے کے بعد لیکن دارالاسلام میں لانے سے پہلے مجاہد کا انتقال ہو گیا یا وہ شہید ہو گئے، تو اب اس کے جو ورثاء ہیں، ان کو یہ ملے گا کہ نہیں ملے گا؟ مالِ غنیمت حاصل کر چکنے کے بعد لیکن دار الاسلام میں اس کا احراز کرنے سے پہلے، یا احراز کر چکنے کے بعد لیکن مجاہدین میں امیر کی جانب سے وہ مال تقسیم کرنے سے پہلے۔ تو تین مرحلے ہوئے:
- مال حاصل کیا،
- پھر اس کا احراز کیا، دارالاسلام میں محفوظ ہو گیا،
- پھر امام نے اس کو تقسیم کر دیا: یہ آپ کا، یہ آپ کا، یہ آپ کا۔
تو پہلے مرحلے میں وہ کہتے ہیں یہ حقِ ضعیف ہے؛ جیسے ہی مالِ غنیمت حاصل ہو گیا، مجاہدین کا حق تو پیدا ہو گیا ہے، لیکن یہ حقِ ضعیف ہے۔ جب اس کا احراز کیا گیا تو یہ حق اب متعقد ہو گیا ہے، اب یہ مضبوط ہو گیا ہے، قوی ہو گیا ہے۔ تو حقِ ضعیف کی وراثت نہیں ہوتی، حقِ متعقد کی ہوتی ہے۔ لیکن اس مرحلے پر بھی جو مجاہد اور غازی کا حق ہے، وہ مالیت کا ہے، عین اس کا حق نہیں ہے۔ اتنا مال جمع ہوا ہے اور اتنے مجاہدین ہیں، ان کا جتنا حصہ بنتا ہے اس کے مطابق اس مال میں ان کا حصہ ہے؛ لیکن جب امام نے ان حصص کے مطابق وہ مال تقسیم کر دیا کہ یہ آپ کا، یہ آپ کا، تو اب ہر بندے کا حق اس عین کے ساتھ منسلک ہو گیا، حق پورا ہو گیا۔
تو یہاں ’’کتاب السیر‘‘ میں وہ یہ بات کر رہے ہیں۔ اور پھر کہیں گے، جیسے شفعہ کے معاملے میں ہوتا ہے کہ شفیع کا حق ہوتا ہے، مثال کے طور پر آپ کو بتائے بغیر اور آپ سے پوچھے بغیر آپ کے پڑوس میں زمین فروخت ہو گئی، آپ کا حق تو پیدا ہو گیا ہے شفعہ کا، لیکن یہ حقِ ضعیف ہے۔ جب آپ نے مطالبہ کر لیا — طلبِ مواثبت ہے، پھر طلبِ اشہاد ہے، پھر طلبِ خصومت ہے — تو اب آپ کا حق قوی ہو گیا ہے۔ تو اگر پڑوس میں زمین فروخت ہوئی، اپنے حق کا دعویٰ کرنے سے پہلے بندے کا انتقال ہو گیا، تو اس کے ورثاء کے پاس یہ حقِ شفعہ نہیں جاتا؛ لیکن جب طلب کے بعد حق متعقد ہوا تو اس کے بعد اس کا انتقال ہوا، تو اب اس کے ورثاء اس کو جاری کر سکتے ہیں؛ اور پھر جب بیع ہو جاتی ہے تو اس کو قبضہ دے دیا جاتا ہے اور اس کا حق پورا ہو جاتا ہے۔ تو یہاں وہ سیر کا مسئلہ ڈسکس کرتے ہوئے اور اصول واضح کرتے ہوئے بتائیں گے کہ شفعہ کے باب میں بھی یہ اصول کیسے کارفرما ہے۔ بعض اوقات ایک ہی باب کے اندر آگے پیچھے دو مسائل ہوں گے، اور بظاہر وہ ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی نظر آئیں گے، لیکن اِس میں یہ حکم ہوگا اور اُس میں وہ حکم ہوگا۔ تو وہ بتائیں گے کہ کیوں ایسا ہے، وہ حکم یہاں کیوں نہیں ہے؟ اور کبھی بتائیں گے کہ آگے پیچھے دو مسائل ہیں، کیوں دونوں کا حکم ایک ہے؟ حالانکہ یہاں ہمیں بظاہر تو فرق بھی نظر آ رہا ہے، وہ فرق مؤثر کیوں نہیں ہے؟
