امتِ مسلمہ کے فکری انتشار کا بنیادی سبب: فہمِ اصطلاحات کا مسئلہ
امتِ مسلمہ کے فکری انتشار اور شعوری اضطراب کے بے شمار اسباب میں اولین اور بنیادی سبب شریعتِ مطہرہ کے متعلق اصطلاحات کے معانی و مطالب کی صحیح فہم اور ان کے درمیان پائی جانے والی شرعی ترتیب، توازن اور ربط کا مسئلہ ہے کہ یہی وہ بنیادی ساز و سامان، کنکریٹ اور مٹیریل ہے جس سے امتِ مسلمہ کی فکرِ اجتماعی میں صاحبِ شریعت ﷺ نے نظامِ شریعت کی عمارت تعمیر فرمائی تھی۔
گزشتہ چند صدیوں سے — غالباً ساتویں صدی ہجری سے چند انفرادی استثناءات کو چھوڑ کر، جن میں امام ابن تیمیہؒ، ان کے مایہ ناز شاگرد امام ابن قیمؒ، مجدد الف ثانیؒ، اور برصغیر میں اپنے دور کی سب سے بڑی عبقری شخصیت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ شامل ہیں — پہلی دفعہ امتِ مسلمہ اجتماعی طور پر شرعی اصطلاحات کی صحیح اور کامل فہم سے بتدریج دور ہونے لگی۔ اگرچہ اس بات کی چیدہ چیدہ مثالیں پہلے بھی موجود تھیں کہ شرعی اصطلاحات کو شرعی معانی میں استعمال کرنے کے بجائے غیر شرعی معانی کے لیے استعمال کیا گیا، مثلاً مجرد عقلی معانی کے لیے، جیسا کہ خوارج اور معتزلہ وغیرہ نے کیا، یا فلسفیانہ معانی کے لیے جیسا کہ بعض مسلمان فلاسفہ نے کرنا چاہا؛ یا یوں ہوا کہ قدیمی ایرانی، مجوسی، یہودی یا مسیحی اصطلاحات کو شریعت کا جامہ پہنانے کی کوشش کی گئی، جیسا کہ روافض اور شیعہ نے کیا، مگر امت کے اجتماعی ذہن نے اسے کبھی بھی قبول نہیں کیا۔ لیکن جب مسلمانوں نے امام رازیؒ کی تقلید میں قرآن و سنت کی اصطلاحات کو یونانی فلسفے کا لبادہ اوڑھانا شروع کیا تو نہ صرف ان اصطلاحات کے صحیح شرعی معانی ان کے ذہنوں سے مفقود ہونے لگے، یا اپنے صحیح حجم سے ہٹنے لگے، بلکہ ان کے مابین شرعی ربط، توازن اور ترتیب بھی بدلنے لگی، جو ابتدائی چھ صدیوں تک امت کے اجتماعی شعور کا اٹوٹ، قابلِ فخر اور تعمیری حصہ تھی۔ دسویں صدی ہجری میں یہ بیماری امت کے شعورِ اجتماعی کے مکمل ڈھانچے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی، مگر بنیادیں اس وقت ہلیں جب مغربی تہذیب کا سورج طلوع ہوا، جو پاپائیت کے ساتھ ساتھ امتِ مسلمہ کے کمزور اجتماعی فکر کو بھی اپنی ظاہری چکاچوند میں بہا لے گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ آج مختلف مسلم معاشروں میں ایسی بے شمار شرعی اصطلاحات، جو ہمارے علمی ورثے اور نظامِ شریعت کا حصہ ہیں، جا بجا مختلف حوالوں سے ان کا استعمال ہوتا ہے۔ اخبارات میں، ٹی وی میں، مختلف نیٹ ورکوں اور سوشل میڈیا پر، جلسے جلوسوں میں، تعلیمی اداروں، گھروں، محلوں، بیٹھکوں، دوکانوں، مساجد اور خانقاہوں میں، سیاسی، سماجی، مذہبی، لادینی تنظیموں کے ناموں، نعروں اور پروگراموں میں، معاشی، معاشرتی، تعلیمی اور تربیتی سرگرمیوں میں، اور اس طرح کی دیگر سب جگہوں پر کثرت کے ساتھ ان کا ذکر کیا جاتا ہے۔ یہاں میں مشتے از خروارے کے طور پر ان میں سے چند عام اور اہم اصطلاحات کا تذکرہ کروں گا۔