ہمارے استاد محترم پروفیسر عمران احسن خان نیازی صاحب کی جو بہت ہی اعلیٰ معیار کی کتاب ہے، جس نے یوں کہیں کہ ہماری زندگی تبدیل کر دی، فقہ اور اصول کا گرویدہ کر دیا، Theories of Islamic Law اس کا نام ہے، ۱۹۹۴ء میں پہلی دفعہ شائع ہوئی تھی، اس میں بار بار وہ امام سرخسیؒ کا ذکر کرتے تھے۔ اس میں کئی جگہ اس طرح کی عبارت بھی آپ کو ملے گی کہ Imam Sarakhsi had a great legal mind ان کا بڑا عظیم قانونی ذہن تھا۔ تو ایک دن وہ کلاس سے نکلے، کسی اور کلاس کو پڑھا رہے تھے، میں ان کے انتظار میں تھا، باہر نکلے تو جاتے ہوئے میں نے راستے میں ان سے پوچھا کہ سر! یہ جو آپ نے لکھا ہے کہ امام سرخسیؒ کا بڑا عظیم قانونی ذہن تھا، تو یہ قانونی ذہن کیا ہوتا ہے، آپ کی مراد کیا ہے؟ ابھی ہم ایل ایل بی کے تیسرے سال میں تھے، دو ڈھائی سال ابھی رہتے تھے، تو ظاہر ہے ابتدائی دور تھا اور معلوم بھی نہیں تھا کہ قانونی ذہن ہوتا کیا ہے، کام کیسے کرتا ہے۔ تو انہوں نے بہت ساری باتیں کیں، ایک بات اس میں یہ تھی، جو یہاں اس بحث سے متعلق ہے، کہ امام سرخسیؒ کو پڑھتے ہوئے آپ کو معلوم ہوگا کہ
- بظاہر یکساں نظر آنے والے دو کیسز مختلف کیوں ہیں، فروق ان میں کیا ہیں، وہ فرق مؤثر کیوں ہے؟
- صرف یہ نہیں، بلکہ بظاہر دو الگ ابواب کے کیسز ایک ہی اصول کے تحت کیسے کام کرتے ہیں، ایک ہی اصول یہاں بھی اور وہاں بھی کیسے کارفرما ہے؟
- صرف یہی نہیں، بلکہ اِس اصول کا اُس اصول کے ساتھ کیا تعلق ہے؟
وہ کہتے ہیں کہ امام سرخسیؒ آپ کو یہ بتاتے ہیں، قانونی ذہن یہ ہوتا ہے، فقہ صرف جزئیات کا علم نہیں۔ اور آپ ’’اصول السرخسی‘‘ میں ہی ابتدا میں دیکھ لیں کہ امام سرخسیؒ نے واضح کیا ہے کہ فقیہ کون ہوتا ہے؟ صرف جزئیات کا علم رکھنا کافی نہیں ہے، وہ تو معلومات ہو گئیں، جو تفقہ نہیں ہے۔ ان جزئیات کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ ان کے پیچھے اصول کیا کارفرما ہیں؟ اور وہ اصول آپس میں کیسے انٹریکٹ کرتے ہیں؟ تفقہ تو اس کو کہتے ہیں۔ لیکن یہ بھی کافی نہیں ہے۔ جزئیات کا بھی علم ہو؛ ان کے پیچھے جو اصول کارفرما ہیں اور وہ کیسے کام کرتے ہیں، یہ بھی معلوم ہو؛ اور پھر اس پر عمل بھی ہو۔ تو کہتے ہیں یہ وہ فقیہ ہے جس کے متعلق حدیث میں آیا ہے کہ وہ شیطان کے لیے ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہوتا ہے، مشکل ہوتا ہے۔
آج ہمارے سامنے پیشِ نظر جو مسئلہ ہے، جس میں ہم ’’اصول السرخسی‘‘ سے کچھ عبارت پڑھیں گے، کچھ ’’التحریر‘‘ سے پڑھیں گے، کچھ ’’مسلم الثبوت‘‘ سے، تو وہ ہے نصوص کے درمیان تعارض کا مسئلہ۔ آج سے کوئی پندرہ سال پہلے ۲۰۰۹ء اور ۲۰۱۰ء کے درمیان اس مسئلے پر نیازی صاحب کے ساتھ ہماری بہت طویل بحثیں ہوئیں۔ اُن دنوں جب وہ یونیورسٹی آتے تھے، یا ہم ان کے پاس جاتے تھے، ہماری وہ ڈسکشن جاری رہتی تھی۔ لیکن زیادہ تر بحث ہوئی ہے ای میلز کے ذریعے، میں اور ہمارے چار پانچ اور دوست تھے، ہم نیازی صاحب کے ساتھ اکٹھے چیزیں ڈسکس کرتے تھے۔ تو یوں کہیں کہ ڈھائی تین سو ای میلز پر مختلف چیزوں کا وہ تبادلہ ہوا، آرگومنٹس اور پھر کاؤنٹر آرگومنٹس، سوال در سوال۔ ای میلز پر وہ سارا کچھ ظاہر ہے انگریزی میں تھا، اُن دنوں تو ہم اردو لکھتے بھی نہیں تھے۔ پھر میں نے اس کو ایک تحریر کی صورت دی کہ ان سوالات سے بالآخر ہم کس نتیجے تک پہنچے۔ پھر اس پر کافی بھی ڈسکشن ہوئی۔ نیازی صاحب نے مجھے کہا کہ اب اس کو اردو میں آنا چاہیے۔ پھر میں نے اس کو اردو میں مقالے کی صورت دی جو ’’فکر و نظر‘‘ جنوری-مارچ ۲۰۱۳ء میں شائع ہوا ہے۔ یہ سافٹ میں بھی دستیاب ہے، لیکن یہ ہارڈ میں بھی میں آپ کو دے دوں گا۔
اس مسئلے کو چننے کی بھی کئی وجوہات تھیں:
- ایک بڑی وجہ جو میرے لیے تھی، جہاں سے وہ ساری ڈسکشن ہماری شروع ہوئی، وہ یہ تھی کہ جو اصولِ فقہ کی نصابی کتب میں ہمیں پڑھایا گیا، وہ یہ پڑھایا گیا کہ جب دو نصوص میں تعارض نظر آتا ہے تو حنفی فقہاء پہلے نسخ کی بات کرتے ہیں، پھر اس کے بعد ترجیح کی بات کرتے ہیں، پھر جمع کی بات کرتے ہیں؛ یعنی abrogation (نسخ)، پھر preference (ترجیح)، پھر reconciliation (تطبیق/جمع)۔ تو ایک یہ بات بہت انوکھی سی لگتی ہے کہ جب دو نصوص کے درمیان تعارض آپ کو نظر آئے اور آپ فورًا ہی نسخ کی طرف لپکیں! پھر اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ نظر آتی ہے کہ اگر نسخ ثابت نہ ہو تو پھر آپ ترجیح کی طرف جائیں۔ بظاہر تو دونوں پر عمل ہونا چاہیے؛ پہلے بھی آپ نے ایک کو چھوڑ کر دوسرے کی راہ اختیار کی — ناسخ اور منسوخ میں سے ظاہر ہے ناسخ پر عمل ہوتا ہے — پھر آپ نے ترجیح کی بات کی تو یہاں بھی آپ ایک کو چھوڑ کر دوسرے کو لے رہے ہیں۔ پھر آپ جمع کی طرف جاتے ہیں، یوں کہیں کہ لاچار ہو کر اور مجبور ہو کر کہ اب دونوں پر عمل کرتے ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ تفصیلات میں جائے بغیر، مثالیں ڈسکس کیے بغیر، صرف مجرد اصول کی سطح پر بھی یہ اصول عجیب نظر آتا ہے۔
- دوسری میری الجھن یہ تھی کہ جب امام سرخسیؒ کو ہم پڑھتے ہیں مبسوط میں، سیر کبیر میں، کیونکہ یہ دونوں خصوصاً ہم پڑھتے رہتے تھے اور ڈسکس کرتے رہتے تھے، تو وہاں ہمیں یہ طریقہ تو نظر نہیں آتا جو یہاں بتایا جا رہا ہے! امام سرخسیؒ تو ایسے نہیں کرتے، تو یہ اصول کہاں سے آیا ہے؟
یہاں سے بات شروع ہوئی۔ تو ظاہر ہے پہلا سوال ذہن میں یہ آتا ہے کہ کیا نصوص کے درمیان تعارض ممکن بھی ہے؟ ظاہر ہے کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ شریعت ہمیں دی گئی ہے، تو قرآن و سنت کی نصوص میں تعارض تو پھر ممکن ہی نہیں ہے۔ لیکن جہاں نظر آتا ہے، تو گویا وہ ہماری نظر کا مسئلہ ہے، وہ ہمارا قصورِ فہم ہے، ظاہری تعارض ہے، حقیقتاً تعارض نہیں پایا جاتا۔ وہ تعارض ہمیں نظر آتا ہے لیکن فی نفس الامر وہ تعارض نہیں ہے، ہمیں اس وجہ سے نظر آتا ہے کہ ہمیں نہیں پتا کہ یہ کیوں ہے اور وہ کیوں ہے؟ وہ سمجھ میں آ جائے تو پھر تعارض نہیں ہوگا۔ یعنی ’’کھاؤ‘‘ اور ’’نہ کھاؤ‘‘ یہ دونوں حکم بیک وقت تو نہیں دیے جا سکتے؛ یا اگر بیک وقت دیے گئے ہیں تو ایک ہی شخص کو نہیں دیے جا سکتے، تو کچھ تو ہو گا اس کے پیچھے۔ تو اس تعارض کو کیسے دور کیا جائے؟
ریچرڈ پوزنر (Richard Posner) کو — دیکھیں، پھر اصولِ فقہ میں ہم غیر مسلموں کو اور ان کے قانون دانوں کو بیچ میں لا رہے ہیں، اس وجہ سے نہیں کہ ہم نے ان سے اصولِ فقہ سیکھنی ہے، بلکہ اس وجہ سے کہ اسی طرح کے مسائل دیگر نظام ہائے قوانین میں بھی موجود ہیں، اور ان پر غور و فکر کر کے وہ بھی کسی نتیجے تک پہنچے ہوئے ہیں — دیکھتے ہیں کہ وہ کیا کرتے ہیں اور ہم کیا کرتے ہیں؟
(جاری)





