مثلاً: امت، ملت، شریعت، روحانیت، طریقت، تصوف، خلافت، سعادت، شقاوت، اطاعت، شجاعت، عفت، عدالت، فراست، قناعت، امامت، شہادت، مصلحت، منفعت، عادت، روایت، حریت، وحی، عقیدہ، ایمان، نبوت، ختمِ نبوت، ناموسِ رسالت، عظمتِ اصحابِ رسول، توحید، اسلام، علم، جہالت، تقلید، اجتہاد، صراطِ مستقیم، فحاشی، بد اخلاقی، بے حیائی، زہد، استغنا، تحمل، برداشت وغیرہ وغیرہ اصطلاحات اُن ہزاروں شرعی اصطلاحات میں سے چند ایک ہیں جو شریعت سے متعلقہ لاکھوں امور پر دلالت کرتی ہیں۔ یہ ہزاروں اصطلاحات باہم مل کر ہی امتِ مسلمہ کی فکرِ اجتماعی میں نظامِ شریعت کی عمارت کی مکمل تصویر بناتی ہیں۔ لیکن اس کے لیے دو شرطوں کا ہونا ضروری ہے:
- شرعی اصطلاحات سے شرعی معانی ہی مراد لیے جائیں، اور شرعی معانی کے لیے شرعی اصطلاحات ہی استعمال کی جائیں۔
- شرعی اصطلاحات کے مابین وہ ربط، توازن اور ترتیب، جو شارع علیہ السلام نے خود قائم فرمائی تھی، اسے بہرصورت برقرار رکھا جائے۔ یعنی ہر شرعی اصطلاح کو اس کا وہی مقام اور نظامِ شریعت میں وہی جگہ دی جائے جس کی وہ شرعی طور پر حقدار ہے۔ نہ کہ ان کے مفاہیم میں افراط و تفریط سے کام لیا جائے، نہ ہی انہیں ان کے اصل مقامات اور مراتب سے گرایا یا بڑھایا جائے۔
لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ انہی اصطلاحات پر غور کر لیں جو ہمارے اردگرد گردش کر رہی ہیں، جس میں سے چند کا تذکرہ ہم نے اوپر کیا، ہم جنہیں روز سنتے، سناتے ہیں، پڑھتے پڑھاتے ہیں اور مختلف موقعوں پر اکثر استعمال کرتے ہیں، تو آپ جان لیں گے کہ ہمارے ذہنوں میں ان کا مجموعی تصور کیا ہے۔ سوائے اس کے کہ اصطلاحات کا ایک ہجوم ہے جن میں سے اکثر کا حقیقی مفہوم یا تو ذہنوں سے مٹ چکا ہے یا اپنے اصل قد اور حجم سے اس قدر چھوٹا ہو چکا ہے کہ قریب المعدوم ہے۔ اور کچھ ایسی اصطلاحات بھی ہیں جن پر ضرورت سے زیادہ زور دیا جا رہا ہے اور ان کو ان کے اصل اور فطری سائز سے بہت بڑا کر کے پیش کیا جا رہا ہے۔
چنانچہ آج اکثر اصطلاحاتِ شرعیہ کے ساتھ امتِ مسلمہ کے شعورِ اجتماعی کا یہی رویہ ہے کہ ابتدا میں شرعی اصطلاحات سے غیر شرعی معانی مراد لیے جانے لگے اور غیر شرعی مفاہیم کو شرعی اصطلاحات کا لبادہ پہنانے کی کوشش کی گئی، جس کی وجہ سے اصطلاحاتِ شرعیہ کے حقیقی مطالب و معانی کے بارے میں افراط و تفریط، حد سے زیادہ کمی یا مبالغہ آمیزی کا رویہ پیدا ہوا۔ اور اس کے منطقی نتیجے کے طور پر ان میں جو ربط، ترتیب اور توازن شارع ﷺ نے قائم فرمایا تھا، بگڑنے لگا۔ یہاں تک کہ مسلم امہ کی عقلِ اجتماعی میں قائم نظامِ شریعت کی عمارت کی حقیقی تصویر بری طرح متاثر ہوئی کہ امت کے شعورِ اجتماعی کے وسیع کینوس پر شریعت کے وہ اجزاء جنہیں بڑا نمایاں یا زیادہ اہم ہونا چاہیے تھا وہ چھوٹے، دھندلے یا غیر اہم ہو گئے۔ اور چھوٹے، باریک، ہلکے اور لطیف اجزاء نے گہرے یا بڑے ہو کر تمام تصویر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
بالفاظِ صریح تر، وہ وسائل و ذرائع جو مقاصدِ شریعت تک پہنچنے کا ذریعہ ہیں، اسی کم فہمی کی وجہ سے مقاصد بن گئے، اور اصل مقاصدِ شریعت کو بھلا دیا گیا، یا وہ اہم نہیں رہے۔ وہ مجاز، وہ کنائے، وہ استعارے، جو حقائق کو قریب الفہم کرنے میں ممد و معاون تھے، خود حقائق فرض کر لیے گئے، یوں حقائق محاورتاً نہیں بلکہ حقیقتاً مجازات میں کھو گئے اور فراموش کر دیے گئے۔ دین کی اساسیات جن پر نظامِ شریعت کی عظیم الشان عمارت تعمیر کی گئی تھی، انہیں محض تزئین و آرائش کی اشیاء سمجھ لیا گیا، اور جو چیزیں حقیقتاً تزئین و آرائش کے لیے ہیں ان کی حفاظت یوں کی جانے لگی جیسے وہ بنیادیں اور اساس ہوں۔
چنانچہ نہ اساسیات باقی بچیں اور نہ عمارت، نہ ہی سامانِ آرائش، حتیٰ کہ وہ منہج، طریقہ ہائے کار اور راستہ جس پر چل کر قافلۂ امت کو منزلِ مقصود تک پہنچنا تھا، فریب کار رہنماؤں کے خود ساختہ مناہج میں کھو کر اہلِ قافلہ پر ایسا ملتبس ہوا کہ نہ سمت ایک رہی، نہ قافلہ متحد رہا اور نہ ہی کہیں اصل منزلِ مقصود کا نشان باقی بچا۔
تلاشِ منزل کے راستوں میں حادثہ عجیب دیکھا ہے
فریب راہوں میں بیٹھ جاتا ہے صورتِ اعتبار ہو کر
آج اصطلاحاتِ شرعیہ کا مسئلہ ایسا عقدۂ مشکل ہے کہ جس میں کئی گرہیں ہیں اور کئی سرے ہیں، آپ جب کسی ایک سرے کو کھینچ کر اس عقدے کو حل کرنا چاہیں گے تو گرہیں مزید الجھ کر اس کی مشکل کو اور مشکل کر دیں گی، اور اگر کسی گرہ کو کھولنا چاہیں گے تو نئے سرے نمودار ہوں گے جو اس گورکھ دھندے کی پیچیدگی کو اور بڑھا دیں گے۔ فہمِ مطالب کے لیے مثالیں ناگزیر ہیں اور ہم یہاں دو شرعی اصطلاحات کو بطورِ مثال پیش کریں گے۔ مثلاً: اجتہاد و تقلید شرعی اصطلاحات میں سے ہیں اور ان کے مطالب و معانی کے بارے میں ایسی ہی کنفیوژن اور پیچیدگی پاکستان اور عالمِ اسلام کے بہت سے علمی حلقوں کے طرزِ عمل میں پائی جاتی ہے جو یقیناً ان کے فکری انتشار کی ترجمان ہے۔
اصطلاحِ اجتہاد
بعض حلقے ایسے ہیں جو اجتہاد کا نام سنتے ہی بھڑک اٹھتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ اجتہاد کے دروازے بند ہو چکے ہیں کیونکہ ان کے ہاں آج کے دور میں اجتہاد کا مطلب ہے کہ آئمہ مجتہدین کے اجتہاد کو رد کر کے تمام امورِ دین میں نئے سرے سے اجتہاد کرنا۔ جب کہ دوسری طرف بعض حلقے ایسے ہیں جو معلوم اسباب کی وجہ سے اجتہاد کے نام پر شریعت کے بنیادی، غیر اجتہادی احکامِ ثابتہ تک کو بدلنا یا منسوخ کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ یہ اختلاف اور پیچیدگی صرف اجتہاد کی اصطلاح کو اس کے اصل اور صحیح معنوں میں پورے شرعی سیاق و سباق کے ساتھ نہ سمجھنے کی بناء پر پیدا ہوتی ہے۔
اجتہاد ایک شرعی اصطلاح ہے جس کا ایک متعین شدہ شرعی معنی اور دائرۂ کار ہے جس کے حوالے سے نہ تو اجتہاد کے دروازے قیامت تک بند ہو سکتے ہیں اور نہ ہی اجتہاد کا مطلب ثابت شدہ احکامِ شرعیہ کو منسوخ، رد یا معطل کرنا ہے۔ بلکہ اجتہاد کا اصل اور شرعی مفہوم — جس پر حدیثِ معاذ بن جبلؓ، صحابہ کرامؓ کی تربیت اور آئمہ مجتہدین کا طرزِ عمل شاہد ہے — یہ ہے کہ ایسے مسائل جن کا حکمِ شرعی قرآن و سنت سے بلاواسطہ یا بالواسطہ اجتہاد معلوم نہ ہو سکے، طے شدہ شرعی اصولوں کے مطابق ان کا حکمِ شرعی معلوم کرنا۔ چنانچہ وہ تمام احکامِ شرعیہ جو فقہائے امت نے قرآن و سنت سے براہِ راست یا اپنے اجتہاد کی روشنی میں معلوم کر لیے ہیں، ان میں نئے سرے سے اجتہاد کرنے کی نہ کوئی وجہ ہے اور نہ ضرورت، کیونکہ فقہائے کرام ماضی کے مسائل پر ہر پہلو سے روشنی ڈال چکے ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر دور کی طرح آج بھی امتِ مسلمہ کو بہت سے ایسے جدید مسائل کا سامنا ہے جن کے احکامِ شرعیہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ امتِ مسلمہ کو ان مسائل میں اغیار کے مخالفِ اسلام اصولوں کی پیروی سے بچایا جا سکے۔
آج معیشت و تجارت کی بہت سے نئی صورتیں سامنے آئی ہیں، سیاست و حکومت کے نئے انداز اور فلسفوں نے عوام کے ذہنوں پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ میڈیا اور ذرائع ابلاغ کو شریعتِ اسلامیہ کے طے شدہ اصولوں اور نظریوں کے خلاف تباہ کن ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ نیز موجودہ دور میں خفیہ اور کھلی جنگ کی صورتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے وغیرہ۔ ان مسائل اور ان جیسے بہت سے جدید مسائل میں امت کی راہنمائی کی اشد ضرورت ہے جو صرف اور صرف اجتہاد کی مرہونِ منت ہے؛ چنانچہ آج نہ اجتہاد کی ضرورت سے انکار کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی احکامِ ثابتہ میں اجتہاد کرنے کی ضرورت ہے۔
اصطلاحِ تقلید
تقریباً اسی قسم کی پیچیدہ صورتحال ’’تقلید‘‘ کی اصطلاح کے معنی و مطلب کے بارے میں ہمارے معاشرے میں ہے، بلکہ یہ کہنا درست ہو گا کہ ہمارا پورا معاشرہ کسی نہ کسی حوالے سے تقلید کی بندشوں میں بری طرح جکڑا ہوا ہے۔ شرعی طور پر تقلید کی دو مختلف سطحیں ہیں: ایک جائز اور دوسری نا جائز۔
۱۔ تقلید کی جائز سطح
تقلید کی جائز سطح یہ ہے کہ شریعت کے کسی حکم یا کسی اجتہاد یا کسی فتوے کے ضمن میں ایک غیر فقیہ اور غیر مجتہد کسی مجتہد کی رائے پر اس لیے عمل کرے کہ خود اجتہاد کا عمل سرانجام نہیں دے سکتا۔ اس لیے جس شخص کے علم اور تقویٰ پر اس کو اعتماد ہے، اس اعتماد کی وجہ سے اس کی بات کو بغیر دلیل کے قبول کر لے۔ یہ تقلید کا وہ اصل مفہوم ہے جسے شریعت جائز سمجھتی ہے اور شروع دن سے مسلمان اس سطح کی تقلید پر عامل رہے ہیں، صحابہ کرامؓ کی بڑی تعداد مجتہد صحابہؓ کے اجتہاد اور فتوے پر عمل کیا کرتی تھی کیونکہ ان میں ہر شخص صاحبِ اجتہاد نہیں تھا۔ اسی طرح تابعین کی بڑی جماعت بھی دوسرے مجتہد تابعینؒ کے اجتہاد اور فتوے پر عمل کرتی تھی۔
یہاں یہ یاد رکھنا نہایت ضروری ہے کہ اس جائز تقلید کا دائرۂ کار اور حدود کیا ہیں اور اس کے مفہوم میں کون سی چیزیں شامل ہیں، کون سی نہیں ہیں۔
اس تقلیدِ شرعی کا دائرہ احکامِ فرعیہ عملیہ تک ہے اور اس کی مشروعیت ایک ضرورت کے تحت ہے۔ وہ ضرورت جہالت اور اجتہاد کی عدمِ استطاعت ہے۔ اس کے مقابلے میں اصل یہ ہے کہ احکامِ شرعیہ کا علم حاصل کیا جائے، تفقہ فی الدین کی استعداد پیدا کرنے کی کوشش کی جائے، ایسا نظامِ تعلیم تشکیل دیا جائے جس کے ذریعے اجتہاد کی صلاحیت رکھنے والے سامنے آئیں، اور ان کی حوصلہ شکنی نہ ہو بلکہ حوصلہ افزائی ہو۔ کیونکہ شریعت میں اصل علم اور استطاعت ہے نہ کہ جہالت اور عدمِ استطاعت۔ یاد رہے کہ یہ تمام چیزیں جائز اور شرعی تقلید کے مفہوم میں شامل ہیں۔
۲۔ تقلید کی ناجائز سطح
تقلید کی دوسری سطح ناجائز تقلید ہے، اور ناجائز تقلید سے مراد یہ ہے کہ ہر علم و فن کے متعلق کسی بھی مؤلف یا مقرر کی بات بلا کسی تحقیق و تنقید کے قبول کر لی جائے۔ یا کسی بھی سیاسی، سماجی، معاشی، روحانی، تربیتی، تبلیغی، اصلاحی یا جہادی تنظیم یا فلسفے کو یہ یقین کیے بغیر قبول کر لیا جائے کہ آیا یہ تنظیم، فلسفہ یا ادارہ مقاصدِ شریعت کی تکمیل اور تعمیر میں معاون بھی ہے یا نہیں، یا کس قدر معاون و فائدہ مند ہے اور کس قدر نقصان دہ۔ یا اس کے مقاصد، پروگرام، مناہج اور طریقۂ کار امتِ مسلمہ اور تمام انسانیت کے ان مجموعی مفادات کے موافق ہیں یا مخالف، جنہیں شارع علیہ السلام نے امت اور جمیع انسانیت کے لیے طے کیا ہے۔
دورِ حاضر میں امت کا مجموعی ذہن تقلید کی ان دونوں سطحوں میں امتیاز نہیں کر پا رہا۔ اس کا ایک طبقہ ایسا ہے جو جائز تقلید کی مشروعیت کا تو سرے سے انکاری ہے اور اس کے تذکرے ہی سے بھڑک اٹھتا ہے، مگر عملی طور پر اپنے راہنماؤں، مقرروں اور مؤلفوں کی ہر بات کو بلا کسی تحقیق و تنقید کے قبول کرنے پر ہر وقت آمادہ نظر آتا ہے۔ یعنی ناجائز تقلید پر تو عمل پیرا ہے مگر جائز تقلید کی مشروعیت سے انکاری ہے۔
اس کے مقابلے میں دوسرا طبقہ جو جائز تقلید کی مشروعیت کا تو قائل ہے لیکن اس جائز تقلید کے مفہوم میں افراط و تفریط کا شکار ہے کہ اس نے عملی طور پر تقلید کو احکامِ فرعیہ عملیہ کے دائرے سے نکال کر عقائد، اخلاقیات، اجتماعیات، سیاسیات، تعلیم و تربیت، تزکیہ، تبلیغ، دعوت اور جہاد کے میدانوں تک وسیع کر دیا ہے۔ جو جائز تقلید کے متعین شدہ شرعی مفہوم سے تجاوز ہے۔ اس پر مستزاد کہ یہ طبقہ اپنے تقلیدی مزاج اور عادت کی وجہ سے علم و بصیرت، تحقیق اور صحیح اجتہاد کی حوصلہ افزائی اور امت کو درپیش جدید ضروری مسائل کے حل کے لیے اس کی عملی تربیت و تعلیم کے فروغ کے بجائے مذکورہ دین کے تمام شعبوں میں مقلدانہ رویے کو اپنائے رکھنے پر مصر بھی ہے اور اس کا پرزور داعی بھی۔
ان دونوں طبقوں کی اس کشمکش کی وجہ سے جو فکری خلا پیدا ہوا، اسے مغربی فکر نے پُر کیا اور امت میں ایک بہت بڑا طبقہ ایسا پیدا ہوا جو مغرب کی اندھی تقلید میں بری طرح زار و نزار ہے، اور اُس طرف سے جو بھی چیز علم، فن اور تحقیق کے نام سے یا نظام و ادارے کی صورت میں سامنے آتی ہے، اسے یہ طبقہ بلا تنقید و تحقیق یہ جانے بغیر قبول کر رہا ہے کہ وہ شریعت کے مقاصد، اساسيات، اور متفقہ اصول و قواعد کے موافق ہے یا مخالف؟ یا ان سے امتِ مسلمہ اور جمیع انسانیت کے وہ مجموعی مفادات جن کا تحفظ شریعت کا مقصدِ اولین ہے، انہیں فائدہ پہنچے گا یا نقصان؟
ظلمات بعضہا فوق بعض اذآ اخرج یدہ لم یکد یراہا ومن لم یجعل اللہ لہ نورا فما لہ من نور۔ (النور ۴۰)
’’جہالت و گمراہی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے ہیں (ان پر) اوپر تلے چھائے ہوئے کہ کسی کو اپنا ہاتھ بھی سجھائی نہیں دیتا اور حقیقت یہ ہے کہ جسے اللہ پاک نورِ ہدایت سے محروم کر دے اس کے لیے تو کوئی روشنی ہی نہیں۔‘‘
تقلید و اجتہاد کی ان دو مثالوں سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اصطلاحاتِ شرعیہ کے بارے میں امتِ مسلمہ کی فکرِ اجتماعی کس قدر انتشار، انارکی، بدنظمی، بے ترتیبی اور اضمحلال کا شکار ہے۔ یہی وہ اضطرابی کیفیت ہے جس نے امت کے مجموعی تخیل میں نظامِ شریعت کے چہرے کا حسن ہی نہیں بگاڑا، بلکہ اس کے چہرے کے اعضاء و نقوش میں جو توازن اور تناسب تھا، اسے بھی بدل ڈالا۔ کوئی تو وجہ ہے کہ کل تک جس نظامِ شریعت کے صبیح چہرے کے حسن کی تابش سے ایک عالم منور و مستنیر تھا۔
آج خود مسلمانوں کو وہ تجلیاتِ حسن اور وہ تابش تو درکنار وہ چہرہ ہی نظر نہیں آ رہا۔ روشنیوں کی تلاش میں وہ کبھی کمیونزم کو اپنانے کی بات کرتے ہیں تو کبھی کیپیٹل ازم کی طرف للچاتے ہیں، اور اگر کبھی بہت جذباتی ہوئے تو اپنے ذہنوں میں باقی نظامِ شریعت کی ادھوری اور دھندلی تصویروں ہی کو پوجنے لگتے ہیں، اور جب یوں بھی بات نہیں بنتی کہ ادھورے پن سے بات بننا ممکن ہی نہیں، تو اپنی کوتاہ فکری کو دور کرنے کی بجائے طرح طرح کے بہانے بنانے لگتے ہیں: قربِ قیامت کا بہانہ، عہدِ نبویؐ سے دوری کا بہانہ، آپس کی نااتفاقی کا رونا، یا امام مہدی کی آمد کا بہانہ وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ یہ چیزیں اہلِ ایمان کے ایمان میں اضافے اور مزید پختگی کا سبب ہیں، نہ کہ اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں پر بہانہ سازی کے لیے۔
وجہ وہی ہے جس پر ہم ماقبل سطور میں خامہ فرسائی کر چکے ہیں کہ چند ایک علمی و فکری شخصیات اور حلقوں کو چھوڑ کر امت کا مجموعی ذہن نہ اصطلاحاتِ شرعیہ کے صحیح معانی و مطالب سے واقف ہے، نہ ان کے اصل حجم اور وسعت سے آشنا ہے، اور نہ ہی ان میں موجود ربط، توازن اور ترتیب سے باخبر ہے۔ یہی سبب ہے کہ آج امت فکری و شعوری انتشار، سیاسی و سماجی بدنظمی، تعلیمی و تربیتی خلا، اور انتظامی و اداریاتی بدحالی کا شکار ہے۔ جس کا عالم یہ ہے کہ عالمِ اسلام کی درسگاہیں ایسی اہلِ اور قابل قیادت فراہم کرنے سے یکسر قاصر ہیں جو موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق امت کی صحیح رہنمائی کر سکے اور مقلدانہ طرزِ عمل کو چھوڑ کر مجتہدانہ کردار ادا کرے۔





















